حدیث نمبر: 40448
٤٠٤٤٨ - قال: وحدثنا أبو بكر قال: حدثنا (ابن) (١) علية عن ابن عون عن الحسن قال: أنبأني وثاب وكان فيمن أدركه عتق أمير المؤمنين عمر، فكان يكون بين يدي عثمان، قال: فرأيت (في) (٢) حلقه طعنتين كأنهما كيتان طعنهما يوم الدار (دار) (٣) عثمان، قال: بعثني أمير المؤمنين عثمان فقال: ادع الأشتر، فجاء -قال ابن عون: أظنه قال: فطرحت لأمير المؤمنين وسادة، (وله وسادة) (٤) فقال: يا أشتر، ما (يريد) (٥) الناس مني؟ قال: ثلاث ليس من إحداهن بد، يخيرونك (بين) (٦) أن تخلع لهم أمرهم، فتقول: هذا أمركم، فاختاروا له من شئتم، وبين أن (تقص) (٧) من نفسك، فإن أبيت ⦗٤٠٥⦘ هاتين فإن القوم قاتلوك، قال: ما من إحداهن بد؟ قال: ما من إحداهن بد، فقال: [أما أن أخلع لهم أمرهم فما كنت لأخلع لهم سربالا سربلنيه اللَّه أبدا (٨). - قال ابن عون: وقال غير الحسن: لأن أقدم فتضرب عنقي أحب إلي من أن أخلع أمة محمد بعضها على بعض (٩)، (و) (١٠) قال ابن عون: وهذه أشبه بكلامه. - (وأما) (١١) أن (أقص) (١٢) لهم من نفسي، فواللَّه لقد علمت أن صاحبي بين يدي كانا (يقصان) (١٣) من أنفسهما وما (يقوم) (١٤) بدني بالقصاص، وإما (أن) (١٥) (يقتلوني) (١٦) فواللَّه لئن قتلوني لا (يتحابون) (١٧) بعدي أبدا، ولا يقاتلون بعدي جميعا عدوا أبدا؛ فقام الأشتر فانطلق، فمكثنا فقلنا: لعل الناس؛ ثم جاء (رويجل) (١٨) كأنه (ذئب) (١٩)، فاطلع من الباب ثم رجع، ثم جاء محمد بن أبي بكر في ثلاثة عشر رجلا حتى انتهى إلى عثمان فأخذ بلحيته فقال (بها) (٢٠) حتى سمعت وقع أضراسه وقال: ما أغنى عنك معاوية، ما أغنى عنك ابن عامر، ما أغنت عنك ⦗٤٠٦⦘ كتبك، فقال: أرسل (لي) (٢١) لحيتي يا ابن أخي، أرسل لي لحيتي يا ابن أخي، قال: فأنا رأيته استعدى رجلا من القوم بعينه فقام إليه بمشقص حتى وجأ به في رأسه فأثبته ثم مر، قال: ثم دخلوا عليه -واللَّه- حتى قتلوه (٢٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وثاب سے روایت ہے جن کو امیر المؤمنین عمر نے آزاد کیا تھا وہ حضرت عثمان کے سامنے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عثمان کے حلق میں دو نیزے دیکھے جیسا کہ دو داغنے کی جگہ میں داغنے کے آلے ہوتے ہیں جو حضرت عثمان کو ان کے گھر میں مارے گئے وہ کہتے ہیں (راوی وثاب) کہ مجھے امیرامؤمنین حضرت عثمان نے بھیجا کہ میرے لیے اشتر کو بلا کر لاؤ پس وہ آیا اور حضرت عثمان اور اس أشتر کے لیے ایک تکیہ رکھا گیا حضرت عثمان نے پوچھا اے أشتر لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں اس نے کہا کہ تین باتوں میں سے کسی کے (اختیار کیے بغیر چارہ) نہیں ایک وہ آپ کو اختیار دیتے ہیں اس بات میں کہ آپ ان کے لیے خلافت کے امر کو چھوڑ دیں اور ان سے کہہ دیں کہ یہ تمہارا امر خلافت ہے اس کے لیے جس کو چاہتے ہو چن لو اور اس کے درمیان کہ آپ اپنی ذات کو قصاص کے لیے پیش کردیں پس اگر آپ ان دونوں باتوں سے انکار کرتے ہیں تو بلاشبہ یہ لوگ آپ سے قتال کریں گے حضرت عثمان نے فرمایا کہ کیا ان میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے بغیر چارہ نہیں ہے تو اس نے کہا کہ ان میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے پس حضرت عثمان نے فرمایا کہ باقی رہی یہ بات کہ میں ان کے لیے ان کے امر خلافت سے الگ ہوجاؤں تو کبھی اس قمیص کو نہیں اتاروں گا جسے اللہ رب العزت نے مجھے ہمیشہ کے لیے پہنایا ہے ابن عون راوی کہتے ہیں کہ حسن کے علاوہ دوسرے راویوں نے یوں نقل کیا ہے کہ یوں فرمایا کہ میں آگے بڑھوں اور میری گردن ماردی جائے یہ مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک دوسرے سے لڑائی کرتا ہوا چھوڑ دوں۔ ابن عون کہتے ہیں کہ یہ ان کے کلام کے زیادہ قریب ہے۔ اور باقی رہی یہ بات کہ میں اپنی ذات کو ان کے سامنے قصاص کے لیے پیش کروں تو یقینا میں جانتا ہوں کہ مر سے دو ساتھی میرے سامنے اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش کرتے تھے اور میرا بدن قصاص کے قابل نہیں اور اگر وہ مجھے قتل کردیں تو اللہ کی قسم اگر انہوں نے مجھے قتل کردیا تو میرے بعد کبھی بھی وہ آپس میں محبت نہیں کریں گے اور میرے بعد وہ اکٹھے کبھی بھی کسی دشمن سے قتال نہیں کرسکیں گے پس أشتر کھڑا ہوا اور چلا گیا ہم تھوڑی دیر ٹھہرے ہم نے کہا شاید کہ لوگ ہیں پھر رو یحل آیا گویا کہ وہ بھیڑیا ہے اس نے درازے سے جھانکا پھر لوٹ گیا پھر محمد بن ابی بکر آئے تیرہ آدمیوں میں یہاں تک کہ حضرت عثمان تک پہنچے اور ان کی داڑھی کو پکڑا اور اسے کھینچا یہاں تک کہ میں نے ان کی داڑھیں گرنے کی آواز سنی اور کہا نہیں فائدہ پہنچایا تمہیں معاویہ نے اور نہیں فائدہ پہنچایا تمہیں ابن عامر نے اور نہ فائدہ دیا تمہیں تمہارے لشکر نے انہوں نے فرمایا کہ میری داڑھی چھوڑ دے اے بھتیجے میری داڑھی چھوڑ دے اے بھتیجے راوی نے فرمایا کہ محمد بن ابوبکر کی طرف انہوں نے دیکھا کہ اپنے مدد کرنے والے لوگوں میں سے ایک آدمی سے مدد طلب کر رہے تھے وہ آدمی ان کی طرف نیزہ کا پھل لے کر کھڑا ہوا یہاں تک کہ اسے ان کے سر میں مار دیا پس اسے ٹھہرا دیا فرمایا پھر کیا ہوا فرمایا پھر وہ داخل ہوئے اور اللہ کی قسم انہوں نے ان کو شہید کردیا۔
حدیث نمبر: 40449
٤٠٤٤٩ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثنا معاوية بن صالح قال: وحدثني ربيعة بن يزيد الدمشقي قال: حدثنا عبد اللَّه بن قيس أنه سمع النعمان بن بشير عن عائشة أنها قالت: ألا أحدثك بحديث سمعته من رسول اللَّه ﷺ: إنه بعث إلى عثمان فدعاه فأقبل إليه فسمعته يقول: "يا عثمان! إن اللَّه لعله يقمصك قميصا، فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعه" -ثلاثًا، فقلت: يا أم المؤمنين! أين كنت عن هذا الحديث قالت: أنسيته كأني لم أسمعه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان کو بلانے کے لیے (کسی کو) بھیجا وہ آئے تو میں نے رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا اے عثمان ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائیں گے اگر لوگ تجھ سے وہ قمیص اتارنے کا ارادہ کریں تو اسے نہ اتارنا یہ تین مرتبہ فرمایا نعمان بن بشیر فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین آپ نے اب تک یہ حدیث بیان نہیں کی انہوں نے فرمایا مجھے یہ بھول چکی تھی گویا کہ میں نے سنی نہیں تھی۔
حدیث نمبر: 40450
٤٠٤٥٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا جرير بن حازم قال: أخبرنا يعلى بن حكيم عن نافع قال: حدثنا عبد اللَّه بن (عمر) (١) قال: قال لي عثمان وهو محصور في الدار: ما تقول فيما أشار به (عليَّ) (٢) المغيرة بن (الأخنس؟) (٣) قال: قلت: وما أشار به عليك؟ قال: إن هؤلاء القوم يريدون خلعي، فإن خلعت تركوني، وإن لم ⦗٤٠٧⦘ أخلع قتلوني، قال: قلت: أرأيت إن خُلعتَ أتراك مخلدا في الدنيا؟ قال: لا، قلت: فهل يملكون الجنة والنار؟ قال: لا، قلت: أرأيت إن لم تخلع أيزيدون على قتلك؟ قال: لا، قلت: أرأيت (تسن) (٤) هذه السنة في الإسلام كلما سخط قوم على أمير خلعوه، ولا (تخلع) (٥) قميصا (قمصكه) (٦) اللَّه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان نے مجھ سے ارشاد فرمایا جبکہ وہ گھر کے اندر محصور تھے تم اس بارے میں کیا کہتے ہو جو مغیرہ بن الاخنس نے بتلایا ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میں نے عرض کیا اس نے آپ کو کیا بتلایا ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ لوگ مجھے خلافت سے معزول کرنا چاہتے ہیں اگر میں اس خلافت سے جدا ہوجاؤں تو وہ مجھے چھوڑیں گے اور اگر میں اس سے جدا نہ ہوں تو وہ مجھے قتل کردیں گے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے کہا آپ مجھے بتلائیں اگر آپ جدا ہوجائیں گے تو آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ دنیا میں ہمشہ رہیں گے آپ نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا۔ کیا جنت اور جہنم کے مالک ہیں انہوں نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا آپ مجھے بتلائیں اگر آپ خلافت سے جدا نہ ہوں تو یہ آپ کے قتل سے زیادہ کرسکتے ہیں انہوں نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا آپ مجھے بتلائیں کہ آپ اسلام میں یہ طریقہ جاری کردیں گے کہ جب بھی لوگ امیر سے ناراض ہوں تو اسے (خلافت سے) جدا کردیں جو قمیص اللہ نے آپ کو پہنائی ہے وہ نہ اتاریں۔
حدیث نمبر: 40451
٤٠٤٥١ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس قال: حدثني أبو سهلة أن عثمان قال يوم الدار: إن رسول اللَّه ﷺ عهد إلي عهدًا فأنا صابر عليه، قال (قيس) (١): فكانوا يرون أنه (ذاك) (٢) اليوم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سہلہ سے روایت ہے حضرت عثمان نے گھر (کے محاصرے) کے دن فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نصیحت کی تھی میں اس پر جمنے والا ہوں راوی نے فرمایا وہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ وہی دن ہے۔
حدیث نمبر: 40452
٤٠٤٥٢ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الملك بن أبي سليمان قال: سمعت أبا ليلى الكندي يقول: رأيت عثمان اطلع على الناس وهو محصور فقال: أيها الناس! لا تقتلوني واستعتبوني، فواللَّه لئن قتلتموني لا تقاتلون جميعا أبدا، ولا تجاهدون عدوا أبدًا، (و) (١) لتختلفن حتى تصيروا هكذا -وشبك بين أصابعه-: ﴿وَيَاقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ وَمَا قَوْمُ ⦗٤٠٨⦘ لُوطٍ مِنْكُمْ بِبَعِيدٍ﴾ [هود: ٨٩]، قال: وأرسل إلى عبد اللَّه بن سلام فسأله (فقال) (٢): الكف الكف، فإنه أبلغ لك في الحجة فدخلوا عليه فقتلوه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو لیلی کندی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان کو میں نے دیکھا کہ محاصرے کے وقت انہوں نے لوگوں کی طرف جھانکا اور فرمایا اے لوگو ! مجھے قتل مت کرو اور مجھے راضی کرو اللہ کی قسم اگر تم نے مجھے قتل کردیاتو تم کبھی بھی اکھٹے قتال نہ کرسکو گے اور کبھی بھی دشمن سے جہاد نہ کرسکو گے اور تمہارے درمیان پھوٹ پڑجائے گی یہاں تک کہ تم اس طرح ہوجاؤ گے اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا اور آیت تلاوت کی ترجمہ اور اے میری قوم ! میرے ساتھ ضد کا جو معاملہ تم کررہے ہو وہ کہیں تمہیں اس انجام تک نہ پہنچا دے کہ تم پر بھی ویسی مصیبت نازل ہو جیسی نوح کی قوم یا ہود کی قوم پر یا صالح کی قوم پر نازل ہوچکی ہے اور لوط کی قوم تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے راوی نے فرمایا کہ حضر ت عثمان نے حضرت عبداللہ بن سلام کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے پوچھا انہوں نے فرمایا ٹھہریں ٹھہریں بلاشبہ میں آپ کی دلیل تک زیادہ پہنچنے والا ہوں پس وہ لوگ حضرت عثمان کے پاس آئے اور ان کو شہید کردیا۔
حدیث نمبر: 40453
٤٠٤٥٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن ابن عون عن محمد بن سيرين قال: أشرف (عليهم) (١) عثمان من القصر فقال: ائتوني برجل أتاليه كتاب اللَّه، فأتوه بصعصعة ابن صوحان، وكان شابا فقال: ما وجدتم أحدا تأتوني (به) (٢) غير هذا الشاب؟ قال: فتكلم صعصعة (بن صوحان) (٣) بكلام، فقال له عثمان: أتلُ، فقال صعصعة: ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ (يُقَاتَلُونَ) (٤) بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ﴾ [الحج: ٣٩] فقال: ليست لك ولا لأصحابك، ولكنها لي ولأصحابي، ثم تلا عثمان: ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ﴾ حتى بلغ: ﴿(وَلِلَّهِ) (٥) عَاقِبَةُ الْأُمُورِ﴾ [الحج: ٤١] (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ فرمایا حضرت عثمان نے محل سے لوگوں کی طرف جھانکا اور فرمایا میرے پاس ایسا آدمی لاؤ جس کے مقابلے میں اللہ کی کتاب پڑھوں وہ صعصعہ بن صوحان کو لے آئے وہ جوان تھا حضرت عثمان نے فرمایا تم نے اس جوان کے علاوہ کسی اور کو نہ پایا جسے میرے پاس لاتے راوی نے فرمایا کہ صعصہ بن صوحان نے ایک بات کی حضرت عثمان نے اس سے فرمایا پڑھو صعصہ بن صوحان نے { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} آیت پڑھی ترجمہ جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے انہیں اجازت دی جاتی ہے (کہ وہ اپنے دفاع میں لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور یقین رکھو کہ اللہ ان کو فتح دلا نے پر پوری طرح قادر ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا نہ تو یہ تیرے لیے ہے اور نہ تیرے ساتھیوں کے لیے لیکن وہ میرے لیے ہے اور میرے ساتھیوں کے لیے ہے پھر حضرت عثمان نے یہ آیت تلاوت فرمائی { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} یہاں تک کہ { وَلِلَّہِ عَاقِبَۃُ الأُمُورِ } تک تلاوت کی۔
حدیث نمبر: 40454
٤٠٤٥٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش قال: حدثنا أبو صالح قال: قال عبد اللَّه بن سلام: لما حصر عثمان في الدار قال: لا (تقتلوه) (١) فإنه لم يبق من ⦗٤٠٩⦘ (أجله) (٢) إلا قليل، واللَّه لئن قتلتموه لا (تصلوا) (٣) جميعا أبدا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا جبکہ حضرت عثمان کو گھر میں محصور کیا گیا کہ ان کو قتل نہ کرو اس لیے کہ ان کی عمر میں سے تھوڑا حصہ ہی باقی ہے بخدا اگر تم نے ان کو قتل کردیا تو تم اکٹھے نماز نہیں پڑھ سکو گے۔
حدیث نمبر: 40455
٤٠٤٥٥ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن يحيى بن سعيد عن عبد اللَّه بن عامر قال: سمعت عثمان يقول: إن أعظمكم غنى عندي من كف سلاحه ويده (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میرے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ مالدار وہ آدمی ہے جس نے اپنے اسلحہ اور ہاتھ کو روکا۔
حدیث نمبر: 40456
٤٠٤٥٦ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن أبيه عن بن الزبير قال: قلت لعثمان يوم الدار: اخرج فقاتلهم، فإن معك من قد نصر اللَّه بأقل منه، واللَّه (إن) (١) قتالهم لحلال، قال: فأبى، وقال: من كان لي عليه سمع وطاعة فليطع عبد اللَّه بن الزبير، وكان أمره يومئذ (على الدار) (٢)، وكان ذلك اليوم صائما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ میں نے حضرت عثمان سے گھر (کے محاصرے) کے دن عرض کیا آپ نکلیں اور ان سے قتال کریں بلاشبہ آپ کے ساتھ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس سے کم مقدار میں مدد کی بخدا ان سے قتال حلال ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان نے انکار کیا اور فرمایا جس آدمی پر میری بات سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے وہ عبداللہ بن زبیر کی اطاعت کرے اور حضرت عثمان نے ان کو اس دن گھر پر امیر مقرر کیا تھا اور حضرت عثمان اس دن روزہ دار تھے۔
حدیث نمبر: 40457
٤٠٤٥٧ - حدثنا أبو أسامة عن صدقة بن أبي عمران قال: حدثنا أبو اليعفور عن أبي سعيد مولى ابن مسعود قال: قال عبد اللَّه: (واللَّه) (١) لئن قتلوا عثمان لا يصيبوا منه خلفًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے انہوں نے فرمایا بخدا اگر انہوں نے عثمان کو شہید کردیا تو ان کے بعد ان کا اچھا نائب نہ پائیں گے۔
حدیث نمبر: 40458
٤٠٤٥٨ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن ابن سيرين قال: جاء زيد بن ثابت إلى عثمان فقال: هذه الأنصار بالباب، قالوا: إن شئت أن (نكون) (١) أنصارا للَّه ⦗٤١٠⦘ مرتين، قال: أما قتال فلا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ زید بن ثابت حضرت عثمان کے پاس آئے اور عرض کیا یہ انصار دروازے پر ہیں ان انصار نے عرض کیا اگر آپ چاہیں تو ہم اللہ کے (دین کے) مددگار بننے کو ایک بار پھر تیار ہیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا رہا قتال تو وہ نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 40459
٤٠٤٥٩ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن إسماعيل عن قيس عن سعيد بن زيد (قال) (١): لقد رأيتني (موثقي) (٢) عمر و (أخته) (٣) على الإسلام، ولو ارفَضّ أحدٌ مما صنعتم (بعثمان) (٤) كان (حقيقًا) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن زید سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے آپ کو اور عمر کی بہن کو دیکھا کہ عمر اسلام کی وجہ سے دونوں کو باندھنے والے تھے اور اگر پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجاتا اس بات سے جو تم حضرت عثمان کے ساتھ کی تو وہ اس کا حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 40460
٤٠٤٦٠ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سمعت سماك بن حرب قال: سمعت حنظلة بن (قنان) (١) أبا محمد (من) (٢) بني عامر بن ذهل قال: أشرف علينا عثمان من كوة وهو محصور فقال: أفيكم ابنا (مجدوح؟) (٣) فلم يكونا ثم، كانا نائمين، (فأوقظا) (٤) فجاءا، فقال لهما عثمان: أذكركما اللَّه، ألستما (تعلمان) (٥) [أن عمر قال: إنما ربيعة فاجر أو غادر، فإني واللَّه لا أجعل (فرائضهم) (٦) وفرائض قوم جاءوا ⦗٤١١⦘ من مسيرة شهر، فهاجر أحدهم عند (طُنبه) (٧)، ثم زدتهم في غداة واحدة خمسمائة خمسمائة، حتى ألحقتهم بهم؟ قالا: بلى، قال] (٨): أذكركما اللَّه ألستما تعلمان (أنكما) (٩) أتيتماني فقلتما: إن كندة أكلة رأس وإن ربيعة هم الرأس وأن الأشعث ابن قيس قد أكلهم (فنزعته) (١٠) واستعملتكما؟ قالا: بلى، قال: اللهم (اللهم) (١١)، إن (كانوا كفروا) (١٢) معروفي وبدلوا نعمتي فلا (ترضهم) (١٣) عن إمام ولا ترض الإمام عنهم (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنظلہ بن قنان ابو محمد جو بنی عامر بن ذھل سے تھے ان سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ حضرت عثمان نے روشندان سے ہماری طرف جھانکا جبکہ وہ محصور تھے اور فرمایا کیا تم میں محدوج کے دو بیٹے ہں ن وہ وہاں نہ تھے سوئے ہوئے تھے ان کو جگایا گیا وہ دونوں آئے اور ان دونوں سے حضرت عثمان نے کہا میں تم دونوں کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم دونوں جانتے نہیں ہو کہ حضرت عمر نے کہا تھا کہ کہ ربیعہ فاجر ہیں یا فرمایا تھا دھوکے باز ہیں اور میں ایک مہینے کی مسافت سے آنے والی قوم والا عطیہ نہیں کرسکتا ہوں ان کے ہجرت کا مقام تو ان کے خیمے کی رسی کے پاس ہے (یعنی یہ قریب سے ہجرت کرنے والے ہیں) پھر میں نے ایک صبح میں ان کے عطیہ میں پانچ پانچ سو زیادہ کیا یہاں تک کہ میں نے ان کو ان کے ساتھ ملا دیا ان دونوں نے کہا کیوں نہیں (ایسا ہوا) حضرت عثمان نے فرمایا میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم یہ نہیں جانتے کہ تم میرے پاس آئے تھے اور تم دونوں نے کہا تھا کہ کندہ اور ربیعہ ان پر اشعث بن قیس غالب تھا میں نے ان کو ان سے چھڑوایا اور تم دونوں کو ان پر عامل مقرر کیا انہوں نے کہا کیوں نہیں ایسا ہی ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا اے اللہ ! اگر وہ میری نیکی کی ناشکری کریں اور نعمت کو بدل دیں تو اے اللہ تو ان کو کسی امام سے راضی نہ کر اور نہ امام کو ان سے راضی کر۔
حدیث نمبر: 40461
٤٠٤٦١ - حدثنا أبو معاوية عن حجاج الصواف عن حميد بن هلال عن يعلى ابن الوليد عن جندب الخير قال: أتينا حذيفة حين (سار) (١) المصريون إلى عثمان فقلنا: إن هؤلاء قد ساروا إلى هذا الرجل فما تقول؟ قال: يقتلونه -واللَّه-؛ قال: قلنا: (أين) (٢) هو؟ قال: (في) (٣) الجنة واللَّه؛ قال: قلنا: فأين قتلته؟ قال: في النار واللَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
جندب خیر سے منقول ہے کہتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب مصری حضرت عثمان کی طرف جا چکے تھے۔ ہم نے عرض کیا ! یہ لوگ اس شخص (حضرت عثمان ) کی طرف گئے ہیں آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟ انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم یہ ان کو قتل کر ڈالیں گے ہم نے پھر عرض کیا کہ آخرت میں حضرت عثمان کا کیا معاملہ ہوگا تو انہوں نے فرمایا وہ جنت میں جائیں گے اللہ کی قسم۔ پھر ہم نے کہا کہ ان کے قاتل ؟ تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم وہ جہنم میں جائیں گے۔
حدیث نمبر: 40462
٤٠٤٦٢ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا حماد بن زيد عن يزيد بن حميد أبي التياح عن عبد اللَّه بن أبي (الهذيل) (١) قال: لما جاء قتل عثمان قال حذيفة: اليوم نزل الناس حافة الإسلام، فكم من مرحلة قد ارتحلوا عنه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
عبداللہ بن ابی ہذیل سے منقول ہے کہ جب حضرت عثمان کی شہادت کی خبرآئی تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا آج لوگ اسلام کے کنارے پر اتر آئے ۔ پس کتنے مرحلے ہیں جو اس قتل سے انہوں نے عبور کرلیے۔ ابن ابی ہذیل نے فرمایا اللہ کی قسم یہ لوگ راہ اعتدال سے منحرف ہوگئے یہاں تک کہ ان کے اور ان کے درمیان ایسی پیچیدگی ہے کہ نہ تو اس کی ہدایت پاسکیں گے اور نہ ہی یہ اس کو جان پائیں گے۔
حدیث نمبر: 40463
٤٠٤٦٣ - قال: وقال ابن أبي الهذيل: واللَّه لقد جار هؤلاء القوم عن القصد حتى إن بينه وبينهم وعورة ما يهتدون له وما يعرفونه.
حدیث نمبر: 40464
٤٠٤٦٤ - قال: وحدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن أبي وائل شقيق بن سلمة عن خالد العبسي عن حذيفة وذكر عثمان فقال: اللهم (لم) (١) أقتل (ولم آمر ولم أرض) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
خالد عبسی سے منقول ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ! اے میرے اللہ نہ میں نے قتل کیا اور نہ ہی میں نے اس کا حکم دیا اور نہ ہی میں اس سے راضی ہوں۔
حدیث نمبر: 40465
٤٠٤٦٥ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ليث عن عبد العزيز بن رفيع قال: لما سار علي إلى صفين استخلف أبا مسعود على الناس فخطبهم في يوم جمعة فرأى فيهم قلة، فقال: أيها الناس اخرجوا فمن خرج فهو آمن، إنا واللَّه [نعلم أنّ منكم (الكاره لهذا) (١) (الأمر) (٢) و (المتثاقل) (٣) (عنه) (٤) فاخرجوا، فمن خرج فهو آمن، (إنا) (٥) ⦗٤١٣⦘ واللَّه] (٦) ما (نعدها) (٧) عافية أن يلتقي هذان (الغاران) (٨) يتقي أحدهما (صاحبه) (٩) ولكنها نعدها عافية أن يصلح اللَّه أمة محمد (١٠) ويجمع ألفتها، ألا أخبركم عن عثمان وما (نقم) (١١) الناس عليه، إنهم (لن) (١٢) يدعوه وذنبه حتى يكون اللَّه هو يعذبه أو يعفو عنه، ولم يدركوا الذي طلبوه (إذ) (١٣) حسدوه ما آتاه اللَّه (إياه) (١٤). فلما قدم علي قال له: أنت (القائل) (١٥) ما بلغني عنك يا فروج؟ إنك شيخ قد ذهب عقلك، قال: لقد (سمتني) (١٦) أمي باسم هو أحسن من هذا (أذهب) (١٧) عقلي وقد وجبت لي الجنة من اللَّه و (١٨) رسوله (١٩)، (تعلمه) (٢٠) أنت، وما بقي من عقلي فإنا كنا نتحدث: بأن الآخر فالآخر شر ثم خرج. فلما كان بالسيلحين أو بالقادسية خرج عليهم وظفراه يقطران، يرون أنه قد تهيأ للإحرام، فلما وضع رجله في الغرز وأخذ بمؤخر واسطة ⦗٤١٤⦘ (الرحل) (٢١) قام إليه ناس من الناس فقالوا له: لو عهدت إلينا يا أبا مسعود. قال: (عليكم) (٢٢) بتقوى اللَّه والجماعة، فإن اللَّه لا يجمع أمة محمد (٢٣) على ضلالة، قال: فأعادوا عليه فقال: عليكم بتقوى اللَّه والجماعة، فإنما يستريح (بر أو يستراح) (٢٤) من فاجر (٢٥).
مولانا محمد اویس سرور
عبدالعزیز بن رفیع سے منقول ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ صفین کے لیے روانہ ہوئے تو ابو مسعود کو لوگوں پر پیچھے نائب بنایا پس انہوں نے جمعہ کے دن خطبہ دیا تو انہوں نے لوگوں کی قلت محسوس کی پھر فرمایا اے لوگو ! نکلو جو نکلے گا وہ امن پائے گا۔ اللہ کی قسم ہم اس بوجھل معاملے میں تمہاری پسندیدگی کو دیکھ رہے ہیں۔ تم نکلو جو نکلے گا وہ امن پائے گا۔ اللہ کی قسم ہم عافیت اسے شمار نہیں کرتے کہ دولشکروں کی آپس میں مڈھ بھیڑ ہو ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے بچتا پھرے بلکہ ہم عافیت اسے سمجھتے ہیں کہ اللہ امت محمدیہ کی اصلاح فرمادے اور اس کے مابین محبت و الفت قائم فرمادے۔ کیا میں تم کو حضرت عثمان کے بارے میں نہ بتلاؤں اور ان سے لوگ کیوں ناراض ہوئے میں تم کو نہ بتلاؤں ؟ لوگوں نے حضرت عثمان اور ان کی خطا کو اللہ کے سپرد نہیں کیا کہ وہ اس کو عذاب دیتا یا معاف کرتا۔ اور وہ اس کو بھی نہ پاسکے جس کی انہیں طلب تھی کیونکہ انہوں نے ان سے اس پر حسد کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا تھا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو ان سے کہا کہ آپ نے کہی ہے وہ بات جو مجھے پہنچی ہے اے چوزے تمہاری عقل جاتی رہی ہے حضرت ابو مسعود نے فرمایا کہ میری ماں نے اس نام سے بہتر نام رکھا ہے۔ کیا میری عقل جاتی رہی حالانکہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے جنت واجب کی کیا تم جانتے ہو ؟ جو میری عقل سے باقی ہے اسی وجہ سے ہم باتیں کرتے تھے کہ ہر دوسرا شر ہے یہ کہہ کر وہ نکل گئے۔ جب ابو مسعود سیلحین یا قادسیہ میں لوگوں کے سامنے آئے تو ان کی زلفوں سے پانی ٹپک رہا تھا، لوگوں نے دیکھا کہ وہ احرام کے لیے تیاری کرچکے ہیں اور انہوں نے جب رکاب میں پاؤں رکھا اور کجاوے کو پکڑا تو لوگ ان کے آس پاس کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ آپ ہمیں کوئی نصیحت فرمائیں۔ تو ابو مسعود نے فرمایا کہ تم تقویٰ کو لازم پکڑو اور جماعت کو لازم پکڑو بیشک اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔ انہوں نے پھر نصیحت کا مطالبہ کیا تو انہوں نے پھر فرمایا تم تقویٰ کو لازم پکڑو اور جماعت کو لازم پکڑو ! بیشک نیک صالح ہی اطمینان پاتا ہے یا یہ فرمایا کہ فاجر سے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 40466
٤٠٤٦٦ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ليث عن مجاهد وطاوس عن ابن عباس قال: قال علي: [ما (قتلت) (١) -يعني عثمان- ولا أمرت -ثلاثًا، (ولكني) (٢) غُلبتُ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے (حضرت عثمان کو) قتل نہیں کیا اور نہ میں نے قتل کیا کا حکم دیا یہ تین دفعہ فرمایا پھر فرمایا لیکن میں مغلوب ہوگیا تھا۔
حدیث نمبر: 40467
٤٠٤٦٧ - حدثنا ابن إدريس عن مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن طاوس عن ابن عباس قال: قال علي] (١): ما قتلت، وإن كنت (لقتله) (٢) (لكارها) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے قتل کیا نہیں یعنی حضرت عثمان کو اور میں ان کے قاتلوں کو ناپسند کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 40468
٤٠٤٦٨ - حدثنا عبدة بن سليمان (عن عاصم) (١) عن أبي زرارة وأبي عبد اللَّه قالا: سمعنا عليا يقول: واللَّه ما شاركت، وما قتلت، و (لا) (٢) أمرت ولا رضيت -يعني قتل عثمان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابو زرارہ اور ابو عبداللہ سے منقول ہے کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ کی قسم نہ میں قتل میں شریک ہوا نہ میں نے قتل کیا نہ میں نے قتل کا حکم دیا اور نہ اس قتل پر میں راضی تھا یعنی حضرت عثمان کے قتل پر۔
حدیث نمبر: 40469
٤٠٤٦٩ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد قال: حدثني حصين رجل من بني الحارث قال: أخبرتني سرية زيد بن أرقم قالت: جاء علي يعود زيد بن أرقم وعنده القوم، فقال للقوم: أنصتوا (واسكتوا) (٢)، فواللَّه لا تسألوني اليوم عن شيء إلا أخبرتكم به، فقال له زيد: أنشدك اللَّه أنت (٣) قتلت عثمان؟ فأطرق ساعة (٤) قال: والذي (فلق) (٥) (الحبة) (٦) وبرأ النسمة ما قتلته ولا (أمرت) (٧) بقتله وما (ساءني) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی باندی کہتی ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لائے جبکہ ان کے ارد گرد لوگ بیٹھے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا تم خاموش رہو۔ اللہ کی قسم تم آج جس چیز کے بارے میں سوال کرو گے میں تم کو اس کی خبر دونگا حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ! بتاؤ تم ہی ہو جس نے عثمان کو قتل کیا ؟ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر نظر نیچی کی پھر فرمایا اللہ کی قسم جس نے بیج کو پھاڑا اور جس نے ہوا چلائی، میں نے ان کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی اس کا حکم دیا اور نہ ہی مجھ پر اس کی کوئی برائی عائد ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 40470
٤٠٤٧٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن منذر بن يعلى قال: (لما كان) (١) كان يوم أرادوا قتل عثمان أرسل مروان إلى علي ألا تأتي هذا الرجل (فتمنعه) (٢) فإنهم لن يبرموا (أمرًا) (٣) دونك، فقال علي: (لنأتينهم) (٤)، (قال) (٥): فأخذ ابن الحنفية بكتفيه (فاحتضنه) (٦) فقال: يا (أبت) (٧) أين تذهب؟ (واللَّه) (٨) ما يزيدونك إلا رهبة، فأرسل إليهم علي (بعمامته) (٩) ينهاهم عنه (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
منذر بن یعلی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جس دن باغیوں نے حضرت عثمان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو مروان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ کیا آپ اس شخص (حضرت عثمان ) کے پاس جا کر ان کی حفاظت نہیں کریں گے ؟ کیونکہ و ہ آپ کے علاوہ کسی کا فیصلہ ماننے کو تیار نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم ضرور جائیں گے ان کے پاس۔ پس ابن حنفیہ نے ا ن کے کندھے کو پکڑا اور اس کام کی ذمہ داری خود اٹھانے کا ارادہ کیا۔ اور عرض کیا اے میرے اباجان آپ کہاں جارہے ہیں اللہ کی قسم وہ لوگ آپ کے خوف میں ہی اضافہ کریں گے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے باغیوں کی طرف اپنا عمامہ بھیجا اور باغیوں کو حضرت عثمان کو ضرر پہنچانے سے رکنے کا کہا۔
حدیث نمبر: 40471
٤٠٤٧١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن ثابت بن عبيد عن أبي جعفر الأنصاري قال: دخلت مع المصريين على عثمان، فلما ضربوه خرجت أشتد قد ملأت (فروجي) (١) عدوا حتى دخلت المسجد، فإذا رجل جالس في نحو من عشرة عليه عمامة (سوداء) (٢) فقال: ويحك ما وراءك؟ قال: قلت: قد واللَّه فرغ من الرجل، قال: فقال: تبا لكم آخر الدهر، قال: فنظرت فإذا هو علي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابو جعفر انصاری سے منقول ہے کہتے ہیں کہ حضرت عثمان پر حملہ کرنے والے مصریوں کے ساتھ میں بھی تھا۔ جب انہوں نے حضرت عثمان کو مارا تو میں گھبراہٹ کی حالت میں بھاگتا ہوا وہاں سے نکلا یہاں تک کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو ایک شخص مسجد کے ایک کونے میں بٹھا تھا اور اس کے سر پر سیاہ عمامہ تھا۔ اس نے کہاتمہاری ہلاکت ہو تمہارے پیچھے کیا معاملہ ہوا ؟ میں نے کہا اللہ کی قسم اس شخص (حضرت عثمان ) کا کام تمام ہوگیا۔ اس بیٹھے ہوئے شخص نے کہا ہلاکت ہو تمہارے لیے آخر زمانہ میں۔ میں نے دیکھا تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 40472
٤٠٤٧٢ - حدثنا يعلى بن عبيد عن إسماعيل بن أبي خالد عن حكيم بن جابر قال: لما حصر عثمان أتى (عليٌّ طلحة) (١) وهو مستند إلى وسائد في بيته فقال: أنشدك اللَّه ما رددت الناس (عن) (٢) أمير المؤمنين فإنه مقتول، فقال طلحة: لا واللَّه حتى (تعطي) (٣) بنو أمية الحق من أنفسها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حکیم بن جابر سے منقول ہے کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان کا محاصرہ کیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت طلحہ کے پاس تشریف لائے وہ اپنے گھر میں تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ حضرت عیت نے فرمایا میں تم کو قسم دیتا ہوں آپ نے لوگوں (باغیوں) کو امیر المومنین سے نہیں روکا کیونکہ ان کو قتل کردیا جائے گا۔ حضرت طلحہ نے فرمایا اللہ کی قسم نہیں روکوں گا یہاں تک کہ بنو امیہ اپنے پاس سے لوگوں کو حق نہ دیدیں۔
حدیث نمبر: 40473
٤٠٤٧٣ - حدثنا وكيع عن عمران بن (حدير) (١) عن أبي مجلز قال: عابوا على عثمان تمزيق المصاحف وآمنوا بما كتب لهم.
مولانا محمد اویس سرور
ابو مجلز سے منقول ہے کہتے ہیں کہ لوگ حضرت عثمان کو صحیفے جلانے پر برا بھلا بھی کہتے ہیں اور ان کے لکھے (ان کے جمع کے لیے قرآن) پر ایمان بھی لاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 40474
٤٠٤٧٤ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن محمد قال: خطب عليٌّ بالبصرة فقال: واللَّه ما قتلته ولا مالأت (على) (١) قتله، (فلما) (٢) نزل قال له بعض أصحابه: أي شيء صنعت، الآن (يتفرق) (٣) عنك أصحابك، فلما عاد إلى المنبر قال: من كان سائلا عن دم عثمان فإن اللَّه قتله وأنا معه، (قال) (٤) محمد: هذه كلمة قرشية (ذات) (٥) وجه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے منقول ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بصرہ میں خطبہ فرمایا اللہ کی قسم میں نے عثمان کو قتل نہیں کیا اور نہ میں نے ان کے قتل میں معاونت کی۔ جب وہ منبر سے نیچے اترے تو آپ کے کسی ساتھی نے کہا پھر آپ نے کیا کیا ؟ اب آپ سے آپ کے ساتھی جدا ہورہے ہیں۔ پس جب حضرت علی رضی اللہ عنہ واپس منبر پر آئے تو فرمایا عثمان کے قتل کے بارے میں سوال کرنے والا کون ہے ؟ بیشک عثمان کو اللہ نے قتل کیا اور میں ان کے ساتھ ہوں گا (یعنی میں بھی قتل کردیا جاؤں گا) محمد کہتے ہیں یہ کلمہ ذو وجہین ہے۔
حدیث نمبر: 40475
٤٠٤٧٥ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان قال: حدثنا العلاء بن ⦗٤١٨⦘ (عبد اللَّه) (١) بن رافع عن ميمون قال: لما قتل عثمان قال حذيفة: هكذا وحلق بيده وقال: فتق في الإسلام فتق لا يرتقه جبل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
میمون سے منقول ہے کہ جب عثمان کو قتل کیا گیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ہاتھ سے حلقہ بناتے ہوئے فرمایا اسلام میں ایسا شگاف پیدا ہوا ہے جس کو پہاڑ بھی پر نہیں کرسکے گا۔
حدیث نمبر: 40476
٤٠٤٧٦ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا الثوري قال: حدثنا (أسلم) (١) المنقري عن عبد اللَّه بن عبد الرحمن بن (أبزى) (٢) عن أبيه قال: لما وقع من أمر عثمان ما كان وتكلم الناس في أمره، أتيت أبي بن كعب فقلت (له) (٣): أبا المنذر ما المخرج؟ قال: كتاب اللَّه، قال: ما استبان لك (منه) (٤) فاعمل به وانتفع به، وما اشتبه عليك فآمن به وكله إلى عالمه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
عبدالرحمن بن ابزی سے منقول ہے کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان کا معاملہ ہوا تو لوگوں نے چہ میگوئیاں شروع کردیں۔ میں ابی بن کعب کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے ابو منذر اب راہ نجات کیا ہے تو انہوں نے فرمایا کتاب اللہ، پھر فرمایا جو تم پر واضح ہوجائے اس پر عمل کرو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ اور جو تم پر مشتبہ ہو اس پر ایمان لے آؤ اور اس کو اس کے جاننے والے کے سپرد کردو۔
حدیث نمبر: 40477
٤٠٤٧٧ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا شيبان عن الأعمش عن إسماعيل بن رجاء عن صخر بن الوليد عن (جُزي) (١) بن بكير العبسي قال: جاء حذيفة إلى عثمان ليودعه أو يسلم عليه، فلما أدبر قال: ردوه، فلما جاء قال: ما بلغني عنك بظهر الغيب؟ فقال: واللَّه (ما أبغضتك) (٢) منذ أحببتك، ولا غششتك ⦗٤١٩⦘ منذ نصحت (لك) (٣)، قال: أنت أصدق منهم وأبر، انطلق، فلما أدبر قال: ردوه [قال: ما بلغني عنك بظهر الغيب؟ فقال حذيفة بيده هكذا: ما بلغني عنك بظهر الغيب، أجل (واللَّه لتخرجن إخراج الثور) (٤)] (٥) ثم (لتذبحن) (٦) ذبح الجمل، (قال) (٧): [فأخذه من ذلك أَفْكَلٌ (٨)، فأرسل إلى معاوية فجيئ به يدفع، قال: هل تدري ما قال حذيفة؟ واللَّه [لتخرجن إخراج الثور ولتذبحن ذبح الجمل، فقال (ادفنها (ادفنها)) (٩) (١٠)] (١١) (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
جزی بن بکیر عبسی سے منقول ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان کے پاس آئے تا کہ ان کو الوداع کریں یا سلام کریں۔ جب وہاں سے پیٹھ پھیر کر واپس آئے تو حضرت عثمان نے فرمایا ان کو واپس لاؤ جب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ کیا بات ہے جو آپ کی طرف سے مجھے پہنچی ہے ؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم جب سے میں نے بیعت کی ہے کبھی آپ سے بغض نہیں رکھا اور جب سے آپ کی خیر خواہی کی اس کے بعد نہ ہی میں نے اپنے دل میں کینہ رکھا۔ حضرت عثمان نے فرمایا آپ ا ن سے زیادہ سچے اور نیک ہیں آپ جائیں پس جب وہ منہ پھیر کر جانے لگے پھر حضرت عثمان نے فرمایا وہ کیا بات ہے جو آپ کی طرف سے مجھے پہنچی ؟ پھر فرمایا ہاں اللہ کی قسم تم ضرور بیل کی طرح نکال دیے جاؤ گے اور اونٹ کی طرح ذبح کیے جاؤ گے راوی کہتے ہیں کہ حضرت عثمان پر کپکپی طاری ہوگئی پھر انہوں نے معاویہ کو بلایا پس حضرت معاویہ کو لایا گیا تا کہ اس کا کچھ ازالہ کیا جاسکے۔ حضرت عثمان نے کہا کیا تمہیں معلوم ہے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کیا کہا ؟ انہوں نے کہا کہ تم کو بیل کی طرح نکالا جائے گا اور اونٹ کی طرح ذبح کیا جائے گا حضرت معاویہ نے فرمایا کہ آپ اس بات کو دفن کردیجیے۔
حدیث نمبر: 40478
٤٠٤٧٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سلام بن مسكين (١) قال: حدثني] (٢) -من رأى عبد اللَّه بن سلام يوم قتل عثمان يبكي ويقول: اليوم هلكت العرب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
سلام بن مسکین سے منقول ہے کہتے ہیں کہ مجھ سے راویت کیا ہے اس شخص نے جس نے عبداللہ بن سلام کو حضرت عثمان کے قتل کے دن روتے ہوئے دیکھا تھا وہ فرما رہے تھے آج عرب ہلاک ہوگئے۔
حدیث نمبر: 40479
٤٠٤٧٩ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا معتمر عن أبيه عن أبي نضرة عن أبي سعيد أن ناسا كانوا عند فسطاط عائشة فمر بهم عثمان، وأرى ذلك بمكة، قال أبو سعيد: فما بقي أحد منهم إلا (لعنه) (١) أو سبه (٢) غيري، وكان فيهم رجل من أهل الكوفة، فكان عثمان على (الكوفي) (٣) أجرأ منه على غيره، فقال: يا كوفي (أتسبني؟) (٤) أقدم المدينة، كأنه يتهدده، قال: فقدم المدينة فقيل له: عليك بطلحة، فانطلق معه طلحة حتى أتى عثمان، فقال (عثمان) (٥): واللَّه لأجلدنك مائة، قال: فقال طلحة: واللَّه لا تجلده مائة إلا أن يكون زانيًا، (قال) (٦): لأحرمنك (عطاءك) (٧) قال: فقال طلحة: إن اللَّه (سيرزقه) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
ابو سعید سے منقول ہے کہ لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے خیمہ کے قریب جمع تھے کہ حضرت عثمان ان کے پا س سے گزرے راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے یہ مکہ کا واقعہ ہے ابو سعید کہتے ہیں میرے علاوہ وہاں موجود ہر شخص نے حضرت عثمان پر طعن وتشنیع کی۔ ان لوگوں میں ایک کوفی بھی تھا حضرت عثمان نے اس شخص پر جرأت کرتے ہوئے فرمایا اے کوفی کیا تو مجھے گالی دیتا ہے ؟ تو مدینے آنا ! گویا کہ حضرت عثمان نے دھمکی دی پس وہ شخص مدینے آیا تو اس سے کہا گیا کہ تم طلحہ کو لازم پکڑو۔ پس حضرت طلحہ اس کے ساتھ چلے یہاں تک کہ حضرت عثمان کی خدمت میں پہنچے حضرت عثمان نے فرمایا میں تم کو عطایا سے محروم کردونگا حضرت طلحہ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ رزق عطا کریگا۔
حدیث نمبر: 40480
٤٠٤٨٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة قال: سمعت ذكوان أبا صالح يحدث عن صهيب مولى العباس قال: أرسلني العباس إلى عثمان أدعوه، قال: فأتيته فإذا هو (يغدي) (١) الناس، فدعوته فأتاه فقال: أفلح الوجه أبا الفضل، قال: ووجهك أمير المؤمنين، قال: ما زدت أن أتاني رسولك وأنا (أغدي) (٢) الناس ⦗٤٢١⦘ (فغديتهم) (٣) ثم أقبلت، فقال العباس: أذكرك اللَّه في علي فإنه ابن عمك، وأخوك في دينك وصاحبك مع رسول اللَّه ﷺ وصهرك، وإنه قد بلغني أنك تريد أن (تقوم) (٤) بعلي وأصحابه فاعفني من ذلك يا أمير المؤمنين، فقال عثمان: أنا (أول ما) (٥) (أجبتك) (٦) أن قد شفعتك أن عليا لو شاء ما كان أحد دونه، ولكنه أبى إلا رأيه، وبعث إلى علي فقال له: أذكرك اللَّه في ابن عمك وابن عمتك وأخيك في دينك وصاحبك مع رسول اللَّه ﷺ وولي بيعتك، فقال: واللَّه لو أمرني أن أخرج من داري لخرجت، فأما أن أداهن أن لا يقام كتاب اللَّه فلم أكن لأفعل (٧).
مولانا محمد اویس سرور
صہیب جو کہ عباس کے آزاد کردہ غلام ہیں سے منقول ہے عباس نے مجھے حضرت عثمان کے پاس بھیجا کہ میں ان کو بلا کر لاؤں۔ کہتے ہیں میں ان کے پاس آیا تو وہ لوگوں کو ناشتہ کروا رہے تھے میں نے ان کو بلایا پس و ہ آگئے اور فرمایا اے ابو الفضل آپکا چہرہ کامیاب رہے۔ حضرت عباس نے بھی فرمایا اے امیر المؤمنین آپ کا چہرہ بھی فلاح کو پائے پھر عرض کیا کہ آپ کا پیغام سنتے ہی چلا آیا صرف کھانا کھلایا ہے لوگوں کو۔ عباس نے فرمایا میں تم کو نصیحت کرتا ہوں علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیشک وہ آپ کے چچا کے بیٹے ہیں اور آپ کے ماموں کے بیٹے ہیں اور آپ کے دینی بھائی ہیں اور وہ آپ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں اور آپ کے ہم زلف ہیں۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے مد مقابل کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ اے امیرالمؤمنین ! اس کی معافی آپ مجھے دیدیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا آپ کی اس بات کو قبول کیا اور آپ کی سفارش کو قبو ل کیا بیشک اگر علی رضی اللہ عنہ چاہے تو ان کے علاوہ کوئی نہ ہو مگر انہوں نے انکار کردیا سوائے رائے دینے کے پھر عباس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا کہ میں تم کو تمہارے چچا کے بیٹے کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں جو تمہارا پھوپھی کا بیٹا ہے اور دینی بھائی ہے اور آپ کے ساتھ صحابیٔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے اور آپ نے ان سے بیعت بھی کی ہوئی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر وہ مجھے گھر سے نکلنے کا حکم دیتے تو میں ضرور نکلتارہی بات ہدایت کی کہ اللہ کی کتاب کو قائم نہ کیا جائے تو میں ایسا نہیں کرسکتا۔ محمد بن جعفر فرماتے ہیں کہ اس کو میں نے بیشمار دفعہ سنا ہے اور ان پر کئی دفعہ پیش کیا ہے۔
حدیث نمبر: 40481
٤٠٤٨١ - قال محمد بن جعفر: سمعته ما لا أحصي وعرضته عليه غير مرة.
حدیث نمبر: 40482
٤٠٤٨٢ - قال: وحدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا إسماعيل (عن) (١) قيس قال: لما قدم معاوية وعمرو الكوفة أتى الحارث بن الأزمع (عمرا) (٢) فخرج عمرو وهو راكب، فقال له الحارث: (جئت) (٣) في أمر لو وجدتك على قرار لسألتك، فقال عمرو: ما كنت (لتسألني) (٤) عن شيء وأنا على قرار إلا أخبرتك به ⦗٤٢٢⦘ الآن، قال: فأخبرني عن علي وعثمان، قال: فقال: اجتمعت السخطة والأثرة، فغلبت السخطة الأثرة، ثم سار (٥).
مولانا محمد اویس سرور
قیس سے منقول ہے جب معاویہ اور عمرو کوفہ آئے تو حارث بن ازمع عمرو کے پاس آئے۔ عمروسوار ہو کر نکل رہے تھے حارث نے انہیں کہا میں ایک کام آیا تھا اگر آپ تشریف فرما ہوتے تو میں آپ سے ایک سوال پوچھتا۔ حضرت عمرو نے فرمایا تم نے جو سوال کرنا ہے وہ کرلو، کیونکہ جس سوال کا جواب میں تمہیں بیٹھے ہونے کی حالت میں دے سکتا ہوں، اب بھی دے سکتا ہوں۔ حارث نے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ اور عثمان کے بارے میں مجھے کچھ بتائیے۔ انہوں نے فرمایا غیظ و غضب اور خود غرضی ایک جگہ جمع ہوئے تھے پس غیظ و غضب خود غرضی پر غالب آگیا۔ پھر آپ چل دیے۔
حدیث نمبر: 40483
٤٠٤٨٣ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا كهمس قال: حدثني عبد اللَّه بن شقيق قال: حدثني الأقرع قال: أرسل عمر إلى الأسقف، قال: فهو يسأله وأنا قائم عليهما (أظلهما) (١) من الشمس، فقال له: هل تجدنا في كتابكم؟ قال: نعتكم وأعمالكم، قال: فما تجدني؟ قال: أجدك قرن (حديد) (٢) [قال: (فنفط) (٣) عمر وجهه وقال: قرن (حديد؟) (٤)] (٥) قال: أمين شديد، قال: فكأنه فرح بذلك، قال: فما تجد بعدي؟ (قال) (٦): [خليفة صدق يؤثر أقربيه، قال: (فقال) (٧) عمر: يرحم اللَّه ابن عفان، قال: فما تجد بعده؟] (٨) قال: صدع حديد، قال: (وفي) (٩) يد عمر شيء يقلبه، قال: فنبذه وقال: يا (دفراه) (١٠)! مرتين أو ثلاثًا، (فقال) (١١): لا تقل (ذلك) (١٢) يا أمير المؤمنين فإنه خليفة مسلم ورجل صالح، ولكنه يستخلف والسيف ⦗٤٢٣⦘ مسلول والدم مهراق، قال: ثم التفت إلي وقال: الصلاة (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
اقرع بن حابس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک پادری کو بلایا حضرت عمر ان سے سوال کر رہے تھے اور میں ان دونوں پر سایہ کر رہا تھا حضرت عمر نے اس سے کہا کیا آپ اپنی کتابوں میں ہمارا تذکرہ پاتے ہیں ؟ اس نے کہا ہاں تمہاری صفات اور اعمال کا تذکرہ ہے حضرت عمر نے پوچھا وہ کیا ؟ اس نے کہا میں آپ کو لوہے کا سینگ پاتا ہوں حضرت عمر اس بات سے ذرا پریشان ہوئے پھر پوچھا قرن حدید کیا ہے ؟ تو پادری نے جواب دیا سخت امانتدار۔ اس بات سے عمر خوش ہوئے۔ پھر کہنے لگے میرے بعد کیا پاتے ہو تو اس نے جواب دیا سچا خلیفہ جو اپنے اقرباء کو ترجیح د ے گا۔ حضرت عمر نے فرمایا اللہ ابن عفان پر رحم کرے۔ پھر حضرت عمر نے پوچھا اس کے بعد آپ کیا پاتے ہیں ؟ اس نے کہا لوہے میں شگاف۔ حضرت عمر کے ہاتھ میں کوئی شے تھی جس کے ذریعے الٹ پلٹ کر رہے تھے حضرت عمر نے اسے پھینکا اور دو یا تین دفعہ یہ فرمایا ” یا دفرا “ (اے رسوا ہونے والے) پادری نے کہا آپ اس طرح نہ کہیے اے امیرالمؤمنین ! کیونکہ وہ مسلمان خلیفہ ہوگا اور نیک آدمی ہوگا لیکن وہ ایسی حالت میں خلیفہ بنے گا جب تلوار ننگی ہوگی اور خون بہہ رہا ہوگا۔ پھر حضرت عمر میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا نماز کے لیے چلو۔
حدیث نمبر: 40484
٤٠٤٨٤ - حدثنا وكيع عن يحيى بن أبي الهيثم عن يوسف بن عبد اللَّه بن سلام عن أبيه قال: لا تسلوا سيوفكم فلئن سللتموها لا (تغمد) (١) إلى يوم القيامة، وقال: أنظروني ثماني عشرة -يعني يوم عثمان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
عبداللہ بن سلام سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا تم اپنی تلواریں نہ کھینچو، اگر تم تلواریں کھونچَ گے تو قیامت تک یہ نیا م میں نہ جائیں گی پھر فرمایا مجھے اٹھارہ دن کی مہلت دے دو یعنی حضرت عثمان کی شہادت کے دن تک (کیونکہ یہ خود وفات پاجائیں گے)
حدیث نمبر: 40485
٤٠٤٨٥ - حدثنا بن المبارك عن بن (لهيعة) (١) يزيد بن أبي حبيب قال: قال كعب: كأني أنظر إلى هذا وفي يديه (شهابان) (٢) من نار -يعني قاتل عثمان، فقتله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ میں ان کے عثمان کے قاتل کی طرف دیکھ رہا تھا اس کے ہاتھ میں آگ کے دو انگارے ہیں پس اس نے حضرت عثمان کو قتل کردیا۔
حدیث نمبر: 40486
٤٠٤٨٦ - حدثنا (عفان) (١) قال: حدثني معتمر بن سليمان التيمي قال: سمعت أبي قال: حدثنا أبو نضرة عن أبي سعيد مولى أبي أَسِيد الأنصاري قال: سمع عثمان أن وفد أهل مصر قد أقبلوا، فاستقبلهم فكان في قرية خارجا من المدينة، أو كما قال، قال: فلما سمعوا (به) (٢) أقبلوا نحوه إلى المكان الذي هو فيه، قال: أراه قال: (وكره) (٣) أن يقدموا عليه المدينة، أو نحوا من ذلك. فأتوه (فقالوا) (٤): ادع بالمصحف، فدعا بالمصحف (فقالوا) (٥): ⦗٤٢٤⦘ (افتح) (٦) السابعة، وكانوا (يسمون) (٧) سورة يونس السابعة، فقرأها حتى إذا أتى على هذه الآية: ﴿قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ﴾ [يونس: ٥٩] قالوا: أرأيت ما حميتَ من الحمى: آللَّهُ أذن لك به أم على اللَّه (تفتري؟) (٨) فقال: أمضه، (أنزلت) (٩) في كذا وكذا، وأما الحمى فإن عمر حمى الحمى (قبلي) (١٠) لإبل الصدقة؛ فلما وليت زادت إبل الصدقة فزدت في الحمى لما زاد من إبل الصدقة، (أمضه) (١١)، فجعلوا يأخذونه بالآية فيقول: أمضه، نزلت في كذا وكذا. والذي يلي كلام عثمان يومئذ في سنك، يقول: أبو نضرة يقول لي ذلك أبو سعيد: قال أبو نضرة: وأنا في سنك يومئذ، قال: ولم يخرج وجهي -أو لم (يستو) (١٢) وجهي- يومئذ، لا أدري لعله قال مرة أخرى: وأنا يومئذ في ثلاثين سنة. ثم أخذوه باشياء لم يكن عنده منها نحرج، فعرفها فقال: أستغفر اللَّه وأتوب إليه، فقال لهم: (ما تريدون؟) (١٣) فأخذوا ميثاقه، قال: واحسبه قال: وكتبوا عليه شرطًا، قال: وأخذ عليهم، أن لا يشقوا (عصى) (١٤) ولا يفارقوا جماعة ما أقام لهم بشرطهم أو كما أخذوا عليه. ⦗٤٢٥⦘ فقال لهم: ما تريدون؟ فقالوا: نريد أن لا يأخذ أهل المدينة عطاء، فإنما هذا المال لمن قاتل عليه ولهذه الشيوخ من أصحاب محمد ﷺ[فرضوا. وأقبلوا معه إلى المدينة راضين، فقام فخطب فقال: واللَّه إني ما رأيت (وفدا هم) (١٥) خير (لحوباتي) (١٦) من هذا الوفد (الذين) (١٧) قدموا عليّ، وقال مرة أخرى: حسبت أنه قال: من هذا الوفد من أهل مصر، ألا من كان له زرع فليلحق بزرعه، ومن كان له ضرع (فليحتلب) (١٨)، إلا إنه لا مال لكم عندنا، إنما هذا المال لمن قاتل عليه، ولهذه الشيوخ من أصحاب محمد ﷺ] (١٩)، فغضب الناس (وقالوا) (٢٠): (هذا) (٢١) مكر بني أمية. ثم رجع الوفد المصريون راضين، فبينما هم في الطريق (إذا هم) (٢٢) براكب يتعرض لهم ثم يفارقهم ثم يرجع إليهم (ثم يفارقهم) (٢٣) ويسبهم، فقالوا له: إن لك لأمرا، ما شأنك؟ قال: أنا رسول أمير المؤمنين إلى عامله بمصر ففتشوه فإذا (بكتاب) (٢٤) على لسان عثمان، (عليه) (٢٥) خاتمه إلى عامل مصر: أن (٢٦) يقتلهم أو يقطع أيديهم وأرجلهم. ⦗٤٢٦⦘ فأقبلوا حتى قدموا المدينة، فأتوا عليًا فقالوا: ألم تر إلى عدو اللَّه، أمر فينا بكذا وكذا، واللَّه قد (أحل) (٢٧) دمه (قم معنا) (٢٨) إليه، فقال: لا واللَّه، لا أقوم معكم، قالوا: فلم كتبت إلينا؟ قال: لا واللَّه ما كتبت إليكم كتابا قط. قال: فنظر بعضهم إلى بعض، ثم قال بعضهم لبعض: ألهذا تقاتلون أو لهذا (تغضبون) (٢٩)، وانطلق علي فخرج من المدينة إلى قرية -أو قرية له-. فانطلقوا حتى دخلوا على عثمان فقالوا: (كتبت) (٣٠) فينا بكذا وكذا، فقال: إنما هما (اثنتان) (٣١) أن تقيموا عليَّ رجلين من المسلمين أو (يمينًا) (٣٢) باللَّه الذي لا إله إلا هو، ما كتبت ولا أمليت، وقد تعلمون أن الكتاب يكتب على لسان الرجل (٣٣) ينقش الخاتم على الخاتم، فقالوا له: قد واللَّه أحل اللَّه (دمك) (٣٤)، ونقض العهد والميثاق. قال: (فحصروه) (٣٥) في القصر، فأشرف عليهم فقال: السلام عليكم، قال: فما (أسمع) (٣٦) أحدا رد السلام إلا أن يرد رجل في نفسه، فقال: أنشدكم باللَّه، هل علمتم أني اشتريت رومة (بمالي) (٣٧) (لأستعذب) (٣٨) بها، فجعلت رشائي فيها ⦗٤٢٧⦘ كرشاء رجل من المسلمين، فقيل: نعم، فقال: (فعلام) (٣٩) تمنعوني أن (أشرب) (٤٠) منها حتى أفطر (على) (٤١) ماء البحر، قال: أنشدكم باللَّه، هل علمتم أني اشتريت (كذا وكذا) (٤٢) من الأرض (فزدته) (٤٣) في المسجد؟ قيل: نعم، قال: فهل علمتم أحدا من الناس منع أن يصلي فيه، (قيل: نعم) (٤٤)، قال: فأنشدكم باللَّه هل سمعتم نبي اللَّه ﵇ (٤٥) (فذكر) (٤٦) (كذا وكذا) (٤٧) شيئا من شأنه، وذكر أرى (كتابة) (٤٨) (المفصل) (٤٩). قال: ففشا النهي، وجعل الناس يقولون: مهلا عن أمير المؤمنين، وفشا النهي وقام الأشتر، فلا أدري يومئذ أم يومًا آخر فقال: (لعله) (٥٠) قد مكر به وبكم، قال: فوطئه الناس حتى (لقي) (٥١) كذا وكذا. ثم إنه (أشرف) (٥٢) عليهم مرة أخرى فوعظهم وذكرهم، فلم تأخذ ⦗٤٢٨⦘ (فيهم) (٥٣) الموعظة، وكان الناس تأخذ فيهم الموعظة أول ما يسمعونها، فإذا أعيدت عليهم لم تأخذ فيهم الموعظة. ثم فتح الباب ووضع المصحف بين يديه (٥٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابو سعید سے منقول ہے کہ حضرت عثمان سے سنا کہ مصر کا وفد آیا ہے پس حضر ت عثمان نے ان کا استقبال کیا وہ مدینہ سے باہر ایک بستی میں تھے راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضرت عثمان اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ مدینہ میں ان کے پاس حاضر ہوں یا اس طرح کا کوئی امر تھا۔ پس اہل مصر ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ صحیفہ منگوائیے تو انہوں نے صحیفہ منگوا لیا پھر کہنے لگے اس کو کھولیے اور سابعہ نکالیے وہ سور یونس کو سابعہ کا نام دیتے تھے پس حضرت عثمان نے پڑھنا شروع کیا اس آیت پر پہنچے : { قُلْ أَرَأَیْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ لَکُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْہُ حَرَامًا وَحَلاَلاً قُلْ آللَّہُ أَذِنَ لَکُمْ أَمْ عَلَی اللہِ تَفْتَرُونَ } (آپ کہہ دیجیے تم بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے جو رزق اتارا پھر اس میں سے تم نے حرام اور حلال بنا لیا آپ کہہ دیں کیا تمہیں اللہ نے اجازت دی یا اللہ پر تم بہتان باندھتے ہو) حضرت عثمان نے فرمایا پس اسے چھوڑو یہ آیت فلاں فلاں امر میں اتری ہے بہر حال آپ چراگاہ کی جو بات کر رہے ہیں تو مجھ سے پہلے حضرت عمر نے صدقہ کے اونٹوں کے لیے چراگاہ مقرر کی تھی۔ پھر جب مجھے والی بنایا گیا تو صدقہ کے اونٹ بڑھ گئے، میں نے چراگاہ کو بھی وسعت دیدی اونٹوں کی کثرت کے پیش نظر۔ پس اہل مصر آیتوں سے دلیل پکڑتے رہے اور حضرت عثمان فرماتے رہے کہ اسے چھوڑو اور کہتے رہے یہ آیت فلاں فلاں واقعہ میں اتری ہے۔ جو حضرت عثمان سے کلام کررہا تھا وہ آپ کی عمر کا تھا، ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ یہ بات مجھے ابو سعیدنے بتائی، ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ میں اس دن تمہاری عمر کا تھا کہتے ہیں میرے چہرے پر مکمل جوانی کے اثرات ظاہر نہ ہوئے تھے یا یوں فرمایا کہ میں اچھی طرح جوان نہ ہوا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ انہوں نے دوسری دفعہ فرمایا ہو میں اس دن تیس سال کا تھا۔ پھر انہوں نے حضرت عثمان سے ایسے اعتراضات کیے جن سے وہ چھٹکارا نہ پا سکے اور حضرت عثمان نے ان چیزوں کی حقیقت کو اچھی طرح پہچان لیا پھر فرمایا میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ پھر ان سے فرمایا تم کیا چاہتے ہو ؟ پھر انہوں نے حضرت عثمان سے ایک عہد لیا راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے کچھ شرائط بھی طے کیں اور حضرت عثمان نے ان سے عہد لیا کہ وہ مسلمانوں کی قوت کو فرو نہ کریں گے اور نہ ہی مسلمانوں میں تفرقہ پھلائیں گے جب تک کہ میں شرائط پر قائم رہوں گا۔ پھر حضر ت عثمان نے فرمایا تم اور کیا چاہتے ہو تو انہوں نے کہا ہم یہ چاہتے ہیں کہ اہل مدینہ عطا یا نہ لیں کیونکہ یہ مال تو صرف قتال کرنے والوں اور اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے پس وہ راضی ہوگئے اور حضرت عثمان کے ساتھ مدینہ آئے پس حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور فرمایا اللہ کی قسم میں نے اس وفد سے بہتر کوئی وفد نہیں دیکھا جو میری حاجت کے لیے اس سے بہتر ہو۔ اور پھر دوسری مرتبہ یہی فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اس کے شرکاء اہل مصر ہیں سنو جس کے پاس کھیتی ہے وہ اپنی کھیتی باڑی کرے اور جس کے پاس دودھ والا جانور ہے وہ اس کا دودھ نکال کر گزارا کرے میرے پاس تمہارے لیے کوئی مال نہیں۔ اور مال مجاہدین اور اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے پس لوگ غصے ہوئے اور کہنے لگے یہ بنوامیہ کا فریب ہے۔ پھر مصری وفد بخوشی واپس لوٹ گیا۔ راستے میں تھے کہ ایک سوار ان کے پاس آیا پھر ان سے جدا ہوگیا پھر ان کی طرف لوٹا اور جدا ہوگیا اور ان کو برا بھلا کہا۔ تو انہوں نے ا س سے کہا تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے کہا امیر المؤ منین کی طرف سے مصر کے گورنر کی طرف سفیر ہوں پس اس وفد نے تحقیق کی تو اس کے پاس سے ایک خط نکلا جو حضرت عثمان کی طرف سے تھا اس پر مہر بھی حضرت عثمان کی تھی اور مصر کے گورنر کو یہ پیغام لکھا تھا کہ وہ اس وفد کو قتل کردے یا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں۔ پس وہ وفد واپس لوٹا اور مدینہ پہنچا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا تم اللہ کے دشمن کی طرف نہیں دیکھتے جس نے ہمارے بارے میں اس طرح کا حکم جاری کیا ہے، اللہ نے اس کا خون حلال کردیا ہے آپ ہمارے ساتھ چلیے مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہارے ساتھ ہرگز نہیں جاؤنگا، اہل وفد نے حضرت عثمان سے پوچھا آپ نے ہمارے لیے یہ خط کیوں لکھا تو حضرت عثمان نے جواب دیا اللہ کی قسم میں نے تمہارے لیے کوئی خط نہیں لکھا، پس وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، اور ایک دوسرے کو کہنے لگے کیا اس وجہ سے تم قتال کروگے ؟ کیا اس وجہ سے تم غیظ و غضب میں مبتلا ہو ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ مدینہ سے نکل کر ایک بستی کی طرف چلے گئے۔ پس وہ چلے اور حضرت عثمان کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ آپ نے ہمارے بارے میں اس طرح کیوں لکھا۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ تب دو ہی چیزیں ہیں ایک یہ کہ
حدیث نمبر: 40487
٤٠٤٨٧ - ١٥. قال: فحدثنا الحسن أن محمد بن أبي (بكر) (١) دخل عليه فأخذ بلحيته، فقال له عثمان: لقد أخذت مني (مأخذًا) (٢) -أو قعدت مني مقعدا- ما كان أبو بكر ليأخذه -أو ليقعده-، قال: فخرج وتركه (٣).
…