کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 40052
٤٠٠٥٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن علي بن مدرك قال: سمعت أبا صالح قال: (قاعدنا) (١) رجل من أصحاب النبي ﷺ (٢) يوم الجرعة، قال: وكان عثمان ⦗٢٤٦⦘ ابن عفان قد بعث سعيد بن العاص على الكوفة، قال: فخرج أهل الكوفة فأدركوه، قال: فقال رجل من القوم: أنا على السنة، فقال: لستم على السنة حتى يشفق الراعي وتنصح الرعية (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح سے روایت ہے انہوں نے فرمایا جرعہ والے دن ہمارے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب ہمارے ساتھ بیٹھے راوی نے فرمایا حضرت عثمان بن عفان نے حضرت سعید بن عاص کو کوفہ پر امیر بنا کر بھیجا تھا (اور کوفہ والے ان کی امارت سے نکل چکے تھے) کوفہ والے نکلے اور ان صحابی کو پالیا انہوں نے فرمایا ان میں سے ایک نے (ان صحابی کے سامنے) کہا ہم سنت پر ہیں ان صحابی نے ارشاد فرمایا تم سنت پر نہیں ہو یہاں تک کہ امیرو نگران شفقت کریں اور رعایا خیر خواہی کرے۔
حدیث نمبر: 40053
٤٠٠٥٣ - حدثنا (أحمد) (١) بن إسحاق قال: حدثنا وهيب قال: حدثنا عبد اللَّه ابن طاوس عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: " (فتح اليوم) (٢) من ردم ياجوج وماجوج مثل هذه" -وعقد وهيب بيده تسعين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا آج یاجوج وماجوج کی دیوار سے اس کی مثل کھول دیا گیا ہے اور وہب راوی نے اپنے ہاتھ سے نوے کا عدد بنایا (ابن الا ثیر کے بیان کے مطابق ان کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ہاتھ کے انگوٹھے کے پاس والی انگلی کا سرا انگوٹھے کی جڑ میں لگا کر ملایا جائے یہاں تک کہ درمیانی فاصلہ تھوڑا رہ جائے۔
حدیث نمبر: 40054
٤٠٠٥٤ - حدثنا خالد بن مخلد قال: حدثنا علي بن صالح عن أبيه عن سعيد بن عمرو عن أبي حكيم مولى محمد بن أسامة عن النبي ﷺ قال: "كيف أنتم إذا لم يُجبَ لكم دينار ولا درهم؟ " قالوا: ومتى يكون ذلك؟ قال: "إذا نقضتم العهد شدد اللَّه قلوب العدو عليكم فامتنعوا منكم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حکیم جو آزاد کردہ ہیں محمد بن اسامہ کے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں آپ نے فرمایا تمہارا کیا حال ہوگا جب تمہارے لیے نہ دینار واجب کیا جائے گا اور نہ درہم صحابہ کرام l نے عرض کیا یہ کب ہوگا آپ نے ارشاد فرمایا جب تم عہد توڑو گے اللہ تمہارے دلوں کو تم پر سخت کردیں گے پس وہ تم سے روک لیں گے۔
حدیث نمبر: 40055
٤٠٠٥٥ - حدثنا إسحاق بن منصور عن عبد اللَّه بن عمرو بن مرة عن أبيه عن أبي عبيدة عن حذيفة قال: ليأتين على الناس زمان يكون للرجل أحمرة يحمل عليها إلى الشام أحب إليه من عرض (من عرض) (١) الدنيا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے یقینا لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا (جس میں) کسی آدمی کے لیے گدھے ہوں گے ان پر سوار ہو کر شام کی طرف جانا اسے زیاد ہ محبوب ہوگا دنیاوی سازو سامان میں سے کسی سامان سے۔
حدیث نمبر: 40056
٤٠٠٥٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن أبي الجوزاء عن مسلم بن يسار عن عبد اللَّه بن (عمرو) (١) قال: إذا كانت سنة ست وثلاثين ⦗٢٤٧⦘ ومائة ولم تروا آية فالعنوني في قبري (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے ارشاد فرمایا جب ایک سو چھتیسواں سال ہوگا اور تم کوئی نشانی نہ دیکھو تو مجھ پر میری قبر میں لعنت کرنا۔
حدیث نمبر: 40057
٤٠٠٥٧ - حدثنا يزيد عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن خالد بن (الحويرث) (١) عن عبد اللَّه بن عمرو عن النبي ﷺ قال: "الآيات خرز منظومات في سلك انقطع السلك فيتبع بعضها بعضًا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نشانیاں لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں جب لڑی ٹوٹ جائے تو وہ موتی ایک دوسرے کے پیچھے گرپڑتے ہیں۔
حدیث نمبر: 40058
٤٠٠٥٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن حذيفة قال: لو أن رجلًا ارتبط فرسًا في سبيل اللَّه فأنتجت مهرًا عند أول الآيات ما رُكب المهر حتى يرى آخرها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا اگر کوئی آدمی اللہ کے راستے میں (خروج کے لیے) کسی گھوڑے کو پالے وہ پچھرا جنے نشانیوں میں سے پہلی نشانی کے وقت اس بچھڑے پر سوار نہیں ہوگا یہاں تک کہ آخری نشانی کو بھی دیکھ لے گا۔
حدیث نمبر: 40059
٤٠٠٥٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن مجالد عن الشعبي عن صلة عن حذيفة قال: سمعته يقول: إذا رأيتم (أول الآيات) (١) تتابعت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا جب تم نشانیوں میں سے پہلی نشانی دیکھو گے تو دوسری لگاتار وقوع پذیر ہوں گی۔
حدیث نمبر: 40060
٤٠٠٦٠ - حدثنا عبدة بن سليمان عن عثمان بن حكيم عن أبي أمامة (بن) (١) سهل بن حنيف قال: سمعت عبد اللَّه بن عمرو بن العاص يقول: لا تقوم الساعة حتى يتسافد الناسُ في الطرق تسافد الحمير (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف فرماتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بن عاص سے یہ ارشاد سنا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ لوگ راستوں میں جفتی کریں گے گدھے کے جفتی کرنے کی طرح۔
حدیث نمبر: 40061
٤٠٠٦١ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "يتقارب الزمان وينقص العلم ويلقى الشح وتظهر الفتن ويكثر الهرج"، قالوا: يا رسول اللَّه! ما الهرج؟ قال: "القتل" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا زمانہ قریب ہوجائے گا اور علم کم ہوجائے گا اور بخل ڈال دیاجائے گا اور فتنے ظاہر ہوں گے اور ہرج کثرت سے ہوجائے گا صحابہ کرام l نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہرج کیا چیز ہے ارشاد فرمایا قتل۔
حدیث نمبر: 40062
٤٠٠٦٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن مجالد عن الشعبي عن مسروق قال: قدمنا على عمر فقال: كيف عيشكم؟ فقلنا: أخصب قوم من قوم يخافون الدجال، قال: ما قبل الدجال أخوف عليكم: الهرج، (قلت) (١): وما الهرج؟ قال: القتل حتى إن الرجل ليقتل أباه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے فرمایا کہ ہم حضرت عمر کے پاس گئے انہوں نے پوچھا تمہاری زندگی کیسی ہے ہم نے عرض کیا کہ ان لوگوں میں سے جو دجال سے ڈرتے ہیں ان میں ہم سب سے زیاد ہ سرسبز و شادابی والے لوگ ہیں حضرت عمر نے ارشاد فرمایا جس چز کا مجھے تمہارے بارے میں دجال سے پہلے زیادہ خوف ہے وہ ہرج ہے مسروق فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہرج کیا چیز ہے ارشاد فرمایا قتل یہاں تک کہ آدمی اپنے باپ کو قتل کرے گا۔
حدیث نمبر: 40063
٤٠٠٦٣ - حدثنا أبو أسامة عن (سعيد) (١) قال: حدثنا (٢) قتادة عن أنس قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول -ولا يحدثكم بعدي أحد أنه سمع رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن من أشراط الساعة أن يرفع العلم، ويظهر الجهل، وأن تشرب الخمر، ويظهر (الزنا) (٣)، ويقل الرجال، ويكثر النساء" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور میرے بعد تم سے کوئی نہیں بیان کرے گا کہ اس نے رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بلا شبہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت ظاہر ہوجائے گی شراب پی جائے گی اور زنا ظاہر ہوجائے گا مرد کم ہوجائیں گے اور عورتیں کثرت سے ہوجائیں گی۔
حدیث نمبر: 40064
٤٠٠٦٤ - حدثنا وكيع عن سفيان ومسعر عن أشعث (بن) (١) أبي الشعثاء عن رجاء بن حيوة عن معاذ قال: إنكم ابتليتم بفتنة الضراء فصبرتم، و (سوف تبتلون) (٢) ⦗٢٤٩⦘ بفتنة السراء وإن أخوف ما أتخوف عليكم فتنة النساء إذا (سورن) (٣) الذهب (ولبسن ريط) (٤) الشام فأتعبن (الغني) (٥) وكلفن الفقير ما لا يجد (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا یقینا تمہیں تنگی کے فتنے میں آزمایا جائے گا پس صبر کرنا اور عنقریب ت میں آسانی کے فتنے میں آزمایا جائے گا اور بلا شبہ جن چیزوں کا مجھے تم پر خوف ہے ان میں سے سب سے زیادہ خوف عورتوں کے فتنے سے ہے جب ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ شام کا باریک کپڑا پہنیں گی مالدار کو تھکا دیں گی اور فقیر کو ایسی چیزوں کا ذمہ دار ٹھہرائیں گی جو اس کے پاس نہیں ہوں گی۔
حدیث نمبر: 40065
٤٠٠٦٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن التيمي عن أبي عثمان عن أسامة بن (زيد) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما تركت على أمتي بعدي فتنة أضر على الرجال من النساء" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ بن زید سے روایت ہے فرمایا کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں نے اپنے بعد اپنی امت میں کوئی ایسا فتنہ نہیں چھوڑاجو مردوں کے لیے زیادہ نقصان دہ ہو عورتوں کے مقابلے میں۔
حدیث نمبر: 40066
٤٠٠٦٦ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن أنس (١) ابن سيرين عن أبي عبيدة بن عبد اللَّه عن أبيه قال: ما ذكر من الآيات فقد مضى إلا أربع: طلوع الشمس من مغربها، والدجال، ودابة الأرض، وخروج ياجوج وماجوج، قال: والآية التي تختم بها الأعمال طلوع الشمس من مغربها ألم تسمع إلى قول اللَّه (٢): ﴿يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ﴾ [الأنعام: ١٥٨] الآية (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا جو نشانیاں ذکر کی گئی ہیں وہ گزر گئیں سوائے چار کے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور دجال ( کا نکلنا) اور زمین کا جانور اور یاجوج ماجوج کا نکلنا ارشاد فرمایا جس پر اعمال ختم ہوجائیں گے وہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے کیا تم نے اللہ عزوجل کا ارشاد نہیں سنا کہ جس دن تیرے پروردگار کی کوئی نشانی تیرے پاس آئے گی تو ایسے آدمی کو جو ایمان نہیں لایا ہوگا ایمان لانا نفع نہیں دے گا (آیت کے اخیر تک)
حدیث نمبر: 40067
٤٠٠٦٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن هشام قال: زعم الحسن أن نبي اللَّه موسى ﷺ (١) سأل ربه أن يريه الدابة، قال: فخرجتْ ثلاثةَ أيام لا يرى واحد من (طرفيها) (٢)، قال: فقال: رب! ردها فردت.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی حضرت موسیٰ نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ اسے وہ جانور دکھا دے فرمایا کہ وہ جانور تین دن نکلا اس کی ایک جانب بھی دکھائی نہ دی حسن نے فرمایا حضرت موسیٰ نے عرض کیا اے میرے رب اسے واپس کردیں پس وہ واپس لوٹا دیا گیا۔
حدیث نمبر: 40068
٤٠٠٦٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد العزيز بن رفيع عن أبي الطفيل عن حذيفة قال: تخرج الدابة مرتين قبل يوم القيامة حتى يُضرب فيها رجال، ثم تخرج الثالثة عند أعظم مساجدكم، فتأتي القوم وهم مجتمعون عند رجل (فتقول) (١): ما يجمعكم عند عدو اللَّه، فيبتدرون فتسم الكافر حتى إن (الرجلين) (٢) ليتبايعان فيقول هذا: خذ يا مؤمن، ويقول هذا: خذ يا كافر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا ایک جانور قیامت سے پہلے دو مرتبہ نکلے گا یہاں تک کہ اس کے نکلنے کے موقع پر مردوں کو مارا جائے گا پھر تیسری مرتبہ نکلے گا تمہاری مساجد میں سے سب سے بڑی مسجد کے لوگوں کے پاس آئے گا اس حال میں کہ وہ ایک آدمی کے پاس مجتمع ہوں گے پس وہ جانور کہے گا تمہیں اللہ کے دشمن کے پاس کس نے جمع کیا ہے لوگ جلدی کریں گے وہ جانور کافر پر نشانی لگائے گا یہاں تک کہ دو آدمی آپس میں خریدو فروخت کا معاملہ کریں گے ایک کہے گا لے یہ لے لے اے مومن اور دوسرا کہے گا لے لے اے کافر۔
حدیث نمبر: 40069
٤٠٠٦٩ - حدثنا حسين (بن علي عن زائدة) (١) عن عبد الملك بن عمير عن عبد اللَّه بن (عمرو) (٢) قال: تخرج الدابة من جبل (جياد) (٣) أيام التشريق والناس بمنى، قال: فلذلك حي (سابق) (٤) الحاج إذا جاء بسلامة الناس (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ ایک جانور نکلے گا جیاد پہاڑ کی جانب سے ایام تشریق میں جبکہ لوگ منی میں ہوں گے انہوں نے فرمایا یہی وجہ ہے حاجیوں میں سب سے پہلے آنے والے کو دعا دی جاتی ہے جبکہ وہ لوگوں کو سلامتی کے ساتھ لے آئے۔
حدیث نمبر: 40070
٤٠٠٧٠ - حدثنا حسين بن علي عن فضيل بن مرزوق عن عطية عن ابن (عمرو) (١) قال: تخرج الدابة من صدع في الصفا جرى الفرس ثلاثة أيام لا تخرج ثلثها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا صفا کی دراڑ سے ایک جانور نکلے گا گھوڑے کے تین دن دوڑنے کے بقدر وقت میں اس کا ایک تھا ئی حصہ نہیں نکلے گا۔
حدیث نمبر: 40071
٤٠٠٧١ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثني أبو حيان عن أبي زرعة قال: جلس ثلاثة نفر من المسلمين إلى مروان بن الحكم فسمعوه يحدث عن الآيات: (أن) (١) أولها خروج الدجال، فانصرف النفر إلى عبد اللَّه بن (عمرو) (٢) فحدثوه بالذي سمعوه من مروان بن الحكم في الآيات أن أولها خروج الدجال، فقال عبد اللَّه: لم يقل مروان شيئا، قد حفظت من رسول اللَّه ﷺ حديثا لم أنسه بعد (٣) (سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول) (٤): "إن أول الآيات خروجًا: طلوع الشمس من مغربها أو خروج الدابة على الناس ضحى، وأيتهما ما كانت قبل صاحبتها فالأخرى على أثرها قريبًا"، ثم قال عبد اللَّه: وكان يقرأ الكتب: وأظن أولهما خروجا طلوع الشمس من مغربها، وذاك أنها كما غربت أتت تحت العرش فسجدت فاستأذنت في الرجوع فأذن لها (في الرجوع) (٥)، حتى إذا شاء اللَّه أن ⦗٢٥٢⦘ تطلع من مغربها أتت تحت العرش فسجدت واستأذنت (فلم يرد عليها بشيء) (٦)، ثم تعود فتستأذن في الرجوع فلا يرد عليها بشيء، ثم تعود فتستأذن في الرجوع فلا يرد عليها بشيء، حتى إذا ذهب من الليل ما شاء اللَّه أن يذهب، وعرفت أنها لو أذن لها لم تدرك المشرق قالت: رب ما أبعد المشرق؟ (٧) من لي بالناس، حتى إذا أضاء الأفق كأنه طرق استأذنت في الرجوع، قيل لها: مكانك فاطلعي، فطلعت على الناس من مغربها، ثم تلا عبد اللَّه هذه الآية (وذلك) (٨) ﴿يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ [الأنعام: ١٥٨] (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زرعہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا تین آدمی مسلمانوں میں سے مروان بن حکم کے پاس بیٹھے تھے انہوں نے ان سے سنا نشانیوں کے متعلق بیان کر رہے تھے کہ نشانیوں میں سے پہلی نشانی دجال کا نکلنا ہے وہ لوگ حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس گئے اور جو مروان بن حکم سے نشانیوں سے متعلق سنا تھا وہ حضرت عبداللہ سے بیان کیا کہ پہلی نشانی دجال کا نکلنا ہے حضرت عبداللہ نے فرمایا مروان نے کوئی بات بیان نہیں کی میں نے رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ پہلی نشانی نشانیوں میں سے نکلنے میں سورج کا طلوع ہونا ہے مغرب سے یا جانور کا نکلنا ہے لوگوں پر چاشت کے وقت اور ان دونوں نشانیوں میں سے جو بھی دوسری نشانی سے پہلے ہوگی دوسری اس کے پیچھے قریب ہی واقع ہوجائے گی پھر حضرت عبداللہ نے فرمایا وہ کتابیں پڑھتے تھے کہ میرا گمان ہے کہ ان دونوں نشانیوں سے پہلی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہوگی اور یہ اس وجہ سے کہ جب بھی وہ غروب ہوتا ہے عرش کے نیچے آتا ہے اور دوبارہ طلوع کی اجازت چاہتا ہے اسے دوبارہ طلوع کی اجازت دے دی جاتی ہے یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ چاہیں گے کہ سورج مغرب سے طلوع ہو وہ عرش کے نیچے آئے گا اور سجدہ ریز ہوگا واپسی کی اجازت چاہے گا اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا پھر لوٹے گا اور واپسی کی اجازت مانگے گا اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا پھر لوٹے گا اور واپسی کی اجازت مانگے گا اسے کوئی جواب نہیں دیاجائے گا یہاں تک جب رات کا جتنا حصہ اللہ چاہیں گے گزر جائے گا اور سورج یہ جان لے گا کہ اگر اسے اجازت دی گئی تو وہ مشرق تک نہیں پہنچ سکے گا تو وہ عرض کرے گا اے میرے رب مشرق کتنی ہی دور ہے سورج عرض کرے گا اے میرے رب کون ہے میرے لیے لوگوں میں سے یہاں تک کہ جب افق روشن ہوگا گویا کہ طوق ہے واپسی کی اجازت چاہے گا اس سے کہا جائے گا تم پر لازم ہے تمہارا مقام طلوع ہو پس وہ طلوع ہوگا لوگوں پر مغرب سے پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت تلاوت کی جس دن تیرے پروردگار کی کوئی نشانی آئیگی اس دن کسی ایسے شخص کا ایمان کار آمد نہیں ہوگا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی نیک عمل کی کمائی نہ کی ہو۔
حدیث نمبر: 40072
٤٠٠٧٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق عن حذيفة قال: كنا مع النبي ﷺ (فقال) (١): "أحصوا كل من (تلفظ) (٢) بالإسلام"، قال: قلنا: يا رسول اللَّه! تخاف علينا ونحن ما بين الستمائة إلى السبعمائة؟ فقال: "إنكم (لا تدرون) (٣) لعلكم إن تبتلوا"، قال: فابتلينا حتى جعل الرجل منا ما يصلي (إلا سرًا) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے فرمایا ہر اسلام کا اقرار کرنے والے کو شمار کرو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمارے بارے میں خوف کرتے ہیں اور ہم چھ سو سے سات سو تک ہیں آپ نے ارشاد فرمایا یقینا تم نہیں جانتے شاید کہ تمہیں آزمایا جائے راوی فرماتے ہیں ہم آزمائے گئے یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی نماز نہیں پڑھ سکتا تھا سوائے چھپ کر۔
حدیث نمبر: 40073
٤٠٠٧٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش (عن شقيق) (١) عن حذيفة قال: ما بينكم وبين أن يرسل عليكم الشر فراسخ إلا موتة في عنق رجل يموتها وهو عمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا نہیں ہے تمہارے درمیان اور اس بات کے درمیان کہ تم پر ہمیشہ برائی بھیج دی جائے مگر موت اس آدمی کی گردن میں جو ان برائیوں کو ختم کرتا اور وہ حضرت عمر ہیں۔
حدیث نمبر: 40074
٤٠٠٧٤ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبيه عن (حصين) (١) بن عبد اللَّه عن أنس بن مالك قال: ما أعرف شيئا إلا الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں کوئی چیز نہیں پہچانتا سوائے نماز کے۔
حدیث نمبر: 40075
٤٠٠٧٥ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل قال: حدثني رجل كان يبيع الطعام، قال: لما قدم حذيفة على جوخا (١) أتى أبا مسعود (يسلم) (٢) عليه، فقال (أبو مسعود) (٣): ما شأن سيفك هذا [يا أبا عبد اللَّه؟ قال: أمرني عثمان على (جوخا) (٤)، فقال: يا أبا عبد اللَّه!] (٥) أتخشى أن تكون هذه فتنة حين طرد الناس سعيد ابن العاص، قال له حذيفة: (أما) (٦) تعرف دينك يا أبا مسعود؟ قال: بلى، قال: فإنها (٧) لا تضرك الفتنةُ ما عرفت دينَك، إنما الفتنة إذا اشتبه عليك الحق والباطل فلم تدر أيهما تتبع، فتلك الفتنة (٨).
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل سے روایت ہے فرمایا کہ ہم سے ایک صاحب نے بیان کیا جو گندم فروخت کرتے تھے انہوں نے فرمایا جب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بغداد کے صوبے میں آئے تو حضرت ابو مسعود انصاری کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا حضرت ابو مسعود نے پوچھا تمہاری تلوار کی کیا حالت ہے اے ابو عبداللہ انہوں نے فرمایا حضرت عثمان نے مجھے اس صوبے پر امیر مقرر کیا ہے انہوں نے فرمایا اے ابو عبداللہ کیا تمہیں اس کا خوف ہے کہ یہ فتنہ ہو جبکہ لوگوں نے حضرت سعید بن عاص کو نکال دیا ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کیا تم اپنے دین کو نہیں جانتے اے ابو مسعود انہوں نے فرمایا کیوں نہیں تو پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بلاشبہ تمہیں فتنہ نقصان نہیں پہنچائے گا جب تک تم اپنے دین کو پہچانتے ہو فتنہ تو اس وقت ہے جب حق اور باطل تم پر مشتبہ ہوجائے اور تمہیں پتہ نہ چلے کہ دونوں میں سے کس کی پیروی کرو پس یہ فتنہ ہے۔
حدیث نمبر: 40076
٤٠٠٧٦ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن محمد أن رجلًا من أصحاب النبي ﷺ قال: ما أدركت الفتنةُ أحدا منا إلا لو شئت أن أقول فيه (لقلت فيه) (١) إلا عبد اللَّه بن (عمر) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد سے روایت ہے کہ بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں ایک صاحب نے فرمایا ہم میں سے کسی کو بھی فتنہ نہیں پاتا مگر یہ کہ اگر میں چاہوں تو اس کے بارے میں کچھ کہہ سکتا ہوں سوائے حضرت عبداللہ بن عمر کے۔
حدیث نمبر: 40077
٤٠٠٧٧ - حدثنا مروان بن معاوية عن العلاء بن خالد عن شقيق قال: قال عبد اللَّه: (أيها الناس!) (١) إن هذا السلطان قد ابتليتم (به) (٢)، فإن (عدل) (٣) كان له الأجر وعليكم (الشكر) (٤)، وإن جار كان عليه الوزر وعليكم الصبر (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے اے لوگو ! بلاشبہ یہ بادشاہ اس کی تمہارے ذریعہ آزمائش کی جارہی ہے اگر وہ عدل کرے گا تو اس کے لیے اجر ہوگا اور تم پر لازم ہوگا شکر اور اگر وہ ظلم کرے گا تو اس پر گناہ ہوگا اور تم پر لازم ہوگا صبر۔
حدیث نمبر: 40078
٤٠٠٧٨ - حدثنا ابن علية عن (يونس عن علي) (١) قال: قال لي أبيٌّ: هلك أهل هذه العقدة -ورب الكعبة- هلكوا وأهلكوا كثيرا، أما واللَّه ما (عليهم آسى) (٢) ولكن على من يُهِلكون من أمة محمد ﵇ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عتی سے روایت ہے فرمایا کہ مجھ سے حضرت ابی نے فرمایا اس مقام پر اہل حل و عقد (مراد امراء ہیں) ہلاک ہوں گے کعبہ کے رب کی قسم ہلاک ہوں گے اور بہت ساروں کو ہلاک کردیا باقی اللہ کی قسم مجھے ان پر افسوس نہیں ہے لیکن ان پر ہے جو امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہلاک ہوں گے۔
حدیث نمبر: 40079
٤٠٠٧٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام عن الحسن عن ضبة بن محصن عن أم سلمة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنها ستكون (أمراء) (١) (تعرفون ⦗٢٥٥⦘ وتنكرون) (٢)، فمن أنكر فقد برئ، ومن كره فقد سلم، ولكن من رضي (وتابع) (٣) "، قالوا: يا رسول اللَّه أفلا نقاتلهم؟ قال: "لا، ما صلوا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب امراء ہوں گے جن کو تم بھلائی کا حکم دو گے اور برائی سے روکو گے جس آدمی نے انکار کیا وہ بری ہوگیا جس آدمی نے ناپسند کیا وہ بھی محفوظ ہوگیا۔ لیکن وہ آدمی جو راضی ہوا اور پیروی کی صحابہ l نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں۔
حدیث نمبر: 40080
٤٠٠٨٠ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن عمير بن إسحاق قال: قال أبو هريرة: لتؤخذن المرأة فليبقرن بطنها، ثم ليؤخذن ما في الرحم فلينبذن مخافة الولد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ عورت کو پکڑا جائے گا اور اس کے پیٹ کو پھاڑا جائے گا اور اولاد کے خوف سے اس کے رحم میں موجود جنین کو پھینک دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 40081
٤٠٠٨١ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن عمير بن إسحاق قال: قال أبو هريرة: يا ويحه! يخلع -واللَّه- كما يخلع الوظيف، يا ويلتاه! يعزل كما يعزل الجدي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا ہلاکت ہے اس کے لیے جسے الگ کردیا جائے گا اللہ کی قسم جیسا کہ جانور کی پنڈلی کو الگ کردیا جاتا ہے۔ اور ہلاکت ہے اس پر جسے معزول کردیا جائے گا بکری کے بچے کے ہٹانے کی طرح۔
حدیث نمبر: 40082
٤٠٠٨٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا (مستلم) (١) بن سعيد عن منصور ابن زاذان عن معاوية بن قرة عن معقل بن يسار قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "العبادة في (الفتنة) (٢) كالهجرة إلي" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معقل بن یسار سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسو ل اللہ نے ارشادفرمایا کہ فتنے میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 40083
٤٠٠٨٣ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: حدثنا سفيان عن المغيرة بن النعمان عن عبد اللَّه بن الأقنع الباهلي عن الأحنف بن قيس قال: كانت جالسا في مسجد المدينة، فأقبل رجل لا تراه حلقة إلا فروا منه حتى انتهى إلى الحلقة التي كنت فيها، ⦗٢٥٦⦘ فثبت وفروا، فقلت: من أنت؟ فقال: أبو ذر صاحب رسول اللَّه ﷺ، (قلت) (٢): (ما) (٣) يُفر الناسَ مثك؟ قال: إني أنهاهم عن الكنوز، قال: قلت: إن أعطياتنا قد بلغت وارتفعت فتخاف علينا منها، قال: أما اليوم فلا، ولكنها (يوشك) (٤) أن يكون (أثمان) (٥) دينكم، فإذا كانت أثمان دينكم (فدعوهم) (٦) (وإياها) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت احنف بن قیس سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں مدینہ کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ایک صاحب آئے کہا کہ کوئی بھی (بیٹھنے والاحلقہ ان کو نہیں دیکھتا تھا مگر یہ کہ ان سے بھاگ جاتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ اس حلقے میں آگئے جس میں میں تھا پس میں ٹھہرا رہا اور دیگر لوگ بھاگ گئے۔ میں نے کہا آپ کون ہیں ؟ انہوں نے بتلایا ابو ذر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھی۔ میں نے عرض کیا آپ سے لوگ کیوں بھاگے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا اس وجہ سے کہ میں ان کو خزانے جمع کرنے سے روکتا ہوں۔ حضرت احنف بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ بیشک ہمارے عطیات کثیر تعداد کو پہنچ چکے ہیں اور بلند ہوچکے ہیں۔ کیا آپ ہم پر ان کی وجہ سے خوف کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ اس وقت میں تو نہیں لیکن قریب ہے کہ وہ تمہارے دین کی قیمت بن جائیں۔ اس وقت ان عطیات سے اجتناب کرنا۔
حدیث نمبر: 40084
٤٠٠٨٤ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا سفيان قال: حدثني أبو الجحاف قال: أخبرني (معاوية) (١) بن ثعلبة قال. أتيت محمد بن الحنفية فقلت: إن رسول (٢) المختار أتانا يدعونا، قال: فقال لي: (لا تقاتل) (٣) إني أكره أن أسوء هذه الأمة (أو) (٤) آتيها من غير وجهها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن ثعلبہ فرماتے ہیں میں محمد بن حنفیہ کے پاس آیا میں نے عرض کیا بلاشبہ مختار کے قاصد ہمارے پاس آئے ہمیں دعوت دیتے رہے راوی نے فرمایا مجھ سے انہوں نے فرمایا کہ لڑائی نہ کرنا بلاشبہ میں ناپسند کرتا ہوں اس بات کو کہ اس امت میں سے سب سے برا ہوں یا یہ فرمایا میں آؤں ان کے پاس ان کے طریقے کے علاوہ پر۔
حدیث نمبر: 40085
٤٠٠٨٥ - حدثنا محمد بن بشر عن سفيان عن الزبير بن عدي قال: قال لي إبراهيم: إياك أن (تقتل) (١) مع قتيبة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر بن عدی نے فرمایا مجھ سے ابراہیم نے فرمایا تو بچ اس بات سے کہ فتنے کے ساتھ قتل کیا جائے۔
حدیث نمبر: 40086
٤٠٠٨٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن أبي وائل قال: دخل أبو موسى (وأبو مسعود) (١) على عمار وهو (يستنفر) (٢) الناس فقال: أما (رأينا) (٣) منك منذ أسلمت أمرا أكره عندنا من إسراعك في هذا الأمر، فقال عمار: ما رأيت منكما منذ أسلمتما أمرا أكره عندي كان إبطائكما عن هذا الأمر، قال: فكساهما حلة حلة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت ابو موسیٰ اور ابو مسعود حضرت عمار کے پاس آئے وہ لوگوں کو لڑائی کے لیے بلا رہے تھے ان دونوں حضرات نے فرمایا جب سے آپ نے اسلام قبول کیا ہے ہم نے اس سے زیادہ ناپسندیدہ امر آپ سے نہیں دیکھا تمہارے اس امر میں جلدی کرنے کے نسبت حضرت عمار نے فرمایا میں نے تم سے جب سے تم نے اسلام قبول کیا ہے اس سے زیادہ ناپسندیدہ امر اپنے نزدیک نہں ر دیکھا تمہارے اس امر میں سستی کرنے کی نسبت راوی فرماتے ہیں حضرت عمار نے ان دونوں کو ایک ایک جوڑا پہنا دیا۔
حدیث نمبر: 40087
٤٠٠٨٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة قال: (سمعت) (١) أبا وائل يحدث عن الحارث بن (حبيش) (٢) الأسدي قال: بعثني سعيد بن العاص بهدايا إلى أهل المدينة وفضل عليًا، قال: وقال في: قل له: إن ابن أخيك يقرئك السلام ويقول: ما بعثت إلى أحد بأكثر مما بعثت إليك إلا ما كان في خزائن أمير المؤمنين، فقال علي: أشد ما يحزن علي ميراث محمد (٣)، أما واللَّه لئن ملكتها لأنفضنها نفض (الوذام) (٤) (التربة) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن حبیش اسدی نے فرمایا مجھے حضرت سعید بن عاص نے کچھ ہدایا دے کر مدینہ والوں کی طرف بھیجا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فضیلت دی (ہدایا میں) راوی نے فرمایا مجھ سے حضرت سعید بن عاص نے فرمایا ان سے کہنا آپ کے چچا کا بیٹا آپ کو سلام کہہ رہا تھا اور کہہ رہا تھا میں نے کسی کی طرف اس سے زیادہ نہیں بھیجا جتنا آپ کی طرف بھیجا ہے سوائے اس کے جو امیرالمؤمنین کے خزانے میں ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا سب سے زیادہ جس بات کا مجھے غم ہے وہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی میراث ہے باقی اگر میں اس کا مالک ہوجاؤں تو اسے جھاڑ دوں جگر کے گوشت کے ٹکڑے کو مٹی سے جھاڑنے کی طرح۔
حدیث نمبر: 40088
٤٠٠٨٨ - حدثنا (معتمر) (١) بن سليمان عن الركين عن أبيه عن ابن مسعود قال: كان يقول لنا في خلافة عمر: إنها ستكون هنات و (هنات) (٢)، وإن (بحسب) (٣) الرجل إذا رأى أمرا يكرهه أن يعلم اللَّهُ أنه له كاره (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیلہ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت ابن مسعود ہم سے حضرت عمر کے خلافت کے زمانے میں فرماتے تھے بلاشبہ عنقریب فتنے ہوں گے فتنے ہوں گے اور آدمی کے لیے کافی ہوگی یہ بات کہ جب کسی ناپسندیدہ امر کو دیکھے تو اسے ناپسند کرے کہ اللہ تعالیٰ جان لیں کہ بلاشبہ یہ اس امر کو ناپسند کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 40089
٤٠٠٨٩ - حدثنا معاوية قال: حدثنا سفيان عن معمر عن ابن طاوس عن أبيه قال: قلت لابن عباس، أنهى أميري عن معصية؟ قال: لا تكون فتنة؟ قال: قلت: فإن أمرني بمعصية؟ قال: فحينئذ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا میں اپنے امیر کو معصیت سے روکوں انہوں نے فرمایا نہیں فتنہ ہوگا طاؤس نے فرمایا میں نے عرض کیا اگر وہ مجھے گنا ہ کا حکم دے ارشاد فرمایا اس وقت (روک سکتے ہو)
حدیث نمبر: 40090
٤٠٠٩٠ - حدثنا جرير عن (معاوية) (١) (٢) (٣) ابن إسحاق عن سعيد بن جبير قال: قال رجل لابن عباس: آمر أميري بالمعروف؟ قال: إن خفت أن يقتلك فلا (٤) تؤنب الإمام، فإن كنت لا بد فاعلًا (ففيما) (٥) بينك وبينه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک صاحب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا میں اپنے امیر کو نیکی کا حکم کروں انہوں نے ارشاد فرمایا اگر تجھے (امر بالمعروف) کرنا ضرور ہو تو اپنے اور اس کے درمیان ہو۔
حدیث نمبر: 40091
٤٠٠٩١ - حدثنا جرير عن العلاء عن خيثمة قال: قال عبد اللَّه: إذا أتيت الأمير (المؤمن) (١) فلا (يؤنبه) (٢) أحد من الناس (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا جب تو مومن امیر کے پاس جائے تو لوگوں کے سامنے اسے نصیحت مت کر۔
…