حدیث نمبر: 40689
٤٠٦٨٩ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا ابن علية عن أيوب عن ابن سيرين عن عبيدة عن علي قال: ذكر الخوارج، قال: فيهم رجل مخدج اليد أو (مودن) (٢) أو (مثدّن) (٣) اليد، لولا إن تبطروا لحدثتكم بما وعد اللَّه الذين يقتلونهم على لسان محمد ﷺ (٤)، قلت: أنت سمعته من محمد ﷺ (٥) قال: أي ورب الكعبة -ثلاث مرات (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ہے جس کا ہاتھ مکمل نہیں ہے۔ اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم میری بات کا انکارکرو گے تو میں تمہیں وہ بات ضرور بتاتا جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو خوارج سے قتال کریں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے یہ بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رب کعبہ کی قسم ! میں نے سنی ہے۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمائی۔
حدیث نمبر: 40690
٤٠٦٩٠ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن (يسير) (١) بن عمرو قال: سألت سهل بن حنيف: هل سمعت النبي ﷺ يذكر هؤلاء الخوارج؟ قال: سمعته -وأشار بيده نحو المشرق-: "يخرج منه قوم يقرؤون القرآن بألسنتهم لا يعدو تراقيهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یسیر بن عمرو کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سہل بن حنیف سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوارج کا تذکرہ فرماتے سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا ہے۔ آپ نے اپنے دست مبارک سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ یہاں سے ایک ایسی قوم کا خروج ہوگا جو زبانوں سے قرآن پڑھتے ہوں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین اسلام سے اس تیزی سے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے۔
حدیث نمبر: 40691
٤٠٦٩١ - حدثنا أبو بكر (١) عن عاصم عن زر عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يخرج في آخر الزمان قوم أحداث الأسنان سفهاء الأحلام، يقولون من خير قول الناس، يقرأون القرآن لا يجاوز تراقيهم، (يمرقون) (٢) من الإسلام كما (يمرق) (٣) السهم من الرمية، فمن لقيهم فليقتلهم فإن قتلهم أجر عند اللَّه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب ایک ایسی قوم کا ظہورہوگا جن کے افراد کم عمر کے ہوں گے، عقل کے اندھے ہوں گے، جب بات کریں گے تو لوگوں میں سب سے خوب بات کہیں گے۔ زبانوں سے قرآن پڑھتے ہوں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین اسلام سے اس تیزی سے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے۔ جسے ان کا سامنا ہو ان سے قتال کرے کیونکہ ان سے قتال کرنا اللہ کے نزدیک بہت بڑے اجر کی بات ہے۔
حدیث نمبر: 40692
٤٠٦٩٢ - حدثنا إسحاق الأزرق عن الأعمش عن ابن أبي أوفى قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الخوارج كلاب النار" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی اوفی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خوارج جہنم کے کتے ہیں۔
حدیث نمبر: 40693
٤٠٦٩٣ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن عمير بن إسحاق قال: ذكروا الخوارج عند أبي هريرة قال: أولئك شرار الخلق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ کے سامنے خوارج کا تذکرہ آیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ بدترین لوگ ہیں۔
حدیث نمبر: 40694
٤٠٦٩٤ - حدثنا وكيع عن عكرمة بن عمار عن (عاصم) (١) بن (شميخ) (٢) قال: سمعت أبا سعيد الخدري يقول ويداه (هكذا) (٣) -يعني ترتعشان من الكبر-: ⦗٥٣٧⦘ لقتال الخوارج أحب إلي من قتال عدتهم من (٤) (الترك) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری نے بڑھاپے میں جبکہ ان کے ہاتھ بھی کانپ رہے تھے فرمایا کہ خوارج سے قتال کرنا میرے نزدیک مشرکین سے قتال کرنے سے زیادہ افضل ہے۔
حدیث نمبر: 40695
٤٠٦٩٥ - حدثنا ابن نمير قال: (حدثنا) (١) عبيد اللَّه بن عمر عن نافع قال: لما سمع ابن عمر (بنجدة) (٢) قد أقبل وأنه يزيد المدينة وأنه يسبي النساء ويقتل الولدان، قال: إذن لا ندعه و (ذاك) (٣)، وهمَّ بقتاله وحرض الناس، (فقيل) (٤) له: إن الناس لا يقاتلون معك، ونخاف أن (تترك) (٥) وحدك، فتركه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نجدہ کے بارے میں سنا کہ وہ مدینہ آرہا ہے اور عورتوں کو قیدی بنا رہا ہے اور بچوں کو قتل کررہا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تو ہم اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ پھر آپ نے اس کے قتال کا ارادہ کیا اور لوگوں کو اس کی ترغیب دی۔ ان سے کہا گیا کہ لوگ آپ کی معیت میں قتال کے لئے تیار نہیں ہوں گے اور ہمیں خوف ہے کہ آپ کو اکیلا چھوڑ دیا جائے گا ۔ اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے تعرض کرنے کا ارادہ ترک کردیا۔
حدیث نمبر: 40696
٤٠٦٩٦ - حدثنا عبدة عن الأعمش قال: سمعتهم يذكرون أن (عبد الرحمن) (١) بن يزيد غزا الخوارج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش کہتے ہیں کہ میں نے اسلاف کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عبد الرحمن بن یزید نے خوارج سے جنگ کی۔
حدیث نمبر: 40697
٤٠٦٩٧ - حدثنا أبو أسامة عن سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال عن عبد اللَّه ابن الصامت عن أبي ذر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن بعدي أو سيكون بعدي من أمتي قوم يقرؤون القرآن لا يجاوز حلوقهم يخرجون من الدين كما يخرج السهم من الرمية لا يعودون فيه هم شرار الخلق والخليقة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد ایک قوم ہوگی جو قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے۔ وہ پھر دین میں واپس نہیں آئیں گے۔ وہ بدترین مخلوق اور بدترین اخلاق والے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن صامت فرماتے ہیں کہ میں نے اس روایت کا تذکرہ حضرت رافع بن عمرو سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 40698
٤٠٦٩٨ - قال عبد اللَّه بن الصامت: فذكرت ذلك لرافع بن عمرو (١) أخي الغفاري فقالوا: وأنا أيضا قد سمعته من رسول اللَّه ﷺ (٢).
حدیث نمبر: 40699
٤٠٦٩٩ - حدثنا عمرو بن يحيى (بن) (١) عمرو بن سلمة (الهمداني) (٢) عن أبيه عن جده قال: كنا جلوسا (على) (٣) باب عبد اللَّه (ننتظره) (٤) أن يخرج إلينا فخرج فقال: إن رسول اللَّه ﷺ حدثنا: "أن قوما يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم (يمرقون) (٥) من الإسلام كما (يمرق) (٦) السهم من الرمية، وأيم اللَّه لا أدري (لعل) (٧) أكثرهم منكم" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ ہمدانی اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ کے انتظار میں ان کے دروازے پر بیٹھے تھے، وہ تشریف لائے اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے بیان کیا کہ ایک قوم قرآن مجید کو پڑھتی ہوگی لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکلتا ہے۔ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ شاید ان سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ تم میں سے ہوں۔ حضرت عمرو بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ان میں سے اکثر لوگوں کو دیکھا کہ یوم نہروان میں خوارج کے ساتھ ہم سے قتال کررہے تھے۔
حدیث نمبر: 40700
٤٠٧٠٠ - قال: فقال عمرو بن (سلمة) (١): فرأينا عامة (أولئك) (٢) يطاعنونا يوم النهروان مع الخوارج.
حدیث نمبر: 40701
٤٠٧٠١ - حدثنا يحيى بن آدم قال: (حدثنا) (١) عبد الرحمن بن حميد (الرؤاسي) (٢) قال: حدثنا عمران بن ظبيان عن أبي (تحيى) (٣) قال: سمع رجلا من الخوارج وهو (٤) يصلي صلاة الفجر يقول: ﴿وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ [الزمر: ٦٥] قال: فترك سورته التي كانت فيها قال: (وقرأ) (٥): ﴿فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ﴾ [الروم: ٦٠] (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو تحیی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک خارجی کو فجر کی نماز میں قرآن مجید کی یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا : { وَلَقَدْ أُوحِیَ إلَیْک وَإِلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ أَشْرَکْت لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُک وَلَتَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ } یہ سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی سورت کو چھوڑ دیا اور یہاں سے پڑھا { فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ وَلاَ یَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِینَ لاَ یُوقِنُونَ }۔
حدیث نمبر: 40702
٤٠٧٠٢ - حدثنا قطن بن عبد اللَّه (أبو مرى) (١) عن أبي غالب قال: كنت في مسجد دمشق فجاءوا بسبعين رأسا من رؤوس الحرورية فنصبت على درج المسجد، فجاء أبو (أمامة) (٢) فنظر إليهم فقال: كلاب جهنم، شر قتلى قُتلوا تحت ظل السماء، ومن قَتلوا خير قتلى تحت (ظل) (٣) السماء، وبكى (ونظر) (٤) إليَّ وقال: يا أبا غالب إنك من بلد هؤلاء؟ قلت: نعم، (قال) (٥): أعاذك - (قال) (٦): أظنه ⦗٥٤٠⦘ قال- اللَّه منهم، قال: تقرأ آل عمران؟ قلت: نعم، قال: ﴿مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ﴾ [آل عمران: ٧] قال: ﴿يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ﴾ [آل عمران: ١٠٦]، قلت: يا أبا (أمامة) (٧) إني رأيتك تهريق عبرتك؟ قال: نعم! رحمة لهم، إنهم كانوا من أهل الإسلام، قال: افترقت بنو إسرائيل على واحدة وسبعين فرقة، وتزيد هذه الأمة فرقة واحدة، كلها في النار إلا السواد الأعظم؛ عليهم ما حملوا وعليكم ما حملتم، وإن تطيعوه تهتدوا، وما على الرسول إلا البلاغ (المبين) (٨)، السمع والطاعة خير من الفرقة والمعصية، فقال له رجل: يا أبا أمامة! أمن رأيك تقول (أم من) (٩) شيء سمعته من رسول اللَّه ﷺ؟ قال: إني إذن لجريء، قال: بل سمعته من رسول اللَّه ﷺ غير مرة ولا مرتين -حتى ذكر سبعًا (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو غالب فرماتے ہیں کہ میں دمشق کی جامع مسجد میں تھا کہ لوگ ستر خارجیوں (حروریوں) کے سر لے کر آئے۔ ان سروں کو مسجد کی سیڑھیوں پر نصب کردیا گیا۔ جب حضرت ابو امامہ تشریف لائے اور ان کے سروں کو دیکھا تو فرمایا کہ یہ جہنم کے کتے ہیں۔ آسمان کے نے چر مارے جانے والے یہ بدترین مخلوق ہیں۔ اور جنہیں انہوں نے قتل کیا ہے وہ آسمان کے نیچے سب سے بہترین مقتول ہیں۔ پھر وہ روئے اور میری طرف دیکھا اور مجھ سے فرمایا کہ اے ابو غالب ! تم ان لوگوں کے شہر سے ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ نے تمہیں محفوظ رکھا۔ پھر فرمایا کہ کیا تم سورة آل عمران پڑھتے ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :{ مِنْہُ آیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ ہُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ فَأَمَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَائَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَائَ تَأْوِیلِہِ ، وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیلَہُ إِلاَّ اللَّہُ وَالرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ } اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ فَأَمَّا الَّذِینَ اسْوَدَّتْ وُجُوہُہُمْ أَکَفَرْتُمْ بَعْدَ إیمَانِکُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُونَ } حضرت ابو غالب فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ابوامامہ ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ان پر رحمت کی وجہ سے میری آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں۔ وہ اہل اسلام میں سے تھے۔ بنی اسرائیل والے اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے اور اس امت میں ایک فرقے کا اضافہ ہوگا، وہ سب جہنم میں جائیں گے سوائے بڑی جماعت کے۔ ان پر وہ ہے جس کے وہ مکلف بنائے گئے اور تم پر وہ ہے جس کے تم مکلف بنائے گئے۔ اگر تم اس بڑی جماعت کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے اور پیغام دینے والے پر تو بات کو کھول کھول کر بیان کردینا ہی ہوتا ہے۔ بات کو سننا اور اطاعت کرنا فرقہ میں پڑنے اور معصیت سے بہتر ہے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا کہ اے ابو امامہ ! یہ بات آپ اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں یا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں یہ بات اپنی رائے سے کہوں تو دین کے معاملے میں جرأت کرنے والا بن جاؤں گا ! میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک ، دو مرتبہ نہیں بلکہ سات مرتبہ سنی ہے۔
حدیث نمبر: 40703
٤٠٧٠٣ - حدثنا يزيد بن هارون الواسطي قال: (حدثنا) (١) سليمان التيمي عن ⦗٥٤١⦘ أبي مجلز قال: نهى علي أصحابه أن (يبسطوا) (٢) على الخوارج حتى يحدثوا حدثا فمروا بعبد اللَّه بن خباب فأخذوه. فمر بعضهم على تمرة ساقطة من نخلة فأخذها فألقاها في فيه، فقال بعضهم: تمرة معاهَد، فبم استحللتها؟ فألقاها من فيه. ثم مروا على خنزير (فنفحه) (٣) بعضهم بسيفه، فقال بعضهم: خنزير معاهد، فبم استحللته؟ فقال عبد اللَّه: ألا أدلكم على ما هو أعظم عليكم حرمة من هذا؟ قالوا: نعم، قال: أنا، فقدموه فضربوا عنقه. فأرسل إليهم علي أن أقيدونا (بعبد اللَّه) (٤) بن خباب، فأرسلوا إليه: وكيف نقيدك وكلنا قتله، قال: أوكلكم قتله؟ قالوا: نعم، (فقال) (٥): اللَّه أكبر. ثم أمر أصحابه أن (يبسطوا) (٦) عليهم، قال: واللَّه لا يقتل منكم عشرة ولا (يفلت) (٧) منهم عشرة، قال: فقتلوهم. فقال: اطلبوا فيهم ذا الثدية، فطلبوه (فأتي) (٨) به، فقال: من يعرفه؟ فلم يجدوا أحدا يعرفه إلا رجلًا، قال: أنا رأيته (بالحيرة) (٩)، فقلت له: أين تريد؟ (قال) (١٠): هذه، وأشار إلى الكوفة، (ومالي) (١١) بها معرفة، قال: فقال علي: ⦗٥٤٢⦘ صدق هو من الجان (١٢)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو خوارج کے ساتھ معرکہ آرائی سے اس وقت تک منع کیا جب تک وہ خود چھیڑ خانی نہ کریں۔ چناچہ خوارج حضرت عبد اللہ بن خباب کے پاس سے گزرے اور انہیں پکڑ لیا۔ پھر ان میں سے ایک شخص ایک کھجور کے درخت سے گری ہوئی کھجور کو اٹھا کر کھانے لگا تو ایک شخص اسے ٹوکتے ہوئے بولا کہ یہ ایک ذمی کی کھجور ہے تم اسے کیسے حلال سمجھتے ہو ؟ چناچہ اس نے کھجور منہ سے پھینک دی۔ پھر وہ ایک خنزیر کے پاس سے گزرے تو ایک آدمی نے اسے اپنی تلوار ماری۔ ایک شخص اسے ٹوکتے ہوئے بولا کہ یہ ایک ذمی کا خنزیر ہے تم اسے اپنے لئے کیسے حلال سمجھتے ہو ؟ حضرت عبد اللہ بن خباب نے فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں ان چیزوں سے زیادہ قابل احترام چیز کا نہ بتاؤں ؟ انہوں نے کہا بتائیے، حضرت عبد اللہ بن خباب نے فرمایا کہ میں ہوں۔ وہ آگے بڑھے اور حضرت عبد اللہ بن خباب کی گردن کاٹ ڈالی۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ حضرت عبد اللہ بن خباب کے قاتل کو میری طرف بھیج دو ۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان کے قاتل آپ کو کیسے بھیجیں، ہم سب نے انہیں قتل کیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا تم سب نے انہیں قتل کیا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا اور پھر اپنے ساتھیوں کو ان پر چڑھائی کا حکم دے دیا۔ اور فرمایا خدا کی قسم ! تم میں سے دس آدمی قتل نہیں ہوں گے اور ان میں سے دس آدمی باقی نہیں بچیں گے۔ پس لوگوں نے ان سے قتال کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ ان میں ذوالثدیہ کو تلاش کرو۔ لوگوں نے اسے تلاش کیا اور اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا انہوں نے پوچھا کہ اسے کون جانتا ہے۔ پھر صرف ایک آدمی ملا جو اسے جانتا تھا۔ اس نے کہا کہ میں نے اسے حیرہ میں دیکھا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں جارہے ہو ؟ اس نے کہا کہ اس طرف، اور پھر اس نے کوفہ کی طرف اشارہ کیا جبکہ مجھے اس کا علم نہ تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ جنوں میں سے ہے، اس نے سچ کہا۔
حدیث نمبر: 40704
٤٠٧٠٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) عمران بن حدير عن أبي مجلز قال: لما لقي علي الخوارج (أكب) (٢) عليهم المسلمون، فواللَّه ما أصيب من (المسلمين) (٣) تسعة حتى أفنوهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج پر چڑھائی کی تو مسلمان بھی ان پر ٹوٹ پڑے، خدا کی قسم صرف نو مسلمان شہید ہوئے تھے کہ انہوں نے خوارج کو تہس نہس کردیا۔
حدیث نمبر: 40705
٤٠٧٠٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن سعيد بن (جمهان) (١) قال: كانت الخوارج قد دعوني حتى كدت أن أدخل فيهم، (فرأيت) (٢) أخت أبي بلال في المنام كأنها (رأت) (٣) أبا بلال أهلب، (قال) (٤): فقلت: يا أخي ما (شأنك؟) (٥) (٦) قال: فقال: جعلنا بعدكم كلاب أهل النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جمہان فرماتے ہیں کہ خوارج نے مجھے اپنی جماعت میں داخل ہونے کی دعوت دی، قریب تھا کہ میں ان میں شمولیت اختیار کرلیتا۔ اس اثناء میں ابو بلال کی بہن نے خواب میں ابو بلال اہلب کو دیکھا اور اس سے پوچھا کہ اے میرے بھائی ! تمہیں کیا ہوا ؟ اس نے کہا کہ ہمیں تمہارے بعد جہنم کے کتے بنادیا گیا۔
حدیث نمبر: 40706
٤٠٧٠٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: حدثني رجل من عبد القيس قال: كنت مع الخوارج فرأيت منهم شيئا ⦗٥٤٣⦘ كرهته، (ففارقتهم) (١) على أن لا أكثر عليهم، فبينا أنا مع طائفة منهم إذ رأوا رجلا (خرج) (٢) كأنه (فزع) (٣)، وبينهم وبينه نهر، فقطعوا إليه النهر، فقالوا: كأنا رعناك؟ قال: أجل، قالوا: ومن أنت؟ قالا: أنا عبد اللَّه بن خباب بن (الأرت) (٤)، قالوا: عندك حديث تحدثناه عن أبيك عن رسول اللَّه ﷺ، (فقال: حدثني أبي عن رسول اللَّه ﷺ) (٥): "إن فتنة جائية، القاعد فيها خير من القائم، والقائم فيها خير من الماشي، فإذا لقيتهم فإن استطعت أن تكون عبد اللَّه المقتول (فلا) (٦) تكن عبد اللَّه القاتل"، قال: فقربوه إلى (النهر) (٧) فضربوا عنقه فرأيت دمه يسيل (يجري) (٨) على الماء كأنه شراكٌ (ما (ابذقر) (٩) بالماء حتى توارى عنه، ثم دعوا بسرية له حبلى فبقروا عما في بطنها (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
بنو عبد القیس کے ایک آدمی بیان کرتے ہیں کہ میں خوارج کے ساتھ تھا کہ میں نے ان میں ایسی چیزوں کو دیکھا جنہیں میں پسند نہیں کرتا تھا۔ لہٰذا میں نے ان سے جدائی کا فیصلہ کرلیا۔ میں ابھی انہی کی ایک جماعت کے ساتھ تھا کہ انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا، جس کے اور ان کے درمیان نہر حائل تھی۔ انہوں نے اس آدمی کو پکڑنے کے لئے نہر عبور کی اور کہا کہ شاید ہم نے تمہیں ڈرا دیا۔ اس نے کہا ہاں کچھ یونہی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ اس آدمی نے کہا کہ میں عبد اللہ بن خباب بن ارت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے پاس ایک حدیث ہے جو تم اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہو۔ انہوں نے فرمایا کہ ہاں میرے والد نے مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے بیان کیا کہ فتنہ آنے والا ہے۔ اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا۔ اگر تم اللہ کے مقتول بندے بن سکو تو بن جانا لیکن اللہ کے قاتل بندے نہ بننا۔ پھر وہ لوگ حضرت عبد اللہ بن خباب کو نہر کے قریب لے گئے اور ان کی گردن کاٹ ڈالی۔ میں نے ان کے خون کو نہر کی لہروں پر بہتے ہوئے دیکھا ، پھر انہوں نے حضرت عبد اللہ بن خباب کی ایک حاملہ باندی کو بلایا اور اس کے پیٹ کو چاک کرڈالا۔
حدیث نمبر: 40707
٤٠٧٠٧ - حدثنا يحيى بن آدم قال: (حدثنا) (١) موسى بن محمد الأنصاري ⦗٥٤٤⦘ قال: حدثني يحيى بن (حيان) (٢) عن جبلة بن (سحيم) (٣) وفلان بن (نضلة) (٤) قالا: بعث علي إلى الخوارج فقال: لا تقاتلوهم حتى (يدعوا) (٥) إلى ما كانوا عليه من (عطاء أو) (٦) رزق في أمان من اللَّه ورسوله، فأبوا وسبونا (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبلہ بن سحیم اور ابن نضلہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کی طرف ایک لشکر کو روانہ فرمایا اور ان سے فرمایا کہ خوارج سے اس وقت تک قتال نہ کرنا جب تک انہیں دعوت نہ دی جائے کہ وہ پہلے والے سالانہ وظیفہ اور اللہ ورسول اللہ کے امان کو قبول کرلیں۔ لیکن انہوں نے اس بات سے انکار کیا اور ہمیں گالم گلوچ کی۔
حدیث نمبر: 40708
٤٠٧٠٨ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا موسى بن قيس الحضرمي عن سلمة ابن كهيل عن زيد بن وهب قال: خطبنا عليٌّ بالمدائن بقنطرة (الديزجان) (١) فقال: قد ذكر لي أن خارجة تخرج من قبل المشرق فيهم ذو الثدية، وإني لا أدري أهم هؤلاء أم غيرهم؟ قال: فانطلقوا يلقى بعضهم بعضا، فقالت الحرورية: لا تكلموهم كما كلمتموهم يوم حروراء (بكلمة) (٢) (فرجعتم) (٣)، قال: فشجر بعضهم بعضا بالرماح، فقال (بعض) (٤) أصحاب علي: قطعوا العوالي، قال: فاستداروا فقتلوهم وقتل (من) (٥) أصحاب علي إثنا عشر أو ثلاثة عشر، فقال: التمسوه، (فالتمسوه) (٦) فوجدوه فقالوا: واللَّه ما كَذبت ولا كُذبت، اعملوا ⦗٥٤٥⦘ واتكلوا، فلولا أن (تتكلوا) (٧) لأخبرتكم بما قضى اللَّه لكم على لسان نبيكم (٨)، ثم قال: لقد شهدنا ناس باليمن، قالوا: كيف ذاك يا أمير المؤمنين؟ فقال: كان (هواهم) (٩) معنا (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دیزجان کے پل پر مدائن میں ہمارے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس خطبے میں آپ نے کہا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ ایک جماعت مشرق کی طرف سے خروج کرنے والی ہے ان میں ذوالثدیہ بھی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ وہی لوگ ہیں یا کوئی اور ہیں ؟ راوی کہتے ہیں کہ وہ لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہوئے چلے، حروریہ نے کہا کہ ان سے اس طرح بات نہ کرنا جس طرح تم نے ان سے حروراء کے دن بات کی تھی۔ پھر انہوں نے ان سے بات کی اور تم لوٹ گئے۔ پھر ان کے درمیان نیزے چلنے لگے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کچھ ساتھیوں نے کہا کہ نیزوں کو کاٹ دو اور پھر وہ گھوم کر آئے اور ان سے قتال کیا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے بارہ یا تیرہ لوگ شہید ہوئے ۔ پھر انہوں نے کہا کہ اسے تلاش کرو، انہوں نے اسے تلاش کیا اور پالیا۔ پھر فرمایا کہ خدا کی قسم نہ تو نے جھوٹ بولا اور نہ تجھ سے جھوٹ بولا گیا۔ عمل کرتے رہو اور پر امید نہ ہو۔ اگر تم امید پر سہارا نہ لگا لو تو میں تمہیں وہ بات بتادوں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان فیض ترجمان سے جاری فرمائی ہے۔ پھر فرمایا کہ ہمارے ساتھ یمن کے بھی کچھ لوگ تھے۔ لوگوں نے کہا کہ وہ کیسے اے امیر المومنین ! آپ نے فرمایا کہ ان کی خواہشات ہمارے ساتھ تھیں۔
حدیث نمبر: 40709
٤٠٧٠٩ - حدثنا يزيد بن هارون (قال: أخبرنا) (١) أبو شيبة عن أبي إسحاق عن أبي بركة (الصائدي) (٢) قال: لما قتل علي ذا الثدية قال سعد: لقد قتل ابن أبي طالب جانَّ الردهة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبر کہ صائدی فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ذوالثدیہ کو قتل کردیا تو حضرت سعد نے فرمایا کہ ابن ابی طالب نے بل کے سانپ کو مارڈالا۔
حدیث نمبر: 40710
٤٠٧١٠ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل بن سميع الحنفي عن أبي رزين قال: لما كانت الحكومة بصفين وباين الخوارج (عليا) (١) رجعوا مباينين له، وهم في عسكر، وعلي في عسكر، [حتى دخل (علي الكوفة) (٢) (مع الناس بعسكره) (٣)، ومضوا هم إلى حروراء بعسكرهم] (٤)، فبعث عليٌّ إليهم ابن عباس فكلمهم فلم يقع منهم موقعًا، فخرج (علي) (٥) إليهم (فكلمهم) (٦) حتى ⦗٥٤٦⦘ أجمعوا هم وهو على الرضا، فرجعوا حتى دخلوا الكوفة على الرضا منه ومنهم، فأقاموا يومين أو نحو ذلك، قال: فدخل الأشعث بن قيس وكان يدخل على علي فقال: إن الناس يتحدثون أنك رجعت لهم عن كفره، فلما أن كان الغد (أو) (٧) الجمعة صعد (علي) (٨) المنبر فحمد اللَّه وأثنى عليه فخطب فذكرهم ومباينتهم الناس وأمرهم الذي فارقوه فيه، فعابهم وعاب أمرهم، قال: فلما نزل عن المنبر (تنادوا) (٩) من نواحي المسجد: "لا حكم إلا للَّه"، فقال علي: حكم اللَّه أنتظر فيكم، ثم قال بيده هكذا يسكتهم بالإشارة، وهو على المنبر حتى (أتاه) (١٠) رجل منهم واضعا إصبعيه في (أذنيه) (١١) وهو يقول: ﴿لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ [الزمر: ٦٥] (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رزین فرماتے ہیں کہ جب حکومت صفین میں تھی، اور خوارج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا اور انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔ توخوارج ایک لشکر میں تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دوسرے لشکر میں تھے۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہاپنے لشکر کے ساتھ کوفہ واپس آگئے اور وہ اپنے لشکر میں حروراء چلے گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بھیجا لیکن انہوں نے کوئی گنجائش نہ پائی۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہان سے گفتگو کے لئے تشریف لئے گئے اور ان سے بات چیت ہوئی اور سب آپس میں راضی ہوگئے۔ اور کوفہ واپس آگئے۔ یہ رضامندی دو یا تین دن قائم رہی۔ پھر اشعث بن قیس آئے جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس اکثر آیا کرتے تھے اور انہوں نے کہا کہ لوگ کہہ رہے کہ آپ نے ان سے ان کے کفر کے باوجود رجوع کرلیا۔ اگلے دن یا جمعہ کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ منبر پر جلوہ افروز ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور خطبہ میں انہیں نصیحت فرمائی۔ لوگوں سے ان کے الگ ہونے کا تذکرہ کیا، جس چیز میں انہوں نے مفارقت کی اس کا انہیں حکم دیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی اور ان کے طریقہ کار کی مذمت فرمائی۔ جب وہ منبر سے نیچے تشریف لائے تو مسجد کے کونوں سے آوازیں آنے لگیں کہ اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں ! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارے بارے میں اللہ کے حکم کا انتظار کررہا ہوں۔ پھر منبر پر انہیں ہاتھ سے خاموش رہنے کا اشارہ فرمایا۔ اتنے میں خارجیوں کا ایک آدمی اپنی انگلیاں کانوں پر رکھ کر یہ آیت پڑھتے ہوئے آیا { لَئِنْ أَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُک وَلَتَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ }۔
حدیث نمبر: 40711
٤٠٧١١ - حدثنا يحيى بن آدم قال: (حدثنا) (١) ابن عيينة عن (عبيد اللَّه) (٢) بن أبي يزيد عن ابن عباس أنه ذكر عنده الخوارج فذكر من عبادتهم واجتهادهم فقال: ليسوا بأشد اجتهادا من اليهود والنصارى ثم هم يصلون (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے خوارج کا تذکرہ کیا گیا، ان کی عبادت اور مساعی کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ یہودیوں اور عیسائیوں سے زیادہ کوشش کرنے والے اور ان سے زیادہ نماز پڑھنے والے نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 40712
٤٠٧١٢ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا ابن عيينة عن معمر عن (ابن) (١) طاوس عن أبيه عن ابن عباس أنه ذكر (٢) ما يلقى الخوارج عند القرآن فقال: يؤمنون عند محكمه ويهلكون عند متشابهه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے تذکرہ کیا گیا کہ خوارج قرآن کو ہمیشہ بنیاد قرار دیتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ اس کے محکم پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے متشابہ کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 40713
٤٠٧١٣ - حدثنا أسور بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن بشر بن (شغاف) (١) قال: سألني عبد اللَّه بن سلام عن الخوارج فقلت: هم أطول الناس صلاة وأكثرهم صوما غير أنهم إذا خلفوا الجسر اهراقوا الدماء، وأخذوا الأموال، فقال: لا (تسئل) (٢) عنهم (إلا ذا) (٣)، أما إني قد قلت لهم: لا تقتلوا عثمان، دعوه، فواللَّه لئن تركتموه إحدى عشرة ليلة ليموتن على فراشه موتًا، فلم يفعلوا، فإنه لم يقتل نبي إلا قتل به سبعون ألفا من الناس، ولم يقتل خليفة إلا قتل به (خمسة) (٤) وثلاثون ألفًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشر بن شغاف فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن سلام نے مجھ سے خوارج کے بارے میں سوال کیا تو میں نے عرض کیا کہ وہ سب سے لمبی نماز پڑھنے والے اور سب سے زیادہ روزے رکھنے والے ہیں۔ لیکن جب وہ پل کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں تو خون بہاتے ہیں اور مال چھین لے تھ ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ان کے بارے میں تم سے یہی سوال کیا جائے گا۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ حضرت عثمان کو شہید نہ کرو، انہیں چھوڑ دو خدا کی قسم اگر تم انہیں گیارہ راتوں تک چھوڑ دو تو وہ اپنے بستر پر انتقال کرجائیں گے۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ جب کوئی نبی قتل کیا جاتا ہے تو اس کے بدلے میں ستر ہزار لوگ قتل ہوتے ہیں اور جب کوئی خلیفہ قتل کیا جاتا ہے تو اس کے بدلہ میں پینتیس ہزار لوگ قتل ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 40714
٤٠٧١٤ - حدثنا أسود بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أبي الطفيل أن رجلا ولد له (غلام على عهد النبي ﷺ) (١)، فدعا له وأخذ ببشرة ⦗٥٤٨⦘ (جبهته) (٢) فقال بها هكذا وغمز جبهته ودعا له بالبركة، قال: (فنبت) (٣) شعرة في جبهته (كأنها) (٤) هلبة فرس، فشب الغلام، فلما كان زمن الخوارج أحبهم؛ فسقطت الشعرة عن جبهته، فأخذه أبوه فقيده مخافة أن يلحق (بهم) (٥)، قال: فدخلنا عليه فوعظنا وقلنا له فيما نقول: ألم تر أن بركة دعوة رسول اللَّه ﷺ قد وقعت من (جبهتك) (٦)، فما زلنا به حتى رجع عن رأيهم، قال: فرد اللَّه إليه الشعرة بعد في جبهته وتاب وأصلح (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ آپ نے اسے دعا دی اور اس کی پیشانی کی جلد کو چھوا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس بچے کی پیشانی پر گھوڑے کے بالوں جیسا خم دار ایک بال نکلا۔ پھر وہ لڑکا جوان ہوگیا اور جب خوارج کا زمانہ آیا تو وہ خوارج کی طرف مائل ہوگیا۔ پھر اس کی پیشانی سے وہ بال گرگیا۔ اس کے باپ نے اس کو پکڑ کر باندھ دیا کیونکہ اسے اندیشہ تھا کہ کہیں وہ خوارج کے ساتھ نہ جا ملے۔ ہم ایک مرتبہ اس سے ملے اور اسے نصیحت کی اور ہم نے اس سے کہا کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت بھی تمہاری پیشانی سے گرگئی ہے۔ ہم اسے اسی طرح سمجھاتے رہے یہاں تک کہ اس نے اپنی رائے سے رجوع کرلیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی پیشانی کے بال کو واپس کردیا اور اس نے توبہ کرلی اور اپنی اصلاح کرلی۔
حدیث نمبر: 40715
٤٠٧١٥ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن عمير بن إسحاق قال: ذكر الخوارج عند أبي هريرة فقال: أولئك شر الخلق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ کے سامنے خوارج کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ بدترین مخلوق ہیں۔
حدیث نمبر: 40716
٤٠٧١٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) أبو شيبة عن أبي إسحاق عن أبي بركة الصائدي قال: لما قتل عليٌّ ذا الثدية قال سعد: لقد قتل علي جان (الردهة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبر کہ صائدی فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ذوالثدیہ کو قتل کردیا تو حضرت سعد نے فرمایا کہ ابن ابی طالب نے بل کے سانپ کو مارڈالا۔
حدیث نمبر: 40717
٤٠٧١٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا شعبة عن أبي إسحاق قال: سمعت عاصم ابن ضمرة (قال) (١): إن خارجة خرجت على حكم، فقالوا: لا حكم إلا للَّه، فقال علي: إنه لا حُكم إلا للَّه، [ولكنهم يقولون: لا إمرة، ولا (بد) (٢) للناس من أمير بر أو فاجر، يعمل في إمارته المؤمن (ويستمتع فيها)) (٣) (٤) الكافر، ويبلغ اللَّه] (٥) فيه (الأجل) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن ضمرہ فرماتے ہیں کہ خوارج نے حکومت کے خلاف آواز اٹھائی اور یہ نعرہ بلند کیا کہ اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا کہ بیشک اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں، لیکن یہ لوگ کہتے ہیں کہ کسی کی امارت نہیں حالانکہ لوگوں کے لئے ایک امیر کا ہونا ضروری ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد۔ مومن اس کی امارت میں کام کرے، کافر اس میں زندگی گزارے اور اللہ تعالیٰ اسے اسی کی مدت تک پہنچا دے۔
حدیث نمبر: 40718
٤٠٧١٨ - حدثنا جرير عن مغيرة قال: خاصم عمر بن عبد العزيز الخوارج، فرجع من رجع منهم، وأبت طائفة منهم أن يرجعوا، فأرسل عمر رجلا على خيل وأمره أن ينزل حيث (يرتحلون) (١)، ولا يحركهم ولا يهيجهم فإن (٢) قتلوا وأفسدوا في الأرض (فابسط) (٣) عليهم وقاتلهم، وإن هم لم يقتلوا ولم يفسدوا في الأرض فدعهم (يسيرون) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے خوارج سے گفت و شنید کی، ان میں سے جس نے رجوع کرنا تھا رجوع کرلیا۔ ان کے ایک ٹولے نے رجوع کرنے سے انکار کردیا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے ان کی طرف گھڑ سواروں کا ایک لشکر بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ وہ وہاں چلیں جائیں جہاں خوارج کا قیام ہے۔ ان سے کوئی تعرض نہ کریں اور نہ انہیں بھڑکائیں، اگر وہ قتل کریں یا زمین پر فساد مچائیں تو ان پر حملہ کردیں اور ان سے قتال کریں اور اگر وہ قتال نہ کریں اور زمین پر فساد نہ مچائیں تو انہیں چھوڑ دیں اور انہیں ان کا کام کرنے دیں۔
حدیث نمبر: 40719
٤٠٧١٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة قال: قلت لأبي سعيد الخدري: هل سمعت (من) (١) رسول اللَّه ﷺ يذكر في ⦗٥٥٠⦘ الحرورية شيئًا؟ قال: نعم، سمعته يذكر قوما يعبدون، "يحقر أحدكم صلاته وصومه مع صومهم، (يمرقون) (٢) من الدين كما (يمرق) (٣) السهم من الرمية"، أخذ (سيفه) (٤) فنظر في نصله فلم ير شيئًا، فنظر في (رصافه) (٥) فلم ير شيئا، فنظر في قدحه فلم ير شيئا، فنظر في (القذذ) (٦) فتمارى هل يرى شيئا أم لا (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری سے عرض کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی حروریہ کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔ حضرت ابو سعید نے فرمایا کہ ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک قوم کا تذکرہ کرتے سنا جو عبادت کرتے ہوں گے، آپ نے فرمایا کہ تم ان کی عبادت کے سامنے اپنی عبادت کو حقیر سمجھو گے، ان کے روزے کے سامنے اپنے روزے کو حقیر سمجھو گے، وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ وہ اپنی تلوار کو لے گا پھر وہ اپنے تیر کے پھل کو دیکھے گے وہاں کچھ نہ پائے گا، اس کے عقبی حصے کو دیکھے گا وہاں بھی کچھ نہ پائے گا۔ وہ اپنے تیر کی لکڑی کو دیکھے گا وہاں بھی کچھ نہ پائے گا، پھر تیر کے پروں کو دیکھے گا اور اسے شک ہوگا کہ اس نے کچھ دیکھا بھی ہے یا نہیں۔
حدیث نمبر: 40720
٤٠٧٢٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا وهيب قال: حدثنا أيوب عن غيلان بن جرير قال: أردت أن أخرج مع أبي قلابة إلى مكة فاستأذنت عليه فقلت: أدخل؟ قال: (نعم) (١) إن لم تكن حروريا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غیلان بن جریر فرماتے ہیں کہ میں نے ابو قلابہ کے ساتھ مکہ جانے کا ارادہ کیا۔ میں نے ان سے اجازت طلب کی۔ میں نے کہا کہ کیا میں داخل ہوسکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، اگر تم حروری نہ ہو۔
حدیث نمبر: 40721
٤٠٧٢١ - حدثنا يزيد بن هارون (١) عن حماد (بن سلمة) (٢) عن أبي عمران الجوني عن عبد اللَّه بن رباح عن كعب قال: الذي تقتله الخوارج له عشرة (أنور) (٣) فضل ثمانية (أنور) (٤) على نور الشهداء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ جسے خوارج شہید کریں اس کے لئے دس نور ہیں اور اسے شہداء کے نور سے دو نور زیادہ دیئے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 40722
٤٠٧٢٢ - حدثنا حميد عن (حسن) (١) عن أبي نعامة عن خالد قال: سمعت ابن عمر يقول: إنهم عرضوا (بغيرنا) (٢)، لو كنتُ فيها ومعي سلاحي (لقاتلت) (٣) عليها -يعني نجدة وأصحابه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نجدہ اور اس کے ساتھیوں نے ہمارے غیر سے تعرض کیا، اگر میں ان میں ہوتا اور میرے ساتھ میرا ہتھیار ہوتا تو میں ان سے قتال کرتا۔
حدیث نمبر: 40723
٤٠٧٢٣ - حدثنا حميد عن الحسن عن أبيه قال: أشهد أن كتاب عمر بن عبد العزيز قرئ علينا إن سفكوا الدم الحرام وقطعوا السبيل (فتبرأ) (١) في كتابه من الحرورية وأمر بقتالهم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کا خط ہمارے سامنے پڑھا گیا، اس میں لکھا تھا کہ اگر حروری لوگ محترم خون کو بہائیں اور راہزنی کریں تو ہم ان سے بری ہیں اور آپ نے ان سے قتال کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 40724
٤٠٧٢٤ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا عبد العزيز بن (سياه) (١) قال: حدثنا حبيب ابن أبي ثابت عن أبي وائل قال: أتيته فسألته عن هؤلاء القوم الذين قتلهم علي، قال: قلت: (فيم) (٢) فارقوه؟ و (فيم) (٣) (استحلوه؟) (٤) و (فيم) (٥) دعاهم؟ (وفيم) (٦) فارقوه؟ ثم (استحل) (٧) دماءهم؟ ⦗٥٥٢⦘ قال: إنه لما (استحر) (٨) القتل في أهل الشام بصفين اعتصم معاوية وأصحابه (بجبل) (٩)، فقال عمرو بن (العاص) (١٠): أرسل إلى علي بالمصحف، فلا واللَّه لا يرده عليك، قال: فجاء به رجل يحمله (ينادي) (١١): بيننا وبينكم كتاب اللَّه: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مُعْرِضُونَ﴾ [آل عمران: ٢٣]، قال: فقال علي: نعم، بيننا وبينكم كتاب اللَّه، أنا أولى به منكم. قال: فجاءت الخوارج وكنا ((نسميهم) (١٢) يومئذ) (١٣) القراء، قال: فجاءوا (بأسيافهم) (١٤) على (١٥) عواتقهم، فقالوا: يا أمير المؤمنين (لا) (١٦) نمشي إلى هؤلاء القوم حتى يحكم اللَّه بيننا وبينهم. فقام سهل بن حُنيف فقال: أيها الناس اتهموا أنفسكم، (لقد) (١٧) كنا مع رسول اللَّه ﷺ يوم الحديبية ولو نرى قتالا لقاتلنا، وذلك في الصلح الذي كان بين رسول اللَّه ﷺ (١٨) [(وبين المشركين فجاء عمر فأتى رسول اللَّه ﷺ فقال: يا رسول اللَّه ألسنا على) (١٩) حق وهم على باطل؟ قال: "بلى"، قال: أليس قتلانا في الجنة ⦗٥٥٣⦘ وقتلاهم في النار؟ قال: "بلى"، قال: ففيم نعطي (الدنية) (٢٠) في ديننا ونرجع ولما يحكم اللَّه بيننا وبينهم؟ فقال: " (يا) (٢١) ابن الخطاب إني رسول اللَّه ولن يضيعني اللَّه أبدا". [قال: فانطلق عمر ولم يصبر متغيظا حتى أتى أبا بكر فقال: يا أبا بكر ألسنا على حق وهم على باطل؟ فقال: بلى، قال: (أليس) (٢٢) قتلانا في الجنة وقتلاهم في النار؟ قال: بلى، قال: فعلام نعطي الدنية في ديننا ونرجع ولما يحكم اللَّه بيننا وبينهم؟ فقال: يا ابن الخطاب! إنه رسول اللَّه ولن يضيعه اللَّه أبدا] (٢٣)، قال: فنزل القرآن على محمد ﷺ (٢٤) بالفتح، فأرسل إلى عمر فأقرأه إياه، فقال: يا رسول اللَّه أو فتح هو؟ قال: نعم، فطابت نفسه ورجع. فقال علي: أيها الناس! أن هذا فتح، فقبل عليٌّ القضية ورجع ورجع الناس. ثم أنهم خرجوا بحروراء أولئك العصابة من الخوارج بضعة عشر ألفًا، فأرسل إليهم يناشدهم اللَّه، فأبوا عليه فأتاهم صعصعة بن صوحان فناشدهم اللَّه وقال: علام تقاتلون خليفتكم؟ قالوا: نخاف الفتنة، قال: فلا تعجلوا ضلالة العام مخافة فتنة (عام) (٢٥) قابل، (٢٦) فرجعوا (فقالوا) (٢٧): نسير على ناحيتنا، فإن (عليا) (٢٨) قبل ⦗٥٥٤⦘ القضية (٢٩) قاتلناهم يوم صفين، وإن نقضها قاتلنا معه. فساروا حتى بلغوا النهروان، فافترقت منهم فرقة فجعلوا يهدون الناس قتلًا، فقال أصحابهم: ويلكم (ما على هذا) (٣٠) فارقنا (عليا) (٣١). فبلغ (عليًّا) (٣٢) أمرهم فقام فخطب الناس فقال: (أما) (٣٣) ترون، أتسيرون إلى أهل الشام أم ترجعون إلى هؤلاء الذين خلفوا إلى ذراريكم، فقالوا: لا، بل نرجع إليهم، فذكر أمرهم فحدث عنهم (ما) (٣٤) قال فيهم رسول اللَّه ﷺ: "إن فرقة تخرج عند اختلاف (٣٥) الناس تقتلهم أقرب الطائفتين بالحق، علامتهم رجل فيهم يده كثدي المرأة". فساروا حتى التقوا بالنهروان فاقتتلوا قتالا شديدا، فجعلت خيل علي لا (تقوم) (٣٦) لهم؛ فقام علي فقال: أيها الناس! إن كنتم إنما تقاتلون لي، فواللَّه ما عندي ما أجزيكم به، وإن كنتم إنما تقاتلون للَّه فلا يكن هذا قتالكم، فحمل الناس حملة واحدة، فانجلت الخيل عنهم وهم مكبون على وجوههم. فقال علي: اطلبوا الرجل فيهم، قال: فطلب الناس فلم يجدوه حتى قال بعضهم: غرنا ابن أبي طالب من إخواننا حتى (قتلناهم) (٣٧)، فدمعت عين علي، ⦗٥٥٥⦘ قال: فدعا بدابته فركبها فانطلق حتى أتى وهدة فيها قتلى بعضهم على بعض فجعل يجر بأرجلهم حتى وجد الرجل تحتهم، (فاجتروه) (٣٨) فقال علي: اللَّه أكبر، وفرح الناس ورجعوا. وقال علي: لا أغزو العام، ورجع إلى الكوفة وقتل، واستخلف (حسن) (٣٩) (فسار) (٤٠) بسيرة أبيه، ثم (بعث) (٤١) بالبيعة إلى معاوية (٤٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو وائل کے پاس آیا اور میں نے ان سے اس قوم کے بارے میں سوال کیا جن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتال کیا تھا۔ میں نے کہا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کیوں چھوڑا ؟ ان کے خون کو حلال کیوں سمجھا ؟ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں کس چیز کی دعوت دی تھی ؟ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے خون کو کس بنا پر حلال قرار دیا ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب صفین کے مقام پر اہل شام میں قتل زور پکڑ گیا تو حضرت معاویہ اور ان کے ساتھیوں نے ایک پہاڑ کو ٹھکانہ بنایا۔ حضرت عمرو بن عاص نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف مصحف بھیجو، خدا کی قسم ! وہ اس کا انکار نہیں کریں گے۔ پس ایک آدمی مصحف لایا اور وہ یہ اعلان کررہا تھا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے { أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِینَ أُوتُوا نَصِیبًا مِنَ الْکِتَابِ یُدْعَوْنَ إِلَی کِتَابِ اللہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ یَتَوَلَّی فَرِیقٌ مِنْہُمْ وَہُمْ مُعْرِضُونَ } اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں، ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے اور میں اس پر عمل کرنے کا تم سے زیادہ پابند ہوں۔ (٢) پھر خوارج آئے اور ان دنوں ہم انہیں ” قرائ “ کہا کرتے تھے۔ وہ اپنی تلواروں کو کندھے پر لٹکا کر لائے اور کہنے لگے اے امیر المؤمنین ! کیا ہم ان لوگوں کی طرف پیش قدمی نہ کریں کہ اللہ ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے۔ اس پر حضرت سہل بن حنیف نے فرمایا کہ اے لوگو ! اپنے نفوس کی مذمت کرو، ہم حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ اگر ہم قتال کو مستحسن سمجھتے تو قتال کرتے۔ یہ وہ صلح کا معاہدہ تھا جو مشرکین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان ہوا تھا۔ اس موقع پر حضرت عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں۔ ایسا ہی ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا ہی ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ پھر ہم اپنے دین میں ذلت کو کیوں قبول کریں، اور واپس لوٹ جائیں جبکہ اللہ نے ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ نہیں فرمایا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابن خطاب ! میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ مجھے ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ (٣) پھر حضرت عمر غصے کی حالت میں حضرت ابوبکر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اے ابوبکر ! کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا کیوں نہیں۔ ایسا ہی ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ ایسا ہی ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ پھر ہم اپنے دین میں ذلت کو کیوں قبول کریں، اور واپس لوٹ جائیں جبکہ اللہ نے ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ نہیں فرمایا ہے۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ اے ابن خطاب ! وہ اللہ کے رسول ہوں، اللہ انہیں ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ (٤) پھر اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورة الفتح کو نازل کیا، آپ نے کسی کو بھیج کو حضرت عمر کو بلایا اور ان کے سامنے اس سورت کی تلاوت فرمائی۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا یہ فتح ہے ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں۔ پھر وہ خوش ہوگئے اور واپس چلے گئے۔ (٥) اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے لوگو ! یہ فتح ہے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے کو قبول فرمالیا اور واپس چلے گئے اور لوگ بھی واپس چلے گئے۔ (٦) حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے کو قبول کرنے کے بعد خوارج کے دس ہزار سے زیادہ لوگ حروراء چلے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اللہ کا واسطہ دے کر واپس آنے کو کہا لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ پھر ان کے پاس صعصعہ بن صوحان آئے اور اللہ کا واسطہ دیا اور ان سے پوچھا کہ تم کس بنیاد پر اپنے خلیفہ سے قتال کرو گے ؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں فتنہ کا خوف ہے۔ اس نے کہا کہ آنے والے سال کے فتنے سے عوام کو ابھی سے گمراہ مت کرو۔ وہ واپس چلے گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم اپنے علاقے میں جارہے ہیں کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فیصلے کو قبول کرلیا ہے۔ ہم نے اسی وجہ سے قتال کیا جس وجہ سے صفین کی جنگ میں قتال کیا تھا اور اگر وہ فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کردیں تو ہم ان کے ساتھ قتال کریں گے۔ (٧) پھر وہ لوگ چلے اور جب وہ نہروان پہنچے تو ایک جماعت ان سے الگ ہوگئی اور لوگوں کو قتل کی دھمکی دینے لگی۔ ان کے ساتھیوں نے کہا کہ تمہارا ناس ہو کیا ہم نے اس بات پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کی یہ خبر پہنچی تو آپ نے لوگوں میں کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں فرمایا کہ تم کیا دیکھتے ہو ؟ کیا تم شام کی طرف جارہے ہو یا تم ا
حدیث نمبر: 40725
٤٠٧٢٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب عن علي قال: لما كان يوم النهروان لقي الخوارج، فلم يبرحوا حتى شجروا بالرماح فقتلوا جميعا، فقال علي: اطلبوا ذا الثدية، فطلبوه فلم يجدوه فقال علي: ما كذبت ولا كذبت، اطلبوه، فطلبوه فوجدوه في (وهدة) (١) من الأرض عليه ناس من القتلى، فإذا رجل على يده مثل سبلات السنور (٢)، قال: (فكبر) (٣) علي والناس، وأعجب الناس وأُعجب عليٌّ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ یوم نہروان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خوارج سے مڈبھیڑ ہوئی۔ نیزے مسلسل چلتے رہے اور خوارج مارے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان میں ذوالثدیہ کو تلاش کرو، لیکن تلاش کے بعد بھی وہ نہ ملا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہ میں نے جھوٹ بولا اور نہ میرے ساتھ جھوٹ بولا گیا۔ اسے تلاش کرو۔ جب پھر تلاش کیا گیا تو وہ مقتولین کے ساتھ ایک جگہ زمین پر پڑا تھا۔ اس کے ہاتھ پر بلی کے پنجوں جیسی کوئی چیز تھی۔ اسے دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور لوگوں نے اللہ اکبر کہا اور لوگ بھی خوش ہوئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی خوش ہوئے۔
حدیث نمبر: 40726
٤٠٧٢٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن ⦗٥٥٦⦘ الحارث عن رجل من بني (نصر) (١) بن معاوية (قال) (٢): كنا عند علي (فذكروا) (٣) أهل النهر (فسبهم) (٤) رجل، فقال علي: لا تسبوهم، ولكن إن خرجوا على إمام عادل فقاتلوهم، وإن خرجوا على إمام جائر فلا تقاتلوهم، فإن لهم بذلك مقالًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
بنو نصر بن معاویہ کے ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھے کہ خوارج کا ذکر چھڑ گیا۔ ایک آدمی نے انہیں گالی دی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ انہیں گالی مت دو ۔ اگر وہ امام عادل کے خلاف خروج کریں تو ان سے قتال کرو اور اگر وہ ظالم امام کے خلاف خروج کریں تو ان سے قتال نہ کرو۔ کیونکہ انہیں گفتگو کا حق ہے۔
حدیث نمبر: 40727
٤٠٧٢٧ - حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا حماد بن سلمة عن الأزرق بن قيس عن شريك بن شهاب الحارثي قال: جعلت أتمنى أن ألقى رجلا من أصحاب محمد ﷺ (١) يحدثني عن الخوارج، فلقيت أبا برزة الأسلمي في نفر من أصحابه في يوم عرفة، فقلت: حدثني بشيء سمعته من رسول اللَّه ﷺ يقوله في الخوارج، (فقال) (٢): (أحدثك) (٣) بما سمعت أذناي ورأت عيناي، أُتي رسول اللَّه ﷺ بدنانير فجعل يقسمها وعنده رجل أسود (مطموم) (٤) الشعر، عليه ثوبان أبيضان، بين عينيه أثر السجود، وكان يتعرض لرسول اللَّه ﷺ (٥) فلم يعطه، فأتاه فعرض له من قبل وجهه فلم يعطه شيئا، فأتاه من قبل (يمينه) (٦) فلم يعطه شيئا، ثم أتاه من قبل ⦗٥٥٧⦘ شماله فلم (يعطه) (٧) شيئًا، ثم أتاه من خلفه فلم يعطه شيئا، فقال: يا محمد ما عدلت منذ اليوم في القسمة، فغضب رسول اللَّه ﷺ غضبا شديدا ثم قال: "واللَّه لا تجدون أحدا أعدل عليكم مني" -ثلاث مرات، ثم قال: "يخرج عليكم رجال من قبل المشرق كان هذا منهم، هديهم هكذا، يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم، (يمرقون) (٨) من الدين كما (يمرق) (٩) السهم من الرمية، ثم لا يعودون إليه -ووضع يده على صدره- سيماهم (التحليق) (١٠) لا يزالون يخرجون حتى يخرج آخرهم مع المسيح الدجال، فإذا رأيتموهم فاقتلوهم -ثلاثًا- (١١) شر الخلق والخليقة" -يقولها ثلاثًا (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریک بن شہاب حارثی کہتے ہیں کہ میری خواہش تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی ایسے ساتھی سے ملوں جو مجھے خوارج کے بارے میں بتائے، میں یوم عرفہ کو حضرت ابو برزہ اسلمی سے ملا وہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے کوئی ایسی بات سنائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خوارج کے بارے میں سنی ہو۔ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں ان کے بارے میں ایسا واقعہ سناؤں گا جسے میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا ہے۔ ہوا یوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ دنانیر لائے گئے۔ آپ انہیں تقسیم کرنے لگے، آپ کے پاس ایک آدمی تھا جس کے بال ڈھکے ہوئے تھے، اس پر دو سفید کپڑے تھے، اس کی آنکھوں کے درمیان سجدوں کا نشان تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوکر آپ سے وہ دنانیر لینا چاہتا تھا، لیکن آپ نے اسے عطا نہ فرمائے۔ وہ آپ کے چہرہ مبارک کی طرف سے آیا لیکن آپ نے اسے کچھ نہ دیا، وہ دائیں طرف سے آیا، آپ نے اسے کچھ نہ دیا، پھر وہ بائیں طرف سے آیا آپ نے اسے پھر بھی کچھ نہ دیا، پھر وہ پیچھے سے آیا تو آپ نے اسے پھر بھی کچھ نہ دیا۔ پھر وہ کہنے لگا اے محمد ! آج کے دن آپ نے تقسیم میں انصاف سے کام نہیں لیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت زیادہ غصہ میں آئے اور آپ نے تین مرتبہ فرمایا ” خدا کی قسم ! تم اپنے بارے میں مجھ سے زیادہ کسی کو انصاف کرنے والا نہیں پاؤ گے “ پھر آپ نے فرمایا کہ تم پر مشرق کی طرف سے کچھ لوگ خروج کریں گے، یہ مجھے ان میں سے لگتا ہے، ان کا طریقہ کاریہ ہوگا کہ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے، پھر وہ اس میں واپس نہیں آئیں گے۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ سینے پر رکھا اور فرمایا کہ سر منڈانا ان کا شعار ہوگا، ان کا خروج ہمیشہ ہوتا رہے گا یہاں تک کہ ان کا آخری شخص مسیح دجال کے ساتھ نکلے گا۔ پھر آپ نے تین مرتبہ فرمایا کہ جب تم انہیں دیکھو تو ان سے قتال کرو۔ پھر آپ نے تین مرتبہ فرمایا کہ وہ تخلیق اور عادت کے اعتبار سے بدترین لوگ ہیں۔
حدیث نمبر: 40728
٤٠٧٢٨ - حدثنا زيد بن حباب قال: حدثني قرة بن خالد السدوسي قال: حدثنا أبو الزبير عن جابر بن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: ["يجيء قوم يقرؤون القرآن لا يجاوز (تراقيهم) (١) (يمرقون) (٢) من الدين كما (يمرق) (٣) السهم من الرمية على (فوقه) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک ایسی قوم آئے گی جو قرآن پڑھتے ہوں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔
…