حدیث نمبر: 40361
٤٠٣٦١ - حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة عن طلحة بن عبيد اللَّه (بن) (١) كَرِيز قال: قال عمر: إن أخوف ما أتخوف عليكم (شح) (٢) مطاع، وهوى متبع، ⦗٣٧٠⦘ وإعجاب المرء برأيه، (وهي) (٣) أشدهن (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر سے روایت ہے ارشاد فرمایا بلاشبہ سب سے زیادہ خوف مجھے تم پر اس بخل کا ہے جس کے تقاضوں کی اطاعت کی جائے اور خواہش کا ہے جس کی پیروی کی جائے اور آدمی کا اپنی رائے پر خوش ہونے کا ہے جو ان سب سے زیادہ سخت ہے۔
حدیث نمبر: 40362
٤٠٣٦٢ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) كثير بن زيد عن المطلب بن عبد اللَّه بن حنطب قال: قال: ما أتخوف عليكم أحد رجلين: مؤمن قد استبان إيمانه، وكافر قد تبين كفره، ولكن (أتخوف) (٢) عليكم متعوذا بالإيمان يعمل (بغيره) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطلب بن عبداللہ بن حنطب سے روایت ہے ارشاد فرمایا دو آدمیوں میں سے کسی ایک کے بارے میں مجھے خوف نہیں ایک مومن جس کا ایمان واضح ہے اور دوسرا کافر جس کا کفر واضح ہے لیکن مجھے خوف تم پر اس آدمی کے بارے میں ہے جو ایمان کے ذریعے پناہ پکڑنے والا ہے اور عمل اسلام کے علاوہ کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 40363
٤٠٣٦٣ - حدثنا وكيع عن شعبة عن قتادة عن واقع بن سحبان عن طريف بن يزيد (أو يزيد) (١) بن طريف عن أبي موسى قال: إن بين يدي الساعة أياما (ينزل) (٢) فيها الجهل ويرفع فيها العلم حتى يقوم الرجل إلى أمه فيضربها (بـ) (٣) السيف (من الجهل) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا بلاشبہ قیامت سے پہلے ایسے ایام آئیں گے جن میں جہالت اتاری جائے گی اور علم ان میں اٹھا لیا جائے گا یہاں تک کہ ایک آدمی اپنی ماں کی طرف کھڑا ہوگا اور جہالت کی وجہ سے اسے تلوار سے ماردے گا۔
حدیث نمبر: 40364
٤٠٣٦٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عمرو بن قيس عن عطية عن ابن عمر في قوله: ﴿وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ﴾ [النمل: ٨٢] قال: حين لا يأمرون بمعروف ولا ينهون عن منكر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول ” واذا وقع القول علیہم اخرجنا الایۃ “ اور جب ہماری بات پوری ہونے کا وقت ان پر آن پہنچے گا تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے بات کرے گا کے بارے میں ارشاد فرمایا یہ اس وقت ہوگا جب لوگ بھلائی کا حکم نہیں دیں گے اور نہ برائی سے روکیں گے۔
حدیث نمبر: 40365
٤٠٣٦٥ - (حدثنا) (١) شريك عن شبيب بن (غرقدة) (٢) عن المستظل بن حصين قال: قال علي: يا أهل الكوفة! (لتأمرن) (٣) بالمعروف (و) (٤) لتنهون عن المنكر، ولتجدّن في أمر اللَّه أو (ليسومنكم) (٥) أقوامًا يعذبونكم ويعذبهم اللَّه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا اے کوفہ والو ضرور تم بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو وگرنہ تم اللہ کے امر کو پاؤ گے یا اللہ تعالیٰ تم پر ایسی قوموں کو مسلط کریں گے جو تم کو عذاب دیں گی اور اللہ ان کو عذاب دیں گے۔
حدیث نمبر: 40366
٤٠٣٦٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب عن أبي الطفيل قال: قيل لحذيفة: ما ميت الأحياء؟ قال: من لم يعرف المعروف بقلبه، وينكر المنكر بقلبه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ان سے پوچھا گیا زندہ لوگوں میں سے مردہ کون سے ہوتے ہیں ارشاد فرمایا وہ آدمی جو اپنے دل سے نیکی کو اچھا نہ جانے اور برائی کو اپنے دل سے ناپسند نہ کرے۔
حدیث نمبر: 40367
٤٠٣٦٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن قيس بن راشد عن أبي جحيفة عن علي قال: إن أول ما تغلبون عليه من الجهاد: الجهاد بأيديكم، ثم الجهاد بألسنتكم ثم الجهاد بقلوبكم، فأي قلب لم يعرف المعروف (١) نكس (فجعل) (٢) أعلاه أسفله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا بلاشبہ جہاد میں سے پہلی وہ قسم جس سے تم پر غلبہ پالیا جائے گا وہ ہاتھوں سے جہاد ہے پھر تمہارا زبان سے جہاد کرنا ہے پھر دل سے جہاد کرنا ہے پس جو کوئی دل بھلائی کو اچھا نہ جانے اور برائی کو برا نہ سمجھے اسے اوندھا کردیا جائے گا اور اس کے اوپر کی جانب کو نیچے کی جانب کردیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 40368
٤٠٣٦٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن زبيد عن الشعبي عن أبي جحيفة عن علي قال: فينكس كما ينكس الجراب (فينثر) (١) ما فيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا (امر بالمعروف اور نھی عن المنکر نہ کرنے والا) اس کا دل پلٹ دیا جاتا ہے جیسا کہ مشکیزے کو اوندھا کردیا جاتا ہے پس جو اس مشکیزے میں ہوتا ہے وہ بکھر جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 40369
٤٠٣٦٩ - حدثنا شريك عن سماك (١) عن زوج درة (عن درة) (٢) قالت: دخلت على النبي ﷺ وهو في المسجد فقلت: من أتقى الناس؟ قال: "آمرهم بالمعروف وأنهاهم عن المنكر وأوصلهم للرحم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت درہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے میں نے عرض کیا لوگوں میں سب سے زیادہ متقی کون ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان میں نیکی کا زیادہ حکم دینے والا اور ان میں سے برائی سے زیادہ روکنے والا اور ان میں سے رشتے داری کو زیادہ جوڑنے والا۔
حدیث نمبر: 40370
٤٠٣٧٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن قُيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: قال: (عتريس) (١) (لعبد اللَّه) (٢): هلك من لم يأمر بالمعروف و (٣) ينه عن المنكر، فقال عبد اللَّه: بل هلك من لم يعرف المعروف بقلبه وينكر المنكر بقلبه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عتریس نے حضرت عبداللہ سے کہا جس آدمی نے بھلائی کا حکم نہیں دیا اور برائی سے روکا نہیں وہ ہلاک ہوگیا حضرت عبداللہ نے فرمایا بلکہ ہلاک تو وہ آدمی ہوا جس نے بھلائی کو دل سے اچھا نہ جانا اور برائی کو دل سے برا نہ سمجھا۔
حدیث نمبر: 40371
٤٠٣٧١ - حدثنا جرير عن عبد الملك بن عمير عن الربيع بن (عميلة) (١) قال: قال عبد اللَّه: إنها ستكون هنات وهنات، فبحسب امرئ (٢) إذا رأى منكرا لا يستطيع له (غِيَرًا: أن) (٣) (يعلم) (٤) اللَّه من قلبه أنه (له) (٥) كاره (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے فرمایا کہ عنقریب فتنے اور فتنے ہوں گے کسی بھی آدمی کے لیے جو ایسے منکر اور برائی کو دیکھے جس کو بدلنے کی طاقت نہ رکھتا ہو یہ بات کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ جان لیں کہ وہ اس برائی کو ناپسند کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 40372
٤٠٣٧٢ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير وأبو أسامة (قالا) (١): (حدثنا) (٢) إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال: قام أبو بكر فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: يا أيها الناس! إنكم تقرؤون هذه الآية: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا (عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ) (٣) لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ [المائدة: ١٠٥]، وإنا سمعنا رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن الناس إذا رأوا المنكر لا (يغيرونه) (٤) أوشك اللَّه أن (يعمهم) (٥) بعقابه"، قال أبو أسامة: وقال مرة أخرى: وأنا سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت ابوبکر کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا کی پھر ارشاد فرمایا اے لوگو ! تم یہ آیت پڑھتے ہو : اہل ایمان ! تم پر تمہاری جانیں لازم ہیں جب تم ہدایت پر ہو تو کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں دے گی اور بلاشبہ جب لوگ برائی کو دیکھ کر اسے بدلیں گے نہیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر عذاب بھیج دیں ابو امامہ راوی فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ ارشاد سنا ہے۔
حدیث نمبر: 40373
٤٠٣٧٣ - حدثنا جرير عن عبد العزيز بن رفيع عن شداد بن معقل قال: قال عبد اللَّه: يوشك أن لا تأخذوا من الكوفة نقدا ولا درهما، (قال) (١): قلت: وكيف يا عبد اللَّه ابن مسعود؟ قال: يجيء قوم (كأن) (٢) وجوههم (المجان) (٣) المطرقة حتى يربطوا خيولهم على (السواد) (٤) فيجلوكم إلى منابت (الشيح) (٥) حتى يكون البعير والزاد أحب إلى أحدكم من القصر من قصوركم (هذه) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شداد بن معقل سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ نے ارشاد فرمایا قریب ہے کہ تم کوفہ سے کوئی رقم اور کوئی درہم نہیں لوگے میں نے عرض کیا یہ کیسے ہوگا اے عبداللہ بن مسعود انہوں نے فرمایا ایسے لوگ آئیں گے جن کے چہرے پھولی ہوئی ڈھال کی طرح ہوں گے یہاں تک کہ وہ اپنے گھوڑوں کو اطراف میں باندھیں گے اور تمہیں گھاس اگنے کی جگہوں کی طرف نکال دیں گے یہاں تک کہ اونٹ اور زاد راہ تم میں سے کسی ایک کو تمہارے ان محلات میں سے محل سے زیادہ محبوب ہوگا۔
حدیث نمبر: 40374
٤٠٣٧٤ - حدثنا أبو الأحوص عن عبد العزيز بن رفيع عن شداد بن معقل الأسدي قال: سمعت ابن مسعود يقول: أول ما تفقدون من دينكم الأمانة، وآخر ما (تفقدون) (١) (منه) (٢) الصلاة، وسيصلي قوم (و) (٣) لا دين لهم، وإن هذا القرآن الذي بين أظهركم كأنه قد نزع منكم، قال: قلت: (كيف) (٤) (يا) (٥) عبد اللَّه وقد ⦗٣٧٥⦘ (أثبته) (٦) اللَّه في قلوبنا؟ قال: يسرى عليه في ليلة فترفع (المصاحف) (٧) وينزع ما في القلوب، ثم تلا: ﴿(وَلَئِنْ) (٨) شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ﴾ [الإسراء: ٨٦] إلى (آخر) (٩) الآية (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شداد بن معقل اسدی سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے سنا فرمایا کہ پہلی وہ چیز جو تم اپنے دین سے گم کرو گے امانت ہے اور آخری چیز جو تم دین سے گم کرو گے نماز ہے اور عنقریب لوگ نماز پڑھیں گے اور ان کے پاس دین نہیں ہوگا اور یہ قرآن جو تمہارے درمیان موجود ہے گویا کہ تم سے لے لیا جائے گا فرمایا کہ میں نے عرض کیا یہ کیسے ہوگا اے عبداللہ ! حالانکہ اللہ نے اس کو ہمارے قلوب میں جمایا ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک رات میں ان مصاحف کو اٹھا لا جائے گا اور جو قرآن کا حصہ قلوب میں ہوگا اسے نکال لیا جائے گا پھر یہ آیت تلاوت کی : اور اگر ہم چاہیں تو جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے اسے لے جائیں آیت کے اخیر تک۔
حدیث نمبر: 40375
٤٠٣٧٥ - حدثنا فضيل بن عياض عن الأعمش عن خيثمة عن عبد اللَّه بن (عمرو) (١) قال: يأتي على الناس زمان يجتمعون (ويصلون) (٢) في (المساجد) (٣) وليس فيهم مؤمن (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے ارشاد فرمایا لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا وہ مساجد میں مجتمع ہوں گے اور نماز پڑھیں گے اور ان میں کوئی مومن (ایمان والا) نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 40376
٤٠٣٧٦ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا زكريا عن أبي إسحاق عن أبي العالية عبد اللَّه بن سلمة الهمداني عن أبي ميسرة قالت: (تبقى) (١) رجرجة من الناس لا يعرفون حقا ولا ينكرون منكرًا، يتراكبون تراكب الدواب والأنعام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو میسرہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ (اخیر میں) رذیل قسم کے لوگ باقی رہ جائیں گے جو حق کو نہیں پہچانیں گے اور برائی کو ناپسند نہیں کریں گے چوپاؤں اور جانوروں کی طرح ایک دوسرے پر ڈھیر ہوتے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 40377
٤٠٣٧٧ - حدثنا أبو أسامة عن (مجالد) (١) عن الشعبي قال: لا تقوم الساعة حتى يصير العلم (جهلًا) (٢) والجهل علمًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام شعبی سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ علم جہالت اور جہالت علم ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 40378
٤٠٣٧٨ - حدثنا وكيع عن جعفر بن برقان عن يزيد بن الأصم عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: تكثر الفتن و (يكثر) (١) الهرج"، قلنا: وما الهرج؟ قال: "القتل -وينقص العلم"، قال: "أما إنه ليس ينزع (٢) من صدور الرجال، ولكن (بقبض) (٣) العلماء" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا فتنے کثرت سے ہوجائیں گے اور ہرج کثرت سے ہوجائے گا ہم نے عرض کیا ہرج کیا چیز ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قتل اور علم کم ہوجائے گا ارشاد فرمایا باقی یہ (علم) آدمیوں کے قلوب سے نہیں نکالا جائے گا لیکن علماء کی موت کی وجہ سے (علم کم ہوجائے گا)
حدیث نمبر: 40379
٤٠٣٧٩ - قال: وحدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام عن أبيه عن عبد اللَّه ابن عمرو قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه لا يقبض العلم انتزاعا (ينزع) (١) من الناس، ولكن يقبض العلم بقبض العلماء حتى إذا لم يبق عالم اتخذ الناس رؤساء جهالا (فسئلوا) (٢) فأفتوا بغير علم، فضلوا وأضلوا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے کھینچ کر نہیں اٹھائیں گے لیکن علم کو اٹھائیں گے علماء کو (دنائ سے) اٹھا کر یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پوشیا بنالیں گے ان سے پوچھا جائے گا وہ بغیر علم کے فتوی دیں گے پس وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور (دوسروں کو بھی) گمراہ کریں گے۔
حدیث نمبر: 40380
٤٠٣٨٠ - حدثنا وكيع عن مسعر عن وبرة عن خرشة بن الحر قال: قال عمر: تهلك العرب (حين) (١) تبلغ (أبناء) (٢) بنات فارس (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا عرب اس وقت ہلاک ہوں گے جب فارس کی لڑکیوں کی اولاد بالغ ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 40381
٤٠٣٨١ - حدثنا وكيع عن هشام عن أبيه عن عبد اللَّه بن عمرو قال: لم يزل أمر بني إسرائيل معتدلا حتى (نشأ) (١) فيهم أبناء سبايا الأمم، فقالوا فيهم بالرأي فضلوا وأضلوا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل کی حالت میں ہمیشہ اعتدال رہا یہاں تک کہ ان میں دوسری قوموں کی باندیوں کی اولاد پیدا ہوگئی پھر انہوں ں نے اپنی رائے سے باتیں بنائیں، وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔
حدیث نمبر: 40382
٤٠٣٨٢ - حدثنا وكيع عن يزيد عن ابن سيرين عن ابن مسعود قال: يقطع (١) رجل أول النهار، ويفيض المال من آخره (فلا) (٢) يجد أحدا (يقبله) (٣) فيراه فيقول: يا حسرتي، في هذا قطعت يدي بالأمس (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا کہ دن کے اول حصے میں کسی آدمی کا ہاتھ (مال کی وجہ سے) کاٹا جائے گا اور دن کے اخیر میں اس کے لیے مال کثرت سے ہوجائے گا وہ کوئی ایسا آدمی نہیں پائے گا جو مال قبول کرے وہ اس مال کو دیکھ کر کہے گا ہائے میری حسرت اس کی وجہ سے گزشتہ کل میرا ہاتھ کاٹا گیا۔
حدیث نمبر: 40383
٤٠٣٨٣ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن شقيق عن أبي موسى قال: إن ⦗٣٧٨⦘ (الدينار والدرهم) (١) (أهلكا) (٢) من كان قبلكم، وهما مهلكاكم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ درہم اور دیناروں نے تم سے پہلے والے لوگوں کو ہلاک کیا اور وہ دونوں تم کو بھی ہلاک کرنے والے ہیں۔
حدیث نمبر: 40384
٤٠٣٨٤ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن وهب بن جابر عن عبد اللَّه بن عمرو قال: إذا طلعت الشمس من مغربها ذهب الرجل (إلى المال كنزه) (١) فيستخرجه فيحمله على ظهره فيقول: من (٢) له في هذه؟ (فيقال) (٣) له: أفلا جئت به بالأمس؟ فلا يقبل (منه) (٤)، فيجيء إلى المكان الذي احتفره فيضرب به الأرض ويقول: ليتني لم أرك (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا کہ جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو آدمی اپنے اس مال کی طرف جائے گا جسے اس نے زمین میں دفن کیا ہوگا پس وہ اسے نکالے گا اور اپنی پشت پر اسے لاد کر کہے گا کس کو اس مال میں رغبت ہے اس سے کہا جائے گا تو اسے گزشتہ کل کیوں نہ لایا پس اس سے نہ قبول کیا جائے گا وہ اسے اسی جگہ لائے گا جہاں سے کھود کر اسے لایا تھا وہ زمین پر اسے مارے گا اور کہے گا کاش میں نے تجھے نہ دیکھا ہوتا۔
حدیث نمبر: 40385
٤٠٣٨٥ - حدثنا وكيع عن فضيل بن (غزوان) (١) عن أبي حازم عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ثلاث (إذا) (٢) خرجن لا ينفع نفسا إيمانها لم تكن آمنت من قبل: طلوع الشمس من مغربها، والدجال، والدابة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جب نکل آئیں گی تو اس وقت کسی ایسے نفس کو جو ایمان نہ لایا ہو ایمان لانا نفع نہ دے گا سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور دجال اور چوپائے کا نکل آنا۔
حدیث نمبر: 40386
٤٠٣٨٦ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن عطية عن أبي سعيد: ﴿يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا﴾ [الأنعام: ١٥٨]، قال: طلوع الشمس من مغربها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے رواکیت ہے کہ آیت { یَوْمَ یَأْتِی بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لاَ یَنْفَعُ نَفْسًا إیمَانُہَا } (جس دن آپ کے رب کی بڑی نشانی آپہنچے گی کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہ آئے گا جو پہلے ایمان نہیں رکھتا) ارشاد فرمایا اس سے مراد سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے۔
حدیث نمبر: 40387
٤٠٣٨٧ - [حدثنا وكيع عن شعبة عن قتادة عن زرارة بن (١) أوفى عن ابن مسعود قال: طلوع الشمس من مغربها] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مسعودڈ سے روایت ہے ارشاد فرمایا سورج کا مغرب سے طلوع ہونا (اس آیت کی مراد ہے)
حدیث نمبر: 40388
٤٠٣٨٨ - حدثنا وكيع (عن سفيان) (١) عن منصور عن الشعبي عن عائشة (قالت) (٢): إذا خرجت (٣) الآيات حبست الحفظة، وطرحت الأقلام، وشهدت الأجساد على الأعمال (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا کہ جب (قیامت کی ) نشانیوں میں سے پہلی نشانی ظاہر ہوگی تو کراماً کاتبین کو روک دیا جائے گا اور قلمیں پھینک دی جائیں گی اور جسم اعمال پر گواہی دیں گے۔
حدیث نمبر: 40389
٤٠٣٨٩ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن (أبي) (١) خيثمة عن عبد اللَّه بن عمرو قال: يمكث الناس بعد طلوع الشمس من مغربها عشرين ومائة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ لوگ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے بعد ایک سو بیس سال زندہ رہیں گے (حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں یہ مدت والی روایت اولاً مرفوعاً ثابت نہیں اگر ثابت ہو تو مراد یہ ہے کہ ایک سو بیس سال مہینوں یا اس سے کم میں گزرجائیں گے) ۔
حدیث نمبر: 40390
٤٠٣٩٠ - حدثنا وكيع عن ابن عون عن ابن سيرين قال: قال ابن مسعود: كلل ما وعد اللَّه ورسوله (١) قد رأينا غير أربع: طلوع الشمس من مغربها، والدجال، والدابة، وياجوج وماجوج (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے ارشاد فرمایا ہر وہ چیز جس کا اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وعدہ کیا تھا وہ ہم نے دیکھ لیں سوائے چار کے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور دجال اور جانور اور یاجوج اور ماجوج (کا نکلنا)
حدیث نمبر: 40391
٤٠٣٩١ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن أبيه عن أبي هريرة قال: يأتي على الناس زمان يكون الجمل الضابط أحب إلى أحدكم من أهله وماله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ قوی اونٹ تم میں ہر کسی کو اپنے اہل اور مال سے زیادہ محبوب ہوگا۔
حدیث نمبر: 40392
٤٠٣٩٢ - حدثنا وكيع عن أبي جعفر عن الربيع عن (١) أبي العالية عن أبيّ: ﴿قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ﴾ [الأنعام: ٦٥]، قال: هي أربع خلال، وكلهن واقع لا محالة، فمضت (اثنتان) (٢) بعد وفاة النبي ﷺ بخمسة وعشرين عامًا، وألبسوا شيعا وذاق بعضهم بأس بعض، واثنتان واقعتان لا محالة: الخسف (والرجم) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ حضرت ابی سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلَی أَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِکُمْ أَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَیُذِیقَ بَعْضَکُمْ بَأْسَ بَعْضٍ } آپ کہہ دیں اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے یا تمہارے پاؤں تلے سے یا تم کو گروہ گروہ کر کے سب کو بھڑادے تمہیں ایک دوسرے کی لڑائی کا مزہ چکھا دے ارشاد فرمایا کہ وہ چار باتیں ہیں ان میں ہر ایک یقینا واقع ہوگی دو تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے پچیس (٢٥) سال بعد گزر گئیں ان کو گروہ گروہ کر کے لڑایا گیا اور انہوں نے ایک دوسرے کی لڑائی کا مزہ چکھا اور دو لا محالہ طور پر وقوع پذیر ہوں گی زمین میں دھنسانا اور پتھروں کی بارش۔
حدیث نمبر: 40393
٤٠٣٩٣ - حدثنا وكيع عن عبادة بن مسلم الفزاري عن جبير بن أبي سليمان ابن جبير بن مطعم عن ابن عمر أن النبي ﷺ كان يقول في دعائه اللهم: "إني أعوذ ⦗٣٨١⦘ بك (أن) (١) أغتال من تحتي"، -يعني الخسف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دعا میں یوں کہتے تھے اے اللہ ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں اچانک اپنے نیچے سے ہلاک کردیا جاؤں مراد تھی دھنسانے کے ذریعے۔
حدیث نمبر: 40394
٤٠٣٩٤ - حدثنا وكيع عن الوليد بن عبد اللَّه بن جميع عن عبد الملك بن المغيرة عن ابن (البيلماني) (١) عن ابن عمر قال: تخرج الدابة ليلة جمع والناس يسيرون إلى منى فتحملهم بين عجزها وذنبها، فلا (يبقى) (٢) منافق إلا خطمته، قال: و (تمسح) (٣) المؤمن، قال: فيصبحون وهم أشر من الدجال (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ جانور مزدلفہ کی رات نکلے گا اس حال میں کہ لوگ منی کی طرف جارہے ہوں گے وہ ان کو پچھلے حصہ اور دم کے درمیان سوار کرے گا کوئی منافق نہیں بچے گا مگر اسے نشانی لگائے گا مومن کو چھوئے گا لوگ اس وقت دجال سے بھی زیادہ شریر ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 40395
٤٠٣٩٥ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن سماك عن إبراهيم (قال) (١): دابة الأرض (تخرج) (٢) من مكة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ دابۃ الارض (چوپایہ) مکہ مکرمہ سے نکلے گا۔
حدیث نمبر: 40396
٤٠٣٩٦ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا زهير عن أبي إسحاق قال: قالت عائشة: الدابة (تخرج) (١) من (٢) أجياد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ جانور مقام اجیاد سے نکلے گا۔
حدیث نمبر: 40397
٤٠٣٩٧ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن علي (بن زيد) (٢) بن (جدعان) (٣) عن عبد الملك بن عمير عن عبد اللَّه بن (عمرو) (٤) قال: (تخرج) (٥) الدابة من جبل أجياد أيام التشريق، والناس بمنى قال: (فلذلك) (٦) حيى (سابق) (٧) الحاج إذا (جاء بسلامة الناس) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ وہ جانور ایام تشریق میں مقام اجیاد سے نکلے گا اس حال میں کہ لوگ منی میں ہوں گے انہوں نے فرمایا یہی وجہ ہے حاجیوں میں سے پہلے آنے والے کو مبارک دی جاتی ہے جبکہ وہ لوگوں کو سلامتی کے ساتھ لے آئے۔
حدیث نمبر: 40398
٤٠٣٩٨ - حدثنا جرير عن منصور عن الشعبي قال: قالت عائشة: إذا ظهر أول الآيات (رفعت) (١) الأقلام، وشهدت الأجساد على الأعمال، وحبست الحفظة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرمایا کہ جب نشانیوں میں (قیامت کی بڑی) نشانیوں میں سے پہلی نشانی ظاہر ہوگی تو قلمیں اٹھا لی جائیں گی اور جسم اعمال پر گواہی دیں گے اور کراماً کا تبین کو (لکھنے سے) روک دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 40399
٤٠٣٩٩ - [حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) هشام عن حفصة عن أبي العالية قال: ما بين أول الآيات وآخرها ستة أشهر تتابع كما تتابع الخرز في النظام] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا انہوں نے فرمایا کہ پہلی نشانی اور آخری نشانی کے درمیان چھ مہینے کا فاصلہ ہوگا اور اس میں نشانیاں پے درپے واقع ہوں گی جیسے (لڑی ٹوٹنے پر) موتی ایک دوسرے کے پیچھے گرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 40400
٤٠٤٠٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن أبي المهزم عن أبي هريرة قال: ما بين أول الآيات وآخرها ثمانية أشهر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ پہلی نشانی اور آخری نشانی کے درمیان آٹھ مہینے کا فاصلہ ہوگا۔
…