حدیث نمبر: 40528
٤٠٥٢٨ - حدثنا معاوية بن هشام عن علي بن صالح عن يزيد بن أبي زياد عن إبراهيم عن علقمة عن عبد اللَّه بن مسعود قال: (بينا) (١) نحن عند رسول اللَّه ﷺ (إذ) (٢) أقبل فتية من بني هاشم، فلما (رآهم) (٣) النبي ﷺ (اغرورقت) (٤) عيناه وتغير لونه، ⦗٤٥٢⦘ قال: فقلت له: (ما نزال نرى) (٥) في وجهك شيئا (نكرهه؟) (٦) قال: "إنا أهل (بيت) (٧) اختار (اللَّه لنا) (٨) الآخرة على الدنيا، وإن أهل بيتي سيلقون بعدي بلاء (وتشريدا) (٩) (وتطريدا) (١٠)، (حتى) (١١) يأتي قوم من قبل المشرق معهم رايات سود يَسألون الحقَ فلا يُعطَونه، فيقاتلون (فينصرون) (١٢) فيعطون ما سألوا، فلا (يقبلونه) (١٣) حتى (يدفعوها) (١٤) إلى رجل من أهل بيتي، فيملؤها قسطا كما ملؤوها جورا، فمن أدرك ذلك منكم فليأتهم ولو (حبوا) (١٥) على الثلج" (١٦).
مولانا محمد اویس سرور
عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ اس دوران بنو ہاشم کے کچھ نوجوان سامنے آئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ کا رنگ بدل گیا۔ میں نے عرض کیا یا رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم آپ کے چہرے پر ایسی شئے کو دیکھ رہے ہیں جسے ہم پسند کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے اہل بیت کے لیے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی ہے۔ میرے بعد اہل بیت کو ایک آزمائش، انتشار اور جلا وطنی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہاں تک کہ مشرق کی جانب سے ایک قوم آئے گی ان کے پاس سیاہ جھنڈے ہوں گے وہ حق کا مطالبہ کریں گے مگر ان کو حق نہیں دیا جائے گا پس وہ قتال کریں گے اور نقصان پہنچائیں گے پس ان کا مطالبہ تسلیم کیا جائیگا مگر وہ اسے قبول نہیں کریں گے یہاں تک کہ امر خلافت میرے اہل بیت کے ایک شخص کے سپر د کردیا جائے پس وہ زمین کو ایسے انصاف سے بھر دیں گے جیسے ان سے پہلوں نے ظلم وستم سے بھردیا تھا۔ تم میں سے اگر کوئی اسکو پائے تو اس کو چاہیے کہ وہ ان کے پاس جائے اگرچہ بر ف پر گھسٹ کر جانا پڑے۔
حدیث نمبر: 40529
٤٠٥٢٩ - حدثنا وكيع عن شريك عن أبي (مهل) (١) قال: قلت لأبي جعفر: إن السلطان يولى العمل، قال: لا تلين لهم شيئا، وإن وليت فاتق اللَّه وأد الأمانة.
مولانا محمد اویس سرور
ابو مہل سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے کہا بادشاہ کو کام کا والی بنایا جاتا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا ! ان کے لیے کسی شئے کے والی نہ بننا اگر تم کو والی بنایا جائے تو تم اللہ سے ڈرو اور امانت ادا کرو۔
حدیث نمبر: 40530
٤٠٥٣٠ - حدثنا وكيع عن خالد بن طهمان عن أبي جعفر قال: لا (تُعِدّ) (١) ⦗٤٥٣⦘ لهم (سِفرا) (٢) ولا (تَخُطّ) (٣) لهم بقلم.
مولانا محمد اویس سرور
ابو جعفر سے منقول ہے کہتے ہیں کہ تم لوگوں کے لیے کتاب تیار نہ کرو اور نہ ہی ان کے لیے قلم سے کچھ لکھو۔
حدیث نمبر: 40531
٤٠٥٣١ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن أبي وائل قال: دخلت على عبيد اللَّه بن زياد بالبصرة وقد أتى بجزية أصبهان ثلاثة آلاف ألف، فهي موضوعة بين يديه، فقال: يا أبا وائل: ما تقول فيمن مات وترك مثل هذه؟ قال: فقلت: أعرض به: (كيف) (١) إن كانت من غلول؟ قال: ذاك شر على شر، ثم قال: يا أبا وائل! إذا أنا قدمت الكوفة فأتني لعلي أصيبك بخير، قال: فقدم الكوفة، قال: فأتيت علقمة فأخبرته فقال: أما إنك لو (أتيته) (٢) قبل أن تستشيرني، لم أقل لك شيئا، فأما (إذا) (٣) استشرتني فإنه (يحق) (٤) علي أن (أنصحك) (٥)، فقال: ما أحب أن لي ألفين من (الفيء) (٦) وإني أعز الجند عليه، وذلك أني لا (أصيب) (٧) من دنياهم شيئا إلا أصابوا من ديني أكثر منه.
مولانا محمد اویس سرور
ابو وائل سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں عبید اللہ بن زیاد کے پاس بصرہ گیا جب کہ اس کے سامنے اصبہان کا تین لاکھ جزیہ پڑا تھا۔ ابن زیاد نے کہا اے ابو وائل اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو اتنا ترکہ چھوڑ کر مرا ہو۔ میں نے تعریض کرتے ہوئے کہا کیا حال ہو اگر یہ خیانت کا مال ہو۔ ابن زیاد نے کہا یہ تو شرپر شر ہوا، پھر کہا اے ابو وائل جب میں کوفہ آؤں تو میرے پاس آنا ممکن ہے کہ میں تمہیں خیر پہنچاؤں، ابو وائل کہتے ہیں : اگر آپ مجھ سے مشورہ کرنے سے پہلے اسکے پاس چلے جاتے تو میں کچھ نہ کہتا، اور اب اگر مجھ سے مشورہ کر ہی بیٹھے ہو تو مجھ پر یہ حق ہے آپ کا کہ آپ کو نصیحت کروں، پس علقمہ نے فرمایا : میں پسند نہیں کرتا کہ میرے لیے دولاکھ درہم ہوں اور مجھے ایک لشکر پر عزت دی جائے۔ اور یہ اس وجہ سے کہ میں ان کی دنیا تک اتنا نہیں پہنچ سکتا جتنا وہ میرے دین کو نقصان پہنچائیں گے۔
حدیث نمبر: 40532
٤٠٥٣٢ - حدثنا ابن فضيل عن (الصلت) (١) بن مطر العجلي عن عيسى ⦗٤٥٤⦘ المرادي عن معاذ قال: يكون في آخر هذا الزمان قراء فسقة، (ووزراء) (٢) فجرة، وأمناء خونة، وعرفاء ظلمة، وأمراء كذبة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
معاذ سے منقول ہے فرماتے ہیں کہ آخر زمانے میں فاسق قاری، فاجر وزرائ، خیانت کرنے والے امانت رکھنے والے، ظالم نگران ہونگے اور جھوٹے امراء ہوں گے۔
حدیث نمبر: 40533
٤٠٥٣٣ - حدثنا يعلى بن عبيد عن موسى الجهني عن قيس بن يزيد قال: حدثتني مولاتي سدرة أن (جدك) (١) سلمة (٢) بن قيس حدثني قال: لقيت أبا ذر فقال: يا سلمة بن قيس: ثلاث قد حفظتها لا تجمع بين الضرائر، فإنك لن تعدل ولو حرصت، ولا تعمل على الصدقة فإن صاحب الصدقة زائد وناقص، ولا تغش ذا سلطان فإنك لا تصيب من دنياهم شيئا إلا أصابوا من دينك أفضل منه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
سلمہ بن قیس سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں ابو ذر سے ملا انہوں نے فرمایا : اے سلمہ بن قیس ! تین چیزوں کو تم محفوظ کرلو دوسوکنوں کو جمع نہ کرنا تم عدل نہیں کرپاؤ گے اگر چہ تم کتنے ہی حریص ہو، دوسرا صدقات پر محصل نہ بننا کیونکہ یا تو وہ کمی کرنے والا ہوتا ہے یا زیادتی کرنے والا، بادشاہ کے قریب زیادہ نہ جانا کیونکہ جتنا تم ان کی دنیا تک پہنچو گے اس سے زیادہ یہ تمہارے دین کو لے اڑیں گے۔
حدیث نمبر: 40534
٤٠٥٣٤ - حدثنا الفضل بن (دكين) (١) عن (فطر) (٢) عن أبي إسحاق عن عمارة ابن (عبد) (٣)، قال: قال حذيفة: اتقوا أبواب الأمراء فإنها (مواقف) (٤) الفتن إلا أن الفتنة (تشتبه) (٥) مقبلة و (تبين) (٦) مدبرة (٧).
مولانا محمد اویس سرور
عمارہ بن عبد سے منقول ہے کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا امراء کے دروازوں سے بچو کیونکہ یہ فتنے کی جگہیں ہیں، مگر یہ کہ فتنہ مشتبہ ہو کر آتا ہے اور ظاہر ہو کرجاتا ہے (یعنی جب فتنہ برپا ہوتا ہے تو حق و صواب ظاہر اور واضح نہیں ہوتا جب چلا جاتا ہے تو انسان کو پتا چلتا ہے کہ اس کا عمل خطا تھا)
حدیث نمبر: 40535
٤٠٥٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) مالك بن إسماعيل قال: حدثنا عبد الرحمن بن حميد الرؤاسي قال: (حدثنا) (٢) عمرو بن قيس عن المنهال بن عمرو قال عبد الرحمن: أظنه عن قيس بن (السكن) (٣)، قال: قال علي على منبره: إني أنا فقأت عين الفتنة، ولو لم أكن فيكم ما قوتل فلان وفلان (وفلان) (٤) وأهل النهر، وأيم اللَّه لولا أن تتكلوا فتدعوا العمل لحدثتكم (بما سبق لكم) (٥) على لسان نبيكم (٦)، لمن قاتلهم مبصرا لضلالاتهم عارفا بالذي نحن عليه. قال: ثم قال: سلوني، (فقال: ألا تسألوني) (٧) فإنكم لا تسألوني عن شيء فيما بينكم وبين الساعة ولا عن فئة تهدي مائة و (٨) تضل مائة (إلا) (٩) حدثتكم (بسائقها) (١٠). قال: فقام رجل فقال: يا أمير المؤمنين حدثنا عن البلاء، فقال أمير المؤمنين: إذا سأل سائل فليعقل، وإذا سئل مسؤول (فليتثبت) (١١)، إن من ورائكم (أمورا) (١٢) ⦗٤٥٦⦘ (١٣) جللا (وبلاء) (١٤) (مبلحا) (١٥) مكلحا، والذي (فلق الحبة) (١٦) وبرأ النسمة! لو قد فقدتموني ونزلت (جراهنة) (١٧) الأمور وحقائق البلاء (لفشل) (١٨) كثير من السائلين، ولأطرق كثير من المسؤولين، وذلك (إذا فصلت) (١٩) (حربكم) (٢٠) وكشفت عن ساق لها وصارت الدنيا بلاء على أهلها حتى يفتح اللَّه (لبقية) (٢١) الأبرار. قال: (فقام) (٢٢) رجل فقال: يا أمير المؤمنين حدثنا عن الفتنة، فقال: إن الفتنة إذا أقبلت شبهت وإذا أدبرت (أسفرت) (٢٣)، وإنما (الفتن) (٢٤) (تحوم) (٢٥) (كحوم) (٢٦) الرياح، (يصبن) (٢٧) بلدًا ويخطئن آخر، (فانصروا) (٢٨) أقواما كانوا أصحاب رايات يوم بدر، ويوم حنين، تُنصروا (وتؤجروا) (٢٩). ⦗٤٥٧⦘ ألا إن أخوف الفتنة عندي عليكم فتنة عمياء مظلمة خصت فتنتها، وعمت (بليتها) (٣٠)، أصاب البلاء من أبصر فيها، وأخطا البلاء من عمي (عنها) (٣١)، يظهر أهل باطلها على أهل حقها حتى تملأ الأرض عدوانًا وظلمًا. وإن أول من يكسر (غمدها) (٣٢) ويضع جبروتها وينزع أوتادها اللَّه رب العالمين، ألا وإنكم ستجدون أرباب سوء لكم من بعدي كالناب (الضروس) (٣٣) تعض (بفيها) (٣٤)، وتركض برجلها، وتخبط بيدها، وتمنع درها، ألا إنه لا يزال بلاؤهم بكم حتى لا يبقى في مصر لكم إلا نافع لهم أو غير ضار، وحتى لا يكون نصرة أحدكم منهم إلا كنصرة العبد من سيده، وأيم اللَّه لو فرقوكم تحت كل كوكب لجمعكم اللَّه (لسر) (٣٥) يوم لهم. قال: فقام رجل فقال: هل بعد ذلكم جماعة (يا أمير المؤمنين؟) (٣٦) قال: (لا، إنها) (٣٧) جماعة شتى غير أن (أعطياتكم) (٣٨) وحجكم وأسفاركم واحد والقلوب مختلفة هكذا -ثم شبك بين أصابعه- قال: مم ذاك يا أمير المؤمنين؟ قال: يقتل هذا هذا، فتنة (فظيعة) (٣٩) جاهلية، ليس فيها إمام (هدى) (٤٠) (ولا ⦗٤٥٨⦘ علم) (٤١) (يرى) (٤٢)، نحن أهل البيت منها نجاة ولسنا بدعاة، قال: وما بعد ذلك يا أمير المؤمنين؟ قال: يفرج اللَّه البلاء برجل (منا) (٤٣) أهل البيت تفريج الأديم (٤٤)، يأتي ابن خبره إلا ما يسومهم الخسف، ويسقيهم بكأس (مضرة) (٤٥)، (ودت) (٤٦) قريش بالدنيا وما فيها لو يقدرون على مقام (جزر جزور) (٤٧) (لأقبل) (٤٨) منهم بعض الذي أعرض عليهم اليوم؛ فيردونه (ويأبى) (٤٩) إلا قتلا (٥٠).
مولانا محمد اویس سرور
عبدالرحمن سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ قیس بن سکن سے مروی ہے کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا کہ میں نے فتنے پر غلبہ پالیا اگر میں تم میں نہ ہوتا تو فلاں، فلاں قتل نہ کیے جاتے اور اللہ کی قسم اگر تم بھروسا کر کے عمل کو نہ چھوڑ بیٹھتے تو میں تمہیں بتاتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارے بارے میں کیا کیا خوشخبریاں دی ہیں بوجہ ان لوگوں کے ساتھ قتال کرنے کے جو اپنی گمراہی کو دیکھتے ہوئے یہ بھی جانتے تھے ہم ہدایت پر ہیں پھر فرمایا کہ مجھ سے سوال کرو پھر فرمایا کہ خبردار مجھ سے سوال کرو کیونکہ مجھ سے جو بھی سوال کرو گے قیامت اور جو تمہارے درمیان اس سے متعلق ہو یا اس لشکر کے متعلق جس کے سو آدمی ہدایت پا گئے اور سو آدمی گمراہ ہوگئے میں تم کو اس تفصیلات سے آگاہ کروں گا۔ پس ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے امیر المومنین ہمیں آزمائش کے بارے میں بتائیے۔ امیر المومنین نے فرمایا جب سائل سوال کرے تو اسے چاہیے سمجھ سے کرے اور جب مسؤل سے سوال کیا جائے تو اسے ثابت قدم رہنا چاہیے۔ تمہارے بعد بڑے بڑے امور پیش آنے والے ہیں اور ایسے ایسے فتنے برپا ہونے والے ہیں جو انسان کو عیب دار بنادیں گے اور انسان کا رنگ پھکاش کر ڈالیں گے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے بیج کو پھاڑا اور ہواؤں کو چلایا ! اگر تم مجھے گم کردیتے اور پھر ناپسندیدہ امور اترتے اور بڑی آزمائش اترتی تو بہت سارے سوال کرنے والے پھسل جاتے اور بہت سے مسؤل گردن جھکائے کھڑے ہوتے۔ یہ اس وقت ہوتا جب تمہاری جنگ برپا ہوگئی اور لڑائی خوب بھڑک اٹھی۔ اور دنیا والوں پر آزمائش بن گئی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے باقی ماندہ نیک بندوں کے لیے اسے فتح کردیا۔ پھر ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے امیر المومنین ہمیں فتنے کے بارے میں کچھ خبریں بتلائیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب فتنہ آتا ہے تو مشتبہ ہو کر آتا ہے اور جب جاتا ہے تو واضح و بیّن ہو کر لوٹتا ہے بیشک فتنے ہواؤں کی طرح گردش میں ہیں ایک شہر کو گھیرتے ہں ت تو دوسرے کو چھوڑدیتے ہیں۔ پس تم ایسے لوگوں کی مدد کرو جو بدرو حنین کے دن جھنڈے تھامنے والے تھے تا کہ تمہاری مدد کی جائے اور تم کو اجر دیا جائے۔ خبردار غور سے سنو ! بیشک سب سے زیادہ خوفناک فتنہ میرے نزدیک وہ فتنہ ہے جو اندھا اور تاریک ہوگا ۔ اس کا ہنگامہ خاص ہوگا مگر اس کی آزمائش مصیبت عام ہوگی۔ وہ فتنہ اس تک پہنچے گا جو اس کو دیکھے گا اور اس سے چوک جائے گا جو اس سے آنکھیں بند کرے گا اس فتنے میں جو باطل پر ہیں وہ اہل حق پر غالب آجائیں گے یہاں تک کہ زمین ظلم وستم سے بھر جائے گی اور پھر سب سے پہلے اس فتنے کی میان توڑنے والا، اور اس فتنے کی طاقت کو فرو کرنے والا اور اس فتنے کی میخیں اکھاڑنے والا اللہ ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ سنو عنقریب تمہارا واسطہ میرے بعد برے لوگوں سے ہوگا جو بپھری ہوئی اونٹنی کی مانند ہوں گے جو اپنے منہ سے کاٹتی ہے اپنے پاؤں سے ٹھوکر مارتی ہے اور آگے والے پاؤں سے بھی مارتی ہے اور اپنا دودھ نکالنے نہیں دیتی، سنو یہ فتنہ تم پر جاری رہے گا یہاں تک کہ تمہارے شہر میں تمہارے لیے کوئی حامی نہ ہوگا سوائے اہل باطل کو نفع پہنچانے والے یا ان کے لیے بےضرر۔ یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی مدد ان کی طرف سے نہ کی جائے گی مگر جتنی مدد آقا اپنے غلام کی کرتا ہے (یعنی بہت تھوڑی مدد) اللہ کی قسم اگر وہ تمہیں ہر ستارے کے نیچے جمع کردیں تو اللہ تمہیں ایک ایسے دن میں جمع کرے گا جس میں ان کے لیے کچھ حصہ نہیں۔ پھر ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا اے امیر المومنین ! کیا اس کے بعد بھی کوئی جماعت ہوگی ؟ آپ نے فرمایا نہیں پھر مختلف جماعتیں ہوں گی مگر تمہارے عطیات تمہارے حج اور تمہارے سفر ایک ہوں گے اور قول مختلف ہوں گے اس طرح، یہ کہہ کر آپ نے اپنی انگلیوں کو ملایا ایک آدمی نے سوال کیا یہ کس طرح ہوگا اے امیر المومنین ؟ آپ نے فرمایا لوگ ایک دوسرے کو قتل کریں گے یہ بڑا ہولناک اور جہالت والا فتنہ ہوگا اس فتنے میں کوئی امام ہدیٰ نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی جھنڈا ہوگا جس کو دیکھا جاسکے ہم اہل بیت اس سے نجات دہندہ ہوں گے اور ہم اس کے محرک نہیں ہوں گے، پھر اس نے کہا اے امیر المومنین اس کے بعد کیا ہوگا ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ ؟ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اہل بیت میں سے ایک آدمی کے ذریعے اس فتنے کو ایسے الگ کریں گے جیسے گوشت سے کھال علیٰحدہ کی جاتی ہے پھر وہ انہیں اذیت کا جام چکھائے گا۔ اس وقت قریش دنیا کی محبت کا شکار ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 40536
٤٠٥٣٦ - حدثنا وكيع عن عمران بن (حدير) (١) (٢) عن كعب قال: لكل زمان ملوك، فإذا أراد اللَّه بقوم خيرا بعث فيهم (مصلحيهم) (٣)، وإذا أراد بقوم شرا بعث فيهم مترفيهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب نے فرمایا کہ ہر زمانہ کے لیے بادشاہ مقرر ہیں جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو ان میں ان کی اصلاح کرنے والا بھیج دیتے ہیں اور جب کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتے ہیں تو ان میں عیاش لوگوں کو بادشاہ بنا دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 40537
٤٠٥٣٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا شريك عن أبي اليقظان عن زاذان عن (عُلَيم) (١) قال: كنا معه على سطح ومعه رجل من أصحاب النبي ﷺ في ⦗٤٥٩⦘ أيام الطاعون، فجعلت (الجنائز) (٢) تمر، فقال: يا طاعون خذني، قال: فقال (عليم) (٣): ألم يقل رسول اللَّه ﷺ: "لا (يتمنين) (٤) أحدكم الموت، فإنه عند انقطاع عمله، ولا يرد فيستعتبه"، فقال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "بادروا بالموت ستا: امرة السفهاء، وكثرة الشرط، وبيع الحكم، و (استخفافا) (٥) بالدم، (ونشوءا) (٦) يتخذون القرآن مزامير، يقدمونه ليغنيهم (وإن) (٧) كان أقلهم فقها" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
زاذان علیم سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ چھت پر تھے اور ان کے ساتھ ایک صحابی بھی تھے۔ طاعون کے دنوں میں پس ہمارے پاس سے جنازے گزرنے شروع ہوئے تو اس نے کہا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ موت اعمال کے منقطع ہونے کا باعث ہے اور انسان کو لوٹا یا نہیں جاتا کہ وہ اللہ کو راضی کرے۔ پس انہوں نے فرمایا میں نے رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم چھ چیزوں کی وجہ سے موت کو جلدی طلب کرو، بیوقوفوں کی امارت کی وجہ سے، بادشاہوں کے خاص سپاہیوں کے زیادہ ہوجانے کی وجہ سے، فیصلوں کے بکنے کی وجہ سے اور خون ارزاں ہونے کی وجہ سے اور قرآن کو بانسریاں بنانے والے نو عمر لڑکوں کی وجہ سے جنھیں لوگ نماز میں اس لیے آگے کریں گے تاکہ وہ انہیں قرآن کو گانے کے انداز میں سنائے حالانکہ وہ اپنی فہم میں سب سے کم تر ہوگا۔
حدیث نمبر: 40538
٤٠٥٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) أبو عبيدة عن الحسن قال: إنما (جعل) (٢) اللَّه هذا السلطان ناصرًا لعباد اللَّه (ولدينه) (٣)، فكيف من ركب ظلما على عباد اللَّه واتخذ عباد اللَّه خولا؟ يحكمون في دمائهم وأموالهم ما شاءوا، واللَّه ⦗٤٦٠⦘ إن يمتنع أحد، واللَّه ما لقيت أمة بعد نبيها من الفتن والذل ما لقيت هذه بعد (نبيها) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے منقول ہے کہ اللہ بادشاہ کو صرف اللہ کے بندوں کی مدد اور اپنے دین کے لیے سلطان بناتا ہے اس کا کیا حال ہوگا جو اللہ کے بندوں پر ظلم کرے اور ان کو اپنا غلام بنالے اور پھر وہ بادشاہ لوگوں کی جانوں اور مالوں کا جس طرح چاہے فیصلہ کرے اللہ کی قسم کوئی منع بھی نہ کرے اللہ کی قسم امت جس فتنے اور ذلت سے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد دوچار ہوئی ہے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ایسا فتنہ کبھی نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 40539
٤٠٥٣٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن همام قال: جاء إلى عمر رجل من أهل الكتاب فقال: السلام عليك (يا ملك) (١) العرب، قال عمر: وهكذا تجدونه في كتابكم؟ أليس تجدون النبي، ثم الخليفة ثم أمير المؤمنين ثم الملوك بعد؟ قال له: بلى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ہمام سے منقول ہے ایک شخص اہل کتاب میں سے حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا السلام علیکم اے عرب کے بادشاہ حضرت عمر نے فرمایا کیا تم اپنی کتاب میں اس طرح پاتے ہو ؟ کیا تم اس طرح نہیں پاتے کہ پہلے نبی ہوگا پھر خلیفہ پھر امیر المومنین پھر اس کے بعد بادشاہ ہوگا اس اہل کتاب نے کہا بالکل ایسے ہی ہے۔
حدیث نمبر: 40540
٤٠٥٤٠ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) الأعمش عن شقيق عن عبد اللَّه وذكر رجلا فقال: أهلكه الشح وبطانة السوء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کا تذکرہ کیا پس انہوں نے فرمایا کہ اس کو لالچ نے ہلاک کردیا اور اندرونی برائیوں نے اس کو ہلاک کردیا۔
حدیث نمبر: 40541
٤٠٥٤١ - حدثنا جعفر بن عون عن الوليد بن جميع عن أبي بكر (بن) (١) أبي الجهم عن أبي بردة بن (نيار) (٢) رفعه إلى النبي ﷺ قال: "لا تذهب الدنيا حتى تكون عند لكع بن لكع" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابو بردہ بن نیار سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا ختم نہیں ہوگی جب تک ایسے شخص کے پاس نہ چلی جائے جو خود بھی کمینہ ہو اور اس کا باپ بھی کمینہ ہو (یعنی ایسے گرے پڑے شخص کے پاس جو تقدیم کا مستحق نہ ہو نہ اس کا کوئی حسب نسب ہو اور نہ ہی علم فقہ سے کوئی تعلق ہو)
حدیث نمبر: 40542
٤٠٥٤٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم أنه سمع أباه قال: رأيت ⦗٤٦١⦘ عبد الرحمن بن (عوف) (١) بمنى (محلوقا) (٢) رأسه يبكي، (يقول) (٣): ما كنت أخشى أن أبقى حتى (يقتل) (٤) عثمان (٥).
مولانا محمد اویس سرور
سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا وہ فرماتے تھے میں نے عبدالرحمن بن عوف کو میٰ ٨ میں اس حالت میں دیکھا کہ ان کا سر منڈھا ہوا تھا اور وہ رو رہے تھے کہہ رہے تھے میں نہیں ڈرتا کہ میں حضرت عثمان کی شہادت تک زندہ رہوں۔
حدیث نمبر: 40543
٤٠٥٤٣ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) (بن موسى) (٢) عن شيبان عن الأعمش عن سالم ابن أبي الجعد عن عبد (اللَّه) (٣) بن عمرو قال: إنا لنجد في كتاب اللَّه المنزل صنفين في النار: قوم (يكونون) (٤) في آخر الزمان (٥) معهم سياط كأنها أذناب البقر يضربون بها الناس على غير جرم، لا يدخلون بطونهم إلا خبيثًا، ونساء كاسيات عاريات مائلات مميلات لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها (٦).
مولانا محمد اویس سرور
عبداللہ بن عمرو سے راویت ہے ہم نے اللہ رب العزت کی کتاب میں دو قسم کے لوگوں کو آگ میں دیکھا ہے ایک وہ قوم جو آخری زمانے میں ہوگی ان کے پاس گائے کی دم کی طرح کوڑے ہوں گے ان کے ذریعے بغیر کسی جر م کے لوگوں کو ماریں گے وہ اپنے پیٹوں میں خبیث چیزیں (رشوت وغیرہ) ہی داخل کریں گے اور دوسری قسم ان عورتوں کی جو کپڑے نہیں پہنتی ہیں ننگی ہوتی ہیں مائل ہوتی ہیں اور مائل کرتی ہیں وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو سونگھ سکیں گی۔
حدیث نمبر: 40544
٤٠٥٤٤ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) قال: (حدثنا) (٢) (الهياج) (٣) بن بسطام الحنظلي قال: (حدثنا) (٤) ليث بن أبي سليم عن طاوس عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنها ستكون (أمراء تعرفون وتنكرون) (٥)، (فمن ⦗٤٦٢⦘ باراهم) (٦) نجا، ومن اعتزلهم سلم أو كاد، ومن خالطهم هلك" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباس سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عنقریب تمہارے ایسے امراء ہوں گے جن کو تم جانتے ہوگے اور جن پر تم نکیر کرتے ہوگے جو ان سے قتال کرے گا نجات پاجائے گا اور جو ان کے ساتھ مل جائے گا وہ ہلاک ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 40545
٤٠٥٤٥ - حدثنا يحيى بن إسحاق قال: أخبرني يحيى بن أيوب عن أبي قبيل عن (تُبَيْع) (١) عن النعمان بن (بشير) (٢) أنه قال: ابعثوا إلى أملةٍ يذبون عن فساد الأرض، فقال له كعب الأحبار: (مه) (٣) لا تفعل، فإن ذلك في (كتاب) (٤) اللَّه المنزل: أن قوما يقال لهم الأملة يحملون بأيديهم سياطا كأنها أذناب البقر، لا يريحون ريح الجنة، فلا تكن أنت أول من يبعث فيهم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ پولیس والوں کو بھیجو کہ وہ زمین کا فساد دور کریں تو کعب احبار نے فرمایا کہ ٹھہرو ایسا نہ کرو کیونکہ یہ کتاب اللہ میں ہے کہ ایک قوم ان کو املہ کہا جائے گا (پولیس وغیرہ) ان کے ہاتھوں میں گائے کی دم کی طرح کوڑے ہونگے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھیں گے۔ پس تم ان کو سب سے پہلے بھیجنے والے نہ بنو نعمان کہتے ہیں انہوں نے ایسا ہی کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ سے پوچھا املہ کسے کہتے ہیں تو انہوں نے فرمایا تم عراق میں انہیں شرطی (پولیس والا) کہتے ہو۔
حدیث نمبر: 40546
٤٠٥٤٦ - قال: (ففعل) (١)، فقلت أنا ليحيى: ما الأملة؟ قال: أنتم (تسمونهم) (٢) بالعراق الشرط.
حدیث نمبر: 40547
٤٠٥٤٧ - حدثنا وكيع عن يزيد بن مردانبة عن خليفة بن (سعيد) (١) قال: رأيت (عثمان) (٢) في بعض طرق المدينة وهو يقول: مروا بالمعروف وانهوا عن المنكر قبل أن يسلط عليكم شراركم، فيدعوا عليهم خياركم فلا يستجاب لهم، ⦗٤٦٣⦘ قال: و (زحمته) (٣) حملة فأخذ بعضديه فقال: لا أموت حتى تدركني إمارة الصبيان (٤).
مولانا محمد اویس سرور
خلیفہ بن سعد سے منقول ہے کہ میں نے حضرت عثمان کو مدینے کے کسی راستے پر جاتے ہوئے دیکھا وہ یہ فرما رہے تھے ! تم نیکی کا حکم کرتے رہو اور بری باتوں سے روکتے رہو قبل اس کے کہ تم پر تمہارے شریر لوگ مسلط کے جائیں پس تمہارے بہترین لوگ ان پر بددعا کریں گے مگر ان کی بددعا قبول نہ ہوگی پھر ان کو تکلیف نے بوجھل کردیا پس ان کو بازؤں سے پکڑا گیا پھر انہوں نے فرمایا میں اس وقت تک نہ مروں گا جب تک کہ مجھے نو عمر لڑکوں کی امارت نہ پالے۔
حدیث نمبر: 40548
٤٠٥٤٨ - حدثنا وكيع عن النهاس بن قهم عن شداد أبي عمار قال: قال (عوف) (١) بن مالك! يا طاعون خذني إليك فقالوا: (ما) (٢) سمعت رسول اللَّه ﷺ قال: "كلما طال عمر المسلم كان خيرا له"، قال: بلى، ولكني أخاف ستا: إمارة السفهاء، وبيع الحكم، وسفك (الدم) (٣)، وقطيعة الرحم، وكثرة الشرط، و (نشوءا) (٤) (ينشؤون) (٥) يتخذون القرآن مزامير (٦).
مولانا محمد اویس سرور
شداد بن ابی عمار سے منقول ہے کہ عوف بن مالک نے فرمایا اے طاعون مجھے بھی اپنی طرف کھینچ لے لوگوں نے کہا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان نہیں سنا کہ مسلمان کی جتنی لمبی عمر ہوتی ہے اس کے لیے خیر کا باعث ہوتی ہے ؟ تو انہوں نے کہا کیوں نہیں مگر چھ چیزوں سے ڈر لگتا ہے بیوقوفوں کی امارت سے فیصلوں کے بکنے سے، خون بہانے سے، قطع رحمی کرنے سے، پولیس کی کثرت سے اور ایسے امر حادث سے کہ لوگ قرآن کو بانسری بنالیں۔
حدیث نمبر: 40549
٤٠٥٤٩ - حدثنا الفضل بن دكين قال: (حدثنا) (١) عبيد بن طفيل أبو سيدان الغطفاني قال: حدثني [ربعي بن حراش عن عمر بن الخطاب قال: اتركوا (هؤلاء) (٢) الفطح الوجوه ما تركوكم، فواللَّه لوددت أن بيننا وبينهم بحرا لا يطاق (٣).
مولانا محمد اویس سرور
عمر بن خطاب سے مروی ہے فرمایا ان چپٹے چہرے کو چھوڑ دو جنہوں نے تم کو چھوڑ دیا اللہ کی قسم میں پسند کرتا ہوں ہمارے اور ان کے درمیان ایسا سمندر ہو جس کو عبور نہ کیا جاسکے۔
حدیث نمبر: 40550
٤٠٥٥٠ - حدثنا حميد بن] (١) عبد الرحمن عن حسن عن عبد الملك بن أبي سليمان قال: (سألت) (٢) أبا جعفر هل في هذه الأمة كفر؟ قال: لا أعلمه، ولا (شرك) (٣)، قال: قلت: (فماذا؟) (٤) قال: بغي.
مولانا محمد اویس سرور
عبدالملک ابن ابی سلیمان سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے سوال کیا کہ اس امت میں کفر ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا میں نہیں سمجھتا کہ کفر ہو یا شرک تو میں نے کہا پھر کیا ہوگا انہوں نے کہا بغاوت۔
حدیث نمبر: 40551
٤٠٥٥١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) سفيان بن نشيط قال: حدثني أبو عبد الملك مولى بني أمية قال: سمعت أبا هريرة يقول: تكون فتنة لا ينجي منها إلا دعاء كدعاء (الغرق) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابوہریرہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ایک ایسا فتنہ برپا ہوگا جس سے کوئی چیز نجات نہ دیگی سوائے ڈوبنے والے کی دعا کی طرح دعا سے۔
حدیث نمبر: 40552
٤٠٥٥٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) حماد عن الجريري عن ابن (المشاء) (٢) عن أبي أمامة قال: لا تقوم الساعة حتى يتحول (شرار) (٣) أهل الشام إلى العراق، وخيار أهل (العراق إلى الشام) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابو امامہ سے منقول ہے کہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ اہل شام کے شریر عراق میں منتقل نہ ہوجائیں اور عراق کے بھلے لوگ شام نہ چلے جائیں۔
حدیث نمبر: 40553
٤٠٥٥٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن سماك عن أبي الربيع عن أبي هريرة قال: ويل للعرب من شر قد اقترب: (إمارة) (١) الصبيان، إن أطاعوهم أدخلوهم النار، ⦗٤٦٥⦘ وإن عصوهم ضربوا أعناقهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابوہریرہ سے منقول ہے فرماتے ہیں کہ ہلاکت ہو عرب کے لیے اس شر سے جو قریب آگیا یعنی بچوں کی امارۃ اگر لوگ ان کی اطاعت کریں تو انہیں جہنم میں داخل کردیں گے اور اگر انکی نافرمانی کریں گے تو ان کی گرد نیں ماریں گے۔
حدیث نمبر: 40554
٤٠٥٥٤ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: (حدثنا) (١) (عوف) (٢) عن محمد قال: كنا نتحدث (أنه تكون) (٣) ردة شديدة حتى (يرجع ناس) (٤) من العرب يعبدون الأصنام (بذي الخلصة) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے منقول ہے کہ ہم باتیں کرتے تھے کہ عرب میں سخت ارتداد برپا ہوگا یہاں تک کہ عربوں میں سے بعض لوگ ذی الخلصہ میں بتوں کو پوجنا شروع کردیں گے۔
حدیث نمبر: 40555
٤٠٥٥٥ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى عن فطر عن أبي إسحاق قال: حدثني من دخل على ابن ملجم السجن وقد اسود كأنه جذع محترق.
مولانا محمد اویس سرور
ابو اسحاق سے منقول ہے کہتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بتایا جو ابن ملجم کے پاس جایا کرتا تھا قید خانے میں کہ وہ جلے ہوئے تنے کی طرح سیاہ ہوچکا تھا۔
حدیث نمبر: 40556
٤٠٥٥٦ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: (حدثنا) (١) (عوف) (٢) عن محمد عن أبي الجلد قال: (تكون) (٣) (فتنة) (٤) بعدها فتنة، (الأولى) (٥) في الآخرة كثمرة السوط يتبعها ذباب السيف، ثم تكون بعد ذلك فتنة (تستحل) (٦) فيها المحارم كلها، ثم تأتي الخلافةُ خيرَ أهل الأرض وهو قاعد في بيته هنيا.
مولانا محمد اویس سرور
ابوجلد سے منقول ہے کہ ایک کے بعد دوسرا فتنہ برپا ہوگا۔ پہلا دوسرے کے لیے ایسے ہوگا جے سی کوڑے کے نیچے حصے کے پیچھے تلوار کی دھار آئی پھر اس کے بعد ایسا فتنہ برپا ہوگا جس میں تمام حرام چیزوں کو حلال سمجھا جائے گا۔ پھر اہل زمین پر سب سے بھلے آدمی کی خلافت قائم ہوگی پھر مزے کے ساتھ وہ گھر میں بیٹھے گا۔
حدیث نمبر: 40557
٤٠٥٥٧ - حدثنا الحسن بن موسى قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن أبي محمد عن عاصم بن (عمرو) (٢) البجلي (أن أبا أمامة) (٣) قال: لينادين باسم رجل من السماء لا ينكره الذليل ولا يمتنع (منه) (٤) العزيز (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابو امامہ سے منقول ہے کہ ایک آدمی کا نام آسمان سے پکارا جائے گا، ذلیل آدمی اس کا انکار نہیں کرے گا اور غالب و طاقتور اس سے منع نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 40558
٤٠٥٥٨ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: حدثنا سليمان التيمي عن أبي عثمان النهدي أن حذيفة بن اليمان قال: بينما قوم يتحدثون إذ تمر بهم إبل قد عطلت، فيقولون: يا إبل! أين أهلك؟ (فتقول) (١): أهلنا حشروا ضحى (٢). تم كتاب الفتن (بحمد) (٣) اللَّه (وعونه) (٤) يتلوه إن شاء اللَّه كتاب الجمل
مولانا محمد اویس سرور
ابو عثمان نہد ی سے منقول ہے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان نے فرمایا کہ اس دوران جب لوگ باتیں کر رہے ہوں گے تو ایک گمشدہ اونٹ ان کے پاس سے گزرے گا وہ لوگ پوچھیں گے کہ اے اونٹ تمہارے مالک کہاں ہیں ؟ تو وہ جواب دے گا میرے اہل کو چاشت کے وقت جمع کیا گیا ہے۔