صحيح مسلم
كتاب الزكاة— زکاۃ کے احکام و مسائل
باب وُصُولِ ثَوَابِ الصَّدَقَةِ عَنِ الْمَيِّتِ إِلَيْهِ: باب: میت کے ایصال ثواب کا بیان۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسَهَا وَلَمْ تُوصِ ، وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ ، أَفَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ " ،محمد بن بشر نے کہا: ہم سے ہشام نے اپنے والد کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: "اے اللہ کے رسول! میری والدہ اچانک وفات پاگئی ہیں اور انہوں نے کوئی وصیت نہیں کی، میرا ان کے بارے میں گمان ہے کہ اگر بولتیں تو وہ ضرور صدقہ کرتیں، اگر (اب) میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انھیں اجر ملے گا؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں۔"
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إسحاق ، كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَلَمْ تُوصِ ، كَمَا قَالَ ابْنُ بِشْرٍ وَلَمْ يَقُلْ ذَلِكَ الْبَاقُونَ .یحییٰ بن سعید، ابواسامہ، علی بن مسہر اور شعیب بن اسحاق سب نے ہشام سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ (اسی کی طرح) روایت بیان کی۔ ابواسامہ کی حدیث میں ’ولم توص‘ (اس نے وصیت نہیں کی) کے الفاظ ہیں، جس طرح ابن بشر نے کہا ہے۔ (جبکہ) باقی راویوں نے یہ الفاظ بیان نہیں کئے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَإِنِّي أَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ ، فَلِي أَجْرٌ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " .یحییٰ بن سعید نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: میری والدہ اچانک وفات پا گئیں، مجھے ان کے بارے میں یقین ہے کہ اگر وہ بات کرتیں تو صدقہ کرتیں، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا میرے لیے اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَلَمْ تُوصِ وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ ، أَفَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " ،محمد بن بشر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اللہ کے رسول! میری والدہ اچانک فوت ہو گئی ہیں اور وصیت نہیں کر سکیں، مجھے ان کے بارے میں یقین ہے کہ اگر وہ کلام کرتیں تو ضرور صدقہ کرتیں، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا ان کے لیے اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وَحَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ . ح وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ هُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ح ، وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا أَبُو أُسَامَةَ ، وَرَوْحٌ ، فَفِي حَدِيثِهِمَا : فَهَلْ لِي أَجْرٌ ، كَمَا قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : وَأَمَّا شُعَيْبٌ ، وَجَعْفَرٌ ، فَفِي حَدِيثِهِمَا : أَفَلَهَا أَجْرٌ كَرِوَايَةِ ابْنِ بِشْرٍ .امام صاحب اپنے چار اساتذہ کی چار سندوں سے ہشام بن عروہ ہی کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، ابو اسامہ اور روح تو ہشام سے یہ نقل کرتے ہیں کہ ”کیا مجھے اجر ملے گا؟‘‘ جیسا کہ یحییٰ بن سعید کی حدیث نمبر 12 میں گزرا ہے، اور شعیب اور جعفر کی حدیث میں، اوپر کی ابن بشیر کی روایت کی طرح ہے، ”کیا اس کو اجر ملے گا؟‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
اہلحدیث کا اس پر اتفاق ہے لیکن معتزلہ نے اس کا انکار کیا ہے۔
دوسری روایت میں ہے سعد ؓنے پوچھا کونسی خیرات افضل ہے‘ آپ ﷺ نے فرمایا پانی پلانا۔
اس کوامام نسائی ؒنے روایت کیا ہے۔
(1)
اس عنوان کے دو جز ہیں، پہلا یہ ہے کہ میت کی طرف سے صدقہ و خیرات کیا جائے کیونکہ صدقہ میت کو نفع دیتا ہے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جب ابن آدم فوت ہو جائے تو اس کے تمام اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر تین اعمال کا ثواب بدستور جاری رہتا ہے۔
ان میں ایک صدقہ جاریہ ہے۔
(صحیح مسلم، الوصیة، حدیث: 4223(1631) (2)
سنن نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت سعد ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا: میری والدہ کے لیے کون سا صدقہ بہتر ہو گا؟ تو آپ نے فرمایا: ’’پانی پلانا بہتر صدقہ ہے۔
‘‘ (سنن النسائي، الوصایا، حدیث: 3694)
روایات میں اس امر کی وضاحت ہے کہ حضرت سعد ؓ نے اپنی والدہ کے لیے ایک کنواں وقف کیا تھا جس کا نام بئر ام سعد تھا۔
گو آنحضرت ﷺ نے اس سے پناہ مانگی ہے کیونکہ اس میں وصیت کرنے کی مہلت نہیں ملتی۔
ابن ابی شیبہ نے روایت کی ہے کہ ناگہانی موت مومن کے لیے راحت ہے اور بدکار کے لیے غصے کی پکڑ ہے۔
(وحیدی)
(1)
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے ثابت کیا ہے کہ مومن کے لیے ناگہانی موت نقصان دہ نہیں ہوتی، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس ناگہانی موت کا ذکر ہوا تو آپ نے کسی قسم کی ناگواری کا اظہار نہیں فرمایا، البتہ ایک دوسری حدیث میں آپ نے اس ناگہانی موت کو ناراضی کی پکڑ قرار دیا ہے۔
(سنن أبي داود، الجنائز، حدیث: 3310)
کیونکہ انسان اس صورت میں ضروری وصیت نہیں کر سکتا اور نہ اسے توبہ کرنے کی مہلت ہی ملتی ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ اچانک موت مومن کے لیے راحت اور بدکار کے لیے باعث افسوس ہے، لیکن یہ روایت سخت ضعیف ہے۔
دیکھیے: (الموسوعة الحديثية، مسند أحمد: 491/4) (2)
حافظ ابن حجر ؒ نے ابن منیر کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس عنوان اور پیش کردہ حدیث سے امام بخاری ؒ کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ جسے اچانک موت آ جائے اس کی اولاد کو چاہیے کہ نیک اعمال سے اس کی تلافی کرے، لیکن ایسے نیک اعمال ہوں جس سے میت کو فائدہ پہنچ سکتا ہو اور نیابت ہو سکتی ہو۔
(فتح الباري: 323/3)
والله أعلم۔
(3)
حدیث مذکور میں جن کی والدہ کے انتقال کا ذکر ہوا ہے وہ سعد بن عبادہ ؓ تھے۔
ان کی والدہ کا نام عمرہ تھا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، اور اس نے عرض کیا: میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا، اور وہ وصیت نہیں کر سکیں، میرا خیال ہے کہ اگر وہ بات چیت کر پاتیں تو صدقہ ضرور کرتیں، تو کیا اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کروں تو انہیں اور مجھے اس کا ثواب ملے گا یا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں “ (ملے گا)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2717]
فوائد و مسائل:
(1)
انسان کو مرنے کے بعد جس طرح ان اعمال کا ثواب پہنچتا رہتا ہے جو اس نے زندگی میں کیے تھے اور ان کےنیک اثرات بعد میں جاری رہے، اسی طرح اس صدقے وغیرہ کا ثواب بھی پہنچتا ہے جو والدین کی وفات کے بعد اولاد ان کی طرف سے کرے۔
(2)
فوت شدہ والدین کی طرف سے صدقے کےلیے یہ شرط نہیں کہ انہوں نے وصیت کی ہو۔
(3)
آج کل ایصال ثواب کے نام سے جو محفلیں برپا کی جاتی ہیں اور کھانے کھلائے جاتے ہیں ان کی حیثیت محض ایک رسم کی ہے۔
صحیح طریقہ یہ ہے کہ خاموشی سے کسی مستحق کی مناسب امداد کردی جائے۔
(4)
قرض اور دوسرے مالی حقوق کی ادائیگی میں جس طرح زندگی میں نیابت ممکن ہے، اسی طرح وفات کے بعد بھی کسی کا قرض دوسرا آدمی ادا کردے تو فوت شدہ شخص برئ الذمہ ہو جاتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ: میری ماں اچانک مر گئی، وہ اگر بول سکتیں تو صدقہ کرتیں، تو کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں “، تو اس نے اپنی ماں کی طرف سے صدقہ کیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3679]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میری والدہ اچانک وفات پا گئی ہیں اور انہوں نے کوئی وصیت نہیں کی۔ میرا اس کے بارے میں خیال ہے کہ اگر وہ کوئی گفتگو کرتیں تو صدقہ (ضرور) کرتیں۔ کیا انہیں ثواب ملے گا اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہاں “ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 820»
«أخرجه البخاري، الوصايا، باب ما يستحب لمن توفي فجأة أن يتصدقوا عنه.....، حديث:2760، ومسلم، الزكاة، باب وصول ثواب الصدقة عن الميت إليه، حديث:1004.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اولاد کی جانب سے صدقے کا ثواب والدین کو پہنچتا ہے اور بغیر وصیت کے صدقہ کرنا بھی جائز ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر اولاد اپنے والدین کی طرف سے صدقہ کرے تو ثواب والدین کو پہنچتا ہے۔ یاد رہے ثواب پہنچنا اور ہے اور پہنچانا اور، جیسے ایصال ثواب کے لیے کہا جا تا ہے، اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ افسوس کہ بعض لوگوں نے بہت زیادہ غیر شرعی ایصال ثواب کے طریقے بنا رکھے ہیں، جن کا قرآن و حدیث سے کوئی تعلق نہیں ہے۔