کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
حدیث نمبر: 40488
٤٠٤٨٨ - قال: وفي حديث أبي سعيد: فدخل عليه رجل فقال: بيني وبينك كتاب اللَّه، فخرج وتركه، ودخل عليه رجل يقال له: الموت الأسود، فخنقه وخنقه ثم خرج، قال: واللَّه ما رأيت شيئا قط هو ألين من (حلقه) (١)، واللَّه لقد خنقته حتى رأيت نفسه مثل نفس الجان تردد في جسده. ثم دخل عليه آخر، فقال: بيني وبينك كتاب اللَّه والمصحف بين يديه، فأهوى إليه بالسيف (فاتقاه) (٢) بيده فقطعها فلا أدري أبانها، أو قطعها فلم يبنها، ⦗٤٢٩⦘ فقال: أما واللَّه إنها لأول كف (٣) (خطت) (٤) الفصل.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40488
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40488، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 40489
٤٠٤٨٩ - (وحدثت) (١) في غير حديث أبي سعيد: فدخل عليه (التجيبي) (٢) (فأشعره) (٣) بمشقص، (فانتضح) (٤) الدم على هذه الآية ﴿فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ (السَّمِيعُ) (٥) الْعَلِيمُ﴾ [البقرة: ١٣٧] وإنها في المصحف (ما حكت) (٦) (٧).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40489
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40489، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 40490
٤٠٤٩٠ - ١٧. وأخذت بنت (القرافصة) (١) في حديث أبي سعيد - (حليها) (٢) فوضعته في (حجرها) (٣)، وذلك قبل أن يقتل، فلما أشعر أو قتل تجافت -أو تفاجت- عليه، فقال بعضهم: قاتلها اللَّه، ما أعظم (عجيزتها) (٤) فعرفت أن أعداء اللَّه لم يريدوا إلا (الدنيا) (٥).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40490
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40490، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 40491
٤٠٤٩١ - قال: وحدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا أبو (محصن) (١) أخو حماد بن نمير رجل من أهل واسط، قال: حدثنا حصين بن عبد الرحمن قال: حدثني (جهم) (٢) من بني فهر، قال: (أنا) (٣) شاهد هذا الأمر، قال: جاء سعد وعمار فأرسلوا إلى عثمان أن (ائتنا) (٤)، فإنا نريد أن نذكر لك أشياء أحدثتها أو أشياء فعلتها، قال: فأرسل إليهم أن انصرفوا اليوم، فإني مشتغل وميعادكم يوم كذا وكذا حتى (أشزن) (٥)، قال أبو (محصن) (٦): (أشزن) (٧) أستعد لخصومتكم. قال: فانصرف سعد وأبى عمارُ أن ينصرف -قالها أبو محصن مرتين- قال: فتناوله رسول عثمان فضربه. قال: فلما اجتمعوا للميعاد، ومن معهم قال لهم عثمان: (ما) (٨) تنقمون مني؟ قالوا: (ننقم) (٩) عليك ضربك عمارا، قال: قال عثمان: جاء سعد وعمار فأرسلت إليهما، فانصرف سعد وأبى عمار أن ينصرف، فتناوله (رسولي) (١٠) من غير أمري، فواللَّه ما أمرت ولا رضيت، (فهذه) (١١) يدي لعمار (فليصطبر) (١٢) ⦗٤٣١⦘ قال: أبو (محصن) (١٣): يعني (يقتص؟) (١٤). قالوا: ننقم عليك أنك جعلت الحروف حرفا واحدا، قال: جاءني حذيفة فقال: ما كنت (صانعًا) (١٥) إذا قيل: قراءة فلان وقراءة فلان (وقراءة فلان) (١٦)، كما اختلف أهل (الكتاب) (١٧) فإن يك صوابا فمن اللَّه، وإن يك خطأ فمن حذيفة. قالوا: (ننقم) (١٨) عليك أنك حميت الحمى، قال: جاءتني قريش فقالت: إنه ليس من العرب قوم إلا لهم حمى يرعون فيه (غيرنا) (١٩)، ((ففعلت) (٢٠) ذلك) (٢١) لهم؛ فإن رضيتم فأقروا، وإن كرهتم فغيروا، أو قال: لا تقروا -شك أبو (محصن) (٢٢). قالوا: و (ننقم) (٢٣) عليك أنك استعملت السفهاء أقاربك، (قال) (٢٤): فليقم أهل كل مصر (يسألوني) (٢٥) صاحبهم الذي يحبونه فاستعمله عليهم وأعزل عنهم الذي يكرهون، قال: فقال أهل البصرة: رضينا بعبد اللَّه بن عامر، فأقره علينا، ⦗٤٣٢⦘ وقال أهل الكوفة: أعزل (سعيدا) (٢٦)، وقال الوليد: شك أبو (محصن) (٢٧): واستعمل علينا أبا موسى ففعل، قال: وقال أهل الشام: قد رضينا بمعاوية فأقره علينا، وقال أهل مصر: أعزل عنا ابن أبي سرح واستعمل علينا عمرو بن العاص، ففعل، (قال) (٢٨): فما جاءوا بشيء إلا خرج منه. قال: فانصرفوا راضين، فبينما بعضهم في بعض الطريق إذ مر بهم راكب فاتهموه ففتشوه، فأصابوا معه كتابا في (إدواة) (٢٩) إلى عاملهم أن (خذ) (٣٠) فلانا وفلانا فاضرب أعناقهم، قال: فرجعوا فبدءوا بعلي (٣١) (فجاء) (٣٢) معهم إلى عثمان، فقالوا: هذا كتابك وهذا خاتمك، فقال عثمان: واللَّه ما كتبت، ولا علمت، ولا أمرت، قال: (فمن) (٣٣) تظن؟ -قال: أبو (محصن) (٣٤) (تتهم) (٣٥) - قال: أظن كاتبي غدر وأظنك (به) (٣٦) يا علي، قال: فقال له علي: ولم تظنني بذاك؟ قال: لأنك مطاع عند (القوم) (٣٧)، قال: ثم لم تردهم عني. ⦗٤٣٣⦘ قال: (فأبى) (٣٨) القوم وألحوا عليه حتى حصروه، قال: فأشرف عليهم وقال: بم تستحلون دمي؟ فواللَّه ما حل دم امرئ مسلم إلا بإحدى ثلاث: مرتد عن الإسلام أو ثيب زان أو قاتل نفس، فواللَّه ما (عملت) (٣٩) شيئًا منهن منذ أسلمت، قال: فألح القوم عليه. قال: وناشد عثمان الناس أن لا تراق فيه (محجمة) (٤٠) من دم، فلقد رأيت ابن الزبير يخرج عليهم في كتيبة حتى يهزمهم، لو شاءوا أن يقتلوا منهم لقتلوا، قال: ورأيت سعيد بن الأسود (بن) (٤١) البختري وإنه ليضرب رجلا بعرض السيف لو شاء أن (يقتله) (٤٢) لقتله، ولكن عثمان عزم على الناس فأمسكوا. قال: فدخل عليه أبو عمرو بن بديل الخزاعي (٤٣) (و) (٤٤) التجيبي، قال. فطعنه أحدهما بمشقص في أوداجه وعلاه الآخر بالسيف فقتلوه، ثم انطلقوا (هرابًا) (٤٥) يسيرون بالليل ويكمنون بالنهار حتى أتوا بلدا بين مصر والشام، قال: (فكمنوا) (٤٦) في غار. قال: فجاء نبطي من تلك البلاد معه حمار، قال: فدخل (ذباب) (٤٧) في منخر الحمار، قال: فنفر حتى دخل عليهم الغار، وطلبه صاحبه فرآهم: ⦗٤٣٤⦘ فانطلق إلى عامل معاوية، (قال) (٤٨): فأخبره بهم، قال: فأخذهم معاوية فضرب أعناقهم (٤٩).
مولانا محمد اویس سرور
جہم فہری سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں نے اس معاملہ کو ازخود مشاہدہ کیا کہ سعد اور عمارہ نے حضرت عثمان کو پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے پاس آئیں ہم آپ کو ایسی چیزوں کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں جو آپ نے نئی نکالی ہیں۔ حضرت عثمان نے پیغام بھیجا کہ آپ آج چلے جائیں آج میں مصروف ہوں فلاں دن تم سے ملاقات کے لیے مقرر ہے تا کہ میں خصومت کے لیے تیار ہوجاؤں ابو محصن کہتے ہیں کہ اشزن کا معنی ہے میں تمہارے ساتھ خصومت کے لیے تیار ہوجاؤں۔ سعد تو واپس چلے گئے عمار نے واپس جانے سے انکار کردیا ابو محصن نے یہ دودفعہ فرمایا۔ تو حضرت عثمان کے قاصد نے ان کو پکڑ کر مارا۔ پس مقررہ دن جب وہ سب جمع ہوئے تو حضرت عثمان نے ان سے کہا تم کس چیز پر مجھ سے ناراض ہو ؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ نے جو عمارکو مارا ہے اس پر ہم ناراض ہیں حضرت عثمان نے فرمایا کہ سعد اور عمار آئے تھے میں نے ان کو پیغام بھیجا کہ وہ چلے جائیں سعد تو چلے گئے مگر عمار نے انکار کیا تو میرے قاصد نے میرے حکم کے بغیر اس کو مارا اللہ کی قسم نہ تو میں نے اس کا حکم دیا تھا اور نہ ہی میں اس پر راضی تھا۔ پھر بھی میں حاضر ہوں ! عمار اپنا بدلہ لے لیں ابو محصن لیصطبر کا مطلب قصاص لینا بتلاتے ہیں۔ پھر وہ کہنے لگے ہم آپ سے ناراض ہیں کہ آپ نے مختلف حروف کو (قراء توں) ایک ہی حرف بنادیا حضرت عثمان نے فرمایا میرے پاس حذیفہ رضی اللہ عنہائے تھے پس انہوں نے کہا کہ آپ اس وقت کیا کرسکیں گے جب کہا جائے گا فلاں کی قراءت ، فلاں کی قراءت اور فلاں کی قراءت جیسے اہل کتاب نے اپنی کتابوں میں اختلاف کیا ؟ پس اگر یہ عمل ( ایک قراءت پر عربوں کو جمع کرنا) درست ہے تو یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہے تو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہم آپ سے اس بات پر بھی ناراض ہیں کہ آپ نے چراگاہیں مقرر کردیں ہیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا میرے پاس قریش آئے تھے اور کہا تھا کہ عرب کی ہر قوم کے پاس چراگاہ موجود ہے سوائے ہمارے تو میں نے ان کے لیے چراگاہ مقرر کردی اگر تم راضی ہو تو اسے برقرار رکھو اور اگر تمہیں ناگواری ہوتی ہے تو اسے بدل دو یا یہ فرمایا کہ تم مقرر نہ کرو ابو محصن کو اس میں شک ہوا ہے۔ پھر کہنے لگے کہ ہم آپ سے اس وجہ سے ناراض ہیں کہ آپ نے ہمارے اوپر اپنے اقرباء ناسمجھ لوگوں کو مسلط کردیا ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا ہر شہر والے کھڑے ہوں اور مجھے بتائیں جسے وہ پسند کرتے ہیں میں اس کو گورنر بنا دونگا اور جس کو ناپسند کرتے ہیں اس کو معزول کر دونگا۔ پس اہل بصرہ نے کہا ہم عبداللہ بن عامر سے راضی ہیں انہی کو برقرار رکھیے۔ پھر کوفہ والوں نے کہا سعید کو معزول کردیا جائے (ولید کہتے ہیں کہ ابو محصن کو شک ہوا ہے) اور ابو موسیٰ کو ہم پر گورنر بنایا جائے۔ پس حضرت عثمان نے ایسا ہی کیا۔ اہل شام نے کہا ہم حضرت معاویہ سے راضی ہیں ہم پر انہیں ہی برقرار رکھیے۔ اور اہل مصر نے کہا ابن ابو سرح کو معزول کرکے عمرو بن عاص کو گورنر بنایا جائے۔ حضرت عثمان نے ایسا کردیا۔ انہوں نے جس جس شئے کا تقاضہ کیا اسے انہوں نے حاصل کرلیا اور بخوشی واپس لوٹ گئے۔ ابھی وہ راستے میں تھے کہ ان کے پاس سے ایک سوار گزرا پس ان کو اس پر شک ہواتو انہوں نے اس سے تحقیق کی تو اس کے پاس سے چمڑے کے برتن سے ایک خط برآمد ہوا جو ان کے عامل کے نام تھا۔ اس کا مضمون تھا کہ تم فلاں فلاں کی گردن ماردو۔ پس وہ لوٹے اور علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے پھر ان کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان کے پاس گئے پھر انہوں نے حضرت عثمان سے کہا یہ رہا آپ کا خط اور یہ رہی آپ کی مہر۔ حضرت عثمان نے فرمایا اللہ کی قسم نہ میں نے خط لکھا اور نہ میں اس کے بارے کچھ جانتا ہوں اور نہ ہی میں نے اس کا حکم دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر آپ کے خیال میں کون ہوسکتا ہے لکھنے والا ابو محصن کہتے ہیں یا کہا پھر آپ کس پر تہمت لگائیں گے ؟ حضرت عثمان نے فرمایا میرا خیال ہے میرے کاتب نے دھوکہ دہی سے کام لیا ہے، اور مجھے اے علی رضی اللہ عنہاپ پر بھی شک ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگ آپ کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر آپ نے ان کو مجھ سے پھیر کیوں نہیں دیا۔ ان لوگوں نے آپ کا اعتبار نہ کیا اور اپنی ضد پر اڑے رہے یہاں تک کہ حضرت عثمان کا محاصرہ کرلیا۔ پھر حضرت عثمان ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم میرے خون کو حلال سمجھتے ہو ؟ اللہ کی قسم مسلمان کا خون حلال نہیں مگر تین وجہ سے ایک یہ کہ وہ مرتد ہوجائے، دوسرا شادی شدہ زانی اور تیسرا کسی کو قتل کرنے والا۔ اللہ کی قسم میں نہیں سمجھتا کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں ان میں سے کسی کا ارتکاب کیا ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ لوگ اپنی ضد پر ڈٹے رہے۔ پھر حضرت عثمان نے لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ خونریزی نہ کریں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابن زبیر کو دیکھا کہ وہ ایک لشکر میں نکلے تا کہ ان باغیوں کو مغلوب کریں اگر وہ چاہتے کہ باغیوں کو قت
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40491
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40491، ترقيم محمد عوامة 38846)
حدیث نمبر: 40492
٤٠٤٩٢ - حدثنا عبد اللَّه بن بكر قال: حدثنا حاتم بن أبي (صغيرة) (١) عن عمرو ابن دينار قال: لما ذكروا من شأن عثمان الذي ذكروا أقبل عبد الرحمن بن عوف في نفر من أصحابه حتى دخلوا على عبد اللَّه بن عمر (فقالوا) (٢): يا أبا عبد الرحمن ألا ترى ما قد أحدث هذا الرجل؟ فقال: بخ، بخ، فما تأمروني؟ تريدون أن تكونوا مثل الروم و (فارس) (٣) إذا غضبوا على ملك قتلوه، قد ولاه اللَّه الذي ولاه فهو أعلم لست بقائل في شأنه شيئًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن دینار سے منقول ہے کہتے ہیں جب حضرت عثمان کے بارے میں تذکرہ ہوا جس طرح تذکرے لوگ کرتے ہیں تو عبدالرحمن اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ تشریف لائے اور حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس آئے۔ پس لوگوں نے کہا اے عبدالرحمن کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اس آدمی (حضرت عثمان ) نے کتنی چیزیں پیدا کردیں ؟ حضرت عبدالرحمن نے فرمایا واہ بھئی واہ تم مجھے کس بات کا حکم دے رہے ہو ؟ کیا تم چاہتے ہو تم روم اور فارس والوں کی طرح ہوجاؤ کہ جب وہ اپنے بادشاہ سے ناراض ہوتے تو اسے قتل کردیتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ امارت سونپی ہے کہ وہی زیادہ بہتر جاننے والا ہے میں ان کی شان میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40492
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40492، ترقيم محمد عوامة 38847)
حدیث نمبر: 40493
٤٠٤٩٣ - حدثنا أسود بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن بشر بن (شغاف) (١) قال: سألني عبد اللَّه بن سلام عن الخوارج فقلت: (هم) (٢) أطول الناس صلاة (وأكثرهم صومًا) (٣) غير أنهم إذا خلفوا (الجسر) (٤) اهراقوا ⦗٤٣٥⦘ الدماء وأخذوا الأموال، قال: لا (تسأل) (٥) عنهم (إلا ذا) (٦)، (أما) (٧) إني قد قلت لهم: لا تقتلوا عثمان، دعوه، فواللَّه لئن تركتموه إحدى عشرة ليموتن على (فراشه موتا) (٨) فلم يفعلوا، وإنه لم يقتل نبي إلا قتل به سبعون ألفا (من الناس) (٩) ولم يقتل خليفة إلا قتل به خمسة وثلاثون ألفًا (١٠).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40493
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40493، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 40494
٤٠٤٩٤ - حدثنا علي بن حفص قال: حدثنا محمد بن طلحة عن عاصم بن كليب الجَرْمي عن أبي قلابة قال: جاء الحسن بن علي إلى عثمان (فقال) (١): أخترط سيفي، (قال) (٢): (لا، أبرأ إلى اللَّه) (٣) إذن من دمك، ولكن (شِمْ) (٤) سيفك وارجع إلى أبيك (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابو قلابہ سے منقول ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں اپنی تلوار سونت لوں ؟ (میں باغیوں سے لڑائی کے لیے تیار ہوں) حضرت عثمان نے فرمایا، تب میں اللہ کے سامنے تمہارے خون سے بری ہوں۔ تم اپنی تلوار وہیں (نیام میں) رکھو اور اپنے گھر چلے جاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40494
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40494، ترقيم محمد عوامة 38849)
حدیث نمبر: 40495
٤٠٤٩٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الأعمش قال: دخلنا على (ابن) (١) أبي (الهذيل) (٢) فقال: قتلوا عثمان ثم أتوني، (٣) فقلنا له: أتريبك نفسك.
مولانا محمد اویس سرور
اعمش سے منقول ہے کہ ہم ابن ابو ہذیل کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ انہوں نے حضرت عثمان کو شہید کردیاوہ پھر میرے پس آئے ہم نے کہا تم کو شک تو نہیں ہوا کہیں ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40495
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40495، ترقيم محمد عوامة 38850)
حدیث نمبر: 40496
٤٠٤٩٦ - حدثنا غندر وأبو أسامة (قالا) (١): (أخبرنا) (٢) شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبيه قال: سمعته (٣) يقول: هاتان رجلاي، فإن كان في كتاب اللَّه أن تجعلوهما في القيود فاجعلوهما في القيود (٤).
مولانا محمد اویس سرور
سور بن ابراہیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ میرے دو پاؤں ہیں اگر کلام اللہ اس بات کی اجازت دیتا کہ ان کو قید میں ڈال دو تو میرے دونوں پاؤں میں بیڑیاں ڈال دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40496
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (٧٩٧)، وابنه عبد اللَّه في زوائد المسند ١/ ٧٢ (٥٢٤)، والخلال في السنة (٤٢٤)، وابن سعد ٣/ ٦٩، وابن شبه (٢٠٨٢)، وأبو نعيم في الإمامة (١٢٤)، وابن عساكر ٣٩/ ٣٤٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40496، ترقيم محمد عوامة 38851)
حدیث نمبر: 40497
٤٠٤٩٧ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن محمد قال: قال حذيفة حين قتل عثمان: اللهم إن كانت العرب أصابت بقتلها عثمان خيرا أو رشدا أو رضوانا فإني بريء منه، وليس لي فيه نصيب، وإن كانت العرب أخطأت بقتلها عثمان فقد علمت براءتي، قال: اعتبروا قولي (ما) (١) أقول لكم، واللَّه إن كانت العرب أصابت بقتلها عثمان (لتحتلبن) (٢) به (لبنا) (٣)، [ولئن كانت العرب أخطأت بقتلها عثمان (لتحتلبن) (٤) به دما] (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے منقول ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان کے قتل کے وقت فرمایا کہ اے اللہ اگر اہل عرب نے حضرت عثمان کو شہید کر کے اچھا کیا یعنی خیرو ہدایت اور تیری رضا کی خاطر، تو میں اس سے بری ہوں اور میرا اس میں کچھ حصہ نہیں اور اگر اہل عرب نے ان کو شہید کرکے غلطی کی تو میری براءت کے بارے میں تو جانتا ہی ہے۔ پھر فرمایا میری اس بات سے عبرت حاصل کرو جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اللہ کی قسم اگر اہل عرب نے ان کے قتل میں بھلائی کی تو عنقریب وہ اس کا نفع دیکھ لیں گے اور اگر انہوں نے اس میں غلطی کی تو اس کا خونی نقصان بھی دیکھ لیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40497
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (٨٠١)، وابن سعد ٣/ ٨٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40497، ترقيم محمد عوامة 38852)
حدیث نمبر: 40498
٤٠٤٩٨ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن حميد بن هلال قال: قال أبو ذر لعثمان: لو أمرتني (أن) (١) أتعلق بعروة قتب، لتعلقت (بها) (٢) أبدا ⦗٤٣٧⦘ حتى (أموت) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حمیدبن ہلال سے منقول ہے کہ ابو ذر نے حضرت عثمان سے عرض کیا کہ اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں کجاوے کے حلقے کے ساتھ اپنے آپ کو معلق کرلوں اور پھر اسی سے بندھا رہوں یہاں تک کہ مجھے موت آجائے (یعنی میں آپ کی ہر طرح اطاعت کے لیے تیار ہوں)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40498
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40498، ترقيم محمد عوامة 38853)
حدیث نمبر: 40499
٤٠٤٩٩ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن أبيه عن أبي يعلى عن ابن الحنفية قال: قال علي: لو سيرني عثمان إلى صرار (لسمعت) (١) له وأطعت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابن حنفیہ سے منقول ہے کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اگر حضرت عثمان مجھے اس گروہ (بلوائیوں) کی طرف جانے کا حکم دیتے تو میں ان کے اس حکم کو سنتا اور اطاعت کرتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40499
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن شبه (٢٠٩١)، ونعيم (٢٠٨)، والخلال (٤١٦)، وابن عساكر ٣٩/ ٣٦١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40499، ترقيم محمد عوامة 38854)
حدیث نمبر: 40500
٤٠٥٠٠ - قال: وحدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن ميمون بن مهران عن عبد اللَّه بن سيدان عن أبي ذر قال: لو أمرني عثمان أن أمشي على رأسي لمشيت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر نے فرمایا کہ اگر حضرت عثمان مجھے حکم دیتے کہ میں سر کے بل چلوں تو میں ضرور چلتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40500
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40500، ترقيم محمد عوامة 38855)
حدیث نمبر: 40501
٤٠٥٠١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن أبي إسحاق عن عبيد بن عمرو (الخارفي) (١) قال: كنت أحدَ النفر (الذين) (٢) قدموا فنزلوا بذي المروة، (فأرسلونا) (٣) إلى نفر من أصحاب محمد ﷺ (٤) وأزواجه نسالهم: أنقدم أو نرجع؟ وقيل لنا؟ اجعلوا عليا آخر من (تسألون) (٥)، قال: فسألناهم فكلهم أمر بالقدوم فأتينا عليا فسألناه فقال: سألتم أحدا قبلي؟ قلنا: نعم، قال: فما أمروكم ⦗٤٣٨⦘ به؟ (قلنا) (٦): أمرونا بالقدوم، قال: لكني لا آمركم، (أما لا) (٧) بيض (فليفرخ) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
عبید بن عمرو خارفی سے منقول ہے کہ جو لوگ مدینہ آئے تھے ان میں سے میں بھی ایک تھا پس یہ قافلہ ذی مروہ میں ٹھہرا۔ قافلے والوں نے ہمیں اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی ازواج مطہرات g کے پاس بھیجا کہ ہم ان سے یہ سوال کریں کہ ہم مدینہ آجائیں یا لوٹ جائیں اور ہم کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ سب سے آخر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کرنا ہے۔ پس ہم نے ان سے بات کی اور سوال کیا آنے یا واپس لوٹنے کے بارے میں۔ انہوں نے آنے کا مشورہ دیا پھر ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ کر ان سے سوال کیا تو انہوں نے پوچھا کیا تم لوگوں نے مجھ سے پہلے بھی کسی سے یہ سوال کیا تو ہم نے کہا جی ہاں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا انہوں نے کیا حکم دیا ہے ؟ ہم نے کہا آنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن میں تمہیں یہ حکم نہیں دیتا یہ معاملہ ایسا ہے کہ اسکا انجام جلد ظاہر ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40501
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40501، ترقيم محمد عوامة 38856)
حدیث نمبر: 40502
٤٠٥٠٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن العوام قال: حدثني رجل من أصحاب (الآجر) (١) (عن) (٢) شيخين من بني ثعلبة رجل وامرأته قالا: قدمنا الربذة فمررنا برجل أبيض الرأس واللحية أشعث، فقيل له: هذا من (أصحاب) (٣) رسول اللَّه ﷺ (٤)، وقد فعل بك هذا الرجل وفعل، فهل أنت ناصب لنا راية (فنأتيك) (٥) برجال ما شئت، فقال: يا أهل الإسلام! لا ترضوا علي أذاكم، لا تذلوا السلطان، فإنه من أذل السلطان أذله اللَّه، واللَّه (أن) (٦) لو صلبني عثمان على أطول (حبل) (٧) أو أطول خشبة لسمعت وأطعت وصبرت واحتسبت ورأيت أن ذلك خير لي، ولو ⦗٤٣٩⦘ (سيرني) (٨) ما بين الأفق إلى الأفق، أو (ما) (٩) بين المشرق إلى المغرب، لسمعت وأطعت وصبرت واحتسبت ورأيت أن ذلك خير لي (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
آجر کے ساتھیوں میں سے ایک ساتھی سے منقول ہے وہ بنی ثعلبہ کے دو بوڑھوں سے روایت کرتا ہے یعنی ایک مرددوسری عورت دونوں کہتے ہیں کہ ہم ربذہ مقام کے پاس سے گزرے وہاں ہم نے ایک سفید داڑھی اور سفید سر والے پراگندہ حال شخص کو دیکھا پس کہا گیا کہ یہ صحابی رسول ہیں (ایک وفد آیا اس نے حضرت ابو ذر کی حالت بہتر دیکھ کر کہا) یہ سلوک اس شخص نے کیا ہے ؟ کیا آپ ہمارے لیے جھنڈا نصب کریں گے تا کہ آپ کے پاس لوگ آپ کی مدد کے لیے آئیں اگر آپ چاہیں تو انہوں نے کہا کہ اے لوگو ! اپنی اذیت کو میرے اوپر پیش نہ کرو اور نہ امرا کو رسوا کرو کیونکہ جو امیر کو رسوا کرے گا اللہ اسے بھی ذلیل کرے گا۔ اللہ کی قسم اگر حضرت عثمان مجھے سب سے اونچے پہاڑ یا لکڑی پر سولی چڑھانا چاہیں تو میں ان کے اس حکم کی بھی اطاعت کروں گا اور اس پر صبر کروں گا اور اللہ سے اجر کی امید رکھوں گا اور اس کو اپنے لیے باعث خیر جانوں گا۔ اگر وہ مجھے ایک افق سے دوسرے افق تک چلنے کا حکم دیں یا مشرق سے مغرب تک چلنے کا حکم دیں تو ضرور اطاعت کروں گا اور صبر کروں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40502
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40502، ترقيم محمد عوامة 38857)
حدیث نمبر: 40503
٤٠٥٠٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن عاصم قال: سمعت أبا وائل يقول: لما قتل عثمان قال أبو موسى: إن هذه الفتنة فتنة باقرة كداء البطن، لا ندري أنى (تؤتى) (١) تأتيكم (من) (٢) مامنكم وتدع الحليم كأنه ابن أمس، قطعوا أرحامكم وانتصلوا رماحكم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابو وائل کہتے ہیں کہ جب عثمان کو شہید کیا گیا تو ابو موسیٰ نے فرمایا کہ بیشک یہ فتنہ پیٹ پھاڑنے والا ہے، پیٹ کی بیماری کی طرح ہم نہیں جانتے کہ یہ کہاں سے آیا ہے۔ تمہارے پاس یہ تمہارے امن کی جگہ سے آیا ہے۔ بردبار انسان کو گزشتہ کل کے بچے کی طرح بناڈالے گا تم قطع رحمی کرو گے اور ایک دوسرے پر نیزوں کے وار کرو گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40503
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عاصم في أبي وائل، وأخرجه نعيم (١٢٢)، وابن قتيبة في غريب الحديث ٢/ ٦٩، وابن عساكر ٣٢/ ٩١، وأبو بكر الشافعي في الغيلانيات (٨٧٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40503، ترقيم محمد عوامة 38858)
حدیث نمبر: 40504
٤٠٥٠٤ - حدثنا وكيع عن (فطر) (١) عن زيد بن علي قال: كان زيد بن ثابت ممن بكى على عثمان يوم الدار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
زید بن علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ زید بن ثابت ان لوگوں میں سے تھے جو حضرت عثمان پر روئے تھے ان کے محاصرے کے دن۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40504
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40504، ترقيم محمد عوامة 38859)
حدیث نمبر: 40505
٤٠٥٠٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) أبو (عبيدة) (٢) الناجي عن الحسن قال: أتت الأنصار عثمان فقالوا: يا أمير المؤمنين! (ننصر) (٣) اللَّه مرتين، ⦗٤٤٠⦘ نصرنا رسول اللَّه ﷺ (٤) (وننصرك) (٥) قال: لا حاجة (لي) (٦) في (ذلك) (٧) ارجعوا (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ انصار حضرت عثمان کی خدمت حاضر ہوئے اور عرض کیا اے امیر المؤمنین ہم نے اللہ کی دو (اللہ کے راستے میں دو دفع اڑے) دفعہ مدد کی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بھی مدد کی ہم آپ کی بھی مدد کریں گے تو انہوں نے کہا اس کی ضرورت نہیں تم لوٹ جاؤ۔ حسن فرماتے تھے اللہ کی قسم اگر انصار اپنے کمزوروں کے ذریعے بھی ان کو روکنے کا ارادہ کرتے تو آسانی سے ان کو (باغیوں) کو روک دیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40505
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا، أبو عبيدة الناجي منكر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40505، ترقيم محمد عوامة 38860)
حدیث نمبر: 40506
٤٠٥٠٦ - (١) قال الحسن: واللَّه لو أرادوا أن يمنعوه بأرديتهم لمنعوه (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40506
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40506، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 40507
٤٠٥٠٧ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن أبي صالح قال: قال عبد اللَّه بن سلام لما حصر عثمان في الدار (١): لا تقتلوه فإنه لم (يبق) (٢) من أجله إلا (قليل) (٣) واللَّه لئن قتلتموه لا (تصلوا) (٤) جميعا أبدًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابو صالح سے منقول ہے کہ جب حضرت عثمان کا محاصرہ کیا گیا تو حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا تم حضرت عثمان کو قتل نہ کرو کیونکہ ان کی زندگی بہت کم باقی ہے اللہ کی قسم اگر تم نے ان کو قتل کردیا تو پھر کبھی سب مل کر اکٹھے نماز ادا نہ کرسکو گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40507
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ سمع أبو صالح من عبد اللَّه بن سلام كما عند نعيم، أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (٧٦٩)، ونعيم في الفتن (٤٣٧)، والحلال في السنة (٤٣٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40507، ترقيم محمد عوامة 38861)
حدیث نمبر: 40508
٤٠٥٠٨ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) (قال: (حدثني) (٢) العلاء بن المنهال) (٣) قال: حدثني محمد بن سوقة قال: (حدثني) (٤) منذر الثوري قال: كنا عند محمد بن ⦗٤٤١⦘ الحنفية، قال: (فنال) (٥) بعض القوم من عثمان فقال: مه، (فقلنا) (٦) له: كان أبوك يسب عثمان، (قال) (٧): ما (سبه) (٨)، ولو سبه يومًا (لسبه) (٩) يوم جئته وجاءه (السعاة) (١٠)، فقال: (خذ) (١١) كتاب (١٢) (السعاة) (١٣) فاذهب به إلى عثمان، فأخذته فذهبت به إليه، فقال: لا حاجة لنا (فيه) (١٤)، فجئت إليه فأخبرته فقال: ضعه موضعه، فلو سبه يوما لسبه ذلك اليوم (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
منذر ثوری فرماتے ہیں کہ ہم محمد ابن حنفیہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے حضرت عثمان کو برا بھلا کہا تو محمد بن حنفیہ نے فرمایا ٹھہر جاؤ، تو ہم نے کہا آپ کے والد ماجد (حضرت علی رضی اللہ عنہ ) تو ان کو برا بھلا کہا کرتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے کبھی حضرت عثمان کو برا بھلا نہیں کہا۔ اگر وہ برا بھلا کہتے تو اس دن کہتے جس دن میں ان کے پاس آیا اس حال میں کہ ان کے پاس صدقات وصول کرنے والے آئے ہوئے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا سب سے بہتر کتاب اللہ ہے اس کو لے جاؤ اور حضرت عثمان کو دے دو ۔ پس اسے لیکر حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوا مگر انہوں نے کہا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں پس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں واپس ہوا اور ان کو حضرت عثمان کے قول کے بارے میں بتایا پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کو اس کی جگہ پر رکھ دو ۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہان کو طعن وتشنیع کرتے تو اس دن کرتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40508
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه بنحوه البخاري (٣١١١)، وأحمد ١/ ١٤١ (١١٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40508، ترقيم محمد عوامة 38862)
حدیث نمبر: 40509
٤٠٥٠٩ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: (حدثني) (٢) العلاء بن المنهال قال: حدثني فلان قال: سمعت الزهري بالرصافة يقول: (واللَّه) (٣) لقد (نصح) (٤) عليٌّ و (صحح) (٥) في عثمان، لولا أنهم أصابوا الكتاب (لرجعوا) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
زہری نے رصافہ مقام میں فرمایا اللہ کی قسم حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان کے بارے خیر خواہی کی اور اطاعت اختیار کی۔ اگر ان کو (باغیوں کو) خط کا علم نہ ہوتا تو وہ مدینہ کی طرف واپس نہ لوٹتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40509
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40509، ترقيم محمد عوامة 38863)
حدیث نمبر: 40510
٤٠٥١٠ - حدثنا يحيى بن آدم قال: (حدثنا) (١) أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن إبراهيم عن علقمة قال: قلت للأشتر: لقد كنت كارها ليوم الدار (فكيف رجعت عن رأيك؟ فقال: أجل، واللَّه إن كنت لكارهًا ليوم الدار) (٢)، ولكن جئت بأم حبيبة بنت أبي سفيان لأدخلها الدار، وأردت أن أخرج عثمان في هودج، فأبوا أن يدعوني وقالوا: ما لنا ولك يا أشتر، (ولكني) (٣) رأيت طلحة والزبير والقوم بايعوا عليا طائعين غير مكرهين، ثم نكثوا عليه، قلت: (فابن) (٤) الزبير (القائل) (٥): اقتلوني ومالكا؟ قال: لا، واللَّه، ولا رفعت السيف عن (ابن) (٦) الزبير وأنا أرى أن (فيه) (٧) شيئا من الروح، لأني كنت عليه (بحنق) (٨)؛ لأنه استخف أم المؤمنين حتى أخرجها، فلما لقيته ما رضيت له بقوة ساعدي حتى قمت في الركابين قائما فضربته على رأسه، فرأيت أني (قد) (٩) قتلته، ولكن القائل اقتلوني ومالكا: عبد الرحمن بن عتاب بن أسيد لما لقيته (اعتنقته) (١٠) فوقعت أنا وهو عن فرسينا، فجعل (ينادي) (١١): اقتلوني ومالكا، والناس يمرون لا يدرون من يعني، و (لو) (١٢) يقل: ⦗٤٤٣⦘ الأشتر (١٣)، (لقتلت) (١٤) (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
علقمہ سے منقول ہے کہتے ہیں میں نے مشتہر سے کہا آپ تو یوم دار (حضرت کے گھر کے محاصرے کا دن) کو ناپسند کرتے تھے پھر آپ نے کیسے اپنی رائے سے رجوع کیا ؟ تو اس نے کہا اللہ کی قسم میں یوم دار کو ناپسند کرتا تھا اور میں ام حبیبہ بنت ابو سفیان کو لایا تا کہ میں ان کو حضرت عثمان کے گھر لے جاؤں اور حضرت عثمان کو ھودج میں نکال لوں۔ مگر انہوں نے مجھے اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ ہمارا اشتر سے کیا واسطہ۔ لیکن میں نے طلحہ زبیر اور کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بغیر کسی اکراہ کے بیعت کی اور پھر اس بیعت کو توڑ ڈالا۔ علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ ابن زبیر یہ کہنے والے تھے کہ ” مجھے اور مالک کو قتل کردو “ تو اس نے جواب دیا نہیں اللہ کی قسم میں نے ابن زبیر سے تلوار نہیں ہٹائی تھی اس حال میں کہ اندر روح کو دیکھ رہا تھا (یعنی زندگی کی رمق دیکھتا رہا) کیونکہ مجھے ان پر غصہ تھا اس بات پر کہ انہوں نے ام المومنین کو وقعت نہ دی تھی یہاں تک کہ میں ام المومنین کو واپس لے گیا۔ پس جب میرا ان سے لڑائی میں سامنا ہوا تو میں نے اپنے بازؤں کی قوت پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ میں نے دونوں رکابوں میں کھڑے ہو کر قوت کے ساتھ ان کے سر میں تلوار ماری پس میں نے اس کو قتل ہوتے ہوئے دیکھ لیا۔ لیکن (مجھے اور مالک کو قتل کردو) کہنے والے، عبدالرحمن بن عتاب سے جب ملاقات ہوئی تو میں نے اس پر تلوار زنی کی حتی کہ میں اور وہ اپنے گھوڑوں سے گرگئے پس اس نے پکارنا شروع کیا کہ مجھے اور مالک کو قتل کردو اور لوگ گزر رہے تھے مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ مالک سے اس کی مراد کیا ہے کیونکہ اس نے اشتر نہیں کہا تھا اگر وہ اشتر کہتا تو قتل کردیا جاتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40510
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن شبه (٢٣٨٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40510، ترقيم محمد عوامة 38864)
حدیث نمبر: 40511
٤٠٥١١ - حدثنا أبو أسامة عن ابن أبي عروبة عن قتادة قال: أخذ علي بيد الأشتر ثم انطلق (به) (١) حتى أتى طلحة، فقال: (يا طلحة) (٢) إن هؤلاء -يعني أهل مصر- يسمعون منك ويطيعونك، فانههم عن قتل عثمان، فقال: (ما أستطيع) (٣) دفع دم أراد اللَّه إهراقه؛ فأخذ علي بيد الأشتر، ثم انصرف وهو يقول: (بئس) (٤) ما ظنَّ ابن الحضرمية أن يقتل ابن عمي ويغلبني على ملكي، (بئس) (٥) ما (رأى) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
قتادہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اشتر کا ہاتھ تھاما اور چل دیے یہاں تک کہ طلحہ کے پاس آئے پھر فرمایا یہ لوگ یعنی اہل مصر آپ کی بات سنتے ہیں اور آپ کی اطاعت کرتے ہیں پس ان کو حضرت عثمان کے قتل سے منع کریں انہوں نے جواب دیا جس خون کو اللہ نے بہانے کا ارادہ کرلیا ہے میں اسے نہیں روک سکتا۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اشتر کا ہاتھ پکڑا اور واپس آگئے یہ کہتے ہوئے کہ ابن حضر میہ کا یہ گمان کتنا بڑا ہے کہ میرے چچا کے بیٹے کو قتل کیا جائے اس حال میں کہ وہ میرے ملک میں مجھ پر غالب آ رہا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40511
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40511، ترقيم محمد عوامة 38865)
حدیث نمبر: 40512
٤٠٥١٢ - حدثنا أسور بن عامر قال: حدثنا جرير بن حازم عن ابن سيرين قال: ما علمت أن عليا اتهم في قتل عثمان حتى بويع (فلما بويع) (١) اتهمه الناس.
مولانا محمد اویس سرور
ابن سیرین سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر حضرت عثمان کے قتل کا بہتان لگایا گیا ہو یہاں تک کہ ان سے بیعت کی گئی پھر لوگوں نے ان پر قتل کی تہمت لگائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40512
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40512، ترقيم محمد عوامة 38866)
حدیث نمبر: 40513
٤٠٥١٣ - حدثنا أبو المورع قال: (أخبرنا) (١) العلاء بن عبد الكريم عن ⦗٤٤٤⦘ (عميرة) (٢) بن سعد قال: لما قدم طلحة والزبيرومن معهم قال: قام رجل في مجمع من الناس فقال: (أنا) (٣) فلان بن فلان، أحد بني (جشم) (٤)، فقال: إن هؤلاء الذين قدموا عليكم، إن كان إنما بهم الخوف فجاؤوا من حيث يأمن الطير، وإن كان إنما بهم قتل عثمان فهم قتلوه، وإن الرأي فيهم أن (تنخس) (٥) بهم دوابهم حتى يخرجوا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
عمیرہ بن سعد سے منقول ہے کہ جب طلحہ زبیر اور ان کے ساتھی آئے تو ایک شخص مجمع کے درمیان سے اٹھا اور کہا میں فلاں بن فلاں قبیلہ بنی جشم سے ہوں۔ پھر کہا یہ لوگ (طلحہ زبیر اور ان کے ساتھی) تمہارے پاس آئے ہیں۔ اگر یہ کسی خوف کی وجہ سے آئے ہیں تو پھر ایسی جگہ سے آئے ہیں جہاں پرندے کو بھی امن حاصل ہے (یعنی مکہ میں) اور اگر حضرت عثمان کے قتل کی وجہ سے آئے ہیں تو ان کے پاس ہی ان کو قتل کیا گیا ہے ان کے بارے میں رائے یہ ہے کہ ان کے جانوروں کو آنکڑے ماریں جائیں تا کہ یہ یہاں سے نکل جائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40513
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عميرة بن سعد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40513، ترقيم محمد عوامة 38867)
حدیث نمبر: 40514
٤٠٥١٤ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) معتمر بن سليمان قال: سمعت أبي يقول: حدثنا أبو عثمان أن عثمان قتل في أوسط أيام التشريق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابو عثمان سے منقول ہے کہ حضرت عثمان کو ایام تشریق کے وسط میں شہید کیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40514
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد ١/ ٧٤ (٥٤٦)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٢٧)، والطبراني (١٠٠)، وابن سعد ٣/ ٧٩، وابن عساكر ٣٩/ ٥١٣، وخليفة بن خياط في التاريخ ١/ ١٧٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40514، ترقيم محمد عوامة 38868)
حدیث نمبر: 40515
٤٠٥١٥ - حدثنا الفضل بن دكين قال: (حدثنا) (١) سعيد بن عبد الرحمن قال: (حدثنا) (٢) محمد بن سيرين قال: لما قتل عثمان قال عدي بن حاتم: لا (تنتطح) (٣) فيها (عنزان) (٤) فلما كان يوم صفين فقئت عينه فقيل: لا (تنتطح) (٥) في قتل عثمان ⦗٤٤٥⦘ (عنزان) (٦)، قال: بلى، وتفقأ فيه عيون كثيرة (٧).
مولانا محمد اویس سرور
ابن سیرین سے منقول ہے کہتے ہیں جب حضرت عثمان کو شہید کہا گیا تو عدی بن حاتم نے فرمایا کہ اس معاملے میں دورائے نہیں۔ پس جب جنگ صفین کے دن ان کی آنکھ ضائع ہوئی تو کہا گیا حضرت عثمان کے قت میں دورائے نہیں تھی۔ حضرت عدی بن حاتم نے فرمایا کیوں نہیں اس میں بھی بہت سی آنکھیں ضائع ہوئی تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40515
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ سعيد بن عبد الرحمن هو أخو أبي حرة ثقة، أخرجه الطبراني ١٧/ (١٣٩)، ويعقوب في المعرفة ٢/ ٤٢٩، وابن عساكر ٤٠/ ٩٢، وانظر: البداية والنهاية ٧/ ٢٧٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40515، ترقيم محمد عوامة 38869)
حدیث نمبر: 40516
٤٠٥١٦ - حدثنا أبو أسامة قال: (حدثنا) (١) عبد اللَّه بن الوليد عن موسى بن عبد اللَّه بن يزيد عن أبي (ظبيان) (٢) الأزدي قال: قال عمر: مالك يا أبا (ظبيان) (٣) قال: قلت: أنا في ألفين وخمسمائة، قال: فاتخذ (شاءً) (٤) فإنه يوشك أن (تجيء) (٥) أغيلمة من قريش يمنعون هذا العطاء (٦).
مولانا محمد اویس سرور
ابو ظبیان ازدی سے منقول ہے کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا اے ابو ظبیان تمہارا کتنا مال ہے ؟ تو میں نے کہا پچیس سو درہم حضرت عمر نے فرمایا اس کثرت مال کو پکڑ لو کیونکہ عنقریب قریش کے لڑکے آئیں گے اور ان عطا یا سے منع کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40516
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40516، ترقيم محمد عوامة 38870)
حدیث نمبر: 40517
٤٠٥١٧ - حدثنا أبو أسامة قال: (حدثنا) (١) عبد اللَّه بن الوليد قال: سمعت محمد بن عبد الرحمن بن أبي (ذئب) (٢) يقول: قال أبو هريرة: واللَّه لو تعلمون ما أعلم (لضحكتم كثيرا ولبكيتم قليلًا) (٣)، ولو تعلمون ما أعلم لضحكتم (قليلا) (٤) (ولبكيتم كثيرا) (٥)، واللَّه ليقعن (القتل والموت) (٦) في هذا الحي من ⦗٤٤٦⦘ قريش حتى يأتي (الرجل) (٧) (الكِبَا) (٨) -قال أبو أسامة: يعني الكناسة- فيجد بها النعل (فيقولا) (٩): (كأنها) (١٠) (نعل) (١١) قرشي (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم جو میں جانتا ہوں اگر تم جان لیتے تو ہنستے زیادہ روتے کم اور اگر تم وہ سب جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم روتے زیادہ۔ اللہ کی قسم قریش کے اس قبیلے میں ایک قتل واقع ہوگا پھر ایک آدمی گندگی کے ڈھیر پر آئے گا اسے وہاں سے ایک جو تاملے گا لوگ کہیں گے یہ قریشی کا جوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40517
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40517، ترقيم محمد عوامة 38871)
حدیث نمبر: 40518
٤٠٥١٨ - حدثنا أبو بكر قال: (١) (حدثنا) (٢) محمد بن بشر قال: (حدثنا) (٣) إسماعيل بن أبي خالد عن (مجالد) (٤) عن (٥) الشعبي عن عامر بن شهر قال: سمعت من النبي ﷺ كلمة، ومن النجاشي كلمة، سمعت النبي ﷺ يقول: "انظروا قريشا فاسمعوا من قولهم وذروا (٦) فعلهم"، قال: وكنت عند النجاشي إذ جاء ابن له من الكتاب فقرأ آية من الإنجيل (ففهمها) (٧) فضحكت، فقال: مم تضحك؟ (٨) من كتاب اللَّه؟ أما واللَّه (إنها لفي كتاب) (٩) اللَّه الذي أنزل على عيسى أن اللعنة ⦗٤٤٧⦘ تكون في الأرض إذا كان أمراؤ (ها) (١٠) الصبيان (١١).
مولانا محمد اویس سرور
عامر بن شہر سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک بات سنی اور نجاشی سے بھی ایک بات سنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اہل قریش کو دیکھو اور ان کی باتوں کو سنو اور ان کے افعال کو چھوڑو۔ کہتے ہیں کہ میں نجاشی کے پاس تھا کہ اس کا ایک بیٹا کتاب لے کر آیا اور اس نے انجیل کی ایک آیت پڑھی پھر اس کو سمجھایا میں ہنسا۔ نجاشی نے کہاتم کتاب اللہ کی وجہ سے ہنستے ہو ؟ سنو اللہ کی قسم بیشک اس کتاب میں جو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ پر اتاری ہے لکھا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت اس زمین پر اس وقت ہوگی جب اس پر امراء بچے ہونگے (نو عمر لڑکے ہونگے)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40518
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه أحمد (١٥٥٣٦)، وابن حبان (٤٥٨٥)، وابن سعد ٦/ ١٧، وأبو داود (٤٧٣٦)، وأبو يعلى (٦٨٦٤)، والطحاوي في شرح المشكل (٣١٣١)، وابن أبي عاصم في السنة (١٥٤٣)، وأبو نعيم في أخبار أصبهان ١/ ١٤٠، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ١٢٦، وابن عدي ٣/ ١٠٣٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40518، ترقيم محمد عوامة 38872)
حدیث نمبر: 40519
٤٠٥١٩ - حدثنا الفضل بن دكين قال: (حدثنا) (١) سفيان عن حبيب بن أبي ثابت (٢) عن القاسم بن الحارث عن عبد اللَّه بن عتبة عن ابن مسعود (قال) (٣): قال النبي ﷺ لقريش: "إن هذا الأمر فيكم، (و) (٤) أنتم ولاته ما لم تحدثوا عملا ينزعه اللَّه منكم، فإذا فعلتم ذلك سلط اللَّه عليكم شرار خلقه فالتحوكم (٥) كما يلتحى القضيب" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
ابو مسعود سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش سے فرمایا یہ امر خلافت تمہارے اندر ہے اور تم اس کے والی ہو اس وقت تک جب تک تم کوئی ایسا کام نہیں کرتے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کو تم سے چھین لے جب تم نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ تم پر مخلوق کے سب سے شریر لوگوں کو مسلط کرے گا۔ اور وہ تم کو ایسے چھیل ڈالیں گے جیسے شاخ کو چھیل دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40519
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40519، ترقيم محمد عوامة 38873)
حدیث نمبر: 40520
٤٠٥٢٠ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن زياد بن مخراق عن أبي كنانة عن أبي موسى قال: قام النبي ﷺ على باب (١) فيه نفر من قريش، (فقال) (٢): "إن هذا الأمر في قريش ما داموا إذا استرحموا رحموا، وإذا ما حكموا عدلوا، وإذا ما قسموا ⦗٤٤٨⦘ أقسطوا، فمق لم يفعل ذلك منهم فعليه لعنة اللَّه والملائكة والناس (أجمعين) (٣)، لا يقبل منه صرف ولا عدل" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گھر میں دروازے پر کھڑے تھے جس کے اندر قریش کے کچھ لوگ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ امر خلافت قریش کے اندر رہے گا جب تک قریش والے رحم کے طلب گار پر رحم کرتے رہیں گے اور انصاف کے لیے آنے والوں کے ساتھ انصاف کریں گے، اور تقسیم میں عدل سے کام لیں گے۔ ان میں سے جو ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ، فرشتوں اور سارے لوگوں کی لعنت ہوگی۔ اور اس سے نوافل و فرائض قبول نہیں کیے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40520
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40520، ترقيم محمد عوامة 38874)
حدیث نمبر: 40521
٤٠٥٢١ - حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن سليمان بن عمرو بن الأحوص قال: أخبرني رب (هذه) (١) الدار: أبو هلال أنه سمع أبا برزة الأسلمي يحدث أنهم كانوا مع رسول اللَّه ﷺ (٢) فسمعوا (غناء) (٣) (فاستشرفوا له) (٤)، فقام رجل فاستمع؛ وذلك قبل أن (تحرم) (٥) الخمر، فأتاهم ثم رجع، فقال: هذا فلان وفلان، وهما (يتغنيان) (٦) ويجيب أحدهما الآخر وهو يقول: (لا يزال) (٧) حواريَّ تلوح عظامه … (زوى) (٨) الحرب (عنه) (٩) أن يجن فرفع رسول اللَّه ﷺ يديه فقال: " (اللهم) (١٠) أركسهما في الفتنة ركسا، اللهم دُعَّهما إلى النار دعا" (١١).
مولانا محمد اویس سرور
ابو برزہ اسلمی روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی ایک سفر مں م آپ کے ساتھ تھے۔ پس انہوں نے گائے کی آواز سنی اور وہ اس آواز کی طرف متوجہ ہوگئے پس ایک شخص اٹھا اور آواز کی ٹوہ میں لگ گیا یہ حرمت شراب سے پہلے کی بات ہے۔ پس وہ ان کے پاس پہنچا اور واپس لوٹا اور بتایا کہ یہ فلاں اور فلاں ہیں دونوں گانا گا رہے ہیں اور ایک دوسرے کا جواب دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ انصاری کی ہڈیاں پڑی چمکتی رہیں گی اور شدید جنگ اس کو دفن کرنے سے مانع ہوگی کہ اس کی قبر بنائی جاسکے گی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی اے اللہ ! ان دونوں کو کسی فتنے میں مبتلا کردے، اے اللہ ! ان کو آگ میں دھکیل دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40521
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40521، ترقيم محمد عوامة 38875)
حدیث نمبر: 40522
٤٠٥٢٢ - (حدثنا) (١) خالد بن مخلد عن سليمان بن بلال قال: حدثني شريك ابن عبد اللَّه بن أبي نمر عن الأعشى بن عبد الرحمن (بن) (٢) مكمل عن أزهر بن عبد اللَّه قال: أقبل عبادة بن الصامت حاجا من الشام فقدم المدينة، فأتى عثمان بن عفان فقال: يا عثمان ألا أخبرك شيئا سمعته من رسول اللَّه ﷺ؟ قال: بلى، (قلت) (٣): فإني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: " (ستكون) (٤) عليكم أمراء (يأمرونكم) (٥) بما تعرفون ويعملون ما تنكرون فليس لأولئك عليكم طاعة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
ازہر بن عبداللہ سے منقول ہے کہ عبادہ بن صامت شام سے حج کرنے کے لیے تشریف لائے پھر مدینہ حاضر ہوئے اور حضرت عثمان کی خدمت میں آئے اور فرمایا اے عثمان ! کیا میں آپ کو ایسی بات کی خبر نہ دوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو تو حضرت عثمان نے فرمایا کیوں نہیں حضر ت عبادہ بن صامت نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب تمہارے اوپر ایسے امراء آئیں گے جو تم کو ایسی باتوں کا حکم دیں گے جن کو تم جانتے ہو اور گورنر ایسے بنائیں گے جن کو تم نہیں جانتے (یعنی جیں ج تم نہیں سمجھتے ہو) ہوگے۔ پس ایسے امراء کی اطاعت تم پر واجب نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40522
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40522، ترقيم محمد عوامة 38876)
حدیث نمبر: 40523
٤٠٥٢٣ - [حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: (حدثنا) (١) إسماعيل بن أبي خالد عن إسماعيل الأودي قال: أخبرتني بنت معقل بن يسار أن أباها (ثقل) (٢)، فبلغ ذلك (ابن) (٣) (زياد) (٤) فجاء يعوده فجلس فعرف فيه الموت فقال له: يا معقل ألا تحدثنا، فقد كان اللَّه ينفعنا بأشياء (نسمعها) (٥) منك، فقال: إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "ليس من وال يلي (أمة) (٦)، قلت: أو كثرت لم يعدل فيهم إلا ⦗٤٥٠⦘ (كبه) (٧) اللَّه (لوجهه) (٨) في النار"، فأطرق الآخر ساعة فقال: شيء سمعته من رسول اللَّه ﷺ (٩) أو من وراء وراء؟ قال: لا، بل شيء سمعته من رسول اللَّه ﷺ (١٠)، (سمعت رسول اللَّه ﷺ) (١١) يقول: "من استرعى رعية فلم يحطهم بنصيحة لم يجد ريح الجنة، وريحها يوجد من مسيرة مائة عام"، (فقال) (١٢) ابن زياد: ألا كنت حدثتني بهذا قبل الآن؟ قال: والآن لولا ما أنا عليه لم أحدثك به] (١٣) (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
بنت معقل بن یسار سے روایت ہے کہ ان کے والد محتر م کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوئی تو یہ خبر ابن زیاد کو پہنچی پس ابن زیاد عیادت کے لیے حاضر خدمت ہوا پس ان کے قریب بیٹھا اور ان کے چہرے پر موت کے اثرات دیکھے پھر کہنے لگا اے معقل ! کیا آپ حدیث بیان نہیں کریں گے تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان احادیث سے جو آپ سے سنی ہیں بہت نفع پہنچایا ہے۔ پس حضرت معقل بن یسار نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ” کہ کوئی والی حکومت نہیں جس کی رعیت میں میری کم یا زیادہ امت ہو اور وہ اس کے ساتھ انصاف نہ کرے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو منہ کے بل آگ میں پھینکے گا۔ وہ ایک گھڑی کے لیے مبہوت ہوگئے۔ پھر ابن زیاد بولا یہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے یا ان کے بعد آنے والوں سے سنا ہے معقل نے فرمایا نہیں بلکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے۔ پھر فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بھی سنا ہے ” کہ جس شخص کو رعایا کی باگ دوڑ دی جائے اور اس کے ساتھ بھلائی نہ کرے تو جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا جبکہ جنت کی خوشبو سو سال کے فاصلے سے آتی ہے۔ ابن زیاد نے کہا آپ نے یہ حدیث اس سے پہلے نہیں سنائی ؟ حضرت معقل نے فرمایا اگر میں مرض الوفات میں نہ ہوتا تو آپ کو اب بھی یہ حدیث نہ سناتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40523
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40523، ترقيم محمد عوامة 38877)
حدیث نمبر: 40524
٤٠٥٢٤ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس أن رجلا كان يمشي مع حذيفة نحو الفرات فقال: كيف أنتم إذا (أخرجتم) (١) لا (تذوقون) (٢) منه قطرة؟ (قال) (٣): قلنا: (أتظن) (٤) (ذلك؟) (٥) قال: ما أظنه ولكن أستيقنه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
قیس سے منقول ہے کہ ایک شخص حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ فرات کی طرف جا رہا تھا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا حال ہوگا ؟ جب تم نکلو گے اور تم اس دریا سے ایک قطرہ نہ چکھ سکو گے قیس کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا ! کیا یہ آپ کا گمان ہے ؟ حضرت عثمان نے فرمایا میرا گمان نہیں بلکہ مجھے اس کا یقین ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40524
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم ٤/ ٥٤٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40524، ترقيم محمد عوامة 38878)
حدیث نمبر: 40525
٤٠٥٢٥ - حدثنا عبد الأعلى عن الجريري عن أبي العلاء قال: قالوا (لمطرف) (١): هذا عبد الرحمن بن الأشعث قد أقبل، فقال مطرف: واللَّه لئن (٢) يرى بين أمرين: لئن ظهر لا يقوم للَّه دين، ولئن ظهر عليه لا يزالون أذلة إلى يوم القيامة.
مولانا محمد اویس سرور
ابو العلاء سے منقول ہے لوگوں نے مطرف سے کہا یہ عبدالرحمن بن الاشعث آئے ہیں انہوں نے دو کاموں میں قدم رکھا ہے اگر یہ غالب آگئے تو اللہ کا دین قائم نہ ہوگا اور اگر یہ مغلوب ہوگئے تو تم قیامت تک ذلیل ہوتے رہو گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40525
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40525، ترقيم محمد عوامة 38879)
حدیث نمبر: 40526
٤٠٥٢٦ - [حدثنا وكيع (١) قال: (حدثنا) (٢) الأعمش عن سالم عن أبي الدرداء قال: لو أن رجلا همه الإسلام وعرفه، ثم تفقده لم يعرف منه شيئًا] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابو درداء سے منقول ہے اگر کسی شخص کو اسلام نے متفکر کیا پھر اس نے بھی اسلام کو پہچان لیا اور اسلام کا دامن چھوڑ دیا تو گویا کہ اس نے اسلام کے بارے میں کچھ نہ جانا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40526
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40526، ترقيم محمد عوامة 38880)
حدیث نمبر: 40527
٤٠٥٢٧ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) الأعمش عن شيخ قال: قال عمر: من أراد الحق فلينزل بالبراز -يعني يظهر أمره (٢).
مولانا محمد اویس سرور
اعمش اپنے شیخ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا جو حق چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ کھلے میدان میں اترے یعنی اپنے معاملے کا اظہار کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40527
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40527، ترقيم محمد عوامة 38881)