کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
حدیث نمبر: 40401
٤٠٤٠١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا عمران بن (حدير) (١) عن السميط ابن عمير عن كعب قال: كأني بمقدمة الأعور الدجال ستمائة ألف من العرب يلبسون (السيجان) (٢) ويزيد لي تصديقا ما أرى (يفشو) (٣) منها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ گویا کہ میں کانے دجال کے لشکر کے اگلے حصے میں چھ لاکھ عربوں کو دیکھ رہا ہوں جو سبز چادریں اوڑھے ہوئے ہوں گے اور مجھے تصدیق میں بڑھا دیں گے وہ فتنے جو ان سے نکلتے ہوئے میں دیکھوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40401
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40401، ترقيم محمد عوامة 38767)
حدیث نمبر: 40402
٤٠٤٠٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب عن أبي البختري قال: قيل لحذيفة: ألا (نأمر) (١) بالمعروف (وننهى) (٢) عن المنكر؟ قال: إنه لحسن، ولكن ليس من (السنة) (٣) أن ترفع (السلاح) (٤) على إمامك (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو البختری سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا گیا کیا ہم بھلائی کا حکم نہ دیں اور برائی سے نہ روکیں انہوں نے فرمایا یہ اچھا ہے لیکن یہ سنت میں سے نہیں ہے کہ تم اپنے امام کے خلاف اسلحہ اٹھاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40402
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40402، ترقيم محمد عوامة 38768)
حدیث نمبر: 40403
٤٠٤٠٣ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن هشام عن محمد بن سيرين عن عقبة بن عمرو قال: (كنت) (١) رجلا عزيز النفس حمي الأنف، لا يستقل أحد مني شيئًا سلطانٌ ولا غيره، قال: فاصبحت أمرائي (يخيرونني) (٢) بين أن أصبر لهم ⦗٣٨٤⦘ على قبح وجهي (ورغم) (٣) أنفي [وبين أن آخذ سيفي فأضرب به فأدخل النار فاخترت أن أصبر على قبح وجهي (ورغم) (٤) أنفي] (٥)، ولا آخذ سيفي فأضرب فأدخل النار (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں خوددار غیرت والا آدمی تھا کوئی میرے سامنے ٹھہر تا نہ تھا نہ بادشاہ اور نہ کوئی اور ارشاد فرمایا کہ میرے امیروں نے مجھے اختیار دیا تھا اس بات میں کہ میں ان پر صبر کروں اپنی ناپسندیدگی اور ذلت کے باوجود اور اس بات میں کہ میں اپنی تلوار لوں اور اس سے ناحق مار کر جہنم میں داخل ہوجاؤں میں نے اس بات کو لیا کہ اپنی ناپسندیدگی اور ذلت پر صبر کروں اور تلوار نہ لوں کہ اس سے (ناحق کسی کو مار کر) جہنم میں داخل ہوجاؤں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40403
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40403، ترقيم محمد عوامة 38769)
حدیث نمبر: 40404
٤٠٤٠٤ - حدثنا يزيد بن هارون (عن التيمي) (١) عن نعيم بن أبي هند أن أبا مسعود خرج من الكوفة ورأسه يقطر وهو يريد أن يحرم فقالوا له: أوصنا، فقال: أيها الناس! اتهموا الرأي فقد رأيتني أهمُّ أن أضرب (بسيفي) (٢) في معصية اللَّه ومعصية رسوله (٣)، قالوا: أوصنا، قال: عليكم بالجماعة، فإن اللَّه لم يكن ليجمع أمة محمد (٤) على ضلالة، قال: (فقالوا) (٥): أوصنا، فقال: (عليكم) (٦) بتقوى اللَّه والصبر حتى يستريح بر، أو يستراح من فاجر (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعیم بن ابی ہند سے روایت ہے کہ حضرت ابو مسعود انصاری کوفہ سے نکلے کہ (غسل کی وجہ سے) ان کے سر سے پانی کے قطرے بہہ رہے تھے اور وہ احرام باندھنے کا ارادہ رکھتے تھے لوگوں نے ان سے عرض کیا ہمیں وصیت کریں انہوں نے ارشاد فرمایا اے لوگو ! اپنی رائے کو متہم سمجھو میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں نے اپنی تلوار سے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی میں مارنے کا عزم کیا تھا لوگوں نے عرض کیا ہمیں (اور) وصیت کریں انہوں نے فرمایا تم پر لازم ہے اللہ سے ڈرنا اور صبر یہاں تک کہ نیک آدمی راحت پالے یا فاجر سے راحت پالی جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40404
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40404، ترقيم محمد عوامة 38770)
حدیث نمبر: 40405
٤٠٤٠٥ - حدثنا زيد بن الحباب قال: (أخبرنا) (١) موسى بن عبيدة قال: أخبرني زيد بن عبد الرحمن بن أبي سلامة أبو (سلامة) (٢) عن أبي (الزيات) (٣) وصاحب له أنهما سمعا أبا ذر يدعو، قال: فقلنا له: رأيناك صليت في هذا البلد صلاة لم (نر) (٤) أطول مقاما وركوعا وسجودا، فلما أن فرغت رفعت يديك (فدعوت) (٥) (فتعوذت) (٦) من يوم (البلاء) (٧) ويوم العورة، [قال: فما أنكرتم؟ فأخبرناه، قال: أما يوم (البلاء) (٨) فتلتقي فئتان من المسلمين (فيقتل) (٩) بعضهم بعضا ويوم العورة] (١٠) إن النساء من المسلمات يسبين فيكشف عن سوقهن، فأيتهن أعظم ساقا اشتريت على عظم ساقها، فدعوت (أن لا) (١١) يدركني هذا الزمان، ولعلكما تدركانه، قال: فقتل عثمان وأرسل معاويةُ ابنَ أبي (أرطأة) (١٢) إلى اليمن فسبى نساء من المسلمات فأقمن في السوق (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الرباب اور ان کے ایک ساتھی سے روایت ہے کہ انہوں نے حصرت ابو ذر کو دعا مانگتے ہوئے سنا فرمایا کہ ہم نے عرض کیا ہم نے آپ کو دیکھا آپ نے اس شہر میں نماز پڑھی ہم نے اس سے زیادہ قیام رکوع اور سجدے کے اعتبار سے لمبی نماز نہیں دیکھی جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا مانگی اور یوم البلاء اور یوم العورۃ کے دن سے پناہ مانگی اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں جو چیز تمہارے لیے اجنبی ہے ہم تمہیں اس کی خبر دیتے ہیں۔ یوم البلائ (مصیبت کا دن) تو اس میں مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں گے اور ایک دوسرے کو قتل کریں گے اور یوم العورۃ (ستر کھولنے کا دن) سے مراد یہ ہے کہ بلاشبہ مسلمان عورتیں قید کی جائیں گی اور ان کی پنڈلیوں کو کھولا جائے گا ان میں سے جو کوئی موٹی پنڈلی والی ہوگی اسے موٹی پنڈلی کی وجہ سے خرید لیا جائے گا میں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے یہ زمانہ نہ پائے اور تم دونوں اس زمانے کو پاؤ گے راوی فرماتے ہیں حضرت عثمان کو شہید کردیا گیا اور حضرت معاویہ نے سیرین ابی ارطاۃ کو یمن بھیجا انہوں نے مسلمان عورتوں کو قید کیا پس ان عورتوں کو بازار میں (بیچنے کے لیے) کھڑا کیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40405
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40405، ترقيم محمد عوامة 38771)
حدیث نمبر: 40406
٤٠٤٠٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب عن إبراهيم عن علقمة قال: إذا ظهر أهل الحق على (١) الباطل فليس هي بفتنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا جب اہل حق باطل پر غالب آجائیں گے پس وہ فتنہ نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40406
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40406، ترقيم محمد عوامة 38772)
حدیث نمبر: 40407
٤٠٤٠٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الحارث بن (حصيرة) (١) عن زيد بن وهب قال: قيل لحذيفة: ما وقفات الفتنة؟ وما بعثاتها؟ قال: بعثاتها سل السيف ووقفاتها غمده (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا فتنے کا رکنا اور اٹھنا کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ فتنے کے اٹھنے سے مراد تلوار کا نیام سے باہر نکل آنا ہے اور اس کے رکنے سے مراد تلوار کا نیام میں داخل ہوجانا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40407
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف الحارث بن حصيرة، أخرجه الحاكم ٤/ ٤٢٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40407، ترقيم محمد عوامة 38773)
حدیث نمبر: 40408
٤٠٤٠٨ - (حدثنا عفان) (١) قال: حدثنا وهيب قال: (أخبرنا) (٢) عبد اللَّه بن طاوس عن أبيه عن أبي موسى أنه لقيه فذكر الفتنة فقال: إن هذه الفتنة (حيصة من حيصات) (٣) الفتن، وإنها (بقيت) (٤) الرداح المطبقة، من أشرف لها أشرفت له، ومن (ماج لها ماجت له) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ ان سے ملے اور فتنے کا تذکرہ کیا پس انہوں نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ یہ فتنہ فتنوں میں سے ایک فتنہ ہے اور بلاشبہ ایک بڑا اور عام فتنہ باقی ہے جو اس کی طرف جھانکے گا وہ فتنہ بھی اس کی طرف جھانکے گا (مراد یہ ہے کہ فتنہ میں تھوڑی سے مشغولی آگے بڑھنے کا سبب ہوگی) اور جو اس میں کودے گا وہ فتنہ اسے لے کر (سمندر کی) موج کی طرح جوش مارے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40408
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40408، ترقيم محمد عوامة 38774)
حدیث نمبر: 40409
٤٠٤٠٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن أبيه قال: قال لي عبد اللَّه بن عمرو: ممن أنت؟ قلت: من أهل الكوفة، قال: والذي نفسي في يده لتساقن (منها) (١) إلى أرض العرب لا تملكون قفيزا ولا درهما ثم لا ينجيكم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سائب سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو نے مجھ سے کہا تم کن میں سے ہو میں نے عرض کیا کوفہ والوں میں سے انہوں نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے یقینا تم یہاں سے عرب کی زمین کی طرف لے جائے جاؤ گے تم کسی قفیز اور درہم کے مالک نہ ہوگے تمہیں نجات نہ دی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40409
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ سماع حماد من عطاء قبل اختلاطه، أخرجه نعيم في الفتن (١٩١٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40409، ترقيم محمد عوامة 38775)
حدیث نمبر: 40410
٤٠٤١٠ - حدثنا (محاضر) (١) قال: حدثنا (الأجلح) (٢) عن قيس بن أبي (مسلم) (٣) عن ربعي بن حراش قال: سمعت حذيفة يقول: لو خرج الدجال لآمن به قوم في قبورهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربعی بن حراش سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا ارشاد فرمایا کہ اگر دجال نکل آئے تو کچھ لوگ اس پر اپنی قبروں میں ایمان لے آئیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40410
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40410، ترقيم محمد عوامة 38776)
حدیث نمبر: 40411
٤٠٤١١ - قال: (و) (١) حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا يونس بن (أبي) (٢) إسحاق عن (عبيد اللَّه) (٣) بن (بشير) (٤) بن جرير البجلي قال: قال علي: إن آخر (خارجة) (٥) تخرج في الإسلام (بالرميلة: رميلة) (٦) الدسكرة، فيخرج إليهم الناس فيقتلون منهم ثلثا، ويدخل ثلث ويتحصن (ثلث) (٧) في الدير دير مرمار، فمنهم (الأشمط) (٨)، فيحضرهم الناس (فينزلونهم) (٩) (فيقتلونهم) (١٠)، (فهي) (١١) آخر خارجة تخرج في الإسلام (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ آخری باغی جو اسلام میں نکلے گا وہ کوفہ کے مسافر خانے دسکرہ (جو محل کی طرح بنا ہوا ہے) سے نکلے گا لوگ ان کے ساتھ مل جائیں گے ان میں سے ایک تہائی قتل کرد یے جائیں گے اور ایک تہائی داخل ہوجائیں گے (محفوظ مقام میں) اور ایک تہائی راہب خانے میں محصور ہوجائیں گے مرماری (جو سامراء کے نواح میں وصف پل کے پاس ہے) راہب خانے میں ان میں سے کچھ سفید سیاہ بالوں والے ہوں گے لوگ ان کا محاصرہ کر کے ان کو ماریں گے (راہب خانے وغیرہ سے) اور ان کو قتل کردیں گے یہ آخری باغی لشکر ہوگا جو اسلام میں نکلے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40411
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40411، ترقيم محمد عوامة 38777)
حدیث نمبر: 40412
٤٠٤١٢ - حدثنا الفضل بن دكين قال: (أخبرنا) (١) جعفر بن برقان عن راشد (الأزرق) (٢) عن عقبة بن نافع قال: سألت ابن عمر: مع من أقاتل؟ قال: مع الذين يقاتلون للَّه، ولا تقاتل مع الذين يقاتلون لهذا الدينار والدرهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن نافع سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں کس کے ساتھ مل کر قتال کروں انہوں نے فرمایا کہ ان لوگوں کے ساتھ مل کر جو اللہ کے لیے قتال کریں اور ان لوگوں کے ساتھ مل کر قتال نہ کریں جو اس دینار (اشرفی) اور درہم کے لیے لڑائی کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40412
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40412، ترقيم محمد عوامة 38778)
حدیث نمبر: 40413
٤٠٤١٣ - حدثنا الفضل بن دكين قال: (حدثنا) (١) عبد السلام (المسلمي) (٢) قال: حدثني وبرة عن مجاهد قال: لا (ترون) (٣) (الفرج) (٤) حتى (يملك) (٥) أربعة (كلهم) (٦) من صلب رجل واحد، فإذا كان ذلك فعسى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا کہ تم کشادگی کو نہ دیکھو گے یہاں تک کہ چار آدمی بادشاہت نہ پائیں گے جو ایک آدمی کی پشت سے ہوں گے (یعنی ایک کی اولاد ہوں گے) جب ایسا ہوگیا تو قریب ہے (تم کشادگی دیکھو)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40413
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40413، ترقيم محمد عوامة 38779)
حدیث نمبر: 40414
٤٠٤١٤ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان (عن) (١) حصين عن أبي (ظبيان) (٢) عن عبد اللَّه بن عمرو قال: أول الأرض خرابًا الشام (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا کہ سب سے پہلی زمین جو برباد ہوگی وہ شام کی زمین ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40414
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40414، ترقيم محمد عوامة 38780)
حدیث نمبر: 40415
٤٠٤١٥ - (حدثنا) (١) غندر عن شعبة عن الحكم قال: سمعت أبا صادق يحدث عن (الربيع) (٢) بن (ناجد) (٣) عن ابن مسعود قال: يأتيكم قوم من قبل ⦗٣٨٩⦘ الشرق عراض الوجوه صغار العيون، كأنما ثقبت (أعينهم) (٤) في الصخر، كأن وجوههم المجان المطرقة، (حتى) (٥) يوثقو خيولهم بشط الفرات (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا کہ ایک قوم تمہارے پاس مشرق کی جانب سے آئیں گے جو چوڑے چہرے والے ہوں گے اور چھوٹی آنکھوں والے ہوں گے گویا ان کی آنکھیں ایسی ہوں گی جیسا کہ پتھر میں سوراخ کر کے بنائی گئی ہیں ان کے چہرے گویا پھولی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہوں گے یہاں تک کہ وہ اپنے گھوڑے فرات کے کنارے باندھیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40415
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40415، ترقيم محمد عوامة 38781)
حدیث نمبر: 40416
٤٠٤١٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) ابن عون عن عمير بن إسحاق قال: سمعت أبا هريرة يقول: ويل للعرب من شر قد اقترب، (أظلت) (٢) (واللَّه) (٣)، لهي أسرع إليهم من الفرس المضمر السريع: الفتنة الصماء المشبهة؛ يصبح الرجل فيها على أمر ويمسي على أمر، القاعد فيها خير من القائم، والقائم فيها خير من الماشي، والماشي فيها خير من الساعي، ولو أحدثكم (بكل الذي) (٤) أعلم لقطعتم عنقي من هاهنا - (وحز) (٥) (قفاه) (٦) بحرف كفه- اللهم لا تُدرِكنّ أبا هريرة إمرة الصبيان، ورفع يديه حتى جعل ظهورهما مما يلي بطن كفه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ ہلاکت ہے اہل عرب کے لیے ایسی برائی سے جو قریب آگئی وہ قریب ہوگی بخدا وہ برائی ان کی طرف چھریرے بدن والے تیز رفتار گھوڑے سے زیاد ہ تیز پہنچے گی اندھا نامعلوم فتنہ ہوگا آدمی اس میں صبح کسی امرپر کرے گا اور شام دوسرے امر پر کرے گا اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا اس میں دوڑنے والے سے بہتر ہوگا اور اگر میں تمام وہ باتیں جو میں جانتا ہوں تم سے بیان کروں تو تم میری گردن یہاں سے کاٹ دو اور اپنی گردن کو اپنی ہتھیلی کے کنارے سے حرکت دی (پھر فرمایا) اے اللہ ابوہریرہ بچوں کی امارت کا زمانہ نہ پائے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ ان کی پشت کو اپنی ہتھیلی کے اندرونی حصے کی طرف کرلیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40416
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عمير بن إسحاق صدوق على الصحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40416، ترقيم محمد عوامة 38782)
حدیث نمبر: 40417
٤٠٤١٧ - حدثنا شبابة قال: حدثنا سليمان عن ثابت (عن أنس) (١) قال: ليأتين على الناس زمان تجد النسوة النعل ملقى على الطريق، فيقول (بعضهن) (٢) ⦗٣٩٠⦘ لبعض: قد كانت (هذا) (٣) النعل مرة لرجل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ عورتیں جوتا راستے پر پھینکا ہوا پائیں گی تو وہ ایک دوسری سے کہیں گی کہ یہ جوتا ایک مرتبہ کسی کے پاؤں میں تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40417
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم ٤/ ٥٤٠ (٨٥١٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40417، ترقيم محمد عوامة 38783)
حدیث نمبر: 40418
٤٠٤١٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن حصين قال: كان عبد الرحمن بن أبي (ليلى) (١) يحضض الناس أيام (الجماجم) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین سے روایت ہے کہ عبدالرحمان بن ابی لیلی لوگوں کو جماجم (حجاج کے زمانے کی لڑائی) کے زمانے میں خاموش کرواتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40418
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40418، ترقيم محمد عوامة 38784)
حدیث نمبر: 40419
٤٠٤١٩ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن عيسى السعدي عن رجل كتب إلى أبي البختري يسأله عن مكانه الذي (هو) (١) فيه أيام (الجماجم) (٢)، قال: فكتب إليه أبو البختري: من شاء قال فينا، ولو علمت شيئا أفضل من الذي أنا فيه لأتيته.
مولانا محمد اویس سرور
عیسیٰ سعدی سے روایت ہے اس آدمی سے نقل کرتے ہیں جنہوں نے ابو البختری سے ان کے مکان کے بارے میں پوچھا جہاں وہ جماجم کے زما نے میں تھے ابو البختری نے ان کو جواب میں لکھا جس نے جو چاہا ہمارے بارے میں کہا اگر میں اس سے افضل حالت پاتا جس میں تھا تو میں اس کو اختیار کرلیتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40419
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40419، ترقيم محمد عوامة 38785)
حدیث نمبر: 40420
٤٠٤٢٠ - حدثنا أبو أسامة عن العلاء بن عبد الكريم قال: سمعني طلحة بن مصرف ذات يوم وأنا أضحك فقال: (إنك) (١) تضحك ضحك رجل لم يشهد الجماجم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علاء بن عبدالکریم سے روایت ہے کہ حضرت طلحہ بن مصرف نے مجھے ایک دن ہنستے ہوئے سنا تو ارشاد فرمایا تم تو ایسے آدمی کی طرح ہنستے ہو جو جماجم کی لڑائی میں حاضر نہیں ہوا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40420
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40420، ترقيم محمد عوامة 38786)
حدیث نمبر: 40421
٤٠٤٢١ - حدثنا وكيع عن (القاسم) (١) بن حبيب التمار قال: سمعت زاذان يقول: وددت أن دماء أهل الشام في (ثوبي) (٢)، وأشار (إلى) (٣) ثوبه (٤) أو قال: في حجري.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زاذان سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ شامیوں کا خون میرے کپڑے میں ہو اور کپڑے کی طرف اشارہ کیا یا ارشاد فرمایا کہ میری گود میں ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40421
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40421، ترقيم محمد عوامة 38787)
حدیث نمبر: 40422
٤٠٤٢٢ - حدثنا قبيصة قال: حدثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم وخيثمة أنهما كرها الجماجم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت خیثمہ کے بارے میں منصور سے منقول ہے کہ وہ دونوں حضرات جماجم (کی لڑائی) کو ناپسند کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40422
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40422، ترقيم محمد عوامة 38788)
حدیث نمبر: 40423
٤٠٤٢٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن يزيد عن أبي البختري أنه رأى رجلا منهزما أيام الجماجم فقال: حر (النار) (١) أشد من حر السيف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو البختری سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو جماجم (کی لڑائی) کے ایام میں شکست خوردہ دیکھا تو ارشاد فرمایا جہنم کی آگ کی گرمی تلوار کی گرمی سے سخت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40423
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40423، ترقيم محمد عوامة 38789)
حدیث نمبر: 40424
٤٠٤٢٤ - حدثنا قبيصة قال: حدثنا سفيان عن منصور عن مجاهد أنه كره الجماجم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے کہ انہوں نے جماجم کو ناپسند کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40424
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40424، ترقيم محمد عوامة 38790)
حدیث نمبر: 40425
٤٠٤٢٥ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا (مجالد) (١) قال: (أخبرنا) (٢) عامر قال: أخبرتني فاطمة ابنة قيس قالت: خرج رسول اللَّه ﷺ ذات يوم بالهاجرة يصلي قالت: ثم صعد المنبر فقام الناس فقال: " (٣) أيها الناس! اجلسوا فإني لم أقم مقامي (هذا) (٤) (لرغبة) (٥) ولا لرهبة" -وذلك أنه صعد المنبر في (ساعة) (٦) لم يكن يصعده فيها- "ولكنَّ تميما الداري أتاني فأخبرني خبرا (منعني) (٧) القيلولة من الفرح (وقرة) (٨) العين، فأحببت أن أنشر عليكم خبر (تميم) (٩)، أخبرني أن رهطا من بني عمه ركبوا البحر فأصابتهم عاصف من ريح، فألجأتهم إلى جزيرة لا يعرفونها ⦗٣٩٢⦘ (فقعدوا) (١٠) في قوارب السفينة حتى خرجوا إلى الجزيرة فإذا هم بشيء أسود (أهدب) (١١) كثير الشعر، لا يدرون هو رجل أو امرأة، قالوا: ألا تخبرنا! قال: ما أنا بمخبركم ولا مستخبركم شيئا، ولكن هذا الدير قد (رمقتموه) (١٢) ففيه من هو إلى (خبركم) (١٣) بالأشواق، والى أن يخبركم ويستخبركم، قالوا: فما أنت؟ (قالت) (١٤): أنا الجساسة؛ فانطلقوا حتى أتوا الدير فاستأذنوا، فأذن لهم، فإذا هم بشيخ (موثق) (١٥) شديد الوثاق مظهر الحزن كثير التشكي، فسلموا عليه فرد السلام (وقال) (١٦): من أين (نبأتم؟) (١٧) قالوا: من الشام، قال: ممن أنتم؟ قالوا: من العرب، قال: ما فعلت العرب، خرج (نبيهم بعد؟) (١٨) قالوا: نعم، قال: فما فعلوا؟ قالوا: ناوأه قوم فأظهره اللَّه عليهم فهم اليوم جميع، قال: ذاك خير، وذكر فيه: أمنوا به واتبعوه (وصدقوه) (١٩)، قال: ذاك خير لهم، قال: فالعرب اليوم (إلههم) (٢٠) واحد وكلمتهم واحدة؟ قالوا: نعم، قال: ذاك خير لهم، قال: فما فعلت عين (زغر؟) (٢١) قالوا: صالحة يشرب أهلها بشفتهم ويسقون منها زرعهم، قال: فما فعل نخل بين ⦗٣٩٣⦘ عمان (وبيسان؟) (٢٢) قالوا: يطعم جناه كل عام، قال: فما فعلت بحيرة الطبرية؟ قالوا: ملآى تدفق جنباتها من (كثرة) (٢٣) الماء، قال: فزفر ثم زفر ثم زفر ثم (حلف) (٢٤) فقال: لو قد انفلت -أو خرجت- من وثاقي هذا -أو مكاني هذا- ما تركت أرضا إلا (وطئتها) (٢٥) برجلي (هاتين) (٢٦) (غير) (٢٧) طيبة، ليس لي عليها سبيل ولا سلطان"، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إلى هذا انتهى فرحي، هذه طيبة، والذي نفس محمد بيده إن هذه طيبة، ولقد حرم اللَّه حرمي على الدجال أن يدخله -ثم حلف ﷺ ما لها طريق ضيق ولا واسع في سهل أو جبل إلا عليه ملك شاهر بالسيف إلى يوم القيامة، ما يستطيع الدجال أن يدخلها على أهلها" (٢٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فاطمہ بنت قیس سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن دوپہر کے وقت تشریف لائے اور نماز پڑھائی پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے پس لوگ کھڑے ہوگئے آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! بیٹھ جاؤ بلا شبہ میں اس جگہ رغبت اور خوف کی وجہ سے کھڑا نہیں ہوا اور یہ اس وجہ سے فرمایا کہ اس گھڑی میں آپ منبر پر پہلے نہیں بیٹھے تھے لیکن تمیم داری میرے پاس آئے اور مجھے ایسی خبر دی کہ جس کی خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک نے مجھے قیلولے سے روک دیا میں نے چاہا کہ تمہارے سامنے تمیم کی خبر بتلاؤں اس نے مجھے بتلایا کہ ان کے چچیرے بھائیوں کی جماعت نے سمندر میں سفر کیا انہیں تیز آندھی پہنچی اس آندھی نے ان کو ایسے جزیرے میں ڈال دیا جسے وہ پہچانتے نہ تھے پس وہ قریبی کشتیوں پر سوار ہوگئے اور جزیرے کی طرف نکلے پس وہ ایسی کالی چیز کے پاس پہنچے جو بہت زیادہ بالوں والی تھی انہں ب پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ مرد ہے یا عورت وہ اس سے کہنے لگے تم ہمیں بتلاؤ گی نہیں وہ کہنے لگی میں نہ تمہیں بتلاتی ہوں اور نہ تم سے کسی چیز کے بارے میں پوچھتی ہوں لیکن یہ راہب خانہ جس کے تم قریب ہو اس میں آدمی ہے جو تمہارے بارے میں اور تمہیں بتلانے اور تم سے پوچھنے کا شوق رکھتا ہے انہوں نے اس سے پوچھا تو کیا چیز ہے اس نے کہا میں جاسوس ہوں وہ نکلے اور راہب خانے میں پہنچ گئے انہوں نے داخل ہونے کی اجازت لی اس نے اجازت دے دی پس وہاں انہوں نے ایک بوڑھے کو پایا جسے سخت بیڑیوں میں جکڑا گیا تھا وہ غم کا اظہار کرنے والا تھا اور بہت زیادہ شکایت کرنے والا تھا انہوں نے اس کو سلام کیا اس نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا تم کہاں سے آئے ہو انہوں نے کہا شام سے اس نے پوچھا تم کن میں سے ہو وہ کہنے لگے عرب والوں سے اس نے پوچھا عرب کی کیا حالت ہے ان کے نبی نمودار ہوگئے ہیں وہ کہنے لگے ہاں اس نے پوچھا ان عرب والوں نے کیا کیا انہوں نے بتلایا کہ ایک قوم نے ان سے مقابلہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو ان پر غلبہ دے دیا اب وہ سب مجتمع ہیں اس نے کہا یہ اچھا ہے اور اس میں یہ بات بھی ذکر کی گئی کہ عرب ان پر ایمان لے آئے ہیں اور ان کی پیروی کی ہے اور ان کی تصدیق کی ہے اس نے کہا یہ ان کے لیے بہتر ہے۔ پھر اس نے پوچھا مقام زغر کے چشمے کی کیا حالت ہے تو ہ بولے اچھا ہے وہاں کے لوگ پیاس میں (اس سے) پیتے ہیں اور اس سے اپنی کھیتیوں کو سیراب کرتے ہیں اس نے پوچھا عمان اور بیسان مقام کی کھجوروں کی کیا حالت ہے انہوں نے بتلایا ان سے سال بھر پھل حاصل ہوتا ہے اس نے پوچھا بحیرہ طبریہ کی کیا حالت ہے انہوں نے کہا کہ بھرا ہوا ہے پانی کی کثرت کی وجہ سے اس کے دونوں کنارے کودتے ہیں راوی نے بتلایا کہ اس نے لمبا سانس لیا پھر لمبا سانس لیا پھر لمبا سانس لیا پھر اس نے قسم کھائی اور کہا اگر میں چھوٹ گیا یا کہا میں نکل گیا ان بیڑیوں سے یا کہا اس جگہ سے تو میں کسی زمین کو نہیں چھوڑوں گا مگر اسے اپنے ان دونوں پاؤں سے روندوں گا سوائے طیبہ (مدینہ منورہ) کے اس پر مجھے کوئی راستہ اور تسلط حاصل نہیں ہے رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یہ میری خوشی کی انتہا ہے یہ طیبہ ہے اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے یہ طیبہ ہے اللہ تعالیٰ نے میرے حرم کو دجال کے داخلے کے لیے حرام کردیا ہے پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا اس (طیبہ) کا کوئی تنگ اور کوئی کشادہ راستہ نرم زمین یا پہاڑ میں نہیں مگر اس پر تلوار سونتے ایک فرشتہ قیامت تک مامور ہے دجال مدینہ والوں پر داخل ہونے کی طاقت نہیں رکھتا۔ مجاہد فرماتے ہیں کہ عامر نے خبر دی کہا کہ یہ حدیث میں نے قاسم بن محمد کے سامنے بیان کی قاسم نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں عائشہ رضی اللہ عنہا پر کہ انہوں نے یہ حدیث مجھ سے بیان کی سوائے اس کے کہ انہوں نے فرمایا دونوں حرم اس پر حرام ہیں مکہ اور مدینہ عامر نے فرمایا کہ میں محرر بن ابی ہریرہ سے ملا میں نے ان سے فاطمہ بنت قیس والی روایت بیان کی انہوں نے کہا کہ میں اپنے والد (حضرت ابوہریرہ ) کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے مجھ سے ایسے ہی بیان کیا جیسے تم سے فاطمہ نے بیان کیا ہے ایک حرف بھی انہوں نے کم نہیں کیا سوائے اس کے کہ میرے والد نے اس میں ایک بات کا اضافہ کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو مشرق کی طرف گرایا تقریباً بیس مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ نیچے گرایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40425
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه أحمد (٢٧١٠١)، والطبراني ٢٤/ (٩٦١)، وأبو داود (٤٣٢٧)، وابن ماجه (٤٠٧٤)، والحميدي (٣٦٤)، وأبو نعيم في الحلية ١٠/ ١٢٧، والقزويني ١/ ٤٤٥، والآجري في الشريعة (٨٨٥)، وأصل الخبر في صحيح مسلم (٢٩٤٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40425، ترقيم محمد عوامة 38791)
حدیث نمبر: 40426
٤٠٤٢٦ - قال (مجالد) (١) فأخبرني عامر (قال) (٢): ذكرت هذا الحديث للقاسم بن محمد فقال القاسم: أشهد على عائشة لحدثتني هذا الحديث غير أنها قالت: (الحرمان) (٣) عليه حرام: مكة والمدينة (٤).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40426
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف لحال مجالد، أخرجه أحمد ٦/ ٤١٧ (٢٧٣٨٩)، وإسحاق (٢٣٦٣)، والطبراني ٢٤/ (٩٦١)، والطحاوي في شرح المشكل ٧/ ٣٩٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40426، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 40427
٤٠٤٢٧ - قال عامر: فلقيت المحرر بن أبي هريرة فحدثته حديث فاطمة فقال: أشهد على أبي أنه حدثني كما حدثتك فاطمة ما نقص (حرفا) (١) (واحدا) (٢) غير أن أبي (قد) (٣) زاد فيه بابا واحدا، قال: (فحط) (٤) النبي ﷺ (٥) بيده نحو المشرق (٦) (فأهوى) (٧) (قريبا) (٨) من عشرين مرة (٩).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40427
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف لضعف مجالد، أخرجه أحمد ٦/ ٣٧٣ (٢٧١٤٥)، والحميدي (٦٣٤)، وإسحاق كما في المطالب (٦٤٥٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40427، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 40428
٤٠٤٢٨ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا سفيان قال: حدثنا سلمة بن كهيل عن أبي (الزعراء) (١) عن عبد اللَّه أنه ذكر عنده الدجال فقال عبد اللَّه: تفترقون أيها الناس لخروجه ثلاث فرق: فرقة تتبعه، وفرقة تلحق بأرض آبائها بمنابت (الشيح) (٢)، وفرقة تأخذ شط هذا الفرات فيقاتلهم ويقاتلونه حتى يجتمع المؤمنون (بغربي) (٣) الشام فيبعثون إليه طليعة فيهم فارس على فرس أشقر أو (فرس) (٤) ⦗٣٩٥⦘ أبلق، فيقتلون لا يرجع منهم بشر (٥). - قال سلمة: فحدثني أبو صادق عن ربيعة بن (ناجد) (٦) أن عبد اللَّه قال: فرس أشقر (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن کھیل ابی الزعراء سے اور وہ حضرت عبداللہ سے نقل کرتے ہیں ان کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا حضرت عبداللہ نے فرمایا اے لوگو اس کے خروج کے وقت تم تین گروہوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اس کی پیروی کرے گا اور ایک گروہ اپنے آباؤ اجداد کی زمین میں گھاس اگنے کی جگہوں پر چلاجائے گا اور ایک گروہ اس فرات کا کنارہ پکڑے گا۔ وہ (دجال) ان سے لڑائی کرے گا اور وہ (لوگ) اس سے لڑائی کریں گے یہاں تک کہ مومنین شام کے مغربی جانب جمع ہوجائیں گے وہ اس کی طرف آگے جانے والے لشکر کو بھیجیں گے ان میں ایک سوار ہوگا سفید سرخی کے گھوڑے پر یا چتکبرے گھوڑے پر سوار ہوگا وہ سارے قتل کردیے جائیں گے ان میں سے کوئی انسان نہیں لوٹے گا۔ سلمہ نے فرمایا مجھ سے ابو صادق نے بیان کیا ربیعہ بن ناجد سے کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا سفید سرخی مائل گھوڑا ہوگا پھر حضر ت عبداللہ نے فرمایا کہ اہل کتاب کہتے ہیں مسیح عیسیٰ بن مریم اتریں گے اور اسے قتل کریں گے ابو الزعراء نے فرمایا کہ میں نے حضرت عبداللہ کو اہل کتاب سے اس حدیث کے علاوہ کوئی حدیث نقل کرتے ہوئے نہیں سنا۔ پھر حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ پھر یاجوج ماجوج نکلیں گے وہ زمین میں اتراتے پھریں گے اور زمین میں فساد پھلائیں گے پھر حضرت عبداللہ نے پڑھا { وَہُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُونَ } اور وہ ہر اونچی جگہ سے بھاگتے ہوئے آئیں گے حضرت عبداللہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان پر ایک کیڑابھیجیں گے اونٹ کے ناک میں پیدا ہونے والے کیڑے کی طرح وہ ان کے کانوں اور ان کے نتھنوں میں داخل ہوجائے گا وہ اس سے مرجائیں گے ارشاد فرمایا کہ ان سے زمین متعفن ہوجائے گی اللہ تعالیٰ سے فریاد کی جائے گی پس اللہ تعالیٰ ان پر بارش اتاریں گے اور اللہ تعالیٰ سخت ٹھنڈی ہوا چھوڑیں گے پس وہ زمین پر کوئی مومن نہیں چھوڑے گی مگر اسے یہ ہوا الٹ پلٹ کر دے گی ارشاد فرمایا پھر شریر لوگوں پر قیامت قائم ہوگی۔ ارشاد فرمایا پھر زمین و آسمان کے درمیان فرشتہ صور لے کر کھڑا ہوگا اور اس صور میں پھونکے گا راوی نے کہا کہ صور سینگ ہے ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمینوں میں اللہ کی مخلوق نہیں باقی رہے گی مگر وہ مرجائے گی مگر جس کے بارے میں اللہ چاہے پھر وہ اللہ چاہے فرمایا کہ پھر دونوں نفخوں کے درمیان اتنا وقت ہوگا جتنا کہ وقت ہونا اللہ چاہیں گے (راوی نے فرمایا) کہ اللہ تعالیٰ عرش کے نیچے سے پانی پھینکیں گے مردوں کی منی کی طرح ارشاد فرمایا کہ آدمی کی اولاد مں ی سے کوئی مخلوق نہیں بچے گی مگر اس سے (پانی سے) کچھ اسے پہنچے گا پس ان کے جسم اور ان کا گوشت اس پانی سے دوبارہ حیات یافتہ ہوگا جیسا کہ زمین تیزی سے سبزہ اگاتی ہے۔ پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت تلاوت کی ترجمہ اور اللہ وہ ذات ہے جو ہواؤں کو بھیجتی ہے وہ ہوائیں بادلوں کو اٹھاتی ہیں پس ہم اس کو ہانکتے ہیں مردہ شہر کی طرف پس ہم اس سے زمین کو زندہ کرتے ہیں اس کے مرے پیچھے اس طرح دوبارہ زندہ کیا جائے گا پھر ارشاد فرمایا پھر زمین و آسمان کے درمیان فرشتہ صور لے کر کھڑا ہوگا اس کو پھونکے گا پھر ہر روح اپنے جسم کی طرف چلے گی اور اس میں داخل ہوجائے گی فرمایا پھر کھڑے ہوں گے اور ایک آدمی کی طرح زندہ ہوں گے اور رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مخلوق کے لیے ایک صورت میں ظاہر ہوں گے اور ان لوگوں کو ملیں گے پس مخلوق میں سے جو کوئی اللہ کے علاوہ کسی اور چیز کی عبادت کرتا ہوگا ان میں سے کوئی بھی نہیں رہے گا مگر وہ چیز اس کے لیے بلند کی جائے گی وہ اس کے پیچھے چلے گا پس یہود سے ملیں گے اور کہیں گے تم کن کی عبادت کرتے ہو وہ کہیں گے ہم عزیر کی عبادت کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تمہیں پانی پسند ہے وہ کہیں گے جی ہاں (ارشاد فرمایا) اللہ تعالیٰ ان کو جہنم دکھائیں گے اور وہ سراب کی طرح ہوگی ( سراب سے مراد ریت جو دھوپ میں پانی دکھائی دیتی ہے) پھر حضرت عبداللہ نے آیت تلاوت کی ترجمہ اور ہم اس دن کفار کے سامنے جہنم کو لائیں گے۔ پھر نصاریٰ سے ملیں گے اور پوچھیں گے تم کس کی عبادت کرتے ہو وہ کہیں گے حضرت مسیح (عیسیٰ ) کی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ کیا تمہیں پانی پسند ہے وہ کہیں گے جی ہاں اللہ تعالیٰ انہیں جہنم دکھائیں گے اور وہ سراب (وہ چمکیلی ریت جو دھوپ کی روشنی سے پانی دکھائی دے) ہوگی۔ پھر فرمایا کہ پھر تمام وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کیا کرتے تھے ان کے ساتھ یہی معاملہ ہوگا۔ پھر حضرت عبداللہ نے آیت پڑھی ترجمہ :۔ ان کو ٹھہراؤ کیونکہ ان سے پوچھا جائے گا یہاں تک کہ مسلمانوں کی جماعت سامنے آئے گی اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو ؟ وہ کہیں گے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے ؟ راوی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40428
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40428، ترقيم محمد عوامة 38792)
حدیث نمبر: 40429
٤٠٤٢٩ - ثم قال عبد اللَّه: ويزعم أهل الكتاب أن المسيح عيسى بن مريم ينزل فيقتله (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40429
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40429، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 40430
٤٠٤٣٠ - قال أبو (الزعراء) (١): ما سمعت عبد اللَّه يذكر عن أهل الكتاب حديثا غير هذا.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40430
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40430، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 40431
٤٠٤٣١ - قال: ثم يخرج ياجوج وماجوج فيمرحون في الأرض فيفسدون فيها، ثم قرأ (عبد اللَّه) (١): ﴿وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ [الأنبياء: ٩٦] قال: ثم يبعث اللَّه عليهم دابة مثل هذا النغف (فتلج) (٢) في أسماعهم ومناخرهم فيموتون منها، (قال) (٣): فتنتن الأرض منهم فيجار إلى اللَّه فيرسل عليهم ماء (فيطهر) (٤) الأرض منهم، ثم قال: يرسل اللَّه ريحا زمهريرا باردة، فلا تذر على الأرض مؤمنا ⦗٣٩٦⦘ إلا (كفته) (٥) (تلك) (٦) الريح، قال: ثم تقوم الساعة على شرار الناس، قال: ثم يقوم ملك بين السماء والأرض بالصور فينفخ فيه، قال: والصور قرن، قال: فلا يبقى خلق (للَّه) (٧) في السماء ولا في الأرض إلا مات إلا ما شاء ربك، قال: ثم يكون بين النفختين ما شاء اللَّه أن يكون، قال: فيرش اللَّه ماء من تحت العرش (٨) كمني (٩) الرجال قال: فليس من (ابن) (١٠) آدم خلق (في الأرض إلا) (١١) منه شيء، قال: فتنبت أجسادهم (ولحمانهم) (١٢) من ذلك الماء كما (تنبت) (١٣) الأرض من الثرى، ثم قرأ عبد اللَّه: ﴿(وَاللَّهُ) (١٤) الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلَى بَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا كَذَلِكَ النُّشُورُ﴾ [فاطر: ٩]، قال: ثم يقوم ملك بين السماء والأرض بالصور فينفخ فيه، قال: فتنطلق كل نفس إلى جسدها فتدخل فيه، قال: ثم يقومون (فيحيون) (١٥) (تحية) (١٦) رجل واحد (قياما) (١٧) لرب العالمين، ثم يتمثل اللَّه للخلق فيلقاهم فليس أحد من الخلق ممن يعبد من دون اللَّه شيئا إلا وهو ⦗٣٩٧⦘ مرفوعٍ له (يتبعه) (١٨)، (فيلقى) (١٩) (اليهود) (٢٠) فيقول: من تعبدون؟ فيقولون: نعبد عزيرًا، فيقول: هل (يسركم) (٢١) الماء، قالوا: نعم، قال: فيريهم جهنم وهي كهيئة السراب، [ثم قرأ عبد اللَّه ﴿وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ (يَوْمَئِذٍ) (٢٢) لِلْكَافِرِينَ عَرْضًا﴾ [الكهف: ١٠٠]، (٢٣) ثم يلقى النصارى فيقول: من تعبدون؟ قالوا: نعبد المسيح، قال: يقول: هل (يسركم) (٢٤) الماء؟ قالوا: نعم، فيريهم جهنم وهي كهيئة السراب] (٢٥)، قال: ثم كذلك لمن كان يعبد من دون اللَّه شيئا، ثم (قرأ) (٢٦) عبد اللَّه: ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ [الصافات: ٢٤]، حتى (يمر) (٢٧) المسلمون فيقول: من تعبدون؛ فيقولون: نعبد اللَّه ولا نشرك به شيئا، قال: فيقول: هل تعرفون ربكم؟ فيقولون: سبحانه، إذا (اعترف لنا) (٢٨) عرفناه، قال: فعند ذلك يكشف عن ساق فلا يبقى أحد إلا (خر للَّه) (٢٩) ساجدًا، ويبقى النافقون (ظهورهم) (٣٠) (طبق واحد) (٣١) كأنما فيها ⦗٣٩٨⦘ (السفافيد) (٣٢)، قال: فيقولون: قد كنتم تدعون إلى السجود وأنتم سالمون، ويامر اللَّه (بالصراط) (٣٣) فيضرب على جهنم، قال: (فيمر) (٣٤) الناس زمرا على قدر أعمالهم، أولهم كلمح البرق، ثم كمر الريح ثم كمر الطير ثم كأسرع البهائم ثم كذلك حتى (يمر) (٣٥) الرجل سعيا، وحتى يمر الرجل ماشيا، وحتى يكون آخرهم رجل يتلبط على بطنه، فيقول: (أبطأتَ) (٣٦) بي، فيقول: لم أبطئ، إنما أبطأ بك عملك، قال: ثم يأذن اللَّه بالشفاعة فيكون أول شافع يوم القيامة روح القدس جبريل، ثم إبراهيم خليل الرحمن، ثم موسى أو عيسى (لا أدري موسى أو عيسى) (٣٧)، ثم يقوم (نبيكم) (٣٨) (٣٩) رابعا لا يشفع أحد بعده فيما شفع فيه، وهو المقام المحمود الذي ذكر اللَّه: ﴿(عَسَى) (٤٠) أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ [الإسراء: ٧٩]، فليس من نفس إلا (تنظر) (٤١) إلى بيت (في) (٤٢) النار أو بيت في الجنة، و (هو) (٤٣) يوم (الحسرة) (٤٤)، فيرى أهل النار البيت الذي في الجنة فيقال: لو ⦗٣٩٩⦘ (عملتم) (٤٥) (فتأخذهم) (٤٦) الحسرة، و (يرى) (٤٧) أهل الجنة البيت الذي في النار فيقولون: ﴿لَوْلَا (أَنْ مَنَّ اللَّهُ (٤٨) عَلَيْنَا) (٤٩) (لَخَسَفَ بِنَا) (٥٠)﴾ [القصص: ٨٢]، قال: ثم (يشفع) (٥١) الملائكة والنبيون والشهداء والصالحون والمؤمنون، فيشفعهم اللَّه، قال: ثم يقول: أنا أرحم الراحمين، قال: فيخرج من النار أكثر مما أخرج (٥٢) جميع الخلق برحمته حتى ما (يترك) (٥٣) فيها أحد (اً) (٥٤) (فيه) (٥٥) خير ثم قرأ عبد اللَّه: ﴿مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ﴾ [المدثر: ٤٢] قال: وجعل يعقد حتى عد أربعًا: ﴿قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ (٤٣) وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ (٤٤) وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ (٤٥) وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ (٤٦) حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ (٤٧) فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ﴾ [المدثر: ٤٣ - ٤٨]، ثم قال عبد اللَّه: أترون في هؤلاء خيرا؟ ما (يترك) (٥٦) فيها أحد (فيه) (٥٧) خير، فإذا أراد اللَّه أن لا يخرج منها (أحدًا) (٥٨) غيّر وجوههم وألوانهم فيجيء الرجل من المؤمنين ⦗٤٠٠⦘ (فيقول: يا رب) (٥٩)، فيقول: من عرف أحدا فليخرجه، قال: فيجيء فينظر فلا يعرف أحدا، قال: فيناديه الرجل: يا فلان، أنا فلان، فيقول: ما أعرفك، قال: فعند ذلك (يقولون: ﴿رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ﴾ قال) (٦٠): فيقول (عند ذلك) (٦١): ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ [المؤمنون: ١٠٨]، قال: فإذا قال ذلك أطبقت عليهم فلا يخرج منهم بشر (٦٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40431
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه النسائي (١١٢٩٦)، وابن خزيمة في التوحيد (٢٥٢)، والحاكم ٢/ ٥٠٧، والطيالسي (٣٨٩)، وابن جرير ١٥/ ١٤٤، والعقيلي ٢/ ٣١٤، وابن أبي حاتم في التفسير (١٨٩٥٧)، والطبراني (٩٧٦١)، والطحاوي في شرح المشكل ١٤/ ٨٠، وحنبل في الفتن (٤٤)، ونعيم (١٥١٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40431، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 40432
٤٠٤٣٢ - حدثنا أبو معاوية وابن نمير عن موسى الجهني عن زيد العمي عن أبي الصديق الناجي عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يكون في أمتي المهدي إن طال عمره أو قصر عمره يملك سبع سنين أو ثماني سنين أو تسع سنين، فيملوها قسطا وعدلا كما ملئت جورا، وتمطر السماء مطرها وتخرج الأرض بركتها، قال: وتعيش أمتي في زمانه عيشا لم تعشه قبل ذلك" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں مہدی ہوں گے ان کی عمر لمبی ہو یا ان کی عمر چھوٹی ہو وہ زمین پر سات سال یا آٹھ سال یا نوسال حکومت کریں گے پس وہ زمین کو عدل اور انصاف سے بھر دیں گے جیسا کہ اسے ظلم سے بھر دیا گیا تھا اور پھر آسمان سے بارش اترے گی اور زمین اپنی برکت نکالے گی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت ان کے زمانے میں ایسی زندگی گزارے گی جو اس سے پہلے اس نے نہ گزاری ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40432
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف زيد العمي، أخرجه أحمد ٣/ ٢٦ (١١٢٢٨)، والترمذي (٢٢٣٢)، وابن ماجه (٤٠٨٣)، والحاكم ٤/ ٥٥٨، وابن حبان (٦٨٢٣)، وابن الجوزي في العلل المتناهية (١٤٤١)، والداني (٥٤٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40432، ترقيم محمد عوامة 38793)
حدیث نمبر: 40433
٤٠٤٣٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عطية عن أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يخرج رجل من أهل بيتي عند انقطاع من الزمان وظهور من الفتن ⦗٤٠١⦘ يكون عطاؤه حثيا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی اخیر زمانے میں فتنوں کے ظاہر ہونے کے وقت نکلے گا۔ ان کی عطا ہاتھ بھر کر ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40433
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عطية العوفي، أخرجه أحمد وابنه (١١٧٥٧)، وأبو نعيم في أخبار أصبهان ٢/ ١٣٦، وأبو يعلى (١١٠٥)، ونعيم (١٠٥٦)، والداني (٥٠٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40433، ترقيم محمد عوامة 38794)
حدیث نمبر: 40434
٤٠٤٣٤ - حدثنا أبو معاوية عن داود عن أبي نضرة عن أبي سعيد عن النبي ﷺ قال: "يخرج في آخر الزمان خليفة يعطي الحق بغير عدد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اخیر زمانے میں ایسے خلیفہ نکلیں گے جو حق بغیر شمار کے عطا کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40434
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٩١٤)، وأحمد (١١٠١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40434، ترقيم محمد عوامة 38795)
حدیث نمبر: 40435
٤٠٤٣٥ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن أبي معبد عن ابن عباس (قال) (١): لا تمضي الأيام والليالي حتى يلي منا أهل البيت فتى لم تلبسه الفتن ولم يلبسها قال: قلنا: يا (أبا) (٢) (العباس) (٣) تعجز عنها مشيختكم وينالها (شبابكم؟) (٤) قال: هو أمر اللَّه يؤتيه من يشاء (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ دن اور راتیں نہیں گزریں گی یہاں تک کہ ہم اہل بیت سے ایک جوان والی بنیں گے جن کو فتنے اشتباہ میں نہ ڈالیں گے اور نہ وہ فتنوں کو مشتبہ کریں گے راوی نے فرمایا کہ ہم نے عرض کیا اے ابو العباس کیا تمہارے بوڑھے ان سے (ملنے سے) عاجز ہوجائیں گے اور تمہارے جوان ان کو پالیں گے انہوں نے فرمایا وہ اللہ کا امر ہے جسے چاہے عطا کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40435
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد اللَّه بن أحمد في فضائل الصحابة (١٨٩٠)، ونعيم (١٠٦٨)، والداني (٥٥٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40435، ترقيم محمد عوامة 38796)
حدیث نمبر: 40436
٤٠٤٣٦ - حدثنا وكيع عن فضيل بن مرزوق سمعه من ميسرة بن حبيب عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: منا (ثلاثة) (١): (منا) (٢) (السفاح) (٣) و (منا) (٤) المنصور ومنا المهدي (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ہم میں سے تین آدمی ہوں گے ہم میں سے سفاح ہوگا اور ہم میں سے منصور ہوگا اور ہم میں سے مہدی ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40436
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ فضيل بن مرزوق صدوق، وأخرجه الحاكم ٤/ ٥١٤، وعبد اللَّه بن أحمد في زوائد فضائل الصحابة (١٨٩١)، وورد مرفوعًا، أخرجه البيهقي في الدلائل ٦/ ٥١٤، والخطيب في تاريخ بغداد ١/ ٦٢، وابن عساكر ٣٢/ ٢٨٠، وابن الجوزي في العلل (٤٦٩)، والمنتظم ٧/ ٢٩٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40436، ترقيم محمد عوامة 38797)
حدیث نمبر: 40437
٤٠٤٣٧ - حدثنا يعلى بن عبيد عن الأجلح عن عمار الدهني عن سالم عن عبد اللَّه بن عمرو قال: يا أهل الكوفة، أنتم أسعد الناس بالمهدي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ اے کوفہ والو تم مہدی کی وجہ سے لوگوں میں سب سے زیادہ خوش بخت ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40437
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ الأجلح صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40437، ترقيم محمد عوامة 38798)
حدیث نمبر: 40438
٤٠٤٣٨ - حدثنا الفضل بن دكين وأبو داود عن ياسين العجلي عن إبراهيم بن محمد بن الحنفية عن أبيه عن علي عن النبي ﷺ قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "المهدي منا أهل البيت يصلحه اللَّه في ليلة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ مہدی ہم میں سے یعنی اہل بیت میں سے ہوں گے ایک رات میں (امارت و خلافت کے لیے) اللہ تعالیٰ ان کو صلاحیت دیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40438
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف العجلي، أخرجه أحمد (٦٤٥)، وابن ماجه (٤٠٨٥)، والعقيلي (٢١٠٠)، وأبو يعلى (٤٦٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40438، ترقيم محمد عوامة 38799)
حدیث نمبر: 40439
٤٠٤٣٩ - حدثنا وكيع عن ياسين عن إبراهيم بن محمد (عن أبيه) (١) عن علي مثله ولم يرفعه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس اوپر والی روایت کی مثل منقول ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (اس کو) مرفوعاً نقل نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40439
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال ياسين، وانظر: ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40439، ترقيم محمد عوامة 38800)
حدیث نمبر: 40440
٤٠٤٤٠ - حدثنا الوليد بن عتبة عن زائدة عن ليث عن مجاهد قال: المهدي عيسى ابن مريم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ مہدی وہ عیسیٰ ابن مریم ہیں (فائدہ : اس روایت میں عیسیٰ کو مہدی قرار دیا گیا اس سے وہ مہدی ہیں جن کا نام محمد بن عبداللہ ہے ان کی نفی لازم نہیں آتی کیونکہ عیسیٰ ہدایت یافتہ لوگوں اور عصمت و علو منزلت والے انبیائ کی جماعت میں سے ہیں لہذا مہدی ہونا لغوی معنیٰ کے اعتبار سے ہے۔ ورنہ عیسیٰ اور مہدی کا دو الگ الگ شخصیتیں ہونا روز روشن کی طرح بیشمار احادیث صحیحہ اور متواترہ سے ثابت ہے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40440
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40440، ترقيم محمد عوامة 38801)