کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 39932
٣٩٩٣٢ - حدثنا عبد اللَّه بن المبارك عن هشام عن الحسن قال: قال: محمد بن (مسلمة) (١) أعطاني رسول اللَّه ﷺ سيفا فقال: "قاتل به المشركين (ما قوتلوا) (٢)، فإذا رأيت الناس يضرب بعضهم بعضًا -أو كلمة نحوها- فاعمد به إلى صخرة فاضربه بها حتى ينكسر، ثم اقعد في بيتك حتى تأتيك يد خاطئة أو منية قاضية" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن حضرت محمد بن مسلمہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تلوار عطاء فرمائی اور فرمایا اس سے مشرکین کے ساتھ قتال کرنا جب تک ان سے قتال کیا جائے اور جب تو لوگوں کو دیکھے کہ وہ ایک دوسرے کو مارنا شروع ہوگئے (راوی فرماتے ہیں) یا اسی کے مثل کوئی بات فرمائی تو پھر تلوار لے کر کسی چٹان کا قصد کرنا اور تلوار کو اس چٹان پر مار دینا یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جائے پھر اپنے گھر میں بیٹھ جانا یہاں تک کہ تیرے پاس کوئی غلطی کرنے والا ہاتھ یا فیصلہ کرنے والی موت آجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39932
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39932، ترقيم محمد عوامة 38304)
حدیث نمبر: 39933
٣٩٩٣٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حميد عن أبي (المتوكل) (١) (الناجي) (٢) عن أبي سعيد الخدري قال: إياكم وقتالُ عمية، وميتة جاهلية، قال: قلت: ما قتال عمية؟ قال: إذا قيل: يا لفلان يا بني فلان، قال: قلت: ما ميتة جاهلية؟ قال: أن تموت ولا إمام عليك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو المتوکل الناجی حضرت ابو سعید خدری سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا بچو تم اندھی لڑائی اور جاہلیت کی موت سے راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اندھی لڑائی کیا ہے ارشاد فرمایا جب یہ پکار ہو اے فلاں اے فلاں کے بیٹے راوی کہتے ہیں میں نے عرض کی جاہلیت کی موت سے کیا مراد ہے ارشاد فرمایا تجھے موت اس حالت میں آئے کہ تم پر کوئی امام مقرر نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39933
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39933، ترقيم محمد عوامة 38305)
حدیث نمبر: 39934
٣٩٩٣٤ - حدثنا أبو خالد عن (عوف) (١) عن الحسن قال: من قُتل في قتال عِمّية فميتته ميتة جاهلية.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے کہ جو آدمی اندھے قتال کے اندر مارا گیا اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39934
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39934، ترقيم محمد عوامة 38306)
حدیث نمبر: 39935
٣٩٩٣٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن عبد اللَّه بن عامر قال: لما تشعب الناس في الطعن على عثمان قام أبي (يصلي) (١) من الليل ثم نام، قال: فقيل له: قم فاسأل اللَّه أن يعيذك من الفتنة التي أعاذ منها عباده الصالحين، قال: فقام فمرض (فما رئي) (٢) خارجًا حتى مات (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عامر فرماتے ہیں کہ جب لوگ حضرت عثمان پر طعن کے بارے میں گروہوں میں بٹ گئے تو میرے والد کھڑے ہوئے صلاۃ اللیل ادا کی اور پھر سو گئے فرماتے ہیں ان سے کہا گیا آپ کھڑے ہوجائیں اور اللہ سے سوال کریں کہ وہ آپ کو اس فتنے سے پناہ دے جس سے اس نے نیک لوگوں کو پناہ بخشی ہے راوی فرماتے ہیں پھر وہ کھڑے ہوئے اور بیمار ہوگئے پھر انہیں گھر سے باہر نہیں دیکھا گیا حتیٰ کہ ان کی وفات ہوگئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39935
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، وأخرجه الحاكم ٣/ ٤٠٣ (٥٥٣٤)، والبخاري في الأوسط ١/ ٦٤، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٧٨، وابن سعد ٣/ ٣٨٣، وابن عساكر ٢٥/ ٣٢٨، وابن شبه (١٩٤٥)، ونعيم في الفتن (٤٤١)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٤٠٤، وابن أبي الدنيا في المنامات (٢١٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39935، ترقيم محمد عوامة 38307)
حدیث نمبر: 39936
٣٩٩٣٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد عن علي قال: ينقص الإسلام حتى (لا) (١) يقال: اللَّه، اللَّه، فإذا فعل ذلك ضرب يعسوب الدين بذنبه، فإذا فعل ذلك بعث قوم يجتمعون كما يجتمع (قزع) (٢) الخريف، واللَّه إني لأعرف اسم أميرهم ومناخ ركابهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن الحارث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں ارشاد فرمایا اسلام (پر عمل) میں کمی واقع ہوجائے گی یہاں تک کہ اللہ اللہ نہیں کہا جائے گا جب ایسا ہوجائے گا تو دین کے سردار اپنی دم سے ماریں گے (مراد یہ ہے کہ لوگ فتنے میں اپنے سرداروں کی بات لیں گے) یہ بات ہوجائے گی تو کچھ لوگ اٹھیں گے جو خزاں کی بدلیوں کی طرح جمع ہوں گے اور اللہ کی قسم میں ان کے امیر کا نام اور ان کی سواریاں بٹھانے کی جگہوں کو بھی جانتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39936
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (١١٢٥) وفي العلل ٣/ ٤٦٤، ونعيم بن حماد في الفتن (١١٧٥)، واللالكائي (٣٧٤)، والداني في سنن الفتن (٥١٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39936، ترقيم محمد عوامة 38308)
حدیث نمبر: 39937
٣٩٩٣٧ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن سعد بن حذيفة ⦗٢٠٩⦘ قال: قال حذيفة: من (فارق) (١) الجماعة شبرا (خلع) (٢) ربقة (٣) (الإسلام) (٤) من عنقه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن حذیفہ رضی اللہ عنہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا جو آدمی ایک بالشت کے برابر جماعت سے جدا ہوا تو اس نے اسلام کا ذمہ اپنی گردن سے اتاردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39937
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سعد صدوق، أخرجه البخاري في التاريخ ٤/ ٥٤، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٨٥، والبغوي في الجعديات (٢٠٣٢)، واللالكائي (١٦١)، والخلال (٢١)، وأخرجه مرفوعًا أحمد (٢٣٢٨٣) والحاكم ١/ ١١٩، والدولابي ١/ ١٦٦، والقضاعي في مسند الشهاب (٤٤٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39937، ترقيم محمد عوامة 38309)
حدیث نمبر: 39938
٣٩٩٣٨ - [حدثنا وكيع عن إبراهيم بن مرثد قال: حدثني عمي أبو (صادق) (١) عن علي قال: الأئمة من قريش، ومن فارق الجماعة شبرا فقد نزع ربقة الإسلام من عنقه (٢)] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ائمہ قریش سے ہوں گے اور جو آدمی ایک بالشت برابر بھی جماعت سے جدا ہوا تو اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے کھینچ دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39938
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39938، ترقيم محمد عوامة 38310)
حدیث نمبر: 39939
٣٩٩٣٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي وائل قال: قال عبد اللَّه: كيف أنتم إذا (لبستكم) (١) فتنة يربو فيها (الصغير) (٢)، ويهرم فيها الكبير، ويتخذها الناس سنة، فإن غير منها شيء، قيل: غيرت السنة، قالوا: متى يكون ⦗٢١٠⦘ ذلك يا أبا عبد الرحمن؟ قال: إذاكثرت قراؤكم وقلت أمناؤكم، وكثرت أمراؤكم وقلت فقهاؤكم، والتمست الدنيا بعمل (الآخرة) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل حضرت عبداللہ بن عمر سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کیا ہوگی تمہاری حالت اس وقت جب ایک فتنہ مسلسل تم پر طاری رہے گا جس میں چھوٹے پرورش پاجائیں گے اور بڑے بوڑھے ہوجائیں گے یہ لوگ اسے سنت قرار دیں گے اگر اس میں سے کچھ بدلا جائے گا تو کہا جائے گا سنت تبدیل کردی گئی لوگوں نے عرض کیا یہ کب واقع ہوگا اے ابوعبدالرحمان تو حضر ت عبداللہ بن عمر نے فرمایا جب تمہارے قراء زیادہ ہوجائیں گے اور تمہارے امین کم ہوجائیں گے اور تمہارے امراء زیادہ ہوجائیں گے اور تمہارے فقہاء کم ہوجائیں گے اور دنیا تلاش کی جائے گی آخرت کے اعمال سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39939
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٢٠٧٤٢)، والشاشي (٦١٣)، والبيهقي في شعب الإيمان (٦٥١٥)، واللالكائي (١٢٣)، والحاكم ٤/ ٥١٤، ونعيم في الفتن (٥١)، وابن حزم في الإحكام ٦/ ٣١٥، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ص ١٨٨، والخطابي في العزلة ص ٨٤، وورد مرفوعًا عن أبي نعيم في الحلية ١/ ١٣٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39939، ترقيم محمد عوامة 38311)
حدیث نمبر: 39940
٣٩٩٤٠ - حدثنا أبو أسامة (عن الأعمش) (١) عن (منذر) (٢) عن عاصم بن ضمرة عن علي قال: وضع اللَّه في هذه الأمة خمس فتن: فتنة عامة، ثم فتنة خاصة ثم فتنة عامة، ثم فتنة خاصة، ثم فتنة تموج كموج البحر (يصبح) (٣) الناس فيها كالبهائم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس امت میں پانچ فتنے مقرر کیے ہیں ایک عام فتنہ پھر خاص فتنہ پھر عام فتنہ پھر خاص فتنہ پھر ایسا فتنہ ہوگا جو سمندر کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مارے گا جس میں لوگ چوپایوں کی طرح ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39940
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عاصم صدوق، أخرجه عبد الرزاق (٢٠٧٣٣)، والحاكم ٤/ ٤٣٧، ونعيم في الفتن (٧٨)، إسحاق كما في المطالب العالية (٤٣٦١)، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٢٦٢، والداني (٣٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39940، ترقيم محمد عوامة 38312)
حدیث نمبر: 39941
٣٩٩٤١ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سمعت أحمر أو ابن أحمر يحدث عن أبي رجاء العطاردي قال: سمعت ابن عباس يخطب على المنبر (يقول) (١): من فارق الجماعة شبرا فمات مات (٢) ميتة جاهلية (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رجاء العطاروی سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا میں نے حضرت عبداللہ بن عباس سے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ جو آدمی ایک بالشت جماعت سے جدا ہوگیا وہ جاہلیت کی موت مرا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39941
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39941، ترقيم محمد عوامة 38313)
حدیث نمبر: 39942
٣٩٩٤٢ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن زيد بن يثيع قال: قال حذيفة: كيف أنتم (إذا) (١) (سئلتم الحق فأعطيتموه، و (منعتم) (٢) حقكم؟ قال: إذن نصبر، (قال: دخلتموها) (٣) ورب الكعبة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہاری کیسی حالت ہوگی جب تم سے حق مانگا جائے گا اور تم حق دو گے اور تم سے تمہارا حق روک لیا جائے گا۔ عرض کیا : تب ہم صبر کریں گے۔ فرمایا تب تم لوگ جنت میں داخل ہو گے۔ رب کعبہ کی قسم۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39942
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39942، ترقيم محمد عوامة 38314)
حدیث نمبر: 39943
٣٩٩٤٣ - حدثنا علي بن مسهر عن إسماعيل عن أبي صالح الحنفي قال: جاء رجل إلى (١) حذيفة وإلى (أبي) (٢) مسعود الأنصاري وهما جالسان في المسجد وقد طرد أهل الكوفة سعيد بن العاص، فقال: ما (يجلسكم) (٣) وقد خرج الناس؟ فواللَّه إنا لعلى السنة، فقالا: وكيف تكونون على السنة وقد طردتم إمامكم؟ (واللَّه) (٤) لا تكونون على السنة حتى يشفق الراعي وتنصح الرعية، قال: فقال له رجل: فإن لم يشفق الراعي وتنصح الرعية فما تأمرنا؟ قال: نخرج (وندعكم) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح حنفی سے روایت ہے کہ ایک صاحب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ایوب انصاری کے پاس آئے وہ دونوں مسجد میں تشریف فرما تھے اور کوفہ والوں نے سعید بن العاص کو نکال دیا تھا تو اس آدمی نے کہا کس چیز نے تمہیں بٹھایا ہوا ہے، حالانکہ لوگ تو نکل چکے ہیں بخدا ہم سنت پر ہیں تو ان دونوں حضرات نے فرمایا تم کیسے سنت پر ہوسکتے ہو جبکہ تم نے اپنے امام کو نکال دیا ہے۔ اللہ کی قسم تم سنت پر قائم نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ حکمران مہربانی کرے اور رعایا خیر خواہی چاہتی ہو راوی کہتے ہیں کہ ان سے اس آدمی نے کہا کہ اگر امیر نرمی نہ کرے اور رعایا خیر خواہی کرے تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں تو انہوں نے ارشاد فرمایا ہم نکلیں گے اور تمہیں بھی دعوت دینگے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39943
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وسيأتي بنحوه في ١٥/ ٦١ برقم [٤٠٠٥٢].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39943، ترقيم محمد عوامة 38315)
حدیث نمبر: 39944
٣٩٩٤٤ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر عن (يزيد) (١) بن صهيب الفقير قال: بلغني أنه ما تقلد رجل سيفا في فتنة إلا لم يزل مسخوطا عليه حتى يضعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن صہیب فقیر فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ کوئی آدمی کسی فتنے میں تلوار گلے میں نہیں لٹکاتا مگر وہ مسلسل (اللہ کی) ناراضگی میں رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے رکھ دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39944
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39944، ترقيم محمد عوامة 38316)
حدیث نمبر: 39945
٣٩٩٤٥ - حدثنا أبو الأحوص عن شبيب بن غرقدة عن سليمان بن عمرو عن أبيه قال: سمعت النبي ﷺ يقول في حجة الوداع: "أي يوم (أحرم) (١)؟ " ثلاث مرات، فقالوا: يوم الحج الأكبر، قال: "فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم حرام كحرمة يومكم هدْا في شهركم هذا في بلدكم هذا، ألا لا يجني جان إلا على نفسه، لا يجني والد على ولده، ولا مولود على والده، ألا يا (أمتاه) (٢) هل بلغت؟ " قالوا: نعم، قال: "اللهم اشهد" -ثلاث مرات (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر سے روا یت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا کس دن میں نے احرام باندھا ہے ؟ تین مرتبہ یہ سوال فرمایا صحابہ کرام j نے جواب دیا حج والے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیشک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں اس دن (یعنی عرفہ کی) کی حرمت کی طرح اس مہینے میں اس شہر میں خبردار نہ جنایت کرے جنایت کرنے والا مگر اپنی ہی ذات پر نہ جنایت کرے جنایت کرنے والا مگر اپنی ذات پر زیادتی کرے والد اپنی اولاد پر اور نہ اولاد اپنے والد پر، خبردار اے میری امت کیا میں نے پہنچا دیا صحابہ کرام j نے جواب دیا جی ہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ گواہ رہنا یہ تین مرتبہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39945
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٥٥٠٧)، وأبو داود (٣٣٣٤)، والترمذي (٢١٥٩)، والنسائي في الكبرى (٤١٠٠)، وابن ماجه (٢٦٦٩)، والبيهقي ٨/ ٢٧، والطبراني ١٧/ (٥٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39945، ترقيم محمد عوامة 38317)
حدیث نمبر: 39946
٣٩٩٤٦ - حدثنا وكيع عن عبد المجيد (١) أبي عمرو قال: سمعت العداء بن خالد ابن هوذة قال: حججت مع النبي ﷺ حجة الوداع، فرأيت النبي ﷺ قائمًا في الركابين وهو يقول: "تدرون: أي شهر هذا؟ أي بلد هذا؟ قال: فإن دماءكم وأموالكم عليكم حرام كحرمة يومكم (هذا) (٢) في شهركم هذا في بلدكم هذا، هل بلغت؟ " قالوا: نعم قال: "اللهم اشهد" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عداء بن خالد بن ھوذہ فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر حج کیا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا وہ (اونٹ کی) رکابوں میں کھڑے ارشاد فرما رہے تھے کیا تم جانتے ہو یہ کو نسا مہینہ ہے کون سا شہر ہے (پھر) ارشاد فرمایا بیشک تمہارے خون اور تمہارے اموال آپس ایک دوسرے پر حرام ہیں تمہارے اس دن کی حرمت کی طرح تمہارے اس مہینے کی حرمت کی طرح۔ تمہارے اس شہر کی حرمت کی طرح۔ کیا میں نے پہنچا دیا صحابہ کرام j نے عرض کیا جی ہاں ارشاد فرمایا اے اللہ گواہ رہنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39946
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد ٥/ ٣٠ (٢٠٣٣٦)، وأبو داود (١٩١٧)، وابن سعد ٧/ ٥١، والبخاري في التاريخ ٧/ ٨٥، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٥٠٢)، وابن قانع ٢/ ٢٧٩، والطبراني ١٨/ (١٣)، والمزي ١٨/ ٢٧٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39946، ترقيم محمد عوامة 38318)
حدیث نمبر: 39947
٣٩٩٤٧ - حدثنا الثقفي عن أيوب عن ابن سيرين (عن ابن أبي بكرة) (١) (عن أبي بكرة) (٢) عن النبي ﷺ أنه قال: "أي شهر هذا؟ " قلنا: اللَّه ورسوله أعلم، ⦗٢١٣⦘ (قال) (٣): فسكت حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه، قال: "أليس (ذا الحجة؟ " قلنا: بلى، قال: "فأي بلد هذا؟ " قلنا: اللَّه ورسوله أعلم، فسكت حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه) (٤)، قال: "أليس البلد (الحرام؟) (٥) " قلنا: نعم، قال: "أي يوم هذا؟ " قلنا: اللَّه ورسوله أعلم، قال: فسكت حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه، قال: "أليس يوم النحر؟ "، قلنا: بلى، يا رسول اللَّه، قال: "فإن دماءكم وأموالكم" -قال محمد: وأحسبه (قال) (٦): "وأعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا في شهركم هذا، وستلقون ربكم فيسألكم عن أعمالكم" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا یہ کونسا مہینہ ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں، راوی فرماتے ہیں آپ خاموش رہے یہاں تک کہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا کہ آپ اس مہینے کو اس کے نام کے علاوہ دوسرا نام دیں گے پھر ارشاد فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں، ہم نے عرض کیا کیوں نہیں ارشاد فرمایا یہ کونسا شہر ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسو ل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے ہمیں یہ گمان ہوا کہ اس شہر کو کوئی اور نام سے موسوم کریں گے ارشاد فرمایا کیا یہ بامد حرام نہیں ہے ہم نے عرض کیا جی ہاں ارشاد فرمایا یہ کونسا ہے دن ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں راوی فرماتے ہیں آپ خاموش رہے یہاں تک کہ ہمیں یہ گمان ہوا کہ اس دن کو کوئی اور نام دیں گے ارشاد فرمایا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے ہم نے عرض کیا ہاں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر ارشاد فرمایا بلا شبہ تمہارے خون اور تمہارے اموال محمد بن سیرین راوی فرماتے ہیں میرا گمان ہے کہ یہ بھی فرمایا اور تمہاری عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت اس شہر میں اس مہینے میں اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39947
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٠٥)، ومسلم (١٦٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39947، ترقيم محمد عوامة 38319)
حدیث نمبر: 39948
٣٩٩٤٨ - حدثنا (أبو معاوية) (١) عن الأعمش عن (أبي) (٢) صالح عن جابر قال: قال النبي ﷺ في (حجته) (٣): "أتدرون أي يوم أعظم حرمة؟ " قال: فقلنا: يومنا هذا، قال: "فأي بلد أعظم حرمة؟ " (قال) (٤): قلنا (٥): بلدنا هذا، قال: "فأي شهر أعظم حرمة؟ " (٦) (قلنا: شهرنا هذا) (٧)، قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "فإن دماءكم وأموالكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في بلدكم هذا، في شهركم هذا" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا کونسا شہر حرمت کے اعتبار سے عظیم ہے حضرت جابر کہتے ہیں ہم نے عرض کیا ہمارا مہینہ حضرت جابر فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ تمہارے خون اور تمہارے مال آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں اس دن کی حرمت کی طرح اس شہر میں اس مہینے میں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39948
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٤٣٦٥)، وابن أبي عاصم في الديات ص ٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39948، ترقيم محمد عوامة 38320)
حدیث نمبر: 39949
٣٩٩٤٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن مرة عن رجل من أصحاب النبي ﷺ قال: قام فينا رسول اللَّه ﷺ على ناقة حمراء مخضرمة فقال: "أتدرون أي يومكم هذا؟ أتدرون أي شهركم هذا؟ (أتدرون) (١) أي بلدكم هذا؟ " - قال: "فإن دماءكم وأموالكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا (في بلدكم هذا في شهركم هذا) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ماقبل والی حدیث اس سند سے بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39949
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد ٥/ ٤١٢ (٢٣٥٤٤)، والنسائي (٤٠٩٩)، والطحاوي في شرح المشكل (٤٢)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٩٣٢)، والعقيلي ٢/ ٩٥، وورد من حديث مرة قال: حدثنا صاحب هذا القصر يعني ابن مسعود، أخرجه أبو الشيخ في طبقات أصبهان ٣/ ٢٣٣، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٤٣٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39949، ترقيم محمد عوامة 38321)
حدیث نمبر: 39950
٣٩٩٥٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد قال: لما كان يوم (الجرعة) (١) قيل لحذيفة: ألا تخرج مع الناس؟ قال: ما يخرجني معهم؟ قد علمت أنهم لم يهريقوا بينهم محجما من دم حتى يرجعوا، ولقد ذكر في حديث (الجرعة) (٢) حديث كثير: ما أحب أن لي به ما في بيتكم، إن الفتنة تستشرف من استشرف لها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب سے روایت ہے کہ جب جرعہ والے دن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا گیا کہ آپ لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں نکلتے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کونسی چیز مجھے ان کے ساتھ نکالے گی حالا ن کہ میں جانتا ہوں کہ انہوں نے آپس میں لوٹنے تک پچھنا لگانے کے برابر خون بھی نہیں بہایا اور جرعہ کے بارے میں بہت ساری باتیں ذکر کی گئی ہیں مجھے یہ پسند نہیں کہ ان کے بدلے میں… مجھے وہ چیزیں ملیں جو تمہارے گھر میں ہیں بلا شبہ فتنہ اس آدمی کی طرف جھانکتا ہے جو فتنے کی طرف سر اٹھا کر دیکھے (یوم الجرعہ سے مراد وہ دن ہے جس دن کوفے والے حضرت سعدب بن العاص کی زیارت کے لیے نکلے اور حضرت عثمان نے انہیں والی مقرر کیا تھا پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری کو والی مقرر کیا)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39950
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم ٤/ ٦٣٦، وورد بنحوه من حديث جندب عن حذيفة، أخرجه مسلم (٢٨٩٣)، وأحمد ٥/ ٣٩٩ (٢٣٤٣٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39950، ترقيم محمد عوامة 38322)
حدیث نمبر: 39951
٣٩٩٥١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عدي عن (زر) (١) بن حبيش عن حذيفة قال: وددت أن عندي مائة رجل قلوبهم من ذهب، (فأصعد) (٢) على صخرة ⦗٢١٥⦘ فأحدثهم حديثا لا تضرهم فتنة بعده أبدا، ثم أذهب (قليلا) (٣) قليلا، فلا أراهم ولا يرونني (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زربن حبیش حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے ارشاد فرمایا میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے پاس سو آدمی ہوں جنکے قلوب سونے کی طرح ہوں میں کسی چٹان پر چڑھ کر جاؤں اور ان کے سامنے ایسی حدیث بیان کروں جس کے بیان کے بعد کوئی فتنہ کبھی بھی نقصان نہ پہنچائے پھر میں آہستہ آہستہ وہاں سے چلا جاؤں پس میں نہ ان کو دیکھوں اور نہ وہ مجھے دیکھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39951
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه نعيم بن حماد في الفتن (١٢٩)، وابن أبي الدنيا في العزلة (١٢٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39951، ترقيم محمد عوامة 38323)
حدیث نمبر: 39952
٣٩٩٥٢ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا وكيع (قال) (٢): حدثنا الأعمش عن المنهال عن (أبي) (٣) البختري عن حذيفة قال: لو حدثتكم ما أعلم لافترقتم على ثلاث فرق: فرقة تقاتلني، وفرقة (لا تنصرني) (٤)، وفرقة تكذبني (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو البختری حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے ارشاد فرمایا اگر میں تم سے وہ باتیں بیان کروں جو میں جانتا ہوں تو تم میرے خلاف تین گروہوں میں بٹ جاؤ ایک گروہ مجھ سے لڑائی کرے گا اور دوسرا میر ی مدد کرے گا اور تیسرا میری تکذیب کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39952
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39952، ترقيم محمد عوامة 38324)
حدیث نمبر: 39953
٣٩٩٥٣ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الأعمش قال: حدثني (ضرار بن مرة عن عبد اللَّه بن حنظلة) (١) قال: قال حذيفة: ما من رجل إلا به (أمة ينجسها) (٢) الظفر إلا رجلين: أحدهما قد برز والآخر فيه منازعة، فأما الذي برز فعمر، وأما الذي فيه منازعة فعلي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا کوئی بھی ایسا آدمی جس کی کوئی جماعت پیروی کرتی ہو فتح و کامیابی اس میں بگاڑ پیدا کرتی ہے سوائے دو آدمیوں کے ان دونوں میں سے ایک تو نمایاں ہوگئے اور دوسرے اس سلسلے میں لڑ رہے ہیں باقی جو نمایاں ہوگئے وہ تو حضرت عمر اور جو ابھی لڑ رہے ہیں وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39953
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39953، ترقيم محمد عوامة 38325)
حدیث نمبر: 39954
٣٩٩٥٤ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان الثوري عن الحارث الأزدي عن ابن الحنفية قال: رحم اللَّه امرءا كف يده، وأمسك لسانه، وأغنى نفسه، وجلس في بيته، له ما احتسب، وهو يوم القيامة مع من أحب، ألا إن الأعمال أسرع إليهم من سيوف المؤمنين، ألا إن للحق دولة يأتي بها اللَّه إذا شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث ازدی حضرت ابن حنفیہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ رحم کرے اس آدمی پر جس نے اپنے ہاتھ کو روکا اور اپنی زبان کو قابو کیا اور اپنے آپ کو بےنیاز کیا (دوسروں سے) اور اپنے گھر میں بیٹھ گیا اس کے لے ز وہی ثواب ہے جس کی اس نے نیت کی اور وہ قیامت والے دن اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ اس نے محبت کی خبر دار بلاشبہ اعمال ان کی طرف مسلمانوں کی تلواروں سے جلدی پہنچتے ہیں آگاہ و خبردار ہو حق کے لیے پلٹنا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ جب چاہیں اسے لے آتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39954
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39954، ترقيم محمد عوامة 38326)
حدیث نمبر: 39955
٣٩٩٥٥ - حدثنا عبدة بن سليمان ووكيع وابن المبارك عن إسماعيل عن قيس عن (الصنابحي) (١) قال: سمعته يقول: سممعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "أنا فرطكم على الحوض، وإني مكاثر بكم الأمم فلا تقتتلن بعدي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس صنابحی سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ فرمایا میں تمہارے لیے بہتے حوض پر پیشگی اجر ہوں اور بلا شبہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کرونگا لہذا میرے بعد آپس میں لڑائی نہ کرنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39955
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٩٠٦٩)، وابن ماجه (٣٩٤٤)، وابن حبان (٦٤٤٦)، وابن أبي عاصم في السنة (٧٣٩)، والحميدي (٧٨٠)، والبخاري في الصغير ١/ ١٦٨، ويعقوب في المعرفة ٢/ ٢٢٠، وابن قانع ٢/ ٢٣، وإبن بشكوال في الحوض (٤٦)، والطبراني (٧٤١٦)، وابن الأثير ٣/ ٣٥، وأبو يعلى (١٤٥٤)، وابن المبارك في المسند (٢٥٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39955، ترقيم محمد عوامة 38327)
حدیث نمبر: 39956
٣٩٩٥٦ - حدثنا ابن نمير وأبو أسامة عن إسماعيل عن قيس عن الصنابحي الأحمسي عن النبي ﷺ بمثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس حضرت صنابحی احمسی سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مذکورہ روایت کی مثل نقل کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39956
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وانظر: ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39956، ترقيم محمد عوامة 38328)
حدیث نمبر: 39957
٣٩٩٥٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن واقد بن محمد بن زيد أنه سمع أباه يحدث عن عبد اللَّه بن عمر عن النبي ﷺ أنه قال في حجة الوداع: (ويحكم) -أو قال-: "ويلكم، لا ترجعوا بعدي كلفارا يضرب بعضكم رقاب بعض" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا : تمہارے لیے ہلاکت ہو میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو (یا میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39957
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦١٦٦)، ومسلم (٦٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39957، ترقيم محمد عوامة 38329)
حدیث نمبر: 39958
٣٩٩٥٨ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن إسماعيل عن قيس قال: بلغنا أن جريرا قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: "استنصت الناس"، ثم قال عند ذلك: "لأعرفنكم بعد ما أرى: ترجعون بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : لوگوں کو خاموش کرادو پھر اس وقت ارشاد فرمایا : ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ تم میرے بعد کافر بن کر لوٹ جاؤ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39958
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39958، ترقيم محمد عوامة 38330)
حدیث نمبر: 39959
٣٩٩٥٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن علي بن مدرك قال: سمعت أبا زرعة بن عمرو بن جرير يحدث (عن جرير) (١) أن رسول اللَّه ﷺ قال في حجة الوداع: ⦗٢١٧⦘ "استنصت الناس"، وقال: "لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا : لوگوں کو خاموش کرادو اور ارشاد فرمایا : میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39959
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨٦٩)، ومسلم (٦٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39959، ترقيم محمد عوامة 38331)
حدیث نمبر: 39960
٣٩٩٦٠ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن شقيق عن حذيفة قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: "أنا فرطكم على الحوض، ولأنازعن أقواما ثم لأغلبن عليهم، فأقول: يا رب أصحابي، فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا میں تمہارے لیے پیشگی اجر ہوں حوض پر اور مجھ سے کچھ لوگوں کے سلسلے میں جھگڑا کیا جائے گا پھر اس سلسلے میں مجھ پر غلبہ پا لیا جائے گا میں کہوں گا اے میرے رب یہ میرے ساتھی ہیں کہا جائے گا بلا شبہ تم نہیں جانتے کہ انہوں نے کیا کیا چیزیں تمہارے بعد گھڑ لیں تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39960
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وأكثر الرواة على أنه من حديث ابن مسعود، وحديث حذيفة أخرجه مسلم (٢٢٩٧) (٥٩٨١)، وأحمد (٢٣٢٩٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39960، ترقيم محمد عوامة 38332)
حدیث نمبر: 39961
٣٩٩٦١ - حدثنا علي بن مسهر، عن المختار بن فلفل، عن أنس بن مالك قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: "الكوثر نهر وعدني ربي، عليه خير كثير، هو حوضي ترد عليه أمتي يوم القيامة، آنيته عدد النجوم، فيُختلج العبد منهم فأقول: رب، إنه من أمتي، فيقول: لا تدري ما أحدث بعدك" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کوثر نہر ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا مجھ سے وعدہ کیا اس پر خیر کثی رہے وہ میرا حوض ہے جس پر میری امت قیامت والے دن آئے گی اس کے برتن ستاروں کے بقدر ہیں ان میں سے (یعنی میری امت میں سے) کچھ لوگوں کو اس سے روک لیا جائے گا میں کہوں گا اے میرے رب یہ میری امت میں سے ہے پس ارشاد خداوندی ہوگا تم نہیں جانتے کہ اس نے تمہارے بعد کیا باتیں (دین میں) گھڑ لیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39961
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٤٠٠)، وأحمد (١١٩٩٦)، وأصله عند البخاري (٦٥٨٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39961، ترقيم محمد عوامة 38333)
حدیث نمبر: 39962
٣٩٩٦٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن عبد اللَّه بن رافع عن أم سلمة قالت: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول على هذا المنبر: "إني سلف لكم على الكوثر، فبينا أنا عليه اذ مر بكم إرسالا مخالفا (لكم) (١)، فأنادي: هلم، فينادي مناد (فيقول) (٢): ألا إنهم قد بدلوا بعدك فأقول: (ألا سحقا) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس منبر پر ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ میں تم سے پہلے پہنچنے والا ہوں گا حوض کوثر پر پس میں حوض پر ہوں گا اچانک کچھ گروہ گزریں گے تمہارے بعد میں انہیں پکاروں گا کہ ادھر آجاؤ ایک ندا دینے والا ندا دے گا اور کہے گا خبردار انہوں نے آپ کے بعد (دین کو) بدل دیا تھا میں کہوں گا خبردار دورہی رہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39962
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39962، ترقيم محمد عوامة 38334)
حدیث نمبر: 39963
٣٩٩٦٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة (عن مرة) (١) عن رجل من أصحاب النبي ﷺ قال: قام فينا رسول اللَّه ﷺ فقال: "ألا إني فرطكم على الحوض، أنظر كم وأكاثر بكم الأمم (فلا تسودوا) (٢) (وجهي) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرُّہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : خبردار میں تمہارے لیے حوض پر پہلے پہنچنے والا ہوں گا میں تمہیں دیکھوں گا اور تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا لہذا میرے چہرے کو سیاہ نہ کرنا (مراد یہ ہے کہ مجھے رنجیدہ نہ کرنا)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39963
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٣٥٤٤)، والنسائي (٤٠٩٩)، والطحاوي في شرح المشكل (٤٢)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٩٣٢)، والعقيلي ٢/ ٩٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39963، ترقيم محمد عوامة 38335)
حدیث نمبر: 39964
٣٩٩٦٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب (عن أبي البختري) (١) قال: كتب عمر إلى أبي موسى: إن للناس نُفرةً عن سلطانهم، فأعوذ باللَّه أن تدركني وإياكم ضغائن (محمولة) (٢)، ودنيا مؤثرة وأهواء متبعة، وإنه ستداعى القبائل، وذلك نخوة من الشيطان، فإن كان ذلك فالسيف السيف، القتل القتل، (يقولون) (٣): يا أهل الإسلام! يا أهل الإسلام (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو البختری فرماتے ہیں حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کی طرف دیکھا بیشک لوگوں میں اپنے بادشاہ کے بارے میں نفرت ہوتی ہے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ یہ نفرت مجھے پالے۔ اور بچو تم پوشیدہ اٹھائی ہوئی دشمنی سے اور ترجیح دی جانے والی دناہ سے اور پیروی کی جانے والی خواہشات سے اور قبائل کو عنقریب بلایا جائے گا اور یہ شیطان کے ابھارنے کی وجہ سے ہوگا پس اگر ایسا ہوجائے تو ہر طرف تلوار ہوگی اور قتل ہوگا۔ وہ کہیں گے اے اہل اسلام اے ا ہل اسلام۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39964
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ أبو البختري لم يدرك عمر، وعطاء اختلط، وروى عنه ابن فضيل بعد اختلاطه، أخرجه أبو عبيد في الأموال (١٠)، وابن شبه في تاريخ المدينة (١٣١٠)، والبيهقي ١٠/ ١٣٥، والدينوري في المجالسة (١١٩٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39964، ترقيم محمد عوامة 38336)
حدیث نمبر: 39965
٣٩٩٦٥ - حدثنا وكيع عن كهمس عن الحسن عن أبي بن كعب قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من اتصل بالقبائل (فاعضوه) (١) بهن أبيه ⦗٢١٩⦘ (ولا تكنوا) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی قبائل کے ساتھ مل گیا اس کا تذکرہ برائی ساتھ کرو اسے کنیت کے ساتھ نہ پکارو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39965
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39965، ترقيم محمد عوامة 38337)
حدیث نمبر: 39966
٣٩٩٦٦ - حدثنا عيسى بن يونس عن عوف عن الحسن (عن (عتي)) (١) (٢) بن ضمرة عن أبي عن النبي ﷺ بمثله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مذکورہ روایت کی مثل نقل کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39966
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ عتي ثقة، أخرجه أحمد (٢١٢٣٣)، والنسائي في الكبرى (٨٨٦٤)، وابن حبان (٣١٥٣)، والبخاري في الأدب المفرد (٩٦٣)، وأبو عبيد في غريب الحديث ١/ ٣٠٠، والطحاوي في شرح المشكل (٣٢٠٤)، والشاشي (١٤٩٩)، والطبراني (٥٣٢)، وأبو نعيم في معرفة الصحابة (٧٥٦)، وعبد اللَّه بن أحمد في زوائد المسند (٢١٢٣٦)، والبغوي (٣٥٤١)، والضياء في المختارة (١٢٤٤)، والمزي ١٩/ ٣٢٩، وابن السني (٤٣٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39966، ترقيم محمد عوامة 38338)
حدیث نمبر: 39967
٣٩٩٦٧ - حدثنا وكيع عن عمران عن أبي مجلز قال: قال عمر: من اعتز بالقبائل فاعضوه أو (فامصوه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر نے ارشاد فرمایا جو آدمی قبائل کے ساتھ مل گیا پس اس کا تذکرہ برائی کے ساتھ کرو یا فرمایا اسے چوس ڈالو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39967
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39967، ترقيم محمد عوامة 38339)
حدیث نمبر: 39968
٣٩٩٦٨ - حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة عن طلحة بن عبيد اللَّه (بن كريز) (١) قال: كتب عمر إلى أمراء الأجناد: إذا تداعت القبائل فاضربوهم بالسيف حتى يصيروا إلى دعوة الإسلام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ بن عبیداللہ ابن کریز فرماتے ہیں حضرت عمر نے لشکروں کہ امراء کی طرف لکھا جب قبائل ایک دوسرے کو بلائیں تو ان کو تلوار سے مارو یہاں تک کہ وہ اسلام کی دعوت پر آجائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39968
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39968، ترقيم محمد عوامة 38340)
حدیث نمبر: 39969
٣٩٩٦٩ - حدثنا وكيع عن مسعر عن سهل أبي الأسد عن أبي صالح قال: من (قال) (١): يا آل بني فلان، فإنما يدعو إلى جثاء النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح سے روایت ہے ارشاد فرمایا جس آدمی نے کہا اے فلاں کے بیٹوں کی آل بلا شبہ وہ آگ کے مجموعے کی طرف دعوت دے رہا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39969
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39969، ترقيم محمد عوامة 38341)
حدیث نمبر: 39970
٣٩٩٧٠ - حدثنا حفص عن الأعمش عن مسلم عن مسروق قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (لا ألفينكم) (١)، ترجعون بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض، لا يُؤخذ الرجل بجريرة أخيه ولا سيريرة أبيه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہرگز نہ تمہیں میں پاؤں ایسی حالت پر کہ تم میرے بعد کافر بن کر لوٹ جاؤ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو کسی بھی آدمی کا مؤاخذہ نہ ہوگا اس کے بھائی کے جرم پر اور نہ ہی اس کے باپ کے جر م پر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39970
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مسروق تابعي، وأخرجه النسائي (٣٥٩٤)، والداني (٩٩)، ونعيم (٤٧٩)، وورد من حديث مسروق عن ابن مسعود مرفوعًا، أخرجه النسائي (٣٥٩٢)، وصوب رواية الإرسال، كما رواه الطبراني (١٠٣٠١)، والبزار (٢٩٦٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39970، ترقيم محمد عوامة 38342)
حدیث نمبر: 39971
٣٩٩٧١ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن خيثمة قال: قال عبد اللَّه: إنها ستكون هنات وأمور مشبهات، فعليك بالتؤدة فتكون تابعا في الخير خير من أن تكون رأسا في الشر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ حضرت عبداللہ سے نقل کرتے ہیں بلا شبہ عنقریب ہوں گے فتنے اور مشتبہ امور پس لازم ہے (اس وقت) تم پر وقار ہو تو بھلائی کے اندر کسی کا تابع ہو یہ بہتر ہے اس سے کہ تو سردار ہو برائی کے اندر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39971
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، وأخرجه البيهقي في الشعب (١٠٣٧١)، وورد مرفوعًا، أخرجه ابن عدي ٣/ ١٧٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39971، ترقيم محمد عوامة 38343)