کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 40212
٤٠٢١٢ - حدثنا معاوية (قال) (١): حدثنا شريك عن عثمان (عن) (٢) زاذان عن حذيفة قال: كيف أنتم إذا أتاكم زمان يخرج أحدكم من حجلته إلى (حشه) (٣) (فيرجع) (٤) وقد مسخ قردا فيطلب مجلسه فلا يجده (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا تمہاری کیا حالت ہوگی جب تم پر ایسا زمانہ آئے گا کہ تم میں سے کوئی اپنے کمرے سے نکل کر اپنے بیت الخلاء جائے گا وہ لوٹے گا اس حال میں کہ اس کا چہرہ مسخ کر کے اسے بندر بنادیا گیا ہوگا وہ اپنی بیٹھنے کی جگہ تلاش کرے گا لیکن اسے نہیں پا سکے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40212
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عثمان هو ابن عمير أبو اليقظان ضعيف، وأخرجه الداني (٣٤٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40212، ترقيم محمد عوامة 38583)
حدیث نمبر: 40213
٤٠٢١٣ - حدثنا (يعمر) (١) بن بشر قال: حدثنا ابن مبارك قال: أخبرنا معمر عن إسحاق بن راشد عن عمرو بن وابصة الأسدي عن أبيه قال: إني بالكوفة في داري إذ سمعت على باب الدار: السلام عليكم (أ) (٢) ألج؟ فقلت: وعليكم السلام، فلج، فإذا هو عبد اللَّه بن مسعود فقلت: يا (أبا) (٣) عبد الرحمن! آية ساعة (زيارة؟) (٤) وذلك في نحر الظهيرة، قال: طال علي النهار فتذكرت من أتحدث إليه، فجعل يحدثني ⦗٣٠٨⦘ عن رسول اللَّه ﷺ وأحدثه، فقال عبد اللَّه: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "تكون فتنة: النائم فيها خير من المضطجع، والمضطجع خير من القاعد، والقاعد خير (من القائم، والقائم خير) (٥) من الماشي، والماشي خير من الساعي، قتلاها كلها في النار"، قال: قلت: (ومتى) (٦) ذاك يا رسول اللَّه؟ قال. "ذاك أيام الهرج"، قلت: ومتى أيام الهرج؟ قال: "حين لا (يأمن) (٧) الرجل جليسه"، (قال) (٨): قلت: فبم تأمرني (إن) (٩) أدركت ذلك؟ قال: " (أدخل) (١٠) بيتك"، قلت: أفرأيت إن دُخل علي؟ قال: " (فوالِ) (١١) مخدعك"، قال: قلت: أفرأيت إن دخل علي؟ قال: "قل هكذا، وقل (بؤ) (١٢) بإثمي وإثمك، وكلن عبد اللَّه المقتول" (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وابصہ اسدی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں کوفہ میں اپنے گھر میں تھا اچانک میں نے اپنے دروازے پر یہ بات سنی السلام علیکم کیا میں داخل ہوجاؤ میں نے کہا وعلیکم السلام داخل ہوجاؤ پس وہ عبداللہ بن مسعود تھے میں نے عرض کیا اے ابو عبدالرحمان ! یہ ملاقات کا کونسا وقت ہے یہ عین دوپہر کی بات تھی انہوں نے فرمایا دن مجھ پر لمبا ہوگیا تھا میں نے سوچا کہ کسی سے بات چیت کروں پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث سنانے لگے اور میں بھی ان کو احادیث سنانے لگا حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک فتنہ ہوگا اس میں سونے والا اس میں پہلو کے بل لیٹنے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں لیٹنے والا بھنے ا والے سے بہتر ہوگا بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا اس فتنے میں مارے جانے والے سارے جہنم میں جائیں گے راوی حضرت عبداللہ نے فرمایا میں نے عرض کیا یہ کب ہوگا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے ارشاد فرمایا یہ ہرج کے ایام میں ہوگا میں نے عرض کیا یہ ایام ہرج کب ہوں گے انہوں نے فرمایا جب کسی آدمی کو اپنے ہمنشین سے امن نہیں ہوگا حضرت عبداللہ نے فرمایا میں نے عرض کیا اگر میں یہ زمانہ پالوں تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنے گھر میں داخل ہوجانا میں نے عرض کیا اگر کوئی میرے گھر میں داخل ہوجائے تو آپ کی کیا رائے ہے ارشاد فرمایا کہ پھر تو اپنی کوٹھڑی میں گھس جا میں نے کہا اگر وہ وہاں بھی داخل ہوجائے تو آپ کا کیا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس طرح کرنا (یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کیا تھا جس کی تفصیل مسند احمد کی روایت سے ہوتی ہے کہ راوی نے دائیں ہاتھ سے کلائی کی ہڈی کو پکڑ کر اشارے کی تفصیل کی) اور کہنا میرے گناہ اور اپنے گناہ کے ساتھ لوٹ اور اللہ کا مقتول بندہ بن جانا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40213
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40213، ترقيم محمد عوامة 38584)
حدیث نمبر: 40214
٤٠٢١٤ - حدثنا أحمد بن عبد اللَّه عن عبد الحميد بن بهرام قال: (حدثنا) (١) شهر بن حوشب قال: حدثني جندب بن سفيان (٢) رجل من ⦗٣٠٩⦘ (بجيلة) (٣) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ستكون بعدي فتن كقطع الليل المظلم، تصدم الرجل كصدم (جباه) (٤) فحول الثيران، يصبح الرجل فيها مسلما ويمسي كافرا، ويمسي (مسلمًا) (٥)، ويصبح (كافرا) (٦) "، فقال رجل من المسلمين: يا رسول اللَّه! فكيف نصنع عند ذلك؟ قال: "ادخلوا بيوتكم واخملوا ذكركم"، قال رجل من المسلمين: (٧) (أفرأيت) (٨) إن دُخل على أحدنا بيتُه؟ قال رسول اللَّه ﷺ: "فليمسك بيديه وليكن عبد اللَّه المقتول، (ولا يكن عبد اللَّه القاتل) (٩)، فإن الرجل يكون في قبة الإسلام فيأكل مال أخيه ويسفك دمه ويعصي ربه ويكفر بخالقه فتجب له جهنم" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جندب بن سفیان سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عنقریب میرے بعد فتنے ہوں گے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح لوگ انہیں ایسے ٹکرائیں گے جیسے نر بیلوں کی جماعتیں ٹکراتی ہیں ان میں انسان مسلمان ہونے کی حالت میں صبح کرے گا اور شام کو کافر ہوگا اور شام کو مسلمان ہوگا اور صبح کو کافر ہوجائے گا مسلمانوں میں سے ایک صاحب نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم اس وقت کیا کریں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں میں داخل ہوجانا اور اپنے آپ کو گمنام کرلینا مسلمانوں میں ایک صاحب نے عرض کیا آپ کا کیا خیال ہے اگر ہم میں سے کسی ایک کے گھر میں کوئی داخل ہوجائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ اپنا ہاتھ روکے اور اللہ کا مقتول بندہ بن جائے اور اللہ کا قاتل بندہ نہ بنے بلاشبہ انسان کا دین قوی ہوتا ہے پس وہ اپنے بھائی کا مال کھاتا ہے اور اس کا خون بہاتا ہے اور اپنے رب کی نافرمانی کرتا ہے اور اپنے خالق کا انکار کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم واجب ہوجاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40214
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شهر صدوق مدلس، وصرح بالتحديث، أخرجه أبو يعلى (١٥٢٣)، والروياني (٩٧١)، والطبراني (١٧٢٣)، وابن الأثير في أسد الغابة ١/ ٤٤٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40214، ترقيم محمد عوامة 38585)
حدیث نمبر: 40215
٤٠٢١٥ - حدثنا عبد (الرحمن) (١) بن محمد المحاربي عن ليث عن (عون) (٢) (ابن) (٣) أبي جحيفة عن عبد الرحمن عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أيعجز أحدكم إذا أتاه الرجل يقتله -يعني من أهل كذا- أن يقول هكذا -وقال بإحدى يديه على الأخرى- فيكون كالخير من ابني آدم، وإذا هو في ⦗٣١٠⦘ الجنة وإذا قاتله في النار" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم میں سے کوئی ایک عاجز ہے اس بات سے کہ جب اس کے پاس کوئی آدمی اس کو قتل کرنے کے لیے آئے مراد ان کی یہ تھی کہ فلاں لوگوں میں سے کوئی کہے کہ وہ یوں کرے اور اشارہ کیا اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کی طرف پس وہ ہوجائے گا اولاد آدم میں سے بہترین لوگوں کی طرح اور وہ آدمی جنت میں ہوگا اور اس کا قاتل جہنم میں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40215
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40215، ترقيم محمد عوامة 38586)
حدیث نمبر: 40216
٤٠٢١٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق عن شريح قال: ما أخبرت ولا استخبرت (مذ) (١) كانت الفتنة، قال له مسروق: لو كنت مثلك لسرني أن أكون قد مت، (قال) (٢) شريح: فكيف بأكثر من ذلك: ما في الصدور؟ و (تلتقي) (٣) الفئتان و (إحداهما) (٤) أحب إلي من الآخرى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب سے فتنہ شروع ہوا نہ میں نے اس کی خبر دی اور نہ مجھ سے اس کے بارے میں خبر طلب کی گئی ان سے مسروق نے کہا : اگر میں آپ کی طرح ہوتا تو مجھے یہ بات پسند ہوتی کہ میں مرجاؤں شریح نے اس سے کہا کیا ہوگی اس وقت حالت جب کہ زیادہ ہوجائے وہ فتنہ اس سے بھی زیادہ دو گروہوں کی لڑائی ہوگی اور ان دونوں میں ایک مجھے دوسرے سے زیاد ہ محبوب ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40216
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40216، ترقيم محمد عوامة 38587)
حدیث نمبر: 40217
٤٠٢١٧ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن أبي المنهال قال: حدثني صفوان بن محرز (١) قال: ليتق أحدكم، لا يحولن بينه وبين الجنة (ملءُ) (٢) كف من دم مسلم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفوان بن محرز سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک اس بات سے بچے کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہتھیلی کے بھراؤ کے برابر مسلمان کا خون حائل نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40217
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40217، ترقيم محمد عوامة 38588)
حدیث نمبر: 40218
٤٠٢١٨ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن أبي المنهال عن أبي العالية قال: كنا نتحدث أنه سيأتي على الناس زمان: خير أهله الذي يرى الخير فيجانبه قريبًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم آپس میں گفتگو کرتے تھے کہ عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا اپنے اہل میں سب سے بہترین آدمی وہ ہوگا جو خیر اور بھلائی کو دیکھے گا پس وہ اس پر چلنا شروع ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40218
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40218، ترقيم محمد عوامة 38589)
حدیث نمبر: 40219
٤٠٢١٩ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: حدثنا أسباط بن نصر عن السدي عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يفتك مؤمن، الإيمان ⦗٣١١⦘ (قيد) (١) الفتك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مومن کو دھوکے سے قتل نہیں کیا جائے گا ایمان نے دھوکے سے قتل کرنے کو روک دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40219
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40219، ترقيم محمد عوامة 38590)
حدیث نمبر: 40220
٤٠٢٢٠ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن الحسن قال: جاء رجل إلى الزبير أيام الجمل فقال: أقتل لك عليا؟ قال: وكيف؟ قال: آتيه فأخبره أني معه ثم أفتك به، فقال الزبير: لا، سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "الإيمان قيد الفتك لا (يفتك) (١) مؤمن" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جنگ جمل کے دنوں میں ایک آدمی حضرت زبیر کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا میں آپ کے لیے علی رضی اللہ عنہ کو قتل کردوں انہوں نے کہا کیسے اس نے کہا میں اس کے پاس جاؤں گا اور اسے بتلاؤں گا کہ میں اس کے ساتھ ہوں پھر دھوکے سے موقع پا کر قتل کردوں گا حضرت زبیر نے فرمایا نہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایمان دھوکے سے قتل کرنے کو روکتا ہے مومن کو دھوکے سے قتل نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40220
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40220، ترقيم محمد عوامة 38591)
حدیث نمبر: 40221
٤٠٢٢١ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء عن أبي البختري عن حذيفة قال: إن أصحابي تعلموا الخير وأني تعلمت الشر، قالوا: وما حملك على ذلك؟ قال: إنه من (يعلم) (١) مكان الشر يتقه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میرے ساتھیوں نے بھلائی کو سیکھا اور میں نے برائی کو سیکھا لوگوں نے عرض کیا آپ کو اس بات پر کس چیز نے ابھارا انہوں نے فرمایا بلاشبہ جو آدمی برائی کے مکان کو جانتا ہو وہ اس سے بچ جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40221
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ عطاء اختلط وأبو البختري لم يسمع من حذيفة، أخرجه أبو خيثمة في كتاب العلم (٧٤)، والأنصاري في ذم الكلام (٦٢٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40221، ترقيم محمد عوامة 38592)
حدیث نمبر: 40222
٤٠٢٢٢ - حدثنا علي بن مسهر عن يحيى بن أيوب عن أبي زرعة بن عمرو عن أبي هريرة قال: إن الرجل ليقتل يوم القيامة ألف قتلة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زرعہ بن عمرو حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا بلاشبہ ایک آدمی کو قیامت والے دن ہزار مرتبہ قتل کیا جائے گا حضرت ابو زرعہ سے عاصم بن ابی البخود نے عرض کیا اے ابو زرعہ ہزار مرتبہ قتل کیا جائے گا انہوں نے فرمایا مقتولین کی ضربوں کے بدلے میں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40222
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن المبارك في الزهد (٣٧٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40222، ترقيم محمد عوامة 38593)
حدیث نمبر: 40223
٤٠٢٢٣ - فقال له عاصم بن أبي النجود: يا أبا زرعة، ألف قتلة؟ قال: بضروب ما قتل.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40223
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40223، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 40224
٤٠٢٢٤ - حدثنا مالك بن إسماعيل عن شريك عن عثمان بن أبي زرعة عن صالح عن علي قال: لا تزرعوا معي في السواد، فإنكم إن تزرعوا تقتتلوا على (مائه) (١) بالسيوف، وإنكم إن تقتتلوا تكفروا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا تم میرے ساتھ قریب آبادیوں میں کھیتی باڑی نہ کرو کیونکہ اگر تم نے کھیتی باڑی اختیار کی تو اس کے پانی پر تلواروں سے لڑو گے اور اگر تم نے لڑائی شروع کردی تو تم کفر اختیار کرلو گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40224
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40224، ترقيم محمد عوامة 38594)
حدیث نمبر: 40225
٤٠٢٢٥ - حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن أبي إسحاق عن حارثة ابن مضرب عن علي قال: عرينة و (عقيدة) (١) وعصية وقطيعة (عقدوا) (٢) اللؤم (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ عرینہ و عقیدہ اور عصیہ اور قطیعہ ان سب قبائل نے ملامت پر معاہدہ کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40225
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40225، ترقيم محمد عوامة 38595)
حدیث نمبر: 40226
٤٠٢٢٦ - [حدثنا (أبو) (١) عبد الرحمن بقي بن مخلد قال: حدثنا أبو بكر عبد اللَّه ابن محمد بن أبي شيبة قال] (٢): حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن سلمة بن كهيل عن أبي ظبيان أنه كان عند عمر، قال: فقال (له) (٣): اعتقد مالا واتخذ (سانيا) (٤) فيوشك أن تمنعوا العطاء (٥).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40226
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40226، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 40227
٤٠٢٢٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن العلاء بن المسيب عن فضيل قال: قال علي: خذوا العطاء ما كان طعمة، فإذا كان عن دينكم فارفضوه أشد الرفض (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا وہ عطا یا لو جو تمہارے لیے روزی ہیں جب یہ عطا یا دین کے بدلے میں ہوں تو ان کو سخت انداز میں چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40227
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40227، ترقيم محمد عوامة 38597)
حدیث نمبر: 40228
٤٠٢٢٨ - (حدثنا) (١) ابن فضيل عن العلاء عن أبي معشر قال: قال سلمان: خذوا العطاء ما صفا لكم، فإذا كدر عليكم فاتركوه أشد الترك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ان عطا یا کو جو خالص تمہارے لیے ہیں ان کو لے لو اور جب وہ تم پر مکدر ہوجائیں تو ان کو بالکل چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40228
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40228، ترقيم محمد عوامة 38598)
حدیث نمبر: 40229
٤٠٢٢٩ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عمير عن سعيد بن عمرو بن سعيد عن أبي هريرة قال: لا يأتي عليكم إلا قليل حتى يقضي الثعلب (وسنته) (١) بين ساريتين من سواري المسجد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا تم پر تھوڑا سازمانہ آئے گا جس میں لومڑی اپنی اونگھ مسجد کے ستونوں میں سے دوستونوں کے درمیان پورا کرے گی راوی عبدالملک بن عمیر نے فرمایا اس سے مراد مدینہ کی مسجد ہے اور یہ صورتحال ویرانی کی وجہ سے ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40229
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وبنحوه أخرجه ابن شبه (٦٢٥)، وانظر: مصنف عبد الرزاق (٢٠٨٥١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40229، ترقيم محمد عوامة 38599)
حدیث نمبر: 40230
٤٠٢٣٠ - قال عبد الملك: هو مسجد المدينة، (يقول) (١): من الخراب.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40230
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40230، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 40231
٤٠٢٣١ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يزيد بن كيسان عن أبي حازم عن أبي هريرة قال: (لا تقتل) (١) هذه الأمة حتى يقتل القاتل، لا يدري على أي (شيء قتل؟) (٢)، ولا يدري المقتول على أي شيء قُتل؟ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا یہ امت ہلاک نہیں ہوگی یہاں تک (کہ ایسی صورتحال ہوگی) قاتل قتل کرے گا اسے معلوم نہیں ہوگا کہ اس نے کس چیز پر قتل کیا اور نہ مقتول کو معلوم ہوگا کہ اسے کس چیز پر قتل کیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40231
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، وورد الخبر مرفوعًا عند مسلم (٢٩٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40231، ترقيم محمد عوامة 38600)
حدیث نمبر: 40232
٤٠٢٣٢ - (حدثنا) (١) (أبو) (٢) معاوية عن ليث عن طاوس قال: ليقتلن القراء قتلا حتى تبلغ قتلاهم اليمن، فقال له رجل: أو (ليس) (٣) قد فعل ذلك الحجاج؟ قال: ما كانت تلك بعد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے روایت ہے انہوں نے فرمایا قرآء کو قتل کیا جائے گا یہاں تک کہ ان کے مقتولین یمن تک پہنچ جائیں گے ان سے ایک صاحب نے عرض کیا کیا حجاج نے ایسا نہیں کیا تو انہوں نے فرمایا ایسا ابھی تک نہیں ہوا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40232
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40232، ترقيم محمد عوامة 38601)
حدیث نمبر: 40233
٤٠٢٣٣ - (حدثنا) (١) محمد بن بشر عن سفيان عن الزبير بن عدي قال: قال لي إبراهيم: إياك أن تقتل مع قتيبة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر بن عدی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے ابراہیم نے فرمایا فتنہ میں قتل ہونے سے بچنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40233
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40233، ترقيم محمد عوامة 38602)
حدیث نمبر: 40234
٤٠٢٣٤ - (١) (عبيد اللَّه) (٢) بن موسى قال: أخبرني شيبان عن زياد بن علاقة عن قُطبة بن مالك عن حذيفة بن اليمان قال: (ألا، لا يمشين) (٣) رجل منكم (شبرا) (٤) إلى ذي سلطان ليذله، فلا واللَّه لا يزال قوم أذلوا السلطان (أذلاء) (٥) إلى يوم القيامة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان سے روایت ہے انہوں نے فرمایا خبردار تم میں سے کوئی آدمی کسی اقتدار والے کو ذلیل کرنے کے لیے ایک بالشت بھی نہ چلے اللہ کی قسم وہ لوگ جنہوں نے کسی بادشا ہ کو ذلیل کیا وہ مسلسل قیامت والے دن ذلیل ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40234
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40234، ترقيم محمد عوامة 38603)
حدیث نمبر: 40235
٤٠٢٣٥ - (حدثنا) (١) عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن ⦗٣١٥⦘ زيد بن وهب قال: قال حذيفة: (تقتتل) (٢) بهذا الغائط فئتان لا أبالي في أيهما (عرفتك) (٣)، فقال له رجل: أفي الجنة هؤلاء أم في النار؟ قال: ذاك الذي أقول لك، قال: فما قتلا (هم؟) (٤) قال: قتلى جاهلية (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا اس براز کی وجہ سے دو گروہوں کی لڑائی ہوگی مجھے اس کی پروا نہیں ہے کہ میں تمہیں ان دونوں میں سے کس کے اندر پہچانتا ہوں ان سے ایک صاحب نے عرض کیا کیا یہ جنت میں ہوں گے یا جہنم میں ہوں گے انہوں نے فرمایا یہی وہ بات ہے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اس نے پوچھا ان کے مقتولین کی کیا حالت ہوگی ارشاد فرمایا وہ زمانہ جاہلیت کے مقتولین کی طرح ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40235
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وبنحوه أخرجه نعيم في الفتن (٤٤٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40235، ترقيم محمد عوامة 38604)
حدیث نمبر: 40236
٤٠٢٣٦ - حدثنا محمد بن الحسن الأسدي عن إبراهيم بن طهمان عن سليم بن قيس العامري عن سحيم بن نوفل قال: قال لي عبد اللَّه بن مسعود: كيف أنتم إذا اقتتل المصلون؟ قلت: ويكون ذلك؟ قال: نعم، أصحاب محمد (١)، قلت: وكيف أصنع؟ قال: (كف) (٢) لسانك، وأخف مكانك، وعليك بما تعرف، ولا تدع ما تعرف (لما تنكر) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سحیم بن نوفل سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا تمہاری کیا حالت ہوگی جب نمازی آپس میں لڑیں گے میں نے عرض کیا کیا ایسا ہوگا انہوں نے فرمایا ہاں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہوں گے راوی نے فرمایا میں نے عرض کیا میں اس وقت کیا کروں انہوں نے فرمایا اپنی زبان کو روکنا اور اپنی رہنے کی جگہ کو مخفی رکھنا اور تم پر معروف کا کرنا لازم ہے اور منکر کی وجہ سے معروف کو ترک نہ کرنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40236
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40236، ترقيم محمد عوامة 38605)
حدیث نمبر: 40237
٤٠٢٣٧ - (حدثنا) (١) محمد بن الحسن قال: حدثنا عبد ربه عن الحسن بن عمرو الفقيمي عن يحيى بن هانئ عن الحارث بن قيس قال: قال لي عبد اللَّه بن مسعود: أتحب أن يسكنك اللَّه وسط الجنة؟ قال: فقلت: جعلت فداك، وهل أريد إلا ذاك؟ قال: عليك بالجماعة أو بجماعة الناس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن قیس سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہں ک جنت کے درمیان میں ٹھہرائیں راوی نے فرمایا میں نے عرض کیا میں آپ پر قربان میں تو یہ ہی چاہتا ہوں انہوں نے ارشاد فرمایا تم پر جماعت لازم ہے یا فرمایا لوگوں کی جماعت لازم ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40237
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف محمد بن الحسن الأسدي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40237، ترقيم محمد عوامة 38606)
حدیث نمبر: 40238
٤٠٢٣٨ - (حدثنا) (١) ابن علية عن أيوب قال: قال لي الحسن: ألا تعجب من سعيد بن جبير دخل علي فسألني عن قتال الحجاج ومعه بعض الرؤساء -يعني أصحاب ابن الأشعث.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے حسن نے ارشاد فرمایا کیا تم سعید بن جبیر کی جرأت سے تعجب نہیں کرتے میرے پاس آئے اور مجھ سے حجاج کے ساتھ لڑائی کے بارے میں پوچھا اور ان کے ساتھ کچھ رؤسا بھی تھے ان کی مراد ابن الاشعث کے ساتھی تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40238
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40238، ترقيم محمد عوامة 38607)
حدیث نمبر: 40239
٤٠٢٣٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا (سليم) (١) بن (أخضر) (٢) قال: حدثنا ابن عون قال: كان مسلم بن يسار أرفع عند أهل البصرة من الحسن حتى خف مع ابن الأشعث، وكف الحسن، فلم يزل أبو سعيد في (علوٍ منها) (٣) بعد، وسقط الآخر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ مسلم بن یسار بصرہ والوں کے نزدیک حسن سے بلند مرتبہ تھے یہاں تک کہ ابن الاشعث کے ساتھ ملتے تھے ان کی ساخت گرگئی اور حسن رکے رہے ابو سعید بصرہ میں ہمیشہ غالب رہا اور دوسرے گرے رہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40239
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40239، ترقيم محمد عوامة 38608)
حدیث نمبر: 40240
٤٠٢٤٠ - (حدثنا) (١) يزيد بن هارون عن جرير بن حازم قال: حدثني شيخ من أهل مكة قال: (رأيت) (٢) ابن عمر في أيام ابن الزبير فدخل المسجد فإذا السلاح فجعل يقول: لقد أعظمتم الدنيا، لقد أعظمتم الدنيا، حتى استلم الحجر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر بن حازم سے روایت ہے انہوں نے فرمایا مجھے اہل مکہ سے ایک شیخ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو حضرت ابن زبیر کے لڑائی کے ایام میں دیکھا کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے وہاں اسلحہ تھا تو وہ یہ کہنا شروع ہوگئے کہ تم نے دنیا کو بڑی چیز سمجھ لیا تم نے دنیا کو بڑی چیز سمجھ لیا یہاں تک کہ حجر اسود کا استلام کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40240
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40240، ترقيم محمد عوامة 38609)