حدیث نمبر: 40643
٤٠٦٤٣ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا (يزيد) (١) بن عبد العزيز عن أبيه عن ⦗٥١٧⦘ حبيب بن أبي ثابت قال: رأيت -أو: كانت- شك (يحيى) (٢) - رأية على يوم صفين مع هاشم بن عتبة، وكان رجلا أعور (فجعل) (٣) عمار يقول: أقدم يا أعور، لا خير في أعور، لا يأتي الفزع فيستحي فيتقدم، قال: يقول عمرو بن (العاص) (٤): إني لأرى لصاحب الراية السوداء عملا لئن دام على ما أرى لتفانن العرب اليوم، قال: فما زال أبو اليقظان (حتى كف بينهم) (٥)، قال: وهو يقول: كل الماء (ورد) (٦)، (والمياه رود) (٧)، صبرا عباد اللَّه الجنة، تحت ظلال السيوف (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب ابی ثابت فرماتے ہیں کہ جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جھنڈا ہاشم بن عتبہ کے ہاتھ میں تھا۔ ان کی ایک آنکھ کانی تھی۔ حضرت عمار کہنے لگے اے کانے ! آگے آؤ، اس کانے میں کوئی خیر نہیں جو گھبراہٹ کا سامنا نہ کرے۔ وہ شرمائے اور آگے آئے۔ حضرت عمرو بن عاص نے کہا کہ میں کالے جھنڈے والے میں ایک عمل دیکھ رہاہوں، اگر وہ ایسا ہی رہا تو آج عرب کچھ کرکے رہیں گے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ہر پانی کا گھاٹ ہوتا ہے اور پانی کے پاس آیا جاتا ہے، اللہ کے بندو ! صبر کرو، جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔
حدیث نمبر: 40644
٤٠٦٤٤ - حدثنا إسحاق بن منصور عن محمد بن راشد عن جعفر بن عمرو بن أمية عن مسلم بن الأجدع الليثي وكان ممن شهد صفين قال: كان عمار يخرج بين (الصفين) (١) وقد أخرجت الرايات، فينادي حتى يسمعهم بأعلى صوته: روحوا إلى الجنة، قد تزينت الحور العين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
مسلم بن اجدع لیثی کہتے ہیں کہ حضرت عمار صفون کے درمیان نکلے اور اس وقت جھنڈے بلند تھے، انہوں نے بلند آواز سے اعلان کیا کہ جنت کی طرف چلو، جنت کی حور تیار ہے۔
حدیث نمبر: 40645
٤٠٦٤٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي مسلمة قال: سمعت (الوضي يقول: سمعت) (١) عمار بن ياسر يقول: من سره أن (تكتنفه) (٢) الحور العين فليتقدم بين ⦗٥١٨⦘ الصفين محتسبًا، فإني لأرى صفا ليضربنكم ضربا يرتاب منه المبطلون، والذي نفسي بيده لو ضربونا حتى يبلغوا بنا سعفات هجر لعرفت أنا على الحق وأنهم على (الضلالة) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
عمار بن یاسر جنگ صفین میں فرما رہے تھے کہ جو یہ چاہتا ہے کہ اسے موٹی آنکھوں والی حور ملے وہ ثواب کی نیت سے دونوں صفوں کے درمیان چلے۔ میں ایک ایسی صف کو دیکھ رہا ہوں جو تمہیں ایسی ضرب لگائے گی جس کے بارے میں جھوٹے شک کا شکار ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر وہ ہمیں تہس نہس کرکے رکھ دیں پھر بھی مجھے یقین ہوگا کہ میں حق پر اور وہ باطل پر ہیں۔
حدیث نمبر: 40646
٤٠٦٤٦ - [حدثنا وكيع عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن سلمة -أو عن (أبي) (١) البختري- عن عمار قال: (لو) (٢) ضربونا حتى يبلغونا سعفات هجر لعلمنا أنا على الحق وأنهم على الباطل] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمار فرماتے ہیں کہ اگر وہ ہمیں تلواروں سے ماریں یہاں تک کہ ہمیں تہس نہس کردیں پھر بھی مجھے یقین ہوگا کہ ہم حق پر اور وہ باطل پر ہیں۔
حدیث نمبر: 40647
٤٠٦٤٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن الحسن بن الحكم عن (زياد) (١) بن الحارث قال: كنت إلى جانب عمار بن ياسر بصفين، وركبتي تمس ركبته، فقال رجل: كفر أهل الشام، فقال عمار: لا تقولوا ذلك، نبينا ونبيهم واحد، وقبلتنا وقبلتهم واحدة، ولكنهم قوم مفتونون (جاروا) (٢) عن الحق، فحق علينا (أن) (٣) نقاتلهم حتى يرجعوا إليه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ریاح بن حارث فرماتے ہیں کہ میں جنگ صفین میں حضرت عمار بن یاسر کے ساتھ تھا، میرے گھٹنے ان کے گھٹنوں کو چھو رہے تھے، ایک آدمی نے کہا کہ اہل شام نے کفر کیا۔ حضرت عمار نے فرمایا کہ یوں نہ کہو، ان کے اور ہمارے نبی ایک ہیں، ان کا اور ہمارا قبلہ ایک ہے۔ وہ فتنے میں مبتلا ہیں، انہوں نے حق سے اعراض کیا ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم ان سے قتال کریں تاکہ وہ حق پر واپس آجائیں۔
حدیث نمبر: 40648
٤٠٦٤٨ - حدثنا وكيع عن (حنش) (١) بن الحارث عن شيخ له (يقال له) (٢): (رياح) (٣) قال: قال عمار: لا تقولوا: كفر أهل الشام، ولكن قولوا: فسقوا (ظلموا) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ریاح فرماتے ہیں کہ حضرت عمار نے فرمایا کہ یوں نہ کہو کہ اہل شام نے کفر کیا بلکہ یوں کہو کہ انہوں نے فسق کیا اور ظلم کیا۔
حدیث نمبر: 40649
٤٠٦٤٩ - [حدثنا وكيع عن مسعر عن عبد اللَّه عن (رياح) (١) عن عمار قال: لا تقولوا: كفر أهل الشام، ولكن قولوا: فسقوا، (ظلموا) (٢)] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ریاح فرماتے ہیں کہ حضرت عمار نے فرمایا کہ یوں نہ کہو کہ اہل شام نے کفر کیا بلکہ یوں کہو کہ انہوں نے فسق کیا اور ظلم کیا۔
حدیث نمبر: 40650
٤٠٦٥٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن العوام عن عمرو (بن مرة) (١) عن أبي وائل قال: رأى في المنام أبو (ميسرة) (٢) عمرو بن شرحبيل، وكان من أفضل (أصحاب) (٣) عبد اللَّه، قال: رأيت كأني أدخلت الجنة، فرأيت قبابا مضروبة، فقلت: لمن هذه؟ فقيل: هذه لذي الكلاع وحوشب، (وكانا) (٤) ممن (قتل) (٥) مع معاوية يوم صفين، ⦗٥٢٠⦘ قال: قلت: (فأين) (٦) عمار وأصحابه؟ (قالوا) (٧): أمامك، قلت: وكيف وقد قتل بعضهم بعضا؟ قال: (قيل) (٨): إنهم لقوا اللَّه فوجدوه واسع المغفرة، قال: (فقلت) (٩): فما فعل أهل (النهر؟) (١٠) قال: فقيل (١١): لقوا برحًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابو وائل کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ کے ایک قریبی ساتھی ابو میسرہ عمرو بن شرحبیل نے خواب دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا اور میں نے دیکھا کہ ایک بہت خوبصورت گنبد والا محل ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کس کا ہے ؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ ذوالکلاع اور حوشب کا ہے۔ یہ دونوں جنگ صفین میں حضرت معاویہ کی معیت میں تھے اور شہید ہوئے تھے۔ میں نے کہا عمار اور ان کے ساتھی کہاں ہیں ؟ مجھے بتایا گیا کہ وہ آپ کے سامنے ہیں۔ میں نے کہا کہ ان لوگوں نے تو ایک دوسرے کو قتل کیا تھا پھر سب جنت میں کیسے آگئے۔ مجھے بتایا گیا کہ جب وہ اللہ سے ملے تو اللہ کو انہوں نے وسیع رحمت والا پایا۔ میں نے کہا کہ اہل نہرکا کیا بنا ؟ مجھے بتایا گیا کہ انہیں شدت کا سامنا ہوا۔
حدیث نمبر: 40651
٤٠٦٥١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) العوام بن حوشب قال: حدثني أسود بن مسعود عن حنظلة بن خويلد (العنزي) (٢) قال: إني لجالس عند معاوية إذ أتاه رجلان يختصمان في رأس عمار، كل واحد منهما يقول: أنا قتلته، قال عبد اللَّه بن عمرو: (ليطب) (٣) به أحدكما نفسا لصاحبه، فإني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "تقتله الفئة الباغية"، فقال معاوية: ألا تغني عنا مجنونك يا عمرو، فما بالك معنا؟ قال: إني معكم ولست أقاتل، إن أبي شكاني إلى رسول اللَّه ﷺ، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أطع أباك ما دام حيًا ولا تعصه"، فأنا معكم، ولست أقاتل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنظلہ بن خویلد عنزی کہتے ہیں کہ میں حضرت معاویہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے پاس دو آدمی حضرت عمار کی شہادت کا دعویٰ کرتے ہوئے آئے۔ ایک کہتا تھا کہ انہیں میں نے مارا اور دوسرا کہتا تھا کہ انہیں میں نے مارا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کو دوسرے کے لئے دستبردار ہونا پڑے گاکیون کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو ایک باغی جماعت شہید کرے گی۔ یہ سن کر حضرت معاویہ نے فرمایا کہ اے عمرو ! تمہارا ہمارے بارے میں کیا خیال ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں لکن میں قتال نہیں کروں گا۔ میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری شکایت کی تھی تو آپ نے مجھے فرمایا تھا کہ اپنے باپ کی اطاعت کرو اور جب تک زندہ ہو ان کی نافرمانی نہ کرنا۔ لہٰذا میں تمہارے ساتھ ہوں لیکن قتال نہیں کروں گا۔
حدیث نمبر: 40652
٤٠٦٥٢ - حدثنا وكيع عن محمد بن قيس عن سعد بن إبراهيم قال: بينما عليٌّ آخذ بيد عدي بن حاتم وهو يطوف في القتلى إذ مر برجل عرفته فقلت: يا أمير المؤمنين عهدي (بهذا) (١) وهو مؤمن، قال: والآن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عدی بن حاتم کا ہاتھ پکڑے مقتولین کے درمیان سے گزر رہے تھے کہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے میں نے اسے پہچان لیا اور کہا کہ اے امیر المومنین میں اس آدمی کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ مومن ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اب اس کا کیا حکم ہے۔
حدیث نمبر: 40653
٤٠٦٥٣ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا فطر عن أبي القعقاع قال: رأيت عليًا على بغلة النبي ﷺ الشهباء (يطوف) (١) بين القتلى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قعقاع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مادہ خچر شہباء پر سوار ہوکر مقتولین کے درمیان چکر لگا رہے تھے۔
حدیث نمبر: 40654
٤٠٦٥٤ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا أبو بكر بن عياش قال: حدثنا (صلهب) (١) الفقعسي أبو أسد عن عمه قال: (ما) (٢) كانت أوتاد فساطيطنا يوم صفين إلا القتلى، وما كنا نستطيع أن نأكل الطعام من النتن، قال: وقال رجل: من دعا (إلى) (٣) البغلة (يوم) (٤) كفر أهل الشام، قال: فقال: من الكفر (فروا) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صلہب فقعسی کہتے ہیں کہ جنگ صفین میں ہمارے خیموں کے باہر لاشیں پڑی تھیں اور ہم بدبو کی وجہ سے کھانا بھی نہیں کھاسکتے تھے۔ ایک آدمی نے کہا جس دن اہل شام نے کفر کیا اس دن خچر کسی نے منگوایا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ کفر سے بھاگے تھے۔
حدیث نمبر: 40655
٤٠٦٥٥ - حدثنا حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا ابن عيينة عن عمران بن ظبيان عن حُكَيم بن سعد قال: لقد (أشرعوا) (١) رماحهم بصفين وأشرعنا رماحنا، ولو ⦗٥٢٢⦘ (أن) (٢) (٣) إنسانا يمشي عليها لفعل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکیم بن سعد فرماتے ہیں کہ جنگ صفین میں ہمارے اور ان کے نیزے اس کثرت سے چلے کہ اگر کوئی شخص نیزوں پر چلنا چاہتا تو چل سکتا تھا۔
حدیث نمبر: 40656
٤٠٦٥٦ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا بن أبي ذئب عمن حدثه عن علي قال: لما قاتل معاوية سبقه إلى الماء فقال: دعوهم، فإن الماء لا يمنع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ذئب نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حضرت معاویہ سے لڑائی ہوئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے پانی پر قبضہ کرلیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ انہیں بھی پانی لینے دو ، پانی سے نہیں روکا جاسکتا۔
حدیث نمبر: 40657
٤٠٦٥٧ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن الحسن عن أمه عن أم سلمة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "يقتل (عمارا) (١) الفئة الباغية" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت عمار کو ایک باغی جماعت شہید کرے گی۔
حدیث نمبر: 40658
٤٠٦٥٨ - حدثنا محمد بن الحسن الأسدي قال: حدثني يحيى بن مهلب عن سليمان بن مهران قال: حدثني من سمع عليا (يقول) (١) يوم صفين وهو عاض على شفته: لو علمت أن الأمر يكون هكذا ما خرجت، اذهب يا أبا موسى فاحكم ولو (بحز) (٢) عنقي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن مہران کہتے ہیں کہ جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہاپنے ہونٹ کو کاٹتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اگر مجھے معلوم ہوجاتا کہ معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا تو میں ہرگز نہ نکلتا۔ اے ابو موسیٰ جاؤ اور ہمارے درمیان فیصلہ کرو خواہ میرا سر ہی کیوں نہ دینا پڑے۔
حدیث نمبر: 40659
٤٠٦٥٩ - [حدثنا ابن نمير قال: (حدثنا) (١) الأعمش عن أبي صالح أن عليا قال لأبي موسى: احكم ولو (تحز) (٢) عنقي] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ صفین میں حضرت ابو موسیٰ سے کہا کہ جاؤ اور ہمارے درمیان فیصلہ کرو خواہ میرا سر ہی کیوں نہ دینا پڑے۔
حدیث نمبر: 40660
٤٠٦٦٠ - حدثنا أبو (أسامة) (١) عن (مجالد) (٢) عن الشعبي عن الحارث قال: لما رجع علي من صفين علم أنه لا يملك أبدا، فتكلم بأشياء كان لا يتكلم بها، وحدث بأحاديث كان لا يتحدث بها، فقال فيما يقول: أيها الناس لا تكرهوا (إمارة) (٣) معاوية، واللَّه (لو) (٤) قد فقدتموه لقد رأيتم الرءوس (تنزوا) (٥) من كواهلها كالحنظل (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ صفین سے واپس آئے تو انہیں احساس ہوگیا تھا کہ وہ کبھی غالب نہ آئیں گے، لہٰذا انہوں نے کچھ ایسی باتیں کیں جو پہلے کبھی نہ کی تھیں اور فرمایا کہ اے لوگو ! تم معاویہ کی امارت کو ناپسند نہ کرو، کیونکہ اگر تم نے انہیں کھو دیا تو سر گردنوں سے ایسے گریں گے جیسے حنظل گرتا ہے۔
حدیث نمبر: 40661
٤٠٦٦١ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا موسى بن قيس قال: سمعت حجر بن عنبس قال: قيل لعلي يوم صفين: قد حيل بيننا وبين الماء، قال: فقال: أرسلوا إلى الأشعث، قال: فجاء، فقال: ائتوني بدرع ابن (سهر) (١) -رجل من بني براء- فصبها عليه (٢) ثم أتاهم فقاتلهم حتى أزالهم عن الماء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجر بن عنبس کہتے ہیں کہ جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہمارے اور پانی کے درمیان وہ لوگ حائل ہوگئے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اشعث کو بلاؤ، وہ آئے تو فرمایا کہ میرے پاس ابن سہر کی ذرہ لاؤ۔ آپ نے اس ذرہ کو پہن کر قتال کیا اور انہیں پانی سے دور کردیا۔
حدیث نمبر: 40662
٤٠٦٦٢ - حدثنا الفضل بن دكين عن حسن بن صالح عن عبد اللَّه بن الحسن قال: سمعته قال: قال علي للحكمين: على أن تحكما بما في كتاب اللَّه، وكتاب اللَّه كله لي، فإن لم تحكما بما في كتاب اللَّه فلا (حكومة) (١) لكما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ صفین کے دونوں حکموں سے کہا کہ تم کتاب کی روشنی میں فیصلہ کرو، اگر تم نے کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ نہ کیا تو تمہارا فیصلہ قابل قبول نہیں۔
حدیث نمبر: 40663
٤٠٦٦٣ - حدثنا الفضل بن دكين (١) حدثنا حسن بن صالح قال: سمعت جعفرا قال: قال علي: أن تحكما بما في كتاب اللَّه (فتحييا) (٢) ما أحيا القرآن، وتميتا ما أمات القرآن، ولا (تزيغا) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ صفین میں فیصلہ کرنے والوں سے فرمایا کہ کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کرو، جسے قرآن نے زندگی دی ہے اسے زندہ کرو اور جسے قرآن نے مردہ کیا ہے اسے مردہ کہو، اور راہ راست سے نہ ہٹو۔
حدیث نمبر: 40664
٤٠٦٦٤ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا حسن بن صالح قال: سمعت عبد اللَّه بن الحسن يذكر عن أمه أن المسلمين قتلوا عبيد اللَّه بن عمر يوم صفين، وأخذ المسلمون سلبه وكان مالا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حسن اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے جنگ صفین میں عبید اللہ بن عمر کو شہید کیا اور ان کے مال کو بطور مال غنیمت کے حاصل کیا۔
حدیث نمبر: 40665
٤٠٦٦٥ - حدثنا شريك عن محمد بن إسحاق عن أبي جعفر قال: كان علي إذا أتي بأسير يوم صفين أخذ دابته وسلاحه، وأخذ عليه أن (لا) (١) يعود، وخلى سبيله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی قیدی لایا جاتا تو آپ اس کی سواری اور اسلحہ لے لیتے اور اس سے عہد لیتے کہ وہ واپس لشکر میں نہیں جائے گا اور اس کو آزاد کردیتے۔
حدیث نمبر: 40666
٤٠٦٦٦ - حدثنا محمد بن الحسن قال: حدثنا حماد بن زيد عن هشام عن محمد ابن سيرين قال: بلغ القتلى يوم صفين (سبعين) (١) ألفًا، فما قدروا على (عددهم) (٢) إلا بالقصب، وضعوا على كل إنسان قصبة، ثم عدوا القصب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ جنگ صفین میں مقتولین کی تعداد ستر ہزار تک پہنچ گئی تھی، لوگوں نے انہیں گننے کے لئے بانسوں کا سہارا لیا۔
حدیث نمبر: 40667
٤٠٦٦٧ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي قال: حدثنا كيسان قال: حدثني مولاي يزيد بن بلال قال: شهدت مع علي يوم صفين، فكان إذا أتي بأسير قال: لن ⦗٥٢٥⦘ أقتلك صبرا، إني أخاف اللَّه رب العالمين، وكان يأخذ سلاحه (ويحلفه) (١) لا يقاتله، ويعطيه أربعة دراهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن بلال کہتے ہیں کہ میں جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے شریک تھا، جب ان کے پاس کوئی قیدی لایا جاتا تو وہ فرماتے کہ میں تمہیں ہرگز قتل نہیں کروں گا، مجھے اللہ رب العالمین کا خوف مانع ہے۔ آپ اس کا ہتھیار لے لیتے اور اس سے قسم لیتے کہ وہ ان سے قتال نہیں کرے گا اور اسے چار دراہم عطا کرتے۔
حدیث نمبر: 40668
٤٠٦٦٨ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن شقيق قال: قيل له: أشهدت صفين؟ قال: نعم، وبئست (الصفون) (١) كانت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق سے پوچھا گیا کہ کیا آپ جنگ صفین میں شریک تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ بدترین صفیں تھیں۔
حدیث نمبر: 40669
٤٠٦٦٩ - حدثنا (هشيم) (١) عن جويبر عن الضحاك في قوله (٢): ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ﴾ [الحجرات: ٩]، قال: بالسيف، (قال) (٣): قلت: فما قتلاهم؟ قال: شهداء (مرزوقون) (٤)؛ (قال) (٥): قلت: فما حال الأخرى أهل البغي من قتل منهم؟ قال: إلى النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک نے قرآن مجید کی آیت { وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَیْنَہُمَا فَإِنْ بَغَتْ إحْدَاہُمَا عَلَی الأُخْرَی فَقَاتِلُوا الَّتِی تَبْغِی حَتَّی تَفِیئَ إِلَی أَمْرِ اللہِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اسے تلوار سے درست کرو۔ شاگرد نے پوچھا کہ ان کے مقتولین کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا کہ وہ جنت کے رزق یافتہ شہداء ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ بغاوت کرنے والوں کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا وہ جہنمی ہیں۔
حدیث نمبر: 40670
٤٠٦٧٠ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب قال: حدثني غير واحد أن (قاضيا) (١) من قضاة الشام أتى عمر فقال: يا أمير المؤمنين، (٢) رؤيا أفظعتني، قال: ما هي؟ قال: رأيت الشمس والقمر يقتتلان، والنجوم معهما نصفين، قال: فمع ⦗٥٢٦⦘ (أيتهما) (٣) كنت؟ قال: كنت مع القمر على الشمس، (٤) فقال: عمر: ﴿وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً﴾ [الإسراء: ١٢] فانطلق فواللَّه لا تعمل لي عملا أبدا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ مجھ سے کئی لوگوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ شام کا ایک قاضی حضرت عمر کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ اے امیر المومنین میں نے ایک خواب دیکھا جس نے مجھے خوفزدہ کردیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ سورج اور چاند باہم قتال کررہے ہیں اور ستارے آدھے آدھے دونوں کے ساتھ ہیں۔ حضرت عمر نے اس سے پوچھا کہ تم کس کے ساتھ تھے ؟ میں نے کہا کہ میں چاند کے ساتھ تھا اور سورج کے خلاف لڑرہا تھا۔ حضرت عمر نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی { وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ آیَتَیْنِ فَمَحَوْنَا آیَۃَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا آیَۃَ النَّہَارِ مُبْصِرَۃً } پھر فرمایا کہ چلے جاؤ، میں آئندہ تمہیں کوئی کام نہیں دوں گا۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ جنگ صفین میں حضرت معاویہ کی معیت میں مارا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 40671
٤٠٦٧١ - (قال) (١) عطاء: فبلغني أنه قتل مع معاوية يوم صفين.
حدیث نمبر: 40672
٤٠٦٧٢ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة قال: أخبرني عبد اللَّه بن عروة قال: أخبرني رجل شهد صفين قال: رأيت عليا خرج في بعض تلك الليالي، فنظر إلى أهل الشام فقال: اللهم اغفر لي ولهم، فأتى عمار فذكر ذلك له فقال: جروا له (الخطير) (١) ما جره لكم (٢) -يعني سعدا ﵀ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عروہ فرماتے ہیں کہ مجھے صفین میں شریک ہونے والے ایک آدمی نے بتایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہایک رات کو نکلے، انہوں نے اہل شام کو دیکھا اور دعا کی کہ اے اللہ ! ان کی بھی مغفرت فرما اور میری بھی مغفرت فرما۔
حدیث نمبر: 40673
٤٠٦٧٣ - حدثنا وكيع عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن سلمة قال: رأيت عمارا يوم صفين (شيخا) (١) آدم طوالا (ويداه) (٢) ترتعش وبيده الحربة فقال: لو ضربونا حتى (يبلغوا) (٣) بنا سعفات هجر لعلمت أن (مصلحينا) (٤) ⦗٥٢٧⦘ على الحق وأنهم على الباطل (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے جنگ صفین میں حضرت عمار کو دیکھا کہ وہ انتہائی بوڑھے تھے، ان کا ہاتھ کانپ رہا تھا اور ان کے ہاتھ میں نیزہ تھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ دشمن اگر ہمیں مار کر تہس نہس بھی کردیں تو بھی مجھے یقین ہوگا کہ ہمارے مصلحین حق پر اور وہ لوگ باطل پر ہیں۔
حدیث نمبر: 40674
٤٠٦٧٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا عبد الملك بن قدامة الجمحي قال: حدثني (عمر) (١) بن شعيب (أخو عمرو بن شعيب) (٢) عن أبيه عن جده قال: لما رفع الناس أيديهم عن صفين قال عمرو بن (العاص) (٣) (٤): شبت الحرب فأعددت لها … (مفرع) (٥) الحارك (مروي) (٦) (الثبج) (٧) يصل الشد بشد فإذا … (ونت) (٨) الخيل من (الشد) (٩) معج جرشع أعظمه جفرته … فإذا ابتل من الماء (خرج) (١٠) قال: وقال: عبد اللَّه بن عمرو: لو شهدت جمل مقامي ومشهدي … بصفين يوما شاب منها الذوائب عشية جاء أهل العراق كأنهم … سحاب ربيع (رفعته) (١١) الجنائب ⦗٥٢٨⦘ وجئناهم نردى كأن صفوفنا … من البحر مد موجه متراكب فدارت رحانا واستدارت (رحاهم) (١٢) … سراه النهار ما تولى المناكب إذا قلت قد ولوا سراعا بدت لنا … كتائب منهم فارجحنت كتائب فقالوا: لنا إنا نرى أن تبايعوا … عليا فقلنا بل نرى أن نضارب (١٣)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب صفین میں لوگوں نے حملے کے لئے ہاتھ بلند کئے تو حضرت عمرو بن عاص نے یہ اشعار کہے : : لڑائی نے زور پکڑ لیا، میں نے اس لڑائی کے لیے ایک بہادر اور اعلیٰ نسل کا گھوڑا تیار کیا ہے۔ وہ سختی کا مقابلہ سختی سے کرتا ہے اور جب گھڑ سوار ایک دوسرے کے قریب آجائیں تو وہ اور توانا ہوجاتا ہے، وہ تیز رفتار ہے اور بڑا ہے، جب پانی سے تر ہوجائے تو اور چست ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے شعر کہے : : اگر جوان صفین میں میرے کھڑے ہونے کو دیکھ لیں تو ان کے بال سفید ہوجائیں۔ یہ وہ رات تھی جب اہل عراق بادلوں کی طرح آئے تھے۔ اس وقت ہماری صفیں سمندر کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مار رہی تھیں۔ ان کی چکی بھی گھومی اور ہماری چکی بھی گھومی اور ہمارے کندھے ایک دوسرے کے ساتھ مل گئے۔ جب میں کہتا کہ وہ بھاگ گئے تو ان کی ایک جماعت اچانک آکر حملہ کردیتی۔ وہ ہم سے کہتے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرو اور ہم کہتے تھے کہ تم لڑائی کرو۔
حدیث نمبر: 40675
٤٠٦٧٥ - حدثنا أسود بن عامر قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن أن (جندبا) (٢) كان مع علي يوم صفين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت جندب جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے لیکن انہوں نے لڑائی نہیں کی۔
حدیث نمبر: 40676
٤٠٦٧٦ - (فقال) (١) حماد: لم يكن يقاتل (٢).
حدیث نمبر: 40677
٤٠٦٧٧ - حدثنا شريك عن منصور عن إبراهيم قال: قلت له: شهد علقمة صفين؟ قال: نعم، (خضب) (١) سيفه وقتل أخوه (أبي بن قيس) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ کیا حضرت علقمہ جنگ صفین میں شریک ہوئے تھے۔ انہوں نے فرمایا ہاں اور ان کی تلوار بھی رنگین ہوئی تھی اور ان کے بھائی ابی بن قیس مارے گئے تھے۔
حدیث نمبر: 40678
٤٠٦٧٨ - حدثنا ابن نمير عن الأعمش عن مسلم عن أبي البختري قال: رجع علقمة يوم صفين وقد خضب سيفه مع علي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بختری فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ جنگ صفین سے واپس آئے تو ان کی تلوار رنگین تھی اور وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف تھے۔
حدیث نمبر: 40679
٤٠٦٧٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق أبي وائل قال: قال سهل ابن حنيف يوم صفين: أيها الناس اتهموا رأيكم، فإنه واللَّه ما وضعنا سيوفنا على عواتقنا مع رسول اللَّه ﷺ لأمر (يفظعنا) (١) إلا أسهلن بنا إلى أمر (نعرفه) (٢) غير هذا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن حنیف نے جنگ صفین میں لوگوں سے کہا کہ لوگو ! اپنی رائے کو یقینی نہ سمجھنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ہمیشہ ہمارے لئے معاملات کی حقیقت کو سمجھنا آسان رہا لیکن اس معاملے میں ہم کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرسکتے۔
حدیث نمبر: 40680
٤٠٦٨٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن سلمة سمعه يقول: رأيت عمارا يوم صفين (شيخا) (١) آدم طوالا (آخذًا) (٢) (حربة) (٣) بيده، ويده ترعد فقال: والذي نفسي بيده لو ضربونا حتى يبلغوا بنا سعفات هجو لعرفت أن (مصلحتنا) (٤) على الحق وأنهم على الباطل (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے جنگ صفین میں حضرت عمار کو دیکھا کہ وہ انتہائی بوڑھے تھے، ان کا ہاتھ کانپ رہا تھا اور ان کے ہاتھ میں نیزہ تھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ دشمن اگر ہمیں مار کر تہس نہس بھی کردیں تو بھی مجھے یقین ہوگا کہ ہمارے مصلحین حق پر اور وہ لوگ باطل پر ہیں۔
حدیث نمبر: 40681
٤٠٦٨١ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا ابن عيينة عن عاصم بن كليب الجرمي عن أبيه قال: إني لخارج من المسجد إذ رأيت ابن عباس حين جاء من عند معاوية في أمر الحكمين فدخل دار سليمان بن ربيعة فدخلت معه. فما زال (يرمي) (١) إليه (برجل) (٢) ثم رجل بعد رجل: يا ابن عباس كفرت ⦗٥٣٠⦘ وأشركت (ونددت) (٣)، قال (اللَّه) (٤) في كتابه كذا، و (قال اللَّه) (٥) كذا وقال اللَّه كذا حتى دخلني من ذلك، قال: ومن هم؟ هم واللَّه السن الأول أصحاب محمد، هم واللَّه أصحاب البرانس والسواري. قال: فقال ابن عباس: انظروا أخصمكم وأجدلكم وأعلمكم بحجتكم فليتكلم، فاختاروا رجلا أعور يقال له: (عتاب) (٦) من بني (تغلب) (٧)، فقام فقال: قال اللَّه كذا، (وقال اللَّه كذا) (٨)، كأنما ينزع بحاجته من القرآن في سورة واحدة. قال: فقال ابن عباس: إني أراك قارئا للقرآن عالما بما قد فصلت ووصلت، أنشدكم باللَّه الذي لا إله إلا هو، هل علمتم أن أهل الشام سألوا القضية فكرهناها (وأبيناها) (٩)؟ فلما أصابتكم (الجراح) (١٠) وعضكم الألم ومنعتم ماء الفرات (١١) أنشأتم تطلبونها. ولقد أخبرني معاوية أنه أتي بفرس بعيد البطن من الأرض (ليهرب) (١٢) عليه (ثم) (١٣) أتاه آتٍ منكم، فقال: إني تركت أهل العراق يموجون مثل الناس ليلة النفر بمكة، يقولون مختلفين في كل وجه مثل ليلة النفر بمكة. ⦗٥٣١⦘ قال: ثم قال ابن عباس: أنشدكم باللَّه الذي لا إله إلا هو، أي رجل كانِ أبو بكر؟ فقالوا: (خَيْرًا) (١٤) وَأثْنَوا، (فقال: عمر بن الخطاب؟ فقالوا: خيرًا وأثْنَوْا) (١٥)، فقال: أفرأيتم لو أن رجلا خرج حاجا أو معتمرا فأصاب ظبيًا أو بعض هوام الأرض فحكم فيه أحدهما (وحده) (١٦) (١٧) أكان له واللَّه يقول: ﴿يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ﴾ [المائدة: ٩٥] فما اختلفتم فيه من أمر (الأمة أعظم) (١٨)، يقول: فلا تنكروا حكمين في دماء الأمة، وقد جعل اللَّه في قتل طائر حكمين، وقد جعل بين اختلاف رجل وامرأته حكمين لإقامة العدل والإنصاف بينهما فيما اختلفا (فيه) (١٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کلیب جرمی فرماتے ہیں کہ میں مسجد سے باہر تھا کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ حاکموں کے معاملے میں حضرت معاویہ کے پاس سے واپس آرہے تھے۔ وہ حضرت سلیمان بن ربیعہ کے گھر میں داخل ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ داخل ہوا۔ انہیں ایک آدمی نے طعنہ دیا، پھر ایک اور آدمی نے طعنہ دیا، پھر ایک اور آدمی نے طعنہ دیا اور کہا کہ اے ابن عباس رضی اللہ عنہما ! تم نے کفر کیا، تم نے شرک کیا اور تم نے اللہ کا ہم سر ٹھہرایا۔ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں یہ فرماتا ہے، یہ فرماتا ہے اور یہ فرماتا ہے۔ راوی سے پوچھا گیا کہ وہ کون تھے ؟ انہوں نے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ تھے۔ (٢) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی بات سن کر فرمایا کہ تم اپنے میں سے سب سے زیادہ عالم اور سب سے بڑے مناظر کا انتخاب کرلو وہ مجھ سے بات کرے۔ انہوں نے ایک کانے شخص کا انتخاب کیا جن کا نام عتاب تھا اور وہ بنو تغلب سے تھے۔ انہوں نے کھڑے ہوکر کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ گویا وہ اپنی ضرورت کو قرآن کی ایک سورت سے ثابت کررہے تھے۔ (٣) ان کی بات سن کر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں آپ کو قرآن کا عالم سمجھتا ہوں، کیونکہ آپ نے بہت وضاحت سے اپنا موقف پیش کیا ہے۔ میں آپ کو اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ شام والوں نے فیصلے کا مطالبہ کیا اور ہم نے اسے ناپسند کیا اور انکار کیا۔ پھر جب تمہیں زخم پہنچے، الم پہنچے اور تمہیں فرات کے پانی سے محروم کیا گیا تو تم نے فیصلے کا مطالبہ کرنا شروع کردیا ؟ مجھے حضرت معاویہ نے بتایا ہے کہ ان کے پاس ایک پتلی کمر والا گھوڑا لایا گیا تاکہ وہ اس پر سوار ہوکر بھاگ جائیں یہاں تک کہ تم میں سے کوئی آنے والا آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اہل عراق کو ان لوگوں کی طرح چھوڑ دیا ہے جو مکہ میں نفر کی رات ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ (٤) پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں تمہیں اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ ابوبکر کیسے آدمی تھے ؟ سب نے کہا کہ بھلے آدمی تھے اور ان کی تعریف کی۔ پھر پوچھا کہ عمر بن خطاب کیسے آدمی تھے ؟ سب نے کہا کہ بھلے آدمی تھے اور ان کی تعریف کی۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تمہارے خیال میں اگر کوئی شخص حج یا عمرے کے لئے جائے اور کسی ہرن یا وہاں کے حشرات میں سے کسی کو مار ڈالے اور خود فیصلہ کرلے تو کیا اس کا فیصلہ معتبر ہوگا جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ (یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ ) جبکہ تمہارا جس معاملے میں اختلاف ہے وہ اس سے بہت بڑا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کے لئے پرندے کے معاملے میں دو حاکم بنائے ہیں، آدمی اور اس کی بیوی کے معاملے میں دو حاکم بنائے ہیں تو تمہارے اختلاف میں جو ان سے بڑا ہے دو حاکم کیوں نہیں ہوسکتے۔
حدیث نمبر: 40682
٤٠٦٨٢ - حدثنا ابن إدريس (عن ليث) (١) عن عبد العزيز بن رفيع قال: لا سار عليٌّ إلى صفين استخلف أبا مسعود على الناس فخطبهم يوم الجمعة فرأى فيهم قلة فقال: يا أيها الناس اخرجوا فمن خرج فهو آمن، إنا نعلم واللَّه أن منكم الكاره لهذا الوجه (والمتثاقل) (٢) عنه، اخرجوا فمن خرج فهو آمن، واللَّه ما نعدها عافية أن يلتقي هذان (الغاران) (٣) (يتقي) (٤) أحدهما الآخر، ولكن (نعدها) (٥) عافية أن ⦗٥٣٢⦘ يصلح اللَّه أمة محمد (٦)، ويجمع ألفتها. ألا أخبركم عن عثمان وما نقم الناس عليه؟ أنهم (لم) (٧) يدعوه وذنبه حتى يكون اللَّه (٨) يعذبه أو يعفو عنه، ولم يدرك الذين (ظلموا) (٩) إذ حسدوه ما (آتاه) (١٠) اللَّه إياه. فلما قدم علي قال (له) (١١): أنت القائل ما بلغني عنك (يا) (١٢) (فروخ) (١٣)، إنك شيخ قد ذهب عقلك، قال: لقد سمتني أمي باسم أحسن من هذا، أذهب عقلي وقد وجبت لي الجنة من اللَّه (ومن) (١٤) رسوله (١٥)، تعلمه أنت، وما بقي من عقلي فإنا كنا نتحدث: أن الآخر فالآخر (شر) (١٦). قال: فلما كان (بالسيلحين) (١٧) أو بالقادسية خرج عليهم وظفراه (يقطران) (١٨) (يرى) (١٩) أنه قد تهيأ للإحرام، فلما وضع رجله في الغرز وأخذ بمؤخر ⦗٥٣٣⦘ واسطة (الرحل) (٢٠) قام إليه ناس من الناس فقالوا: لو عهدت إلينا يا أبا مسعود، (فقال) (٢١): عليكم بتقوى اللَّه والجماعة، فإن اللَّه لا يجمع أمة محمد على ضلالة، قال: فأعادوا عليه فقال: عليكم بتقوى اللَّه والجماعة فإنما يستريح بر أو يستراح من فاجر (٢٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد العزیز بن رفیع فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ صفین گئے تو انہوں نے حضرت ابو مسعود کو لوگوں کا حاکم بنایا۔ انہوں نے جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا تو لوگوں کو کم پایا۔ تو فرمایا اے لوگو ! باہر نکلو، جو باہر نکلا وہ مامون ہوگا۔ بخدا ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض لوگ اس صورت کو ناپسند سمجھتے ہیں اور بوجھل خیال کرتے ہیں۔ باہر نکلو جو باہر نکلا وہ امن پائے گا۔ بخدا ہم اس چیز کو عافیت نہیں سمجھتے کہ یہ دو جماعتیں لڑیں اور ایک دوسرے سے ڈرے۔ بلکہ عافیت اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کی اصلاح فرمائے اور ان کو جمع کردے۔ میں تمہیں حضرت عثمان کے بارے میں بتاتا ہوں اور جو لوگوں نے ان سے انتقام لیا۔ لوگوں نے انہیں کسی حق کے ثابت کرنے کے لئے شہید نہیں کیا بلکہ وہ ان نعمتوں پر حسد کرتے تھے جو اللہ نے حضرت عثمان کو عطا فرمائی تھیں۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہائے تو آپ نے فرمایا کہ اے فروخ ! کیا آپ نے وہ بات کی جو میں نے سنی ہے ؟ آپ ایک ایسے بوڑھے ہیں جس کی عقل ختم ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری ماں نے میرا نام اس نام سے اچھا رکھا ہے جو آپ نے مجھے دیا ہے۔ کیا میری عقل چلی گئی ہے اور میرے لئے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنت واجب ہوگئی ہے۔ آپ بھی اس بات کو جانتے ہیں۔ میری عقل باقی نہیں رہی۔ ہم باہم گفتگو کیا کرتے تھے کہ آخر شر ہے۔ جب وہ سیلحین یا قادسیہ میں تھے تو لوگوں کے سامنے آئے اور ان کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا، یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ احرام کی تیاری کررہے ہیں۔ جب انہوں نے سواری پر سوار ہونے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا کہ اے ابو مسعود ! ہمیں کوئی نصیحت فرمادیجئے۔ انہوں نے فرمایا کہ تم پر تقویٰ لازم ہے اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ جڑے رہو، کیونکہ مسلمانوں کی جماعت گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی۔ لوگوں نے پھر نصیحت کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا کہ تم پر تقویٰ لازم ہے اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ جڑے رہو، نیک آدمی راحت پاتا ہے یا برے سے راحت پائی جاتی ہے۔
…