کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 40172
٤٠١٧٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام عن محمد عن عبد الرحمن ابن أبي بكرة قال: قدمت الشام قال: فقلت: (لو) (١) دخلت على عبد اللَّه بن عمرو فسلمت عليه فأتيته فسلمت عليه فقال لي: من أنت؟ فقلت: أنا عبد الرحمن بن أبي بكرة، قال: يوشك بنو (قنطوراء) (٢) أن يخرجوكم من أرض العراق، قلت: ثم نعود؟ قال: أنت تشتهي ذلك، (قلت: نعم) (٣)، (قال: نعم) (٤)، وتكون لكم سلوة (من) (٥) عيش (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں شام گیا اور میں نے (اپنے جی میں) کہا اگر میں حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس جاؤں اور ان کو سلام کروں پس میں ان کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا انہوں نے پوچھا کہ تو کون ہے میں نے عرض کیا کہ عبدالرحمن بن ابی بکرہ ہوں انہوں نے ارشاد فرمایا کہ قریب ہے کہ بنی قنطورا (ترک یا روم کے نصاریٰ ) تمہیں عراق کی زمین سے نکالدیں میں نے عرض کیا پھر کیا ہم لوٹیں گے ؟ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم اس بات کو چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں انہوں نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے لیے زندگی کی بہار ہوگی وہ لوٹنا۔
حدیث نمبر: 40173
٤٠١٧٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (زيد) (١) بن وهب قال: مات رجل من المنافقين فلم يصل عليه حذيفة، فقال له عمر: أمن القوم هو؟ قال: ⦗٢٩٥⦘ نعم، فقال له عمر: باللَّه منهم أنا؟ قال: (لا) (٢)، (ولن) (٣) أخبر به أحدا بعدك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ منافقین میں سے ایک آدمی فوت ہوا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ حضرت عمر نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ منافقین میں سے ہے ؟ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ ہاں ! حضرت عمر نے ان سے پوچھا ا اللہ کے لیے مجھے بتاؤ کیا میں ان منافقین میں سے ہوں ؟ تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ نہیں اور ہرگز میں اس بارے میں آئندہ نہیں بتاؤں گا (کہ کون منافق ہے اور کون نہیں)
حدیث نمبر: 40174
٤٠١٧٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد عن حذيفة قال: ما بقي من المنافقين إلا أربعة، أحدهم شيخ كبير لا يجد برد الماء من الكبر، قال: فقال له رجل: فمن هؤلاء الذين (ينقبون) (١) بيوتنا ويسرقون علائقنا؟ قال: ويحك، أولئك الفساق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا منافقین میں سے سوائے چار کے کوئی بھی باقی نہیں رہا ان میں سے ایک بوڑھا ہے جو بڑھاپے کی وجہ سے پانی کی ٹھنڈک کو نہیں پاتا راوی کہتے ہیں ایک شخص نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ یہ کون لوگ ہیں جو ہمارے گھروں میں نقب لگاتے ہیں اور ہمارے مالوں کو چوری کرتے ہیں انہوں نے ارشاد فرمایا کہ تیرے لیے ہلاکت ہو یہ تو فساق لوگ ہیں۔
حدیث نمبر: 40175
٤٠١٧٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد قال: قرأ حذيفة: ﴿فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ﴾ [التوبة: ١٢]، قال: (ما) (١) (قوتل) (٢) أهل هذه الآية بعد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید سے روایت ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے { فَقَاتِلُوا أَئِمَّۃَ الْکُفْرِ } (یعنی کفر کے سرداروں کو قتل کرو) تلاوت کی اور فرمایا کہ اس آیت کے مصداق لوگ ابھی تک قتل نہیں کیے گئے۔
حدیث نمبر: 40176
٤٠١٧٦ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي البختري قال: قال رجل اللهم أهلك المنافقين، (فقال حذيفة) (١): لو هلكوا ما انتصفتم من عدوكم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو البختری سے روایت ہے کہ ایک صاحب نے کہا کہ اے اللہ منافقین کو ہلاک کردے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر وہ ہلاک کردیے گئے تو پھر تم نے اپنے دشمن سے انتقام نہ لیا۔
حدیث نمبر: 40177
٤٠١٧٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شمر قال: قال حذيفة: أيسرك ⦗٢٩٦⦘ أن تقتل أفجر الناس؟ قال: نعم، قال: إذن تكون أفجر منه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شمر سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تم لوگوں میں سے سب سے زیادہ گنہگار کو قتل کرو انہوں نے کہا جی ہاں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس وقت تم سب سے گنہگار ہوگے۔
حدیث نمبر: 40178
٤٠١٧٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي البختري عن حذيفة قال: القلوب أربعة: قلب مصفح فذاك قلب المنافق، وقلب أغلف، فذاك قلب الكافر، وقلب أجرد كأنّ فيه سراجا يزهر، فذاك قلب المؤمن، وقلب فيه نفاق وإيمان فمثله مثل قرحة يمدها قيح ودم، ومثله مثل شجرة يسقيها ماء خبيث وماء طيب، فأي ماء غلب عليها غلب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا دل چار قسم کے ہوتے ہیں ایک تو الٹا دل یہ منافق کا دل ہے اور غلاف میں لپٹا ہوا دل یہ کافر کا دل ہے اور صاف دل گویا کہ اس میں چراغ چمک رہا ہے یہ مومن کا دل ہے اور جس دل میں نفاق اور ایمان ہے اس کی مثال پھوڑے کی ہے جس میں پیپ اور خون ہو اور اس کی مثال اس درخت جیسی ہے جس کو خراب پانی اور عمدہ پانی سے سیراب کیا جاتا ہے جو پانی اس پر غالب ہوگا وہ ویسا ہی ہوگا۔
حدیث نمبر: 40179
٤٠١٧٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن شقيق عن حذيفة قال: المنافقون الذين فيكم اليوم شر من المنافقين الذين كانوا على عهد رسول اللَّه ﷺ قال: (قلنا) (١): (يا (أ) (٢) با) (٣) عبد اللَّه وكيف ذاك؟ قال: إن (أولئك) (٤) كانوا يسرون نفاقهم، كان هؤلاء أعلنوه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ آج کل جو منافق تمہارے اندر ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے منافقین سے زیادہ برے ہیں راوی نے فرمایا ہم نے عرض کیا اے ابو عبداللہ یہ کیسے ہوسکتا ہے انہوں نے فرمایا اس لیے کہ وہ اپنے نفاق کو چھپاتے تھے اور یہ اسے ظاہر کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 40180
٤٠١٨٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن مُخَوَّل بن راشد عن رجل من عبد القيس قال: قال حذيفة: ما (أبالي) (١) بعد سبعين سنة لو دهدهت حجرا ⦗٢٩٧⦘ (من) (٢) فوق مسجدكم هذا (فقتلت) (٣) منكم عشرة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا سترویں (٧٠) سال کے بعد مجھے اس کی پروا نہیں کہ میں کوئی پتھر تمہاری مسجد کے اوپر سے لڑھکا دوں جو تم میں سے دس آدمیوں کو کچل دے۔
حدیث نمبر: 40181
٤٠١٨١ - حدثنا يحيى بن عيسى عن الأعمش عن مخول عن رجل قال: كنا مع حذيفة فأخذ حصى فوضع بعضه فوق بعض، ثم قال لنا: انظروا ما ترون من الضوء؟ قلنا: نرى شيئًا خفيًا، (قال) (١): واللَّه ليركبنّ الباطل على الحق حتى لا ترون من الحق إلا ما ترون من هذا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مخول ایک صاحب سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے انہوں نے کچھ کنکریاں لیں اور ان کو ایک دوسرے کے اوپر رکھا پھر انہوں نے ہم سے ارشاد فرمایا کہ دیکھو اس روشنی کو جو تمہیں نظر آرہی ہے ہم نے عرض کیا کہ ہم تو مخفی چیز دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ اسی طرح باطل حق پر بلند ہوگا یہاں تک کہ تم حق کو نہیں دیکھو گے مگر اس حالت میں جو حالت تم ان کنکریوں کی دیکھ رہے ہو۔
حدیث نمبر: 40182
٤٠١٨٢ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن منصور عن شقيق عن حذيفة قال: ليوشكن أن يصب عليكم الشر من السماء حتى يبلغ الفيافي، قال: قيل: وما الفيافي، يا أبا عبد اللَّه؟ قال: الأرض القفر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ قریب ہے کہ آسمان سے برائی تم پر اتار دی جائے یہاں تک کہ وہ فیافی تک پہنچ جائے ان سے عرض کیا گیا اے ابو عبداللہ یہ فیافی کیا ہے ؟ انہوں نے کہا۔ ویران زمین۔
حدیث نمبر: 40183
٤٠١٨٣ - حدثنا علي بن مسهر عن الوليد بن جميع عن أبي الطفيل قال: جاء رجل من محارب يقال له: (عمرو بن) (١) (صليع) (٢) إلى حذيفة فقال له: يا أبا عبد اللَّه حدثنا ما رأيت وشهدت؟ فقال حذيفة: (يا عمرو بن (صليع)) (٣) (٤) أرأيت محارب (أمِنْ) (٥) مضر؟ قال: نعم، قال: فإن مضر لا تزال تقتل كل مؤمن وتفتنه أو ⦗٢٩٨⦘ يضربهم اللَّه والملائكة والمؤمنون حتى لا يمنعوا بطن تلعة، أرأيت محارب (أمن) (٦) قيس (عيلان) (٧)؟ قال: نعم، فإذا رأيت (عيلان) (٨) قد (نزلت) (٩) بالشام فخذ حذرك (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
ابو الطفیل سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو محارب میں سے ایک صاحب جن کو عمرو بن صلیع کہا جاتا تھا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا اے ابو عبداللہ ہم سے وہ بیان کیجیے جو آپ نے دیکھا اور مشاہدہ کیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عمرو بن صلیع محارب کے بارے میں مجھے بتلاؤ کیا وہ مضر میں سے ہے اس نے کہا جی ہاں تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بلاشبہ مضر مسلسل ہر مومن کو قتل کریں گے اور مسلمانوں کو فتنے میں ڈالیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے فرشتے اور مومنین ان کو ماریں گے یہاں تک کہ وہ ہر جگہ کثرت سے ہونے کے باوجود اپنا دفاع نہیں کرسکیں گے محارب کے بارے میں بتلاؤ کیا وہ قیس عیلان سے ہیں انہوں نے کہا جی ہاں ارشاد فرمایا جب تم قبیلہ عیلان کو دیکھو جب وہ شام میں آگئے ہیں تو اپنا بچاؤ کرنا۔
حدیث نمبر: 40184
٤٠١٨٤ - حدثنا يزيد بن هارون عن العوام قال: حدثني منصور بن المعتمر عن ربعي عن حذيفة قال: أدنوا يا معشر مضر، فواللَّه لا تزالون بكل مؤمن تفتنونه وتقتلونه، حتى يضربكم اللَّه وملائكته والمؤمنون، حتى لا تمنعوا بطن تلعة، قالوا: فلم (تديننا) (١) ونحن كذلك؟ قال: إن منكم سيد ولد آدم، وإن منكم سوابق كسوابق الخيل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا اے مضر کی جماعت قریب ہوجاؤ اللہ کی قسم تم ہر مومن کو قتل کرو گے اور ان کو فتنے میں ڈالو گے یہاں تک کہ اللہ اور اس کے فرشتے اور مومنین تمہیں ماریں گے یہاں تک کہ تم ہر جگہ کثرت سے رہنے کے باوجود اپنا دفاع نہیں کرسکو گے ان کے اصحاب نے عرض کیا جب ہم اس حالت پر ہوں گے تو کیوں ہم ایسا کریں گے ؟ آپ نے فرمایا ! یقینا تم میں سے ایک سردار ہوگا اور تم میں کچھ آگے نکلنے والے ہوں گے گھوڑوں میں سے آگے نکلنے والوں کی طرح۔
حدیث نمبر: 40185
٤٠١٨٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا الأعمش عن (عبد الرحمن) (١) بن ثروان عن عمرو بن حنظلة قال: قال حذيفة: لا تدع مضر (عبدًا للَّه) (٢) مؤمنا إلا ⦗٢٩٩⦘ فتنوه أو قتلوه أو يضربهم اللَّه والملائكة والمؤمنون حتى لا (تمنعوا) (٣) ذنب تلعة، فقال له رجل: يا أبا عبد اللَّه تقول هذا وأنت رجل من مضر؟ قال: (ألا) (٤) أقول ما قال رسول اللَّه ﷺ (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا مضر کسی اللہ تعالیٰ کے مومن بندے کو نہیں چھوڑیں گے مگر اسے یا تو فتنے میں ڈال دیں گے یا اس کو قتل کردیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتے اور مومنین ان کو ماریں گے یہاں تک کہ وہ اپنا دفاع نہ کرسکیں گے ایک صاحب نے ان سے عرض کیا اے ابو عبداللہ آپ یہ بات کر رہے ہیں حالانکہ آپ بھی مضر قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے فرمایا میں وہ کہہ رہا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
حدیث نمبر: 40186
٤٠١٨٦ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا سفيان قال: حدثنا إبراهيم بن محمد ابن المنتشر عن أبيه قال: قال حذيفة: (إن) (١) أهل البصرة لا يفتحون باب هدى ولا يتركون باب ضلالة، وإن الطوفان قد رفع من الأرض كلها إلا (عن) (٢) البصرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا بلاشبہ بصرہ کے رہنے والے کوئی ہدایت کا دروازہ کھولیں گے نہیں اور کوئی گمراہی کا دروازہ چھوڑیں گے نہیں اور طوفان ساری زمین سے اٹھا دیا گیا ہے سوائے بصرہ کے۔
حدیث نمبر: 40187
٤٠١٨٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا عيينة بن عبد الرحمن عن أبيه عن أخيه (ربيعة) (١) بن جوشن قال: قدمت الشام فدخلت على عبد اللَّه بن عمرو فقال: ممن أنتم؟ قلنا: من أهل البصرة، قال: (أمالا) (٢) فاستعدوا يا أهل البصرة، قلنا: بماذا؟ قال: (بالزاد) (٣) والقرب، خير المال اليوم أجمال يحتمل الرجل عليهن ⦗٣٠٠⦘ أهله ويميرهم عليها، وفرس (وقاح) (٤) شديد، فواللَّه ليوشك بنو (قنطوراء) (٥) أن يخرجوكم منها حتى يجعلوكم (بركبة) (٦)، قال: قلنا: وما بنو (قنطوراء؟) (٧) قال: أما في الكتاب فهكذا نجده، وأما في النعت فنعت الترك (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیعہ بن جو شن سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں شام کے علاقے میں گیا اور حضرت عبداللہ بن عمرو کی مجلس میں حاضر ہوا۔ انہوں نے پوچھا کہ تم کن میں سے ہو ؟ ہم نے عرض کیا اہل بصرہ میں سے انہوں نے فرمایا اے اہل بصرہ لڑائی کی تیاری کرو ہم نے عرض کیا کہ کس چیز کے ساتھ ؟ انہوں نے فرمایا توشہ دان اور مشکیزوں کے ساتھ آج بہترین مال وہ اونٹ ہیں جن پر آدمی اپنے گھر والوں کو سوار کرتا ہے اور جن پر غلہ لے کرجاتا ہے اور بہتر ین مال وہ مضبوط کھروں والا گھوڑا ہے (یہ آج کل بہترین مال ہے) اللہ کی قسم عنقریب بنو قنطورا تمہیں بصرہ سے نکال دیں گے یہاں تک کہ تمہیں ایک جماعت بنادیں گے راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ بنو قنطورا کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ کتاب کے اندر تو میں اسی طرح پاتا ہوں باقی یہ صفت تر کیوں کی ہے۔
حدیث نمبر: 40188
٤٠١٨٨ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن سعيد بن (١) عمرو عن أبي هريرة قال: كيف أنتم إذا لم يجب لكم دينار ولا درهم ولا قفيز؟ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے تمہاری کیا حالت ہوگی اس وقت جب کوئی دینار اور کوئی درہم اور کوئی قفیز تمہیں نہیں دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 40189
٤٠١٨٩ - حدثنا وكيع عن عمران عن أبي مجلز قال: أراد عمر أن لا يدع مصرا من الأمصار إلا أتاه، فقال له كعب: لا تأت العراق فإن فيه تسعة أعشار الشر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر نے تمام شہروں کا دورہ کرنے کا ارادہ کیا حضرت کعب نے ان سے عرض کیا کہ آپ عراق نہ جانا کیونکہ وہاں دس حصوں میں سے نو حصے شر ہے۔
حدیث نمبر: 40190
٤٠١٩٠ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن قسامة بن زهير قال: سمعت أبا موسى يقول: إن لهذه -يعني البصرة- أربعة أسماء: البصرة والخريبة وتدمر والمؤتفكة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت قسامہ بن زبیر سے روایت ہے میں نے حضر ت ابو موسیٰ سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس بصرہ کے چار نام ہیں (بصرہ، خریبہ، تدمر، مؤتفکہ)
حدیث نمبر: 40191
٤٠١٩١ - حدثنا ابن علية عن هشام عن ابن سيرين قال: رأيت كثير بن أفلح ⦗٣٠١⦘ في المنام فقلت له: يا (ابن) (١) أفلح كيف أنتم؟ قال: بخير، قال: قلت: أنتم الشهداء؟ قال: لا، إن قتلى المسلمين ليسوا بشهداء ولكنا الندباء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے کثیر بن افلح (یہ حرہ کے دن شہید کیے گئے) کو خواب میں دیکھا میں نے ان سے کہا اے ابن افلح تم کیسے ہو انہوں نے فرمایا بھلائی میں ہوں میں نے پوچھا کیا تم شہداء میں ہو انہوں نے فرمایا کہ نہیں مسلمانوں کے مقتول شہداء نہیں ہیں لیکن ہم زیرک و ہوشیار ہیں۔
حدیث نمبر: 40192
٤٠١٩٢ - حدثنا شبابة عن شعبة عن يحيى بن حصين قال: سمعت الحي غير واحد يحدثون عن أبي أنه قال لسعد بن أبي وقاص: ما يمنعك من القتال؟ قال: لا حتى يعطوني سيفا يعرف المؤمن من الكافر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے کہا کہ آپ کو کونسی چیز لڑائی سے روکتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ کوئی چیز نہیں روکتی یہاں تک کہ تم مجھے ایسی تلوار دو جو مومن اور کافر کو پہچانتی ہو (حضرت سعد بن ابی وقاص فتنوں سے جدا رہتے تھے اور جمل، صفین، تیمں ، اور حضرت عثمان کی شہادت ان تمام مواقع میں الگ رہے)
حدیث نمبر: 40193
٤٠١٩٣ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: حدثنا عوف عن (محمد) (١) بن سيرين عن عقبة بن أوس عن عبد اللَّه بن عمرو قال: يقتتل الناس بينهم على دعوى جاهلية عند قتل أمير أو إخراجه فتظهر إحدى الطائفتين حين تظهر وهي ذليلة (فيرغب) (٢) فيهم من يليهم من العدو فيسيرون إليهم، ويقتحم أناس في الكفر تقحما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ لوگ آپس میں جاہلیت کی پکار کے تقاضوں پر لڑائی کریں گے کسی امیر کے قتل ہونے یا اس کے نکالنے کے وقت پس دونوں گروہوں میں سے ایک غالب آجائیگا جب کہ وہ ذلیل تھا تو ان کے پاس والے دشمن ان میں رغبت کریں گے اور ان پر حلہ کردیں گے اور لوگ کفر میں گرتے چلے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 40194
٤٠١٩٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن عبد اللَّه بن خربوذ عن عبد اللَّه بن عمرو أنه قال: ويل للجناحين من الرأس، ويل للرأس من الجناحين، قال شعبة: فقلت: وما الجناحان؟ قال: العراق ومصر، والرأس الشام (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ سر کی دونوں جانبوں کے لیے ہلاکت ہے سر کی دونوں جانبوں کے لیے ہلاکت ہے شعبہ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ دونوں جانبوں سے کیا مراد ہے انہوں نے فرمایا عراق، مصر اور سر سے مراد شام ہے۔
حدیث نمبر: 40195
٤٠١٩٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرني عبد اللَّه بن المختار عن عباس الجريري عن أبي عثمان النهدي عن عبد اللَّه بن عمرو قال: ليخسفن بالدار إلى جنب الدار، و (بالدار إلى جنب الدار) (١) حيث تكون (المظالم) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ایک گھر کو اس کے پاس والے گھر کے پہلو میں دھنسا دیا جائے گا دوسرے گھر کو اس کے پاس والے گھر کے پہلو میں دھنسا دیا جائے گا جہاں پر یہ مظالم ہوں گے۔
حدیث نمبر: 40196
٤٠١٩٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا ثابت عن غالب ابن عجرد قال: أتيت عبد اللَّه بن عمرو -أنا (و) (١) صاحب لي- وهو يحدث الناس فقال: ممن أنتما؟ فقلنا: من أهل البصرة، قال: فعليكما إذن (بضواحيها) (٢)، فلما تفرق الناس عنه دنونا منه فقلنا: رأيت قولك: ممن أنتما؟ وقولك: عليكما (بضواحيها؟) (٣) إذن، قال: إنّ دارَ مملكتها وما حولها مشوب بهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غالب بن عجرد سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں اور میرا ساتھی حضرت ابو عبداللہ بن عمرو کے پاس آئے جبکہ وہ لوگوں کے سامنے (احادیث) بیان کر رہے تھے تو انہوں نے پوچھا کہ تم دونوں کون ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ بصرہ والوں میں سے انہوں نے فرمایا تم دونوں پر بصرہ کے متصل علاقے لازم ہیں جب لوگ ان کے پاس سے چلے گئے تو ہم ان کے قریب ہوئے ہم نے ان سے عرض کیا کیا خیال ہے آپکا اپنی بات (تم کہاں سے ہو) اور آپ کی بات کہ تم پر لازم ہے بصرہ کے متصل علاقے انہوں نے فرمایا بیشک بصرہ اور اس کے ارد گرد کے مملو کہ گھر وہاں کے باشندوں کے درمیان مشترک ہوجائیں ۔ ثابت راوی کہتے ہیں کہ غالب بن عجرد جب کسی کشادہ مقام میں داخل ہوئے تو دوڑتے ہوئے یہاں تک کہ اس سے نکل جاتے۔
حدیث نمبر: 40197
٤٠١٩٧ - قال ثابت: فكان غالب بن (عجرد) (١) إذا دخل على (الرحبة) (٢) سعى حتى يخرج منها.
حدیث نمبر: 40198
٤٠١٩٨ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن أبي عثمان قال: جاء رجل إلى حذيفة فقال: إني أريد الخروج إلي البصرة، فقال: إن كنت لا بد لك من الخروج ⦗٣٠٣⦘ فأنزل (عذواتها) (١) ولا تنزل سرتها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان نہدی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک صاحب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ میں بصرہ جانا چاہتا ہوں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا اگر تمہارے لیے جانا ضروری ہے تو اس کے کنارے میں ٹھہرنا اس کے درمیان میں نہ ٹھہرنا۔
حدیث نمبر: 40199
٤٠١٩٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن ثابت بن هرمز أبي المقدام عن أبي يحيى قال: سئل حذيفة: من المنافق؟ قال: الذي يصف الإسلام ولا يعمل به (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو یحییٰ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھو کہ منافق کون ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا جو اسلام کو بیان کرتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 40200
٤٠٢٠٠ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن حسن بن صالح عن معاوية بن إسحاق قال: حدثني رجل من الطائف عن عبد اللَّه بن عمرو قال: لا تقوم الساعة حتى يتهارجون في الطرق تهارج الحمير فيأتيهم إبليس فيصرفهم إلى عبادة الأوثان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم راستوں میں چوپایوں کی طرح زنا کرو گے ان پر ابلیس مسلط ہوگا اور ان کو بتوں کی عبادت کی طرف پھیر دے گا۔
حدیث نمبر: 40201
٤٠٢٠١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش (عن شمر عن شهر) (١) بن حوشب عن كعب قال: يقتتل (القرآن) (٢) (والسلطان) (٣)، قال: فيطأ السلطان على (سماخ) (٤) القرآن، (ولأيًا بلأي) (٥) (ما) (٦) (تنفلتن) (٧) منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب سے روایت ہے انہوں نے فرمایا قرآن اور بادشاہ کے درمیان مقابلہ ہوگا وہ بادشاہ قرآن کے احکامات کو روند دے گا ہائے میری مصیبت ہائے میری مصیبت تم اس سے چھٹکارا نہیں پا سکو گے۔
حدیث نمبر: 40202
٤٠٢٠٢ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن عبيد اللَّه بن عمر (عن نافع عن ابن عمر) (١) عن كعب قال: يوشك نار تخرج من اليمن، قال: (تسوق) (٢) الناس تغدو معهم إذا غدوا، وتقيل معهم إذا قالوا، وتروح معهم إذا راحوا، فإذا سمعتم (ذلك) (٣) فاخرجوا إلى الشام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا عنقریب یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ہانکے گی صبح کے وقت جب وہ ٹھہریں گے وہ ان کے ساتھ اسی مقام پر ٹھہرے گی اور جہاں دوپہر کے وقت آرام کے لیے ٹھہریں گے وہاں وہ بھی ان کے ساتھ ٹھہرے گی اور پچھلے پہر جب وہ سفر کریں گے وہ بھی ان کے ساتھ چلے گی جب تم اس کے بارے میں سن لو تو شام کی طرف چلے جانا۔
حدیث نمبر: 40203
٤٠٢٠٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبيه عن عكرمة (١) عن ابن عباس قال: قال كعب: إذا رأيت القطر قد منع فاعلم أن الناس قد منعوا الزكاة فمنع اللَّه ما عنده، وإذا رأيت السيوف قد عريت فاعلم أن حكم اللَّه (قد) (٢) ضيع فانتقم بعضهم من بعض، وإذا رأيت الزنى قد فشا (فاعلم) (٣) أن الربا قد فشا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عباس حضرت کعب سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا جب تم دیکھو بارش روک دی گئی ہے تو جان لینا لوگوں نے زکوٰۃ روک دی ہے اللہ تعالیٰ نے جو اس کے پاس چیز تھی (یعنی بارش) وہ روک لی۔ اور جب تم دیکھو تلواریں ننگی ہوگئی ہیں تو جان لینا اللہ تعالیٰ کا حکم ضائع کیا جارہا ہے تو وہ ایک دوسرے سے انتقام لینے لگے اور جب تو دیکھے زنا عام ہوگیا تو جان لینا کہ سود پھیل چکا ہے۔
حدیث نمبر: 40204
٤٠٢٠٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن سليمان بن ميسرة عن طارق ابن شهاب (عن زيد بن صوحان) (١) قال: قال لي (سلمان) (٢): كيف أنت إذا (اقتتل) (٣) القرآن والسلطان؟ قال: إذن أكون مع القرآن، قال: نعم الزويد أنت إذا، فقال: أبو قرة -وكان يبغض الفتن: إذن أجلس في بيتي، فقال سلمان: لو كنت في أقصى تسعة أبيات كنت مع إحدى (الطائفتين) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن صوحان سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے سلمان نے فرمایا تمہاری کیا حالت ہوگی جب قرآن اور بادشاہ کی لڑائی ہوگی انہوں نے جواب میں فرمایا اس وقت میں قرآن کے ساتھ ہوں گا انہوں نے فرمایا اس وقت زید تم بہت ہی اچھے ہوگے ابو قرہ جو فتنوں کو ناپسند کرتے تھے کہا میں اس وقت اپنے گھر میں بیٹھوں گا حضرت سلمان نے فرمایا اگر تو نوکروں کے اندر بھی ہوا تو تو دو گروہوں میں سے ایک کے ساتھ ہوگا۔
حدیث نمبر: 40205
٤٠٢٠٥ - حدثنا وكيع (١) قال: حدثنا موسى بن قيس عن سلمة بن كهيل عن زيد بن وهب قال: لما رجعنا من النهروان قال علي: لقد شهدنا قوم باليمن، قلنا: يا أمير المؤمنين كيف ذاك؟ قال: (بالهوى) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ جب ہم نہروان سے لوٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا یمن میں ہمارے ساتھ کچھ لوگ شریک تھے ہم نے عرض کیا ان کی شرکت وغیرہ کی کیا صورت تھی ارشاد فرمایا خواہش نفس (تھی)
حدیث نمبر: 40206
٤٠٢٠٦ - حدثنا وكيع عن مالك بن مغول عن القاسم بن عبد الرحمن قال: قال عبد اللَّه: إن الرجل (يشهد) (١) المعصية فينكرها فيكون كمن غاب عنها، ويكون يغيب عنها فيرضاها فيكون كمن شهدها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا بلاشبہ کوئی آدمی برائی کے وقت موجود ہوتا ہے اور اسے ناپسند کرتا ہے تو وہ اس آدمی کی طرح ہوتا ہے جو برائی کے وقت موجود نہیں ہے اور برائی کے وقت موجود نہیں ہوتا اور اسے پسند کرتا ہے وہ اس آدمی کی طرح ہوتا ہے جو برائی کے وقت حاضر ہو۔
حدیث نمبر: 40207
٤٠٢٠٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن الأعمش عن زيد قال: قال حذيفة: إن الرجل ليكون من الفتنة وما هو (فيها) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا بلاشبہ ایک آدمی فتنے کے اندر شریک ہوگا لیکن اس میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا ہوگا۔
حدیث نمبر: 40208
٤٠٢٠٨ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن سالم (بن) (١) أبي الجعد عن عبد اللَّه بن سبيع قال: خطبنا علي (٢) (قال) (٣): لتخضبن (هذه) (٤) من هذا -يعني لحيته من رأسه- قالوا: أخبرنا به نقتله، قال: إذن باللَّه تقتلون بي غير قاتلي، ⦗٣٠٦⦘ قالوا: فاستخلف (علينا) (٥)، قال: لا، (ولكن) (٦) أترككم (إلى ما ترككم) (٧) إليه رسول اللَّه ﷺ (٨)، قال: فما تقول لربك إذا لقيته؟ قال: أقول: اللهم كنت فيهم ثم (قبضتني إليك) (٩)، وأنت فيهم، (فإن) (١٠) شئت أصلحتهم وإن شئت أفسدتهم (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن سبیع سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا اور ارشاد فرمایا اس حصہ کو یہاں تک خون آلود کردیا جائے گا اور مراد تھی داڑھی سے سر تک کا حصہ لوگوں نے عر ض کیا ہمیں اس شخص کے بارے میں بتلائیں ہم اسے قتل کردیں گے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا پھر تو تم میرے لیے اس آدمی کو قتل کرو گے جو میرا قاتل نہیں پھر لوگوں نے عرض کیا ہم پر خلیفہ مقرر کردیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں بلکہ میں تمہیں اسی حالت پر چھوڑوں گا جس حالت پر تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھوڑا (یعنی بغیر خلیفہ مقرر کرنے کے) لوگوں نے عرض کیا آپ اپنے رب سے کیا کہیں گے جب آپ کی اس سے ملاقات ہوگی انہوں نے ارشاد فرمایا میں کہوں گا کہ اے اللہ ! جب ان میں موجود تھا تو آپ بھی ان میں موجود تھے اگر آپ چاہتے تو ان کی اصلاح کردیتے اور اگر آپ چاہتے تو ان کی حالت خراب کردیتے۔
حدیث نمبر: 40209
٤٠٢٠٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن أبي وائل قال: قال عبد اللَّه: واللَّه لأن (أزاول) (١) جبلًا راسيًا أحب إلي من أن أزاول ملكا موجلا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم اگر میں مضبوط پہاڑ کو ہٹاؤں یہ بات مجھے زیادہ پسندیدہ ہے بہ نسبت اس کے کہ میں ایسے بادشاہ کو ہٹاؤں جس کی مدت حکومت مقرر کی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 40210
٤٠٢١٠ - حدثنا (معاوية بن هشام قال: حدثنا) (١) سفيان عن جبلة عن عامر بن مطر قال: كنت مع حذيفة فقال: يوشك أن تراهم ينفرجون عن دينهم كما تنفرج المرأة عن قبلها، فامسك بما أنت عليه اليوم (فإنه) (٢) الطريق الواضح، كيف أنت يا عامر بن مطر إذا أخذ الناس طريقا والقرآن طريقا، مع أيهما تكون؟ قلت: مع القرآن أحيا معه وأموت معه، قال: فأنت أنت إذن (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامربن مطر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا انہوں نے فرمایا قریب ہے کہ تم ان لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ اپنے دین ارزاں کردیں گے جیسے عورت اپنی شرمگاہ کو ارزاں کردیتی ہے جس طریقے پر آج تم ہو اس پر ٹھہرے رہو کیونکہ وہ واضح راستہ ہے اے عامر بن مطر تمہاری کیا حالت ہوگی جب لوگ ایک راستہ اختیار کرلیں گے اور قرآن کا ایک راستہ ہوگا تم دونوں میں سے کس کے ساتھ ہوگے میں نے عرض کیا قرآن کے ساتھ رہوں گا اسی کے ساتھ زندہ رہوں گا اور اس کے ساتھ مروں گا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس وقت تو تو ہی ہوگا۔
حدیث نمبر: 40211
٤٠٢١١ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن أبيه عن أبي يعلى عن ابن الحنفية أن قومًا من قبلكم (تحيروا) (١) (و) (٢) (تفرقوا) (٣) حتى تاهوا، فكان أحدهم إذ نودي من خلفه أجاب من أمامه، وإن نودي من أمامه أجاب من خلفه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن حنفیہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا بلاشبہ تم سے پہلے لوگ متحیر ہوئے اور متفرق ہوگئے یہاں تک کہ ہلاک ہوگئے ان میں سے کسی ایک کو جب پیچھے کی جانب سے پکارا جاتا تو سامنے کی جانب جواب دیتا تھا اور اگر سامنے کی جانب سے پکارا جا تھا تھا تو پیچھے کی جانب جواب دیتا تھا۔
…