حدیث نمبر: 1010
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ ، إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ ، فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا : اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا ، وَيَقُولُ الْآخَرُ اللَّهُمَّ : أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا " .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی دن نہیں جس میں بندے صبح کرتے ہیں مگر (اس میں آسمان سے) دو فرشتے اترتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو (بہترین) بدل عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے: اے اللہ! روکنے والے کا (مال) تلف کر دے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 1010
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر دن جس میں لوگ داخل ہوتے ہیں دو فرشتے اترتے ہیں۔ ان میں سے ایک دعا کرتا ہے۔ اےاللہ (جائز) خرچ کرنے والے کو اس کی جگہ مال دے۔ دوسرا کہتا ہے۔ اے اللہ! روک رکھنے والے کے مال کو ضائع کر دے (وہ اپنے مال سے فائدہ نہ اٹھا سکے)‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2336]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: شریعت کے مطابق خرچ کرنے والا روزانہ فرشتہ کی دعا کا حقدار ٹھہرتا ہے اور جائز مواقع پر خرچ کرنے سے بخل اور کنجوسی کرنے والا روزانہ فرشتے کی بددعا لیتا ہے جس کی بنا پر وہ مال کو صحیح موقع اور محل پر صرف کرکے اجرو ثواب کا حقدار نہیں بن سکتا۔
بلکہ وہ مال اس کے لیے وبال جان بن جاتا ہے۔
لوگوں کی طنزو ملامت اور بددعائیں لیتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1010 سے ماخوذ ہے۔