حدیث نمبر: 40729
٤٠٧٢٩ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ] (٢): "ليقرأن القرآن ناس من أمتي (يمرقون) (٣) من (الإسلام) (٤) كما (يمرق) (٥) السهم من الرمية (٦) " (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ قرآن پڑھتے ہوں گے لیکن اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 40730
٤٠٧٣٠ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) قال: أخبرني موسى بن عبيدة قال: أخبرني عبد اللَّه بن دينار عن أبي سلمة وعطاء بن يسار (قالا) (٢): جئنا أبا سعيد الخدري فقلنا: (سمعنا) (٣) من رسول اللَّه ﷺ في الحرورية (شيئا) (٤)، فقال: ما أدري ما الحرورية؟ ولكن سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "يأتي من بعدكم أقوام تحتقرون صلاتكم مع صلاتهم، وصيامكم مع صيامهم، وعبادتكم مع عبادتهم، يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم، (يمرقون) (٥) من الدين كما (يمرق) (٦) ⦗٥٥٩⦘ السهم من الرمية" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسلمہ اور حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابو سعید خدری کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے ان سے کہا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حروریہ کے بارے میں کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ حروریہ کو تو میں نہیں جانتا، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے بعد ایسی قوم آئے گی جن کی نمازوں کے سامنے تم اپنی نمازوں کو معمولی سمجھو گے، جن کے روزے کے سامنے تم اپنے روزوں کو اور جن کی عبادت کے سامنے تم اپنی عبادتوں کو بےحیثیت سمجھو گے۔ وہ قرآن پڑھتے ہوں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 40731
٤٠٧٣١ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) قال: حدثنا ابن عيينة قال: حدثنا العلاء بن أبي العباس قال: سمعت أبا الطفيل يخبر عن بكر بن (قرواش) (٢) عن سعد بن مالك قال: قال رسول اللَّه ﷺ وذكر ذا الثدية الذي كان مع أصحاب النهر- فقال: "شيطان الردهة (يحتدره) (٣) رجل من بجيلة يقال له الأشهب -أو ابن الأشهب- علامة (٤) في قوم ظلمة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس ذوالثدیہ کا تذکرہ کیا جو اصحاب نہر کے ساتھ تھا، آپ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ وہ گڑھے کا شیطان ہے، اس قبیلہ بجیلہ کا ایک آدمی جس کا نام اشہب یا ابن اشہب ہوگا وہ اسے گڑھے میں پھینکے گا، یہ ظالم قوم کی علامت ہوگا۔ عمار جہنی نے بیان کیا کہ قبیلہ بجیلہ کا ایک آدمی آیا جس کا نام اشہب یا ابن اشہب تھا۔
حدیث نمبر: 40732
٤٠٧٣٢ - فقال عمار (الدهني) (١) حين كذب به: جاء رجل من بجيلة، قال: وأراه قال: من دهن، يقال له: الأشهب أو ابن الأشهب.
حدیث نمبر: 40733
٤٠٧٣٣ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا (عبد اللَّه) (١) بن الوليد عن عبيد بن الحسن قال: قالت الخوارج لعمر بن عبد العزيز: تريد أن تسير فينا بسيرة عمر بن الخطاب؟ فقال: ما لهم، قاتلهم اللَّه، واللَّه ما زدت أن أتخذ رسول اللَّه ﷺ إمامًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن حسن فرماتے ہیں کہ خوارج نے حضرت عمر بن عبد العزیز سے فرمایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ حضرت عمر بن خطاب والا معاملہ کریں۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کہ انہیں کیا ہوا، اللہ انہیں مارے ! خدا کی قسم ! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کسی کو مقتدیٰ نہیں بناؤں گا۔
حدیث نمبر: 40734
٤٠٧٣٤ - حدثنا ابن علية عن التيمي عن أبي مجلز قال: بينما عبد اللَّه بن خباب (في يد) (١) الخوارج إذ أتوا على نخل، فتناول رجل منهم تمرة فأقبل عليه ⦗٥٦٠⦘ أصحابه فقالوا له: أخذت تمرة من تمر أهل العهد، وأتوا على خنزير (فنفحه) (٢) (رجل) (٣) منهم بالسيف، فأقبل عليه أصحابه فقالوا له: قتلت خنزيرا من خنازير أهل العهد، قال: فقال عبد اللَّه: ألا أخبركم (من) (٤) هو أعظم عليكم حقا من هذا؟ قالوا: من؟ قال: أنا، ما تركت صلاة ولا تركت كذا و (لا) (٥) تركت كذا، قال: فقتلوه، قال: فلما جاءهم عليٌّ قال: أقيدونا بعبد اللَّه بن خباب، قالوا: كيف نقيدك (به) (٦) وكلنا قد شرك في دمه؟ فاستحل قتالهم (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبد اللہ بن خباب خوارج کے قبضے میں تھے۔ اس وقت ان کا ایک آدمی کھجور کے ایک درخت کے پاس سے گزرا اور ایک کھجور اٹھا لی۔ اس کے ساتھیوں نے اس سے کہا کہ تو نے ایک ذمی کی کھجور اٹھا لی ہے ! پھر وہ ایک خنزیر کے پاس سے گزرے، ایک آدمی نے اسے تلوار ماری تو اس کے ساتھیوں نے کہا کہ تو نے ایک ذمی کے خنزیر کو مار ڈالا ! اس پر حضرت عبد اللہ بن خباب نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ان دونوں سے زیادہ حرمت والے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ انہوں نے کہا کہ وہ کون ہے ؟ حضرت عبد اللہ بن خباب نے فرمایا کہ وہ میں ہوں۔ میں نے نماز نہیں چھوڑی، میں فلاں عمل نہیں چھوڑا اور فلاں عمل بھی نہیں چھوڑا۔ اس کے باوجود بھی انہوں نے حضرت عبداللہ بن خباب کو شہید کردیا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہان کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ حضرت عبد اللہ کے قاتل ہمارے حوالے کردو، تو انہوں نے کہا کہ ہم ان کے قاتل آپ کے حوالے کیسے کردیں حالانکہ ہم سب ان کے خون میں شریک ہیں۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کو حلال قرار دے دیا۔
حدیث نمبر: 40735
٤٠٧٣٥ - حدثنا إسحاق بن منصور عن عبد اللَّه بن عمرو بن مرة عن أبيه عن عبد اللَّه بن سلمة قال - (وقد كان) (١) شهد مع علي الجمل وصفين- وقال: ما يسرني (بهما) (٢) كل ما على وجه الأرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سلمہ ان لوگوں میں سے ہیں جو جنگ جمل اور جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے شریک تھے، وہ فرماتے ہیں کہ مجھے ان دونوں سے بڑھ کر دنیا کی کوئی چیز محبوب نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 40736
٤٠٧٣٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن مصعب بن سعد قال: سألت أبي عن هذه الآية: ﴿قُلْ هَلْ (نُنَبِّئُكُمْ) (١) بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا (١٠٣) الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي ⦗٥٦١⦘ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ [الكهف: ١٠٣ - ١٠٤] (أهم) (٢) الحرورية؟ قال: لا، هم أهل الكتاب اليهود والنصارى، أما اليهود (فكذبوا) (٣) (بمحمد) (٤) ﷺ (٥)، وأما النصارى فكفروا بالجنة (وقالوا) (٦): ليس فيها طعام ولا شراب، ولكن الحوورية ﴿الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴾ [البقرة: ٢٧]، وكان سعد يسميهم الفاسقين (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ قرآن مجید کی یہ آیت کیا خوارج کے بارے میں نازل ہوئی ہے : { قُلْ ہَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالأَخْسَرِینَ أَعْمَالاً الَّذِینَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا } انہوں نے فرمایا کہ نہیں یہ آیت اہل کتاب یہود اور نصاریٰ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہود نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کی اور نصاریٰ نے جنت کا انکار کیا۔ اور کہا کہ اس میں کھانا اور پینا نہیں ہے۔ حروریہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے : { الَّذِینَ یَنْقُضُونَ عَہْدَ اللہِ مِنْ بَعْدِ مِیثَاقِہِ وَیَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّہُ بِہِ أَنْ یُوصَلَ وَیُفْسِدُونَ فِی الأَرْضِ أُولَئِکَ ہُمُ الْخَاسِرُونَ } حضرت سعد خوارج کو فاسق کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 40737
٤٠٧٣٧ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد قال: سمعت مصعب بن سعد قال: سئل أبي عن الخوارج قال: هم (قوم) (١) زاغوا فأزاغ اللَّه قلوبهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ میرے والد سے خوارج کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ وہ قوم ہے جس نے ٹیڑھے راستے کو اختیار کیا تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔
حدیث نمبر: 40738
٤٠٧٣٨ - حدثنا عبيد اللَّه قال: (أخبرنا) (١) نعيم بن حكيم قال: حدثني أبو مريم أن (شَبَث) (٢) بن ربعي وابن الكواء خرجا من الكوفة إلى حروراء، فأمر علي الناس أن يخرجوا بسلاحهم فخرجوا إلى المسجد حتى امتلأ المسجد. ⦗٥٦٢⦘ فأرسل (إليهم) (٣) علي: بئس ما صنعتم (حين) (٤) (تدخلون) (٥) المسجد بسلاحكم، اذهبوا إلى جبانة مراد حتى يأتيكم أمري، (قال) (٦): قال أبو مريم: فانطلقنا إلى جبانة مراد، (فكنا بها) (٧) ساعة من نهار، ثم بلغنا أن القوم قد رجعوا (أو) (٨) أنهم (راجعون) (٩)، قال: (فقلت) (١٠): (١١) (أنطلق) (١٢) أنا فأنظر إليهم. قال: فانطلقت فجعلت أتخلل صفوفهم حتى انتهيت إلى (شبث) (١٣) بن ربعي وابن الكواء وهما واقفان متوركان على (دابتهما) (١٤)، (وعندهم) (١٥) رسل علي (يناشدونهم) (١٦) اللَّه لما رجعوا، وهم يقولون لهم: نعيذكم باللَّه أن (تعجلوا) (١٧) (الفتنة) (١٨) العام خشية عام قابل. ⦗٥٦٣⦘ فقام رجل منهم (إلى) (١٩) بعض رسل علي فعقر دابته، فنزل الرجل وهو يسترجع، فحمل سرجه فانطلق به، وهما يقولان: ما طلبنا إلا منابذتهم، (وهم) (٢٠) يناشدونهم اللَّه، فمكثوا ساعة ثم انصرفوا إلى الكوفة كأنه يوم أضحى أو يوم فطر. وكان علي يحدثنا قبل ذلك أن قوما يخرجون من الإسلام، (يمرقون) (٢١) منه كما (يمرق) (٢٢) السهم من الرمية، علامتهم رجل مخدج اليد، قال: فسمعت ذلك مرارا كثيرة، قال: وسمعه نافع (المخدج) (٢٣) أيضًا، حتى رأيته (يتكره) (٢٤) طعامه من كثرة ما سمعه منه. قال: وكان نافع معنا في المسجد يصلي فيه بالنهار، (ويبيت) (٢٥) فيه بالليل، وقد كسوته برنسا فلقيته من الغد فسألته: هل كان خرج معنا الناس الذين خرجوا إلى حروراء؟ قال: خرجت (أريدهم) (٢٦) حتي إذا بلغت إلي بني فلان لقيني صبيان، فنزعوا سلاحي، فرجعت. حتى إذا كان الحول أو نحوه خرج أهل النهروان وسار علي إليهم، فلم أخرج معه، قال: وخرج أخي أبو عبد اللَّه (و) (٢٧) مولاه مع علي. ⦗٥٦٤⦘ قال: فأخبرني أبو عبد اللَّه أن عليا سار إليهم حتى إذا كان حذاءهم على شاطيء النهروان أرسل إليهم يناشدهم اللَّه ويأمرهم أن يرجعوا، فلم تزل رسله تختلف إليهم حتى قتلوا رسوله، فلما رأى ذلك نهض إليهم فقاتلهم حتى فرغ منهم كلهم، ثم أمر أصحابه أن يلتمسوا المخدج، فالتمسوه، فقال بعضهم: ما نجده حيًا، وقال بعضهم: ما هو فيهم؛ ثم إنه جاءه رجل فبشره فقال: يا أمير المؤمنين قد (واللَّه وجدناه) (٢٨) تحت قتيلين في ساقية، فقال: اقطعوا يده المخدجة وأتوني بها، فلما أتي بها أخذها بيده ثم رفعها ثم قال: واللَّه ما كذبت ولا كذبت (٢٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مریم فرماتے ہیں کہ شبث بن ربعی اور ابن کو اء کوفہ سے حروراء کی طرف گئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے ہتھیار کے ساتھ نکلیں۔ لوگ مسجد میں آگئے یہاں تک کہ مسجد لوگوں سے بھر گئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے ہتھیاروں کے ساتھ مسجد مں داخل ہوکربہت برا کیا۔ تم سب میدان میں جمع ہوجاؤ اور اس وقت تک وہاں رہو جب تک میرا حکم تمہیں نہ مل جائے۔ ابو مریم فرماتے ہیں کہ پھر ہم میدان میں چلے گئے اور دن کا کچھ حصہ وہاں ٹھہرے پھر ہمیں خبر ہوئی کہ لوگ واپس جارہے ہیں۔ (٢) ابو مریم کہتے ہیں کہ میں ان کو دیکھنے کے لئے ان کی طرف چلا۔ میں ان کی صفوں کو چیرتا ہوا شبث بن ربعی اور ابن کو اء تک پہنچ گیا، وہ دونوں سواری سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔ ان کے پاس حضر ت علی رضی اللہ عنہ کے قاصد تھے جو انہیں اللہ کا واسطہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تمہارا اگلے سال کے آنے سے پہلے فتنہ مچانے میں جلدی کرنا ایسا عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ تمہیں پناہ عطا فرمائے۔ خوارج کا ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایک قاصد کے پاس گیا اور اس کی سواری کو مار ڈالا۔ وہ آدمی انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتا ہوا نیچے اترا اور اپنی زین کو لے کر چل پڑا۔ وہ دونوں کہہ رہے تھے کہ ہم تو ان سے صرف مقابلہ چاہتے ہیں اور وہ اللہ کے واسطے دے رہے ہیں۔ (٣) وہ سب کچھ دیر ٹھہرے اور پھر کوفہ چلے گئے، وہ یوم اضحی یایوم فطر تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس سے پہلے ہم سے بیان کررہے تھے کہ ایک قوم اسلام سے خارج ہوجائے گی، وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ ان کی علامت یہ ہے ان میں مفلوج ہاتھ والا ایک آدمی ہوگا۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ بات کئی مرتبہ سنی ہے۔ اس بات کو مفلوج ہاتھ والے نافع نے بھی سنا۔ یہاں تک کہ میں نے اسے دیکھا کہ اس نے اس بات کو زیادہ سن کر اس کی ناگواری کی وجہ سے کھاناکھانا بھی چھوڑ دیا تھا۔ نافع ہمارے ساتھ مسجد میں تھا دن کو نماز پڑھتا تھا اور رات مسجد میں گزارتا تھا۔ میں نے اسے ایک ٹوپی پہنائی تھی۔ میں اگلے دن اسے ملا، میں نے اس سے سوال کیا کہ کیا وہ ان لوگوں کے ساتھ نکلا تھا جو حروراء کی طرف گئے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ میں ان کا ارادہ کرکے نکلا تھا لیکن جب میں فلاں قبیلے مں ھ پہنچا تو مجھے کچھ بچے ملے جنہوں نے میرا اسلحہ چھین لیا۔ میں واپس آگیا، ایک سال بعد اہل نہروان نکلے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ان کی طرف گئے لیکن میں ان کے ساتھ نہیں گیا۔ (٤) میرے بھائی ابو عبد اللہ اور ان کے غلام حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے۔ مجھے ابو عبد اللہ نے بتایا کہ حضر ت علی رضی اللہ عنہ خوارج کی طرف گئے، جب نہروان کے کنارے ان کے برابر ہوگئے تو ان کی طرف آدمی بھیجا جو انہیں اللہ کا واسطہ دے اور انہیں رجوع کی دعوت دے۔ مختلف قاصدوں کا آنا جانا لگا رہا، یہاں تک کہ خارجیوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قاصد کو قتل کردیا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس صورت حال کو دیکھا تو ان سے قتال کیا۔ جب سب کو تہس نہس کرکے فارغ ہوگئے تو اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ مفلوج ہاتھ والے شخص کو تلاش کریں۔ لوگوں نے انہیں تلاش کیا تو ایک آدمی نے کہا کہ ہمیں وہ زندہ حالت میں تو نہیں ملا۔ ایک آدمی نے کہا کہ وہ ان میں نہیں ہے۔ پھر ایک آدمی نے آکر خوشخبری دی کہ اے امیر المومنین ! خدا کی قسم ہم نے اسے دو مقتولوں کے نیچے گرا ہوا پالیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کا مفلوج ہاتھ کاٹ کر میرے پاس لاؤ۔ جب وہ ہاتھ لایا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے بلند کرکے کہا کہ خدا کی قسم ! نہ تو میں نے جھوٹ بولا اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا۔
حدیث نمبر: 40739
٤٠٧٣٩ - حدثنا شريك عن محمد بن قيس عن أبي موسى أن عليا لما أتي بالمخدج سجد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جب مفلوج شخص کو لایا گیا تو آپ نے سجدہ کیا۔
حدیث نمبر: 40740
٤٠٧٤٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن أبي إسحاق عن حصين -وكان صاحب شرطة علي- قال: قال علي: قاتلهم اللَّه، أى حديث (شابوا) (١) -يعني الخوارج الذين (قتل) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کے بارے میں فرمایا کہ اللہ انہیں ہلاک کرے۔
حدیث نمبر: 40741
٤٠٧٤١ - حدثنا ابن نمير عن الأجلح عن سلمة بن كهيل عن كثير بن (نمر) (١) قال: بينا أنا في الجمعة وعلي بن أبي طالب (٢) على المنبر إذ (قام) (٣) رجل (فقال) (٤): لا حكم إلا للَّه، ثم قام آخر فقال: لا حكم إلا للَّه، ثم قاموا من نواحي المسجد يحكمون اللَّه فأشار بيده: اجلسوا، نعم لا حكم إلا للَّه، كلمة حق (يبتغى) (٥) بها باطل، حكم اللَّه ينتظر فيكم، (الآن) (٦) لكم عندي ثلاث خلال ما (كنتم) (٧)، معنا لن (نمنعكم) (٨) مساجد اللَّه أن يذكر فيها اسمه، ولا (نمنعكم) (٩) (فيئا) (١٠) ما كانت أيديكم مع أيدينا، ولا نقاتلكم حتى (تقاتلونا) (١١)، ثم أخذ في خطبته (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کثیر بن نمر فرماتے ہیں کہ ہم جمعہ کی نماز پڑھ رہے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ منبر پر تھے کہ ایک آدمی اٹھا اور اس نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی کا حکم قبول نہیں۔ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں۔ پھر مسجد کے گوشوں سے مختلف لوگ کھڑے ہو کر یہی نعرہ لگانے لگے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں ہاتھ سے بیٹھ جانے کا اشارہ کیا۔ اور فرمایا کہ بلاشبہ اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں، لیکن یہ کلمۂ حق ہے جس سے باطل کا ارادہ کیا گیا ہے۔ تمہارے بارے میں اللہ کے حکم کا انتظار کیا جارہا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس تمہارے لئے تین رعایتیں ہیں جب تک تم ہمارے ساتھ ہو، ہم تمہیں اللہ کی مسجدوں سے منع نہیں کریں گے کہ ان میں اللہ کے نام کا ذکر کیا جائے، ہم تمہیں فیء سے بھی محروم نہیں کریں گے جب تک ہمارے اور تمہارے ہاتھ اکٹھے ہیں، ہم تم سے اس وقت تک قتال نہیں کریں گے جب تک تم ہم سے قتال نہ کرو۔ پھر آپ نے دوبارہ خطبہ شروع کردیا۔
حدیث نمبر: 40742
٤٠٧٤٢ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا يزيد بن عبد العزيز عن عمر بن (حسيل) (١) بن سعد بن حذيفة قال: حدثنا (حبيب) (٢) أبو الحسن (العبسي) (٣) عن ⦗٥٦٦⦘ أبي البختري قال: دخل رجل المسجد فقال: لا حكم إلا للَّه، (ثم قال آخر: لا حكم إلا للَّه، قال: فقال علي: لا حكم إلا للَّه) (٤)، ﴿إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ﴾ [الروم: ٦٠]، فما تدرون ما يقول هؤلاء؟ يقولون: لا إمارة، أيها الناس، إنه لا يصلحكم إلا أمير: بر أو فاجر، قالوا: هذا البر قد عرفناه، فما بال الفاجر؟ فقال: يعمل (المؤمن) (٥) (ويملى) (٦) للفاجر، ويبلغ اللَّه الأجل، (وتأمن) (٧) سبلكم، (وتقوم) (٨) أسواقكم، (ويقسم) (٩) فيئكم ويجاهد عدوكم ويؤخذ (الضعيف) (١٠) من القوي -أو قال: من الشديد- منكم (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بختری فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور اس نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں۔ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا کہ اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں۔ بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے اور وہ لوگ آپ کو حقیر نہ سمجھیں جو ایمان نہیں رکھتے۔ کیا تم جانتے ہو کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں ؟ یہ کہہ رہے ہیں کہ امارت نہیں ہے۔ اے لوگو ! تمہارے لئے امیر کا ہونا ضروری ہے، خواہ وہ نیک ہو یا فاسق۔ لوگوں نے کہا کہ نیک امیر کو تو ہم نے دیکھ لیا۔ فاسق کیسا ہوتا ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مومن عمل کرتا ہے اور فاجر کو ڈھیل دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ مدت تک پہنچاتا ہے، تمہارے راستے مامون ہیں، تمہارے بازار قائم ہیں، تمہارا مال غنیمت تقسیم کیا جاتا ہے، تمہارے دشمن سے جہاد کیا جاتا ہے۔ ضعیف کا حق قوی سے لے کر اسے دلایا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 40743
٤٠٧٤٣ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا يزيد بن عبد العزيز قال: حدثنا إسحاق بن راشد عن الزهري عن أبي سلمة بن عبد الرحمن والضحاك بن قيس عن أبي سعيد الخدري قال: (بينا) (١) رسول اللَّه ﷺ يقسم مغنما يوم (خيبر) (٢)، فأتاه رجل من بني تميم يقال: له ذو الخويصرة، فقال: يا رسول اللَّه أعدل، فقال: "هاك! لقد خبت وخسرت إن لم أعدل"، فقال عمر: دعني يا رسول اللَّه أقتله، فقال: "لا، إن لهذا أصحابا يخرجون عند اختلاف من الناس، يقرأون القرآن لا ⦗٥٦٧⦘ يجاوز حناجرهم، (يمرقون) (٣) من الدين كما (يمرق) (٤) السهم من الرمية، تحقرون صلاتكم مع صلاتهم، وصيامكم مع صيامهم، آيتهم رجل منهم كأن يده ثديُ المرأة، وكأنها بضعة تدردر"، قال: فقال أبو سعيد: (فسمع) (٥) أذني من رسول اللَّه ﷺ يوم حنين وبصر عيني مع علي حين قتلهم، ثم استخرجه فنظرت إليه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان حنین کا مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ بنو تمیم کا ایک آدمی آیا جسے ذوخویصرہ کہا جاتا تھا۔ اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! انصاف کیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ تیرا ناس ہو، اگر میں انصاف نہ کروں تو مریی ناکامی اور نامرادی میں کیا شک ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیجئے، میں اسے قتل کردوں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، اس کے کچھ ساتھی ہیں جو لوگوں کے اختلاف کے وقت ظاہر ہوں گے۔ یہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ تم ان کی نماز کے سامنے اپنی نماز کو حقیر سمجھو گے، تم ان کے روزے کے سامنے اپنے روزے کو حقیر سمجھو گے۔ ان کی نشانی یہ ہوگی کہ ان میں عورت کے پستان جیسے ہاتھ والا ایک آدمی ہوگا، جو گوشت کے ٹکڑے کی طرح لٹک رہا ہوگا۔ حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ اس بات کو حنین کے دن میرے کانوں نے سنا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ خوارج کے خلاف جنگ میں میری آنکھوں نے دیکھا کہ اس کو نکالا گیا اور میں نے اس علامت والے شخص کو دیکھا۔
حدیث نمبر: 40744
٤٠٧٤٤ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا حماد بن زيد قال: حدثنا (مجالد) (١) بن سعيد عن عمير بن (٢) (زوذى) (٣) أبي (كثير) (٤) قال: خطبنا علي يومًا، فقام الخوارج فقطعوا عليه كلامه، قال: فنزل فدخل ودخلنا معه، فقال: ألا أني إنما أكلت يوم أكل الثور الأبيض، ثم قال: مثلي مثل (ثلاثة) (٥) أثوار (وأسد) (٦) اجتمعن في أجمة: أبيض وأحمر وأسود، فكان إذا أراد شيئا منهن اجتمعن فامتنعن منه. فقال للأحمر والأسود: إنه لا يفضحنا في أجمتنا هذه إلا مكان هذا ⦗٥٦٨⦘ الأبيض، فخليا (بيني وبينه) (٧) حتى آكله، ثم أخلو أنا وأنتما في هذه الأجمة، فلونكما على لوني ولوني على لونكما، قال: ففعلا، قال: فوثب عليه فلم (يُلبثه) (٨) أن قتله. قال: فكان إذا أراد أحدهما اجتمعا، فامتنعا منه، (فقال) (٩) للأحمر: يا أحمر، إنه لا يشهرنا في أجمتنا هذه إلا مكان هذا الأسود، فخل بيني وبينه حتى آكله، ثم أخلو أنا وأنت، فلوني على لونك ولونك على لوني، قال: فأمسك عنه فوثب عليه فلم يلبثه أن قتله، ثم لبث ما شاء اللَّه. ثم قال للأحمر: يا أحمر إني آكلك، قال: تأكلني، قال: نعم، قال: أما لا فدعني حتى أصوت ثلاثة أصوات، ثم شأنك بي قال: فقال: ألا إني إنما أكلت يوم أكل الثور الأبيض، قال: ثم قال علي: ألا وإني إنما (وهنت) (١٠) يوم قتل عثمان (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن زوذی ابو کثیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک دن ہمیں خطبہ دیا، اس خطبہ میں خوارج کھڑے ہوئے اور ان کی بات کو کاٹ دیا۔ وہ نیچے اترے اور حجرے میں تشریف لے گئے، ہم بھی ان کے ساتھ اندر چلے گئے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں اس دن کھایا گیا جس دن سفید بیل کھایا گیا۔ پھر فرمایا کہ میری مثال ان تین بیلوں اور شیر کی سی ہے جو ایک کچھار میں جمع ہوگئے، ایک بیل سفید تھا، ایک سرخ اور ایک کالا، جب بھی شیر ان بیلوں کو کھانے کی کوشش کرتا وہ تینوں جمع ہوجاتے اور شیر کا مقابلہ کرتے اور شیر کو باز رکھتے۔ ایک دن شیر نے سرخ اور کالے بیل سے کہا کہ سفید بیل کا رنگ اس کچھار میں ہماری ذلت کا سبب ہے، تم دونوں ایسا کرو کہ مجھے وہ بیل کھا لینے دو ، پھر ہم تینوں آرام سے اس کچھار میں رہیں گے، میرا اور تمہارا رنگ بھی ایک جیسا ہے۔ چناچہ وہ دونوں بیل اس کے جھانسے میں آگئے۔ اس بات کو منظور کرلیا اور شیر نے فورا حملہ کرکے سفید بیل کا کام تمام کردیا۔ (٢) پھر اس کے بعد جب کبھی وہ ان دونوں بیلوں میں سے کسی ایک کو مارنا چاہتا تو وہ دونوں جمع ہوجاتے اور اسے باز رکھتے۔ پس ایک دن شیر نے سرخ بیل سے کہا کہ اے سرخ بیل ! اس جگہ کالے کے ہونے کی وجہ سے ہماری عزت خراب ہورہی ہے۔ تم مجھے اجازت دو کہ میں اسے کھا لوں، پھر تم اور میں یہاں اکیلے رہیں گے، میرا رنگ تمہارے جیسا ہے اور تمہارا رنگ میرے جیسا ہے۔ پس سرخ بیل نے اسے اجازت دے دی اور اس نے کالے بیل کا قصہ تمام کردیا۔ (٣) پھر وہ کچھ دیر تک رکا رہا اور پھر سرخ بیل سے کہا کہ اے سرخ بیل ! میں تجھے کھاؤں گا۔ اس نے کہا کہ کیا تو مجھے کھائے گا ! اس نے کہا ہاں میں تجھے کھاؤں گا۔ بیل نے کہا کہ اگر تو نے مجھے کھانا ہی ہے تو مجھے تین آوازیں نکالنے کی اجازت دے دے۔ پھر تم جو چاہو کرلینا۔ پھر بیل نے کہا کہ میں تو اسی دن کھایا گیا تھا جس دن سفید بیل کھایا گیا تھا۔ (٤) پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یاد رکھو جس دن حضرت عثمان کو شہید کیا گیا میں اسی دن کمزور ہوگیا تھا۔
حدیث نمبر: 40745
٤٠٧٤٥ - حدثنا ابن فضيل عن إسماعيل بن سميع عن الحكم قال: خمس عليٌّ أهل النهر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہاہل نہر کے مال کا خمس دیا تھا۔
حدیث نمبر: 40746
٤٠٧٤٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن الحجاج عن الحكم أن عليا قسم بين أصحابه رقيق أهل النهر ومتاعهم كله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہر کے غلام اور ان کا سارا سامان اپنے ساتھیوں میں تقسیم کردیا تھا۔
حدیث نمبر: 40747
٤٠٧٤٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن شبيب بن غرقدة عن رجل] * (١) من بني تميم قال: سألت ابن عمر عن أموال الخوارج، (فقال) (٢): ليس فيها غنيمة ولا غلول (٣).
مولانا محمد اویس سرور
بنو تمیم کے ایک آدمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خوارج کے مال کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں غنیمت اور غلول نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 40748
٤٠٧٤٨ - حدثنا ابن إدريس عن أبيه عن جده قال: (فزع) (١) المسجد حين أصيب أهل النهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ادریس کے دادا بیان کرتے ہیں کہ جب اہل نہر پر حملہ ہوا تو مسجد گونج اٹھی تھی۔
حدیث نمبر: 40749
٤٠٧٤٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا العوام بن (حوشب) (١) قال: حدثني من سمع أبا سعيد الخدري ﵁ (٢) يقول في قتال الخوارج: لهو أحب إلي من قتال الديلم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری خوارج کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان سے قتال کرنا مجھے دیلم سے قتال کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔
حدیث نمبر: 40750
٤٠٧٥٠ - حدثنا يزيد بن هارون (قال) (١): (أخبرنا) (٢) العوام بن (حوشب) (٣) عن الشيباني عن أسير بن عمرو عن سهل بن حنيف عن النبي ﷺ (قال) (٤): "يتيه قوم من قبل المشرق محلقة رؤوسهم" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مشرق کی ایک قوم حق سے ہٹ جائے گی، ان کے سر مونڈے ہوئے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 40751
٤٠٧٥١ - حدثنا يحيى بن آدم قال: ثنا حماد بن زيد عن ابن عون عن الحسن قال: (لما) (١) (منع) (٢) علي الحكمين قال أهل (حروراء) (٣): ما (تريد) (٤) أن (تجامع) (٥) (هؤلاء) (٦)؟ فخرجوا فأتاهم إبليس (فقال) (٧): (لئن) (٨) كان هؤلاء القوم الذين فارقنا مسلمين لبئس الرأي رأينا، (ولئن) (٩) كانوا كفارا لينبغي لنا أن نناديهم، قال الحسن: فوثب (عليهم) (١٠) (أبو) (١١) الحسن (فجذهم جذا) (١٢) (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دو حکم بنانے سے منع کیا تو اہل حروراء نے کہا کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ جمع ہونے کو تیار نہیں اور وہ چلے گئے۔ پھر ان کے پاس ابلیس آیا اور اس نے کہا کہ وہ قوم کہاں گئی جسے ہم نے مسلمان ہونے کی حالت میں چھوڑ دیا ؟ ہماری رائے تو بہت بری رائے تھی۔ اگر وہ کافر بھی ہوتے تب بھی ہمیں ان کو ساتھ رکھنا چاہئے تھا ! حسن فرماتے ہیں کہ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج پر حملہ کردیا اور انہیں جڑ سے اکھیڑ دیا۔
حدیث نمبر: 40752
٤٠٧٥٢ - حدثنا شبابة عن الهذيل بن بلال قال: كنت عند (محمد) (١) بن سيرين فأتاه رجل فقال، إن عندي (غلامًا) (٢) لي أريد بيعه، قد أعطيت به ستمائة ⦗٥٧١⦘ درهم، وقد أعطاني (به) (٣) الخوارج ثمانمائة، أفأبيعه منهم؟ قال: كنت بايعه من يهودي أو نصراني؟ قال: لا، (قال) (٤): فلا تبعه منهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہذیل بن بلال فرماتے ہیں کہ میں محمد بن سیرین کے پاس تھا، ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میرا ایک غلام ہے، میں اسے بیچنا چاہتا ہوں، مجھے اس کے چھ سو درہم دیئے گئے ہیں، اور مجھے خوارج نے اس کے آٹھ سو دراہم دیئے ہیں، کیا میں انہیں بیچ دوں ؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا تم وہ غلام کسی یہودی یا نصرانی کو بیچنا چاہو گے ؟ میں نے کہا نہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ پھر ان کو بھی نہ بیچو۔
حدیث نمبر: 40753
٤٠٧٥٣ - حدثنا يحيى بن آدم (قال) (١): ثنا (مفضل) (٢) بن مهلهل عن الشيباني عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: كنت عند علي، فسئل عن أهل النهر (أمشركون هم) (٣) قال: من الشرك فروا، (قيل) (٤): فمنافقون هم؟ قال: إن المنافقين لا يذكرون اللَّه إلا قليلا، قيل له: فما هم؟ قال: قوم بغوا علينا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان سے اہل نہر کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا وہ مشرک ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ تو شرک سے بھاگنے والے ہیں۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ منافق ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ منافق اللہ کا تھوڑا ذکر کرتے ہیں۔ ان سے کہا گیا کہ وہ کیا ہیں ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ ایک ایسی قوم ہیں جنہوں نے ہم سے بغاوت کی ہے۔
حدیث نمبر: 40754
٤٠٧٥٤ - حدثنا يحيى بن آدم (قال) (١): ثنا (مفضل) (٢) عن أبي إسحاق عن عرفجة عن أبيه قال: (لما) (٣) جيء علي بما في عسكر أهل النهر قال: من عرف شيئا فليأخذه، قال: (فأخذوه) (٤) إلا (قدرًا) (٥)، قال: ⦗٥٧٢⦘ ثم رأيتها بعد (قد) (٦) أخذت (٧). تم الكتاب (٨)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عرفجہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس اہل نہر کے لشکر کا مال ومتاع لایا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ جس کو جو چیز بھلی لگے وہ لے لے۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے ایک ہانڈی کے سوا سب کچھ لے لیا۔ بعد میں میں نے دیکھا وہ ہانڈی بھی کسی نے لے لی تھی۔