کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 40132
٤٠١٣٢ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن شيبان عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن زاذان (قال) (١): سمعت حذيفة يقول: ليأتين عليكم زمان خيركم فيه من لا يأمر بمعروف ولا ينهى عن منكر، فقال رجل من القوم: أيأتي علينا زمان نرى ⦗٢٧٧⦘ المنكر فيه فلا نغيره؟ قال: واللَّه (لتفعلُنَّ) (٢)، قال: فجعل حذيفة يقول بإصبعه في عينه: كذبت واللَّه -ثلاثًا قال الرجل: فكذبتُ و (صدق) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ضرور بالضرور تم پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں تم میں سے سب سے بہتر وہ آدمی ہوگا جو نیکی کا حکم نہیں کرے گا لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا ہم پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں ہم منکر کو دیکھیں گے اور اسے روکیں گے نہیں نہیں اللہ کی قسم ہم ضرور بالضرور کریں گے راوی فرماتے ہیں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہاپنی انگلی سے اپنی آنکھ کی طرف اشارہ کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے تو نے خدا کی قسم جھوٹ بولا یہ تین مرتبہ فرمایا اس آدمی نے کہا میں نے جھوٹ بولا اور انہوں نے سچ کہا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40132
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٨٠، وابن عبد البر في التمهيد ٢٤/ ٣١٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40132، ترقيم محمد عوامة 38504)
حدیث نمبر: 40133
٤٠١٣٣ - حدثنا عبيد اللَّه عن شيبان عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه قال: سمعت حذيفة يقول: ليأتين عليكم زمان يتمنى الرجل فيه الموت: فيُقتل أو يكفر، وليأتين عليكم زمان يتمنى الرجل الموت من غير فقر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ یقینا تم پر ایسا زمانہ آئے گا اس میں انسان موت کی تمنا کرے گا کہ قتل کردیا جائے یا وہ کفر اختیار کرے گا اور یقینا تم پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں انسان موت کی تمنا کرے گا بغیر فقرو فاقہ کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40133
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40133، ترقيم محمد عوامة 38505)
حدیث نمبر: 40134
٤٠١٣٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا العوام بن حوشب قال: حدثني سعيد بن (جمهان) (١) عن ابن أبي بكرة عن أبيه قال: (ذكر) (٢) رسول اللَّه ﷺ أرضا يقال: لها البصرة أو البصيرة، إلى جنبها نهر يقال له: دجلة (ذو تحل) (٣) (كثيرة) (٤) (ينزل) (٥) به (بنو) (٦) قنطوراء (فتفترق) (٧) الناس ثلاثَ فرق: فرقة تلحق بأصلها وهلكوا، وفرقة تأخذ على أنفسها وكفروا، وفرقة يجعلون ذراريهم خلف ظهورهم فيقاتلون، قتلاهم شهداء يفتح اللَّه على بقيتهم (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بکرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک زمین کا تذکرہ کیا جسے بصرہ یا بصیرہ کہا جاتا ہے اس کے ایک طرف ایک نہر ہے جسے دجلہ کہا جاتا ہے کثیر کھجوروں والی وہاں بنو قنطو راء اتریں گے (جو ترک کو کہا جاتا ہے اور حاکم کے قول کے مطابق اس سے مراد روم کے نصرانی ہیں) لوگ تین گروہوں میں بٹ جائیں گے ایک گروہ اپنی اصل سے مل جائے گا اور ہلاک ہوجائے گا دوسرا گروہ اپنے نفسوں کو لے گا اور کفر کرے گا اور ایک گروہ اولاد کو پس پشت ڈال کر قتال کرے گا ان کے مقتولین شہداء ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے باقی رہنے والوں کو فتح عطاء کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40134
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40134، ترقيم محمد عوامة 38506)
حدیث نمبر: 40135
٤٠١٣٥ - حدثنا (ابن عيينة) (١) عن الزهري عن سعيد عن أبي هريرة (يبلغ) (٢) به النبي ﷺ قال: "لا تقوم (الساعة) (٣) حتى (تقاتلون) (٤) قوما نعالهم الشعر، ولا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما صغار الأعين" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم ایسے لوگوں سے لڑائی کرو گے جن کے جوتے ان کے بال ہوں گے اور قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم لڑائی کرو گے ایسے لوگوں سے جو چھوٹی آنکھوں والے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40135
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أنجرجه البخاري (٢٩٢٩)، ومسلم (٢٩١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40135، ترقيم محمد عوامة 38507)
حدیث نمبر: 40136
٤٠١٣٦ - حدثنا ابن عيينة عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة يبلغ به النبي ﷺ: "لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما نعالهم الشعر، ولا تقوم الساعة (حتى تقاتلون) (١) قومًا صغار الأعين، (ذلف الأنف) (٢) كان وجوههم المجان المطرقة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم ایسے لوگوں سے لڑائی کرو گے جن کے جوتے بال ہوں گے اور قیامت نہیں قائم ہوگی یہاں تک کہ تم قتال کرو گے ایسے لوگوں سے جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی چھوٹی ناک والے ہوں گے گویا کہ ان کے چہرے اوپر نیچے رکھی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40136
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٢٩)، ومسلم (٢٩١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40136، ترقيم محمد عوامة 38508)
حدیث نمبر: 40137
٤٠١٣٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن أبي مالك الأشجعي سعد بن طارق عن أبيه أنه سمع النبي ﷺ يقول: "بحسب أصحابي القتل" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرے صحابہ کثرت سے شہید کیے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40137
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٥٨٧٦)، والبزار (٣٢٦٣/ كشف)، والطبراني (٨١٩٥)، وابن أبى عاصم في السنة (١٤٩٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40137، ترقيم محمد عوامة 38509)
حدیث نمبر: 40138
٤٠١٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا شعبة عن قتادة عن أنس عن أسيد ابن حضير أن رسول اللَّه ﷺ قال للأنصار: "إنكم سترون بعدي إثرة، فاصبروا حتى تلقوني على الحوض" (١).
مولانا محمد اویس سرور
اسید بن حضیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ تم عنقریب میرے بعد یہ دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی پس تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھے حوض پر مل لینا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40138
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٧٠٥٧)، ومسلم (١٨٤٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40138، ترقيم محمد عوامة 38510)
حدیث نمبر: 40139
٤٠١٣٩ - حدثنا وكيع وأبو نعيم عن سفيان عن (نسير) (١) عن هبيرة بن (حزيمة) (٢) عن ربيع بن خثيم قال: لما جاء قتل الحسين قال: اللهم أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم سے روایت ہے فرمایا کہ جب حضرت حسین کی شہادت کا وقت آیا تو انہوں نے فرمایا اے اللہ ! آپ فیصلہ کریں گے اپنے بندوں کے درمیان اس سلسلے میں جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40139
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40139، ترقيم محمد عوامة 38511)
حدیث نمبر: 40140
٤٠١٤٠ - حدثنا أسود بن عامر قال: حدثنا زهير قال: حدثنا أبو روق الهمذاني قال: حدثنا (أبو الغريف) (١) قال: كنا مقدمة (الحسن) (٢) بن علي اثني عشر ألفا بمسكن مستميتين تقطر سيوفنا من (الجد) (٣) على قتال أهل الشام وعلينا أبو (العمرطة) (٤)، قال: فلما (أتانا) (٥) صلح (الحسن) (٦) بن علي [ومعاوية كأنما كُسرت ظهورُنا من (الحزن والغيظ) (٧) قال: فلما قدم الحسن بن علي] (٨) الكوفة قام إليه رجل منا يكنى أبا عامر فقال: السلام عليك يا مذل المؤمنين، فقال: ⦗٢٨٠⦘ لا (تقل) (٩) ذاك يا أبا عامر، (ولكني) (١٠) كرهت (أن أقتلهم) (١١) طلب الملك -أو على الملك (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو غریف سے روایت ہے کہ ہم حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے مقدمۃ الجیش میں بارہ ہزار کی مقدار میں مقام مسکن میں تھے اس حال میں کہ موت کے متمنی تھے ہماری تلواروں سے اہل شام کے ساتھ سخت لڑائی کی وجہ سے (خون کے) قطرات ٹپک رہے تھے ہم پر ابو عمرطہ امیر تھے ابو غریف فرماتے ہیں جب ہمارے پاس حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ کے درمیان صلح کی خبر پہنچی تو اس خبر پر غم اور غصے سے گویا ہماری کمریں ٹوٹ گئیں ابو غریف راوی نے فرمایا جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے تو ہم میں سے ایک آدمی جس کی کنیت ابو عامر تھی کھڑا ہوا اور کہنے لگا السلام علیک اے مومنوں کو ذلیل کرنے والے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابو عامر یہ بات نہ کرو لیکن میں نے ناپسند سمجھا تھا اس بات کو کہ میں ان کو ملک کی طلب میں قتل کروں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40140
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو الغريف صدوق، أخرجه الحاكم ٣/ ١٧٥، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٣٢٦، والمزي في تهذيب الكمال ٦/ ٢٥٠، والخطيب في تاريخ بغداد ١٠/ ٣٠٥، وابن عساكر ١٣/ ٢٧٩، وابن عبد البر في الاستذكار ١/ ٣٨٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40140، ترقيم محمد عوامة 38512)
حدیث نمبر: 40141
٤٠١٤١ - حدثنا محمد بن عبيد قال: حدثني صدقة بن المثنى عن جده (رياح) (١) ابن الحارث قال: قام الحسن بن علي بعد وفاة علي، فخطب الناس فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: إن ما هو آت قريب، وإن أمر اللَّه واقع وإن كره الناس وإني واللَّه ما أحب أن أَليَ من أمر أمة محمد ﷺ ما يزن (مثقال) (٢) ذرة من خردل بهراق فيها محجمة من دم منذ علمت ما ينفعني (مما) (٣) يضرني فالحقوا بطيتكم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ریاح بن حارث سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد کھڑے ہوئے لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء کی پھر فرمایا یقینا جو چیز آنے والی ہے وہ قریب ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا حکم واقع ہونے والا ہے اگرچہ لوگ اسے ناپسند کریں اور اللہ کی قسم مجھے یہ بات پسند نہیں کہ مجھے امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امر سے رائی کے دانے کے برابر حاصل ہو جس میں تھوڑا سا خون بہایا گیا ہو جو میں نے جان لیا کہ یہ امر مجھے نقصان پہنچانے والی چیزوں سے کوئی نفع دینے والا نہیں ہے پس اپنی سواریوں کے ساتھ مل جاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40141
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد في الفضائل (١٣٦٤)، وابن عساكر ١٣/ ٢٦٣، ونعيم في الفتن (٤٥٧)، والخطيب في تاريخ بغداد ٨/ ٤١٩، واللالكائي (٢٧٩٨)، والآجري في الشريعة (١٦٦٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40141، ترقيم محمد عوامة 38513)
حدیث نمبر: 40142
٤٠١٤٢ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن (عمير) (١) بن إسحاق قال: دخلت أنا ورجل على الحسن بن علي نعوده، فجعل يقول لذلك الرجل: سلني قبل أن لا تسألني، قال: ما أريد أن أسألك شيئًا؟ يعافيك اللَّه، قال: فقام فدخل ⦗٢٨١⦘ [(الكنيف) (٢) ثم خرج إلينا ثم قال: ما خرجت إليكم حتى لفظت طائفة من كبدي (أقلبها) (٣)] (٤) بهذا العود، ولقد (سُقيت) (٥) السم مرارا، ما شيء أشد من هذه المرة، قال: (فغدونا) (٦) عليه من الغد فإذا هو في السوق، قال: وجاء الحسين فجلس عند رأسه فقال: يا أخي من صاحبك؟ قال: تريد قتله؟ قال: نعم، قال: لئن كان الذي أظن، (للَّه) (٧) أشد نقمة، وإن كان بريئا فما أحب أن (يقتل) (٨) بريء (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن اسحاق سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور ایک آدمی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اس آدمی سے کہنے لگے مجھ سے پوچھو اس سے پہلے کہ تم مجھ سے نہ پوچھ سکو۔ ان صاحب نے کہا میں آپ سے کچھ نہیں پوچھنا چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ کو عافیت عطا کرے راوی نے فرمایا حضرت حسن کھڑے ہوئے اور بیت الخلاء میں داخل ہوئے پھر ہمارے پاس تشریف لائے پھر ارشاد فرمایا میں تمہاری طرف نہیں نکلا یہاں تک کہ میں نے اپنے جگر کا ایک ٹکڑا پھینکا ہے جس کو اس لکڑی سے الٹ پلٹ رہا ہوں مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا اس مرتبہ سے زیادہ سخت کوئی چیز نہیں تھی حضرت عمیر نے کہا اگلے دن ہم صبح کو ان کے پاس گئے وہ جان کنی کی حالت میں تھے راوی عمیر نے فرمایا حضرت حسین آئے پس ان کے سر کے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا اے بھائی جان آپ کو زہر دینے والا کون ہے انہوں نے فرمایا تم اسے قتل کرنا چاہتے ہو انہوں نے فرمایا ہاں حضرت حسن نے فرمایا اگر تو وہی ہے جس کے بارے میں میرا گمان ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سخت سزا دینے والے ہیں اور اگر بری ہے تو میں یہ پسند نہیں کرتا کہ ایک بری آدمی کو قتل کیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40142
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عمير بن إسحاق صدوق على الصحيح؛ أخرجه الحاكم ٣/ ١٩٣، وأبو نعيم في الحلية ٢/ ٣٨، وأبو العرب في المحن ص ٦٤، وابن عساكر ١٣/ ٢٨٢، وابن سعد كما في الإصابة ٢/ ٧٣، وابن أبي الدنيا في المحتضرين (١٣٢)، وابن عبد البر في الاستيعاب ١/ ٣٩٠، وإبن الجوزي في المنتظم ٥/ ٢٢٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40142، ترقيم محمد عوامة 38514)
حدیث نمبر: 40143
٤٠١٤٣ - حدثنا (١) أبو الأحوص عن (عبد اللَّه) (٢) بن شريك عن بشر بن غالب قال: لقي عبد اللَّه بن الزبير الحسين بن علي بمكة فقال: يا أبا عبد اللَّه بلغني أنك تريد العراق؟ قال: أجل، قال: فلا تفعل فإنهم قتلة أبيك، الطاعنون في بطن أخيك، وإن أتيتهم قتلوك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشر بن غالب سے روایت ہے فرمایا کہ عبداللہ بن زبیر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے مکہ مکرمہ میں ملے حضرت عبداللہ نے پوچھا اے ابو عبداللہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ عراق کا ارادہ رکھتے ہیں انہوں نے فرمایا ہاں حضرت عبداللہ نے کہا ایسا نہ کرنا بلاشبہ وہ آپ کے والد کے قاتلین ہیں اور آپ کے بھائی کے پیٹ پر نیزہ مارنے والے ہیں اگر آپ ان کے پاس گئے تو وہ آپ کو قتل کردیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40143
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد اللَّه بن شريك صدوق، وبشر بن غالب ذكره ابن حبان في الثقات، وروى عنه جمع، وأخرجه يعقوب في المعرفة ٣/ ٧٩، والفاكهي (١٤٧٥)، وأبو الشيخ في تاريخ أصبهان ٢/ ١٨٦، وابن عساكر في تاريخ دمشق ١٤/ ٢٠٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40143، ترقيم محمد عوامة 38515)
حدیث نمبر: 40144
٤٠١٤٤ - حدثنا محمد بن موسى (العتري) (١) عن (جبلة بنت (المصبح)) (٢) (٣) (قالت) (٤): أوصى مالك بن ضمرة بسلاحه (للمجاهدين) (٥) من بني ضمرة ألا (٦) يقاتل به أهل نبوة، قال: فقال أخوه عند رأسه: يا أخي عند الموت تقول هذا؟ قال: هو ذاك، قال: فنحن في (حل) (٧) إن احتاج ولدك أن (يبيع) (٨)، قال: نعم، (قال) (٩): فذهب السلاح فلم (يبق) (١٠) منه إلا رمح، قالت: فجاء رجل من ذلك البعث (الذين) (١١) ساروا إلى الحسين فقال: يا ابن (مالك) (١٢) يا موسى! أعرني رمح أبيك أعترض به، قال: فقال: يا جارية! أعطه الرمح، فقالت امرأة من أهله: يا موسى أما تذكر وصية أبيك؟ قالت: وقد مر الرجل بالرمح، قالت: فلحق الرجل فأخذ الرمح منه فكسره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبلہ بنت مصفح سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت مالک بن ضمرہ نے مجاہدین کو اپنے اسلحہ کے بارے میں وصیت کی خبردار اس سے کشیدگی کرنے والوں کے ساتھ لڑائی کی جائے گی راوی محمد بن موسیٰ نے فرمایا ان کے بھائی نے ان کے سر کے پاس کہا اے بھائی موت کے وقت آپ یہ کہہ رہے ہیں انہوں نے کہا یہ ایسے ہی ہے ان کے بھائی نے کہا اگر آپ کی اولاد کو ضرورت ہو بیچنے کی تو کیا ہمارے لیے یہ جائز ہوگا انہوں نے فرمایا ہاں وہ اسلحہ لے گئے ایک نیزے کے سوا کوئی چیزنہ رہی، راویہ فرماتی ہیں اس لشکر میں سے جو حضر تحسین کے مقابلے میں گیا ایک آدمی آیا مالک بن ضمرہ کے بھائی نے کہا اے مالک کے بیٹے اے موسیٰ مجھے اپنے والد کا نیزہ عاریۃ دینا میں اسے ماروں روای فرماتے ہیں مالک کے بیٹے نے کہا اے لڑکی ان کو نیزہ دے دوان کے گھر والوں میں سے ایک عورت نے کہا اے موسیٰ کیا تمہیں اپنے والد کی وصیت یاد نہیں۔ اور وہ آدمی آپ کے والد کا نیزہ مانگ کرلے گیا۔ پس وہ اس کے پیچھے گئے اور اس سے نیزہ لے کر اسے توڑ دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40144
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40144، ترقيم محمد عوامة 38516)
حدیث نمبر: 40145
٤٠١٤٥ - حدثنا حسين بن علي عن أبي (موسى) (١) عن الحسن قال: رفع النبي ﷺ الحسن بن علي معه على المنبر فقال: "إن ابني هذا سيد ولعل اللَّه أن يصلح ⦗٢٨٣⦘ به بين فئتين من المسلمين" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ منبر پر اٹھایا اور فرمایا میرا بیٹا سردار اور امیر ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان صلح کروائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40145
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي، أخرجه النسائي (١٠٠٨٤)، وورد من حديث الحسن عن أبي بكرة، أخرجه البخاري (٢٧٠٤)، وأبو داود (٤٦٦٢)، والترمذي (٣٧٧٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40145، ترقيم محمد عوامة 38517)
حدیث نمبر: 40146
٤٠١٤٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبيه عن منذر الثوري عن ابن الحنفية قال: الفتنة من قابلها (اجتيح) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن حنفیہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا جو آدمی فتنے کے روبرو آتا ہے جڑ سے اکھاڑ دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40146
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40146، ترقيم محمد عوامة 38518)
حدیث نمبر: 40147
٤٠١٤٧ - حدثنا حسين بن علي عن ابن عيينة عن ابن طاوس عن أبيه قال: قال ابن (عباس) (١): جاءني (حسين) (٢) يستشيرني في الخروج إلى ما هاهنا -يعني العراق، فقلت: (لولا) (٣) أن (يُزروا) (٤) بي وبك لشبثت يدي في شعرك، إلى أين تخرج إلى قوم قتلوا أباك وطعنوا أخاك، فكان الذي (سخا بنفسي) (٥) عنه أن قال لي: إن هذا (الحرم) (٦) يستحل برجل؛ ولأن أقتل في أرض كذا وكذا غير أنه يباعده -أحب إلي من أن أكون أنا هو (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت حسین میرے پاس عراق کی طرف جانے کے سلسلے میں مشورہ کے لیے آئے میں نے ان سے کہا اگر وہ میرے اور آپ کی ذات پر عیب نہ لگائیں تو میں مضبوطی کے ساتھ آپ سے چمٹ جاتا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں ایسے لوگوں کے پاس جنہوں نے آپ کے والد کو شہید کیا اور آپ کے بھائی کو نیزے مارے میرے ساتھ جو انہوں نے بات کے سلسلے میں سخاوت فرمائی اس میں یوں فرمایا یہ حرم کسی آدمی کے لیے لڑائی کے سلسلے میں حلال کیا جائے میں فلاں فلاں زمین میں قتل کردیا جاؤں اگرچہ وہ دور ہے مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں اس آدمی کی طرح ہوں جس کے ساتھ لڑائی کرنے میں حرم کو حلال سمجھا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40147
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40147، ترقيم محمد عوامة 38519)
حدیث نمبر: 40148
٤٠١٤٨ - حدثنا عبيد اللَّه قال: أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن هانئ بن هانئ عن علي قال: ليقتلن الحسين قتلًا، وإني لأعرف تربة الأرض التي بها يقتل، يقتل قريبا من النهرين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ یقینا حسین کو قتل کیا جائے گا اور بلاشبہ میں اس زمین کی مٹی کو پہچانتا ہوں جہاں اسے شہید کیا جائے گا دو نہروں کے درمیان شہید کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40148
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40148، ترقيم محمد عوامة 38520)
حدیث نمبر: 40149
٤٠١٤٩ - حدثنا يعلى بن عبيد عن موسى الجهني عن صالح بن أربد النخعي قال: قالت أم سلمة: دخل الحسين على النبي ﷺ وأنا جالسة على الباب، فتطلعت فرأيت في كف النبي ﷺ شيئًا يقلبه وهو نائم على بطنه، فقلت: يا رسول اللَّه! تطلعت فرأيتك تقلب شيئا في كفك، والصبي نائم على بطنك وفى موعك تسيل، فقال: "إن جبريل أتاني بالتربة التي يقتل عليها، وأخبرني أن أمتي يقتلونه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت حسین نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے میں دروازے کے پاس بیٹھی ہوئی تھی میں نے غور کیا اور دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی میں کوئی چیز تھی جسے آپ الٹ پلٹ رہے تھے اور حضرت حسین آپ کے پیٹ پر سوئے ہوئے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے غور کیا اور دیکھا کہ آپ اپنی ہتھیلی پر کوئی چیز الٹ پلٹ رہے ہیں اور بچہ آپ کے پیٹ پر سویا ہوا ہے اور آپ کے آنسو جاری ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بلاشبہ جبرئیل میرے پاس وہ مٹی لے کر آیا تھا جہاں اسے شہید کیا جائے گا اس نے مجھے خبر دی ہے کہ میری امت اسے قتل کرے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40149
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40149، ترقيم محمد عوامة 38521)
حدیث نمبر: 40150
٤٠١٥٠ - حدثنا محمد بن عبيد قال: حدثني شرحبيل بن مدرك الجعفي عن عبد اللَّه بن (نجي) (١) الحضرمي عن أبيه أنه سافر مع علي، وكان صاحب مطهرته حتى حاذى (نينوى) (٢) وهو منطلق إلى صفين فنادى: صبرًا أبا عبد اللَّه، صبرا أبا عبد اللَّه! فقلت: ماذا (أبا) (٣) عبد اللَّه؟ قال: دخلت على النبي ﷺ وعيناه تفيضان، قال: قلت: يا رسول اللَّه ما لعينيك تفيضان أغضبك أحد؟ قال: "قام من عندي جبريل فأخبرني أن الحسين يقتل بشط (الفرات) (٤) فلم أملك عيني أن فاضتا" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نجی حضرمی سے روایت ہے فرمایا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے وضو وغیرہ کا انتظام کرنے لگے یہاں تک کہ وہ نینوی شہر کے برابر ہوگئے ارادہ ان کا صفین کی طرف جانے کا تھا تو انہوں نے پکارا ٹھہرو ابو عبداللہ ٹھہرو ابوعبداللہ میں نے کہا کیا ہوگیا ابو عبداللہ کو انہوں نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتلایا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کی آنکھیں بہہ رہی ہیں کیا آپ کو کسی نے غصہ دلایا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جبرئیل میرے پاس کھڑے ہوئے ہیں انہوں نے مجھے بتلایا ہے کہ حسین کو فرات کے کنارے شہید کیا جائے گا پس اپنی آنکھوں پر قابو نہ رہا وہ بہہ پڑیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40150
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40150، ترقيم محمد عوامة 38522)
حدیث نمبر: 40151
٤٠١٥١ - حدثنا أبو معاوية (قال) (١): حدثنا الأعمش عن سلام (أبي) (٢) شرحبيل عن (أبي) (٣) (هرثمة) (٤) قال: بعرت شاة (له) (٥)، فقال لجارية له: يا (جرداء) (٦)، لقد أذكرني هذا البعر حديثا سمعته من أمير المؤمنين وكنت معه بكربلاء فمر بشجرة تحتها بعر غزلان فأخذ منه قبضة فشمها، ثم قال: يحشر من هذا الظهر سبعون ألفا يدخلون الجنة بغير حساب (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ان کی بکری نے مینگنیاں کیں انہوں نے اپنی باندی سے کہا اے کم بالوں والی اس مینگنی نے ایک حدیث یاد کروا دی جو میں نے امیرالمؤمنین (حضرت علی رضی اللہ عنہ ) سے سنی تھی جبکہ میں ان کے ساتھ مقام کربلا میں تھا وہ ایسے درخت کے پاس سے گزرے جس کے نیچے ہرن کی مینگنی تھی اس زمین سے ایک مشت مٹی لی اور اسے سونگھا پھر فرمایا اس زمین کی پشت سے ستر ہزار کو جمع کیا جائے گا جو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40151
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40151، ترقيم محمد عوامة 38523)
حدیث نمبر: 40152
٤٠١٥٢ - حدثنا شريك عن عطاء بن السائب عن وائل بن علقمة أنه شهد الحسين بكربلاء، قال: فجاء رجل فقال: أفيكم حسين؟ فقال: من أنت؟ فقال: أبشر بالنار، قال: بل رب غفور رحيم مطاع، قال: ومن أنت؟ قال: أنا ابن (حويزة) (١)، قال: اللهم (حزه) (٢) إلى النار، قال: فذهب (فنفر) (٣) به فرسه على (ساقيه) (٤) (فتقطع) (٥) فما بقي مثه غير رجله في الركاب (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وائل بن علقمہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسین کے ساتھ کربلا میں موجود تھے انہوں نے فرمایا کہ ایک آدمی آیا اس نے کہا کیا تمہارے اندر حسین ہے حضرت حسین نے پوچھا تم کون ہو اس نے کہا آگ کی بشارت لو انہوں نے فرمایا بلکہ رب معاف کرنے والا رحم کرنے والا فرمانبرداری کیا جانے والا ہے حضرت حسین نے پوچھا تو کون ہے اس نے کہا میں ابن حویزہ ہوں آپ نے فرمایا اے اللہ اسے آگ کی طرف جمع کرلے راوی نے فرمایا وہ آدمی گیا اس کا گھوڑا اسے اس کی پنڈلیوں کے بل لے کر بھاگا پس وہ کٹا اس کے جسم سے سوائے اس کے پاؤں کے جو رکاب میں تھے کوئی حصہ باقی نہ رہا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40152
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لاختلاط عطاء بن السائب: أخرجه الطبراني (٢٨٤٩)، والدارقطني في المؤتلف ٢ (٦٢١)، وابن أبي جرادة في بغية الطلب ١/ ٣٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40152، ترقيم محمد عوامة 38524)
حدیث نمبر: 40153
٤٠١٥٣ - حدثنا علي بن مسهر عن أم حكيم (١) قالت: لما قتل الحسين بن علي ⦗٢٨٦⦘ وأنا يومئذ جارية قد بلغتُ مبلغَ النساء -أو كدت أن أبلغ: مكثت السماء بعد قتله أياما كالعلقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام حکیم سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا میں ان دنوں لڑکی تھی عورتوں کی عمر کو پہنچ چکی تھی یا فرمایا پہنچنے کے قریب تھی ان کی شہادت کے بعد کئی دن آسمان خون کے جمے ٹکڑے کی طرح رہا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40153
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40153، ترقيم محمد عوامة 38525)
حدیث نمبر: 40154
٤٠١٥٤ - حدثنا وكيع عن أبي عاصم الثقفي عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: جاءنا قتل عثمان وأنا أُؤنس من نفسي شبابا وقوة ولو قتلت القتال، فخرجت أحضر الناسَ حتى إذا كنت بالربذة إذا عليٌّ بها، فصلى بهم العصر، فلما سلم أسند ظهره في مسجدها واستقبل القوم، قال: فقام إليه الحسن بن علي يكلمه (وهو) (١) يبكي، (٢) فقال (له) (٣) عليٌّ: تكلم ولا تحن حنين الجارية، قال: أمرتك حين (حصر) (٤) الناس هذا الرجل أن تأتي مكة فتقيم بها فعصيتني، ثم أمرتك حين قتل أن تلزم بيتك حتى ترجع إلى العرب (غواربُ) (٥) أحلامها، فلو كنت في جحر ضب لضربوا إليك أباط الإبل، حتى يستخرجوك من جحرك فعصيتني، و (أنا) (٦) أنشدك باللَّه أن تأتي العراق فتقتل بحال مضيعة، قال: فقال علي: أما قولك: آتي مكة، فلم أكن بالرجل الذي تستحل لي مكة، وأما قولك: قتل الناس عثمان، فما ذنبي إن كان الناس قتلوه، وأما قولك: آتي العراق، فأكون كالضبع (تستمع اللدم) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے فرمایا کہ جب حضرت عثمان کی شہادت کی خبر آئی اور میں اپنے آپ میں جوانی اور قوت کو پہچان رہا تھا اگر میں لڑائی کرتا میں نکلا لوگوں کے ساتھ حاضر تھا جب ہم مقام ربذہ پر پہنچے وہاں پر حضرت علی رضی اللہ عنہ موجود تھے انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب سلام پھیرا لوگوں کی طرف منہ کر کے اپنی نماز پڑھنے کی جگہ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کھڑے ان سے روتے ہوئے بات کرنے لگے انہوں نے فرمایا بات کرو اور لڑکی کے رونے کی طرح نہ رو۔ حضرت حسن نے فرمایا میں نے آپ سے کہا تھا جب لوگوں نے اس آدمی کا محاصرہ کیا تھا کہ آپ مکہ جا کر وہاں اقامت اختیار کریں آپ نے میری بات نہ مانی پھر جب انہیں شہید کیا گیا میں نے آپ سے کہا تھا اپنے گھر میں رہیں۔ یہاں تک عرب کی عقل مندی واپس آجائے پس اگر آپ گوہ کی بل میں ہوئے تو وہ آپ کو اونٹ کے پہلوں مارتے یہاں تک آپ کو اس بل سے نکالتے آپ نے میری بات نہ مانی اور میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ عراق نہ جائیں کہیں بےتوجہی کی حالت میں آپ کو قتل کردیا جائے راوی نے فرمایا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا باقی رہی تمہاری بات کہ میں مکہ جاتا تو میں اس آدمی کے پاس نہیں گیا جو میرے لیے مکہ کو قتال کے لیے حلال کرتا اور تیری یہ بات کہ لوگوں نے عثمان کو شہید کردیا تو میرا کیا گناہ ہے اگر لوگوں نے ان کو قتل کردیا ہے اور رہی تمہاری یہ بات کہ میں عراق نہ جاتا (مدینہ اگر رہتا تو) تو میں اس گوہ کی طرح ہوتا جو (بل میں رہ کر) آواز کو سنتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40154
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري في التاريخ الكبير ٧/ ٣٩٥، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٤٢، وابن عساكر ٤٢/ ٤٥٦، وابن شبه (٢٢٣٦)، وابن الجوزي في المنتظم ٥/ ٨٢، وابن جرير في التاريخ ٣/ ١٠، وأبو عبيد في غريب الحديث ٣/ ٤٣٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40154، ترقيم محمد عوامة 38526)
حدیث نمبر: 40155
٤٠١٥٥ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا ابن عيينة عن (مجالد) (١) عن الشعبي قال: لما كان الصلح بين الحسن بن علي ومعاوية أراد الحسنُ الخروجَ إلى المدينة، فقال له معاوية: ما أنت بالذي تذهب حتى تخطب الناس قال: قال الشعبي: فسمعته على المنبر: حمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: (أما بعد) (٢) فإن أكيس الكيس التقى، (وإن) (٣) أعجز العجز (الفجور) (٤)، وإن هذا الأمر الذي (اختلفت فيه أنا) (٥) ومعاوية (حق) (٦) كان لي فتركته لمعاوية، أو حق كان (لامرئ) (٧) أحق به مني، وإنما فعلت هذا لحقن دمائكم، وإن أدري لعله فتنة لكم ومتاع إلى حين، ثم نزل (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے فرمایا کہ جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ کے درمیان صلح ہوئی حضرت حسن نے مدینہ کی طرف جانے کا ارادہ کیا مجاہد نے شعبی سے نقل کیا شعبی نے فرمایا میں نے ان سے منبر پر سنا کہ انہوں نے اللہ کی تعریف کی اور اس کی ثناء بیان کی پھر فرمایا یقینا سب سے عقلمندی کی بات تقوٰی ہے اور سب سے عجز کی بات فسق و فجور ہے اور یہ امر (خلافت) جس میں میرے اور معاویہ کے درمیان اختلاف ہوا یہ میرا حق تھا میں نے معاویہ کے لیے چھوڑ دیا یا یوں فرمایا یہ میرا حق تھا جس کے معاویہ مجھ سے زیادہ حق دار ہیں اور میں نے یہ تمہارے خونوں کی حفاظت کے لیے ایسا کیا ہے اور میں نہیں جانتا ہوسکتا ہے تمہارے لیے آزمائش ہو اور مقررہ مدت تک نفع ہو پھر نیچے اتر آئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40155
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه الحاكم ٣/ ١٩٢، والبيهقي ٨/ ١٧٣، وابن عساكر ١٣/ ٢٧٤، وابن عبد البر في الاستيعاب ١/ ٣٨٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40155، ترقيم محمد عوامة 38527)
حدیث نمبر: 40156
٤٠١٥٦ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا (مجالد) (١) عن زياد بن علاقة عن أسامة بن (زيد) (٢) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من فرق بين أمتي وهم جميع فاضربوا رأسه كائنا من كان" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ بن شریک سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس آدمی نے میری امت میں تفریق ڈالی جبکہ وہ مجتمع ہوں اس کی گردن مار دو جو کوئی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40156
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): منكر؛ مجالد ضعيف، خالف الثقات، أخرجه ابن أبي عاصم في السنة (١١٠٦)، والنسائي (١٤٨٦)، والطبراني (٤٨٨)، والطحاوي في شرح المشكل ٦/ ١٠٣، والضياء في المختارة ٤/ (١٣٩١)، واللالكائي (١٤٣)، والمزي ١٠/ ٩٠، والرامهرمزي ص ٤٨٧، ورواه شعبة وغيره عن زياد عن عرفجة، أخرجه مسلم (١٨٥٢)، وأحمد ٤/ ٢٦١، والنسائي في الكبرى (١١١٨٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40156، ترقيم محمد عوامة 38528)
حدیث نمبر: 40157
٤٠١٥٧ - حدثنا زياد بن الربيع عن عباد بن كثير الشامي عن امرأة منهم يقال: لها (فُسيلة) (١) عن أبيها قالت: سمعت أبي يقول: سألت رسول اللَّه ﷺ قلت: يا رسول اللَّه من العصبية أن يحب الرجل قومه؟ قال: "لا، ولكن من العصبية أن يعين الرجل قومه على الظلم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فسیلہ اپنے والد سے روایت کرتی ہیں فرمایا کہ میں نے اپنے والد کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا اے اللہ کے رسول کیا یہ عصبیت ہے کہ انسان اپنی قوم سے محبت کرے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں لیکن عصبیت یہ ہے کہ انسان ظلم پر اپنی قوم کی اطاعت کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40157
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف فيه جهالة؛ عياد ضعيف، وفسيلة فيها جهالة، أخرجه أحمد (١٦٩٨٩)، وأبو داود (٥١١٩)، وابن ماجه (٣٩٤٩)، والبخاري في الأدب المفرد (٣٩٦)، والبيهقي في الآداب (٢٠٨)، والطبراني ٢٢/ (٢٣٦)، والمزي ١٤/ ١٥، والدولابي ١/ ٤٨، والعقيلي ٣/ ١٤٢، وابن عدي ٤/ ١٣٩٥، والحربي في الغريب ١/ ٣٠١، والحارث (٨٦٩/ بغية).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40157، ترقيم محمد عوامة 38529)
حدیث نمبر: 40158
٤٠١٥٨ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سنان بن أبي سنان عن أبي واقد الليثي أن رسول اللَّه ﷺ حين أتى حنينا مر بشجرة يعلق المشركون بها أسلحتهم يقال لها ذات أنواط، فقالوا: اجعل لنا ذات أنواط، فقال رسول اللَّه ﷺ: "هذا كما قال قوم موسى لموسى: اجعل لنا إلها كما لهم آلهة، لتركبن سنن من (١) قبلكم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو واقد اللیثی سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حنین تشریف لائے تو ایسے درخت کے پاس سے گزرے جس کے ساتھ مشرکین اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے جسے ذات انواط کہا جاتا تھا (انواط نوط کی جمع ہے حاجت معلقہ کو کہتے ہیں یہ وہ درخت تھا جس کے ساتھ مشرکین اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے اور اس کا گرد ٹھہرتے تھے) صحابہ اکرام نے عرض کیا ہمارے لیے ذات انواط بنادیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ ایسے ہے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا۔ ہمارے لیے بھی معبود بنادیں جیسا کہ ان کے لیے معبود ہے یقینا تم اپنے سے پہلے والے لوگوں کے طریقوں پر چلوگے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40158
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢١٨٩٧)، والترمذي (٢١٨٠)، والنسائي في الكبرى (١١١٨٥)، وابن حبّان (٦٧٠٢)، والبخاري في التاريخ ٤/ ١٦٣، ومحمد بن نصر في السنة (٤٠)، والطيالسي (١٣٤٦)، والحميدي (٨٤٨)، وابن أبي عاصم في السنة (٧٦)، وأبو يعلى (١٤٤١)، والطبري ٩/ ٤٥، وابن قانع ١/ ١٧٢، والطبراني (٣٢٩٢)، والبيهقي في دلائل النبوة ٥/ ١٢٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40158، ترقيم محمد عوامة 38530)
حدیث نمبر: 40159
٤٠١٥٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لتتبعن سنة من كان قبلكم باعا بباع، وذراعا بذراع وشبرا بشبر، حتى لو دخلوا في جحر ضب لدخلتم فيه"، قالوا: يا رسول اللَّه! اليهود والنصارى قال: "فمن إذن" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم ضرور بالضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقے کی پیروی کرو گے دو ہاتھ میں دو ہاتھ کی ایک ہاتھ میں ایک ہاتھ کی اور ایک بالشت میں ایک بالشت کی یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کی بل میں داخل ہوئے ہوں تو تم بھی اس میں داخل ہوگے صحابہ کرام نے عرض کیا یہود اور نصاری کی ؟ آپ نے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40159
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (٩٨١٩)، وابن ماجه (٣٩٩٤)، وابن أبي عاصم في السنة (٧٢)، وأصله عند البخاري (٧٣١٩)، والحاكم ١/ ٣٧، والحارث (٧٥٤/ بغية).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40159، ترقيم محمد عوامة 38531)
حدیث نمبر: 40160
٤٠١٦٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن (عمر) (١) بن الحكم قال: سمعت عبد اللَّه بن (عمرو) (٢) يقول: لتركبن سنة من كان قبلكم حلوها ومرها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ یقینا تم اپنے سے پہلے والوں کی میٹھے اور کڑوے طریقے کی پیروی کرو گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40160
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه الشافعي كما في السنن المأثورة (٣٩٨)، ومحمد بن نصر في السنة (٦٦)، والروي في ذم الكلام (٧١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40160، ترقيم محمد عوامة 38532)
حدیث نمبر: 40161
٤٠١٦١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي قيس عن (هزيل) (١) قال: قال عبد اللَّه: أنتم أشبه الناس سمتا وهديا (ببني) (٢) إسرائيل (لتسلكن) (٣) طريقهم حذو القذة بالقذة، والنعل بالنعل، قال عبد اللَّه: (إن) (٤) من البيان سحرا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا تم طریقہ اور سیرت میں بنی اسرائیل کے بہت مشابہہ ہو تم ضرور ان کے طریقے پر چلو گے جیسے تیر کا پر دوسرے پر کے برابر ہوتا ہے اور جوتا دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے حضرت عبداللہ نے فرمایا کچھ بیان جادو ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40161
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو قيس هو عبد الرحمن بن ثروان الأوري صدوق، أخرجه البزار (٢٠٤٨)، والطبراني (٩٨٨٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40161، ترقيم محمد عوامة 38533)
حدیث نمبر: 40162
٤٠١٦٢ - حدثنا يحيى بن عيسى عن الأعمش عن (١) المنهال عن أبي البختري قال: قال حذيفة: لا يكون في بني إسرائيل (شيء) (٢) إلا كان فيكم مثله، فقال رجل: فينا (يكون) (٣) قوم لوط؟ قال: نعم، وما ترى بلغ ذلك لا أم لك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا بنی اسرائیل میں کوئی چیز واقع نہیں ہوئی مگر اس کی مثل تمہارے اندر بھی واقع ہوگی ایک صاحب نے عرض کیا کیا ہمارے اندر قوم لوط کی طرح ہوگا آپ نے فرمایا ہاں تیرے لیے تیری ماں نہ رہے اس سلسلے میں جو بات پہنچی ہے اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40162
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40162، ترقيم محمد عوامة 38534)
حدیث نمبر: 40163
٤٠١٦٣ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الأعمش عن المنهال بن عمرو عن أبي البختري عن حذيفة قال: (لتعملن) (١) عمل بني إسرائيل فلا يكون فيهم شيء إلا كان فيكم مثله، فقال رجل: تكون (فينا) (٢) قردة وخنازير؟ قال: وما يبريك من ذلك؟ لا أم لك؛ قالوا: حدثنا يا أبا عبد اللَّه، قال: لو حدثتكم لافترقتم على ثلاث فرق: فرقة تقاتلني، وفرقة لا تنصرني، وفرقة تكذبني، أما إني سأحدثكم ولا أقول: (٣) قال رسول اللَّه ﷺ، أرأيتكم لو حدثتكم أنكم تأخذون كتابكم (فتحرقونه) (٤) وتلقونه في الحشوش، صدقتموني؟ قالوا: سبحان اللَّه! (٥) ويكون هذا؟ [قال: أرأيتكم لو حدثتكم أنكم تكسرون قبلتكم، صدقتموني؟ قالوا: سبحان اللَّه! ويكون هذا؟ قال: أرأيتكم لو حدثتكم أن (أمكم) (٦) تخرج في فرقة من المسلمين، (وتقاتلكم) (٧)، صدقتموني؟ قالوا: سبحان اللَّه! ويكون هذا؟] (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ تم ضرور بنی اسرائیل والے اعمال کرو گے ان میں کوئی چیز واقع نیں ہوئی مگر تمہارے اندر اس کی مثل ہوگی ایک صاحب نے عرض کیا کیا ہم میں بندر اور خنزیر بھی ہوں گے ارشاد فرمایا تیرے لیے ماں نہ ہو اس سے تمہیں کس نے بری کیا ہے ان کے ساتھیوں نے عرض کیا اے ابو عبد اللہ ہم سے بیان کرو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں تم سے بیان کروں تو تم تین گروہوں میں بٹ جاؤ گے اور ایک گروہ مجھ سے لڑائی کرے گا اور دوسرا گروہ میری مدد نہیں کرے گا اور ایک گروہ میری تکذیب کرے گا باقی میں تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں اور میں نہیں کہتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے بتلاؤ تو سہی اگر میں تم سے بیان کروں کہ تم اپنی کتاب کو لے کر اسے جلا دو گے اور اسے بیت الخلاؤں میں پھینک دو گے کیا تم میری تصدیق کرو گے انہوں نے کہا سبحان اللہ کیا یہ بھی ہوگا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا مجھے بتلاؤ تو سہی اگر میں تم سے بیان کروں کہ تم اپنے قبلہ کو توڑ دو گے کیا تم میری تصدیق کرو گے انہوں نے سبحان اللہ کیا یہ ہوگا (پھر) فرمایا مجھے بتلاؤ تو سہی اگر میں تم سے بیان کروں کہ تمہاری ماں مسلمانوں کے ایک گروہ میں خروج کرے گی اور تم سے لڑائی کرے گی کیا تم میری تصدیق کرو گے انہوں نے کہا سبحان اللہ کیا یہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40163
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40163، ترقيم محمد عوامة 38535)
حدیث نمبر: 40164
٤٠١٦٤ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن حبيب قال: سمعت ابن عمر يقول: يا أهل العراق! تأتون بالمعضلات (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ اے اہل عراق تم مشکل راستوں پر چلو گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40164
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه يعقوب في المعرفة ٣/ ١٦ و ٨٢، وأحمد في العلل ٣/ ٢٢٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40164، ترقيم محمد عوامة 38536)
حدیث نمبر: 40165
٤٠١٦٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سفيان بن حسين عن هشام بن يوسف عن (عوف) (١) بن مالك قال: استأذنت على النبي ﷺ فقال: "ادخل" قلت: فأدخل كلي أو بعضي؟ قال: "أدخل كلك"، فدخلت عليه وهو يتوضأ وضوءا (مكيثا) (٢)، فقال: "يا عوف بن مالك! ست قبل الساعة: موت نبيكم ﷺ (خذ إحدى) (٣) -فكأنما انتزع قلبي من مكانه- وفتح بيت المقدس، وموت يأخذكم تقعصون به كما تقعص المغنم، وأن يكثر المال حتى (يعطى) (٤) الرجل مائة دينار فيسخطها، وفتح مدينة الكفر، وهدنة تكون بينكم وبين بني الأصفر، (فيأتونكم) (٥) تحت ثمانين غاية، تحت كل غاية اثنا عشر ألفا فيكونون (أولى) (٦) بالغدر منكم" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف بن مالک سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے داخل ہونے کی اجازت لی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا داخل ہوجاؤ میں نے عرض کیا میں سارا داخل ہوجاؤں یا کچھ (یہ مزاقاً کہا) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سارا داخل ہوجا میں آپ کے پاس گیا آپ آہستہ سے وضو کر رہے تھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عوف بن مالک چھ باتیں قیامت سے پہلے ہوں گی تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت یہ ایک لے لے (راوی نے فرمایا) اس بات سے گویا انہوں نے میرادل کھینچ لیا اور (دوسری) بیت المقدس کی فتح حاصل ہوگی اور (تیسری) موت ہوگی تو تمہیں آ ن لے گی تم اس سے جلدی مرجاؤ گے جیسے بکریاں قعاص کی بیماری سے جلدی مرجاتی ہیں اور (چوتھا) مال کثرت سے ہوجائے گا یہاں تک کہ ایک آدمی کو سودینار دیے جائیں گے وہ انہیں ناپسند کرے گا کفار کا شہر فتح ہوگا اور صلح ہوگی تمہارے اور رومیوں کے درمیان وہ تمہا رے پاس اسی جھنڈیوں کے نیچے آئیں گے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے و ہ تم سے عذر کرنے میں آگے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40165
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40165، ترقيم محمد عوامة 38537)
حدیث نمبر: 40166
٤٠١٦٦ - حدثنا وكيع عن النهاس بن (قهم) (١) قال: حدثني شداد أبو عمار عن معاذ بن جبل قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ست من أشراط الساعة: موتي، وفتح بيت المقدس وأن يعطى الرجل ألف دينار فيسخطها، وفتنة يدخل (حربها) (٢) بيت ⦗٢٩٢⦘ كل مسلم وموت يأخذ في الناس كقعاص المغنم، وأن (تغدر) (٣) الروم فيسيرون (باثني عشر) (٤) تحت كل (بندٍ) (٥) اثنا عشر ألفا" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چھ چیزیں قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں میری وفات اور بیت المقدس کی فتح، ایک صاحب کو ہزار اشرفیاں دی جائیں گی وہ ان کو ناپسند کرے گا اور ایسا فتنہ ہوگا جس کا غم ہر مسلمان کے گھر میں داخل ہوگا اور موت ہوگی جو لوگوں کو ایسے پکڑ لے گی جیسے قعاص (سینے کی بیماری) بکریوں کو پکڑتی ہے رومی تم سے دھوکہ کریں گے وہ بارہ ہزار کی تعداد میں آئیں گے اور ہر بڑے پرچم کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40166
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40166، ترقيم محمد عوامة 38538)
حدیث نمبر: 40167
٤٠١٦٧ - حدثنا هوذة بن خليفة حدثنا عوف عن الحسن عن أَسِيْد بن (المنتشر) (١) قال: كنا عند أبي موسى فقال: ألا أحدثكم حديثًا كان رسول اللَّه ﷺ يحدثناه؟ قلنا: بلى، قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تقوم الساعة حتى يكثر الهرج"، فقلنا: يا رسول اللَّه! وما الهرج؟ قال: "القتل، القتل"، قلنا: أكثر مما نقتل اليوم؟ قال: "ليس بقتلكم الكفار، ولكن يقتل الرجل جاره وأخاه وابن عمه"، قال: فأبلسنا حتى ما يبدي أحد منا عن واضحة، قال: قلنا: ومعنا عقولنا يومئذ؟ قال: " (تنزع) (٢) عقول أكثر (أهل) (٣) ذلك الزمان، (ويخلف) (٤) هنات من الناس يحسب أكثرهم أنهم على شيء، وليسوا على شيء، والذي نفسي بيده لقد خشيت أن يدركني وإياكم الأمور، (ولئن) (٥) أدركتنا ما لي ولكم منها (مخرج) (٦) إلا أن ⦗٢٩٣⦘ (نخرج) (٧) منها كما (دخلناه) (٨) " (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسید بن متشمس سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ ہم حضرت ابو موسیٰ کے پاس تھے انہوں نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہارے سامنے ایسی حدیث نہ بیان کروں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے بیان کرتے تھے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں راوی نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ ہرج کثرت سے ہوجائے گا ہم نے عرض کیا ہرج کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قتل قتل ہم نے عرض کیا اب بھی تو ہم قتل کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم کفار کو قتل نہیں کرو گے بلکہ کوئی شخص اپنے پڑوسی کو قتل کرے گا اور اپنے بھائی کو اور اپنے چچا کے بیٹے کو راوی کہتے ہیں ہمارے لیے یہ بات پیچیدہ ہوگئی یہاں تک کہ عرض کیا کیا اس دن ہمیں عقل و شعور ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس زمانے کے اکثر لوگوں کی عقلیں اڑا دی جائیں گی اور ان کے بعد کم عقل لوگ ان کے نائب بن جائیں گے جن میں سے اکثر یہ گمان کریں گے کہ وہ کسی امر (دینی) پر ہیں حالانکہ وہ کسی شے پر نہیں ہوں گے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے خوف ہے کہ مجھے اور تمہیں چند امور آن لینگے اور اگر ان امور نے ہمیں پا لیا تو میرے اور تمہارے لیے ان سے نکلنے کا راستہ نہیں ہوگا مگر ایسا ہی کہ جے سل ہم داخل ہوئے تھے (مطلب یہ ہے کہ ہم ان فتنوں میں محفوظ نہ رہیں گے ایسے ہی ہے جیسا کہ ہم اس دن محفوظ تھے کہ جس دن ہم اسلام میں داخل ہوئے تھے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40167
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أسيد ثقة، أخرجه أحمد (١٩٦٣٦)، وابن ماجه (٣٩٥٩)، والبخاري في التاريخ ٢/ ١٢، وابن المبارك في مسنده (٢٦٠)، وأبو الشيخ في طبقات المحدثين باصبهان (١٧)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٢٢٦، وأبو يعلى (٧٢٤٧)، وأصله عند البخاري (٧٠٦٤)، ومسلم (٢٦٧٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40167، ترقيم محمد عوامة 38539)
حدیث نمبر: 40168
٤٠١٦٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن ربعي عن أبي بكرة عن النبي ﷺ (١) أنه قال: "إذا المسلمان (حمل) (٢) أحدهما على أخيه بالسلاح فهما على حرف جهنم، فإذا قتل أحدهما صاحبه (دخلاها) (٣) جميعًا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جب دو مسلمانوں میں سے ایک اپنے بھائی کے خلاف اسلحہ اٹھائے تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں اور جب ان دونوں میں ایک دوسرے کو قتل کردے تو وہ دونوں جہنم میں داخل ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40168
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٨٨)، وأحمد (٢٠٤٢٤)، وبنحوه البخاري (٣١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40168، ترقيم محمد عوامة 38540)
حدیث نمبر: 40169
٤٠١٦٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا ابن عون عن محمد عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "الملائكة (تلعن) (١) أحدكم إذا أشار بحديدة، وإن كان (أخاه لأبيه) (٢) وأمه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی طرف لوہے سے اشارہ کرتا ہے فرشتے تم میں سے اس پر لعنت کرتے ہیں اس شخص پر جو لوہے سے اشارہ کرے اگرچہ وہ شخص جس کی طرف اس نے اشارہ کیا وہ اس کا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40169
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٦١٦)، وأحمد (٧٤٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40169، ترقيم محمد عوامة 38541)
حدیث نمبر: 40170
٤٠١٧٠ - حدثنا وكيع عن عبيد بن طفيل (أبي سيدان) (١) عن ربعي بن حراش قال: قال حذيفة: لتركبن سنة بني إسرائيل حذو النعل بالنعل، والقذة ⦗٢٩٤⦘ بالقذة، غير إني لا أدري (تعبدون) (٢) العجل أم لا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا یقینا تم بنی اسرائیل کے طریقے پر چلو گے جیسا کہ جوتا جوتے کے برابر ہوتا ہے اور تیر کا پر دوسرے تیر کے برابر ہوتا ہے مگر میں یہ نہیں جانتا کہ تم بچھڑے کی عبادت کرو گے یا نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40170
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبيد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40170، ترقيم محمد عوامة 38542)
حدیث نمبر: 40171
٤٠١٧١ - حدثنا عفان قال: حدثنا أبو عوانة قال: حدثنا إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن أبيه عن حذيفة قال: إذا (فشت) (١) بقعان أهل الشام (٢)، فمن استطاع منكم أن يموت فليمت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا کہ جب شام کے جوان (غلام) کثرت سے ہوجائیں تو جو تم میں سے مرسکتا ہے مرجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40171
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40171، ترقيم محمد عوامة 38543)