صحيح مسلم
كتاب الزكاة— زکاۃ کے احکام و مسائل
باب التَّرْغِيبِ فِي الصَّدَقَةِ قَبْلَ أَنْ لاَ يُوجَدَ مَنْ يَقْبَلُهَا: باب: صدقہ قبول کرنے والا نہ پانے سے پہلے پہلے صدقہ کرنے کی ترغیب کا بیان۔
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَطُوفُ الرَّجُلُ فِيهِ بِالصَّدَقَةِ مِنَ الذَّهَبِ ، ثُمَّ لَا يَجِدُ أَحَدًا يَأْخُذُهَا مِنْهُ ، وَيُرَى الرَّجُلُ الْوَاحِدُ يَتْبَعُهُ أَرْبَعُونَ امْرَأَةً ، يَلُذْنَ بِهِ مِنْ قِلَّةِ الرِّجَالِ وَكَثْرَةِ النِّسَاءِ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بَرَّادٍ : " وَتَرَى الرَّجُلَ " .عبداللہ بن براد اشعری اور ابو کریب محمد بن علاء دونوں نے کہا: ہمیں ابو اسامہ نے برید سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابو بردہ سے، انہوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”لوگوں پر یقیناً ایسا وقت آئے گا جس میں آدمی سونے کا صدقہ لے کر گھومے گا، پھر اسے کوئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو اسے اس سے لے لے اور مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے ایسا اکیلا آدمی دیکھا جائے گا جس کے پیچھے چالیس عورتیں ہوں گی جو اس کی پناہ لے رہی ہوں گی۔“ ابن براد کی روایت میں (ایسا اکیلا آدمی دیکھا جائے گا) کی جگہ «وتر رجل» (اور تم ایسے آدمی کو دیکھو گے) ہے۔