کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
حدیث نمبر: 40241
٤٠٢٤١ - قال: (و) (١) حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن (مجالد) (٢) عن الشعبي عن جابر بن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أنا أختم ⦗٣١٧⦘ ألف نبي (أو) (٣) أكثر، (و) (٤) إنه ليس من نبي بعث إلى قوم إلا ينذر قومه الدجال، وإنه قد بين لي ما (لم) (٥) يبين لأحد، وإنه أعور، وإن ربكم ليس بأعور" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں ہزار یا اس سے زیادہ نبیوں کے آخر میں آنے والا ہوں اور یقینا کوئی نبی (علیہ السلام) کسی قوم کی طرف مبعوث نہیں کیا گیا مگر اس نے اپنی قوم کو دجال کے فتنے سے ڈرایا اور بلاشبہ میرے لیے اس کے بارے میں وہ بات واضح ہوئی ہے جو کسی کے لیے واضح نہیں ہوئی اور وہ (یہ کہ وہ) کانا ہے اور بلاشبہ تمہارا رب کانا نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40241
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه الطبراني في الأوسط (٩١٩٩)، والبزار كما في مجمع الزوائد ٧/ ٣٤٧، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ٣٣٥، وعبد اللَّه بن أحمد في السنة (١٠٠٥)، وابن سعد ١/ ١٩٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40241، ترقيم محمد عوامة 38610)
حدیث نمبر: 40242
٤٠٢٤٢ - (حدثنا) (١) أبو أسامة عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر أن رسول اللَّه ﷺ ذكر المسيح بين ظهراني الناس وقال: "إن اللَّه ليس بأعور، وإن المسيح الدجال أعور (العين) (٢) اليمنى، كأن عينه (عنبة) (٣) (طافية) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ بیشک اللہ (اعور) کانا نہیں اور دجال کی دائیں آنکھ کانی ہے گویا اس کی آنکھ ابھرا ہوا انگور کا دانہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40242
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٤٣٩)، ومسلم (١٦٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40242، ترقيم محمد عوامة 38611)
حدیث نمبر: 40243
٤٠٢٤٣ - (حدثنا) (١) يزيد بن هارون عن محمد بن إسحاق عن داود بن عامر (ابن) (٢) (سعد) (٣) عن أبيه عن جده قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أنه لم يكن نبي قبلي إلا وقد وصف الدجال لأمته، (ولأصفنه) (٤) صفة لم يصفها أحد قبلي، أنه ⦗٣١٨⦘ أعور وليس اللَّه بأعور" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ مجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں تھے مگر انہوں نے دجال کے بارے میں اپنی امت کو بتلایا اور میں اس کے بارے میں ایسی صفت بتلاتا ہوں جو کہ مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی یہ کہ وہ کانا ہے اور اللہ تعالیٰ اعور (کانے) نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40243
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40243، ترقيم محمد عوامة 38612)
حدیث نمبر: 40244
٤٠٢٤٤ - (حدثنا) (١) عبد اللَّه بن إدريس عن عاصم بن كليب عن أبيه عن (خاله) (٢) -يعني الفلتان بن عاصم قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أما مسيح (الضلالة) (٣) فرجل أجلى الجبهة ممسوح العين اليسرى، عريض النحر فيه (دفاء) (٤) كأنه فلان بن عبد العزى أو عبد العزى بن فلان" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
فلتان بن عاصم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا گمراہی کا مسیح (دجال) وہ ایسا آدمی ہے جس کی پیشانی بہت واضح ہوگی اور اس کی دائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی چوڑے سینے والا ہوگا اور اس میں جھکاؤ ہوگا گویا کہ وہ ابن عبدالعزی کا فلاں بیٹا ہے یا یوں فرمایا کہ عبدالعزی بن فلاں کی طرح ہے۔ (صحیح بخاری میں عبدالعزی بن قطن آتا ہے)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40244
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ كليب صدوق، أخرجه إسحاق كما في المطالب (١١١٥)، والبزار (٢٦٩٨)، والطبراني ١٨/ (٨٦٠)، ويعقوب في مسند عمر ١/ ٩٧، وورد من حديث عاصم عن أبيه عن أبي هريرة، أخرجه أحمد ٢/ ٢٩١ (٧٨٩٢)، والطيالسي (٢٥٣٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40244، ترقيم محمد عوامة 38613)
حدیث نمبر: 40245
٤٠٢٤٥ - (حدثنا) (١) وكيع عن جرير (بن حازم) (٢) عن حميد بن هلال عن أبي (الدهماء) (٣) عن عمران بن حصين قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من سمع منكم بخروج الدجال فلينأ عنه ما استطاع، فإن الرجل يأتيه وهو يحسب أنه مؤمن، (فما) (٤) يزال به حتى (يتبعه) (٥) مما يرى من الشبهات" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو آدمی تم میں سے دجال کے نکلنے کے بارے میں سنے وہ اس سے اتنا زیادہ دور رہے بلاشبہ آدمی اس کے پاس اس گمان سے آئے گا کہ وہ مومن ہے پھر مسلسل اس کے ساتھ رہے گا یہاں تک کہ جو بھی اس کی جانب سے ڈالے جانے والی شہادت دیکھے گا وہ اس میں ان کی پیروی کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40245
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٩٨٧٥)، وأبو داود (٤٣١٩)، والبزار (١٥٩٠)، والدولابي ١/ ١٧٠، والحاكم ٤/ ٥٣١، والطبراني ١١/ (٥٥٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40245، ترقيم محمد عوامة 38614)
حدیث نمبر: 40246
٤٠٢٤٦ - (حدثنا) (١) وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس عن المغيرة بن شعبة قال: ما كان أحد يسأل رسول اللَّه ﷺ عن الدجال أكثر مني، قال: "وما تسألني عنه؟ " قلت: إن الناس يقولون: إن معه الطعام والشراب، قال: "هو أهون على اللَّه من ذلك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ کسی نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مجھ سے زیادہ دجال کے بارے میں نہیں پوچھا حضرت مغیرہ نے کہا کہ تم نے مجھ سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا راوی قیس کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ کھانے اور پینے کی چیزیں ہوں گی تو انہوں نے فرمایا کہ دجال کا امر اللہ تعالیٰ پر اس سے زیادہ آسان ہے (دجال کے لیے حقیقتاً یہ چیزیں ثابت نہیں ہوں گی اور جو ہوں گی وہ آزمائش اور امتحان کے لیے ملمع سازی ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40246
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٧١٢٢)، ومسلم (٢١٥٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40246، ترقيم محمد عوامة 38615)
حدیث نمبر: 40247
٤٠٢٤٧ - حدثنا ابن علية عن الجريري عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري قال: حدثنا زيد بن ثابت عن رسول اللَّه ﷺ قال: "تعوذوا باللَّه من فتنة الدجال"، قلنا: نعوذ باللَّه من فتنة المسيح الدجال (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم مسیح دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگو۔ ہم نے کہا ہم مسیح دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40247
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٦٧)، وأحمد (٢١٦٥٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40247، ترقيم محمد عوامة 38616)
حدیث نمبر: 40248
٤٠٢٤٨ - (حدثنا) (١) وكيع عن الأوزاعي عن حسان بن عطية عن محمد بن أبي عائشة عن أبي هريرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی ایک تشہد پڑھے تو وہ مسیح دجال کے فتنے سے بھی پناہ مانگے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40248
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٥٨٨)، وأحمد (١٠١٨٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40248، ترقيم محمد عوامة 38617)
حدیث نمبر: 40249
٤٠٢٤٩ - وعن يحيى (عن) (١) أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا تشهد أحدكم فليستعذ باللَّه من (شر) (٢) فتنة (المسيح) (٣) الدجال" (٤).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40249
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٣٧٧)، ومسلم (٥٨٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40249، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 40250
٤٠٢٥٠ - (حدثنا) (١) وكيع (و) (٢) عبد اللَّه بن نمير عن هشام عن أبيه عن ⦗٣٢٠⦘ عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ يقول: "اللهم إني أعوذ بك من شر فتنة المسيح الدجال" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں فرماتے تھے کہ اے اللہ ! میں آپ سے مسیح دجال کے فتنے سے پناہ مانگتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40250
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٠١٤)، ومسلم (٥٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40250، ترقيم محمد عوامة 38618)
حدیث نمبر: 40251
٤٠٢٥١ - (حدثنا) (١) وكيع عن سفيان عن فرات عن أبي الطفيل عن أبي (سريحة) (٢) حذيفة بن أسيد قال: اطلع علينا رسول اللَّه ﷺ فقال: "لا تقوم الساعة حتى (تكون) (٣) عشر آيات" -ذكر طلوع الشمس من مغربها والدجال (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سریحہ حذیفہ رضی اللہ عنہ بن اسد سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف جھانکا اور ارشاد فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ دس نشانیاں ظاہر ہوجائں ہ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا تذکرہ فرمایا اور دجال کا تذکرہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40251
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ والرفع زيادة من ثقة، أخرجه مسلم (٢٩٠١)، وأحمد (١٦١٤٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40251، ترقيم محمد عوامة 38619)
حدیث نمبر: 40252
٤٠٢٥٢ - (حدثنا) (١) مروان بن معاوية عن (مجالد) (٢) عن أبي الوداك عن أبي سعيد الخدري عن النبي ﷺ أنه قال: "أنا أختم ألف نبي أو أكثر، (ما بعث) (٣) اللَّه (من) (٤) نبي إلى قومه إلا حذرهم الدجال، وإنه قد بين لي ما لم يبين لأحد قبلي، أنه أعور وإن اللَّه ليس بأعور، وإنه أعور عين اليمنى، لا حدقة له، جاحظة؛ (والأخرى) (٥) كأنها كوكب دري، و (إنه) (٦) يتبعه من كل قوم يدعونه بلسانهم إلها" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سید خدری نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں ہزار نبیوں یا اس سے زیادہ فرمایا کے بعد آیا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی نبی اپنی قوم کی طرف نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس نے انہیں دجال سے ڈرایا اور بلاشبہ میرے لیے وہ بات بیان کی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی ایک سے بھی بیان نہیں کی گئی بلاشبہ وہ کانا ہے اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اور اس کی دائیں آنکھ کانی ہے اس کی پتلی نہیں ہے اور ابھری ہوئی ہے اور دوسری ایسے ہے گویا کہ چمکتا ہوا روشن ستارہ ہر قوم میں سے جو اس کی پیروی کرینگے وہ اس کو اپنی زبان میں اِلٰہ کے ساتھ پکاریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40252
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه أحمد (١١٧٦٩) ٣/ ٧٩، والحاكم ٢/ ٥٩٧، والخطيب في الفقيه والمتفقه ٢/ ٢٥٩، وبنحوه ابن عبد البر في التمهيد ٨/ ٣٣٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40252، ترقيم محمد عوامة 38620)
حدیث نمبر: 40253
٤٠٢٥٣ - (حدثنا) (١) يزيد بن هارون قال: أخبرنا ابن عون عن مجاهد قال: ذكروه -يعني الدجال عند ابن عباس، قال: مكتوب (بين) (٢) عينيه "ك ف ر"، قال: فقال (ابن عباس: لم) (٣) اسمعه يقول (ذاك) (٤)، ولكنه قال: أما إبراهيم فانظروا إلى صاحبكم -قال يزيد: يعني النبي (ﷺ (٥) -، وأما موسى فرجل آدم جعد طوال كأنه من رجال (شنوءة) (٦) على (جمل) (٧) أحمر (مخطوم) (٨) (بخلبة) (٩)، فكأني أنظر إليه قد انحدر من الوادي يلبي (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ لوگوں نے حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس دجال کا تذکرہ کیا تو حاضرین میں سے کسی نے کہا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک، ف، ر لکھا ہوگا مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات نہیں سنی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رہے ابراہیم تو ان کی شبیہ دیکھو اپنے صاحب میں یزید راوی کہتے ہیں کہ صاحب سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی ذات ہے اور رہے موسیٰ تو وہ ایک گندمی رنگ کے گھنگریالے بالوں والے لمبے قد کے مرد ہیں گویا کہ وہ شنوء ہ قبیلے کے مردوں میں سے ہیں سرخ اونٹ پر جس کی لگام خشک گھاس کی ہوگی پر سوار ہوں گے گویا کہ میں ان کو وادی سے تلبیہ پڑھتے ہوئے آتا دیکھ رہا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40253
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٥٥٥)، ومسلم (١٦٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40253، ترقيم محمد عوامة 38621)
حدیث نمبر: 40254
٤٠٢٥٤ - حدثنا وكيع عن عبد الحميد بن (بهرام) (١) عن شهر بن حوشب عن أسماء ابنة يزيد قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "ليس عليكم منه (بأس) (٢) إن خرج وأنا حي فأنا حجيجه، وإن خرج (بعد موتي) (٣) فالثه خليفتي على كل مسلم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماء بنت یزید سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس دجال سے تم پر کوئی خوف نہیں ہے اگر وہ نکلا میری زندگی میں تو میں اس کا مقابلہ کرنے والا ہوں گا اور اگر وہ میری وفات کے بعد نکلا تو اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر محافظ ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40254
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شهر صدوق، صرح بالسماع عند الحميدي (٣٦٥)، وأخرجه أحمد (٢٧٥٨٠) والطبراني ٢٤/ (٤٤٦)، والحارث كما في زوائده (٧٨ (٣)، وعبد الرزاق (٢٠٨٢١)، والبغوي (٤٢٦٣)، وإسحاق (٢٢٦٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40254، ترقيم محمد عوامة 38622)
حدیث نمبر: 40255
٤٠٢٥٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "نعوذ باللَّه من فتنة المسيح الدجال" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم مسیح دجال سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40255
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه بنحوه البخاري (١٣٧٧)، ومسلم (٥٨٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40255، ترقيم محمد عوامة 38623)
حدیث نمبر: 40256
٤٠٢٥٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن حميد عن أنس أن النبي ﷺ قال: "الدجال أعور العين (اليمنى) (١)، عليها ظفرة، مكتوب بين عينيه: كافر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال دائیں آنکھ سے کانا ہے اس کی آنکھ پر ناخنہ ہے (یعنی ایک بیماری جس میں آنکھ پر ناک کی طرح جھلی آجاتی ہے) اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40256
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٣٠٨١)، وأبو يعلى (٣٨٤٦)، والضياء (٢٠٢١)، والآجري في الشريعة ص ٣٧٥، والبغوي (٤٢٥٧)، وأصله عند البخاري (٧١٣١)، ومسلم (٢٩٣٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40256، ترقيم محمد عوامة 38624)
حدیث نمبر: 40257
٤٠٢٥٧ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن زائدة عن سماك (عن) (٢) عكرمة عن ابن عباس عن النبي ﷺ قال: "إن الدجال أعور جعد هجان أقمر كأن رأسه (غصنة) (٣) شجرة، أشبه الناس بعبد العزى بن قطن، فأما (هلك) (٤) الهلك فإنه أعور، وإن اللَّه ليس بأعور" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عباس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت نقل کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ دجال گھنگریالے بالوں والا بہت زیادہ سفید ہے اس کے سر کے بال گویا درخت کی شاخیں ہیں لوگوں میں عبدالعزی بن قطن کے بہت زیادہ مشابہہ ہے اگر لوگ اس کی مشابہت کی وجہ سے ہلاک ہوجائیں وہ کانا ہے اور اللہ تعالیٰ کانے نہیں ہیں (مراد یہ ہے کہ لوگ اس کی پیروی کریں جہالت کی بناء پر تو پھر بھی وہ اپنے سے کانے پن کا عیب دور نہیں کرسکتا جبکہ اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک و منزہ ہیں) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40257
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة، أخرجه أحمد (٢١٤٨)، وابن حبان (٦٧٩٦)، والطبراني (١١٧١١)، والطيالسي (٢٦٧٨)، وابن خزيمة في التوحيد ص ٤٣، وأبو نعيم في أخبار أصبهان ٢/ ٢٨٧، والحربي في غريب الحديث ٢/ ٣٧٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40257، ترقيم محمد عوامة 38625)
حدیث نمبر: 40258
٤٠٢٥٨ - حدثنا شبابة قال: حدثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: كان هشام بن عامر الأنصاري يرى رجالا يتخطونه إلى عمران بن حصين ⦗٣٢٣⦘ وغيره من أصحاب النبي ﷺ (فغضب وقال: واللَّه) (١) إنكم لتخطون إلى من لم يكن أحضر لرسول اللَّه ﷺ مني ولا أوعى لحديثه مني، لقد سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "ما بين (٢) خلق آدم إلى أن تقوم الساعة فتنة أكبر من فتنة الدجال" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن ہلال سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت ہشام بن عامر انصاری کچھ لوگوں کو دیکھتے تھے کہ وہ حضرت عمران بن حصین اور دوسرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کے پاس جاتے تھے وہ غصے میں آگئے اور ارشاد فرمایا اللہ کی قسم تم ان لوگوں کے پاس جاتے ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہ تو مجھ سے زیادہ حاضر باش تھے اور نہ ان کی احادیث کو مجھ سے زیادہ یادر کھنے والے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے حضرت آدم کی پیدائش اور قیامت قائم ہونے تک دجال سے بڑا کوئی فتنہ نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40258
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ صرح حميد بسماعه من هشام عند أحمد (١٦٢٦١)، والحديث أخرجه مسلم (٢٩٤٦)، وأحمد (١٦٢٦٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40258، ترقيم محمد عوامة 38626)
حدیث نمبر: 40259
٤٠٢٥٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن أبي مالك الأشجعي عن ربعي عن حذيفة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لأنا أعلم بما مع الدجال من (الدجال) (١)، معه نهران يجريان أحدهما رأي العين ماء أبيض، والآخر رأي العين نار (تأجج) (٢)، فأما (٣) (أدرك) (٤) (أحد) (٥) ذلك فليأت (النار) (٦) الذي يراه (٧)، فليغمض ثم ليطاطئ رأسه (٨) ليشرب فإنه ماء بارد، وإن الدجال ممسوح العين، عليها ظفرة غليظة مكتوب بين عينيه كافر، (يقرؤه) (٩) كل مؤمن: كاتب وغير كاتب" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میں خوب جانتا ہوں اس فریب کو جو دجال کے ساتھ ہوگا اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی ان میں سے ایک بظاہر دیکھنے میں سفید پانی معلوم ہوگی اور دوسری بظاہر بھڑکتی ہوئی آگ معلوم ہوگی اگر کوئی اس صورتحال میں مبتلا ہو تو جسے آگ سمجھ رہا ہے اس میں چلاجائے اور آنکھیں بند کرے پھر پینے کے لیے سر جھکائے تو وہ ٹھنڈاپانی ہوگا اور بلاشبہ دجال مٹی ہوئی آنکھ والا ہے اس کی آنکھ پر موٹا ناخنہ سا ہوگا (ایک ظفرہ بیماری جس کی وجہ سے آنکھ پر ناک کی طرح کی جھلی آجاتی ہے) اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا جس کو ہر مومن پڑھ لے گا لکھنے (پڑھنے) والا ہو یا نہ لکھنے (پڑھنے) والا نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40259
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٩٣٤)، وأحمد (٢٣٢٧٩)، وأصله عند البخاري (٣٤٥٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40259، ترقيم محمد عوامة 38627)
حدیث نمبر: 40260
٤٠٢٦٠ - حدثنا حسين (بن علي) (١) عن زائدة عن منصور عن ربعي عن حذيفة عن النبي ﷺ (٢) قال: "لأنا أعلم بما مع الدجال من الدجال (٣) (أن معه نارا) (٤) تحرق، ونهر ماء بارد، (فمن) (٥) أدركه منكم فلا يهلكن به (فليغمض) (٦) عينيه، وليقع في الذي يرى أنه نار فإنه نهر ماء بارد" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں دجال کے ساتھ جو فریب ہوگا اس کو خوب جانتا ہوں اس کے ساتھ جلانے والی آگ اور ٹھنڈے پانی کی نہر ہوگی پس تم میں کوئی اسے پالے تو اس کے ساتھ ہلاک نہ ہو اپنی آنکھیں بند کر کے جسے آگ سمجھ رہا ہے اس میں کود جائے بلاشبہ وہ ٹھنڈا پانی ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40260
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد ٥/ ٣٩٣ (٢٣٣٨٦)، والطبراني في الأوسط (٢٥٠٣)، وأبو داود (٤٢١٥)، والطحاوي في شرح المشكل (٥٦٩١)، وابن منده في الإيمان (١٠٣٧)، وابن قتيبة في تأويل مختلف الحديث ص ١٨٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40260، ترقيم محمد عوامة 38628)
حدیث نمبر: 40261
٤٠٢٦١ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا شيبان عن يحيى عن الحضرمي بن لاحق عن أبي صالح عن عائشة أم المؤمنين قالت: (دخل) (١) علي النبي ﷺ وأنا أبكي، فقال: "ما يبكيك؟ " (فقلت) (٢): يا رسول اللَّه، ذكرت الدجال، قال: "فلا تبكي فإن يخرج وأنا حي أكفيكموه، (وإن أمت) (٣) فإن ربكم ليس (بأعور) (٤)، وإنه يخرج معه (يهود) (٥) أصبهان، فيسير حتى ينزل (بضاحية) (٦) ⦗٣٢٥⦘ المدينة، ولها يومئذ سبعة أبواب، على كل باب (ملكان) (٧)، فيخرج إليه شرار أهلها، فينطلق حتى يأتي (٨) لد، فينزل عيسى بن مريم (٩) فيقتله، ثم يمكث عيسى في الأرض أربعين سنة أو (قريبًا) (١٠) من أربعين سنة إماما عادلا وحكما مقسطا" (١١).
مولانا محمد اویس سرور
ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ میں رو رہی تھی انہوں نے پوچھا تمہیں کونسی چیز رلا رہی ہے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دجال کے تذکرے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہ رو اگر وہ میری زندگی میں نکلا تو میں تمہاری کفایت کرونگا اور اگر میری وفات ہوجائے تو بلاشبہ تمہارا رب کانا نہیں ہے بلاشبہ اصبہان کے یہود نکلیں گے وہ چلے گا یہاں تک کہ مدینہ کے بیرونی کنارے میں آئے گا اور اس وقت مدینہ کے سات دروازے ہوں گے ہر دروازے پر دو فرشتے ہوں گے مدینہ کے شریر لوگ اس کی طرف نکلیں گے وہ چلے گا یہاں تک کہ مقام لد پر پہنچے گا حضرت عیسیٰ بن مریم اتریں گے اور اسے قتل کریں گے پھر حضرت عیسیٰ زمین میں چالیس سال کا عرصہ ٹھہریں گے یا راوی فرماتے ہیں یوں فرمایا کہ چالیس سال کے قریب کا زمانہ امام عادل اور انصاف کرنے والے فیصل بن کر ٹھہریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40261
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ الحضرمي صدوق، أخرجه أحمد (٢٤٤٦٧)، وابن حبان (٦٨٢٢)، وعبد اللَّه بن أحمد في السنة (٩٩٦)، والشاشي (٦٨٧)، وابن منده (١٠٥٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40261، ترقيم محمد عوامة 38629)
حدیث نمبر: 40262
٤٠٢٦٢ - (١) شبابة عن ليث بن سعد عن (يزيد) (٢) بن أبي حبيب عن ربيعة بن لقيط التجيبي عن ابن حوالة الأزدي عن النبي ﷺ أنه قال: "من نجا من ثلاث فقد نجا" -قالها ثلاث مرات- قالوا: وما ذاك يا رسول اللَّه؟ قال: "موتي، والدجال، ومن قتل خليفةٍ مصطبرٍ بالحق يعطيه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن حوالہ ازدی ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا جو آدمی تین چیزوں سے نجات پا گیا وہ نجات پا گیا یہ آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا صحابہ نے عرض کیا یہ کیا چیزیں ہیں اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری وفات اور دجال اور ایسے خلیفہ کا قتل جو حق پر جمنے والا اور حق دینے والا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40262
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ربيعة صدوق وثقه العجلي وابن حبان ورى عنه جمع، وصحح له الحاكم، أخرجه أحمد (٢٢٤٨٨)، والحاكم ٣/ ١٠١، وابن أبي عاصم في السنة (١١٧٧)، وابن قانع ٢/ ٨٩، والبيهقي في دلائل النبوة ٦/ ٣٩٢، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ٢٢٠، والضياء في المختارة ٩/ (٢٤٢)، وابن عساكر ٣٩/ ٢٩٢، وابن شبه (١٨٨٣)، والحارث (٧٧٩/ بغية).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40262، ترقيم محمد عوامة 38630)
حدیث نمبر: 40263
٤٠٢٦٣ - حدثنا أسود بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن خالد عن عبد اللَّه بن (شقيق) (١) عن عبد اللَّه بن سراقة عن أبي عبيدة قال: سمعت (رسول اللَّه) (٢) ﷺ يقول: "إنه لم يكن نبي بعد نوح إلا وقد أنذر قومه الدجال، وإني ⦗٣٢٦⦘ أنذركموه"، وصفه لنا رسول اللَّه ﷺ وقال: "سيدركه بعض من رآني، أو سمع كلامي"، قالوا: يا رسول اللَّه، كيف قلوبنا يومئذ؟ (أمثلها) (٣) اليوم؟ قال: (أو (خيرًا) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابو عبیدہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا حضرت نوح کے بعد ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے۔ اور بلاشبہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں (راوی فرماتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے اس کے بارے میں بیان کیا اور ارشاد فرمایا عنقریب اسے پائے گا وہ شخص جس نے مجھے دیکھا یا فرمایا جس نے میرے کلام کو سنا صحابہ کرام نے عرض کیا اس وقت ہمارے قلوب کیسے ہوں گے کیا آج کے دن جیسے ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس سے بہتر ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40263
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد اللَّه بن سراقة صدوق، أخرجه أحمد (١٦٩٣)، وأبو داود (٤٧٥٦)، والترمذي (٢٢٣٤)، والحاكم ٤/ ٥٤٢، وأبو نعيم في معرفة الصحابة (٥٩٥)، وأبو يعلى (٨٧٥)، وابن حبان (٦٧٧٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40263، ترقيم محمد عوامة 38631)
حدیث نمبر: 40264
٤٠٢٦٤ - قال: وحدثنا (أبو بكر) (١) قال: حدثنا هاشم بن القاسم قال: حدثنا عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان عن أبيه عن مكحول عن جبير بن نفير عن مالك بن (يخامر) (٢) عن معاذ بن جبل قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "عمران بيت المقدس خراب يثرب، وخراب يثرب خروج الملحمة، وخروج الملحمة فتح القسطنطينية، (وفتح القسطنطينية) (٣) خروج الدجال"، ثم يضرب بيده على فخذ الذي حدثه أو (٤) منكبيه ثم قال: "إن هذا (هو) (٥) الحق كما أنك هاهنا، أو كما أنت قاعد" -يعني معاذًا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیت المقدس کی آبادی یثرب کی بربادی ہے اور یثرب کی بربادی بڑی لڑائی کا (جو رومیوں کے ساتھ ہوگی) ظاہر ہونا ہے اور بڑی لڑائی کا ظہور قسطنطنیہ کی فتح ہے اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کا خروج ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کی ران یا فرمایا اس کے دونوں کندھوں پر اپنا ہاتھ مارا پھر فرمایا یہ حق ہے جیسے تم یہاں ہو یا فرمایا جیسے تم بیٹھے ہو مراد حضرت معاذ خود تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40264
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد الرحمن بن ثابت، وأخرجه أحمد ٥/ ٢٣٢ (٢٢٠٧٦)، وأبو داود (٤٢٩٤)، والطبراني ٢٠/ (٢١٤)، والبغوي في الجعديات (٣٤٠٥)، والخطيب في تاريخ بغداد ١٠/ ٢٢٣، والطحاوي في شرح المشكل ١/ ٤٥٠، والداني (٤٥٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40264، ترقيم محمد عوامة 38632)
حدیث نمبر: 40265
٤٠٢٦٥ - حدثنا أسود بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أبي نضرة قال: أتينا عثمان بن أبي (العاص) (١) [في يوم جمعة لنعرض مصحفا لنا بمصحفه، فجلسنا إلى رجل يحدث، ثم جاء عثمان بن أبي (العاص) (٢)] (٣) فتحولنا إليه، فقال عثمان: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "يكون للمسلمين ثلاثة أمصار: (مصر) (٤) (بملتقى) (٥) البحرين، ومصر بالجزيرة، (ومصر) (٦) بالشام، (فيفزع) (٧) الناس ثلاث فزعات فيخرج الدجال في (أعراض) (٨) جيش (ينهزم) (٩) من قبل المشرق، (فأول مصر (يرده) (١٠) المصر الذي) (١١) بملتقى البحرين فيصير أهله ثلاث فرق: فرقة تقيم (و) (١٢) (تقول) (١٣) (نشامّه) (١٤) (وننظر) (١٥) ما هو؟ ⦗٣٢٨⦘ و (فرقة) (١٦) تلحق بالأعراب، وفرقة (تلحق) (١٧) بالمصر الذي يليهم، (١٨) [ومعه سبعون ألفا عليهم (السيجان) (١٩) فأكثر (أتباعه) (٢٠) اليهود والنساء، ثم يأتي المصر الذي يليهم فيصير أهله ثلاث فرق: فرقة (تقيم) (٢١) وتقول (نشامه) (٢٢) وننظر ما هو؟ وفرقة تلحق بالأعراب، وفرقة تلحق بالمصر الذي يليهم] (٢٣)، ثم يأتي الشام (فينحاز) (٢٤) المسلمون إلى عقبة أفيق يبعثون سرحا لهم فيصاب (سرحهم) (٢٥)، ويشتد ذلك عليهم، وتصيبهم مجاعة شديدة وجهد حتى إن أحدهم ليحرق وتر قوسه فيأكله، فبينما هم كذلك إذ نادى مناد من (السحر) (٢٦): يا أيها الناس، أتاكم الغوث -ثلاث مرات، فيقول بعضهم لبعض: إن هذا الصوت لرجل شبعان، فينزل عيسى بن مريم (٢٧) عند صلاة الفجر فيقول له أمير الناس: تقدم -يا روح اللَّه- فصلِّ بنا، فيقول: إنكم -معشر هذه الأمة- أمراء بعضكم على بعض، تقدم أنت فصل ⦗٣٢٩⦘ بنا، فيتقدم الأمير فيصلي بهم، فإذا انصرف أخذ عيسى (٢٨) حربته فيذهب نحو الدجال، فإذا رآه ذاب كما يذوب الرصاص، ويضع حربته بين (ثدييه) (٢٩) فيقتله، ثم ينهزم أصحا (به) (٣٠) " (٣١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نضرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم جمعے والے دن حضرت عثمان بن ابو العاص کے پاس آئے تا کہ ہم اپنے (لکھے ہوئے) صحیفے کا انکے صحیفے کے ساتھ موازنہ کریں پھر حضرت عثمان بن ابوالعاص تشریف لائے ہم ان کے گرد جمع ہوگئے حضرت عثمان نے ارشاد فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمانوں کے تین شہر ہوں گے ایک شہر تو دو سمندروں کے سنگھم پر ہوگا اور ایک شہر جزیرہ میں ہوگا ایک شہر شام میں ہوگا پس لوگ تین مرتبہ گھبرائیں گے پھر دجال جنگی لشکروں میں نکلے گا اور مشرق کی جانب شکست کھاجائے گا پہلا شہر جس میں وہ جائے گا وہ شہر ہوگا جو دو سمندروں کے سنگھم میں پر ہوگا اس کے رہنے والے تین گروہوں میں ہوجائیں گے ایک گروہ وہاں اقامت اختیار کرے گا اور کہے گا ہم اس کے قریب ہو کر دیکھتے ہیں وہ کیا ہے اور ایک گروہ دیہاتیوں کے ساتھ مل جائے گا اور ایک گروہ ساتھ والے شہر میں چلاجائے گا اس کے (یعنی دجال کے ساتھ) ستر ہزار ایسے لوگ ہوں گے جن پر سبز چادریں ہوں گی اس کے اکثر متبعین یہودی اور عورتیں ہوں گی پھر ان کے پاس والے شہر میں آئے گا اس کے رہنے والے تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک گروہ تو وہیں ٹھہرے گا اور کہے گا ہم اس کے قریب ہوں گے اور دیکھیں گے وہ کیا ہے ایک گروہ دیہاتیوں کے ساتھ مل جائے گا اور تیسرا گروہ اپنے پاس والے شہر میں چلا جائے گا پھر شام جائے گا مسلمان عقبہ افیق مقام میں جمع ہوجائیں گے وہ اپنے مویشیوں کو بھیجیں گے ان کے مویشیوں کو نقصان پہنچے گا یہ بات ان پر گراں ہوجائے گی ان کو سخت بھوک اور مشقت پہنچے گی یہاں تک کہ ان میں ایک اپنی کمان کی تانت کو جلائے گا اور اسے کھالے گا لوگ اس حالت پر ہوں گے سحر کے وقت ایک پکارنے والا پکارے گا اے لوگو تمہاری مدد آگئی یہ تین مرتبہ ندا دے گا وہ ایک دوسرے سے کہیں گے بلاشبہ یہ آواز ایک سیر شدہ آدمی کی آواز ہے عیسیٰ (علیہ السلام) فجر کی نماز کے وقت اتریں گے اور ان سے لوگوں کے امیر کہیں گے اے روح اللہ ! آگے بڑھیں ہمیں نماز پڑھائیں (ان سے) عیسیٰ فرمائیں گے تم اس امت کی جماعت ایک دوسرے پر امراء ہو تم آگے بڑھو اور ہمیں نماز پڑھاؤ وہ امیر آگے بڑھیں گے اور ان کو نماز پڑھائیں گے جب نماز پڑھ کر فارغ ہوں گے عیسیٰ اپنا نیزہ پکڑیں گے اور دجال کی طرف جائیں گے وہ دجال ان کو دیکھے گا تو پگھلے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے اس کے سینے کے درمیان اپنا نیزہ رکھیں گے اور اسے قتل کردیں گے پھر اس کے ساتھی شکست خوردہ ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40265
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف علي بن زيد، أخرجه أحمد (١٧٩٠٠)، والحاكم ٤/ ٤٧٨، والطبراني (٨٣٩٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40265، ترقيم محمد عوامة 38633)
حدیث نمبر: 40266
٤٠٢٦٦ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا (حشرج) (١) قال: حدثنا سعيد ابن جمهان عن سفينة قال: خطبنا رسول اللَّه ﷺ فقال: "إنه لم يكن نبي إلا حذر الدجال أمته، هو أعور العين اليسرى، بعينه اليمنى ظفرة غليظة، بين عينيه: كافر معه واديان أحدهما (جنة) (٢) والآخر نار، فجنته نار وناره (جنة) (٣)، ومعه ملكان من الملائكة يشبهان نبيين من الأنبياء، أحدهما عن يمينه والآخر عن شماله، فيقول لأناس: ألست بربكم؟ (ألست) (٤) أحى وأميت؟ فيقول له أحد الملكين: كذبت؛ فما يسمعه أحد من الناس إلا صاحبه، فيقول صاحبه: صدقت، فيسمعه الناس فيحسبون إنما صدق الدجال، وذلك فتنة، ثم يسير حتى يأتي المدينة فلا يؤذن له فيها، فيقول: هذه قرية ذاك الرجل، ثم يسير حتى يأتي الشام، فيقتله اللَّه عند عقبة أفيق" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفینہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا بلا شبہ کوئی بھی نبی نہیں گزرا مگر اس نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا وہ بائیں آنکھ سے کانا ہے اس کی دائیں آنکھ میں ایک موٹا سا ناخنہ ہوگا اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر (لکھا ہوا) ہے اس کے ساتھ دو وادیاں ہوں گی ان میں ایک جنت اور دوسری آگ اس کی جنت آگ ہے اور اس کی آگ جنت ہے اور اس کے ساتھ ملائکہ میں سے دو فرشتے ہوں گے جو انبیاء میں سے دو نبیوں کے مشابہہ ہوں گے ان میں سے ایک اس کی دائیں جانب ہوگا اور دوسرا اس کی بائیں جانب ہوگا وہ لوگوں سے کہے گا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں کیا میں زندہ نہیں کرتا اور مارتا نہیں دو فرشتوں میں سے ایک کہے گا تو نے جھوٹ کہا پس لوگوں میں سے کوئی ایک اس کی بات نہیں سنے گا مگر اس کا ساتھی (دوسرا فرشتہ) وہ اپنے ساتھی (فرشتے سے) سے کہے گا تو نے سچ کہا لوگ اس کی بات سن لیں گے اور اور یہ گمان کریں گے کہ اس نے دجال کی تصدیق کی ہے اور یہ آزمائش ہوگی پھر وہ چلے گا یہاں تک کہ مدینہ منورہ آئے گا اسے اس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی وہ کہے گا یہ تو اس آدمی کی بستی ہے چلے گا یہاں تک کہ شام جائے گا پس اللہ تعالیٰ اسے عقبہ افیق کے پاس ہلاک کردیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40266
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ رواية حشرج عن سعيد متكلم فيها، أخرجه أحمد (٢١٩٢٩)، والطيالسي (١١٠٦)، وإبراهيم الحربي في غريب الحديث ٣/ ١١٢، والطبراني (٦٤٤٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40266، ترقيم محمد عوامة 38634)
حدیث نمبر: 40267
٤٠٢٦٧ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن حميد بن هلال عن أبي قتادة عن (أسيد) (١) بن جابر قال: هاجت ريح حمراء بالكوفة، فجاء رجل ليس له هجيرى إلا: يا عبد اللَّه بن مسعود جاءت الساعة، قال: وكان عبد اللَّه متكئا فجلس فقال: إن الساعة لا تقوم حتى (لا) (٢) يقسم ميراث ولا يفرح بغنيمة، وقال: عدو يجمعون لأهل (الإسلام) (٣) ويجمع لهم أهل الإسلام، ونحا بيده نحو (الشام) (٤)، قلت: الروم تعني؟ قال: نعم، فيكون عند (ذلكم) (٥) القتال ردة شديد (ة) (٦)، (فيشرط) (٧) المسلمون شرطة للموت لا (ترجع) (٨) إلا غالبة، فيقتتلون حتى (يحجز) (٩) بينهم الليل، (فيفيء) (١٠) هؤلاء وهؤلاء كل غير غالب، وتفنى الشرطة ثم (يشرط) (١١) المسلمون شرطة للموت لا (ترجع) (١٢) إلا غالبة، فيقتتلون (١٣) حتى (يمسوا) (١٤) ⦗٣٣١⦘ فيفئ هؤلاء وهؤلاء كل غير (١٥) غالب؛ وتفنى الشرطة، فإذا كان اليوم الرابع نهد إليهم جند أهل الإسلام، (فيجعل) (١٦) اللَّه (المدبرة) (١٧) عليهم فيقتتلون مقتلة عظيمة، أما قال: لا يرى مثلها، أو قال: (لم) (١٨) ير مثلها حتى أن الطير (ليمر) (١٩) بجنباتهم ما يخلفهم حتى يخر ميتا، فيتعاد بنو الأب كانوا (مائة) (٢٠) فلا يجدونه بقي منهم إلا الرجل الواحد، فبأي غنيمة يفرح، أو بأي ميراث يقاسم، فبينما هم كذلك إذ سمعوا (ببأس) (٢١) هو أكبر من ذلك إذ جاءهم الصريخ أن الدجال قد خلف في ذراريهم، فرفضوا (ما) (٢٢) في أيديهم (ويقبلون) (٢٣) فيبعثون عشرة فوارس طليعة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إني لأعرف أسماءهم وأسماء أبائهم وألوان خيولهم، هم خير فوارس على ظهر الأرض -أو قال-: هم (من) (٢٤) خير فوارس على ظهر الأرض" (٢٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسیر بن جابر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کوفہ میں سرخ ہواچلی ایک صاحب آئے ان کی عادت نہیں تھی مگر یہ کہ اے عبداللہ بن مسعود قیامت آگئی راوی فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود ٹیک لگائے بیٹھے تھے پس بیٹھ گئے اور فرمایا بلاشبہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میراث تقسیم نہیں کی جائے گی اور نہ ہی غنیمت ملنے پر خوشی کا اظہار کیا جائے گا اور فرمایا دشمن ہوں گے جو اہل اسلام کے لیے جمع ہوجائیں گے اور اہل اسلام ان کے مقابلے کے لیے ہوں گے اور ہاتھ سے اشارہ کیا شام کی طرف (راوی کہتے ہیں) میں نے عرض کیا آپ کی مراد روم ہے انہوں نے نے فرمایا ہاں لڑائی اس وقت زور پر ہوگی مسلمان موت کی شرط قائم کرلیں گے کہ نہیں لوٹیں گے مگر غالب ہو کر وہ لڑائی کریں گے یہاں تک کہ رات ان کے درمیان حائل ہوجائے گی یہ بھی رک جائیں گے اور وہ بھی رک جائیں گے کوئی بھی غالب نہیں ہوگا اور شرط ختم ہوجائے گی پھر مسلمان موت کی شرط لگائیں گے کہ لڑائی سے لوٹیں گے مگر غالب ہو کر وہ لڑائی کریں گے یہاں تک کہ شام ہوجائے گی یہ بھی رک جائیں گے اور وہ بھی رک جائیں گے کوئی بھی غالب نہیں ہوگا اور شرط ختم ہوجائے گی پس جب چوتھا دن ہوگا اہل اسلام کا لشکر ان پر حملہ کرے گا پس اللہ تعالیٰ ان (دشمنان اسلام) پر شکست مقررکر دیں گے ان کے درمیان زبردست لڑائی ہوگی جس کی مثل کبھی نہیں دیکھی گئی ہوگی یہاں تک کہ پرندہ ان پر سے گزرے گا ان سے آگے نہیں بڑھے گا یہاں تک کہ مر کر گرجائے گا ایک باپ کی اولاد جو سو ہوگی وہ واپس لوٹیں گے ان میں سے صرف ایک آدمی بچے گا کس غنیمت پر خوشی ہوگی اور کونسی میراث تقسیم ہوگی۔ اس اثناء میں کہ وہ اسی طرح ہوں گے کہ ناگاہ اس سے بڑی لڑائی کے بارے میں سنیں گے ایک چیخنے والا ان کے پاس آئے گا اور (کہے گا) کہ دجال اپنی ذریت میں موجود ہے جو چیزیں ان کے قبضے میں ہوں گی انہیں چھوڑ کر متوجہ ہوں گے اور دس سواروں کو بطور دشمن کے حالات معلوم کرنے والوں کے پاس بھیجے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ میں ان کے اور ان کے آباء کے ناموں کو اور ان کے گھوڑوں کے رنگوں کو بھی پہچانتا ہوں وہ زمین کی پشت پر بہترین شہ سواروں میں ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40267
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٩٩)، وأحمد (٣٦٤٣) و (٤١٤٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40267، ترقيم محمد عوامة 38635)
حدیث نمبر: 40268
٤٠٢٦٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يمكث ⦗٣٣٢⦘ (أبوا) (١) الدجال ثلاثين عاما لا يولد لهما، (ثم يولد لهما) (٢) غلام (أعور) (٣) أضر شيء وأقله نفعًا، تنام عيناه ولا ينام قلبه"، ثم نعت (أبويه) (٤) فقال: "أبوه رجل طوال ضرب اللحم طويل الأنف، كان أنفه منقار، وأمه امرأة (فرضاخية) (٥) عظيمة الثديين" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بکرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کے والدین تیس سال تک ٹھہریں گے ان کی اولاد نہیں ہوگی پھر ان کا کانا بیٹا پیدا ہوگا جس کا نقصان زیادہ ہوگا اور نفع کم ہوگا اس کی آنکھیں سوئیں گی اور اس کا دل نہیں سوئے گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال کے ماں باپ کے بارے میں بتلایا اور ارشاد فرمایا اس کا باپ لمبا اور دبلا اور لمبے ناک والا ہوگا گویا کہ اس کا ناک چونچ کی (کی طرح) ہوگا اور اس کی ماں بڑے پستانوں والی ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40268
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه أحمد (٢٠٤١٨)، والترمذي (٢٢٤٨)، والطيالسي (٨٦٥)، والبزار (٣٦٢٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40268، ترقيم محمد عوامة 38636)
حدیث نمبر: 40269
٤٠٢٦٩ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا شيبان عن يحيى عن أبي سلمة قال: سمعت أبا هريرة يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "ألا أحدثكم عن الدجال حديثا ما حدثه نبي (١) قومه: إنه أعور وإنه يجيء معه بمثل الجنة والنار، فالتي يقول: هي الجنة، هي النار، وإني أنذركم (به) (٢) كما أنذر به نوح قومه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ ارشاد سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں دجال کے بارے میں ایسی حدیث نہ سناؤں جو کسی نبی نے اپنی قوم سے بیان نہیں کی بلاشبہ وہ کانا ہے اور بلاشبہ اس کے ساتھ جنت اور جہنم کی مثل آئے گی جس کے بارے میں وہ کہے گا وہ جنت ہے وہ آگ ہوگی اور میں تمہیں اس سے ایسے ڈراتا ہوں جیسے نوح نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40269
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٣٣٨)، ومسلم (٢٩٣٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40269، ترقيم محمد عوامة 38637)
حدیث نمبر: 40270
٤٠٢٧٠ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن سعد بن إبراهيم عن أبيه عن أبي بكرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يدخل المدينة رعب المسيح الدجال، لها (يومئذ) (١) سبعة (أبواب) (٢)، لكل باب ملكان" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بکرہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مدینہ منورہ میں مسیح دجال کا رعب و دبدبہ داخل نہ ہوگا مدینہ کے اس وقت سات دروازے ہوں گے ہر دروازے کے لیے دو فرشتے مقرر ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40270
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٧١٢٦)، وأحمد (٢٠٤٧٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40270، ترقيم محمد عوامة 38638)
حدیث نمبر: 40271
٤٠٢٧١ - حدثنا شبابة قال: حدثنا شعبة عن جعفر بن إياس عن عبد اللَّه بن شقيق عن رجاء بن أبي رجاء قال: دخل بريدة المسجد ومحجن (على) (١) باب المسجد وسكبة يصلي، فقال بريدة -وكان فيه (مزاح) (٢): ألا تصلي كما يصلي سكبة؟ فقال محجن: إن رسول اللَّه ﷺ أخذ بيدي، فصعد على أُحدٍ (فأشرف) (٣) على المدينة فقال: " (ويلها) (٤) مدينة، (يدعها) (٥) أهلها وهي خير ما كانت، أو (أعمر) (٦) ما كانت، (يأتيها) (٧) الدجال فيجد على كل (باب) (٨) من أبوابها (ملكا) (٩) (مصلتا) (١٠) بجناحيه فلا يدخلها" (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رجاء بن ابی رجاء سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت بریدہ مسجد میں داخل ہوئے اور حضرت محجن مسجد کے دروازے پر تھے اور سکبہ نماز پڑھ رہے تھے حضرت بریدہ نے فرمایا کیا تم نماز پڑھو گے جیسے سکبہ نماز پڑھ رہے ہیں حضرت محجن نے فرمایا بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا پس احد پر چڑھے اور مدینہ کی طرف جھانکا اور ارشاد فرمایا اس کی ماں کے لیے ہلاکت ہے مدینہ اس کو وہاں کے رہنے والے چھوڑ دیں گے حالانکہ وہ پہلے سے زیادہ بہتر ہوگا ( یا راوی فرماتے ہیں) یوں فرمایا مدینہ منورہ پہلے سے زیادہ آباد ہوگا دجال وہاں آئے گا پس اس کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتہ پائے گا جو اپنے پر کھولے ہوئے ہوگا پس وہ مدینہ میں داخل نہیں ہوسکے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40271
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40271، ترقيم محمد عوامة 38639)
حدیث نمبر: 40272
٤٠٢٧٢ - حدثنا المعلي بن منصور قال: حدثنا عبد الواحد بن زياد قال: حدثنا الحارث بن (حصيرة) (١) عن زيد بن وهب قال: سمعت أبا ذر يقول: لأن أحلف ⦗٣٣٤⦘ عشرا: أن ابن صياد هو الدجال، أحب إلي من أن أحلف واحدة أنه ليس به، وذلك لشيء سمعته من رسول اللَّه ﷺ؛ بعثني رسول اللَّه ﷺ (٢) إلى أم ابن صياد (٣) فقال: "سلها: كم حملت به؟ " فقالت: حملت به اثني عشر شهر (ا) (٤)، فأتيته فأخبرته، فقال: "سلها (عن صيحته) (٥) حيث وقع؟ " (قالت) (٦): صاح (صياح) (٧) صبي (ابن) (٨) شهرين، قال: أو قال له رسول اللَّه ﷺ: "إني قد خبأت لك (خبيئا) (٩) " فقال: خبأت لي عظم شاة عفراء، وأراد أن (يقول) (١٠): والدخان، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إخسأ فإنك لن تسبق القدر" (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں دس مرتبہ قسم کھاؤں کہ ابن صیاد وہی دجال ہے مجھے یہ زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں ایک مرتبہ قسم کھاؤں کہ وہ دجال نہیں ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس سلسلے میں کچھ سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ابن صیاد کی ماں کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ اس سے پوچھنا وہ اس سے کتنی دیر حاملہ رہی اس نے کہا میں اس سے بارہ مہینے حاملہ رہی راوی فرماتے ہیں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ کو بتلایا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس سے پوچھوا س کے چیخنے کے بارے میں تو اس کے ماں نے بتلایا یہ چیخا دو مہینے کی طرح اس ابن صیاد نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے ایک بات دل میں چھپائی ہے اس نے کہا کہ آپ نے میرے لیے سفید بکری کی ہڈی کو چھپایا ہے اور یہ کہنا چاہتا تھا کہ دخان حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دور ہوجا تو تقدیر سے نہیں بڑھ سکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40272
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف الحارث بن حصيرة، أخرجه أحمد ٥/ ١٤٨ (٢١٣٥٧)، والطحاوي في شرح المشكل ٧/ ٢٨٨، والعقيلي في الضعفاء ١/ ٢١٦، وابن شبه (٧٦٨)، والطبراني في الأوسط (٨٥٢٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40272، ترقيم محمد عوامة 38640)
حدیث نمبر: 40273
٤٠٢٧٣ - (قال: وحدثنا أبو بكر) (١) قال (٢): حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عبد اللَّه بن (نجي) (٣) عن علي قال: كنا عند النبي ﷺ جلوسًا وهو نائم، ⦗٣٣٥⦘ فذكرنا الدجال، فاستيقظ محمرا وجهه فقال: "غير الدجال أخوف عليكم عندي من الدجال أئمة (مضلون) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے تھے ہم نے دجال کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے اس حال میں کہ چہرہ سرخ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کے علاوہ لوگوں سے مجھے تمہارے بارے میں دجال سے زیادہ خوف ہے اور وہ گمراہ کرنے والے ائمہ ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40273
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف جابر الجعفي، أخرجه أحمد (٧٦٥)، وأبو يعلى (٤٦٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40273، ترقيم محمد عوامة 38641)
حدیث نمبر: 40274
٤٠٢٧٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا علي بن مسعدة عن (رياح) (١) بن عبيدة عن يوسف بن عبد اللَّه بن سلام قال: قال عبد اللَّه بن سلام: يمكث الناس بعد خروج الدجال أربعين عاما (ويغرس) (٢) النخل وتقوم الأسواق (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت ہے کہ لوگ دجال کے نکلنے کے بعد چالیس سال ٹھہریں گے اور کھجور اگائی جائے گی اور بازار قائم ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40274
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف علي بن مسعدة، أخرجه المزي ٨/ ٣٨٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40274، ترقيم محمد عوامة 38642)
حدیث نمبر: 40275
٤٠٢٧٥ - حدثنا يعلي بن عبيد عن الأعمش عن سليمان بن ميسرة عن طارق ابن شهاب عن حذيفة قال: لقد صنع بعض فتنة الدجال وإن رسول اللَّه ﷺ لحي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا دجال کا فتنہ بنایا جا چکا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقید حیات تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40275
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40275، ترقيم محمد عوامة 38643)
حدیث نمبر: 40276
٤٠٢٧٦ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن حكيم بن جابر قال: قال حذيفة: ما خروج الدجال (بأكرث) (١) لي من (قيس) (٢) (باللجام) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا دجال کا نکلنا مجھ پر میری سواری کی لگام گم ہونے سے زیادہ سخت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40276
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه نعيم في الفتن (١٥٣٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40276، ترقيم محمد عوامة 38644)
حدیث نمبر: 40277
٤٠٢٧٧ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا أبو (يعفور) (١) قال: سمعت أبا عمرو ⦗٣٣٦⦘ الشيباني يقول: (كنت عند حذيفة (جالسًا)) (٢) (٣) (إذ) (٤) جاء أعرابي حتى جثا بين يديه فقال: أخرج الدجال؟ فقال له حذيفة: وما الدجال؟ إن ما (٥) دون الدجال أخوفُ من الدجال، إنما (فتنته) (٦) (أربعون) (٧) (ليلة) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمرو شیبانی فرماتے ہیں میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اعرابی آیا یہاں تک کہ ان کے سامنے گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کیا دجال نکل آیا ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا دجال کیا ہے بلاشبہ دجال سے پہلے کی چیزوں سے مجھے زیادہ خوف ہے دجال کی بہ نسبت بلاشبہ اس کا فتنہ تو چالیس راتیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40277
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أبو يعفور هو عبد الرحمن بن عبيد بن نسطاس كما في الجرح والتعديل ٥/ ٢٥٩، والكنى للدولابي ٣/ ١٢٠٠، وتهذيب الكمال ١٧/ ٢٦٩، وأخرجه نعيم (١٥٥٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40277، ترقيم محمد عوامة 38645)
حدیث نمبر: 40278
٤٠٢٧٨ - حدثنا يونس بن محمد عن حماد بن سلمة عن إسحاق بن عبد اللَّه بن أبي طلحة عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إن الدجال يطوي الأرض كلها إلا مكة والمدينة، قال: فيأتي المدينة فيجد بكل نقب من أنقابها صفوفا من (الملائكة) (١) فيأتي (سبخة) (٢) (الجُرف) (٣) فيضرب رواقه ثم (ترجف) (٤) المدينة ثلاث (رجفات) (٥)، فيخرج إليه كل منافق ومنافقة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ دجال کے لیے ساری دنیا سمٹ جائے گی سوائے مکہ اور مدینہ کے پس وہ مدینہ منورہ آئے گا اس کے راستوں میں سے ہر راستے پر فرشتوں کی صفیں پائے گا مقام سبخۃ الجرف میں آئے گا اس کے کھلے میدان میں ضرب لگائے گا مدینہ میں تین مرتبہ بھونچال آئے گا ہر منافق مرد اور منافقہ عورت اس کے ساتھ مل جائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40278
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٨٨١)، ومسلم (٢٩٤٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40278، ترقيم محمد عوامة 38646)
حدیث نمبر: 40279
٤٠٢٧٩ - حدثنا أبو المورع حدثنا (الأجلح) (١) عن قيس بن أبي مسلم عن ربعي بن (حراش) (٢) قال: سمعت حذيفة يقول: لو خرج الدجال لآمن به قوم في قبورهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا اگر دجال نکل آئے تو کچھ لوگ اس پر اپنی قبروں میں ایمان لے آئیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40279
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40279، ترقيم محمد عوامة 38647)
حدیث نمبر: 40280
٤٠٢٨٠ - حدثنا (ابن) (١) عيينة عن الزهري عن سالم عن أبيه أن عمر سأل (رجلًا من اليهود عن أمر، فقال: قد بلوت منلث صدقًا، فحدثني عن الدجال) (٢) فقال: (وإله) (٣) يهود! ليقتلنه ابن مريم (بفناء) (٤) (لد) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے یہود میں سے ایک آدمی سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا اور فرمایا میں نے تمہیں سچا پایا ہے پس مجھ سے دجال کے بارے میں بیان کرو اس نے کہا یہود کے معبود کی قسم عیسیٰ بن مریم ضرور بالضرور مقام لد کے قریب اسے قتل کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40280
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٢٠٨٣٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40280، ترقيم محمد عوامة 38648)