کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 39972
٣٩٩٧٢ - حدثنا شريك عن أبي حصين عن الشعبي (أن رجلًا) (١) (قال) (٢): (يا لضبة) (٣) قال: فكتب إلى عمر، قال: فكتب إليه عمرِ: أن عاقبه، أو قال: أدبه، فإن ضبة لم يدفع عنهم سوءا قط، ولم يجر إليهم (خيرًا) (٤) قط (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے یا لضبۃ کہہ کر ضبہ سے فریاد رسی کی حضرت شعبی نے فرمایا اس سلسلے میں حضرت عمر کی طرف خط لکھا گیا راوی فرماتے ہیں حضرت عمر نے جواب میں لکھا اس کو سزا دو یا فرمایا اس کو ادب سکھاؤ بلا شبہ ضبہ نے کبھی بھی ان سے کوئی برائی دو ر نہیں کی اور نہ ہی کھینچا ان کی طرف خیروبھلائی کو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39972
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39972، ترقيم محمد عوامة 38344)
حدیث نمبر: 39973
٣٩٩٧٣ - حدثنا ابن علية عن الجريري عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري قال: حدثنا زيد بن ئابت عن رسول اللَّه ﷺ قال: "تعوذوا باللَّه من الفتن ما ظهر منها وما بطن"، (قلنا: نعوذ باللَّه من الفتن ما ظهر منها وما بطن) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ہم سے حضرت زید بن ثابت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا آپ نے ارشاد فرمایا : فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو جو ظاہری فتنے ہیں اور جو پوشیدہ ہیں ہم نے عرض کیا ہم پناہ مانگتے ہیں اللہ کی فتنوں سے جو ان میں ظاہری فتنے ہیں اور جو باطنی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39973
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٦٧)، وأحمد (٢١٦٥٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39973، ترقيم محمد عوامة 38345)
حدیث نمبر: 39974
٣٩٩٧٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب عن عبد اللَّه قال: لما بعث (عثمان إليه) (١) يأمره بالخروج إلى المدينة اجتمع الناس إليه فقالوا له: أقم، لا تخرج، فنحن نمنعك، لا يصل إليك منه شيء تكرهه، فقال عبد اللَّه: إنها ستكون أمور وفق، (لا) (٢) أحب أن أكون أنا أول من فتحها وله علي (طاعة) (٣)، قال: فرد الناس وخرج إليه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان نے ان کو مدینہ کی طرف نکلنے کا حکم دیا لوگ آپ کے پاس جمع ہوگئے اور ان سے کہا ! آپ رکیے ہم آپ کی حفاظت کریں گے اور آپ کو کوئی ناپسندیدہ امر نہیں پہنچے گا حضرت عبد اللہ نے فرمایا بلا شبہ عنقریب کچھ امور اور فتنے ہوں گے میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں ان کو کھولنے والوں میں سے پہلا ہوجاؤں ان کے لیے مجھ پر اطاعت کا حق ہے راوی فرماتے ہیں انہوں نے لوگوں کو واپس کردیا اور حضرت عثمان کے حکم کے مطابق نکل گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39974
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن عبد البر في الاستذكار ٣/ ٩٩٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39974، ترقيم محمد عوامة 38346)
حدیث نمبر: 39975
٣٩٩٧٥ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا الأعمش عن المسيب بن رافع عن (يسير) (١) بن عمرو قال: شيعنا (أبا) (٢) مسعود حين خرج، فنزل في طريق القادسية فدخل بستانا، فقضى الحاجة ثم توضأ ومسح على جوربيه، ثم خرج وإن لحيته ليقطر منها الماء، فقلنا له: أعهد إلينا، فإن الناس قد وقعوا في الفتن، ولا ندري هل نلقاك أم لا؟ قال: اتقوا اللَّه واصبروا حتى يستريح بر أو يستراح من فاجر، وعليكم بالجماعة، فإن اللَّه لا يجمع أمة محمد على ضلالة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یسیر بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ہم حضرت ابن مسعود کے ہم نوا تھے جب وہ نکلے پس وہ قادسیہ کے راستے میں اترے پس داخل ہوئے باغ میں قضاء حاجت کی پھر وضو فرمایا اور اپنی جرابوں پر مسح کیا پھر نکلے اس حال میں کہ پانی کے قطرات ان کی داڑھی سے سے ٹپک رہے تھے ہم نے ان سے عرض کیا ہمیں نصیحت کریں کیونکہ لوگ فتنوں میں پڑگئے ہیں اور ہمیں معلوم نہیں ہم آپ سے ملیں گے یا نہیں انہوں نے ارشاد فرمایا اللہ سے ڈرو اور صبر کرو یہاں تک کہ نیک آدمی راحت پائے یا فاسق فاجر سے راحت پالی جائے اور لازم ہے تم پر جماعت بلا شبہ اللہ تعالیٰ امت محمد کو گمراہی پر جمع نہیں کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39975
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن عساكر ٤٠/ ٥٢٤، والخطيب في الموضح ١/ ٣٩٢، والطبراني ١٧/ (٦٦٧)، وإسحاق كما في المطالب (٤٣٤٠)، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٢٧٧، والبيهقي في الشعب (٧٥١٧)، واللالكائي (١٦٢)، والحاكم ٤/ ٥٥٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39975، ترقيم محمد عوامة 38347)
حدیث نمبر: 39976
٣٩٩٧٦ - حدثنا أبو أسامة عن زائدة عن الأعمش عن (شمر) (١) بن عطية عن أنس بن مالك قال: إنها ستكون ملوك ثم جبابرة ثم الطواغيت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا بلا شبہ آئندہ ہوں گے بادشاہ پھر ظالم لوگ پھر سرکش لوگ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39976
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39976، ترقيم محمد عوامة 38348)
حدیث نمبر: 39977
٣٩٩٧٧ - حدثنا أبو أسامة عن زائدة عن الأعمش عن أبي سفيان عن عبيد بن عمير قال: خرج رسول اللَّه ﷺ (إلى) (١) أهل الحجرات فقال: " (يا أهل الحجرات) (٢) سعرت النار وجاءت الفتن كأنها قطع الليل المظلم، لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجرات میں رہنے والوں کی طرف نکلے اور ارشاد فرمایا اے حجروں میں رہنے والو ! جہنم کی آگ بھڑ کا دی جائے گی اور فتنے آئیں گے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح اگر تم جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم تھوڑا ہنستے اور زیادہ روتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39977
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عبيد تابعي، وأخرجه هناد (٤٧٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39977، ترقيم محمد عوامة 38349)
حدیث نمبر: 39978
٣٩٩٧٨ - حدثنا أبو أسامة عن بن مبارك ومفضل بن يونس عن الأوزاعي عن حسان بن عطية عن أبي إدريس قال: إنها فتن قد أظلت كجباه البقر يهلك فيها أكثر الناس إلا من كان (يعرفها) (١) قبل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا فتنے ہوں گے جو گائے کی پیشانی کی طرح ہوں گے ان میں اکثر لوگ ہلاک ہوں گے مگر وہ جو ان کو ان کے وقوع سے پہلے جانتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39978
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39978، ترقيم محمد عوامة 38350)
حدیث نمبر: 39979
٣٩٩٧٩ - حدثنا أبو أسامة (١) عن (مجالد) (٢) عن أبي السفر عن رجل من بني عبس قال: قال لنا حذيفة: كيف أنتم إذا (ضيع) (٣) اللَّه أمر أمة محمد ﷺ، فقال رجل: ما تزال تأتينا (بمنكرة) (٤)، (يضيع) (٥) اللَّه أمر أمة محمد؟ قال: أرأيتم إذا وليها من لا يزن عند اللَّه جناح بعوضة: أفترون أمر أمة محمد ضاع يومئذ (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو السفر بنی عبس کے ایک صاحب سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا ہم سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا تمہاری کیا حالت ہوگی جب اللہ تعالیٰ امت محمد یہ کے معاملے کو ضائع کردیں گے ایک آدمی نے کہا آپ ہم سے ہمیشہ ایسی ہی ناپسندیدہ باتیں بیان کرتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کے امر کو ضائع کردیں گے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا مجھے بتلاؤ تو سہی جب ان کا والی ایسا آدمی ہوگا جس کا وزن (قدرو منزلت) اللہ تعالیٰ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہوگا تو کیا خیال ہے تمہارا امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دینی امر اس دن ضائع نہیں ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39979
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39979، ترقيم محمد عوامة 38351)
حدیث نمبر: 39980
٣٩٩٨٠ - حدثنا عفان وأسود بن عامر قالا: أخبرنا حماد بن سلمة عن علي ⦗٢٢٣⦘ ابن زيد عن أبي (عثمان) (١) عن خالد بن (عرفطة) (٢) عن النبي ﷺ أنه قال: "يا خالد إنها ستكون أحداث واختلاف" -وقال عفان: وفرقة- "فإذا كان ذلك فإن استطعت أن تكون المقتول لا القاتل"، قال عفان: فافعل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن عرفطہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ارشاد فرمایا اے خالد بلاشبہ آئندہ نئی باتیں اور اختلافات ہوں گے عفان راوی فرماتے ہیں یہ بھی فرمایا اور فرقت یعنی جدائی بھی ہوگی پس جب یہ ہوجائے تو اگر تم سے ہوسکے کہ تو مقتول ہو قاتل نہ ہو (عفان راوی نقل کرتے ہیں) تو ایسا کرلینا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39980
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف علي بن زيد، أخرجه أحمد (٢٢٤٩٩)، والحاكم ٣/ ٢٨١، والبخاري في التاريخ ٣/ ١٣٨، وابن أبي عاصم في الآحاد (٦٤٦)، والطبراني (٤٠٩٦)، والبزار (٣٣٥٦/ كشف).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39980، ترقيم محمد عوامة 38352)
حدیث نمبر: 39981
٣٩٩٨١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن ثابت بن زيد عن أبي بردة قال: دخلت على محمد بن مسلمة فقلت له: رحمك اللَّه! إنك من هذا الأمر بمكان، فلو خرجت إلى الناس فأمرت ونهيت؟ فقال: إن رسول اللَّه ﷺ قال: "أنها ستكون فتنة وفرقة واختلاف، فإذا كان ذلك فات بسيفك أحدا فاضربه حتى تقطعه، ثم اجلس في بيتك حتى تأتيك يد خاطئة أو (منية) (١) قاضية"، فقد وقعت وفعلت ما قال لي رسول اللَّه ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا میں حضرت محمد بن مسلمہ کے پاس گیا میں نے ان سے عرض کیا اللہ آپ پر رحم فرمائے آپ اس معاملے میں اس مرتبے پر ہیں اگر آپ لوگوں کی طرف نکلیں آپ روکتے اور حکم دیتے تو انہوں نے ارشاد فرمایا بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عنقریب فتنے اور تفرق و اختلافات ہوں گے پس اگر ایسا ہو تو اپنی تلوار لے کر احد پہاڑ پر جانا تلوار اس پر مارنا یہاں تک کہ تو اسے توڑ دے پھر اپنے گھر مں پ بیٹھ جانا یہاں تک کہ تیرے پاس آئے کوئی غلطی کرنے والا ہاتھ یا فیصلہ کرنے والی موت پس ایسا ہوچکا ہے لہذا میں نے ایسا ہی کیا ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39981
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39981، ترقيم محمد عوامة 38353)
حدیث نمبر: 39982
٣٩٩٨٢ - حدثنا أبو أسامة عن زائدة عن هشام عن ابن سيرين قال: بلغني أن الشام لا تزال (مواءمة) (١) ما لم يكن (بدوها) (٢) من الشام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ بلاشبہ شام مسلسل موافق رہے گا جب تک کہ ان فتنوں کی ابتداء شام سے نہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39982
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39982، ترقيم محمد عوامة 38354)
حدیث نمبر: 39983
٣٩٩٨٣ - حدثنا علي بن حفص عن شريك عن عاصم عن عبد اللَّه بن عامر عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من مات ولا طاعة عليه مات ميتة جاهلية، ومن ⦗٢٢٤⦘ خلعها بعد عقده إياها فلا حجة له" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو موت آئے اس حال میں کہ اس پر کسی کی اطاعت لازم نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور جس آدمی نے اطاعت کے عقد کو باندھنے کے بعد توڑ دیا تو اس کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39983
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عاصم بن عبد اللَّه ضعيف، أخرجه أحمد (١٥٦٩٦)، والبزار (١٦٣٦/ كشف)، وأبو يعلى (٧٢٠١)، والخطيب في الفقيه والمتفقه ١/ ١٦٣، وعبد الرزاق (٣٧٧٩)، وابن عدي ٥/ ١٨٦٩، وابن أبي عاصم في السنة (١٠٥٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39983، ترقيم محمد عوامة 38355)
حدیث نمبر: 39984
٣٩٩٨٤ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا (١) الأحوص (بن) (٢) حكيم عن ضمرة بن حبيب عن القاسم بن عبد الرحمن قال: قال عاصم (البجلي) (٣): سلوا (بكيليكم) (٤)، يعني نوفا -عن الآية في شعبان، والحدثان في رمضان، والتمييز في شوال، و (الحس) (٥) -يعني القتل- (والمعمعة) (٦) في (ذي القعدة) (٧) (والقضاء في ذي الحجة) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بجلی نے ارشاد فرمایا اپنے بکالی سے پوچھو ان کی مراد نوف بکالی تھی شعبان میں نشانی رمضان میں نوجوانوں اور شوال میں تمیز اور قتل اور لڑائی کا شوروغل ذوالقعدہ میں اور ذی الحجہ میں فیصلے کے بارے میں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39984
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39984، ترقيم محمد عوامة 38356)
حدیث نمبر: 39985
٣٩٩٨٥ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا ابن جريج عن هارون بن أبي عائشة عن عدي بن عدي عن سلمان بن ربيعة عن عمر قال: إنها ستكون أمراء وعمال صحبتهم فتنة ومفارقتهم كفر، قال: قلت: اللَّه أكبر، أعد علي يا أمير المؤمنين! فرجت عني، فأعاد عليه، قال سلمان بن ربيعة: قال اللَّه: ﴿وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ﴾ [البقرة: ١٩١]، والفتنة أحب إلي من القتل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان بن ربیعہ حضرت عمر سے روایت کرتے ہیں کہ ارشاد فرمایا عنقریب امراء اور کام کرنے والے ہوں گے ان کی محبت فتنہ ہوگی اور ان سے جدائیگی کفر ہوگی راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اللہ اکبر دوبارہ سنائیں اے امیر المؤمنین اس سے میرا غم دور ہوا حضرت عمر نے دوبارہ ارشاد فرمایا حضرت سلمان بن ربیعہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا فتنہ زیادہ سخت ہے قتل سے اور فتنہ زیادہ پسندیدہ ہے مجھے قتل سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39985
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39985، ترقيم محمد عوامة 38357)
حدیث نمبر: 39986
٣٩٩٨٦ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام بن حسان عن محمد قال: دخل أبو مسعود الأنصاري على حذيفة في مرضه الذي مات فيه فاعتنقه فقال: الفراق، فقال: نعم، حبيب (١) جاء على فاقة (لا) (٢) أفلح من ندم (أليس) (٣) بعد ما أعلم من (الفتن) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں حضرت ابو مسعود انصاری حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ان کی مرض الوفات میں جبکہ وہ مرض ان کے ساتھ لازم ہوچکا تھا حضرت ابو مسعود انصاری نے پوچھا کیا فراق ہے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں دوست آیا ہے فاقے پر میں ندامت سے فلاح نہ پاؤں گا کیا میرے بعد فتنے نہیں ہوں گے جو میں جانتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39986
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39986، ترقيم محمد عوامة 38358)
حدیث نمبر: 39987
٣٩٩٨٧ - حدثنا أبو أسامة عن الأجلح عن قيس بن أبي مسلم عن ربعي عن حذيفة قال: ضرب لنا رسول اللَّه ﷺ أمثالا واحدا وثلاثة وخمسة وسبعة وتسعة وأحد عشر، وفسر لنا (منها) (١) واحدا وسكت عن سائرها، فقال: "إن قوما كانوا أهل ضعف ومسكنة فقاتلوا قوما أهل حيلة وعداء فظهروا عليهم فاستعملوهم وسلطوهم فأسخطوا ربهم عليهم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے لیے بہت سی مثالیں بیان فرمائیں ایک تین پانچ سات نو گیارہ اور ان میں سے ایک کی ہمارے سامنے وضاحت کی اور باقیوں سے خاموش رہے پس ارشاد فرمایا : بلاشبہ کچھ لوگ کمزو ری اور مسکنت والے تھے پس انہوں نے تدبیر اور دوڑ والے لوگوں سے لڑائی کی وہ ان پر غالب آگئے (یعنی تدبیر والے غالب آئے) اور ان کو اپنے کاموں میں لگا لیا اور ان پر مسلط ہوگئے پس انہوں نے اپنے رب کو اپنے اوپر ناراض کرلیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39987
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39987، ترقيم محمد عوامة 38359)
حدیث نمبر: 39988
٣٩٩٨٨ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا (العلاء) (١) بن عبد الكريم قال: حدثني أعرابي لنا قال: هاجرت إلى الكوفة فأخذت أعطية لي، ثم بدا في أن أخرج، فقال الناس: لا هجرة (لك) (٢)، فلقيت سويد بن غفلة فأخبرته بذلك فقال: لوددت أن ⦗٢٢٦⦘ لي حمولة وما أعيش به وأني في (بعض) (٣) هذه النواحي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علاء بن عبد الکریم فرماتے ہیں ہم سے ایک ہمارے دیہاتی نے بیان کیا اس نے بتایا کہ میں نے ہجرت کی کوفہ کی طرف اور میں نے اپنی بخششیں لیں پھر میرے سامنے یہ بات آئی کہ میں یہاں سے نکلوں لوگوں نے کہا تیرے لیے ہجرت نہیں ہے میں حضرت سوید بن غفلہ سے ملا میں نے ان کو اس بارے میں بتلایا پھر انہوں نے فرمایا میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے پاس صرف وہ چیزیں ہوں جن سے زندگی گزار سکوں اور میں گردو نواح کے علاقوں میں سے کسی میں رہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39988
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39988، ترقيم محمد عوامة 38360)
حدیث نمبر: 39989
٣٩٩٨٩ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا ثابت بن زيد قال: أنبأنا هلال بن خباب أبو العلاء قال: سألت سعيد بن جبير قلت: يا أبا عبد اللَّه ما علامة هلاك الناس؟ قال: إذا هلك علماؤهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھلال بن خباب ابو العلاء سے روایت ہے کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے پوچھا میں نے کہا اے ابو عبداللہ لوگوں کی ہلاکت کی علامت کیا ہے ارشاد فرمایا جب ان کے علماء ہلاک ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39989
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39989، ترقيم محمد عوامة 38361)
حدیث نمبر: 39990
٣٩٩٩٠ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا زائدة عن الأعمش عن يحيى بن وثاب قال: قال حذيفة: واللَّه لا يأتيهم أمر يضجون منه إلا أردفهم أمر يشغلهم عنه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا اللہ کی قسم نہیں آئے گا ان پر کوئی حال جس سے چیخ و پکار کریں گے مگر اس کے پیچھے آئے گا ایک ایسا حال جو ان کو پہلے سے مشغول کردے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39990
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39990، ترقيم محمد عوامة 38362)
حدیث نمبر: 39991
٣٩٩٩١ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن مكحول قال: ما بين الملحمة وفتح القسطنطينية وخروج الدجال إلا سبعة أشهر، وما ذاك إلا كهيئة العقد ينقطع فيتبع بعضه بعضًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول سے روا یت ہے ارشاد فرمایا نہیں ہے شدید گھمسان اور قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کے نکلنے کے درمیان مگر سات ماہ اور نہیں ہوگا یہ مگر ہار کی طرح جب وہ ٹوٹ جائے تو موتی ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں (یعنی یکے بعد دیگرے یہ واقعات ہوں گے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39991
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39991، ترقيم محمد عوامة 38363)
حدیث نمبر: 39992
٣٩٩٩٢ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن مكحول أن معاذ بن جبل قال: عمران بيت المقدس خراب يثرب (وخراب يثرب) (١) خروج الملحمة، وخروج الملحمة فتح القسطنطينية، وفتح القسطنطينية خروج الدجال، ثم ضرب بيده على منكب رجل وقال: واللَّه إن ذلك لحق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے ارشاد فرمایا بیت المقدس کی آبادی یثرب کی بربادی ہے اور لڑائی کا وقوع قسطنطنیہ شہر کی فتح ہے اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کا خروج ہے پھر آپ نے ایک آدمی کے کندھے پر ہاتھ مارا اور فرمایا اللہ کی قسم بلا شبہ یہ حق ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39992
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39992، ترقيم محمد عوامة 38364)
حدیث نمبر: 39993
٣٩٩٩٣ - حدثنا وكيع عن أبيه عن الهزهاز عن (يثيع) (١) قال: إذا رأيت الكوفة حوط عليها حائط فأخرج منها ولو (حبوا) (٢) يردها كمت الخيل ودهم الخيل حتى يتنازع الرجلان في المرأة يقول هذا: في طرفها، ويقول هذا: لي ساقها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثییع بن معدان الکوفی فرماتے ہیں جب تو دیکھے کوفہ کے گرددیوارقائم کردی گئی پس وہاں سے نکل کھڑے ہونا اگرچہ گھسٹ کر ہی کیوں نہ ہو وہاں سرخ سیاہ گھوڑے اور سیاہ گھوڑے آئیں گے یہاں تک کہ دو آدمی ایک عورت کے بارے میں جھگڑا کریں گے یہ کہے گا میرے لیے اس کی یہ طرف ہے اور یہ دوسرا کہے گا میرے لیے اس کی پنڈلی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39993
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39993، ترقيم محمد عوامة 38365)
حدیث نمبر: 39994
٣٩٩٩٤ - حدثنا وكيع عن سفيان (١) عن منذر عن بن الحنفية (قال) (٢): لو أن عليا أدرك أمرنا هذا كان هذا موضع (رحله) (٣) -يعني الشعب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن الحنفیہ نے ارشاد فرمایا اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے اس امر کو پالیں تو یہ ان کے کوچ کا موقع ہوتا ان کی مراد تھی گھاٹی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39994
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39994، ترقيم محمد عوامة 38366)
حدیث نمبر: 39995
٣٩٩٩٥ - حدثنا أبو أسامة عن الجريري (عن أبي العلاء) (١) عن عبد الرحمن بن (صحار) (٢) عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تقوم الساعة حتى يخسف بقبائل حتى يقال للرجل من بني فلان"، قال: فعرفت أن العرب تدعى إلى (قبائلها) (٣)، وأن المعجم تدعى إلى قراها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صحار سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ قبائل کو (زمین میں) دھنسا نہ دیا جائے یہاں تک کہ کسی آدمی سے پوچھا جائے گا فلاں کی اولاد میں سے کون باقی ہے راوی حضرت صحار فرماتے ہیں میں نے پہچان لیا کہ عرب اپنے قبائل کی طرف بلائے جائیں گے اور بلاشبہ عجم اپنی بستیوں کی طرف جائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39995
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39995، ترقيم محمد عوامة 38367)
حدیث نمبر: 39996
٣٩٩٩٦ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الحسن بن عمرو عن أبي الزبير عن عبد اللَّه بن عمرو قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن في أمتي خسفا ⦗٢٢٨⦘ ومسخا وقذفا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا بلاشبہ میری امت میں زمین میں دھنسایا جانا اور چہروں کا بدلنا اور سنگ باری ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39996
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39996، ترقيم محمد عوامة 38368)
حدیث نمبر: 39997
٣٩٩٩٧ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن زينب بنت أبي سلمة عن (حبيبة) (١) عن أم حبيبة عن زينب بنت جحش أنها قالت: استيقظ رسول اللَّه ﷺ من نومه محمرًا وجهه، وهو يقول: "لا إله إلا اللَّه، ويل للعرب من شر قد اقترب، فتح اليوم من ردم يأجوج ومأجوج"، وعقد بيده -يعني عشرة- قالت زينب: قلت: يا رسول اللَّه أنهلك وفينا الصالحون؟ قال: "نعم، إذا ظهر الخبث" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زینب بنت حجش سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی نیند سے بیدار ہوئے اس حال میں کہ آپ کا چہرہ سرخ تھا اور یہ ارشاد فرما رہے تھے، لا الہ الا اللہ عرب کے لے قریب کے شرو برائی سے ہلاکت ہے آج یاجوج وماجوج کی دیوار سے کچھ کھول لیا گیا اور اپنے ہاتھ سے دس کا عدد بنایا جس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کا کنارے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے موڑ کے درمیان میں رکھ کر حلقہ بنایا جائے حضرت زینب فرماتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ہم اس حال میں ہلاک ہوسکتے ہیں جبکہ نیک لوگ ہمارے اند ر موجود ہوں آپ نے ارشاد فرمایا ہاں جب خباثت ظاہر ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39997
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٧٤١٣)، ومسلم (٢٨٨٠)، وأصله في البخاري (٣٣٤٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39997، ترقيم محمد عوامة 38369)
حدیث نمبر: 39998
٣٩٩٩٨ - حدثنا ابن عيينة عن جامع عن منذر عن الحسن بن (محمد) (١) عن امرأة عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا ظهر السوء في الأرض أنزل اللَّه بأهل الأرض بأسه"، قلت: يا رسول اللَّه! وفيهم أهل طاعة اللَّه؟ قال: "نعم ثم يصيرون إلى رحمة اللَّه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب زمین میں برائی ہوتی ہے تو اللہ زمین والوں پر اپنا عذاب اتارتے ہیں پھر فرماتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسو ل اس حا ل میں بھی کہ ان میں اللہ کی اطاعت کرنے والے ہوں آپ نے ارشاد فرمایا : ہاں پھر وہ اللہ کی رحمت کی طرف چلے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39998
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39998، ترقيم محمد عوامة 38370)
حدیث نمبر: 39999
٣٩٩٩٩ - حدثنا يونس بن محمد عن ليث بن سعد عن يزيد عن أبي سنان عن أنس عن النبي ﷺ قال: "بين يدي الساعة فتن كقطع الليل المظلم، يصبح الرجل مؤمنا ويمسي كافرا، (ويصبح كافرا ويمسي مؤمنا) (١)، ويبيع قوم ⦗٢٢٩⦘ دينهم بعرض الدنيا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ارشاد فرمایا قیامت سے پہلے فتنے ہوں گے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح صبح کو آدمی مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوجائے گا اور صبح کو کافر ہوگا اور شام کے وقت مسلمان ہوجائے گا کچھ لوگ اپنے دین کو دنیوی سامان کے بدلے میں بیچیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39999
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ أبو سنان سعد بن سنان ضعيف، أخرجه الترمذي (٢١٩٧)، والحاكم ٤/ ٤٣٨، والفريابي في صفة المنافق (١٠٤)، وأبو يعلى (٤٢٦٠)، وابن البخاري في مشيخته ٣/ ١٨٤٢، وابن عدي ٣/ ٣٥٦، وابن عساكر ٥٤/ ٤٠٦، ونعيم في السنن الورادة في الفتن (٤٨)، والذهبي في أعلام النبلاء ٨/ ١٣٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39999، ترقيم محمد عوامة 38371)
حدیث نمبر: 40000
٤٠٠٠٠ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل عن بيان عن قيس أن رسول اللَّه ﷺ رفع رأسه إلى السماء ثم قال: "سبحان اللَّه، ترسل عليهم الفتن إرسال (١) القطر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا پھر فرمایا سبحان اللہ ان پر فتنے بیجے ن گئے ہیں بارش کی بوندوں کے بھیجے جانے کی طرح۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40000
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ قيس تابعي، أخرجه ابن أبي شيبة في المسند (٦٤٧)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٦٧٨)، وابن الأثير ٦/ ٣٤٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40000، ترقيم محمد عوامة 38372)
حدیث نمبر: 40001
٤٠٠٠١ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن أبي حصين عن (أبي الضحى) (١) قال: قال رجل وهو عند عمر: اللهم إني أعوذ بك من الفتنة (أو الفتن) (٢)، فقال (عمر) (٣): [اللهم إني أعوذ بك من (الضفاطة) (٤)، أتحب أن لا يرزقك اللَّه مالا وولدا، أيكم استعاذ] (٥) من الفتن فليستعذ من مضلاتها (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الضحی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عمر کے پاس کہا اے اللہ میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں ضعف رائے اور جہالت سے (اس آدمی سے مخاطب ہو کر فرمایا) کیا تو پسند کرتا ہے کہ اللہ تجھے مال اور اولاد نہ دے تم میں سے کوئی فتنوں سے پناہ مانگے تو وہ ان فتنوں کی گمراہوں سے پناہ مانگے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40001
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40001، ترقيم محمد عوامة 38373)
حدیث نمبر: 40002
٤٠٠٠٢ - حدثنا جرير عن عبد العزيز بن رفيع عن عبيد اللَّه بن القبطية قال: دخل الحارث بن أبي ربيعة وعبد اللَّه بن صفوان على أم سلمة وأنا معها فسألاها عن ⦗٢٣٠⦘ الجيش الذي يخسف به، وذلك في زمان ابن الزبير، فقالت: قال رسول اللَّه ﷺ: " (يعوذ) (١) (عائذ) (٢) بالبيت فيبعث البه بعث؛ فإذا كان ببيداء من الأرض يخسف بهم"، فقلنا: يا رسول اللَّه! كيف بمن كان كارها؟ قال: "يخسف به معهم، ولكنه يبعث يوم القيامة (على نيته) (٣) "، قال أبو جعفر (٤): هي بيداء المدينة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن قبطیہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حارث بن ابی ربیعہ اور عبداللہ بن صفوان حضرت ام سلمہ کے پاس گئے اور میں ان کے ساتھ تھا ان دونوں نے ان سے پوچھا اس لشکر کے بارے میں جسے دھنسا دیا گیا اور یہ واقعہ حضرت عبد اللہ بن زبیر کے زمانے میں پیش آیا تو حضرت ام سلمہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک پناہ پکڑنے والا بیت اللہ میں پناہ پکڑے گا اس کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا جب وہ ایک میدان میں ہوں گے تو ان کو دھنسا دیا جائے گا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس آدمی کی کیا حالت ہوگی جس پر زبردستی کی گئی ہو ارشاد فرمایا اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا لیکن قیامت والے دن اسے اس کی نیت پر اٹھا یا جائے گا ابو جعفر راوی فرماتے ہیں یہ مدینہ کا میدان تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40002
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٨٢)، وأحمد (٢٦٤٨٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40002، ترقيم محمد عوامة 38374)
حدیث نمبر: 40003
٤٠٠٠٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سليمان التيمي (١) عن الحسن عن أبي موسى قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا توجه المسلمان بسيفهما فقتل أحدهما صاحبه فهما في النار"، قالوا: يا رسول اللَّه! هذا القاتل فما بال المقتول؟ قال: "إنه أراد قتل صاحبه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب دو مسلمان ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں اپنی اپنی تلوار کے ساتھ پس ان میں سے ایک اپنے ساتھی کو قتل کردے تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے، صحابہ کرام j نے عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ تو قاتل ہے مقتول کا کیا قصور ہے آپ نے ارشاد فرمایا : بلا شبہ یہ اپنے ساتھی کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40003
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40003، ترقيم محمد عوامة 38375)
حدیث نمبر: 40004
٤٠٠٠٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا رزين الجهني قال: حدثنا (أبو الرقاد) (١) قال: خرجت مع مولاي وأنا غلام، فدفعت إلى حذيفة وهو يقول: إن كان الرجل ليتكلم (بالكلمة) (٢) على عهد النبي ﷺ فيصير منافقا، وإني لأسمعها من أحدكم في المقعد الواحد أربع مرات، لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر، ⦗٢٣١⦘ ولتحاضن على الخير أو ليسحتنكم اللَّه بعذاب جميعا، أو ليؤمرن عليكم شراركم، ثم يدعو خيارُكم فلا يستجاب لهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الرقاد سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں غلام ہونے کی حالت میں اپنے آقا کے ساتھ نکلا مجھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اس حال میں کہ وہ فرما رہے تھے اگر کوئی آدمی وہ کلام نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں کرتا تو منافق ہوجاتا اور بلاشبہ وہ کلام میں نے تم میں ہر ایک سے ایک ایک مجلس میں چار مرتبہ سنا ہے (وہ کلام یہ ہے) ضرور بالضرور تم بھلائی کا حکم کرو اور ضرور بالضرور تم برائی سے روکو اور ضرور تم بھلائی پر رہو وگرنہ اللہ تم سب کو عذاب کے ذریعے برباد کردے گا یا تمہارے شریروں کو تم پر حاکم بنا دے گا پھر تمہارے اچھے لوگ دعا کریں گے لیکن ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40004
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40004، ترقيم محمد عوامة 38376)
حدیث نمبر: 40005
٤٠٠٠٥ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي عن إسرائيل عن سماك عن ثروان بن (ملحان) (١) قال: كنا جلوسا في المسجد فمر علينا عمار (بن) (٢) ياسر فقلنا له: حدثنا حديث رسول اللَّه ﷺ في الفتنة فقال: سمعت رسول اللَّه قوله يقول: "سيكون بعدي أمراء يقتتلون على الملك، يقتل بعضهم عليه بعضا"، فقلنا له: لو (٣) حدثنا به غيرك كذبناه، قال: "أما إنه سيكون" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثروان بن ملحان سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ہم مسجد میں بیٹھے تھے حضرت عمار بن یاسر ہمارے پاس سے گزرے ہم نے ان سے عرض کیا ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث فتنے کے بارے میں بیان کردیں پس انہوں نے فرمایا میں نے رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا عنقریب میرے بعد امراء ہوں گے جو ملک پر (یعنی حصول ملک کے لیے) لڑائی کریں گے اس پر کچھ کچھ کو قتل کریں گے ہم نے ان سے عرض کیا اگر آپ کے علاوہ کوئی اور ہم سے اس بارے میں بیان کرتا تو ہم اس کی تکذیب کرتے انہوں نے ارشاد فرمایا باقی یہ تو بلا شبہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40005
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ثروان بن ملحان وثقه العجلي والهيثمي وذكره ابن حبان في الثقاث، ولم يرو عنه غير سماك أخرجه أحمد (١٨٣٢٠)، وأبو يعلى (١٦٥٠)، والطبراني كما في مجمع الزوائد ٧/ ٢٩٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40005، ترقيم محمد عوامة 38377)
حدیث نمبر: 40006
٤٠٠٠٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا عمران القطان عن قتادة عن أبي الخليل عن عبد اللَّه بن (الحارث) (١) عن أم سلمة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: " يُبايع لرجل بين الركن والمقام (كعدة أهل) (٢) بدر، فتأتيه عصائب العراق وأبدال الشام، فيغزوهم جيش من أهل الشام حتى إذا كانوا بالبيداء (يخسف) (٣) بهم، ثم يغزوهم رجل من قريش أخواله كلب فيلتقون فيهزمهم اللَّه، فكان يقال: الخائب من خاب ⦗٢٣٢⦘ من غنيمة كلب" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی کی رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان اصحاب بدر کی تعداد کے برابر بیعت کی جائے گی اس کے پاس عراقی زاہدوں کے گروہ اور شام کے ابدال آئیں گے ان سے لڑائی کرے گا شامیوں میں سے ایک لشکر یہاں تک کہ جب وہ ایک میدان میں ہوں گے تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا پھر ان سے قریش میں سے ایک آدمی جس کے ماموں بنوکلب میں سے ہوں گے لڑائی کرے گا ان کی آپس میں مڈ بھیڑ ہوگی اللہ ان کو شکست دے دے گا پس کہا جاتا تھا نامراد وہ ہے جو کلب کی غنیمت کے پانے سے نامراد رہا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40006
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عمران القطان، أخرجه أحمد (٢٦٦٨٩)، وأبو داود (٤٢٨٨)، وابن حبان (٦٧٥٧)، والحاكم ٤/ ٤٣١، والطبراني ٢٣/ (٩٣٠)، وأبو يعلى (٦٩٤٠)، والداني في الفتن (٥٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40006، ترقيم محمد عوامة 38378)
حدیث نمبر: 40007
٤٠٠٠٧ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا سفيان عن سلمة بن كهيل عن أبي إدريس (المرهبي) (١) عن مسلم بن صفوان عن صفية قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا (ينتهي) (٢) ناس عن غزو هذا البيت، حتى يغزو جيش حتى إذا كانوا بالبيداء أو (ببيداء) (٣) من الأرض خسف بأولهم وآخرهم (٤) "، قلت: فإن كان فيهم من يُكره؟ قال: "يبعثهم اللَّه على ما في أنفسهم" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفیہ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگ اس گھر یعنی بیت اللہ پر حملے سے نہیں رکیں گے یہاں تک کہ ایک لشکر لڑائی کے لیے نکلے گا جب وہ زمین میں ایک میدان میں ہوں گے ان کے اگلوں اور پچھلوں کو دھنسا دیا جائے گا اور ان کے درمیان والے بھی نجات نہ پائیں گے حضرت صفیہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا اگر ان میں ایسا ایسا آدمی ہو جس پر زبردستی کی گئی ہو آپ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ان کو اٹھائیں گے اس (نیت وغیرہ پر) پر جو ان کے جی میں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40007
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40007، ترقيم محمد عوامة 38379)
حدیث نمبر: 40008
٤٠٠٠٨ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي عن سعد بن أوس عن بلال العبسي عن ميمونة قالت: قال لنا نبي اللَّه ﷺ (١) ذات يوم: "كيف أنتم إذا مرج الدين، وظهرت الرغبة، واختلفت الإخوان، وحرق البيت العتيق" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمونہ سے روایت ہے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے ایک دن ارشاد فرمایا تمہاری کیا حالت ہوگی جب دین محفوظ نہیں رہے گا اور (دنیا میں) رغبت ظاہر ہوجائے گی اور بھائیوں کا اختلاف ہوجائے گا اور پرانے گھر (یعنی بیت اللہ) کو جلایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40008
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سعد بن أوس وبلال صدوقان، أخرجه أحمد (٢٦٨٢٩)، والطبراني ٢٤/ (١٤)، والدينوري في المجالسة (٣٣٦٣)، وابن قتيبة في غريب الحديث (٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40008، ترقيم محمد عوامة 38380)
حدیث نمبر: 40009
٤٠٠٠٩ - حدثنا ابن عيينة عن زياد بن سعد عن الزهري عن سعيد بن المسيب ⦗٢٣٣⦘ (سمعت) (١) أبا هريرة يقول عن (النبي ﷺ) (٢): "الذي يخرب (الكعبة) (٣) ذو السويقتين من الحبشة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں (فرمایا کہ) کعبہ کو منہدم کرے گا چھوٹی پنڈلیوں والا آدمی جو حبشہ سے ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40009
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٥٩١)، ومسلم (٢٩٠٩) مرفوعًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40009، ترقيم محمد عوامة 38381)
حدیث نمبر: 40010
٤٠٠١٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن أبي صادق عن حنش الكناني عن عليم الكندي (١) قال: (ليخربن) (٢) هذا البيت على يد رجل من آل الزبير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان سے روایت ہے فرمایا یقینا یہ گھر منہدم ہوگا حضرت زبیر کی آل میں سے کسی آدمی کے ہاتھ سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40010
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40010، ترقيم محمد عوامة 38382)
حدیث نمبر: 40011
٤٠٠١١ - حدثنا ابن عيينة عن بن أبي نجيح عن مجاهد قال: سمع ابن (عمرو) (١) يقول: كأني به أصيلع أفيدع، قائم عليها يهدمها بمسحاته، فلما هدمها ابن الزبير جعلت أنظر إلى صفة ابن عمرو (٢) فلم (أرها) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو فرماتے ہوئے سنا کہ گویا میں ایک گنجے اور ٹیڑھے اعضاء والے آدمی کو بیت اللہ کے پاس دیکھتا ہوں جو اس پر کھڑا اسے اپنے رندے سے گرا رہا ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں جب حضرت عبداللہ بن زبیر نے بیت اللہ کو گرایا تو میں نے غور کیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بیان کردہ حالت میں لیکن میں نے ایسی حالت نہ پائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40011
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٩١٨٠)، والأزرقي ١/ ٢٠٥، ونعيم (١٨٧٣)، والخطابي في الغريب ٢/ ٣٩١، وورد مرفوعًا عند أحمد (٧٠٥٣)، والفاكهي (٧٤٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40011، ترقيم محمد عوامة 38383)