حدیث نمبر: 40281
٤٠٢٨١ - حدثنا (أبو) (١) معاوية عن الأعمش عن خيثمة عن عبد اللَّه بن عمرو قال: ينزل المسيح ابن مريم، فإذا رآه الدجال ذاب كما تذوب الشحمة، قال: فيقتل الدجال و (تفرق) (٢) عنه اليهود، فيقتلون حتى إن الحجر يقول: يا عبد اللَّه (المسلم) (٣) هذا يهودي، (فتعال) (٤) (فاقتله) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت عیسیٰ بن مریم اتریں گے جب دجال ان کو دیکھے گا تو پگھلے گا جیسے چر بی پگھلتی ہے فرمایا کہ دجال لڑائی کرے گا اور یہود اس سے جدا ہوجائیں گے ان یہود کو قتل کیا جائے گا یہاں تک کہ پتھر کہے گا اے اللہ کے مسلمان بندے یہ یہودی ہے آؤ اور اسے قتل کرو۔
حدیث نمبر: 40282
٤٠٢٨٢ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سعيد عن أبي هريرة رفعه قال: إلا تقوم الساعة حتى ينزل عيسى ابن مريم (١) حكما مقسطا وإماما عادلا، فيكسر الصليب، ويقتل الخنزير، ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله أحد" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ مرفوعاً نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ عیسیٰ بن مریم اتریں گے انصاف کرنے والے فیصل اور عادل امام ہوں گے پس صلیب توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے اور مال کثرت سے ہوجائے گا یہاں تک کہ اسے کوئی بھی قبول نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 40283
٤٠٢٨٣ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن حنظلة الأسلمي قال: سمعت أبا هريرة يقول: والذي نفس محمد بيده (ليهلن) (١) ابن مريم بفج الروحاء حاجا أو معتمرا أو ليثنيهما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے حضرت عیسیٰ بن مریم مقام فج الروحاء سے حج یا عمرے کا احرام باندھیں گے یا دونوں کو ملا کر دونوں کا احرام باندھیں گے۔
حدیث نمبر: 40284
٤٠٢٨٤ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن حسان بن المخارق عن (عقار) (١) بن المغيرة عن أبي هريرة قال: إن المساجد (لتجدد) (٢) لخروج المسيح وإنه سيخرج فيكسر الصليب، ويقتل الخنزير، ويؤمن به من أدركه، فمن أدركه منكم (فليقرئه) (٣) مني السلام، ثم التفت إليَّ فقال: يا ابن أخي! إني أراك من أحدث القوم، فإن أدركته (فأقرئه) (٤) مني السلام (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا مسجدیں عیسیٰ کے آنے پر نئی ہوں گی وہ عنقریب نکلیں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور ان پر ایمان لائے گا جو ان کو پائے گا جو کوئی تم میں سے ان کو پالے تو ان کو میری جانب سے سلام کہے پھر میری طرف متوجہ ہوئے (یہ راوی حضرت عقار بن مغیرہ کا قول ہے) اور فرمایا اے بھتیجے ! میں تمہیں لوگوں میں سب سے زیادہ نو عمر سمجھتا ہوں۔ لہٰذا اگر تو ان کو پالے تو ان کو میرا سلام کہنا۔
حدیث نمبر: 40285
٤٠٢٨٥ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك قال: سمعت إبراهيم يقول: إن المسيح خارج فيكسر الصليب، ويقتل الخنزير، ويضع الجزية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے ابراہیم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بلاشبہ عیسیٰ نکلنے والے ہیں وہ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے۔
حدیث نمبر: 40286
٤٠٢٨٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: قال أبو بكر: هل بالعراق أرض يقال: لها خراسان؟ قالوا: نعم، قال: فإن الدجال يخرج منها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابوبکر نے پوچھا کیا عراق میں ایسی زمین ہے جسے خراسان کہا جاتا ہے لوگوں نے عرض کیا جی ہاں تو حضرت ابوبکر نے ارشاد فرمایا یقینا وہاں سے دجال نکلے گا۔
حدیث نمبر: 40287
٤٠٢٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حُدثت عن روح بن عبادة عن ابن أبي (عروبة عن أبي) (١) التياح عن المغيرة بن سبيع عن عمرو بن حريث عن أبي بكر عن النبي ﷺ قال: "الدجال يخرج من خراسان" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت ابوبکر روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال خراسان سے نکلے گا۔
حدیث نمبر: 40288
٤٠٢٨٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن أبي هريرة قال: يهبط الدجال من (خوز و) (١) كرمان معه ثمانون ألفا عليهم الطيالسة، (ينتعلون) (٢) الشعر كأن وجوههم مجان مطرقة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا کہ دجال مقام خوز اور کرمان سے اترے گا اس کے ساتھ اسی ہزار لوگ ہوں گے جن پر سبز رنگ کی چادریں ہوں گی ان کے بال ان کے پاؤں تک ہوں گے اور ان کے چہرے گویا کہ پھولی ہوئی ڈھال کی طرح ہوں گے (یعنی وہ ڈھال جس پر کرتے لپٹے ہوں)
حدیث نمبر: 40289
٤٠٢٨٩ - حدثنا عبدة بن سليمان ووكيع عن مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن (حوط) (١) العبدي قال عبد اللَّه: إن أذن حمار الدجال لتظل سبعين ألفا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا یقینا دجال کے گدھے کے کان ستر ہزار کو ڈھانپ لیں گے۔
حدیث نمبر: 40290
٤٠٢٩٠ - حدثنا المحاربي عن ليث عن بشر عن أنس قال: إن بين يدي الدجال لستا وسبعين (دجالا) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے انہوں نے فرمایا بلاشبہ دجال سے پہلے ستر سے اوپر دجال ہوں گے (یعنی چھوٹے دجال)
حدیث نمبر: 40291
٤٠٢٩١ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن (عمير) (١) عن جابر ابن سمرة عن نافع بن عتبة بن أبي وقاص عن النبي ﷺ قال: "تقاتلون جزيرة العرب فيفتحها اللَّه، (ثم تقاتلون فارس فيفتحها اللَّه) (٢)، ثم تقاتلون الروم فيفتحها اللَّه، ثم تقاتلون الدجال فيفتحه اللَّه" قال جابر: فلا يخرج الدجال حتى تفتح الروم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع بن عتبہ بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم جزیرۃ العرب سے لڑائی کرو گے اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائیں گے پھر تم فارس والوں سے لڑائی کرو گے اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائیں گے پھر تم روم والوں سے لڑائی لڑوگے اللہ تعالیٰ تمہیں فتح عطا فرمائیں گے پھر تم دجال سے لڑائی کرو گے اللہ تعالیٰ اس پر تمہیں فتح عطا کریں گے حضرت جابر بن سمرہ نے فرمایا دجال خروج نہیں کرے گا یہاں تک کہ روم فتح ہوجائے ۔
حدیث نمبر: 40292
٤٠٢٩٢ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك عن ربعي بن (حراش) (١) قال: قال عقبة بن (عمرو) (٢) لحذيفة: ألا تحدثنا بما سمعت رسول اللَّه ﷺ؟ قال: بلى، سمعته يقول: "إن مع الدجال إذا خرج (ماءًا ونارًا) (٣)، فأما الذي ⦗٣٤١⦘ يرى الناس ماءً فنار تحرق، وأما الذي يرى الناس أنه نار فماء عذب بارد، فمن أدرك منكم ذلك فليقع في الذي يرى أنه نار فإنه ماء عذب بارد"، قال عقبة: وأنا سمعته يقول ذلك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربعی بن حراش سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عقبہ بن عمرو نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا کیا ہمیں وہ باتیں نہیں سناتے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنیں انہوں نے فرمایا کیوں نہیں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ دجال جب نکلے گا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی باقی وہ جسے لوگ آگ خیال کریں گے وہ میٹھا اور ٹھنڈا پانی ہوگا جو تم میں سے یہ صورتحال پالے تو وہ جسے آگ سمجھ رہا ہے اس میں گرجائے یقینا وہ میٹھا ٹھنڈا پانی ہوگا حضرت عقبہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسے ہی فرماتے ہوئے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 40293
٤٠٢٩٣ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن منصور عن مجاهد قال: حدثنا جنادة ابن أبي أمية الدوسي قال: (١) دخلت أنا وصاحب (لي) (٢) على رجل من أصحاب رسول اللَّه ﷺ، قال: (فقلنا) (٣): حدثنا ما سمعت من رسول اللَّه ﷺ ولا تحدثنا عن غيره، وإن كان عندك مصدقًا، قال: نعم، قام فينا رسول اللَّه ﷺ ذات يوم فقال: "أنذركم الدجال، أنذركم الدجال، أنذركم الدجال، فإنه لم يكن نبي إلا (و) (٤) (قد) (٥) (أنذره) (٦) أمته، (وإنه) (٧) فيكم أيتها الأمة، وإنه جعد آدم ممسوح العين اليسرى، وإن معه جنة ونارا، فناره جنة وجنته نار، وإن معه نهر ماء وجبل خبز، وإنه يسلط على نفس فيقتلها ثم (يحييها) (٨)، لا يسلط على غيرها، وإنه (يمطر) (٩) السماء ولا تنبت الأرض؛ وإنه يلبث في الأرض أربعين صباحا حتى يبلغ (منها) (١٠) كل منهل، ⦗٣٤٢⦘ وإنه لا يقرب أربعة مساجد: مسجد الحرام، ومسجد الرسول (١١)، و (مسجد) (١٢) المقدس والطور، وما شبه عليكم من الأشياء فإن اللَّه ليس بأعور" -مرتين (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جنادہ بن ابی امیہ دوسی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور میرا ایک ساتھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک کے پاس گیا فرمایا کہ ہم نے کہا ہم سے وہ بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے اور کسی سے کوئی بات بیان نہ کریں اگر چہ وہ تمہارے نزدیک سچا ہو انہوں نے فرمایا ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں بلاشبہ کوئی بھی نبی نہیں گزرے مگر انہوں نے اپنی امت کو ڈرایا اور اے امت بلاشبہ وہ تمہارے اندر ہوگا بلاشبہ وہ گنگھریالے بالوں والا ہے گندمی رنگ والا ہے اور اس کی دائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی اور اس کے ساتھ جنت اور آگ ہوگی اس کی آگ جنت ہوگی اور اس کی جنت آگ ہوگی اور بلاشبہ اس کے ساتھ پانی کی نہر اور روٹی کا پہاڑ ہوگا اور اسے ایک جان پر مسلط کیا جائے گا وہ اسے قتل کرے گا پھر اسے زندہ کرے گا کسی اور پر اسے مسلط نہیں کیا جائے گا وہ آسمان سے بارش اتارے گا اور زمین کوئی چیز نہیں اگائے گی اور وہ زمین میں چالیس صبحیں ٹھہرے گا یہاں تک کہ زمین میں ہر گھاٹ پر پہنچے گا اور وہ چار مساجد کے قریب نہیں جائے گا مسجد الحرام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد اور بیت المقدس کی مسجد اور طور کی مسجد اور کوئی چیز تم پر مشتبہ نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے یہ دو مرتبہ ارشاد فرمایا (اور وہ کانا ہے)
حدیث نمبر: 40294
٤٠٢٩٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد العزيز بن رفيع عن أبي عمرو الشيباني عن حذيفة قال: لا يخرج الدجال حتى لا يكون غائب أحب (إلى) (١) المؤمن خروجا منه، وما خروجه بأضر للمؤمن من حصاة يرفعها من الأرض، (وما) (٢) علم (أدناهم وأقصاهم) (٣) إلا سواء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا دجال نہیں نکلے گا یہاں تک اس کا غائب ہونا مومن کو اس کے نکلنے سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہوگا اور اس کا نکلنا مومن کو اس کنکری سے زیادہ نقصان نہیں پہنچائے گا جو زمین سے اٹھاتا ہے اور مومنین میں سے قریبوں اور دور والوں کا علم (دجال کے بارے میں) برابر ہوگا۔
حدیث نمبر: 40295
٤٠٢٩٥ - قال (١): حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عمير عن شهر بن حوشب قال: وإن عبد اللَّه جالسا وأصحابه، فارتفعت أصواتهم، قال: فجاء حذيفة فقال: ما هذه الأصوات يا ابن أم عبد؟ قال: يا (أبا) (٢) عبد اللَّه! ذكروا الدجال وتخوفناه؛ فقال حذيفة: واللَّه ما أبالي أهو لقيت أم هذه العنز السوداء، -قال عبد الملك: لعنز تأكل النوى في جانب المسجد-، قال: فقال له عبد اللَّه؛ لم؟ للَّه أبوك، قال حذيفة: لأنا قوم مؤمنون وهو امرؤ كافر، وإن اللَّه (سيعطينا) (٣) عليه النصر والظفر، وأيم اللَّه! لا يخرج حتى يكون ⦗٣٤٣⦘ خروجهُ أحبَ إلى المرء المسلم من (برد) (٤) الشراب على الظماء، فقال عبد اللَّه: لم؟ (٥) (للَّه) (٦) أبوك، فقال حذيفة: من شدة البلاء وجنادع الشر (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شہر بن حوشب سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور ان کے ساتھی بیٹھے تھے ان کی آوازیں بلند ہوگئیں راوی نے فرمایا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا اے ابن ام عبد یہ آوازیں کیسی ہیں انہوں نے فرمایا اے ابو عبداللہ انہوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑا اور ہم اس سے ڈر گئے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم میں پروا نہیں کرتا کہ میں اس سے ملوں یا اس سیاہ بکری کے بچے سے عبدالملک راوی کہتے ہیں اس بکری کے بچے کے بارے میں کہا جو مسجد کی ایک جانب میں کھجور کی گٹھلیاں کھا رہا تھا راوی نے کہا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے حضرت عبداللہ نے کہا کیوں اللہ کی جانب سے آپ کے باپ کی خوبی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم مومن لوگ ہیں اور وہ کافر آدمی ہیں اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے خلاف نصرت اور کامیابی عطا کریں گے اور اللہ کی قسم وہ نہیں نکلے گا یہاں تک کہ اس کا نکلنا مسلمان آدمی کے لیے پیاس میں مشروب کی ٹھنڈک سے زیادہ محبوب ہوگا حضرت عبداللہ نے پوچھا کس وجہ سے اللہ کی جانب سے خوبی ہے آپ کے باپ کے لیے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مصیبتوں کی شدت اور برائی کی آفات کی وجہ سے۔
حدیث نمبر: 40296
٤٠٢٩٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سليمان التيمي عن أبي نضرة عن جابر بن عبد اللَّه أن رسول اللَّه ﷺ لقي ابن صياد ومعه أبو بكر وعمر، أو قال: رجلان، فقال (له) (١) رسول اللَّه ﷺ: "أتشهد أني رسول اللَّه؟ "، (فقال) (٢) ابن صياد: أتشهد أني رسول اللَّه؟ (فقال رسول اللَّه) (٣) ﷺ: "آمنت باللَّه (ورسوله) (٤) "، فقال رسول اللَّه ﷺ (٥): "ما ترى؟ " فقال ابن صياد: أرى عرشا على الماء، فقال له رسول اللَّه ﷺ: "ترى عرش إبليس على البحر؟ " قال: "ما ترى؟ " قال: أرى (صادقين) (٦) أو كاذبين، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لبس عليه (لبس عليه) (٧) فدعوه" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابن صیاد سے ملے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر تھے یا فرمایا دو آدمی تھے اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ابن صیاد نے جواب میں کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم کیا دیکھتے ہو ابن صیاد نے کہا میں عرش کو پانی پر دیکھتا ہوں اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم ابلیس کے تخت کو سمندر پر دیکھ رہے ہو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا تم کیا دیکھتے ہو اس نے کہا دو سچے یا دو جھوٹے دیکھتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس پر معاملہ مشتبہ ہوگیا اس پر معاملہ مشتبہ ہوگیا پس اسے چھوڑ دو ۔
حدیث نمبر: 40297
٤٠٢٩٧ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء قالت: أتيت (عائشة) (١) فإذا الناس قيام وإذا هي تصلي، ⦗٣٤٤⦘ (فقلت) (٢): ما شأن الناس؟ فأشارت بيدها نحو السماء، أو قالت: سبحان اللَّه، فقلت: (آية؟) (٣) (فأشارت) (٤) برأسها: أن نعم، فأطال رسول اللَّه ﷺ فقمت حتى تجلاني الغشي، وجعلت (أصبّ) (٥) على رأسي الماء، (قالت) (٦): (فحمد) (٧) رسول اللَّه ﷺ (اللَّه) (٨) (وأثنى) (٩) عليه بما هو أهله وقال: "ما من شيء لم أكن رأيته إلا قد رأيته في مقامي (هذا) (١٠)، حتى الجنة والنار، وقد أوحي (إلي) (١١) أنكم تفتنون في القبور مثل أو قريبًا - (لا) (١٢) أدري أي ذلك قالت أسماء- من فتنة الدجال" (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسمائ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی تو لوگ قیام میں کھڑے تھے اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں میں نے عرض کیا لوگوں کی کیا حالت ہے انہوں نے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا یا انہوں نے سبحان اللہ کہا میں نے عرض کیا کیا نشانی ہے انہوں نے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا قیام کیا (یہ نماز کسوف کا موقع تھا) میں کھڑی رہی یہاں تک کہ مجھے غشی ہوگئی میں اپنے سر پر پانی ڈالنا شروع ہوگئی حضرت اسماء نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی تعریف کی اور جس کا اہل ہے وہ اس کی تعریف و ثنا کی اور ارشاد فرمایا کوئی بھی چیز جو میں نے نہیں دیکھی تھی وہ میں نے اپنے اس مقا م میں دیکھی یہاں تک کہ جنت اور جہنم بھی اور مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے تمہیں قبروں کے اندر فتنے میں مبتلا کیا جائے گا دجال کے فتنے کی مثل یا یوں فرمایا دجال کے فتنے کے قریب راوی فرماتے ہں ے مثل یا قریب کے الفاظ میں سے میں نہیں جانتا کہ حضرت اسمائ نے کیا ارشاد فرمایا۔
حدیث نمبر: 40298
٤٠٢٩٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي قيس عن الهيثم بن الأسود قال: خرجت وافدا في زمان معاوية، فإذا معه على السرير رجل أحمر كثير (غضون) (١) (الوجه) (٢)، فقال لي معاوية: تدري من هذا؟ هذا عبد اللَّه بن عمرو، قال: فقال لي عبد اللَّه: ممن أنت؟ فقلت: من أهل العراق، قال: هل ⦗٣٤٥⦘ تعرف أرضا قبلكم (كثيرة) (٣) السباخ، يقال (لها) (٤) كوثى؟ قال: قلت: نعم، قال: (منها يخرج الدجال) (٥)، قال: ثم قال: إن للأشرار بعد الأخيار عشرين ومائة سنة، لا يدري أحد من الناس متى يدخل أولها (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہیثم بن اسود سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں وفد کی صورت میں حضرت معاویہ کے زمانے میں نکلا پس ان کے ساتھ تخت پر ایک آدمی تھے جو سرخ رنگ والے چہرے پر بہت زیاد ہ شکن والے تھے مجھ سے حضرت معاویہ نے فرمایا جانتے ہو یہ کون ہیں یہ عبداللہ بن عمرو ہیں راوی نے فرمایا مجھ سے حضرت عبداللہ نے کہا تم کہاں سے ہو میں نے عرض کیا اہل عراق سے ہوں انہوں نے فرمایا کیا تم اپنی جانب بہت زیادہ سباخ والی زمین پہچانتے ہو جسے کو ثی کہا جاتا ہے فرمایا کہ میں نے عرض کیا جی ہاں انہوں نے فرمایا کہ وہیں سے دجال نکلے گا فرمایا کہ پھر حضرت عبداللہ نے فرمایا بلاشبہ شریر لوگوں کے لیے اچھے لوگوں کے بعد ایک سو بیس سال کا عرصہ ہوگا لوگوں میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اس کا پہلا (سال) کب داخل ہوگا۔
حدیث نمبر: 40299
٤٠٢٩٩ - حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن واصل (على أبي وائل) (١) عن (المعرور) (٢) بن سويد (٣) قال: قال كعب: إن أشد أحياء العرب على الدجال لقومك -يعني بني تميم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معرور بن سوید سے روایت ہے کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا عرب کے قبائل میں سے دجال پر سب سے زیادہ سخت تیری قوم ہے مراد بنو تمیم تھے۔
حدیث نمبر: 40300
٤٠٣٠٠ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا (زهير عن الأسود بن قيس قال: حدثنا) (١) ثعلبة بن عباد العبدي من أهل البصرة أنه شهد يوما (خطبة) (٢) (لسمرة) (٣) ابن جندب، فذكر في خطبته حديثا عن رسول اللَّه ﷺ أنه قال: "واللَّه لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا آخرهم الأعور الدجال، ممسوح العين اليسرى كأنها عين أبي (تحيى) (٤) -أو: يحيى- لشيخ من الأنصار، وإنه متى يخرج فإنه يزعم أنه اللَّه، ⦗٣٤٦⦘ (فمن) (٥) (آمن) (٦) به وصدقه واتبعه فليس (ينفعه) (٧) صالح من عمل له سلف ومن كفر به وكذبه فليس يعاقب بشيء من عمله سلف، وإنه سيظهر على الأرض كلها إلا الحرم وبيت المقدس، وإنه (يحصر) (٨) المؤمنين في بيت المقدس، قال: فيهزمه اللَّه وجنوده حتى إن (جذم) (٩) الحائط (و) (١٠) أصل الشجرة ينادي: يا مؤمن! هذا كافر يستتر (بي) (١١) تعال اقتله، قال: ولن يكون (ذاك) (١٢) (كذاك) (١٣) حتى ترون أمورا (يتفاج) (١٤) شأنها في أنفسكم، (تساءلون) (١٥) بينكم: هل كان (نبيكم) (١٦) ذكر لكم منها ذكرا؟ وحتى تزول جبال عن (مراتبها) (١٧)، ثم على أثر ذلك (القبض) (١٨) " -وأشار بيده قال: ثم شهدت له خطبة أخرى، قال: فذكر هذا الحديث ما قدم كلمة ولا أخرها (١٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثعلبہ بن عباد عبدی جوا ہل بصرہ میں سے ہیں ان سے روایت ہے کہ وہ ایک دن حضرت سمرہ بن جندب کے خطبہ میں موجود تھے پس انہوں نے اپنے خطبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کی انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم قیامت نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس دجال نکلیں گے ان میں سے آخری کانا دجال ہوگا اس کی دائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی گویا کہ ابی تحیی یا ابو یحییٰ کی آنکھ کی طرح جو کہ انصار میں ایک بوڑھا تھا اور وہ جب نکلے گا وہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ ہے جو آدمی اس پر ایمان لے آیا اور اس کی تصدیق کی اور اس کی پیروی کرے گا پس اسے اس کے گزشتہ نیک عمل نفع نہ پہنچائیں گے اور جس آدمی نے اس کا انکار کیا اور اس کی تکذیب کی پس اسے اس کے گزشتہ (برے) عملوں پر سزا نہ دی جائے گی اور وہ ساری زمین پر غالب آجائے گا سوائے مسجد حرام اور بیت المقدس پر اور وہ مومنین کو بیت المقدس میں روک دے گا فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے لشکر کو شکست دیں گے یہاں تک کہ دیوار کی بنیاد یا فرمایا درخت کی جڑ پکارے گی اے مومن یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہوا ہے آؤ اور اسے مار دو اور یہ اس طرح ہرگز نہیں ہوگا یہاں تک کہ تم دیکھو گے ایسے امور جنہیں تم اپنے نفسوں میں بھیڑیا سمجھتے ہو تم آپس میں پوچھو گے کیا تمہارے نبی نے اس سلسلہ میں کوئی تذکرہ کیا ہے اور یہاں تک کہ پہاڑ اپنی جگہوں سے ہٹ جائیں گے پھر اس کے بعد قبض ہوگی اور ہاتھ سے اشارہ کیا (قبض سے مراد واللہ اعلم عام موت اور قیامت کا وقوع ہے) راوی نے فرمایا پھر میں ان کے دوسرے خطبے میں شریک ہوا فرمایا کہ اسی حدیث کو ذکر کیا ایک بات نہ آگے کی اور نہ ہی پیچھے کی۔
حدیث نمبر: 40301
٤٠٣٠١ - حدثنا زيد بن الحباب قال: أخبرني معاوية بن صالح قال: أخبرني ربيعة بن يزيد الدمشقي عن عبد اللَّه بن عامر اليحصبي أنه سمع معاوية بن أبي سفيان يقول: من التبست عليه الأمور فلا يتبعن مشاقا ولا أعور العين -يعني الدجال (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن ابی سفیان سے روایت ہے انہوں نے فرمایا جس پر امور مشتبہ ہوجائیں وہ آنکھ سے کانے یعنی دجال کی پیروی نہ کرے۔
حدیث نمبر: 40302
٤٠٣٠٢ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد بن جدعان عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الدجال يخوض (البحار) (٢) إلى ركبتيه ويتناول السحاب ويسبق الشمس إلى مغربها، وفي جبهته قرن (يخرص) (٣) منه الحيات، وقد صور في جسده السلاح كله، حتى ذكر السيف والرمح والدرق"، قال: قلت: وما الدرق؟ قال: "الترس" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال سمندر میں گھسے گا گھٹنوں تک اور بادل کو پکڑ لے گا اور سورج سے پہلے اس کے غروب کی جگہ پہنچ جائے گا اور اس کی پیشانی میں سینگ ہوگا جس سے سانپ نکلیں گے اس کے جسم میں ہر طرح کے اسلحہ کی تصویریں بنائی گئیں ہیں یہاں تک کہ تلوار اور نیزہ اور ڈھال کا تذکرہ کیا فرمایا کہ میں نے کہا درق کیا چیز ہے انہوں نے فرمایا ڈھال۔
حدیث نمبر: 40303
٤٠٣٠٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن جامع بن شداد عن الأسود بن هلال عن عبد اللَّه قال: يخرج الدجال فيمكث في الأرض أربعين صباحا يبلغ منها كل منهل؛ اليوم منها كالجمعة، والجمعة كالشهر، والشهر كالسنة، ثم قال: كيف أنتم وقوم في (ضيح) (١) وأنتم في ريح، وهم شباع وأنتم جياع، (وهم) (٢) رواء وأنتم (ظماء) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ دجال زمین میں چالیس دن ٹھہرے گا وہ زمین کے ہر گھاٹ میں پہنچے گا ان چالیس دنوں کا دن ہفتے کی طرح ہوگا اور ہفتہ مہینے کی طرح ہوگا اور مہینہ سال کی طرح ہوگا پھر ارشاد فرمایا تمہاری کیا حالت ہوگی جب وہ لوگ روشنی میں ہوں گے اور تم ہوا میں ہو گے وہ سیر ہوں گے اور تم بھوکے ہوگے وہ سیراب ہوں گے اور تم پیاسے ہوگے۔
حدیث نمبر: 40304
٤٠٣٠٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن طلحة عن خيثمة قال: كان عبد اللَّه يقرأ القرآن في المسجد فأتى على هذه الآية ﴿كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ﴾ [الفتح: ٢٩]، فقال عبد اللَّه: أنتم الزرع وقد (دنا) (١) حصادكم، ثم ذكروا الدجال في مجلسهم ذلك، فقال بعض القوم: لوددنا أنه قد خرج حتى (نرميه) (٢) بالحجارة فقال عبد اللَّه: أنتم تقولون، والذي لا إله غيره! (٣) لو سمعتم به ببابل لأتاه أحدكم وهو يشكو إليه (الحفاء) (٤) من السرعة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود مسجد میں قرآن مجید پڑھ رہے تھے اس آیت پر پہنچے ” کزرع اخرج شطاہ “ حضرت عبداللہ نے فرمایا تم کھیتی ہو اور تمہارے کٹنے کا وقت قریب ہوچکا ہے پھر لوگوں نے دجال کا تذکرہ کیا اپنی اس مجلس میں کچھ نے کہا ہم یہ چاہتے ہیں وہ نکلے اور ہم اسے پتھروں سے ماریں حضرت عبداللہ نے فرمایا تم یہ کہتے ہو اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اگر تم اس کے بارے میں سنو کہ بابل میں ہے تو تم میں کوئی اس کے پاس آئے گا تو وہ اس کی طرف پاؤں گھسنے کی شکایت کرے گا تیزی سے اس تک پہنچنے کی وجہ سے۔
حدیث نمبر: 40305
٤٠٣٠٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا حلام بن صالح عن سليمان بن شهاب (العبسي) (١) قال: أخبرني عبد اللَّه (بن نعيم) (٢) وذكر الدجال فقال: (إن الدجال) (٣) ليس به خفاء، وما يكون قبله من الفتنة أخوف عليكم من الدجال، إن ⦗٣٤٩⦘ (الدجال) (٤) لا (خفاء) (٥) فيه، إن الدجال يدعو إلى أمر (يعرفه الناس) (٦) حتى يرون ذلك منه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مغنم سے روایت ہے کہ انہوں نے دجال کا تذکرہ کیا اور ارشاد فرمایا دجال کے بارے میں کوئی خفاء نہیں ہے اور جو دجال سے پہلے فتنے وقوع پذیر ہوں گے ان سے تمہارے بارے میں زیادہ اندیشہ ہے بہ نسبت دجال کے فتنے کے یقینا دجال کے بارے میں خفاء نہیں ہے بلاشبہ دجال ایسے امر کی طرف بلائے گا جسے لوگ جانتے ہیں یہاں تک کہ یہ بات اس سے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
حدیث نمبر: 40306
٤٠٣٠٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن الوليد بن جميع عن أبي الطفيل عن حذيفة قال: لا يخرج الدجال حتى يكون خروجه أشهى إلى المسلمين من شرب الماء على الظمأ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا دجال نکلے گا یہاں تک کہ اس کا نکلنا مسلمانوں کو پیاس میں پانی پینے سے زیادہ محبوب ہوگا۔
حدیث نمبر: 40307
٤٠٣٠٧ - حدثنا علي بن مسهر عن (المجالد) (١) عن الشعبي عن فاطمة بنت قيس قالت: صلى النبي ﷺ ذات يوم الظهر ثم سعد المنبر، فاستنكر الناس ذلك، فبين قائم وجالس، ولم يكن يصعده قبل ذلك إلا يوم الجمعة، فأشار إليهم بيده أن اجلسوا، ثم قال: "واللَّه ما قمت مقامي هذا (الأمر) (٢) (ينفعكم) (٣) لرغبة ولا لرهبة، ولكن (تميما) (٤) الداري أتاني فأخبرني (خبرا) (٥) منعني القيلولة من الفرح وقرة العين، ألا أن بني (عم) (٦) لتميم الداري أخذتهم عاصف في البحر فألجأتهم الريح إلى جزيرة لا يعرفونها، فقعدوا في قوارب السفينة فصعدوا فإذا هم بشيء أسود أهدب كثير الشعر، قالوا لها: ما أنت؟ قالت: أنا الجساسة، قالوا: فأخبرينا، ⦗٣٥٠⦘ قالت: ما أنا بمخبرتكم ولا سائلتكم عنه، ولكن هذا (الدير) (٧) قد (رهقتموه) (٨) فأتوه، فإن فيه رجلًا بالأشواق إلى أن يخبركم (وتخبروه) (٩)، فأتوه فدخلوا عليه، فإذا هم (بشيء) (١٠) موثق في الحديد شديد الوثاق كثير الشعر، فقال لهم: من أين (نبأتم؟) (١١) قالوا: من الشام، (قال) (١٢): ما فعلت العرب؟ قالوا: نحن قوم من العرب، قال: ما فعل هذا الرجل الذي خرج فيكم؟ قالوا: خير، [(ناوأه) (١٣) قوم فأظهره اللَّه عليهم فأمرهم اليوم جميع، وإلههم (اليوم) (١٤) واحد ودينهم واحد، قال: ذلك خير لهم] (١٥)، قال: ما فعلت عين زُغَر؟ قالوا: يسقون منها (زروعهم) (١٦) ويشربون منها (لشفتهم) (١٧)، قال: ما فعل نخل (بين) (١٨) عمان (و) (١٩) بيسان؟ قالوا: يطعم في جناه كل عام، قال: ما فعلت بحيرة طبرية؟ قالوا: تدفق جانباها من كثرة الماء، (فزفر) (٢٠) ثلاث (زفرات) (٢١) ثم قال: إني لو ⦗٣٥١⦘ (قد) (٢٢) انفلت من وثاقي هذا لم أترك أرضا إلا وطأتها بقدمي هاتين إلا طيبة، ليس لي عليها سلطان، فقال رسول اللَّه ﷺ: إلى هذا انتهى فرحي، هذه طيبة، والذي نفس محمد بيده! ما منها طريق ضيق ولا واسع إلا عليه ملك شاهر بالسيف إلى يوم القيامة" (٢٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فاطمہ بنت قیس سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ظہر کی نماز پڑھائی پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے لوگوں نے اس بات کو اوپرا جانا وہ بیٹھنے والوں اور کھڑے ہونے والوں کے درمیان تھے (یعنی کچھ بیٹھے تھے اور کچھ کھڑے تھے) اور اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن کے علاوہ منبر پر نہ تشریف رکھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ پھر ارشاد فرمایا کہ اللہ کی قسم میں اس جگہ کسی ایسے امر کے لیے کھڑا نہیں ہوا جو رغبت اور خوف کی وجہ سے تمہیں نفع پہچانے والا ہو لیکن تمیم داری میرے پاس آیا اور مجھے خبر دی یہاں تک کہ اس خبر کی وجہ سے خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک کی بناء پر میں دوپہر کو آرام نہیں کرسکا غو ر سے سنو تمیم داری کے چچا زادوں کو سمندر میں تیز ہوا نے آن لیا ان کو ہوا نے ایسے جزیرے میں پہنچا دیا جسے وہ پہچانتے نہیں تھے وہ قریبی کشتویں میں سوار ہوئے اور جزیرے میں پہنچ گئے اچانک انہوں نے ایک سیاہ شے دیکھی جو لمبی پلکوں والی اور کثیر بالوں والی تھی انہوں نے اس سے کہا تو کیا ہے وہ شے بولی میں جساسہ ہوں (جاسوسی کرنے والی ہوں) انہوں نے کہا ہمیں بتلاؤ اس نے کہا میں نہ تو تمہیں بتلاتی ہوں اور نہ تم سے کچھ پوچھتی ہوں لیکن یہ راہب خانہ ہے جس کے تم قریب ہوچکے ہو تم اس میں جاؤبلاشبہ اس میں ایک آدمی ہے جسے یہ شوق ہیں تمہیں بتلائے اور تم اس کو بتلاؤ پس وہ وہاں گئے اور اس آدمی کے پاس گئے پس اچانک انہوں نے دیکھا کہ ایک بوڑھا بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے بہت اچھلنے والا بہت زیادہ بالوں والا اس نے ان سے کہا کس زمین سے نکل کر آئے ہو انہوں نے کہا شام سے اس آدمی نے کہا عرب والوں کی کیا حالت ہے وہ بولے ہم عرب کے لوگ ہیں اس نے کہا ان صاحب کا کیا حال ہے جو تمہارے اندر نکلے ہیں انہوں نے کہا بھلائی کی حالت میں ہیں ان سے لوگوں نے مقابلہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو ان پر غلبہ عطا کردیا آجکل سب جمع ہیں ان کا معبود ایک ہے اور ان کا دین ایک ہے اس نے کہا یہ ان کے لیے بہتر ہے اس نے کہا مقام نغر کے چشمے کی کیا حالت ہے انہوں نے کہا اس سے وہ اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں اور پیاس کے وقت اس سے پیتے ہیں اس نے پوچھا عمان اور بیسان کے درمیان کھجوروں کی کیا حالت ہے انہوں نے کہا وہ ہر سال اپنا پھل کھلاتی ہیں اس نے پوچھا بحیرہ طبریہ کی کیا حالت ہے انہوں نے بتلایا کہ اس کے دونوں کنارے پانی کی کثرت کی وجہ سے جوش مارتے ہیں پھر اس نے تین مرتبہ لمبا سانس لیا پھر کہابلاشبہ اگر میں ان بیڑیوں سے چھوٹ گیا تو میں کوئی زمین نہیں چھوڑوں گا مگر اسے اپنے ان دونوں قدموں سے روندوں گا سوائے مدینہ منورہ کے کہ مجھے اس پر غلبہ حاصل نہ ہوگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہاں تک میری خوشی مکمل ہوگئی۔ یہ طیبہ ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے اس مدینہ کا کوئی تنگ اور کھلا راستہ نہیں مگر اس پر ایک فرشتہ قیامت تک تلوار سونتے ہوئے (کھڑا) ہے۔
حدیث نمبر: 40308
٤٠٣٠٨ - قال: وحدثنا أبو بكر قال: حدثنا مالك بن إسماعيل قال: حدثنا (زهير) (١) قال: حدثنا قابوس بن أبي ظبيان أن أباه حدثه قال: ذكرنا الدجال فسألنا عليا متى خروجه؟ قال: لا يخفى على مؤمن، عينه اليمنى مطموسة، بين عينيه كافر يتهجاها لنا علي، قال: فقلنا: ومتى يكون ذلك؟ قال: حين (يفخر) (٢) الجار على جاره، ويأكل الشديد الضعيف، (وتقطع) (٣) الأرحام، (ويختلفون) (٤) اختلاف أصابعي هؤلاء -وشبكها ورفعها هكذا- فقال له رجل من القوم: كيف تأمرنا عند ذلك (يا) (٥) أمير المؤمنين؟ قال: لا أبا لك! إنك لن تدرك ذلك، قال: فطابت أنفسنا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قابوس بن ابی ظبیان سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان سے بیان کیا کہ ہم نے دجال کا تذکرہ کیا ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا اس کا خروج کب ہوگا انہوں نے فرمایا مومن پر مخفی نہیں ہے کہ اس کی دائیں آنکھ مٹی ہوئی ہے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہے کافر کے حروف کے ہمارے سامنے ہجے فرمائے ہم نے عرض کیا یہ کب ہوگا فرمایا جب پڑوسی پڑوسی پر فخر کرے گا اور سخت کمزور کو کھاجائے گا اور شتے داریاں توڑی جائیں گے اور وہ آپس میں اختلاف کریں گے میری ان انگلیوں کے اختلاف کی طرح اور انہوں نے انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا اور اس طرح ان کو بلند کیا لوگوں میں سے ایک صاحب نے عرض کیا اے امیرالمؤمنین ! اس وقت آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں انہوں نے فرمایا تیرا باپ نہ رہے تم یہ زمانہ نہ پاؤ گے راوی نے فرمایا پھر ہم خوش ہوگئے۔
حدیث نمبر: 40309
٤٠٣٠٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا أبو مالك الأشجعي عن ⦗٣٥٢⦘ أبي حازم عن أبي هريرة قال: (يسلط) (١) الدجال (على) (٢) رجل من المسلمين فيقتله ثم يحييه ثم يقول: ألست بربكم؟ ألا ترون أني أحيي وأميت، والرجل ينادي: يا أهل الإسلام! بل (عدو اللَّه) (٣) الكافر الخبيث، إنه واللَّه لا يسلط على أحد بعدي، قالوا: وكانا نمر مع أبي هريرة على معلم الكُتّاب فيقول: يا معلم (الكتاب) (٤)! اجمع لي غلمانك، فيجمعهم فيقول: قل لهم: (فلينصتوا) (٥)، أي -بني أخي-: افهموا ما أقول لكم، (أما) (٦) (يدركن) (٧) أحد منكم عيسى بن مريم فإنه شاب (وضيء) (٨) أحمر فليقرأ عليه من أبي هريرة السلام، فلا يمر على معلم (كتاب) (٩) إلا قال: لغلمانه مثل ذلك (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ دجال کو مسلمانوں میں سے ایک آدمی پر مسلط کیا جائے گا وہ اسے قتل کردے گا پھر وہ اسے زندہ کرے گا اور کہے گا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں کیا تم دیکھتے نہیں ہو میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں اور وہ آدمی پکار رہا ہوگا اے اہل اسلام بلکہ یہ خبیث کافر اللہ کا دشمن ہے اور بلاشبہ اللہ کی قسم اسے میرے بعد کسی ایک پر بھی مسلط نہیں کیا جائے گا حضرت ابوہریرہ کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم حضرت ابوہریرہ کے ساتھ کتابت سکھانے والوں کے پاس سے گزرتے تھے تو حضرت ابوہریرہ فرماتے اے کتابت سکھانے والے میرے لیے اپنے لڑکوں کو جمع کرو وہ ان کو جمع کرتا تو فرماتے ان سے کہو کہ خاموش ہوجائیں اے بھتیجو ! وہ بات سمجھو جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اگر تم میں سے کوئی عیسیٰ ابن مریم کو پالے تو وہ جوان روشن چہرے والے سرخ رنگ والے ہیں تو وہ ابوہریرہ کی جانب سے ان کو سلام پہنچا دے حضرت ابوہریرہ کسی بھی کتابت سکھانے والے کے پاس سے نہیں گزرتے تھے مگر اس کے بچوں سے یہی ارشاد فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 40310
٤٠٣١٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن أبيه عن أبي هريرة قال: لا تقوم الساعة حتى (تفتح) (١) مدينة هرقل قيصر، ويؤذِن فيها المؤذنون، ويقسم فيها المال (بالترسة) (٢) فيقبلون بأكثر أموال رآها الناس، فيأتيهم الصريخ أن الدجال قد خالفكم في أهليكم، فيلقون ما في أيديهم ويقبلون يقاتلونه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ ہرقل قیصر کا شہر فتح کرلیا جائے گا اور اس میں مؤذنین اذانیں دیں گے اور اس میں مال ڈھال کے ذریعے تقسیم ہوگا پس وہ بہت سا مال لے کر لوٹیں گے جسے لوگ دیکھیں گے پس ان کے پاس ایک چیخنے والا آئے گا کہ دجال تمہارے پیچھے تمہارے گھروں میں موجود ہے پس جو ان کے قبضے میں مال ہوگا اسے وہ پھینک دیں گے اور اس سے لڑائی کرنے کی طرف متوجہ ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 40311
٤٠٣١١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا الجريري عن أبي العلاء بن الشخير أن نوحا ومن معه من الأنبياء كانوا يتعوذون من فتنة الدجال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علا بن شخیر سے روایت ہے کہ حضرت نوح اور ان کے ساتھ انبیائ ۔ دجال کے فتنے سے پناہ مانگتے تھے۔
حدیث نمبر: 40312
٤٠٣١٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا العوام بن حوشب قال: حدثني جبلة بن سحيم عن (مؤثر) (١) بن (عفازة) (٢) عن عبد اللَّه بن مسعود قال: لما كان ليلة أسري برسول اللَّه ﷺ لقي إبراهيم وموسى وعيسى فتذاكروا الساعة، فبدءوا بإبراهيم فسألوه عنها، فلم يكن عنده علم منها، فسألوا موسى فلم يكن عنده منها علم، فردوا الحديث إلى عيسى فقال: عبد اللَّه (إليّ) (٣) فيما (٤) دون (وجبتها) (٥)، فأما وجبتها (فلا) (٦) يعلمها إلا اللَّه؛ فذكر من خروج الدجال فأهبط (فأقتله) (٧)، فيرجع الناس إلى بلادهم فيستقبلهم يأجوج ومأجوج وهم من كل حدب ينسلون، (لا) (٨) يمرون بماء إلا شربوه؛ ولا (شيء) (٩) إلا (أفسدوه) (١٠)، (فيجيئون) (١١) (إلى) (١٢) فأدعوا اللَّه (فيميتهم، فتجوى الأرض من ريحهم، فيجيئون إليّ فأدعوا ⦗٣٥٤⦘ اللَّه) (١٣) فيرسل السماء بالماء فتحمل أجسادهم فتقذفها في البحر، ثم تنسف الجبال وتمد الأرض مد الأديم، ثم يعهد إلى إذا كان ذلك (أن) (١٤) الساعة من (الناس) (١٥) كالحامل (المتم) (١٦)، لا يدري أهلها متى (تفجؤهم) (١٧) بولادتها (١٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے انہوں نے فرمایا جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسراء کے لیے لے جایا گیا تو ان کی ملاقات ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور عیسیٰ ۔ سے ہوئی انہوں نے آپس میں قیامت کا تذکرہ کیا انہوں نے ابراہیم سے ابتداء کی اور ان سے قیامت کے بارے میں پوچھا ان کے پاس بھی قیامت کے بارے میں علم نہ تھا پھر انہوں نے یہ بات عیسیٰ کی طرف لوٹا دی انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے وقوع سے قریب کی باتیں بتلائیں ہیں اور باقی اس کا وقوع وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا انہوں نے دجال کے نکلنے کا تذکرہ کیا پس میں اتروں گا اور اسے قتل کروں گا پھر لوگ اپنے شہروں کی طرف لوٹ جائیں گے پھر یاجوج وماجوج ان کے سامنے آجائیں گے وہ ہر بلند جگہ سے جلدی سے آئیں گے کسی پانی کے پاس نہیں گزریں گے مگر اسے پی جائیں گے اور کسی چیز کے پاس سے نہیں گزریں گے مگر اسے خراب کردیں گے وہ (دوسرے لوگ) میری طرف بھاگ کر آئیں گے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا اللہ تعالیٰ ان کو موت دے دیں گے زمین ان کی بدبو کی وجہ سے تعفن زدہ ہوجائے گی پس (دوسرے لوگ) وہ میرے پاس آئیں گے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا اللہ تعالیٰ ان پر آسمان سے بارش اتاریں گے وہ ان کے جسموں کو اٹھائے گی اور ان کو سمندر میں پھینک دے گی پھر پہاڑ جڑ سے اکھاڑ دیے جائیں گے اور زمین چمڑے کی طرح ہوجائے گی کہ قیامت لوگوں کے ایسے قریب ہے جیسے کہ وہ حاملہ مدت حمل پوری کرچکی ہو اس کے گھر والے نہیں جانتے کب اچانک اس کے ولادت ہوجائے حضرت عوام نے فرمایا میں نے اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں پائی ہے { حَتَّی إِذَا فُتِحَتْ یَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَہُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُونَ وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ }۔
حدیث نمبر: 40313
٤٠٣١٣ - قال العوام: فوجدت تصديق ذلك في كتاب اللَّه. . ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (٩٦) وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ﴾ [الأنبياء: ٩٦ - ٩٧].
حدیث نمبر: 40314
٤٠٣١٤ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن عبد الرحمن بن (آدم) (١) عن أبي هريرة أن نبي اللَّه ﵇ (٢) قال: "الأنبياء أخوة لعلات: أمهاتهم شتى ودينهم واحد، وأنا أولى الناس بعيسى ابن مريم؛ لأنه لم يكن بيني وبينه نبي، فإذا رأيتموه فاعرفوه، فإنه رجل مربوع الخلق إلى الحمرة والبياض، (سبط) (٣) الرأس، كان رأسه (يقطر) (٤) وإن لم يصبه بلل بين ممصرتين، (فيدق) (٥) الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية، ويقاتل الناس على الإسلام حتى ⦗٣٥٥⦘ يهلك اللَّه في زمانه الملل كلها غير الإسلام، ويهلك اللَّه في زمانه مسيح الضلالة الكذاب الدجال، وتقع (الأمنة) (٦) (في زمانه) (٧) في الأرض (حتى) (٨) (ترتع) (٩) الأسود مع الإبل، والنمور مع البقر، والذئاب مع الغنم، ويلعب الصبيان -أو الغلمان شك- (بالحيات) (١٠) لا يضر بعضهم بعضا، فيلبث في الأرض ما شاء اللَّه ثم يتوفى فيصلي عليه المسلمون" (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے میں لوگوں میں عیسیٰ بن مریم کے قریب ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہیں جب تم ان کو دیکھو تو جان لو وہ درمیانے قد کے آدمی ہیں سرخی اور سفیدی کی طرف (ان کا رنگ مائل ہے) ہلکے گھنگریالے بالوں والے ہیں ان کے سر سے (پانی کے) قطرات ٹپکتے معلوم ہوتے ہیں اگر چہ ان کو تری نہ ہی لگی ہو دو ہلکے زرد رنگ سے رنگی ہوئی چادروں کے درمیان ہوں گے پس صلیب کے ٹکڑے کریں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے اور لوگوں سے اسلام پر قتال کریں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں تمام ملتوں کو ہلاک کردیں گے سوائے اسلام کے اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں گمراہی کے مسیح کذاب دجال کو ہلاک کریں گے اور ان کے زمانے میں زمین کے اندر امن قائم ہوجائے گا یہاں تک کہ کالا سانپ اونٹ کے ساتھ اور چیتا گائے کے ساتھ اور بھیڑیا بکریوں کے ساتھ چرے گا اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے کوئی ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائے گا جتنا وقت اللہ تعالیٰ چاہیں گے اتنا وہ زمین میں ٹھہریں گے پھر ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔
حدیث نمبر: 40315
٤٠٣١٥ - حدثنا وكيع عن (سفيان) (١) عن واصل عن أبي وائل قال: أكثر أتباع الدجال اليهود وأولاد المومسات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ دجال کے اکثر اتباع کرنے والے یہود اور بدکار عورتوں کی اولاد ہوگی۔
حدیث نمبر: 40316
٤٠٣١٦ - حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن عبد الملك بن عمير عن أبي سلمة عن أم سلمة قالت: ولدته أمه مسرورا مختونا - (تعني) (١) ابن صياد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ابن صیاد کی ماں نے اسے اس حال میں جنا کہ وہ مسرور اور مختون تھا۔
حدیث نمبر: 40317
٤٠٣١٧ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أبيه عن جده عن ابن عمر قال: لقيت ابن صياد في طريق من (طرق) (١) المدينة فانتفخ حتى ملأ ⦗٣٥٦⦘ (الأرض) (٢)، فقلت: اخسأ، فإنك لن (تعدو) (٣) قدرك، فانضم بعضه إلى بعض ومررت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستے میں ابن صیاد سے ملا وہ پھول گیا یہاں تک کہ اس نے راستہ بھر دیا میں نے کہا دفع ہوجا بلاشبہ تو تقدیر سے نہیں بڑھ سکتا اس کے (جسم کے) حصے ایک دوسرے سے ملنے لگے اور مں ر گزر گیا۔
حدیث نمبر: 40318
٤٠٣١٨ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى قال: (أخبرنا) (٢) شيبان عن الأعمش عن شقيق عن عبد اللَّه قال: كنا نمشي مع رسول اللَّه ﷺ فمررنا على صبيان يلعبون، فتفرقوا (حين) (٣) رأوا النبي ﷺ وجلس ابن صياد، (فكأنه) (٤) (غاظ النبي ﷺ) (٥)، فقال له: "مالك تربت يداك أتشهد أني رسول اللَّه (ﷺ؟) (٦) "، فقال: أتشهد أنت أني رسول اللَّه، فقال عمر: يا رسول اللَّه دعني (فلأقتل) (٧) هذا الخبيث، قال: "دعه فإن يكن الذي (تخوف) (٨) فلن (تستطيع) (٩) قتله" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے پس ہم بچوں کے پاس سے گزرے جو کھیل رہے تھے جب ان بچوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو منتشر ہوگئے اور ابن صیاد بیٹھا رہا گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس نے غصہ دلا دیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا تجھے کیا ہے تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں حضرت عمر نے فرمایا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے چھوڑیں میں اس خبیث کو قتل کردوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو چھوڑ دو اگر یہ وہی ہے جس کا تمہیں خوف ہے تو تم ہرگز اس کو قتل نہیں کرسکتے۔
حدیث نمبر: 40319
٤٠٣١٩ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: (أخبرنا) (١) شيبان عن الأعمش ⦗٣٥٧⦘ عن سالم بن أبي الجعد (عن جابر بن عبد اللَّه) (٢) قال: فقدنا ابن صياد يوم الحرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم نے ابن صیاد کو حرہ والے دن گم پایا۔
حدیث نمبر: 40320
٤٠٣٢٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أبي نضرة عن أبي سعيد أن رسول اللَّه ﷺ قال لابن صياد: "ما ترى؟ " قال: أرى (عرشًا) (١) على البحر وحوله الحيات، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ذلك عرش إبليس" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن صیاد سے کہا تو کیا دیکھتا ہے تو اس نے کہا میں سمندر پر تخت دیکھتا ہوں اس کے گرد سانپ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ تو ابلیس کا تخت ہے۔
…