کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
حدیث نمبر: 40599
٤٠٥٩٩ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين بن عبد الرحمن عن يوسف بن يعقوب عن الصلت بن عبد اللَّه بن الحارث عن أبيه قال: قدمت على علي حين فرغ من الجمل، فانطلق إلى بيته وهو آخذ بيدي، فإذا امرأته وابنتاه (يبكين) (١)، وقد أجلس وليدة بالباب (تؤذنهن) (٢) به إذا (جاء، فألهى) (٣) الوليدة ما ترى النسوة (يفعلن) (٤) حتى دخل عليهن، وتخلفت فقمت بالباب، فأسكتن فقال: ⦗٤٩٣⦘ مالكن؟ فانتهر (هن) (٥) مرة أو مرتين، فقالت امرأة منهن: قلنا: ما سمعت ذكرنا عثمان وقرابته والزبير (وطلحة) (٦) وقرابته، فقال: إني لأرجو (أن نكون) (٧) كالذين قال اللَّه: ﴿وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ﴾ [الحجر: ٤٧] ومن هم إن لم نكن، ومن هم (٨) -يردد (ذلك) (٩) حتى وددت أنه سكت (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
عبداللہ بن حارث سے منقول ہے کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ جنگ جمل سے فارغ ہوچکے تھے۔ وہ میرا ہاتھ تھام کر اپنے گھر لے گئے۔ وہاں ان کی اہلیہ اور دو بیٹیاں رو رہی تھیں باندی کو دروازے پر بٹھایا ہوا تھا تا کہ وہ انہیں کسی کے آنے کی خبر دیں۔ عورتوں کو روتے ہوئے دیکھ کر وہ غافل ہوگئی۔ حتی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہاندر داخل ہوئے اور میں پیچھے ٹھہر گیا اور دروازے پر کھڑا ہوگیا، چناچہ وہ خاموش ہوگئیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا تم کیوں رو رہی ہو ؟ پھر ایک یا دو دفعہ ڈانٹا پھر ان میں سے ایک عورت نے کہا کہ ہم وہی کہہ رہے ہیں جو آپ نے حضرت عثمان اور ان کی رشتہ داری ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) حضرت زبیر اور ان کی رشتہ داری کے بارے میں ہم سے سنا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ ہم ان لوگوں کی طرح ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” ہم ان کے دلوں سے خفگی دور کردیں گے وہ بھائی بھائی ہوں گے آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کون ہوں گے اگر ہم نہ ہوں گے ؟ وہ کون ہوں گے ؟ اس بات کو انہوں نے کئی بار دہرایایہاں تک کہ میرے د ل میں خواہش پیدا ہوگئی کہ یہ خاموش ہوجائیں۔
حدیث نمبر: 40600
٤٠٦٠٠ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن طلحة بن مصرف أن عليا أجلس طلحة يوم الجمل ومسح عن وجهه التراب، ثم التفت إلى حسن فقال: إني وددت أني مت قبل هذا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ بن مصرف سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل کے دن حضرت طلحہ کو بٹھایا اور ان کے چہرے سے مٹی صاف کی پھر حسن کی طرف دیکھ کر فرمایا کاش میں ان سے پہلے مرجاتا۔
حدیث نمبر: 40601
٤٠٦٠١ - حدثنا قبيصة قال: حدثنا سفيان عن أبي إسحاق عن (خُمير) (١) بن مالك قال: قال عمار لعلي يوم الجمل: ما ترى في سبي الذرية؟ قال: فقال: إنما قاتلنا من قاتلنا، قال: لو قلت غير هذا خالفناك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمیر بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ جمل کے دن حضرت عمار نے عرض کیا کہ آپ کا قیدیوں کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے صرف ان سے قتال کیا ہے جو ہم سے لڑائی کے لیے آئے (یعنی ہم قیدیوں کو غلام نہیں بنائیں گے) حضرت عمار نے عرض کیا اگر آپ اس کے خلاف کوئی بات کہتے تو ہم آپ کی مخالفت کرتے۔
حدیث نمبر: 40602
٤٠٦٠٢ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن (عمر) (١) بن جاوان عن الأحنف ⦗٤٩٤⦘ ابن قيس قال: قدمنا المدينة ونحن نريد الحج، فإنا لبمنازلنا نضع (رحالنا) (٢) (إذ) (٣) أتانا آت، فقال: إن الناس قد فزعوا واجتمعوا في المسجد، فانطلقت فإذا الناس مجتمعون في المسجد، فإذا علي والزبير وطلحة وسعد بن أبي وقاص. قال: فإنا لكذلك إذ جاءنا عثمان، فقيل: هذا عثمان، فدخل عليه مُلَيَّةٌ له صفراء، قد قنع بها رأسه، (قال: هاهنا عليٌّ؟ قالوا: نعم) (٤)، قال: هاهنا الزبير؟ قالوا: نعم، قال: هاهنا طلحة؟ قالوا: نعم، قال: هاهنا سعد؟ قالوا: نعم، قال: أنشدكم باللَّه الذي لا إله إلا هو: هل تعلمون أن رسول اللَّه ﷺ قال: "من يبتاع مربد بني فلان غفر اللَّه له"، فابتعته بعشربن ألفا أو بخمسة وعشرين ألفا، فأتيت رسول اللَّه ﷺ فقلت له: ابتعته، قال: "اجعله في مسجدنا ولك أجره" (قال) (٥): فقالوا: اللهم نعم. قال: فقال: أنشدكم باللَّه الذي لا إله إلا هو: أتعلمون أن رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (٦) وسلم (٧) (قال) (٨): "من ابتاع (بئر) (٩) رومة غفر اللَّه له"، [فابتعتها بكذا وكذا، ثم أتيته فقلت: قد ابتعتها، قال: "اجعلها سقاية للمسلمين وأجرها لك"، قالوا: اللهم نعم. ⦗٤٩٥⦘ قال: أنشدكم باللَّه الذي لا إله إلا هو: أتعلمون أن رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (١٠) وسلم نظر في وجوه القوم فقال: "من جهز هؤلاء غفر اللَّه له"] (١١)، يعني جيش العسرة، فجهزتهم حتى لم يفقدوا (خطامًا) (١٢) ولا عقالا، قال: قالوا: اللهم نعم، (قال: اللهم) (١٣) اشهد ثلاثًا. قال الأحنف: فانطلقت فأتيت طلحة والزبير فقلت: ما تأمراني به ومن ترضيانه لي، فإني لا أرى هذا إلا مقتولا، قالا: نأمرك بعلي، قال: قلت: تأمراني به وترضيانه لي؟ (قالا) (١٤): نعم. قال: ثم انطلقت حاجا حتى (قدمت) (١٥) مكة فبينا نحن بها (إذ) (١٦) أتانا قتل عثمان وبها عائشة أم المؤمنين، فلقيتها فقلت لها: من (تأمريني) (١٧) به أن أبايع؟ فقالت: عليا، فقلت: أتأمرينني به (وترضينه) (١٨) لي؟ قالت، نعم، فمررت (على) (١٩) علي بالمدينة فبايعته، ثم رجعت إلى (٢٠) البصرة ولا أرى إلا أن الأمر قد استقام. ⦗٤٩٦⦘ (قال) (٢١): فبينا أنا كذلك إذ أتاني آت، فقال: هذه عائشة أم المؤمنين وطلحة والزبير قد نزلوا جانب الخُرَيبة، قال: قلت: ما جاء بهم؟ قال: أرسلوا إليك ليستنصروك على دم عثمان، قتل مظلوما، قال: فأتاني أفظع أمر أتاني قط، فقلت: إن خذلاني هؤلاء ومعهم أم المؤمنين وحواري رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (٢٢) وسلم لشديد، وإن (قتالي) (٢٣) (ابن) (٢٤) عم رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (٢٥) وسلم بعد أن أمروني ببيعته لشديد. فلما أتيتهم قالوا: جئنا نستنصر على دم عثمان، قتل مظلومًا، قال: (فقلت) (٢٦): يا أم المؤمنين! أنشدك باللَّه هل قلت لك: من تأمريني به؟ فقلت: (عليًا) (٢٧)، فقلت: تأمريني به (وترضينه) (٢٨) لي (٢٩)، [قالت: نعم، (ولكنه) (٣٠) بدل، قلت: يا زبير يا حواري رسول اللَّه ﷺ، يا طلحة نشدتكما باللَّه أقلت لكما: من تأمراني به] (٣١)، فقلتما: عليًا، فقلت: تأمراني به وترضيانه لي؟ فقلتما: نعم، قالا: بلى، ولكنه بدل. ⦗٤٩٧⦘ قال: (فقلت) (٣٢): لا واللَّه، لا أقاتلكم ومعكم أم المؤمنين وحواري رسول اللَّه ﷺ، (ولا أقاتل ابن عم رسول اللَّه ﷺ) (٣٣) أمرتموني (ببيعته) (٣٤) اختاروا مني بين إحدى ثلاث خصال: إما أن تفتحوا (٣٥) باب الجسر فألحق بأرض الأعاجم، حتى يقضي اللَّه من أمره ما قضى، أو ألحق بمكة فأكون بها حتى يقضي اللَّه من أمره ما قضى، أو أعتزل فأكون قريبا، قالوا: نأتمر، ثم نرسل إليك. (فائتمروا) (٣٦) فقالوا: نفتح له باب الجسر فيلحق (به) (٣٧) المنافق والخاذل؟ ويلحق بمكة (فيتعجسكم) (٣٨) في قريش ويخبرهم بأخباركم؟ ليس ذلك بأمر، (اجعلوه) (٣٩) هاهنا قريبا حيث (تطئون) (٤٠) على صماخه، وتنظرون إليه. فاعتزل بالجلحاء من البصرة على فرسخين، واعتزل معه زهاء ستة آلاف، ثم التقى القوم، فكان أول قتيل طلحة و (بعث) (٤١) ابن سور معه المصحف، يذكر هؤلاء وهؤلاء حتى قتل منهم من قتل. وبلغ الزبيرُ سفوانَ من البصرة كمكان (القادسية) (٤٢) منكم؛ فلقيه (النعر) (٤٣) ⦗٤٩٨⦘ رجل من بني مجاشع، قال: أين تذهب يا حواري رسول اللَّه (٤٤)؟ إليّ فأنت في ذمتي، لا يوصل إليك، فأقبل معه. قال: (فأتى) (٤٥) إنسان الأحنف قال: هذا الزبير قد لقي (بسفوان) (٤٦) قال: فما (يأمن؟) (٤٧) جمع (بين) (٤٨) المسلمين حتى ضرب بعضُهم حواجبَ بعض بالسيوف، ثم لحق (ببيته) (٤٩) وأهله، فسمعه (عمير بن جرموز) (٥٠) وغواة من غواة بني تميم وفضالة بن حابس (ونفيع) (٥١)، فركبوا في طلبه، فلقوا معه النعر، فأتاه (عمير) (٥٢) بن (جرموز) (٥٣) وهو على فرس له (ضعيفة) (٥٤) فطعنه طعنة خفيفة، وحمل عليه الزبير وهو على فرس له يقال له: (ذو الخمار) (٥٥) حتى إذا ظن أنه قاتله نادى صاحبيه: يا نفيع، يا فضالة، فحملوا عليه حتى قتلوه (٥٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت احنف بن قیس سے منقول ہے کہ ہم مدینے پہنچے ہمارا حج کرنے کا ارادہ تھا۔ اپنی منزل پر پہنچ کر ہم نے اپنے کجاوے رکھے کہ اچانک آنے والے نے کہا کہ لوگ مسجد میں پریشان حال جمع ہیں۔ پس میں مسجد پہنچا اور لوگوں کو وہاں جمع دیکھا۔ حضرت علی، زبیر، طلحہ اور سعد بن وقاص بھی وہاں موجود تھے۔ میں بھی اس طرح کھڑا ہوگیا کہ حضرت عثمان بھی تشریف لائے۔ کسی نے کہا یہ عثمان ہیں ان کے سر پر زرد رنگ کا کپڑا تھا جس سے انہوں نے سر ڈھانپا ہوا تھا فرمانے لگے یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں۔ پھر فرمایا یہ حضرت زبیر ہیں ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں۔ پھر فرمایا یہ طلحہ ہیں لوگوں نے جواب دیا جی ہاں۔ پھر فرمایا یہ سعد ہیں لوگوں نے کہا جی ہاں۔ پھر فرمانے لگے میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ کیا تم کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا جو فلاں قبےلل کے باڑے کو خرید لے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائیں گے۔ پس میں نے اسے بیس یا پچیس ہزار درہم کے عوض خریدا اور حاضر خدمت ہو کر میں نے عرض کیا تھا کہ میں نے خرید لیا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسکو مسجد بنادو اور تمہارے لیے اجر ہے ؟ تو لوگوں نے کہا بالکل اسی طرح ہے۔ پھر حضرت عثمان نے فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو ؟ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا جو بئر رومہ (کنواں) خرید لے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائیں گے۔ پھر میں نے اسے خریدا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ میں نے کنواں خرید لیا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مسلمانوں کے لیے وقف کردو اس کا اجر اللہ تم کو دے گا۔ لوگوں نے کہا جی بالکل ایسے ہے۔ پھر حضرت عثمان نے لوگوں سے فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ جانتے ہو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کچھ کے چہروں کی طرف دیکھتے ہوئے کہ جو ان لوگوں کو سامان جنگ مہیاکرے گا (غزوہ تبوک میں) اللہ تعالیٰ اس کے مغفرت فرمائیں گے۔ پس میں نے ان لوگوں کو سامان جنگ دیا حتیٰ کہ لگام اور اونٹ باندھنے کی رسی تک میں نے مہیا کی ؟ لوگوں نے کہا جی بالکل ایسے ہے۔ حضرت عثمان نے تین دفعہ فرمایا اے اللہ تو گواہ رہنا۔ احنف کہتے ہیں کہ میں چلا اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ اب آپ مجھے کس چیز کا حکم دیتے ہیں ؟ اور میرے لیے (بیعت کے لیے) کس کو پسند کرتے ہو ؟ کیونکہ ان کو (حضرت عثمان ) شہید ہوتے دیکھ رہاہوں۔ دونوں نے جواب دیا ہم آپ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ میں نے پھر عرض کیا آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم دے رہے ہیں اور آپ میرے لیے ان پر راضی ہیں دونوں نے جواب دیا ہاں۔ پھر میں حج کے لیے مکہ روانہ ہوا کہ اس دوران حضرت عثمان کی شہادت کی خبر پہنچی۔ مکہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی قیام فرماتھیں۔ میں ان سے ملا اور ان سے عرض کیا کہ اب میں کن سے بیعت کروں انہوں نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔ میں نے عرض کیا آپ مجھے علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کا حکم دے رہی ہیں اور آپ اس پر راضی ہیں انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ میں نے واپسی پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کی مدینہ میں۔ پھر میں بصرہ لوٹ آیا۔ پھر میں نے معاملے کو مضبوط ہوتے ہوئے ہی دیکھا۔ اسی اثناء میں ایک آنے والا میرے پاس آیا اور کہنے لگا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت طلحہ اور حضرت زبیر خریبہ مقام پر قیام فرماں ہیں۔ میں نے پوچھا وہ کیوں آئے ہیں ؟ تو اس نے جواب دیا وہ آپ سے مدد چاہتے ہیں حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینے میں جو مظلوم شہید ہوئے ہیں۔ احنف نے فرمایا مجھ پر اس سے زیادہ پریشان کرنے والا معاملہ کبھی نہیں آیا۔ میرا ان سے (طلحہ زبیر ) جدا ہونا بڑا دشوار کن مرحلہ ہے جبکہ ان کے ساتھ ام المومنین اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ بھی ہیں۔ اور دوسری طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد سے قتال کرنا بھی چھوٹی بات نہیں جب کہ ان کی بیعت کا حکم وہ (طلحہ ، زبیر ، ام المومنین ) خود دے چکے ہیں۔ جب میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ کہنے لگے کہ ہم حضرت عثمان کے خون کا بدلہ کے سلسلہ میں مدد لینے کے لیے آئے ہیں جو مظلوم قتل ہوئے ہیں۔ احنف کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے ام المومنین ! میں آپ کو الٰہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا میں نے آپ سے کہا تھا کہ آپ مجھے کس کی بیعت کا حکم دیتی ہیں ؟ آپ نے فرمایا تھا علی رضی اللہ عنہ کا میں نے پھر کہا تھا کہ آپ مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم دیتی ہیں اور آپ میرے لیے ان پر خوش ہیں تو آپنے فرمایا تھا ہاں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا بالکل ایسے ہی ہے لیکن اب علی رضی اللہ عنہ بدل چکے ہیں۔ پھر یہی بات میں نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کو مخاطب کر کے کہی انہوں
حدیث نمبر: 40603
٤٠٦٠٣ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا جعفر بن زباد عن (أميّ) (١) الصيرفي عن صفوان بن قبيصة عن طارق بن شهاب قال: لما قتل عثمان قلت: ما (يقيمني) (٢) بالعراق، وإنما الجماعة بالمدينة عند المهاجرين والأنصار، (قال) (٣): فخرجت فأخبرت أن الناس قد بايعوا عليًا، قال: فانتهيت إلى الربذة وإذا عليٌّ بها، فوضع له (رحل) (٤) فقعد عليه، فكان كقيام الرجل، فحمد اللَّه وأثنى عليه، ثم قال: إن طلحة والزبير بايعا طائعين غير مكرهين، ثم (أرادا) (٥) أن (يفسدا) (٦) الأمر (ويشقا) (٧) عصا المسلمين، وحرض على قتالهم قال: فقام الحسن بن علي (فقال) (٨): ألم أقل لك إن العرب ستكون لهم جولة عند قتل هذا الرجل؛ فلو أقمت بدارك التي أنت بها -يعني: المدينة- فإني أخاف أن تقتل بحال مضيعة (لا) (٩) ناصر لك، قال: فقال علي: اجلس (فإنما) (١٠) تخن (كما تخن) (١١) الجارية؛ وإن لك (خنينا كخنين) (١٢) الجارية، (آللَّه) (١٣) أجلس بالمدينة كالضبع تستمع ⦗٥٠٠⦘ (اللدم) (١٤) لقد ضربت هذا الأمر ظهره، وبطنه، أو رأسه (وعينيه) (١٥)، فما وجدت إلا السيف (أو) (١٦) الكفر (١٧).
مولانا محمد اویس سرور
طارق بن شباب سے روایت ہے کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان کو قتل کیا گیا میں نے دل میں سوچا کہ مجھے کس شئے نے عراق میں ٹھہرایا ہوا ہے حالانکہ جماعت تو مدینہ میں ہے مہاجرین اور انصار کے پاس کہتے ہیں میں نکلا مجھے خبر ملی کہ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرلی ہے کہتے ہیں کہ میں ربذہ مقام پر پہنچا تو وہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ ان کے لیے ایک شخص نے بیٹھنے کے لیے نشست رکھی۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہونے کی حالت میں تھے۔ انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا کہ طلحہ اور زبیر نے بیعت خوشی خوشی کی تھی نہ کہ حالت اکراہ میں۔ اب چاہتے ہیں کہ وہ معاملے کو بگاڑ دیں اور مسلمانوں کی لاٹھی (جمعیت) کو توڑ ڈالیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کرنے کے لیے لوگوں کو ابھارا۔ پھر حسن بن علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں نے آپ کو نہیں کہا تھا کہ عرب ان کے ساتھ جمع ہوجائیں گے اگر اس شخص (حضرت عثمان ) کو شہید کیا گیا۔ اگر آپ اپنے گھر میں رہتے یعنی مدینہ میں تو مجھے ڈر تھا کہ آپ کو بھی اسی لاپرواہی سے قتل کردیاجاتا اور آپ کا کوئی مدد گار نہ ہوتا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ تم ایسے گنگناتے ہو جیسے دوشیزہ گنگناتی ہے یا یہ فرمایا کہ تمہارے لیے ایسا گنگنا ہونا ہے جیسے دوشیزہ کے لیے گنگنا ہونا۔ اللہ کی قسم میں مدینہ میں اس بھیڑیے کی طرح بیٹھا تھا جو زمین پر پتھر گر نے کی آواز سن رہا ہو۔ پس میں نے اس معاملے کا بہت گہرائی سے مشاہدہ کیا میں نے سوائے تلوار یا کفر کے کچھ نہیں پایا۔
حدیث نمبر: 40604
٤٠٦٠٤ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا عبد اللَّه بن المبارك عن معمر قال: حدثني سيف بن فلان بن معاوية العنزي قال: حدثني خالي عن جدي قال: لما كان يوم الجمل واضطرب الناس، قام الناس إلى علي يدعون أشياء، فأكثروا الكلام، فلم يفهم عنهم، فقال: ألا رجلٌ يجمع لي كلامه في خمس كلمات أو ست، (فاحتفزت) (١) على إحدى رجلي، فقلت: إن أعجبه كلامي وإلا (جلست) (٢) من قريب، (قال) (٣): (فقلت) (٤): يا أمير المؤمنين إن الكلام ليس (بخمس ولا بست) (٥) ولكنهما كلمتان، هضم (٦) أو قصاص، قال: فنظر إليّ (فعقد) (٧) بيده ثلاثين، ثم قال: أرأيتم ما عددتم فهو تحت قدمي (هذه) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
سیف بن فلاں بن معاویہ عنزی اپنے ماموں اور وہ میرے نانا سے نقل کرتے ہیں کہ جب جنگ جمل کا دن آیا تو لوگ پریشان تھے۔ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف کھڑے ہوتے اور مختلف چیزوں کا دعوی کرتے۔ جب آوازیں زیادہ ہوگئیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں کی آوازوں کو سمجھ نہ پائے تو فرمایا کیا کوئی ایسا شخص نہیں جو اپنی بات پانچ یا چھ کلمات میں سمیٹ دے۔ پس میں جلدی سے ایک ٹانگ پر کھڑا ہوا اور کہا کہ اگر میں اپنی بات سمیٹ نہ سکا تو قریب میں بیٹھ جاؤں گا پس میں نے کہا اے امیرالمومنین ! میرا کلام پانچ یا چھ لفظوں کا نہیں بلکہ صرف دو الفاظ کا ہے حملہ یا قصاص۔ انہوں نے میری طرف دیکھا اور اپنے ہاتھ سے تیس تک گنا۔ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے میر ی طرف دیکھا اور جو تم نے گنا (شمار کیا) وہ میرے ان قدموں کے نیچے ہے۔
حدیث نمبر: 40605
٤٠٦٠٥ - حدثنا ابن علية عن سعيد بن يزيد عن أبي نضرة قال: ذكووا عليا وعثمان وطلحة والزبير عند أبي سعيد فقال: أقوام سبقت لهم سوابق وأصابتهم فتنة، (فردوا) (١) أمرهم إلى اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابو نضرہ سے منقول ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابو سعید کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے فرمایا وہ ایسی قومیں تھیں جن کے حالات مختلف تھے ان کے معاملے کو اللہ کی طرف لوٹا دو ۔
حدیث نمبر: 40606
٤٠٦٠٦ - حدثنا المحاربي عن ليث قال: حدثني حبيب بن أبي ثابت أن عليا قال يوم الجمل: اللهم ليس هذا أردت، اللهم ليس هذا أردت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حبیب بن ابو ثابت سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ جمل کے دن فرما رہے تھے ! اے اللہ میں نے اس کا ارادہ نہیں کیا تھا۔
حدیث نمبر: 40607
٤٠٦٠٧ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس قال: كان مروان مع طلحة يوم الجمل، قال: فلما (اشتبكت) (١) الحرب (قال مروان) (٢): لا أطلب بثأري بعد اليوم، قال: ثم رماه بسهم فأصاب ركبته، فما رقأ الدم حتى مات، قال: وقال طلحة: دعوه، فإنما هو سهم أرسله اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
قیس سے منقول ہے کہ مروان جنگ جمل کے دن حضرت طلحہ کے ساتھ تھا۔ جب جنگ چھڑ چکی تو مروان نے کہا میں آج کے بعد انتقام طلب نہیں کروں گا پھر ان کی طرف تیر پھینکا جو حضرت طلحہ کے گھٹنے میں لگا اور خون مسلسل بہتا رہا یہاں تک کہ وہ شہید ہوگئے حضرت طلحہ نے (شہادت سے پہلے) فرمایا اس زخم کو چھوڑ دو یہ وہ تیر ہے جسے اللہ نے بھیجا ہے۔
حدیث نمبر: 40608
٤٠٦٠٨ - حدثنا عباد بن العوام عن أشعث بن سوار عن أبيه قال: أرسل إلي موسى بن طلحة في (حاجة) (١) فأتيته، قال: (فبينا) (٢) أنا عنده إذ دخل عليه ناس من أهل المسجد، فقالوا: يا أبا عيسى! حدثنا في الأسارى، [(ليلتنا) (٣) فسمعتهم يقولون: أما موسى بن طلحة فإنه مقتول بكرة، فلما صليت الغداة جاء رجل ⦗٥٠٢⦘ يسعى؛ الأسارى (الأسارى) (٤)، قال] (٥): (ثم) (٦) جاء آخر في أثره يقول: موسى بن طلحة موسى بن طلحة، قال: فانطلقت، فدخلت على أمير المؤمنين فسلمت فقال: أتبايع؟ تدخل فيما دخل فيه الناس؟ قلت: نعم، قال: هكذا، ومد يده (فبسطها) (٧)، قال: فبايعته ثم قال: ارجع إلى أهلك ومالك، قال: فلما (رآني) (٨) الناسُ قد خرجت، قال: (جعلوا) (٩) يدخلون فيبايعون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوار سے منقول ہے کہ موسیٰ بن طلحہ نے مجھے کسی ضرورت کے لیے اپنے پا س بلایا میں حاضر خدمت ہوا۔ میں ان کے پاس بیٹھا تھا کہ اسی اثنا میں مسجد کے کچھ لوگ حضرت موسیٰ بن طلحہ کے پاس آئے اور کہا اے ابو عیسیٰ ہمیں ہماری رات کے اساری کے بارے میں بتائیے، حضرت سوار صبح کے وقت قتل کردئیے جائیں گے پس جب میں نے صبح کی نماز ادا کی تو ایک شخص دوڑتا ہوا آیا جو پکارتے ہوئے کہہ رہا تھا الا ساری الا ساری پھر ایک دوسرا شخص اس کے نقش قدم پر چلتا ہوا آیا وہ پکار رہا تھا موسیٰ بن طلحہ موسیٰ بن طلحہ حضرت سوار فرماتے ہیں کہ پس میں چلا اور امیر المومنین کے پاس آیا اور سلام کیا۔ امیر المومنین نے کہا کہ کیا تم نے بیعت کرلی ؟ جہاں لوگ داخل ہوئے تم داخل ہوگئے ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ سوار فرماتے ہیں کہ اس طرح (ہاتھ پھیلائے ہوئے) امیر المومنین نے اپنے ہاتھ پھیلائے۔ پھر کہا تم نے بیعت کرلی پھر کہا تم اپنے اہل و عیال کی طرف لوٹ جاؤ جب لوگوں نے مجھے نکلتے ہوئے دیکھا تو وہ داخل ہونا شروع ہوئے اور بیعت کرنے لگے۔
حدیث نمبر: 40609
٤٠٦٠٩ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن السدي: ﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً﴾ [الأنفال: ٢٥] قال: أصحاب الجمل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سدی سے منقول ہے کہ ” تم اس فتنے سے ڈرو جو صرف ظلم کرنے والے پر نہیں آئے گا (القرآن) اس کا مصداق اصحاب جمل ہیں۔
حدیث نمبر: 40610
٤٠٦١٠ - حدثنا هشيم عن عوف قال: لا أعلمه إلا عن الحسن في قوله: ﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً﴾ [الأنفال: ٢٥]، قال: فلان وفلان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے قول { وَاتَّقُوا فِتْنَۃً لاَ تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْکُمْ خَاصَّۃًْ } کے بارے میں کسی سے نہیں سنا مگر حسن سے فرماتے ہیں تھے کہ فلاں فلاں اس کا مصداق ہیں۔
حدیث نمبر: 40611
٤٠٦١١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جعفر عن أبيه أن رجلا ذكر عند علي أصحاب الجمل حتى ذكر الكفر، فنهاه (علي) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے اصحاب جمل کا ذکر کیا یہاں تک کہ کفر تک پہنچا دیا پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو منع کیا۔
حدیث نمبر: 40612
٤٠٦١٢ - [حدثنا (١) محمد بن أبي عدي عن التيمي عن حريث بن مخش قال: ⦗٥٠٣⦘ ما شهدت يوما أشد من يوم ابن عليس إلا يوم الجمل] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حریث بن مخشی سے منقول ہے کہ میں نے علیس کے دن سے زیادہ سخت دن نہیں دیکھا مگر جنگ جمل کا دن (کہ یہ اس بھی سخت تھا) ۔
حدیث نمبر: 40613
٤٠٦١٣ - حدثنا وكيع عن علي بن (١) صالح عن أبيه عن أبي بكر بن عمرو ابن عتبة قال: كان بين صفين والجمل (شهران) (٢) أو ثلاثة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن عمرو بن عتبہ سے منقول ہے کہ جنگ صفین اور جمل کے درمیان دو یا تین مہینے کا فرق تھا۔
حدیث نمبر: 40614
٤٠٦١٤ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن أبي (الضحاك) (١) عن أبي (جعفر) (٢) قال: سمع علي يوم الجمل صوتا تلقاء أم المؤمنين فقال: انظروا ما (يقولون؟) (٣) فرجعوا (فقالوا) (٤): يهتفون بقتلة عثمان، فقال: اللهم (جلِّل) (٥) بقتلة عثمان خزيا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
ابو جعفر سے روایت ہے کہ جنگ جمل کے دن ام المومنین کی طرف سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک آواز سنی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں سے کہا دیکھو یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے دیکھ کر بتایا کہ حضرت عثمان کے قاتلین کو ملامت کر رہے ہیں۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اے اللہ حضرت عثمان کے قاتلوں کو ذلیل کر دے
حدیث نمبر: 40615
٤٠٦١٥ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد عن علي بن عمرو الثقفي قال: قالت عائشة: لأن أكون جلست عن مسيري كان أحب إلي من أن يكون لي عشرة من رسول اللَّه ﷺ (١) مثل ولد الحارث بن هشام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
علی رضی اللہ عنہ بن عمروثقفی سے منقول ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں اس سفر سے رک جاتی مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میرے لیے حارث بن ہشام جیسے دس بیٹے ہوتے۔
حدیث نمبر: 40616
٤٠٦١٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا أبو عوانة عن إبراهيم بن محمد بن (المنتشر) (١) عن أبيه عن عبيد بن (نضيلة) (٢) عن سليمان بن (صرد) (٣) قال: أتيت عليًا يوم الجمل وعنده (الحسن) (٤) وبعض أصحابه، فقال علي حين رآني: يا ابن (صرد) (٥) (تنأنأت) (٦) و (تزحزحت) (٧) وتربصت، كيف ترى اللَّه (صنع؟) (٨) (قد أغنى) (٩) اللَّه عنك، قلت: يا أمير المؤمنين إن (الشوط) (١٠) (بطين) (١١) وقد بقي من الأمور ما (تعرف) (١٢) فيها عدوك من صديقك، قال: فلما (قام) (١٣) الحسن لقيته فقلت: ما أراك أغنيت عني شيئا ولا عذرتني عند الرجل؟ وقد كنت حريصا على أن (تشهد) (١٤) معه، قال: هذا يلومك على (ما) (١٥) يلومك، وقد قال لي يوم الجمل: مشى الناس بعضهم إلى بعض، يا حسن ثكلتك أمك -أو هبلتك أمك- ما ظنك بامرئ، جمع بين هذين الغارين، واللَّه ما أرى بعد هذا خيرا، قال: فقلت: ⦗٥٠٥⦘ ألهمكت، لا (يسمعك) (١٦) (أصحابك) (١٧) فيقولوا: شككت فيقتلونك (١٨).
مولانا محمد اویس سرور
سلیمان بن صرد سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں جنگ جمل کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ان کے پاس حسن اور ان کے بعض ساتھی بھی تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب مجھے دیکھا تو فرمایا اے ابن صرد کمزور اور ڈھیلے پڑگئے اور پیچھے ٹھہر گئے۔ اللہ کے ساتھ تمہارا کیا معاملہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے بےنیاز کردیا میں نے کہا اے امیر المومنین معاملہ بڑا سخت ہوگیا۔ معاملات ایسے ہوگئے ہیں کہ آپ کے دوست اور دشمن میں امتیاز مشکل ہوچکا کہتے ہیں کہ جب حسن کھڑے ہوئے تو میں نے ان سے عرض کیا آپ نے میری ذرا بھی حمایت نہیں کی اور نہ ہی میری طرف سے کوئی عذراسی شخص (حضرت علی رضی اللہ عنہ ) کے پاس کیا ؟ حالانکہ میں اس بات کا متمنی تھا ان کے پاس میری گواہی ہے۔ حسن نے فرمایا انہوں نے (حضرت علی رضی اللہ عنہ ) جو ملامت آپ پر کرنی تھی سو وہ کی۔ حالانکہ مجھے جنگ جمل کے دن فرمایا کہ لوگ ایک دوسرے کی طرف جا رہے ہیں اے حسن تیری ماں تجھے گم کرے ! تیرا میرے اس معاملے کے بارے میں کیا خیال ہے۔ دونوں لشکر آمنے سامنے ہیں اللہ کی قسم میں اس کے بعد خیر نہیں دیکھتا۔ میں نے کہا آپ خاموش ہوجائیے آپ کے ساتھی نہ سن لیں پس کہنے لگیں کہ تو نے معاملہ مشکوک کردیا اور تجھے قتل کردیں۔
حدیث نمبر: 40617
٤٠٦١٧ - حدثنا أبو أسامة (١) عن عوف عن الحسن قال: جاء رجل إلى الزبير يوم الجمل (فقال) (٢): (أقتل) (٣) لك عليا؟ قال: وكيف؟ قال: آتيه فأخبره أني معه، ثم أفتك به، فقال الزبير: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: " (إن) (٤) الإيمان قيد الفتك لا يفتك مؤمن" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے منقول ہے کہ ایک آدمی زبیر کے پاس آیا اور عرض کیا میں آپ کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قتل کردوں۔ حضرت زبیر نے فرمایا وہ کیسے ؟ اس نے جواب دیا میں اس کے پاس جا کر کہوں گا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں پھر میں انہیں دھوکے سے قتل کر ڈالوں گا۔ حضرت زبیر نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایمان دھوکے کو روکنے والا ہے اور مومن کبھی دھوکا نہیں دیتا۔
حدیث نمبر: 40618
٤٠٦١٨ - حدثنا أبو أسامة قال: (حدثنا) (١) هشام بن عروة عن أبيه عن عبد اللَّه ابن الزبير قال: لما وقف الزبير يوم الجمل دعاني فقمت إلى جنبه، فقال: إنه لا يقتل (إلا) (٢) (ظالم) (٣) أو (مظلوم) (٤)، وإني لأراني (سأقتل) (٥) اليوم (٦)، ⦗٥٠٦⦘ وإن أكبر همي لديني، أفترى ديننا يبقي من مالنا شيئا؟ (فقال) (٧): يا بني (بع) (٨) مالنا واقض ديننا، وأوصيك (بالثلث) (٩) -وثلثيه لبنيه-، فإن فضل شيء من مالنا بعد قضاء الدين فثلثه لولدك، قال عبد اللَّه بن الزبير: فجعل يوصيني بدينه ويقول: يا بني إن عجزت عن شيء منه (فاستعن) (١٠) عليه مولاي، قال: فواللَّه ما دريت ما أراد حتى قلت: (يا أبت) (١١) من مولاك؟ قال: اللَّه، قال: (فواللَّه) (١٢) (ما وقعت) (١٣) في كربة من دينه إلا (قلت) (١٤): يا مولى الزبير اقض عنه دينه قال: فيقضيه. قال: وقتل الزبير فلم يدع دينارا ولا درهما إلا أرضين منها الغابة (وإحدى عشرة) (١٥) دارا بالمدينة، ودارين بالبصرة، ودارا بالكوفة، ودارا بمصر، قال: وإن ما كان (١٦) عليه: أن الرجل كان يأتيه بالمال فيستودعه (١٧) إياه، فيقول الزبير: لا، ولكنه سلف، (إني) (١٨) (أخشى) (١٩) عليه ضيعة، وما ولي ولاية قط ولا جباية ولا ⦗٥٠٧⦘ (خراجا) (٢٠) ولا شيئا إلا أن يكون في (غزو) (٢١) مع (النبي) (٢٢) ﷺ أو مع أبي بكر وعمر وعثمان (٢٣).
مولانا محمد اویس سرور
عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ جنگ جمل کے دن حضرت زبیر کھڑے تھے انہوں نے مجھے بلایا میں ان کے پہلو میں کھڑا ہوگیا۔ پھر فرمانے لگے کہ ظالم ہو کر یا مظلوم ہو کر قتل کردیا جاؤنگا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ میں آج مظلوم قتل کردیا جاؤں گا مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے قرض کی ہے۔ کیا تو میرے قرض سے کوئی ما ل زائد دیکھتا ہے ؟ پھر فرمایا اے میرے بیٹے میرے مال و جائیداد کو بیچ کر میرا دین ادا کردینا۔ میں تمہارے لیے ایک تہائی کی وصیت کرتا ہوں اور دو ثلث اپنے بیٹوں کے لیے ہے۔ قرضہ ادا کرنے کے بعد اگر کوئی مال بچے تو ایک تہائی تیرے بیٹے کے لیے ہے۔ عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر نے مجھے دین کے بارے میں وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے بیٹے اگر تو کہیں عاجز آجائے تو میرے مولا سے مدد طلب کرلینا، عبداللہ ابن زبیر فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں نہ سمجھا کہ مولا سے کیا مراد ہے یہاں تک کہ میں نے عرض کیا آپ کے مولا کون ہیں تو انہوں نے فرمایا اللہ ! وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم جب بھی مجھے قرض ادا کرنے میں مشکل پیش آئی تو میں نے دعا کی اے زبیر کے مولا اسکا قرض ادا فرما دے پس اللہ تعالیٰ نے قرض ادا کرنے میں مدد کی کہتے ہیں کہ حضرت زبیر شہید ہوئے تو ان کے ورثے میں کوئی درہم و دینار نہیں تھا سوائے زمینوں کے۔ ان زمینوں میں سے کچھ باغات تھے، گیارہ گھر مدینہ میں تھے، دو گھر بصرہ میں، ایک گھر کوفہ میں اور ایک گھر مصر میں۔ یہ قرض ان پر ایسے ہوا تھا کہ جب کوئی شخص ان کے پاس امانت رکھنے کے لیے آیا تو حضرت زبیر فرماتے یہ امانت نہیں بلکہ آپ کا میرے پاس قرض ہے، کیونکہ میں ڈرتا ہوں اس کے ضائع ہونے سے۔ وہ کبھی کسی شہر کے والی نہیں بنے، نہ ٹیکس اور خراج کے والی بنے اور نہ کسی اور شئے کے والی بنے سوائے اس کے کہ وہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کے ساتھ غزوات میں رہے۔
حدیث نمبر: 40619
٤٠٦١٩ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن داود بن أبي هند عن أبي حرب بن الأسود عن أبيه أن الزبير بن العوام لما (قدم) (٢) البصرة دخل بيت المال، فإذا هو بصفراء وبيضاء فقال: (يقول اللَّه) (٣): ﴿وَعَدَكُمُ (اللَّهُ) (٤) مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَذِهِ﴾ [الفتح: ٢٠]، ﴿وَأُخْرَى لَمْ تَقْدِرُوا عَلَيْهَا قَدْ أَحَاطَ اللَّهُ بِهَا﴾ [الفتح: ٢٠] فقال: هذا لنا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود سے روایت ہے کہ زبیر بن عوام جب بصرہ تشریف لائے بیت المال میں داخل ہوئے وہاں سونے چاندی کے ڈھیر تھے پھر فرمایا ” وعدہ کیا تم سے اللہ نے بہت غنیمتوں کا کہ تم ان کو لوگے، سو جلدی پہنچا دی تم کو یہ غنیمت “ (الفتح ٢١) اور ایک فتح اور جو تمہارے بس میں نہیں تھی وہ اللہ کے قابو میں ہے۔ پھر فرمایا یہ ہمارے لیے ہے۔
حدیث نمبر: 40620
٤٠٦٢٠ - (١) حدثنا حفص بن غياث عن جعفر (عن) (٢) أبيه قال: أمر علي مناديه (فنادى) (٣) يوم البصرة: لا يتبع مدبر ولا يذفف على جريح، ولا يقتل أسير، ومن أغلق بابا (٤) أمِنَ، ومن ألقى سلاحه فهو آمن، ولم ⦗٥٠٨⦘ يأخذ من متاعهم شيئًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ بصرہ (کی لڑائی) کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے منادیوں کو یہ ندا لگانے کا حکم دیا کہ کوئی بھاگنے والے کا پیچھا نہ کرے، کوئی زخمی کو قتل نہ کرے۔ کوئی قیدی کو قتل نہ کرے، جو اپنے دروازے بند کرلے اسے امن ہے، جو اپنا ہتھیار ڈال دے اسے بھی امن حاصل ہے اور ان کے سامان سے کوئی شئے نہ لی جائے۔
حدیث نمبر: 40621
٤٠٦٢١ - حدثنا عبد الأعلى عن الجريري عن أبي العلاء قال: لما أصيب زيد بن (صوحان) (١) يوم الجمل قال: هذا الذي حدثني خليلي سلمان الفارسي: إنما يهلك هذه الأمة نقضها عهودها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العلائ سے منقول ہے کہتے ہیں کہ جنگ جمل کے دن جب زید بن صوحان کو مصیبت پہنچی تو کہنے لگے یہ وہی بات ہے جس کی میرے دوست سلمان فارسی نے مجھے خبر دی تھی کہ یہ امت اپنے عہدو پیماں کو توڑنے سے ہلاک ہوگی۔
حدیث نمبر: 40622
٤٠٦٢٢ - حدثنا وكيع عن جرير بن حازم عن عبد اللَّه بن عبيد بن (عمير) (١) قال: قالت عائشة: وددت أني كنت غصنا رطبا ولم أسر مسيري هذا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
عبداللہ بن عبید بن عمیر سے منقول ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں پسند کرتی ہوں کہ میں ایک تر شاخ ہوتی اور اپنا یہ سفرطے نہ کرتی (جنگ جمل کے لیے سفر)
حدیث نمبر: 40623
٤٠٦٢٣ - حدثنا وكيع عن محمد بن (مسلم) (١) عن إبراهيم بن ميسرة عن عبيد ابن سعد [عن عائشة أنها سئلت عن مسيرها فقالت: كان قدرا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
عبید بن سعد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے (جنگ جمل کے) ان کے سفر کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا یہ تقدیر کا فیصلہ تھا۔
حدیث نمبر: 40624
٤٠٦٢٤ - حدثنا وكيع عن (فطر) (١)] (٢) عن منذر عن ابن الحنفية أن عليًا قسم يوم الجمل في العسكر ما (أجافوا) (٣) عليه من سلاح أو كراع (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن حنفیہ فرماتے ہیں کہ جنگ جمل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہر طرح کا مال غنیمت میں تقسیم فرمایا۔
حدیث نمبر: 40625
٤٠٦٢٥ - حدثنا وكيع عن أبان بن عبد اللَّه البجلي عن نعيم بن أبي هند عن ربعي بن (حراش) (١) قال: قال علي: إني لأرجو أن أكون أنا وطلحة والزبير ممن قال اللَّه: ﴿وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ﴾ [الحجر: ٤٧] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربعی بن حراش سے منقول ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ میں، طلحہ اور زبیر ان لوگوں میں سے ہونگے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُورِہِمْ مِنْ غِلٍّ ) ہم ان کے سینوں سے کدورت کو دور کردیں گے۔
حدیث نمبر: 40626
٤٠٦٢٦ - (حدثنا) (١) إسحاق بن منصور قال: (حدثنا) (٢) عبد اللَّه بن عمرو بن مرة عن أبيه عن عبد اللَّه بن سلمة قال: وشهد مع علي الجمل وصفين وقال: ما يسرني بهما ما على الأرض.
مولانا محمد اویس سرور
عبداللہ بن سلمہ سے منقول ہے درآنحا لی کہ وہ جنگ جمل اور جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہوئے تھے، کہتے ہیں کہ مجھے جنگ جمل اور جنگ صفین کی وجہ سے زمین پر جو کچھ ہے خوش نہیں کرسکتا۔
حدیث نمبر: 40627
٤٠٦٢٧ - حدثنا المحاربي عن ليث عن مجاهد أن محمد بن أبي بكر أو محمد بن طلحة قال لعائشة يوم الجمل: يا أم المؤمنين! ما تأمريني؟ قالت: يا بني! إن استطعت أن تكون كالخيِّرِ من ابني آدم فافعل (١).
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد سے منقول ہے محمد بن ابی بکرہ یا محمد بن طلحہ میں سے کسی ایک نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا اے ام المومنین ! آپ مجھے کیا حکم دیتی ہیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اگر تو طاقت رکھتا ہے تو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) میں سے بہتر (ہابیل) کی طرح ہوجا (یعی تلوار نہ اٹھا)
حدیث نمبر: 40628
٤٠٦٢٨ - [حدثنا يحيى بن آدم قال: (حدثنا) (١) أبو بكر عن عاصم عن أبي صالح قال: قال علي يوم الجمل: وددت أني كنت مت قبل هذا بعشرين سنة] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابو صالح سے منقول ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل کے دن فرمایا میں پسند کرتا ہوں کہ میں اس واقعہ سے بیس سال پہلے مرچکا ہوتا۔
حدیث نمبر: 40629
٤٠٦٢٩ - حدثنا بن آدم قال: حدثنا شريك عن سليمان بن المغيرة عن يزيد ابن ضبيعة العبسي عن علي أنه قال يوم الجمل: لا (يتبع) (١) (مدبر) (٢) ولا يذفف على جريح (٣).
مولانا محمد اویس سرور
یزید بن ضبیعہ عبسی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے جنگ جمل کے دن فرمایا کوئی بھاگنے والے کا پیچھا نہ کرے اور نہ ہی زخمی کو قتل کرے۔
حدیث نمبر: 40630
٤٠٦٣٠ - حدثنا محمد بن الحسن قال: (حدثنا) (١) جرير بن حازم عن أبي سلمة عن أبي نضرة عن رجل من بني ضبيعة قال: لما قدم طلحة والزبير نزلا في بني طاحية، فركبت فرسي فأتيتهما فدخلت عليهما المسجد، فقلت: إنكما رجلان من أصحاب رسول اللَّه ﷺ: (أَعهد إليكما فيه رسول اللَّه ﷺ) (٢)، أم رأي (رأيتماه) (٣)؟ فأما طلحة فنكس رأسه فلم يتكلم، وأما الزبير فقال: حدثنا أن هاهنا دراهم كثيرة فجئنا نأخذ (منها) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابو نضرہ بنو ضبیعہ کے ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ جب طلحہ اور زبیر بنو طاحیہ مں ت تشریف فرما ہوئے تو میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور ان کے پاس آیا اور ان کے پاس مسجد میں داخل ہوا۔ میں نے ان سے کہا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب ہیں ! کیا یہ کوئی رائے ہے جسے آپ دیکھ رہے ہیں پس حضرت طلحہ نے تو سر جھکا لیا اور کوئی بات نہیں کی اور زبیر نے کلام کیا اور رفرمایا کہ ہمیں اطلاع دی گئی ہے کہ یہاں کافی سارے دراہم ہیں ہم انہیں لینے کے لیے آئے ہیں۔
حدیث نمبر: 40631
٤٠٦٣١ - حدثنا يعلى بن عبيد عن إسماعيل بن أبي خالد عن عبد السلام رجل من بني حية قال: خلا علي بالزبير يوم الجمل فقال: أنشدك باللَّه كيف سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول وأنت (لاوٍ) (١) يدي في سقيفة بني فلان: "لتقاتلنه ⦗٥١١⦘ وأنت ظالم له، ثم لينصرن عليك"، قال: (قد) (٢) سمعتُ، لا جرم لا أقاتلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
عبدالسلام سے منقول ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ جمل کے دن حضرت زبیر سے علیحدگی میں ملے اور فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتاہوں بتاؤ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے نیں ن سنا جبکہ تم فلاں قبیلے کے چھپر کے نیچے میرے ہاتھ پر جھکے کھڑے تھے تم اس سے قتال کرو گے اور تم اس پر ظلم کرنے والے ہوگے پھر تم پر تمہارے خلاف مدد کی جائے گی حضرت زبیر نے فرمایا میں نے سنا ہے یقینا اور اب میں آپ سے قتال نہیں کروں گا۔
حدیث نمبر: 40632
٤٠٦٣٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) شريك عن الأسود بن قيس قال: حدثني من رأى الزبير يقعص الخيل بالرمح قعصا، (فثوب) (٢) به علي: (يا عبد اللَّه) (٣) يا عبد اللَّه، قال: (فأقبل) (٤) حتى (التقت) (٥) أعناق دوابهما، قال: فقال (له) (٦) علي: أنشدك باللَّه، أتذكر يوم (أتانا) (٧) النبي ﷺ وأنا أناجيك فقال: "أتناجيه، فواللَّه ليقاتلنك (يوما) (٨) وهو لك ظالم"، قال: فضرب الزبير وجه دابته فانصرف (٩).
مولانا محمد اویس سرور
اسود بن قیس کہتے ہیں کہ مجھے حضرت زبیر کو دیکھنے والے نے بتایا کہ حضرت زبیر نے گھوڑے کو زور سے نیزہ مارا پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو پکارا اے اللہ کے بندے اے اللہ کے بندے پس حضرت زبیر تشریف لائے یہاں تک کہ دونوں حضرات کے جانوروں کے کان ایک دوسرے کے قریب ہوگئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا پس آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں آپ کو وہ دن یاد ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور میں آپ سے سرگوشی کر رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اس سے سرگوشی کر رہے ہو۔ اللہ کی قسم یہ ایک دن تمہارے ساتھ قتال کرے گا اور یہ تم پر ظلم کرنے والا ہوگا پس حضرت زبیر نے اپنے گھوڑے کو ہانکا اور واپس چلے گئے۔
حدیث نمبر: 40633
٤٠٦٣٣ - حدثنا محمد بن الحسن قال: (حدثنا) (١) شريك عن إسحاق عن عبد اللَّه بن محمد قال: مر عليٌّ على قتلى من أهل البصرة، فقال: اللهم اغفر لهم، ⦗٥١٢⦘ (ومعه) (٢) محمد بن أبي بكر وعمار بن ياسر، فقال أحدهما للآخر: ما (تسمع) (٣) ما يقول؟ فقال له الآخر: اسكت لا (يزيدك) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
عبداللہ بن محمد سے منقول ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہاہل بصرہ کے شہداء کے پاس سے گزرے اور دعا کی ! اے اللہ ان کی مغفرت فرما، ان کے ساتھ محمد بن ابوبکر اور عمار بن یاسر بیع تھے پس ایک دوسرے سے کہا کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کیا کہتے ہوئے سن رہے ہیں ؟ دوسرے نے فرمایا خاموش ہوجاؤ کہیں تمہاری وجہ سے اور اضافہ کردیں۔
حدیث نمبر: 40634
٤٠٦٣٤ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثني أبو بكر عن جحش بن زياد الضبي قال: سمعت الأحنف بن قيس يقول: لما ظهر عليٌّ على (أهل البصرة) (١) أرسل إلى عائشة: ارجعي إلى المدينة وإلى بيتك، قال: فأبت، قال: فأعاد إليها الرسول: واللَّه لترجعن أو لأبعثن إليك نسوة من بكر بن وائل (معهن) (٢) شفار حداد يأخذنك بها، فلما رأت ذلك خرجت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
احنف بن قیس فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہاہل بصرہ کے پاس آئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ مدینے اپنے گھر لوٹ جاؤ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انکار کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پھر اپنے پیغام رساں کو بھیجا کہ اللہ کی قسم تم لوٹ جاؤ ورنہ میں تمہاری طرف بکر بن وائل کی ایسی عورتوں کو بھیجوں گا جس کے پاس تیز دھار والی چھریاں ہیں وہ تجھ پر ان سے حملہ کریں گی۔ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھا تو وہ چلی گئیں۔
حدیث نمبر: 40635
٤٠٦٣٥ - حدثنا خالد بن مخلد قال: (حدثنا) (١) يعقوب عن جعفر بن أبي المغيرة عن ابن (أبزى) (٢) قال: انتهى عبد اللَّه بن بديل إلى عائشة وهي في الهودج يوم الجمل، فقال: يا أم المؤمنين! أنشدك باللَّه، أتعلمين أني أتيتك يوم قتل عثمان فقلت: إن عثمان قد قتل فما تأمريني؟ فقلت لي: ألزم عليًا، فواللَّه ما غير ولا بدل، فسكتت ثم (أعاد) (٣) عليها ثلاث مرات، (فسكتت) (٤)، فقال: اعقروا الجمل، فعقروه، ⦗٥١٣⦘ قال: فنزلت أنا وأخوها محمد بن أبي بكر (فاحتملنا) (٥) الهودج، حتى وضعناه بين يدي علي، فأمر به علي فأدخل في منزل عبد اللَّه بن (بديل) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
ابن ابزی سے منقول ہے کہ عبداللہ بن بدیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے وہ ھودج میں تھیں جنگ جمل کے دن پھر عرض کیا اے ام المومنین آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ جانتی ہو کہ میں آپ کے پاس اس دن حاضر ہوا تھا جس دن حضرت عثمان کو شہید کیا گیا تھا۔ میں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ حضرت عثمان شہید ہوگئے اب آپ مجھے کیا حکم دیتی ہیں تو آپ نے فرمایا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لازم پکڑو۔ اللہ کی قسم وہ بدلے نہیں پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خاموش ہوگئیں پھر یہی بات عبداللہ بن بدیل نے تین دفعہ دہرائی پس وہ خاموش رہیں۔ عبداللہ بن بدیل نے اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کا حکم دیا تو اونٹنی کی کانچیں کاٹ دی گئیں پس میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی محمد بن ابوبکر اترے اور ان کے ھودج کو اٹھا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھ دیا۔ پھر ان کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکم سے عبداللہ بن بدیل کے گھر میں داخل کردیا۔ جعفر بن ابو مغیرہ کہتے ہیں کہ میری پھوپھی عبداللہ بن بدیل کے ہاں تھیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا مجھے اندر داخل کردو پس میں نے انہیں اندر داخل کردیا اور میں نے ان کو ایک سفلچی (ہاتھ وغیرہ دھونے کا برتن) اور جگ ان کے پاس رکھ دیا اور دروازہ بند کردیا۔ کہتی ہیں کہ میں دروازے کی دراڑوں میں سے دیکھ رہی تھی کہ وہ اپنے سر کا علاج کر رہیں تھیں میں نہیں جانتی کہ ان کے سر میں کوئی زخم تھا یاتیر کا زخم۔
حدیث نمبر: 40636
٤٠٦٣٦ - قال جعفر بن (أبي) (١) المغيرة: وكانت عمتي عند عبد اللَّه بن بديل، (فحدثتني) (٢) عمتي أن عائشة قالت: لها أدخليني، قالت: فأدخلتها (لداخل) (٣) وأتيتها بطست وإبريق وأجفت عليها الباب، (قالت) (٤): فاطلعت عليها من (خلل) (٥) الباب وهي تعالج شيئًا في رأسها ما أدري شجة أو رمية (٦).
حدیث نمبر: 40637
٤٠٦٣٧ - حدثنا إسحاق بن سليمان قال: حدثنا أبو سنان عن عمرو بن مرة قال: جاء (سليمان) (١) بن صرد إلى علي بن أبي طالب بعدما فرغ من قتال يوم الجمل، وكانت له صحبة مع النبي ﵇، فقال له علي: خذلتنا وجلست عنا وفعلت على رؤوس الناس؟ فلقي سليمانُ الحسنَ بن علي فقال: ما لقيت من أمير المؤمنين؟ قال: (قال) (٢) لي: كذا وكذا على رؤوس الناس، (فقال) (٣): لا يهولنك هذا منه فإنه محارب، فلقد رأيته يوم الجمل حين أخذت السيوف ⦗٥١٤⦘ (مأخذها) (٤) يقول: لوددت أني مت قبل هذا اليوم بعشرين سنة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن مرہ سے منقول ہے کہتے ہیں سلیمان بن صرد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جنگ جمل کے دن جنگ سے فراغت کے بعد آئے یہ صحابی تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ نے ہمیں رسوا کیا اور آپ ہم سے پیچھے رہ گئے۔ حضرت سلیمان بن صرد حسن سے ملے اور ان سے کہا کیا آپ امیر المومنین سے نہیں ملے ؟ انہوں نے مجھے اس طرح سے کہا ہے۔ حسن نے فرمایا آپ ان کی اس بات سے خوفزدہ مت ہوں کہ وہ جنگ کرنے والے ہیں۔ میں نے جنگ جمل کے دن ان کو دیکھا جب میں نے اپنی تلوار کو اچھی طرح تھا ما کہ وہ فرما رہے تھے کہ میں پسند کرتا ہوں کہ اس دن سے بیس سال قبل فوت ہوجاتا۔
حدیث نمبر: 40638
٤٠٦٣٨ - حدثنا أحمد بن عبد اللَّه قال: حدثنا زائدة عن (عمر) (١) بن قيس عن زيد بن وهب قال: أقبل طلحة والزبير حتى نزلا البصرة (وطرحوا) (٢) سهل ابن حنيف، فبلغ ذلك (عليًّا) (٣)، وعليٌّ كان بعثه عليها، فأقبل حتى نزل بذي قار. فأرسل عبدَ اللَّه بن عباس إلى الكوفة فأبطئوا عليه، ثم أتاهم عمار (فخرجوا) (٤)، قال زيد: فكنت فيمن خرج معه، قال: (فكف) (٥) عن طلحة والزبير وأصحابهما، ودعاهم حتى (بدؤوه) (٦) فقاتلهم بعد صلاة الظهر، فما غربت الشمس وحول الجمل عين (تطرف) (٧) ممن كان يذب عنه، فقال علي: لا تتموا جريحا (ولا) (٨) تقتلوا مدبرا، ومن أغلق بابه وألقى سلاحه فهو آمن؛ فلم يكن قتالهم إلا تلك العشية وحدها. فجاءوا (بالغد) (٩) يكلمون عليا في الغنيمة (فقرأ) (١٠) علي هذه الآية، فقال: ⦗٥١٥⦘ أما إن اللَّه يقول: ﴿(وَاعْلَمُوا) (١١) (أَنَّمَا) (١٢) غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [الأنفال: ٤١]: (أيكم) (١٣) لعائشة؟ فقالوا: سبحان اللَّه! أمنا، فقال: أحرام هي؟ قالوا: نعم، قال علي: فإنه يحرم من بناتها ما يحرم منها قال: أفليس عليهن أن يعتددن من (القتلى) (١٤) أربعة أشهر وعشرا، قالوا: بلى، قال: أفليس لهن الربع والثمن من أزواجهن، قالوا: بلى، قال: ثم قال: ما بال اليتامى لا يأخذون أموالهم، ثم قال: يا قنبر من عرف شيئا فليأخذه، قال زيد: فرد ما كان في العسكر وغيره. قال: وقال علي لطلحة والزبير: (ألم) (١٥) تبايعاني؟ فقالا: (نطلب) (١٦) دم عثمان؛ فقال علي: ليس عندي دم عثمان (١٧).
مولانا محمد اویس سرور
زید بن وہب سے منقول ہے طلحہ اور زبیر بصرہ تشریف لائے اور سہل بن حنیف کے سامنے معاملہ پیش کیا یہ بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا تھا پس حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ذی قار مقام میں قیام فرمایا پھر عبداللہ بن عباس کو کوفہ بھیجا کوفہ والوں نے پس وپیش سے کام لیا پھر عمار کوفہ والوں کے پاس آئے پھر کوفہ والے نکل پڑے زیدکہتے ہیں کہ میں بھی انہی لوگوں میں شامل تھا جو حضرت عمار ساتھ نکلے تھے پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے طلحہ و زبیر اور ان کے ساتھیوں سے ہاتھ روکے رکھا اور ان کو حق کی طرف بلاتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے خود ہی لڑائی کی ابتدا کی پس ان کے ساتھ نماز ظہر کے بعد قتا ل کیا سورج غروب نہیں ہوا تھا کہ اونٹ کے گرد اونٹ کا دفاع کرتے ہوئے بہت سے لوگ ہلاک ہوگئے پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم زخمی کو قتل نہ کرو اور نہ ہی واپس بھاگنے والے کو قتل کرو اور جو اپنا دروازہ بند کرے اور اپنا ہتھیار پھینک دے اس کو امن ہے پس قتال نہیں ہوا مگر صرف اسی شام کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی اگلی صبح کو آئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مال غنیمت سے مال غنیمت کا مطالبہ کرنے لگے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول یہ آیت تھی کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ { وَاعْلَمُوا أَنَمَّا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ وَلِلرَّسُولِ } تم میں سے کون ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے تو انہوں نے کہا سبحان اللہ وہ تو ہماری ماں ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا وہ حرام ہے ؟ لوگوں نے کہا ہاں ! پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو ان سے (ام المومنین سے) حرام ہے وہ ان کی بیٹیوں سے بھی حرام ہے۔ پھر فرمایا کہ کیا ان کے مقتول شوہروں کی وجہ سے ان کی عدت چار ماہ دس دن نہیں ؟ تو لوگوں نے جواب دیا کیوں نہیں۔ پھر فرمایا کیا ان بیواؤں کے لیے ربع اور ثمن نہیں ان کے شوہروں کے اموال سے ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں۔ تو پھر یتیموں کو کیوں حق نہیں کہ و ہ ان کے اموال نہ لیں۔ پھر فرمایا اے قنبر جو اپنی شئے پہچان لے وہ اپنی شئے اٹھا لے۔ پس جو لشکر کے پاس مدمقابل لوگوں کا سامان تھا لوٹا دیا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر سے فرمایا کہ تم نے بیعت نہیں کی تھی میرے ہاتھ پر ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عثمان کا خون میرے سر تو نہیں عمروبن قیس کہتے ہیں کہ مجھے ابو قیس جو حضر موت سے تعلق رکھتے تھے کہاجب قنبر نے ندا لگائی کہ اپنی چیزوں کو پہچان کرلے لو تو ایک شخص ہمارے پاس سے گزرا ہم دیگچی میں کچھ پکا رہے تھے۔ اس نے اس دیگچی کو اٹھا لیا ہم نے کہا اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ اس میں جو ہے پک جائے ابو قیس کہتے ہیں کہ اس نے دیگچی میں ٹانگ ماری اور اس کو پکڑ کر چلتا ہوا۔
…