حدیث نمبر: 1016
حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ أَبِي إسحاق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَتِرَ مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ " .

عبداللہ بن معقل نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے جو شخص آگ سے محفوظ رہنے کی استطاعت رکھے، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے کیوں نہ ہو، وہ ضرور (ایسا) کرے۔“

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ ، وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ ، وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " ، زَادَ ابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ الْأَعْمَشُ : وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَمِثْلَهُ ، وَزَادَ فِيهِ : " وَلَوْ بِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ، وقَالَ إسحاق : قَالَ الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ .

علی بن حجر سعدی، اسحاق بن ابراہیم اور علی بن خشرم میں سے علی بن حجر نے کہا: ہمیں عیسیٰ بن یونس نے حدیث بیان کی اور باقی دونوں نے کہا: ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے خیثمہ کے واسطے سے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی نہیں، مگر عنقریب اللہ اس طرح اس سے بات کرے گا کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا۔ اور اپنی دائیں جانب دیکھے گا، تو اسے وہی کچھ نظر آئے گا جو اس نے آگے بھیجا اور اپنی بائیں جانب دیکھے گا، تو وہی کچھ دکھائی دے گا جو اس نے آگے بھیجا اور اپنے آگے دیکھے گا، تو اسے اپنے منہ کے سامنے آگ دکھائی دے گی، اس لیے آگ سے بچو، اگرچہ آدھی کھجور کے ذریعے ہی سے کیوں نہ ہو۔“ (علی بن حجر نے اضافہ کیا: اعمش نے کہا: مجھے عمرو بن مرہ نے خیثمہ سے اسی جیسی حدیث بیان کی اور اس میں اضافہ کیا: ”چاہے پاکیزہ بول کے ساتھ (بچو)۔“ اسحاق نے کہا: اعمش نے کہا: عمرو بن مرہ سے روایت ہے (کہا) خیثمہ سے روایت ہے)۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّارَ فَأَعْرَضَ وَأَشَاحَ ، ثُمَّ قَالَ : " اتَّقُوا النَّارَ " ، ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا ، ثُمَّ قَالَ : " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ " وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو كُرَيْبٍ كَأَنَّمَا ، وَقَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ .

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ کا تذکرہ کیا اور منہ پھیر لیا۔ اور ڈرایا یا چوکنا کیا۔ پھر فرمایا: ”آگ سے بچو۔‘‘ پھر اعراض کیا اور رخ پھیر لیا حتی کہ ہم نے گمان کیا۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے ہیں۔ پھر فرمایا: ”آگ سے بچو! اگرچہ کھجور کے ٹکڑے کے سبب، جس کے پاس اتنی بھی سکت نہ ہو تو اچھے بول کے باعث‘‘ ابوکریب کی روایت میں کَانَّمَا کا لفظ نہیں ہے اور عن اعمش کی جگہ حدثنا اعمش ہے۔

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ النَّارَ ، فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، ثُمَّ قَالَ : " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ " .

شعبہ نے عمرو بن مرہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگ کا ذکر کیا، تو اس سے پناہ مانگی اور تین بار اپنے چہرہ مبارک کے ساتھ دور ہونے کا اشارہ کیا، پھر فرمایا: ”آگ سے بچو، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے (بچو)، اگر تم (یہ بھی) نہ پاؤ، تو اچھی بات کے ساتھ۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 1016
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1417 | صحيح البخاري: 6023 | صحيح البخاري: 6563 | صحيح مسلم: 1016 | سنن نسائي: 2553 | سنن نسائي: 2554

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے جو شخص آگ سے بچ سکتا ہے۔ اگرچہ کھجور کے ٹکڑا کے سبب ہی سہی تو وہ ایسا کرے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2347]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
شق: پھانک، ٹکڑا، حصہ یا نصف حصہ۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1016 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6023 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6023. حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے دوزخ کا ذکر کیا اس سے پناہ مانگی اور چہرے سے ناگواری کا تاثر ظاہر کیا۔۔۔ (راوی حدیث) شعبہ نے کہا: (آپ ﷺ کے) دومرتبہ (جہنم سے پناہ مانگتے) کے متعلق مجھے کوئی شک نہیں۔۔۔۔۔ پھر آپ نے فرمایا جہنم سے بچو، اگرچہ کھجور کا ٹکڑا دینے سے ہو۔ اور اگر کسی کو یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی بات کر کے (اس جہنم سے بچنے کی کوشش کرے)[صحيح بخاري، حديث نمبر:6023]
حدیث حاشیہ: جہنم سے نجات حاصل کرے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6023 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6023 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6023. حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے دوزخ کا ذکر کیا اس سے پناہ مانگی اور چہرے سے ناگواری کا تاثر ظاہر کیا۔۔۔ (راوی حدیث) شعبہ نے کہا: (آپ ﷺ کے) دومرتبہ (جہنم سے پناہ مانگتے) کے متعلق مجھے کوئی شک نہیں۔۔۔۔۔ پھر آپ نے فرمایا جہنم سے بچو، اگرچہ کھجور کا ٹکڑا دینے سے ہو۔ اور اگر کسی کو یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی بات کر کے (اس جہنم سے بچنے کی کوشش کرے)[صحيح بخاري، حديث نمبر:6023]
حدیث حاشیہ:
(1)
عربی زبان میں کسی چیز کو مکروہ خیال کرتے ہوئے احتیاط کرنے والے کی طرح اس سے روگردانی کو "اشاح" کہا جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جہنم کو دیکھ کر اس سے اپنی ناگواری کا اظہار کیا اور ہمیں اس سے بچنے کی نہ صرف تلقین کی بلکہ تدبیر بھی بتائی کہ صدقہ کر کے اس سے بچا سکتا ہے۔
اگر کوئی صدقہ نہ دے سکے تو اچھی بات کر کے، اسے اپنے پاس دور کر سکتا ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: جس طرح مال خرچ کرنے سے غریب کا دل خوش ہو جاتا ہے اور اس کے دل میں فرحت وانبساط کی لہر دوڑ جاتی ہے، اسی طرح اچھی بات کرنے سے مخاطب خوش ہو جاتا ہے اور اس کے دل کا حسد وبغض نکل جاتا ہے، اس بنا پر ہر اچھی بات کو صدقے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
(فتح الباري: 551/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6023 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1417 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1417. حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے،انھوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:’’جہنم کی آگ سے بچو اگرچہ تمھیں کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ کرنا پڑے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1417]
حدیث حاشیہ: ان ہر دو احادیث سے صدقہ کی فضیلت ظاہر ہے اور یہ بھی کہ دور اول میں صحابہ کرام جب کہ وہ خود نہایت تنگی کی حالت میں تھے، اس پر بھی ان کو صدقہ خیرات کا کس درجہ شوق تھا کہ خود مزدوری کرتے‘ بازار میں قلی بنتے‘ کھیت مزدوروں میں کام کرتے‘ پھر جو حاصل ہوتا اس میں غرباء ومساکین مسلمانوں کی امداد کرتے۔
اہل اسلام میں یہ جذبہ اس چیز کا بین ثبوت ہے کہ اسلام نے اپنے پیروکاروں میں بنی نوع انسان کے لیے ہمدردی وسلوک کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھردیا ہے۔
قرآن مجید کی آیت ﴿لَن تَنَالُو البِرَّ حَتّٰی تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ (آل عمران: 92)
میں اللہ پاک نے رغبت دلائی کہ صدقہ وخیرات میں گھٹیا چیز نہ دو بلکہ پیاری سے پیاری چیزوں کا صدقہ کرو۔
برخلاف اس کے بخیل کی حد درجہ مذمت کی گئی اور بتلایا کہ بخیل جنت کی بو بھی نہ پائے گا۔
یہی صحابہ کرام تھے جن کا حال آپ نے سنا پھر اللہ نے اسلام کی برکت سے ان کو اس قدر بڑھایا کہ لاکھوں کے مالک بن گئے۔
حدیث ولوبشق تمرة مختلف لفظوں میں مختلف طرق سے وارد ہوئی ہے۔
طبرانی میں ہے اجعلُوا بَینکُم وبینَ النارِ حِجَابا ولوبشقِ تمرة۔
اور دوزخ کے درمیان صدقہ کرکے حجاب پیدا کرو اگرچہ وہ صدقہ ایک کھجور کی پھانک ہی سے ہو۔
نیز مسند احمد میں یوں ہے لیتق أحدکم وجهه بالنار ولوبشق تمرة۔
یعنی تم کو اپنا چہرہ آگے سے بچانا چاہئے جس کا واحد ذریعہ صدقہ ہے اگرچہ وہ آدھی کھجور ہی سے کیوں نہ ہو۔
اور مسند احمدی ہی میں حدیث عائشہ ؓ سے یوں ہے کہ آپ ﷺ نے خود حضرت عائشہ ؓ کو خطاب فرمایا: یاعائشةُ استترِي منَ النارِ ولوبشقِ تمرة۔
الحدیث یعنی اے عائشہ! دوزخ سے پردہ کرو چاہے وہ کھجور کی ایک پھانک ہی کے ساتھ کیوں نہ ہو۔
آخر میں علامہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔
وفي الحدیث الحث علی الصدقة بماقل وماجل وأن لا یحتقر ما یتصدق به وأن الیسیر من الصدقة یستر المتصدق من النار۔
(فتح الباري)
یعنی حدیث میں ترغیب ہے کہ تھوڑا ہو یا زیادہ صدقہ بہر حال کرنا چاہیے اور تھوڑے صدقہ کو حقیر نہ جاننا چاہیے کہ تھوڑے سے تھوڑا صدقہ متصدق کے لیے دوزخ سے حجاب بن سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1417 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1417 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1417. حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے،انھوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:’’جہنم کی آگ سے بچو اگرچہ تمھیں کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ کرنا پڑے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1417]
حدیث حاشیہ:
یہ حدیث پہلے بھی گزر چکی ہے کہ انسان کو آگ سے بچنے کی فکر کرنی چاہیے، چاہے معمولی صدقہ ہی کیوں نہ ہو۔
اگر خیرات کے لیے کچھ نہ ملے تو نرمی سے جواب دیا جائے کہ اس وقت میں مجبور ہوں، معاف کر دیں۔
سائل کو جھڑکنا نہیں چاہیے، کیونکہ قرآن کریم میں اس کی ممانعت ہے بلکہ فقراء و سائلین کو نرمی سے جواب دینے کی تلقین کی گئی ہے۔
(بني إسرائیل28: 17)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1417 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1016 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ کا تذکرہ فرمایا اس سے پناہ طلب کی اور رخ بدل لیا اس طرح تین دفعہ کیا۔ پھر فرمایا: ’’آگ سے بچو خواہ کھجور کے ٹکڑے کے سبب اگر یہ بھی نہ مل سکے تو اچھے اور پاکیزہ بول کے سبب۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2350]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
اشاح: منہ پھیر لیا۔
فوائد ومسائل: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوزخ کا تذکرہ اس انداز سے فرمایا گویا آپﷺ اسے دیکھ رہے ہیں اور پھر اپنے اطوار احوال سے اس کے خوف و خطرہ سے آگا ہ فرمایا اور اس سے بچنے کی ترکیب اور طریقہ بھی بتایا کہ انسان کو صدقہ وخیرات کو معمولی اور حقیر کام نہیں سمجھنا چاہیے جس قدر بھی ممکن ہو۔
اسی کی عادت ڈالنی چاہیے اور نہیں تو کم ازکم دوسروں سے بول چال تو خوش اسلوبی اوراچھے طریقہ سے کرنا چاہیے اچھا اور پاکیزہ بول بھی عذاب سے بچاتا ہے اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اعمال کا وجود ہے اس لیے انسان انہیں اپنے دائیں بائیں اور سامنے دیکھے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1016 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2554 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´تھوڑے صدقے کا بیان۔`
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ذکر کیا، اور نفرت سے اپنا منہ پھیر لیا، اور اس سے پناہ مانگی۔ شعبہ نے ذکر کیا کہ آپ نے تین دفعہ ایسا کیا، پھر فرمایا: آگ سے بچو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی اللہ کی راہ میں دے کر سہی۔ اور اگر اسے نہ پاس کو تو بھلی بات کے ذریعہ معذرت کر کے سہی۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2554]
اردو حاشہ: (1) یعنی جہنم سے بچاؤ اور جنت میں دخول صرف مالداروں ہی کے لیے خاص نہیں۔ فقیر لوگ بھی حسن نیت کے ساتھ معمولی چیز خرچ کر کے سخاوت کا درجہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر بالفرض کسی کے پاس کچھ بھی نہ ہو تب بھی اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی نعمت زبان تو ہے ہی۔ اس کے ساتھ بھی یہ مقصود حاصل ہو سکتا ہے۔ نیک کلمہ منہ سے نکالیں، کسی کو برا نہ کہیں، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں، مسکرا کر ملیں، پاکیزہ بات کریں، شر سے زبان بند رکھیں، نجات اور کامیابی میسر ہوگی۔ ان شاء اللہ
(2) راوی حدیث حصرت عدی رضی اللہ عنہ عرب کے ایک مشہور اور سخی شخص حاتم طائی کے فرزند تھے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2554 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2553 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´تھوڑے صدقے کا بیان۔`
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ سے بچو، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا اللہ کی راہ میں دے کر سہی۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2553]
اردو حاشہ: یہ ایک فرضی بات ہے، یعنی جو میسر ہے صدقہ کرو۔ غریب اپنے تھوڑے مال سے اور امیر زیادہ مال سے، نیز چھوٹی نیکی کو حقیر نہ سمجھا جائے۔ ممکن ہے وہی نیکی خلوص کی وجہ سے نجات اور کامیابی کا ذریعہ بن جائے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2553 سے ماخوذ ہے۔