حدیث نمبر: 1Q1
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ وَعَلَى جَمِيعِ الأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ.

شروع سب سے زیادہ رحم کرنے والے، ہمیشہ مہربانی کرنے والے اللہ کے نام سے۔ تمام تر حمد و ثنا سارے جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے اور بہترین جزا تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے ہے۔ اللہ خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی رحمت نازل فرمائے اور تمام نبیوں اور رسولوں پر بھی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 1Q1
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 0 | مشكوة المصابيح: 199

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 0 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ اپنی دو سندوں: «حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن شعبة، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن سمرة بن جندب .» اور
«حدثنا ابو بكر بن ابى شيبة ايضا، حدثنا وكيع، عن شعبة وسفيان، عن حبيب، عن ميمون بن ابي شبيب، عن المغيرة بن شعبة.»
سے، دو صحابہ کرام سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث بیان کرتے ہیں۔ (یعنی وہی حدیث جو پہلے گزری)۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
اگر ایسی احادیث بیان کرنا جھوٹ ہے جس کا جھوٹ ہونا ظنی ہے، تو جس حدیث کا مرفوع ہونا معلوم اور معروف نہیں ہے، تو اس کو وضاحت کیے بغیر بیان کرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 199 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´جھوٹی روایت بیان کرنے والا`
«. . . ‏‏‏‏وَعَن سَمُرَة بن جُنْدُب وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ» . رَوَاهُ مُسلم . . .»
". . . سیدنا سمرہ بن جندب اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کرے جس کے متعلق اسے یہ خیال ہے کہ یہ جھوٹی حدیث ہے لیکن اس کے باوجود وہ مجھ سے روایت کر کے بیان کر دیتا ہے , تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔" اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . ." [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 199]
فقہ الحدیث:
➊ جھوٹ بولنا مطلقاً حرام ہے لیکن اللہ اور رسول پر جھوٹ بولنا تو کبیرہ گناہ، حرام بلکہ بعض علماء کے نزدیک کفر ہے۔
➋ بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اس شدید وعید اور دلائل کے باوجود اللہ اور رسول پر جھوٹ بولتے ہیں، موضوع اور بےاصل روایات لکھتے اور بیان کرتے ہیں۔ کیا انہیں اللہ کی پکڑ کا کوئی ڈر نہیں ہے؟!
➌ جھوٹ بولنے والے راویوں کے ساتھ وہ شخص بھی برابر کا شریک ہے جو جھوٹی روایات کو لوگوں کے سامنے بغیر تنبیہ کے بیان کرتا رہتا ہے۔
◄ اگر حدیث مذکور میں کاذبین سے مراد تثنیہ (دو) لیا جائے تو پھر دو شخص اس حدیث کے مخاطب ہیں: وہ جس نے جھوٹی حدیث بنائی ہے، اور وہ شخص جو یہ جھوٹی حدیث لوگوں کے سامنے بغیر تنبیہ کے بیان کرتا ہے۔
➍ اس شدید وعید سے اشارتاً یہ ثابت ہوتا ہے کہ حدیث وحی اور حجت ہے، جس کی حفاظت کے لیے یہ بتا دیا گیا ہے کہ جھوٹی حدیث بیان کرنے والا شخص جھوٹا ہے اور یہ شخص جہنم میں جائے گا جیسا کہ دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
➎ علماء پر یہ ضروری ہے کہ حدیث بیان کرتے وقت اس کی تحقیق کر لیں، بلکہ علم اسماء الرجال اور اصول حدیث کو ہمیشہ مدنظر رکھیں۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 199 سے ماخوذ ہے۔