صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب تَحْرِيمِ ضَرْبِ الْخُدُودِ وَشَقِّ الْجُيُوبِ وَالدُّعَاءِ بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ: باب: رخسار پر مارنا، گریبان چاک کرنا، اور جاہلیت کی چیخ و پکار کرنا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ ، وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ ، فَصَاحَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِهِ ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ : " أَنَا بَرِيءٌ مِمَّا بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنَ الصَّالِقَةِ ، وَالْحَالِقَةِ ، وَالشَّاقَّةِ " .قاسم بن مخیمرہ نے بیان کیا کہ مجھے ابوبردہ بن ابی موسیٰ (اشعری) نے بیان کیا، انہوں نے فرمایا: ”حضرت ابوموسیٰ (اشعری) نے بیان کیا، انہوں نے فرمایا: حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ایسے شدید بیمار ہوئے کہ ان پر غشی طاری ہو گئی، ان کا سر ان کے اہل خانہ میں سے ایک عورت کی گود میں تھا، (اس موقع پر) ان کے اہل میں سے ایک عورت چیخنے لگی، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ (شدید کمزوری کی وجہ سے) اسے کوئی جواب نہ دے سکے۔ جب افاقہ ہوا تو کہنے لگے: میں اس بات سے بری ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براءت کا اظہار فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلا کر ماتم کرنے والی، سر منڈانے والی اور گریبان چاک کرنے والی (عورتوں) سے لا تعلقی کا اظہار فرمایا تھا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ يَذْكُرُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ وأبى بردة بن أبي موسى ، قَالَا : أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى ، وَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ ، قَالَا : ثُمَّ أَفَاقَ ، قَالَ : أَلَمْ تَعْلَمِي ، وَكَانَ يُحَدِّثُهَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ ، حَلَقَ ، وَسَلَقَ وَخَرَقَ " .عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ اور ابو بردہ رحمہ اللہ بن ابی موسیٰ اشعری دونوں نے بتایا: کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہو گئی اور ان کی بیوی ام عبداللہ بلند آواز سے روتی ہوئی آئی۔ دونوں نے کہا: پھر انھیں ہوش آیا تو انھوں نے کیا کہا: تمھیں معلوم نہیں ہے وہ حدیث اسے بتایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سر منڈانے والے، چلانے والے اور کپڑے پھاڑنے والے سے بیزار ہوں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عِيَاضٍ الأَشْعَرِيِّ ، عَنِ امْرَأَةِ أَبِي مُوسَى ، عَنِ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيَاضٍ الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : لَيْسَ مِنَّا ، وَلَمْ يَقُلْ : بَرِيءٌ .امام مسلم رضی اللہ عنہ نے تین دیگر سندوں سے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کی جن میں عیاض اشعری نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی زوجہ سے، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور باقی دو سندوں میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے صفوان بن محرز اور ربعی بن حراش ہیں جبکہ عیاض اشعری کی حدیث میں: ”بری ہوں“ کے بجائے: ”ہم میں سے نہیں“ کے الفاظ ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
: (1)
صَّالِقَةٌ يا سَالِقَةٌ: مصیبت اور رنج کی بنا پر چیخنے، چلانے والی صلق سے ماخوذ ہے، بلند اور سخت آواز۔
(2)
الْحَالِقَةُ: مصیبت و رنجم کی بنا پر سر منڈانے والی۔
(3)
الشَّاقَّةُ: رنجم و حزن کی بنا پر کپڑے پھاڑنے والی۔
فوائد ومسائل:
مصیبت اور رنج وغم کی بنا پر جزع وفزع کرتے ہوئے، چیخنا چلانا، کپڑے پھاڑنا اور سر کے بال منڈوانا جاہلیت کا طور طریقہ ہے، اور شریعت ان غلط رسموں کو جو صبر وشکیب اور اللہ کی مشیت پر رضا کے اظہار کے منافی ہیں ختم کرتی ہے، ان رسوم بد کا ارتکاب دین وشریعت سے دور کی علامت ہے، جس سے ایک مسلمان کوبچنا چاہیے۔
صفوان بن محرز کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری پر بے ہوشی طاری ہو گئی، لوگ ان پر رونے لگے، تو انہوں نے کہا: میں تم سے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ کہہ کر برات کا اظہار کیا تھا کہ جو سر منڈائے کپڑے پھاڑے، واویلا کرے ہم میں سے نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1862]
➋ اگرچہ گھر والے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی بے ہوشی پر روئے تھے مگر انہیں خدشہ ہوا کہ یہ میری وفات پر بھی روئیں گے، اس لیے تنبیہ فرمائی ……… رضي اللہ عنہ وأرضاہ………
عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری (کی بیماری) سخت ہوئی، تو ان کی عورت چلاتی ہوئی آئی۔ (ان کی بیماری میں کچھ) افاقہ ہوا، تو انہوں نے کہا: کیا میں تجھے نہ بتاؤں کہ میں ان چیزوں سے بری ہوں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری تھے، ان دونوں نے ان کی بیوی سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” میں اس شخص سے بری ہوں جو سر منڈائے، کپڑے پھاڑے اور واویلا کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1864]
عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری شدید ہو گئی، تو ان کی بیوی ام عبداللہ چلّا چلّا کر رونے لگیں، جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انہوں نے بیوی سے کہا: کیا تم نہیں جانتی کہ میں اس شخص سے بری ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری ہوئے، اور وہ اپنی بیوی سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں اس سے بری ہوں جو مصیبت کے وقت سر منڈائے، روئے چلائے اور کپڑے پھاڑے ۱؎۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1586]
فوائدو مسائل: (1)
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین کے تقویٰ کا یہ کمال ہے۔
کہ انھیں سخت بیماری کی حالت میں بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا خیال رہتا تھا۔
(2)
گھر میں اگر کوئی غلط کام ہو تو فوراً ٹوک دینا چاہیے۔
(3)
جاہلیت میں اظہار غم کےلئے لوگ سر کے بال منڈوایا کرتے تھے۔
آجکل بعض لوگ جو داڑھی منڈوانے کے عادی ہوتے ہیں۔
غم کے موقع پر شیو کرنا بند کردیتے ہیں۔
اس میں ایک خرابی تو یہ ہے کہ یہ بھی ایک لحاظ سے اہل جاہلیت سے مشابہت ہے۔
دوسری خرابی یہ ہے کہ سنت رسول اللہ ﷺ یعنی ڈاڑھی رکھنے کا تعلق غم سے جوڑ دیا گیا ہے۔
جبکہ داڑھی صرف آپﷺ کی سنت ہی نہیں بلکہ تمام انبیاء کرام علیہ السلام کی سنت ہے۔
اس لئے اسے ان امور فطرت میں شمار کیا گیا ہے۔
جن کا تمام شریعتوں میں حکم دیا گیا ہے۔
دیکھئے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 293)
اسی طرح اظہار غم کےلئے سیاہ لباس پہننا بھی کفار کی نقل ہے۔
جب کہ دین اسلام میں کفار سے مشابہت اختیار کرنا حرام ہے۔