کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 40012
٤٠٠١٢ - حدثنا ابن عيينة عن داود بن (شابور) (١) عن مجاهد قال: لما أجمع ابن الزبير على هدمها خرجنا إلى منى (ثلاثًا) (٢) ننتظر العذاب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے جب حضرت ابن زبیر نے بیت اللہ کو گرانے کا عزم کرلیا تو ہم تین دن تک منی کی طرف نکلے عذاب کا کا انتظار کرتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 40013
٤٠٠١٣ - حدثنا إسحاق الأزرق عن هشام عن حفصة عن أبي العالية عن علي قال: وكأني أنظر إلى رجل من الحبش أصلع أصمع حمش الساقين جالسا عليها وهي تهدم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ گویا میں حبشہ کے آدمی کی طرف دیکھ رہا ہوں جو گنجا اور چھوٹے کانوں والا باریک پنڈلیوں والا ہوگا کعبۃ اللہ کے پاس بیٹھا ہوگا اس حال میں کہ کعبہ کو منہدم کیا جارہا ہوگا۔
حدیث نمبر: 40014
٤٠٠١٤ - حدثنا ابن علية عن بن أبي نجيح عن سليمان بن ميناء قال: سمعت ابن (عمرو) (١) يقول: إذا رأيتم قريشا قد هدموا البيت ثم بنوه فزوقوه؛ فإن استطعت أن تموت فمت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان بن میناء سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما و کو فرماتے ہوئے سنا جب تم دیکھو قریش بیت اللہ کو منہدم کریں پھر اسے بنائیں اور اس کی تزئین و آرائش کریں تو اگر تم سے ہو سکے کہ تم مرجاؤ تو مرجانا۔
حدیث نمبر: 40015
٤٠٠١٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن أبيه قال: كانت آخذا بلجام دابة عبد اللَّه بن عمرو فقال: كيف أنتم إذا هدمتم (١) البيت؟ فلم تدعوا حجرا على حجر، قالوا: ونحن على الإسلام؟ قال: (وأنتم) (٢) على الإسلام، قال: ثم ماذا؟ قال: ثم يبنى أحسن ما كان، فإذا رأيت مكة قد بعجت كظائم ورأيت البناء يعلو رؤوس الجبال فاعلم أن الأمر قد أظلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے روایت ہے فرمایا کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو کی سواری کی لگام پکڑے ہوئے تھا انہوں نے ارشاد فرمایا کیا حال ہوگا تمہارا جب تم اس گھر (یعنی بیت اللہ) کو گرا دو گے پس تم کسی پتھر کو پتھر پر نہ چھوڑو گے ان کے ساتھیوں نے عرض کیا اور کہا ہم اسلام پر ہوں گے، انہوں نے ارشاد فرمایا تم اسلام پر ہو گے میں نے عرض کیا پھر کیا ہوگا انہوں نے ارشاد فرمایا پھر پہلے سے اچھا بنایا جائے گا جب تو دیکھے مکہ میں کنوئے کھودے جائیں اور تو دیکھے عمارتیں پہاڑوں کی چوٹیوں سے بلند ہوجائیں تو جان لینا امر قریب آگیا۔
حدیث نمبر: 40016
٤٠٠١٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن حميد عن بكر بن عبد اللَّه المزني عن عبد اللَّه بن عمرو قال: تمتعوا من هذا البيت قبل أن يرفع، فإنه سيرفع ويهدم مرتين ويرفع في الثالثة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے ارشاد فرمایا اس گھر سے اس کے بلند کرنے سے پہلے نفع اٹھا لو اسے عنقریب بلند کیا جائے اور دو مرتبہ گرا دیا جائے گا اور تیسری مرتبہ بلند کردیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 40017
٤٠٠١٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي حصين عن عبد الرحمن بن بشر قال: جاء رجل (إلى) (١) عبد اللَّه فقال: متى أضل؟ فقال: إذا كان عليك أمراء: إن أطعتهم أضلوك، وإن عصيتهم قتلوك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمان بن بشر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ایک آدمی حضرت عبد اللہ کے پاس آیا اور پوچھا میں کب گمراہ ہوں گا حضرت عبد اللہ نے ارشاد فرمایا جب تم پر ایسے امراء ہوں کہ اگر تم ان کی اطاعت کرو تو تمہیں گمراہ کردیں گے اور اگر تم ان کی نافرمانی کرو گے تو وہ تمہیں قتل کردیں گے۔
حدیث نمبر: 40018
٤٠٠١٨ - حدثنا وكيع عن كامل أبي العلاء عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "تعوذوا باللَّه من رأس السبعين ومن إمرة الصبيان" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو ستر (ہجری) کی ابتداء سے اور بچوں کی امارت سے۔
حدیث نمبر: 40019
٤٠٠١٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن سماك عن أبي الربيع عن أبي هريرة قال: ويل للعرب من شر قد اقترب، إمارة الصبيان: إن أطاعوهم أدخلوهم النار، وإن عصوهم ضربوا أعناقهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا ہلاکت ہے عرب کے لیے اس شر سے جو قریب ہے (اور وہ ہے) بچوں کی امارت اگر لوگ ان کی اطاعت کریں گے تو وہ ان کو جہنم میں داخل کردیں گے اور اگر وہ ان کی نافرمانی کریں گے تو وہ ان کی گردنیں مار دیں گے۔
حدیث نمبر: 40020
٤٠٠٢٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم قال: سمعت ميمون بن أبي (شبيب) (١) يحدث (عن) (٢) عبادة بن الصامت قال: أتمنى لحبيبي أن يقل ماله أو يعجل موته، فقالوا: ما رأينا متمنيا محبا (لحبيبه) (٣)؟ فقال: أخشى إن يدرككم أمراء إن أطعتموهم أدخلوكم النار، وإن عصيتموهم قتلوكم، فقال رجل: أخبرنا من هم حتى نفقأ أعينهم، قال شعبة: أو نحثو في وجوههم التراب، فقال: عسى أن تدركوهم فيكونوا هم الذين يفقأون عينك ويحثون في وجهك التراب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے ارشاد فرمایا میں اپنے دوست کے لیے تمنا کرتا ہوں کہ اس کا مال کم ہو یا اسے جلدی موت آجائے ان کے اصحاب نے کہا ہم نے نہیں دیکھا کہ اپنے محبوب کے لیے کوئی محب ایسی تمنا کرنے والا ہو تو انہوں نے ارشاد فرمایا مجھے یہ خوف ہے کہ تمہیں ایسے امراء پالیں کہ اگر تم ان کی اطاعت کرو تو وہ تمہیں جہنم میں داخل کردیں اور اگر تم ان کی نافرمانی کرو تو وہ تمہیں قتل کردیں ایک صاحب نے عرض کیا ہمیں بتلائیں وہ کون ہیں ہم ان کی آنیں ے پھوڑ دیں گے شعبہ فرماتے ہیں (یہ الفاظ ہے) یا ہم ان کے چہروں پر مٹی ڈال دیں گے حضرت عبادہ بن صامت نے ارشاد فرمایا قریب ہے کہ تم ان کے زمانے کو پاؤ پس وہی تیری آنکھ پھوڑیں گے اور تیرے چہرے میں مٹی ڈالیں گے۔
حدیث نمبر: 40021
٤٠٠٢١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام عن محمد قال: قال حذيفة: ما أحد تدركه الفتنة إلا وأنا أخافها عليه إلا محمد بن مسلمة، فإني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول له: "لا تضرك الفتنة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے کہ اسے فتنہ پہنچے مگر یہ کہ مجھے اس کے بارے میں اندیشہ ہے سوائے محمد بن مسلمہ کے کیونکہ ان کے بارے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تجھے فتنہ نقصان نہیں دے گا۔
حدیث نمبر: 40022
٤٠٠٢٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد أن عليا أرسل إلى محمد بن مسلمة أن يأتيه، فأرسل إليه وقال: إن (هو) (١) لم يأتني فاحملوه، فأتوه فأبى أن يأتيه، فقالوا: إنا قد أمرنا إن لم تأته أن نحملك حتى نأتيه بك، قال: ارجعوا إليه فقولوا له: إن ابن عمك وخليلي عهد إلي أنه ستكون فتنة وفرقة واختلاف، فإذا كان ذلك فأجلس في بيتك واكسر سيفك حتى تأتيك منية قاضية أو يد خاطية، فاتق اللَّه -يا علي- ولا تكن تلك اليد الخاطية، فأتوه فأخبروه فقال: دعوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن زید سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت محمد بن مسلمہ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ ان کے پاس آئیں اور ان کی طرف پیغام بھیجا اور کہا اگر وہ میرے پاس نہ آئیں تو ان کو اٹھا کرلے آنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھیجے ہوئے حضرت محمد بن مسلمہ کے پاس آئے انہوں نے ان کے پاس جانے سے انکار کردیا انہوں نے کہا ہمیں حکم دیا گیا ہے اگر آپ نہ جائیں تو ہم آپ کو اٹھا کر ان کے پاس لے جائیں حضرت محمد بن مسلمہ نے ارشاد فرمایا ان کی طرف لوٹ جاؤ اور ان سے کہو آپ کے چچا کے بیٹے میرے خلیل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے وصیت کی کہ عنقریب فتنے اور تفرقے اور اختلاف ہوں گے جب یہ ہوجائے تو تو اپنے گھر میں بیٹھ جانا اور اپنی تلوار توڑ دینا یہاں تک کہ تیرے پاس فیصلہ کرنے والی موت یا غلیا کرنے والا ہاتھ آجائے اے علی رضی اللہ عنہاللہ سے ڈر اور ایسا نہ ہو کہ یہ غلطی کرنے والا ہاتھ ہو (حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھیجے ہوئے) وہ ان کے پاس آئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بتلایا انہوں نے فرمایا اسے چھوڑ دو ۔
حدیث نمبر: 40023
٤٠٠٢٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي عاصم (١) عن أشياخ (قالوا) (٢): قال حذيفة: تكون فتنة ثم تكون بعدها توبة وجماعة، ثم تكون فتنة لا تكون بعدها توبة ولا جماعة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک فتنہ وقوع پذیر ہوگا پھر اس کے بعد توبہ ہوگی اور جماعت ہوگی پھر فتنہ وقوع پذیر ہوگا اس کے بعد نہ توبہ ہوگی اور نہ جماعت ہوگی (یعنی پہلے فتنے کے بعد توبہ ہوگی اور اجتماعیت قائم ہوجائے گی دوسرے کے بعد دونوں میں سے کچھ نہ ہوگا)
حدیث نمبر: 40024
٤٠٠٢٤ - حدثنا وكيع عن سوّار بن ميمون (١) قال: حدثني شيخ لنا من عبد القيس يقال له (بشير) (٢) بن غوث قال: سمعت عليا يقول: إذا كانت سنة خمس وأربعين ومائة منع البحرُ جانبَه، وإذا كانت سنة خمسين ومائة منع البر جانبه، وإذا كانت (سنة) (٣) ستين ومائة ظهر الخسف والمسخ والرجفة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشیر بن غوث سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا جب ایک سو پینتالیسواں سال ہوگا تو سمندر اپنی جانب کو روک لے گا اور جب ایک سو پچاسواں سال ہوگا تو خشکی اپنی جانب کو روک لے گی اور جب ایک سو ساٹھواں سال ہوگا تو زمین میں دھنسنا اور چہروں کا بدلنا اور بھونچال ظاہر ہوں گے۔
حدیث نمبر: 40025
٤٠٠٢٥ - حدثنا سفيان عن أبي سنان عن (سعيد) (١) بن (جبير) (٢) قال: لقيني راهب في الفتنة فقال: يا سعيد بن جبير! تبين من يعبد اللَّه أو يعبد الطاغوت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے ارشاد فرمایا فتنے کے زمانے میں مجھے ایک راھب ملا میں نے کہا اے سعید بن جبیر تحقیق کرو کو ن اللہ کی عبادت کرتا ہے اور کون شیطان کی عبادت کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 40026
٤٠٠٢٦ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا جرير بن حازم قال: حدثنا غيلان بن جرير عن أبي قيس بن رباح القيسي قال: سمعت أبا هريرة يحدث عن رسول اللَّه ﷺ أنه قال: "من ترك الطاعة وفارق الجماعة فمات (مات ميتة) (١) جاهلية، ومن خرج تحت راية عُمّية يغضب لعصبته أو ينصر عصبته أو يدعو إلى عصبته فقُتل (فقتلة) (٢) جاهلية، ومن خرج على أمتي يضرب برها وفاجرها لا يتحاشى من مؤمنها ولا يفي لذي عهد فليس مني ولست منه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حدیث نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا جس آدمی نے (امام کی ) اطاعت کو ترک کردیا اور جماعت سے جدا ہوگیا پس وہ مرا تو جاہلیت کی موت مرا اور جو آدمی اندھے جھنڈے تلے نکلا غصے کرتے ہوئے اپنے اقا رب کے لے ر یا مدد کرتے ہوئے اپنے اقارب کی یا دعوت دیتے ہوئے اپنے اقارب کی طرف اس کا قتل جاہلیت کا قتل ہے جو آدمی میری امت پر خروج کرے ان کے نیکوں اور فاجروں کو مارے نہ مومن کو چھوڑے اور نہ کسی عہد والے کا عہد پورا کرے وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں ہوں۔
حدیث نمبر: 40027
٤٠٠٢٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا ابن أبي ذئب عن سعيد بن سمعان قال: سمعت أبا هريرة يخبر أبا قتادة عن النبي ﷺ قال: "يبايع لرجل بين الركن والمقام ولن يستحل البيت إلا أهله فإذا استحلوه فلا تسأل عن هلكة العرب، ⦗٢٣٨⦘ ثم تأتي الحبشة (فيخربون) (١) خرابا لا يعمر بعده أبدا، وهم الذين يستخرجون كنزه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ حضرت ابو قتادہ سے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں ارشاد فرمایا ایک آدمی کی رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کی جائے گی اور ہرگز نہیں حلال سمجھے گا بیت اللہ کو مگر اس آدمی کے گھروالے جب وہ اسے حلال سمجھ گئے تو عرب کے ہلاک ہونے والوں کے بارے میں مت پوچھو پھر حبشہ کے لوگ آئیں گے بیت اللہ کو ایسا ویران کریں گے کہ پھر اسے اس کے بعد آباد نہ کیا جائے گا اور وہی ہوں گے جو اسکا خزانہ نکالیں گے۔
حدیث نمبر: 40028
٤٠٠٢٨ - حدثنا أبو أسامة عن عبد اللَّه بن محمد بن عمرو بن علي قال: حدثني أبي قال: قال علي: والذي فلق الحبة وبرأ النسمة لإزالة الجبال من مكانها أهون من إزالة ملك مؤجل، فإذا اختلفوا بينهم فوالذي نفسي بيده لو كادتهم الضباع لغلبتهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑ کر نکالا اور جان کو پیدا کیا پہاڑ کو اس کی جگہ سے ہٹانا آسان ہے مقرر بادشاہت کے ہٹانے سے جب ان کا آپس میں اختلاف ہوگا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر وہ بجو بھی ہوتے تو ان پر بھی غالب آجاتے۔
حدیث نمبر: 40029
٤٠٠٢٩ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن الأعمش عن خيثمة عن عبد اللَّه بن عمرو قال: لا تقوم الساعة حتى تضطرب إليات النساء حول الأصنام (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ عورتوں کی سرینیں بتوں کے گرد حرکت کریں گی۔
حدیث نمبر: 40030
٤٠٠٣٠ - حدثنا أبو أسامة عن أبي الأشهب قال: حدثنا عمرو بن عبيد عن ثوبان قال: توشك الأمم أن تداعى عليكم كما يتداعى القوم على قصعتهم، ينزع الوهن من قلوب عدوكم ويجعل في قلوبكم، وتحبب إليكم الدنيا (قالوا: من (قلة)) (١) (٢)؟ قال: أكثركم غثاء كغثاء السيل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثوبان سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا قریب ہے کہ لوگ تمہارے خلاف ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گے جیسے لوگ اپنے پیالے کی طرف ایک دوسرے کو دعوت دیتے ہیں وھن (دنیا کی محبت اور موت سے کراہت) تمہارے دشمنوں کے دلوں سے نکال لیاجائے گا اور تمہارے قلوب میں ڈال دیا جائے گا دنیا تمہارے نزدیک محبوب ہوجائے گی لوگوں نے عرض کیا ایسا قلت کی وجہ سے ہوگا ارشاد فرمایا تمہاری کثرت جھاگ کے برابر ہوگی سیلاب کے جھاگ کی طرح۔
حدیث نمبر: 40031
٤٠٠٣١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا عاصم عن زر عن حذيفة بن اليمان قال: تكون فتنة فيقوم لها رجال فيضربون خيشومها حتى تذهب، ثم تكون أخرى فيقوم لها رجال فيضربون خيشومها حتى تذهب، ثم تكون أخرى فيقوم لها رجال فيضربون خيشومها حتى تذهب، [ثم تكون (أخرى) (١) فيقوم لها رجال فيضربون خيشومها (حتى تذهب) (٢)] (٣)، ثم تكون الخامسة دهماء مجللة تنبثق في الأرض كما ينبثق الماء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان سے روایت ہے ارشاد فرمایا ایک فتنہ وقوع پذیر ہوگا ایک جماعت اس کے مقابلے کے لیے کھڑی ہوگی اس فتنے کے ناک پر ماریں گے یہاں تک کہ وہ ختم ہوجائے گا پھر دوسرا فتنہ وقوع پذیر ہوگا اس کے مقابلے میں لوگ کھڑے ہوں گے اس فتنے کے ناک پر ماریں گے یہاں تک کہ وہ ختم ہوجائے گا پھر تیسرا فتنہ وقوع پذیر ہوگا لوگ اس کے مقابلے میں کھڑے ہوں گے اس کے ناک پر ماریں گے یہاں تک کہ وہ ختم ہوجائے گا۔ پھر چوتھا فتنہ وقوع پذیر ہوگا لوگ اس کے مقابلے میں کھڑے ہوں گے اس کے ناک پر ماریں گے یہاں تک کہ وہ ختم ہوجائے گا تم پر پانچواں فتنہ ہوگا سیاہ چھانے والا وہ زمین میں ایسے بہے گا جیسے پانی بہتا ہے۔
حدیث نمبر: 40032
٤٠٠٣٢ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن عاصم عن أبي مجلز قال: قال رجل: يا آل بني تميم، (فحرمهم) (١) عمر بن الخطاب (عطاءهم) (٢) سنة، ثم (أعطاهم) (٣) إياه من العام المقبل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں ایک آدمی نے ندا لگائی اے آلِ بنو تمیم ! (جاہلیت کی ندا لگائی) تو حضرت عمر نے ان قبیلہ والوں کو ان کے عطیہ سے ایک سال کے لیے محروم کردیا پھر اگلے سال ان کو عطیہ عطا فرمایا۔
حدیث نمبر: 40033
٤٠٠٣٣ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن سلمة بن كهيل عن أبي إدريس عن المسيب بن (نجبة) (١) عن علي بن أبي طالب قال: من أدرك ذلك الزمان فلا يطعن برمح ولا يضرب بسيف ولا يوم بحجر، واصبروا فإن العاقبة للمتقين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب سے روایت ہے ارشاد فرمایا : جو آدمی یہ زمانہ پائے تو نہ تیروں سے مارے اور نہ تلوار سے مارے اور نہ پتھر (کسی کی طرف) پھینکے اور صبر کرو بلاشبہ اچھا انجام پرہیزگاروں کے لیے ہے۔
حدیث نمبر: 40034
٤٠٠٣٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا ابن عون عن عمير بن إسحاق قال: سمعت أبا هريرة يقول: ويل للعرب من شر قد اقترب، (أظلت) (١) ورب الكعبة (أظلت) (٢)، واللَّه لهي أسرع إليهم من الفرس المضمّر السريع، الفتنة العمياء الصماء المشبهة، يصبح الرجل فيها على أمر ويمسي على أمر، القاعد فيها خير من القائم، والقائم فيها خير من الماشي، والماشي فيها خير من الساعي، ولو أحدثكم بكل الذي أعلم لقطعتم عنقي من هاهنا، وأشار (عبد اللَّه) (٣) إلى قفاه -يحرف كفه (يحزه) (٤) ويقول: اللهم لا يدرك أبا هريرة إمرةُ الصبيان (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن اسحاق سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا : میں نے حضرت ابوہریرہ کو فرماتے ہوئے سنا ہلاکت ہے، عرب کے لیے ایسی برائی سے جو قریب ہوچکی قریب ہوگی رب کعبہ کی قسم قریب ہوگی اللہ کی قسم وہ ان کو تیز رفتار دبلے گھوڑے سے بھی جلدی پہنچے گی۔ اندھا بہرا اشتباہ میں ڈالنے والا فتنہ ہوگا اس میں یک آدمی ایک امر پر جمع کرے گا اور دوسرے امر پر شام کرے گا اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا اس میں چلنے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں چلنے والا اس میں کوشش کرنے والے سے بہتر ہوگا اگر میں تم سے تمام وہ باتیں بیان کروں جو میں جانتا ہوں تو تم میری گردن یہاں سے کاٹ دو (یہ کہتے ہوئے) حضرت عبداللہ نے اشارہ کیا اپنی گدی کی طرف اپنی ہتھیلی کے کنارے سے اسے حرکت دیتے ہوئے اور فرمایا اے اللہ ! ابوہریرہ کو بچوں کی امارت (کا زمانہ) نہ پالے۔
حدیث نمبر: 40035
٤٠٠٣٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: ويل للعرب من شر قد اقترب، قد أفلح من كف يده (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا ہلاکت ہے عرب کے لیے ایسی برائی سے جو قریب ہوچکی (اس سے) فلاح پائے گا وہ آدمی جس نے اپنے ہاتھ کو روکا۔
حدیث نمبر: 40036
٤٠٠٣٦ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن منخل بن (غضبان) (١) قال: صحبت عاصم بن عمرو البجلي فسمعته يقول يا ابن أخي! إذا فتح باب المغرب لم يغلق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منخل بن غضبان سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں حضرت عاصم بن عمرو بجلی کے ساتھ رہا میں نے ان کو فرماتے ہوئے سنا اے بھتیجے جب مغرب کا دروازہ کھول دیا جائے گا تو اسے بند نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 40037
٤٠٠٣٧ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبد اللَّه بن المخارق بن سُلَيم عن أبيه قال: قال علي: إني لا أرى هؤلاء القوم إلا ظاهرين عليكم (لتفرقكم) (١) ⦗٢٤١⦘ عن حقكم واجتماعهم على باطلهم، كان الإمام ليس (بشاقٍ) (٢) (شعرة) (٣)، وإنه يخطئ ويصيب، فإذا كان عليكم إمام يعدل في الرعية ويقسم بالسوية فاسمعوا له وأطيعوا، وإن الناس لا يصلحهم إلا إمام بر أو فاجر، فإن كان برا فللراعي وللرعية، وإن كان فاجرا عبد فيه المؤمن ربه وعمل فيه الفاجر إلى أجله، وإنكم ستعرضون على سبي، وعلى البراءة مني، فمن سبني فهو في حل من سبي، ولا تبرؤا من ديني فإني على الإسلام (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا میں ان لوگوں کے بارے میں سمجھتا ہوں کہ یہ تم پر غالب آجائیں گے تمہارے حق پر اختلاف اور ان کے باطل پر اجتماع کی وجہ سے اور امام مال کو پھاڑنے والا تو نہیں ہوتا بلاشبہ وہ غلطی بھی کرتا ہے اور درستگی تک بھی پہنچ جاتا ہے پس اگر تمہارے اوپر ایسا امام مقرر ہو جو رعایا میں انصاف کرے اور برابر تقسیم کرے پس اس کی بات سنو اور اطاعت کرو اور بلاشبہ لوگوں کی اصلاح نہیں کرتا مگر امام نیک ہو یا فاجر پس اگر وہ نیک ہے تو نگہبان اور رعایا کے لیے ہے اور اگر فاجر ہے اس کے زمانے میں مومن اپنے رب کی عبادت کرے گا اور فاجر اپنے مقررہ وقت تک عمل کرے گا اور بلا شبہ تم سے عنقریب مجھے برا بھلا کہنے اور مجھ سے براءت کا مطالبہ کیا جائے گا جس آدمی نے مجھے برا بھلا کہا تو میرے لیے بھی اس کو برا بھلا کہنا درست ہے اور میرے دین سے براءت کا اظہار نہ کرنا کیونکہ میں اسلام پر ہوں۔
حدیث نمبر: 40038
٤٠٠٣٨ - (حدثنا) (١) (٢) معاوية بن هشام عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن كثير ابن (نمر) (٣) قال: جاء رجل برجال إلى علي فقال: إني رأيت هؤلاء يتوعدونك ففروا، وأخذت هذا، قال: أفأقتل من لم يقتلي؟ قال: إنه سبك، قال: سبه أو دع (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کثیر بن نمر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ایک آدمی چند آدمیوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر آیا اور کہا میں نے ان کو دیکھا ہے کہ آپ کو دھمکی دے کر بھاگ رہے تھے اور میں نے اس کو پکڑ لیا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کیا میں قتل کروں ایسے آدمی کو جس نے مجھے قتل نہیں کیا اس آدمی نے کہا اس نے آپ کو برا بھلا کہا ہے تو انہوں نے ارشاد فرمایا اسے برا بھلا کہو یا چھوڑ دو ۔
حدیث نمبر: 40039
٤٠٠٣٩ - حدثنا يحيى بن عيسى عن الأعمش عن (شمر) (١) عن رجل قال: كنت عريفا في زمان علي، قال: فأمرنا بأمر فقال: أفعلتم ما أمرتكم؟ قلنا: (٢) لا، قال: واللَّه لتفعلن ما تؤمرون به أو ليركبن أعناقَكم اليهود والنصارى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش شمر سے اور وہ ایک صاحب سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا میں نگران تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ان صاحب نے بتایا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا اور ارشاد فرمایا بخدا تم ضرور بالضرور کرو گے وہ اعمال جن کا تمہیں حکم دیا جائے گا وگرنہ تمہاری گردنوں پر یہود و نصاری کو سوار کردیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 40040
٤٠٠٤٠ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن يحيى وعبيد اللَّه وابن إسحاق عن عبادة ابن الوليد بن عبادة بن (الصامت) (١) عن أبيه عن جده قال: بايعنا رسول اللَّه ﷺ على السمع والطاعة في العسر واليسر والمنشط والمكره وعلى أثرة علينا وعلى أن لا ننازع الأمر أهله، وعلى أن نقول بالحق أينما كنا لا نخاف في اللَّه لومة لائم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ہم نے رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی سننے اور اطاعت پر تنگی میں اور سہولت میں خوشی میں اور زبردستی کی حالت میں اور ہم پر ترجیح دی جانے کی صورت میں اور اس بات پر کہ ہم حکومت والوں سے جھگڑا نہیں کریں گے اور اس بات پر کہ ہم حق بات کہیں گے جہاں پر ہم ہوں اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔
حدیث نمبر: 40041
٤٠٠٤١ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن محمد بن عجلان عن (بكير) (١) بن عبد اللَّه بن الأشج قال: قال عبادة بن الصامت لجنادة بن أبي أمية الأنصاري: تعال حتى أخبرك ماذا لك؟ وماذا عليك؟ (إن عليك) (٢) السمع والطاعة في عسرك وشرك ومنشطك ومكرهك والأثرة (٣) عليك وأن تقول بلسانك، وأن لا تنازع الأمر أهله إلا أن ترى كفرا براحا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن صامت نے حضرت جنادہ بن ابو امیہ انصاری سے فرمایا آؤ میں تمہیں خبردیتا ہوں کہ کیا تمہارے لیے ہے اور کیا تم پر لازم ہے سننا اور اطاعت کرنا اپنی تنگی اور آسانی میں اور خوشی میں اور نا پسندیدگی کی حالت میں اور تم پر ترجیح دی جانے کی صورت میں اور یہ کہ تو اپنی زبان سے کہے اور نہ تو جھگڑا کر حکومت والوں سے مگر یہ کہ تو دیکھے واضح کفر کو۔
حدیث نمبر: 40042
٤٠٠٤٢ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن إسماعيل عن قيس (عن) (١) جرير قال: قال ذو عمرو: يا جرير! إن بك علي كرامة وإني مخبرك خبرا: (إنكم) (٢) معشر العرب لن تزالوا بخير ما كنتم إذا هلك أمير تأمرتم في آخر، فإذا كانت بالسيف غضبتم غضب الملوك ورضيتم رضا الملوك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت ذو عمرو نے فرمایا اے جریر آپ کو مجھ پر شرافت حاصل ہے اور میں آپ کو ایک خبر دینے والا ہوں تم اے عرب کی جماعت ! مسلسل تم خیر پر رہو گے جب تک تم ایسے رہو گے کہ جب ایک امیر فوت ہوگا تو دوسرے کو امیر بنا لو گے جب یہ امارت تلوار کے ذریعے سے حاصل ہوگی تو تم غصہ کرو گے بادشاہوں کے غصہ کی طرح اور تم راضی ہو گے بادشاہوں کے راضی ہونے کی طرح۔
حدیث نمبر: 40043
٤٠٠٤٣ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حسن بن فرات عن أبيه عن أبي (حازم) (١) عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن بني اسرائيل كانت تسوسهم أنبياؤهم، كلما ذهب نبي خَلَفه نبي، وإنه ليس كائنا فيكم نبي بعدي"، قالوا: فما يكون يا رسول اللَّه؟ قال: "يكون خلفاء وتكثر"، قالوا: فكيف نصنع؟ قال: "أوفوا ببيعة الأول فالأول، أدوا الذي عليكم فسيسألهم اللَّه عن الذي عليهم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ بنی اسرائیل کی قیادت ان کے انبیائ ۔ کرتے تھے جب بھی کوئی نبی دنیا سے چلے جاتے دوسرے نبی ان کے نائب ہوجاتے اور بلا شبہ میرے بعد تمہارے اندر کوئی نبی نہیں ہوگا صحابہ کرام نے عرض کیا کیا ہوگا اللہ کے رسو ل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا : خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے صحابہ کرام نے عرض کیا ہم کیسے معاملے کریں آپ نے فرمایا : ایک کے بعد دوسرے کی بیعت کو پورا کرو اور جو تم پر لازم ہو اس کو ادا کرنا اور جو ان پر لازم ہے وہ عنقریب اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا۔
حدیث نمبر: 40044
٤٠٠٤٤ - حدثنا أبو الأحوص (عن سماك) (١) عن علقمة بن وائل قال: قام سلمة الجعفي إلى رسول اللَّه ﷺ فقال: يا رسول اللَّه أرأيت إن كان علينا من بعدك قوم يأخذوننا بالحق ويمنعون حق اللَّه، قال: فلم يجبه (النبي ﵊ (٢) بشيء، قال: ثم قام الثانية فلم يجبه النبي ﷺ بشيء، ثم قام الثالثة، فقال رسول اللَّه ﷺ: " (عليهم ما حملوا وعليكم ما حملتم) (٣) فاسمعوا لهم وأطيعوا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ بن وائل سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت سلمہ جعفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں کھڑے ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے بتلائںِ کہ اگر آپ کے بعد ہم پر ایسے لوگ ہوں جو ہم سے حق لے لیں اور اللہ کا حق روکتے ہوں آپ نے ان کا کچھ بھی جواب نہ دیا راوی فرماتے ہیں پھر دوسری مرتبہ کھڑے ہوئے پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب نہ دیا پھر تیسری مرتبہ کھڑے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان پر وہ لازم ہے جو وہ بوجھ لادے گئے اور تم پر لازم ہے جو تم بوجھ لادے گئے ہو پس ان کی بات سنو اور اطاعت کرو۔
حدیث نمبر: 40045
٤٠٠٤٥ - حدثنا شبابة عن شعبة عن سماك عن علقمة بن وائل (عن أبيه) (١) عن النبي ﷺ بمثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ بن وائل اپنے والد سے اسی (مذکورہ روایت) کی مثل نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 40046
٤٠٠٤٦ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد اللَّه بن عثمان عن نافع بن (سرجس) (١) عن أبي هريرة قال: أظلتكم الفتن كقطع الليل المظلم، أنجى الناس فيها صاحب شاهقة؛ يأكل من رسل غنمه، أو رجل من وراء الدرب آخذ بعنان فرسه، يأكل من (فيء) (٢) سيفه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا تمہارے قریب ہوں گے فتنے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ان فتنوں میں لوگوں میں سب سے زیادہ نجات پانے والا پہاڑ کی چوٹی پر رہنے والا وہ شخص ہے جو اپنی بکریوں کے ریوڑ سے غذا حاصل کرتا ہے یا وہ شخص جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے اپنی تلوار کی غنیمت سے کھا تا ہے۔
حدیث نمبر: 40047
٤٠٠٤٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن سليمان عن أبي صالح قال: قال لي أبو هريرة: إن استطعت أن تموت فمت، قال: قلت: لا أستطيع أن أموت قبل أن يجيء أجلي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح سے روایت ہے انہوں نے فرمایا مجھ سے حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا اگر تم سے ہوسکتا ہے کہ تجھے موت آجائے تو مرجانا ابو صالح نے فرمایا میں نے عرض کیا میں مرنے کی طاقت نہیں رکھتا اپنی مقرر مدت آنے سے پہلے۔
حدیث نمبر: 40048
٤٠٠٤٨ - حدثنا أبو الأحوص عن الأعمش عن زيد بن وهب عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنه ستكون بعدي إثرة وأمور تنكرونها"، قال: فقلت: يا رسول اللَّه! ما تأمر من أدرك منا ذلك؟ قال: "تعطون الحق الذي عليكم وتسألون اللَّه الذي لكم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ عنقریب میرے بعد (تم پر دوسروں کو) ترجیح ہوگی اور ایسے امور ہوں گے جنہیں تم ناپسند سمجھتے ہو راوی نے فرمایا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سے جو یہ صورتحال پالے اسے آپ کیا حکم دیتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا جو تم پر ہے اسے تم دو اور جو تمہارے لیے ہے وہ اللہ تعالیٰ سے مانگو۔
حدیث نمبر: 40049
٤٠٠٤٩ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا فضيل بن غزوان عن عكرمة عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ في حجة الوداع: "أيها الناس! أي يوم هذا؟ " قالوا: يوم حرام، قال: "فأي بلد هذا؟ " قالوا: بلد حرام، قال: "فأي شهر هذا؟ " قالوا: شهر حرام، قال: "فإن (أموالكم ودماءكم) (١) وأعراضكم عليكم حرام ⦗٢٤٥⦘ كحرمة يومكم هذا، في بلدكم هذا، في شهركم هذا" -ثم أعادها مرارا، قال: ثم رفع رأسه إلى السماء فقال: "اللهم هل بلغت؟ "- مرارا، قال يقول ابن عباس: واللَّه إنها لوصيته إلى ربه، ثم قال: "ألا فليبلغ الشاهد الغائب: لا ترجعوا بعدي كفارا، يضرب بعضكم رقاب بعض" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا اے لوگو یہ کونسا دن ہے لوگوں نے عرض کیا یوم حرام (حرمت والا دن) آپ نے پوچھا یہ کونسا شہر ہے لوگوں نے عرض کیا حرمت والا شہر آپ نے پوچھا یہ کونسا مہینہ ہے لوگوں نے عرض کیا حرمت والا مہینہ ہے آپ نے ارشاد فرمایا بلا شبہ تمہارے اموال اور تمہارے خون اور تمہاری عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں تمہارے اس دن کی حرمت کی طرح اس شہر میں تمہارے اس مہینے میں پھر اس فرمان کو کئی مرتبہ دہرایا پھر اپنے سر کو آسمان کی طرف اٹھایا اور ارشاد فرمایا اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا یہ فرمان کئی مرتبہ دہرایا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ ارشاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنے رب سے مناجات تھا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا : یہ پیغام حاضر غائب کو پہنچائے میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
حدیث نمبر: 40050
٤٠٠٥٠ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا ابن عون عن ابن سيرين قال: كان محمد ابن أبي حذيفة مع كعب في سفينة فقال لكعب ذات يوم: يا كعب! أتجد هذه في التوراة كيف تجري وكيف وكيف؟ فقال له كعب: لا تسخر من التوراة، فإنها كتاب اللَّه، (وإن ما) (١) فيها حق، قال: فعاد فقال له مثل ذلك، فعاد فقال له مثل ذلك ثم قال: (لا) (٢)، ولكن أجد فيها أن رجلًا من قريش أشط الناب، ينزو في الفتنة كما ينزو (الحمار) (٣) (في قيده) (٤) فاتق اللَّه ولا تكن أنت هو، قال محمد: فكان هو.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت محمد بن ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ کشتی میں حضرت کعب احبار کے ساتھ تھے حضرت محمد بن ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت کعب سے ایک دن کہا اے کعب کیا ہم اس (یعنی کشتی) کے بارے میں تورات کے اندر پاتے ہیں کہ کیسے چلتی ہے اور کیسے اور کیسے ؟ ان سے کعب احبار نے فرمایا تو رات کے بارے میں مذاق نہ کرو یہ اللہ کی کتاب ہے اور اس میں جو ہے وہ حق ہے راوی کہتے ہیں حضرت محمد بن ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دوبارہ دہرایا حضرت کعب نے اسی طرح ارشاد فرمایا پھر انہوں نے اس بات کو دہرایا حضرت کعب نے ان سے یہی فرمایا نہیں لیکن اس میں یہ پاتا ہوں کہ بلا شبہ قریش میں سے ایک آدمی ہوگا زائد نوکیلے دانت والا وہ فتنے میں ایسے کودے گاجی سے گدھا اپنی رسی میں کودتا ہے پس اللہ سے ڈر اور تو وہ آدمی نہ بن محمد بن سیرین راوی فرماتے ہیں وہ وہی تھے۔
حدیث نمبر: 40051
٤٠٠٥١ - حدثنا غندر عن شعبة عن علي بن مدرك قال: سمعت عبد اللَّه بن رواع قال: ذكرت الفتنةُ عند ابن مسعود، قال: ادخل بيتك، فإن دخل عليك فكن كالبعير الثفال، لا ينبعث إلا كارها، ولا يمشي إلا كارها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن رواع سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود کے پاس فتنے کا تذکرہ کیا گیا ارشاد فرمایا اپنے گھر میں داخل ہوجانا اور اگر گھر میں تجھ پر کوئی داخل ہوجائے تو سست رفتار اونٹ کی طرح ہوجانا جو اٹھتا نہیں مگر زبردستی اور نہیں چلتا مگر زبر دستی۔
…