کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 40092
٤٠٠٩٢ - حدثنا ابن عيينة عن إبراهيم بن ميسرة عن طاوس قال: ذكرت الأمراء عند ابن عباس (فابترك) (١) فيهم رجل فتطاول حتى (ما أرى) (٢) في البيت أطول منه، فسمعت ابن عباس يقول: لا تجعل نفسك فتنة للقوم الظالمين، فتقاصر حتى ما أرى في البيت أقصر منه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس امراء کا تذکرہ کیا گیا ان میں سے ایک لڑائی کے لیے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اس نے سر اٹھایا یہاں تک کہ گھر میں اس سے زیادہ لمبا میں نے کسی کو نہیں دیکھا حضرت طاؤس فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا یہ فرماتے ہوئے کہ اپنے آپ کو ظالم قوم کے لیے فتنہ نہ بنا پس وہ نیچے ہوگیا یہاں تک کہ اس سے زیادہ چھوٹا مجھے گھر میں کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40092
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه سعيد بن منصور ٢/ (١٠٧١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40092، ترقيم محمد عوامة 38464)
حدیث نمبر: 40093
٤٠٠٩٣ - حدثنا كثير بن (هشام) (١) عن جعفر بن برقان عن عبد اللَّه بن بشر قال: حدثنا أيوب السختياني قال: اجتمع ابن مسعود وسعد وابن عمر وعمار فذكروا فتنة (تكون) (٢) فقال سعد: أما أنا فأجلس في بيتي ولا أخرج منه، وقال ابن مسعود: أنا على ما قلت، وقال ابن عمر: أنا (على) (٣) مثل ذلك، وقال عمار: لكني أتوسطها فاضرب خيشومها الأعظم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ایوب السختیانی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت سعد اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت عمار جمع ہوئے آئندہ کے فتنے کے بارے میں تذکرہ کرنے لگے حضرت سعد نے فرمایا باقی رہا میں تو میں اپنے گھر میں بیٹھوں گا اور اس سے نہیں نکلوں گا اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا میں اس پر ہوں جو تم نے کہا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میں بھی اس کی مثل پر ہوں اور حضرت عمار نے فرمایا لیکن میں اس کے درمیان میں ہوں گا اس کے بڑے ناک پر ماروں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40093
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40093، ترقيم محمد عوامة 38465)
حدیث نمبر: 40094
٤٠٠٩٤ - حدثنا محمد بن (عبيد) (١) عن الأعمش عن إبراهيم التيمي قال: ⦗٢٦٠⦘ كان الحارث بن سويد في نفر فقال: إياكم والفتن فإنها قد ظهرت، فقال رجل: فأنت قد خرجت مع علي، قال: وأين لكم إمامٌ مثلُ علي؟.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت حارث بن سوید ایک لشکر میں تھے انہوں نے ارشاد فرمایا بچو تم فتنوں سے بلا شبہ وہ ظاہر ہوچکے ہیں ایک آدمی نے کہا آپ بھی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے ہیں انہوں نے فرمایا کہاں ہوگا امام حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40094
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40094، ترقيم محمد عوامة 38466)
حدیث نمبر: 40095
٤٠٠٩٥ - حدثنا محمد بن عبيد عن الأعمش عن زياد عن تبيع قال: قال كعب: إن لكل قوم كلبًا، فاتق اللَّه لا (يضرنك) (١) شره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ ہر قوم کے لیے کتا ہوتا ہے پس اللہ سے ڈرو اس کا شر تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40095
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40095، ترقيم محمد عوامة 38467)
حدیث نمبر: 40096
٤٠٠٩٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا (حسين) (١) عن ميمون بن (أستاذ) (٢) عن جندب بن عبد اللَّه أنه قال في الفتنة: إنه من (انبجس) (٣) له (أردته) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جندب بن عبداللہ سے روایت ہے انہوں نے فتنے کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جس آدمی نے اس طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھا…تو وہ اسے ہلاک کر دے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40096
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ميمون، أخرجه نعيم (٤٤٢) (٤٩٩)، وابن الأثير في أسد الغابة ١/ ٤٤٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40096، ترقيم محمد عوامة 38468)
حدیث نمبر: 40097
٤٠٠٩٧ - حدثنا يحيى بن أبي بكير قال: حدثنا زهير بن محمد عن موسى بن جبير عن بشر بن (المحرر) (١) عن أبي ذر قال: (توشك) (٢) المدينة أن لا يحمل إليها طعام على قتب، ويكون طعام أهلها بها، من كان له أصل أو حرث أو ماشية يتبع أذنابها في أطراف السحاب، فإذا رأيتم البنيان قد على (سلعا) (٣) (فارتبصوه) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا …قریب ہے یہ بات کہ مدینہ کی طرف کھانے کی چیزیں نہیں لے جائی جائیں گی پالان پر اور وہاں رہنے والوں کا کھانا وہیں سے ہی پورا ہوگا جس آدمی کے پاس زمین ہو یا کھیتی ہو یا مویشی ہوں وہ ان کی دموں کے پیچھے رہے بادلوں کے کناروں میں اور جب تم دیکھو عمارتوں کو کہ وہ کوہ سلع سے بلند ہوجائیں اس میں ٹھہرے رہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40097
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40097، ترقيم محمد عوامة 38469)
حدیث نمبر: 40098
٤٠٠٩٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عمرو بن قيس عن رجل عن أبي ذر قال: أقبل رسول اللَّه ﷺ من سفر، (فلما) (١) دنا من المدينة تعجل قوم على (رأياتهم) (٢)، فأرسل (فجيء) (٣) بهم فقال: "ما أعجلكم؟ " قالوا: أو ليس قد أذنت لنا، قال: "لا، ولا (شبهت) (٤) ولكنكم تعجلتم إلى النساء بالمدينة"، ثم قال: "ألا ليت شعري متى تخرج نار من قبل جبل الوراق تضيء لها أعناق الإبل بروكا إلى برك الغماد من عدن أبين كضوء النهار" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوذر سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر سے واپسی فرما رہے تھے جب مدینہ منورہ کے قریب ہوئے تو لوگوں نے اپنے جھنڈوں کے ساتھ جلدی کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف پیغام بھیجا ان کو لایا گیا آپ نے فرمایا کس چیز نے تمہیں جلدی میں ڈال دیا انہوں نے عرض کیا کیا آپ نے ہمیں اجازت نہیں دی ؟ آپ نے فرمایا نہیں اور نہ ہی میں تشبیہ دی ہے۔ لیکن تم نے مدینہ میں عورتوں کی طرف جلدی کی پھر فرمایا ایک وقت آئے گا جب جبل وراق کی جانب سے ایک آگ ظاہر ہوگی، اس آگ کی وجہ سے عدن کے برک الغماد میں بیٹھے ہوئے اونٹوں کی گردنیں دن کی روشنی سے زیادہ روشن ہوجائیں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40098
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40098، ترقيم محمد عوامة 38470)
حدیث نمبر: 40099
٤٠٠٩٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حميد عن أنس أن عبد اللَّه بن سلام سأل النبي ﷺ: ما أول أشراط الساعة؟ فقال: "أخبرني جبريل آنفا أن نارا تحشرهم من قبل المشرق" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے فرمایا کہ عبداللہ بن سلام نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا قیامت کی نشانیوں میں سے پہلی نشانی کون سی ہے آپ نے فرمایا مجھے جبرئیل نے ابھی خبر دی بلا شبہ آگ ان کو جمع کرے گی مشرق کی جانب سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40099
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، وأخرجه البخاري (٣٣٢٩)، وأحمد ٣/ ١٠٨ (١٢٠٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40099، ترقيم محمد عوامة 38471)
حدیث نمبر: 40100
٤٠١٠٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن سعيد بن عبد العزيز عن مكحول قال: قال عمر: أيها الناس! هاجروا قبل الحبشة، تخرج من أودية بني علي نار (١) تقبل من قبل اليمن تحشر الناس، تسير إذا ساروا، وتقيم إذا (ناموا) (٢)، حتى إنها لتحشر ⦗٢٦٢⦘ (الجعلان) (٣) حتى تنتهي بهم إلى (بصرى) (٤)، وحتى أن الرجل ليقع فيقف حتى تأخذ (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا اے لوگو ! حبشہ کی طرف ہجرت کرو بنی علی رضی اللہ عنہ کی وادیوں سے آگ نکلے گی جو یمن کی جانب سے آئے گی لوگوں کو اکٹھا کرے گی چلے گی جب وہ لوگ چلیں گے…اور ٹھہر جائے گی جب وہ سو جائیں گے یہاں تک کہ وہ نگرانوں کو جمع کرے گی اور ان کو بصری تک پہنچا دے گی اور ایک آدمی گرپڑے تو وہ ٹھہر جائے گی یہاں تک کہ اسے پکڑے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40100
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40100، ترقيم محمد عوامة 38472)
حدیث نمبر: 40101
٤٠١٠١ - حدثنا أبو خالد عن جويبر عن الضحاك قوله: ﴿يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ﴾ [الرحمن: ٣٥] قال: نار تخرج من قبل المغرب تحشر الناس حتى إنها لتحشر القردة والخنازير، تبيت حيث باتوا، وتقيل حيث قالوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک سے منقول ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے قول : (یُرْسَلُ عَلَیْکُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ ونحاس) (تم پر آگ کا شعلہ اور تانبے کے رنگ کا دھواں چھوڑے گا) کے بارے میں فرمایا (اس سے مراد یہ ہے) کہ آگ ہوگی جو مغرب کی جانب سے نکلے گی لوگوں کو اکٹھا کرے گی یہاں تک کہ بندروں اور خنزیروں کو بھی جمع کرے گی رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں گے اور دوپہر کو وہاں رہے گی جہاں وہ رہیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40101
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40101، ترقيم محمد عوامة 38473)
حدیث نمبر: 40102
٤٠١٠٢ - حدثنا معاوية بن عمرو عن زائدة عن الأعمش عن عمرو عن عبد اللَّه ابن الحارث عن حبيب بن (حماز) (١) عن أبي ذر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ليت شعري متى تخرج نار من قبل الوراق تضيء لها أعناق الإبل (ببصرى) (٢) بروكا كضوء النهار" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کاش مجھے معلوم ہوجاتا جبل وراق کی جانب سے کب آگ نکلے گی جس سے بصری میں بیٹھے اونٹوں کی گردنیں روشن ہوجائیں گی دن کی روشنی کی طرح۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40102
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ حبيب صدوق، أخرجه أحمد (٢١٢٨٩)، وابن حبان (٦٨٤١)، والحاكم ٤/ ٤٤٢، والبزار (٤٣٠)، وابن شبه في تاريخ المدينة ١/ ٢٨٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40102، ترقيم محمد عوامة 38474)
حدیث نمبر: 40103
٤٠١٠٣ - حدثنا أبو عامر العقدي عن علي بن المبارك عن يحيى قال: حدثني أبو قلابة قال: حدثني سالم بن عبد اللَّه قال: حدثني عبد اللَّه بن (عمر) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ستخرج نار قبل يوم القيامة من بكر حضرموت تحشر الناس"، قالوا: يا رسول اللَّه! فما تأمرنا؟ قال: "عليكم بالشام" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عنقریب قیامت سے پہلے آگ نکلے گی حضر موت سمندر سے، صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا تم پر لازم ہے شام۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40103
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٥١٤٦)، والترمذي (٢٢١٧)، وابن حبان (٧٣٠٥)، وأبو يعلى (٥٥٥١)، والبغوي (٤٠٠٧)، ويعقوب في المعرفة ٢/ ٣٠٣، وأبو نعيم في أخبار أصبهان ٢/ ٥٧، وابن طهمان في مشيخته (٢٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40103، ترقيم محمد عوامة 38475)
حدیث نمبر: 40104
٤٠١٠٤ - حدثنا أبو معاوية عن (الأعمش) (١) عن حبيب عن (هزيل) (٢) بن شرحبيل قال: خطبهم معاوية فقال: يا أيها الناس إنكم جئتم فبايعتموني طائعين، ولو بايعتم عبدًا حبشيا (مجدعًا لجئت) (٣) حتى أبايعه معكم، فلما نزل عن المنبر قال له (عمرو) (٤) بن العاص: تدري أي شيء (جئت) (٥) به اليوم؟ زعمت أن الناس بايعوك طائعين، ولو بايعوا عبدا حبشيا (مجدعا) (٦) لجئت (٧) حتى تبايعه معهم، قال: فندم فعاد إلى المنبر فقال: أيها الناس! وهل كان أحد أحق بهذا الأمر مني؟ وهل هو أحد أحق بهذا الأمر مني؟ قال: وابن عمر جالس، قال: فقال ابن عمر: هممت أن أقول: أحق بهذا الأمر منك من ضربَك وأباك عن الإسلام؟ ثم خفت (أن تكون) (٨) كلمتي فسادا؛ وذكرت ما أعد اللَّه في الجنان، فهون علي ما أقول (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہذیل بن شرحبیل سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت معاویہ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو ! بلاشبہ تم آئے ہو تم نے میری بیعت خوشی سے کی ہے اور اگر تم کان کٹے ہوئے حبشی غلام کی بیعت کرتے تو میں آتا اور تمہارے ساتھ اس کی بیعت کرتا جب منبر سے نیچے اتر آئے ان سے حضرت عمرو بن عاص نے فرمایا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے آج کیا کام کیا ہے آپ نے کہا ہے کہ تم نے خوشی سے میری بیعت کی ہے۔ پس اگر وہ حبشی غلام کی بیعت کرتے تو وہ آجائے گا اور آپ کو اس کی بیعت کرنی پڑے گی۔ وہ نادم ہوئے اور منبر کی جانب لوٹے اور ارشاد فرمایا اے لوگو کیا اس امر (خلافت) کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے اور کیا کوئی اس کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے راوی نے فرمایا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما وہاں تشریف فرما تھے راوی نے بتلایا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میں نے یہ ارادہ کیا کہ یوں کہوں اس امر کا آپ سے زیادہ حقدار وہ ہے جس نے آپ کو اور آپ کے والد کو اسلام پر مارا پھر مجھے خوف ہوا کہ میری یہ بات فساد ہوگی اور میں نے جنت میں جو اللہ نے تیار کر رکھا ہے اسے یاد کیا تو جو میں کہنا چاہتا تھا (اس سے رکنا) مجھ پر آسان ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40104
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40104، ترقيم محمد عوامة 38476)
حدیث نمبر: 40105
٤٠١٠٥ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام عن أبيه قال: كان قيس بن سعد ابن عبادة مع علي على (مقدمته) (١) ومعه خمسة آلاف قد حلقوا رؤوسهم بعد ما مات علي، فلما دخل الحسن في بيعة معاوية أبى قيسٌ أن يدخل، فقال لأصحابه: ⦗٢٦٤⦘ ما شئتم؟ إن شئتم جالدت بكم أبدا حتى يموت الأعجل، وإن شئتم أخذت لكم (أمانا) (٢)، فقالوا: خذ لنا (أمانا) (٣)، فأخذ لهم أن لهم كذا وكذا، وأن لا (يعاقبوا) (٤) (بشيء) (٥)، وأني رجل منهم، ولم يأخذ لنفسه خاصة شيئًا، فلما ارتحل نحو المدينة ومضى بأصحابه جعل ينحر لهم كل يوم جزورا حتى بلغ (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ سے روایت ہے فرمایا کہ قیس بن سعد بن عبادہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے مقدمۃ الجیش پر امیر تھے اور ان کے ساتھ پانچ معزز افراد تھے انہوں نے حلقہ بنایا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی حضرت قیس نے بیعت میں داخل ہونے سے انکار کیا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا کیا چاہتے ہو اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ مل کر ہمیشہ لڑائی کرتا رہوں ۔ یہاں تک کہ زیادہ جلدی کرنے والا مرجائے اور اگر تم چاہوں تو تمہارے لیے امان لے لوں انہوں نے کہا ہمارے لیے (امان) لے لیں انہوں نے ان کے لیے (عہد) لیا کہ ان کے لیے یہ یہ ہوگا اور ان کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی اور میں ان میں سے ایک آدمی بنوں اور اپنے لیے کوئی خاص عہد نہ لیا جب انہوں نے مدینہ کی طرف کوچ کیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر چلے تو ان کے لیے ہر دن ایک اونٹ ذبح کرتے تھے یہاں تک کہ (مدینہ) پہنچ گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40105
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن عساكر ٤٩/ ٤٢٩، وابن عبد البر في الاستيعاب ٣/ ١٢٩١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40105، ترقيم محمد عوامة 38477)
حدیث نمبر: 40106
٤٠١٠٦ - حدثنا ابن علية عن حبيب بن شهيد عن محمد بن سيرين قال: كان ابن عمر يقول: (رحم) (١) اللَّه ابن الزبير أراد دنانير الشام، رحم اللَّه مروان أراد دراهم العراق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے ارشادفرمایا کہ اللہ تعالیٰ رحم کرے ابن زبیر پر انہوں نے شام کے دنانیر کا ارادہ کیا اور اللہ رحم فرمائے مروان پر انہوں نے عراق کے دراہم کا ارادہ کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40106
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40106، ترقيم محمد عوامة 38478)
حدیث نمبر: 40107
٤٠١٠٧ - حدثنا يحيى بن آدم عن فطر قال: حدثنا منذر الثوري عن محمد بن علي بن الحنفية قال: اتقوا (١) هذه الفتن فإنها لا يستشرف لها أحد إلا استبقته، (ألا) (٢) إن هؤلاء القوم لهم (أجل) (٣) ومدة، لو اجتمع من في الأرض أن يزيلوا ملكهم لم يقدروا على ذلك، حتى يكون اللَّه (هو) (٤) الذي يأذن فيه أتستطيعون أن تزيلوا هذه الجبال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہابن الحنفیہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا…فتنوں سے بچو بلاشبہ ان کی طرف کوئی بھی نظر نہیں اٹھاتا مگر یہ کہ وہ فتنہ اس پر سبقت لے جاتا ہے آگاہ و خبردار ہو ان لوگوں کے لیے موت اور مقررہ مدت ہے۔ اگر جو لوگ زمین میں ہیں وہ جمع ہوجائیں اس بات پر کہ ان کے ملک کو ختم کردیں تو وہ اس پر قادر نہیں ہوں گے یہاں تک اللہ تعالیٰ اس کی اجازت دے کیا تم طاقت رکھتے ہو اس بات کی کہ ان پہاڑوں کو ہٹا دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40107
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40107، ترقيم محمد عوامة 38479)
حدیث نمبر: 40108
٤٠١٠٨ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع عن ابن عمر قال: لما (بويع) (١) لعلي أتاني فقال: إنك امرؤ محبب في أهل الشام، فإني قد استعملتك عليهم فسر إليهم، قال: فذكرت القرابة وذكرت الصهر، فقلت: أما بعد، فواللَّه (لا) (٢) أبايعك، قال: فتركني وخرج، فلما كان بعد ذلك جاء ابن عمر إلي (أم) (٣) كلثوم فسلم عليها وتوجه إلى مكة فأتى علي، فقيل له: إن ابن عمر قد توجه إلى الشام فاستنفر الناس، قال: فإن كان الرجل ليعجل حتى يلقي رداءه في عنق بعيره، قال: و (أُتيتْ) (٤) أم كلثوم فأُخبرتْ، (فأرسل) (٥) إلى أبيها: ما الذي تصنع؟ قد جاءني الرجل وسلم علي وتوجه إلى مكة فتراجع الناس (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی تو وہ میرے پاس آئے اور ارشاد فرمایا آپ ایسے آدمی ہو جو اہل شام کے ہاں محبوب ہو میں نے تمہیں ان پر عامل مقرر کیا ہے تم ان کے پاس جاؤ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میں نے قرابت اور سسرالی رشتے کو یاد کیا اور میں نے کہا حمدو صلاۃ کے بعد اللہ کی قسم میں آپ کی بیعت نہیں کروں گا انہوں نے (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے) فرمایا انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور نکل گئے اس کے بعد جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت ام کلثوم کے پاس آئے ان کو سلام کیا اور مکہ کی طرف متوجہ ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو ان سے کہا گیا بلاشبہ ابن عمر رضی اللہ عنہما شام کی طرف متوجہ ہوئے ہیں اور لوگوں کو لڑائی کے لیے جمع کررہے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر یہ آدمی جلدی کرے یہاں تک کہ اپنی چادر اپنے اونٹ کی گردن میں ڈال دے راوی نے فرمایا حضرت ام کلثوم کے پاس کوئی آیا اور ان کو خبر دی گئی انہوں نے اپنے والد کو پیغام بھیجا آپ کیا کررہے ہیں وہ آدمی میرے پاس آیا مجھے سلام کیا اور مکہ کی طرف چلا گیا پس لوگ واپس ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40108
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40108، ترقيم محمد عوامة 38480)
حدیث نمبر: 40109
٤٠١٠٩ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام عن أبيه قال: دخلت أنا وعبد اللَّه ابن الزبير على أسماء قبل قتل عبد اللَّه بن الزبير بعشر ليال وأسماء (وجعة) (١)، فقال لها عبد اللَّه: كيف تجدينك؟ قالت: وجعة، قال: إن في الموت (لعافية) (٢)، قالت: لعلك تشتهي موتي، فلذلك تمناه، فواللَّه ما أشتهي أن تموت حتى نأتي على أحد (طرفيك) (٣) إما أن تُقتل فأحتسبك وإما أن تَظهر فتقر عيني، فإياك أن تُعرض عليك خطبة لا توافقك، فتقبلها كراهة الموت، وإنما عنى ابن الزبير ليقتل فيحزنها بذلك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ حضرت عروہ سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا میں اور عبداللہ بن زبیر شہادت سے دس راتیں پہلے حضرت اسمائ کے پاس آئے حضرت اسماء بیمار تھیں حضرت عبداللہ نے ان سے کہا آپ کیسے پاتی ہیں انہوں نے فرمایا بیمار ہوں حضرت عبداللہ نے ان سے کہا آپ کیسے پاتی ہیں انہوں نے فرمایا بیمار ہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا موت میں عافیت ہے حضرت اسماء نے فرمایا شاید تم میری موت کو چاہتے ہو کہ اسی کی تمنا کر رہے ہو اللہ کی قسم میں…چاہتی تھی کہ تمہیں موت آئے یہاں تک کہ کہ دو باتوں میں سے ایک پر تم آؤ…تمہیں قتل کردیا جائے تو میں تمہاری وجہ سے ثواب کی امید رکھوں یا تو غالب آجائے تو میری آنکھ ٹھنڈی ہوجائے اس بات سے بچنا کہ تم پر ایسا خطہ پیش کیا جائے جو تمہارے موافق نہ ہو اور تم اسے موت کی کراہت و ناپسندیدگی کی وجہ سے قبول کرلو حضرت عبداللہ کی مراد یہ تھی کہ انہیں قتل کردیا جائے گا اور یہ بات حضرت اسمائ کو غمگین کرے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40109
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري في الأدب المفرد (٥١٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40109، ترقيم محمد عوامة 38481)
حدیث نمبر: 40110
٤٠١١٠ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن ابن أبي مليكة قال: أتيت أسماء بعد قتل عبد اللَّه بن الزبير (فقالت) (١): بلغني أنهم صلبوا عبد اللَّه منكسا، وعلقوا معه هرة، واللَّه إني لوددت أني لا أموت حتى يدفع إليَّ فأغسله وأحنطه وأكفنه ثم أدفنه، فما لبثوا أن جاء كتاب عبد الملك أن يدفع إلى أهله، (فأتيت) (٢) به أسماء فغسلته وحنطته وكفنته ثم دفنته (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ سے رو ایت ہے انہوں نے فرمایا میں حضرت اسمائ کے پاس آیا حضرت عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے بعد حضرت اسمائ نے فرمایا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ کو اوندھے منہ کرکے پھانسی دی ہے اور ان کے ساتھ بلی کو لٹکایا ہے اللہ کی قسم میں یہ چاہتی ہوں کہ مجھے موت نہ آئے یہاں تک وہ مجھے عبداللہ کو دے دیں میں اسے غسل دوں گی اور اسے خوشبو لگاؤں گی اور اسے کفناؤں گی پھر اسے دفن کروں گی تھوڑی ہی دیر کے بعد عبدالملک کا خط آگیا کہ انہیں ان کے گھر والوں کے سپرد کردیا جائے پھر حضرت اسماء نے ان کو غسل دیا اور ان کو خوشبو لگائی اور ان کو کفن دیا پھر ان کو دفنا دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40110
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ٢/ ٥٦، وابن الجوزي في المنتظم ٦/ ١٣٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40110، ترقيم محمد عوامة 38482)
حدیث نمبر: 40111
٤٠١١١ - حدثنا ابن عيينة عن منصور بن صفية عن أمه قالت: دخل ابن عمر المسجد وابن الزبير مصلوب، فقالوا له: هذه أسماء، فأتاها وذكرها ووعظها وقال: إن الجثة ليست بشيء، وإن الأرواح عند اللَّه فاصبري واحتسبي، فقالت: وما يمنعني من الصبر وقد أُهدي رأس يحيى بن زكريا إلى بغي من بغايا بني إسرائيل؟ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفیہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مسجد میں داخل ہوئے اور حضرت عبداللہ بن زبیر کو سولی دے دی گئی تھی انہوں نے کہا یہ اسمائ ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے اور ان کو نصیحت کی اور ان سے اصلاح کی بات کی اور فرمایا جسم کوئی چیز نہیں اور روحیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں پس صبر کرو اور ثواب کی نیت کرو حضرت اسماء نے فرمایا اور مجھے صبر سے کونسی چیز روکے گی حالانکہ حضرت یحییٰ بن زکریا کا سر بنی اسرائیل کی زانیہ عورتوں میں سے ایک زانیہ کو دیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40111
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الفاكهي في أخبار مكة ٢/ ٣٧٦ (١٦٧٧)، وابن عساكر ٦٩/ ٢٦، وابن حزم في المحلى ١/ ٢٢، والفصل ٤/ ٥٧، وابن الجوزي في المنتظم ٦/ ١٤٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40111، ترقيم محمد عوامة 38483)
حدیث نمبر: 40112
٤٠١١٢ - حدثنا خلف بن خليفة عن أبيه قال: (أُخبرت) (١) أن الحجاج (حين) (٢) قتل ابن الزبير جاء به إلى منى فصلبه عند الثنية في بطن الوادي، ثم قال للناس: انظروا إلى هذا، هذا شر الأمة، فقال: إني رأيت ابن عمر جاء على بغلة له فذهب ليدنيها من الجذع فجعلت تنفر، فقال لمولى له: ويحك! خذ بلجامها فأدنها ⦗٢٦٧⦘ (قال) (٣): فرأيته أدناها فوقف عبد اللَّه بن عمر وهو يقول: (رحمك) (٤) اللَّه، إن كانت لصوامًا قوامًا، ولقد أفلحت أمة أنت شرها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خلف بن خلیفہ اپنے والد حضرت خلیفہ سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا مجھے یہ خبر دی گئی کہ حجاج نے جب حضرت عبداللہ بن زبیر کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو ان کو منیٰ کی طرف لے گیا اور ان کو بطن وادی میں گھاٹی کے پاس پھانسی دی پھر اس نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا وہ اپنے خچر پر تشریف لائے وہ اسے قریب کر رہے تھے تنے کے اور وہ بدک رہی تھی انہوں نے اپنے غلام سے فرمایا تیرے لیے ہلاکت ہو اس کی لگام پکڑ اور اسے قریب کر راوی فرماتے ہیں اس نے اس خچر کو قریب کیا حضرت عبداللہ بن عمر ٹھہرے اور یہ فرما رہے تھے اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے تم روزہ رکھنے والے اور قیام کرنے والے تھے وہ امت فلاح پا گئی جس کے تم شرو برائی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40112
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40112، ترقيم محمد عوامة 38484)
حدیث نمبر: 40113
٤٠١١٣ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن (شمر) (١) عن (هلال) (٢) بن يساف قال: حدثني البريد الذي جاء برأس المختار إلى عبد اللَّه بن الزبير قال: لما وضعته بين يديه قال: ما حدثني كعب بحديث إلا رأيت مصداقه غير هذا، فإنه حدثني (أنه) (٣) يقتلني رجل من ثقيف، أراني أنا الذي قتلته (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہلال بن یساف سے روایت ہے انہوں نے فرمایا مجھ سے حضرت برید نے بیان کیا جو مختار کا سر حضرت عبد اللہ بن زبیر کے پاس لے کر آئے تھے انہوں نے فرمایا جب میں نے اس کا سر حضرت ابن زبیر کے سامنے رکھا تو انہوں نے فرمایا مجھ سے کعب نے کوئی بھی بات نقل نہیں کی مگر میں نے اس کا مصداق دیکھ لیا سوائے اس کے کیونکہ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ثقیف کا ایک آدمی مجھے قتل کرے گا میں اپنے آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ میں نے اسے قتل کردیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40113
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40113، ترقيم محمد عوامة 38485)
حدیث نمبر: 40114
٤٠١١٤ - حدثنا (ابن فضيل) (١) عن سالم بن (أبي) (٢) حفصة عن منذر قال: كانت عند ابن الحنفية فرأيته (يتقلب) (٣) على فراشه (وينفخ) (٤)، فقالت له (امرأته) (٥): ما (يكربك) (٦) من أمر عدوك هذا ابن الزبير؟ فقال: (واللَّه) (٧) ⦗٢٦٨⦘ (ما بي) (٨) عدو اللَّه، هذا ابن الزبير، ولكن بي ما يفعل في حرمه (غدا) (٩)، (قال) (١٠): ثم رفع يديه إلى السماء ثم قال: اللهم أنت تعلم أني كنت أعلم (مما علمتني) (١١) أنه (يخرج) (١٢) (منها) (١٣) (قتيلا) (١٤) يطاف برأسه في الأمصار (أو) (١٥) في الأسواق (١٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منذر سے روایت ہے میں محمد بن حنفیہ کے پاس تھا میں نے ان کو دیکھا کہ اپنے بستر پر کروٹیں بدل رہے تھے اور پھونکیں مار رہے تھے ان سے ان کی اہلیہ نے کہا کیا چیز آپ کو بےچین کر رہی ہے آپ کے دشمن ابن زبیر کے امر سے تو انہوں نے کہا مجھے اللہ کے دشمن ابن زبیر کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں بلکہ مجھے پریشانی اس بات کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے حرم میں کل کو کی جائے گی راوی فرماتے ہیں پھر انہوں نے اپنے ہاتھ اٹھائے آسمان کی طرف اور فرمایا اے اللہ آپ جانتے ہیں کہ جو آپ نے مجھے سکھایا بلا شبہ وہ (مراد بن زبرن تھے) حرم سے قتل کیا ہوا نکالا جائے گا اس کے سر کو شہروں میں فرمایا یا بازاروں میں فرمایا چکر لگوایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40114
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40114، ترقيم محمد عوامة 38486)
حدیث نمبر: 40115
٤٠١١٥ - حدثنا محمد (بن كناسة) (١) عن إسحاق بن سعيد عن أبيه قال: أتى عبد اللَّه بن عمر (٢) عبد اللَّه بن الزبير فقال: يا ابن الزبير! إياك والإلحأأاد (٣) في (حرم اللَّه) (٤)؟ فإني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إنه سيلحد فيه رجل من قريش لو أن ذنوبه توزن بذنوب الثقلين لرجحت عليه"، فانظر (أن) (٥) ⦗٢٦٩⦘ لا تكونه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر حضرت عبداللہ بن زبیر کے پاس آئے اور فرمایا اے ابن زبیر حرم میں الحاد کرنے سے بچو بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب حرم میں قریش میں سے ایک آدمی الحاد پھیلائے گا اگر اس کے گناہ جنوں اور انسانوں کے گناہوں کے ساتھ تو لے جائیں تو ان سے زیادہ ہوجائیں پس تم دیکھو وہ آدمی نہ ہوجانا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40115
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40115، ترقيم محمد عوامة 38487)
حدیث نمبر: 40116
٤٠١١٦ - حدثنا محمد بن كناسة عن إسحاق عن أبيه قال: أتى مصعب بن الزبير عبد اللَّه بن (عمر) (١) وهو يطوف بين الصفا والمروة فقال: من أنت؟ قال: ابن أخيك مصعب بن الزبير، قال: صاحب العراق؟ قال: نعم، قال: جئت لأسألك عن قوم خلعوا الطاعة وسفكوا الدماء (وجمعوا) (٢) الأموال فقوتلوا (فغلبوا) (٣) فدخلوا قصرا (فتحصنوا) (٤) فيه، ثم سألوا الأمان فأعطوه ثم قتلوا، قال: وكم العدة؟ قال: خمسة آلاف، قال: فسبح ابن عمر عند ذلك، وقال: عمرك اللَّه! يا ابن الزبير لو أن رجلا أتى (ماشية) (٥) الزبير فذبح منها في غداة خمسة آلاف أكنت تراه مسرفا؟ قال: نعم، قال: فتراه إسرافا في بهائم لا تدري ما اللَّه، وتستحله ممن هلل اللَّه يوما واحدا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
اسحاق اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ حضرت مصعب بن زبیر حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس آئے جبکہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کر رہے تھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا تم کون ہو انہوں نے بتلایا آپ کا بھتیجا مصعب بن زبیر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا عراق والے انہوں نے فرمایا جی ہاں مصعب بن زبیر نے فرمایا میں آپ کے پاس ایسے لوگوں کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں جو اطاعت سے نکل چکے ہیں اور خون بہا چکے ہیں اور مالوں کو واجب کرچکے ہیں ان سے لڑائی کی گئی اور ان پر غلبہ پا لیا گیا وہ ایک محل میں داخل ہوئے اس میں محصور ہوگئے پھر انہوں نے امان طلب کی ان کو امن دے دیا گیا پھر قتل کردیا گیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا ان کی تعداد کتنی تھی انہوں نے بتلایا پانچ ہزار راوی نے فرمایا اس وقت حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سبحان اللہ کہا اور فرمایا اے ابن زبیر اللہ تجھے عمر عطا فرمائے اگر کوئی آدمی زبیر کے مویشیوں میں آئے اور ان میں سے ایک صبح میں پانچ ہزار کو ذبح کردے کیا آپ اسے حد سے بڑھنے والا سمجھتے ہو حضرت مصعب نے جواب میں کہا جی ہاں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تم ان چوپاؤں میں زیادتی سمجھتے ہو جو اللہ کو نہیں جانتے اور ان کے خون کو حلال سمجھتے ہو ایک ہی دن میں جو اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں کلمہ پڑھتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40116
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40116، ترقيم محمد عوامة 38488)
حدیث نمبر: 40117
٤٠١١٧ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين قال: ما رأيت رجلا هو (أسب) (١) منه -يعني ابن الزبير (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابو حصین سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں نے کوئی آدمی عبداللہ بن زبیر سے بڑھ کر برا بھلا کہنے والا نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40117
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40117، ترقيم محمد عوامة 38489)
حدیث نمبر: 40118
٤٠١١٨ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام عن أبيه (أن) (١) أهل الشام كانوا يقاتلون ابن الزبير ويصيحون به: يا ابن ذات النطاقين (فقال) (٢) ابن الزبير: تلك (شكاة) (٣) ظاهر عنك عارها قالت أسماء: عيروك به قال: نعم قالت: فهو واللَّه (أحق) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ سے روایت ہے کہ شام والے حضرت ابن زبیر سے لڑائی کرتے تھے اور چیخ چیخ کر ان کو کہتے تھے اے ذات النطا قین کے بیٹے حضرت ابن زبیر یہ پڑھتے یہ عیب ہے جس کی عار تم پر واضح ہے حضرت اسمائ نے فرمایا کیا وہ تمہیں اس سے عار دلاتے ہیں حضرت ابن زبیر نے فرمایا جی ہاں انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم وہ حق ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40118
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٣٨٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40118، ترقيم محمد عوامة 38490)
حدیث نمبر: 40119
٤٠١١٩ - حدثنا جعفر بن عون عن هشام بن عروة أن ابن الزبير كان (يشد) (١) عليهم حتى يخرجهم (من) (٢) الأبواب ويقول: لو كان (قرني) (٣) واحدًا كفيته لسنا على الأعقاب تدمي كلومنا … ولكن على أقدامنا تقطر الدما (٤)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن زبیر ان پر حملہ کرتے تھے یہاں تک کہ ان کو دروازوں سے نکال دیتے تھے اور کہتے تھے اگر میرا مقابل اکیلا ہو تو میں اس کے لیے کافی ہوں اور شعر بھی پڑھتے۔ وَلَسْنَا عَلَی الأَعْقَابِ تَدْمَی کُلُومُنَا ۔۔۔ وَلَکِنْ عَلَی أَقْدَامِنَا تَقْطُرُ الدِّمَا۔ ہماری ایڑیوں پر ہمارے زخموں کے خون نہیں گرتے بلکہ ہمارے قدموں پر خون کے قطرات گرتے ہیں (مرادیہ ہے کہ ہم دشمن کا سامنا کرتے ہوئے لڑتے ہیں پشت پھیر کر نہیں بھاگتے)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40119
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه يحيى بن معين في تاريخه رواية الدوري ٣/ ٢٩ (١٢٥)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٣٣٣، والفاكهي (١٦٥٧)، وابن عساكر ٢٨/ ٢٢٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40119، ترقيم محمد عوامة 38491)
حدیث نمبر: 40120
٤٠١٢٠ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة قال: حدثنا أبو حصين الأسدي عن عامر عن ثابت بن قطبة عن عبد اللَّه قال: الزموا هذه الطاعة والجماعة، فإنه حبل اللَّه الذي أمر به، وأن ما (تكرهون) (١) في الجماعة خير مما تحبون في الفرقة، إن اللَّه ⦗٢٧١⦘ لم يخلق شيئا (قط) (٢) إلا جعل له منتهى، كان هذا الدين (قد تم) (٣)، وإنه صائر إلى نقصان، وإن إمارة ذلك أن تنقطع الأرحام، ويؤخذ المال بغير حقه، (وتسفك) (٤) الدماء و (يشتكي) (٥) ذو القرابة قرابته لا (يعود) (٦) عليه بشيء، ويطوف السائل بين (جمعتين) (٧) لا يوضع في يده شيء، (فبينما هم) (٨) كذلك (إذ) (٩) خارت الأرض خوار البقرة يحسب كل أناس أنها خارت من قبلهم، (فبينا) (١٠) الناس (كذلك) (١١) إذ قذفت الأرض بأفلاذ كبدها من الذهب (و) (١٢) الفضة، لا ينفع بعد شيء منه ذهب ولا فضة (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے فرمایا کہ اس اطاعت اور جماعت کو لازم پکڑو بلاشبہ یہ اللہ کی وہ رسی ہے جس کے تھامنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور بلاشبہ جو چیزیں تمہیں جماعت میں ناپسندیدہ ہیں وہ ان سے بہتر ہیں جو تمہیں جدائی میں پسند ہیں اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی چیز پیدا نہیں کی مگر اس کی انتہا مقرر کی ہے یہ دین یقینا کا مل ہوچکا اور اب نقصان کی طرف جانے والا ہے اور اس نقصان کی علامت یہ ہے کہ رشتے داریاں ختم ہوجائیں گی ناحق مال لیا جائے گا خون بہائے جائیں گے قرابت والا اپنے قریبی رشتے داروں کی شکایت کرے گا کہ وہ اسے کچھ نہیں دیتے مانگنے والا دو جمعے چکر لگائے گا اس کے ہاتھ پر کچھ بھی نہیں رکھا جائے گا لوگ اسی حالت پر ہوں گے یکایک زمین گائے کی طرح آواز نکالے گی سارے لوگ یہ خیال کریں گے کہ یہ ہماری جانب میں آواز نکال رہی ہے لوگ اسی حالت پر ہوں گے اچانک زمین اپنے جگر کے ٹکڑے یعنی سونا اور چاندی نکالے گی اس کے بعد اس سونا چاندی سے کوئی نفع نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40120
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ ثابت بن قطبة ثقة، كما قال ابن سعد وابن حبان وروى عنه جمع، والخبر أخرجه ابن أبي حاتم في التفسير (٣٩١٦)، والحاكم ٤/ ٥٩٨ (٨٦٦٣)، والطبراني (٨٩٧١)، وابن عبد البر في التمهيد ٢١/ ٢٧٤، واللالكائي (١٥٩)، والآجري في الشريعة (١٧)، وأبو القاسم التيمي في الحجة ١/ ٢٦٢، وأبو عبيد في غريب الحديث ٤/ ٣٩٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40120، ترقيم محمد عوامة 38492)
حدیث نمبر: 40121
٤٠١٢١ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن أبي حصين عن يحيى عن مسروق قال: أشرف عبد اللَّه على (داره) (١) فقال: أعظم بها ⦗٢٧٢⦘ (خربة) (٢)، (ليحيطُن) (٣) فقيل: من؟ (فقال) (٤): (أناس) (٥) يأتون من هاهنا، وأشار أبو حصين بيده نحو المغرب (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت عبداللہ نے اپنے گھر کی طرف جھانکا اور فرمایا اس میں بڑی ویرانی ہوگی وہ لوگ اس کا احاطہ کریں گے آئیں گے۔ ان سے پوچھا گیا وہ کون لوگ ہوں گے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ ادھر ادھر سے آئیں گے۔ ابو حصین نے روایت بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سے مغرب کی طرف اشارہ کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40121
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه نعيم في الفتن (٧٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40121، ترقيم محمد عوامة 38493)
حدیث نمبر: 40122
٤٠١٢٢ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة قال: حدثنا أبو إسحاق عن أرقم بن يعقوب قال: سمعت عبد اللَّه يقول: كيف أنتم إذا خرجتم من أرضكم (هذه) (١) إلى جريرة العرب (ومنابت) (٢) الشيح؟ قلت: من يخرجنا (من أرضنا) (٣) قال: عدو اللَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ارقم بن یعقوب سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے حضرت عبداللہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہاری کیا حالت ہوگی جب تم اپنی اس زمین سے جزیرۃ العرب اور گھاس اگنے کی جگہوں کی طرف نکل جاؤ گے میں نے عرض کیا ہماری زمین سے ہمیں کون نکالے گا انہوں نے فرمایا اللہ کا دشمن۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40122
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40122، ترقيم محمد عوامة 38494)
حدیث نمبر: 40123
٤٠١٢٣ - حدثنا وكيع (١) عن محمد بن قيس عن الشعبي قال: قال حذيفة: كأني (بهم) (٢) (مشرفي) (٣) آذان خيلهم رابطيبها بحافتي (الفرات) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا گویا کہ میں ان کو دیکھ رہا ہوں کہ ان کے گھوڑوں کے کان کھڑے ہوں گے اور ان کے راہب وزاہد فرات کے دونوں کناروں پر ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40123
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40123، ترقيم محمد عوامة 38495)
حدیث نمبر: 40124
٤٠١٢٤ - حدثنا وكيع وأبو معاوية عن الأعمش عن أبي ظبيان عن حذيفة ⦗٢٧٣⦘ قال: ما تلاعن قوم قط إلا حق عليهم القول (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ کبھی بھی کسی قوم نے آپس میں لعن طعن اختیار نہیں کی مگر عذاب کی بات ان پر ثابت ہوگئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40124
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (١٩٥٣٥)، والبخاري في الأدب المفرد (٣١٨)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٧٩، وهناد في الزهد (١٣١٧)، والبيهقي في شعب الإيمان (٥١٥٩)، ونعيم في الفتن (١٨٧٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40124، ترقيم محمد عوامة 38496)
حدیث نمبر: 40125
٤٠١٢٥ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا يزيد بن عبد العزيز عن الأعمش عن إبراهيم عن همام بن الحارث عن حذيفة قال: ما أبالي على كف (من) (١) ضُربت بعد عمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا کہ حضرت عمر کے بعد مجھے اس بات کی پروا نہیں کہ کس کس کی بیعت کروں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40125
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40125، ترقيم محمد عوامة 38497)
حدیث نمبر: 40126
٤٠١٢٦ - حدثنا محمد بن عبيد عن الأعمش عن (عمارة) (١) بن عمير عن أبي عمار قال: قال حذيفة: إن الفتنة لتعرض على القلوب، فأي قلب أشربها (نقط) (٢) (على قلبه نقط) (٣) (سود) (٤)، وأي قلب أنكرها نقط على (قلبه) (٥) نقطة بيضاء، فمن أحب منكم أن يعلم أصابته الفتنة أم لا؟ فلينظر فإن رأى حراما ما كان يراه حلالا، أو يرى حلالًا (ما كان) (٦) يراه حرامًا فقد أصابته (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا یقینا فتنہ دلوں پر آتا ہے جس دل میں اس کی محبت بیٹھ جائے تو اس دل پر سیاہ نقطہ لگا یا جاتا ہے اور جو دل اس فتنے کو ناپسند کرتا ہے اس پر سفید لگا دیا جاتا ہے جو آدمی تم میں سے چاہتا ہے کہ جانے اسے فتنہ پہنچتا ہے یا نہیں وہ غور کرے اگر جسے وہ حلال سمجھتا تھا اسے حرام سمجھنا شروع کردیا یا جسے حرام سمجھتا تھا اسے حلال سمجھنا شروع کردیا تو اسے فتنہ پہنچ چکا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40126
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٣٣٢٨) ٥/ ٣٨٦، والحاكم ٤/ ٤٦٨، والبزار (٢٨٤٤)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٧٠، وابن منده في الإيمان (٣٣٩)، والداني (٢٦)، وقد ورد الخبر مرفوعًا، أخرجه مسلم (١٤٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40126، ترقيم محمد عوامة 38498)
حدیث نمبر: 40127
٤٠١٢٧ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا قطبة عن الأعمش عن عمارة بن عمير عن قيس بن سكن عن حذيفة (قال) (١): يأتي على الناس زمان لو اعترضتهم في الجمعة (بنبل) (٢) ما أصابت إلا كافرا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اگر تو جمعہ میں ان کی طرف متوجہ ہو کر تیر مارے تو وہ تیر نہیں لگے گا سوائے کافروں کے (مراد یہ ہے کہ سارے کفر میں ہوں گے لیکن یہاں کفر سے وہ کفر مراد نہیں جو اسلام سے نکال دیتا ہے مراد یہ ہے کہ ہر ایک کفار جیسے اعمال میں مبتلا ہوگا)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40127
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ قطبة هو ابن عبد العزيز الأسدي، ثقة على الصحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40127، ترقيم محمد عوامة 38499)
حدیث نمبر: 40128
٤٠١٢٨ - حدثنا حفص عن الأعمش عن زيد قال: قال حذيفة: إن للفتنة وقفات وبعثات، فإن استطعت أن تموت في (وقفاتها) (١) (فافعل) (٢)، وقال: ما الخمر صرفا بأذهب (لعقول) (٣) الرجال من الفتن (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا فتنے میں اس کے رکنے اور بھڑکنے کے مواقع ہوتے ہیں اگر تم سے ہو سکے کہ تمہیں اس کے رکنے کے مواقع میں موت آئے تو ایسا کرلینا اور فرمایا کہ کوئی خالص شراب لوگوں کی عقلوں کو زیادہ اڑانے والی نہیں ہے فتنوں کی بہ نسبت۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40128
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٧٤، والحاكم ٤/ ٤٣٣، ونعيم بن حماد في الفتن (١٦٢)، والداني (١٨٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40128، ترقيم محمد عوامة 38500)
حدیث نمبر: 40129
٤٠١٢٩ - حدثنا وكيع ويزيد بن هارون (١) قالا: أخبرنا عمران بن (حدير) (٢) عن رفيع أبي (كثيرة) (٣) (قال) (٤): سمعت أبا الحسن عليا يقول: تمتلئ الأرض ظلما وجورا حتى يدخل كلَّ بيتٍ خوفٌ وحرب، يسألون درهمين و (جريبين) (٥) فلا يعطونه، فيكون (تقتال بتقتال) (٦) و (تسيار بتسيار) (٧) حتى يحيط اللَّه بهم في ⦗٢٧٥⦘ (مصره) (٨)، ثم تملأ الأرض عدلا وقسطا. - وقال وكيع: حتى يحيط اللَّه بهم في (قصره) (٩) (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رفیع ابی کثیرہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے ابو الحسن علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ زمین ظلم اور زیادتی سے بھر جائے گی یہاں تک کہ ہر گھر میں خوف اور لڑائی داخل ہوگی دو درہم اور دو جریب مانگیں گے انہیں نہیں دیا جائے گا (جریب ٨ قفیز کے برابر پیمانے کو کہتے ہیں) لڑائی کے مقابلے میں لڑائی ہوگی اور لشکر لشکروں کے مقابلے میں چلیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کا احاطہ کریں گے ان کے شہر میں پھر زمین عدل و انصاف سے بھر دی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40129
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40129، ترقيم محمد عوامة 38501)
حدیث نمبر: 40130
٤٠١٣٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا شعبة بن الحجاج عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: جلد خالد بن الوليد رجلًا حدًا، فلما كان من الغد جلد رجلا آخر حدا، فقال (رجل) (١): هذه واللَّه الفتنة، جلد أمس رجلًا في حد، وجلد اليوم رجلًا في حد، فقال خالد: ليست هذه بفتنة، إنما الفتنة أن (تكون) (٢) في أرض يعمل فيها بالمعاصي (فتريد) (٣) أن تخرج منها إلى أرض لا يعمل فيها بالمعاصي فلا تجدها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت خالد بن ولید نے ایک آدمی کو بطور حد کوڑے لگائے جب دوسرا دن ہوا دوسرے آدمی کو بطور حد کوڑے لگائے ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم یہ تو فتنہ ہے گزشتہ کل ایک آدمی کو حد میں کوڑے لگائے اور آج دوسرے آدمی کو حد میں کوڑے لگائے ہیں حضرت خالد بن ولید نے فرمایا یہ فتنہ نہیں ہے فتنہ تو یہ ہوتا ہے کہ ایک زمین پر بیشمار گناہ کیے جائں تو یہ چاہے کہ ایسی زمین کی طرف نکل جائے جہاں گناہ نہ کیے جاتے ہوں پس تو ایسی زمین نہ پائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40130
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40130، ترقيم محمد عوامة 38502)
حدیث نمبر: 40131
٤٠١٣١ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا أبو شهاب عن الحسن بن عمرو (الفقيمي) (١) عن منذر الثوري عن (سعد) (٢) بن حذيفة قال: لما (تحسر) (٣) الناس سعيد بن العاص كتبوا بينهم كتابا أن لا يستعمل عليهم إلا رجلا يرضونه لأنفسهم ودينهم، فبينما هم كذلك إذ قدم حذيفة من المدائن فأتوه بكتابهم فقالوا: يا أبا ⦗٢٧٦⦘ عبد اللَّه (صنعنا) (٤) بهذا الرجل ما قد بلغك، ثم كتبنا هذا الكتاب وأحببنا (٥) أن لا نقطع أمرا دونك، (فنظر) (٦) في كتابهم وضحك وقال: واللَّه ما أدري أي الأمرين أردتم؟ أردتم أن تتولوا سلطان قوم ليس لكم؟ (أردتم) (٧) أن تردوا هذه الفتنة حيث (اطلعت) (٨) خطامها (واستوت) (٩)، إنها (لمرسلة) (١٠) من اللَّه في الأرض ترتعي حتى تطأ على خطامها، لن (يستطيع) (١١) أحد من الناس لها (ردا) (١٢)، وليس أحد من الناس يقاتل فيها إلا قتل حتى (يبعث) (١٣) اللَّه (قزعا كقزع) (١٤) الخريف يكون (بهم بينهم) (١٥) (١٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا جب لوگوں نے حضرت سعید بن عاص کو معزول کرنے پر موافقت کرلی تو آپس میں انہوں نے ایک تحریر لکھی کہ ان پر عامل نہیں بنایا جائے گا مگر وہ آدمی جس پر وہ اپنے لیے اور اپنے دین کے لیے راضی ہوں گے وہ لوگ اسی حالت پر تھے اچانک حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن سے تشریف لائے اپنی تحریر لے کر ان کے پاس گئے اے ابو عبداللہ ہم نے اس آدمی کے ساتھ وہ معاملہ کیا ہے ہے جو آپ کو پہنچا ہے پھر ہم نے یہ تحریر لکھی ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ کے بغیر ہم کسی امر کا یقینی فیصلہ نہ کریں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کی تحریر کو دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں دونوں امروں میں سے کس کا تم نے ارادہ کیا ہے ایسے لوگوں کی ولایت کا ارادہ کیا ہے جو تمہارے فائدے کے لیے نہیں ہے یا تم نے ارادہ کیا ہے اس فتنے کو لوٹا نے کا اس مقام کی طرف جہاں یہ بےمہار ہوجائے گا اور مضبوط ہوجائے گا۔ بلاشبہ یہ فتنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین پر بھیجا جاتا ہے چرتا ہے یہاں تک اپنی لگام کو روندتا ہے کہ لوگوں میں سے کوئی بھی اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتا لوگوں میں سے کوئی بھی اس میں قتال نہیں کرتا مگر قتل کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بدلی بھیجتے ہیں موسم خزاں کے بادلوں کی طرح وہ قتال انہی کے درمیان ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40131
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سعد بن حذيفة صدوق، وأخرجه الحاكم ٤/ ٥٠٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40131، ترقيم محمد عوامة 38503)