کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 39892
٣٩٨٩٢ - حدثنا أبو عبد الرحمن قال: حدثنا أبو بكر عبد اللَّه بن محمد بن أبي شيبة قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب عن عبد الرحمن بن عبد رب الكعبة، قال: انتهيت إلى عبد اللَّه بن عمرو وهو جالس في ظل الكعبة والناس عليه مجتمعون فسمعته يقول: بينما نحن مع رسول اللَّه ﷺ في سفر إذ نزلنا منزلًا، فمنا من يضرب خباءه، ومنا من ينتضل، ومنا من هو في جشره إذ نادى مناديه: الصلاة (جامعة) (١)، فاجتمعنا. فقام النبي ﷺ فخطبنا فقال: "إنه لم يكن نبي قبلي إلا كان (حقًا للَّه) (٢) عليه أن يدل أمته على ما هو خير لهم، وينذرهم ما يعلمه شرا لهم، وإن أمتكم هذه جُعلت (عافيتها) (٣) في أولها، وإن آخرها سيصيبهم بلاء وأمور (تنكرونها) (٤)؛ فمن ثمّ تجيء الفتنة، فيقول المؤمن: هذه مهلكتي، ثم تنكشف ثم تجيء الفتنة، فيقول المؤمن: هذه (٥)، (ثم) (٦) تنكشف، فمن سره منكم أن يُزحزح عن النار ويُدخل ⦗١٩٠⦘ الجنة فتدركه منيته وهو يؤمن باللَّه واليوم الآخر، وليأت (٧) الناس الذي يحب أن يأتوا إليه، ومن بايع إماما فأعطاه صفقة يده وثمرة قلبه فليطعه ما استطاع، فإن جاء (أحد) (٨) ينازعه فاضربوا عنق الآخر". (قال) (٩): (١٠) (فأدخلت) (١١) رأسي من بين الناس، فقلت: أنشدك باللَّه، أسمعت هذا من رسول اللَّه ﷺ؟ قال: فأشار بيديه إلى أذنيه: (١٢) (سمعتْهُ) (١٣) أذناي ووعاه قلبي، (قال) (١٤): قلت: هذا ابن عمك، يأمرنا أن نأكل أموالنا بيننا بالباطل وأن نقتل أنفسنا، وقد قال اللَّه (١٥): ﴿(١٦) وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ) (١٧)﴾ [البقرة: ١٨٨] (إلى آخر) (١٨) الآية، قال: فجمع يديه فوضعهما على جبهته ثم نكس هنيهة ثم قال: أطعه في طاعة اللَّه، واعصه في معصية اللَّه (١٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمان بن عبد رب الکعبہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس گیا وہ خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے اور لوگ ان کے گرد جمع تھے۔ میں نے انہیں فرماتے ہوئے سنا کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے جب ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا پس کچھ ہم میں سے وہ تھے جو خیمے نصب کرنے لگے اور کچھ وہ تھے جو تیر اندازی میں مقابلہ کرنے لگے اور کچھ وہ جو اپنے مویشیوں (کی دیکھ بھال) میں (لگ گئے) تھے۔ ناگاہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مناوی نے ندادی الصلوٰۃ جامعۃ پس ہم جمع ہوگئے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا یقینا مجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں گزرا مگر اللہ کیلئے اس پر حق تھا کہ اپنی امت کی رہنمائی کرے اس بات کی طرف جو ان کے لیے بہتر ہو اور ڈرائے ان کو اس بات سے جس کے بارے میں جانتا ہو یہ ان کے لیے بری ہے۔ بیشک یہ تمہاری امت اس کی عافیت اس کے اول حصے میں ہے اور اس کے آخری حصے کو عنقریب پہنچیں گی، مصیبتیں اور ایسے امور جنہیں تم ناپسند سمجھتے ہو اس موقعے پر ایک فتنہ آئے گا مومن کہے گا، یہ مجھے ہلاک کرنے والا ہے پھر وہ دور ہوجائے گا۔ پھر فتنہ آئے گا پس مومن کہے گا یہ مجھے ہلاک کرنے والا ہے پھر وہ دور ہوجائے گا پس وہ شخص جسے پسند ہے تم میں سے کہ اسے آگ سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے تو اسے موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرے جیسا وہ پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ کریں اور وہ شخص جس نے کسی امام کی بیعت کی اور اس کو ہاتھ کا معاملہ اور دل کا پھل دے دے تو جہاں تک ہو سکے وہ اس کی اطاعت کرے پس اگر کوئی اس سے جھگڑا کرے تو اس دوسرے کی گردن ماردو۔ راوی فرماتے ہیں میں نے داخل کیا اپنا سر لوگوں کے درمیان پس میں نے عرض کیا میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا آپ نے یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے راوی فرماتے ہیں انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا اپنے کانوں کی طرف کہ میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے یاد کیا راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یہ آپ کے چچا کے بیٹے ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم اپنے مالوں کو ناحق طریقے سے کھائیں اور یہ کہ اپنے آپ کو قتل کریں۔ حالا ن کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : نہ کھاؤ آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے پر اور ان (کے جھوٹے مقدمے) حکام کے یہاں اس غرض سے نہ لے جاؤ۔ آیت کے اخیر تک، راوی فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمرو نے اپنے دونوں ہاتھ جمع کیے اور ان دونوں کو اپنی پیشانی پر رکھا پھر کچھ دیر سر جھکایا پھر فرمایا : اس کی اطاعت کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اور اس کی نافرمانی کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں۔
حدیث نمبر: 39893
٣٩٨٩٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن زيد بن وهب عن عبد الرحمن ابن عبد رب الكعبة عن عبد اللَّه بن (عمرو) (١) عن النبي ﷺ بمثله إلا أن وكيعا قال: "وسيصيب آخرها بلاء وفتن (يوافق) (٢) بعضها بعضا"، وقال: "من أحب أن يزحزح عن النار ويدخل الجنة فلتدركه منيته" -ثم ذكر مثله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
عبداللہ بن عمرو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی (مذکورہ روایت) کی مثل نقل کرتے ہیں لیکن وکیع نے یوں نقل کیا، اور عنقریب اس امت کے آخری حصے کو مصیبتیں اور فتن پہنچیں گے ان میں سے ایک دوسرے کو کمزور کر دے گا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو آدمی پسند کرے اس بات کو کہ اسے آگ سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے پس اسے موت آئے پھر وکیع نے اوپر والی روایت کے مثل بقیہ روایت نقل کی۔
حدیث نمبر: 39894
٣٩٨٩٤ - حدثنا وكيع عن عثمان (الشحام) (١) قال: حدثنا مسلم (٢) بن أبي بكرة عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنها ستكون فتنة! المضطجعُ فيها خيرٌ من الجالس، والجالس خير من القائم، والقائم خير من الماشي، والماشي خير من الساعي"، فقال رجل: يا رسول اللَّه (ما تأمرنا؟) (٣) قال: "من كانت له إبل فليلحق بإبله، ومن (كانت) (٤) له غنم فليلحق بغنمه، ومن كانت له أرض فليلحق بأرضه، ومن لم يكن له شيء من ذلك فليعمد إلى سيفه فليضرب بحده (على صخرة) (٥) ثم لينج إن استطاع النجاة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
ابو بکرہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک عنقریب ایک فتنہ ہوگا اس میں لیٹنے والا بیٹھنے والے سے بہتر ہوگا اور بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں چلنے والا اس میں کوشش کرنے والے سے بہتر ہوگا۔ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس آدمی کے اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں میں چلا جائے اور جس آدمی کی بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں میں چلا جائے اور جس آدمی کی زمین ہو وہ اپنی زمین میں چلا جائے اور جس آدمی کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہ ہو تو وہ اپنی تلوار کا قصد کرے اور اس کی دھار پتھر کی چٹان پر مارے پھر نجات پاسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 39895
٣٩٨٩٥ - حدثنا عبد الأعلى وعبيدة بن حميد عن داود عن أبي عثمان عن سعد -رفعه عَبيدة ولم يرفعه عبد الأعلى- قال: تكون فتنة القاعد فيها خير من ⦗١٩٢⦘ القائم، والقائم خير (١) من الساعي، والساعي خير من الموضع (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایک فتنہ ہوگا اس میں بیٹھے والا کھڑے ہونے ولے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا اس میں کوشش کرنے والے سے بہتر ہوگا اور کوشش کرنے والا بہتر ہوگا اس میں جلدی چلنے والے سے۔
حدیث نمبر: 39896
٣٩٨٩٦ - حدثنا وكيع عن حماد بن نجيح عن أبي التياح عن صخر بن بدر عن خالد بن سبيع -أو، سبيع بن خالد- قال: أتيت الكوفة فجلبت منها دواب، فإني لفي مسجدها إذ جاء رجل قد اجتمع الناس عليه، فقلت: من هذا؟ قالوا: حذيفة ابن اليمان قال: فجلست إليه فقال: "كان الناس يسألون النبي ﷺ عن الخير، وكنت أسأله عن الشر، قال: قلت: يا رسول اللَّه! أرأيت هذا الخير الذي كنا فيه هل كان قبله شر وهل كائن بعده شر؟ قال: "نعم"، قلت: فما العصمة منه؟ قال: "السيف"، قال: فقلت: يا رسول اللَّه! فهل بعد السيف من بقية؟ قال: "نعم هدنة"، قال: قلت: يا رسول اللَّه فما بعد الهدنة؟ قال: "دعاة الضلالة، فإن رأيت خليفة فالزمه، وإن نهك ظهرك ضربًا، وأخذ مالك، فإن لم يكن خليفة فالهرب حتى يأتيك الموت، وأنت عاض على شجرة"، قال: قلت: يا رسول اللَّه فما بعد ذلك؟ قال: "خروج الدجال"، قال: قلت: يا رسول اللَّه! (فما) (١) يجيء به الدجال؟ قال: "يجيء بنار ونهر، فمن وقع في ناره وجب أجره، و (حط) (٢) وزره، ⦗١٩٣⦘ [ومن وقع في نهره (حط) (٣) أجره ووجب وزره] (٤) "، قال: قلت: يا رسول اللَّه! فما بعد الدجال؟ قال: " (لو) (٥) أن أحدكم أنتج فرسه ما ركب مهرها حتى تقوم الساعة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن سبیع یا سبیع بن خالد فرماتے ہیں میں کوفہ آیا اور وہاں سے چوپائے ہانکے اور میں اس کی مسجد میں تھا اچانک ایک صاحب آئے لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے میں نے کہا یہ کون ہیں لوگوں نے کہا یہ حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان ہیں، راوی فرماتے ہیں میں ان کے پاس بیٹھ گیا پس انہوں نے فرمایا : لوگ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھلائی کے بارے میں پوچھتے تھے۔ اور میں ان سے برائی کے بارے میں پوچھتا تھا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان نے فرمایا میں نے عرض کیا اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس برائی سے بچنے کا طریقہ کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تلوار۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے بتلائیے یہ بھلائی جس میں ہم ہیں کیا اس سے پہلے برائی تھی اور کیا اس کے بعد برائی ہوگی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا تلوار کے بعد کچھ باقی ہوگا ارشاد فرمایا : کہ ہاں صلح میں نے کہا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صلح کے بعد کیا ہوگا ارشاد فرمایا : گمراہی کی دعوت دینے والے پس تو اگر دیکھے کوئی خلیفہ تو اس کے ساتھ ہوجانا اگرچہ وہ تیری پشت پر مار کر سخت سزا دے اور تیرا مال لے لے اور اگر کوئی خلیفہ نہ ہو تو بھاگ جانا یہاں تک کہ تمہیں موت آئے اس حال میں کہ تم درخت کھانے والے ہو۔ راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بعد کیا ہوگا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دجال کا نکلنا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دجال کیا لائے گا، ارشاد فرمایا : آگ اور قہر لائے گا جو اس کی آگ میں پڑگیا اس کا اجر ضائع ہوجائے گا اور گناہ لازم ہوجائے گا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دجال کے بعد کیا ہوگا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تم میں سے کسی ایک کے گھوڑے کا بچہ ہو تو وہ اس کے پچھیرے پر سوار نہیں ہوگا یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 39897
٣٩٨٩٧ - حدثنا أبو أسامة عن سليمان بن المغيرة قال: قال حميد: حدثنا نصر ابن عاصم الليثي (عن اليشكري) (١) قال: سمعت حذيفة يقول: كان رسول اللَّه ﷺ يسأله الناس عن الخير وكنت أسأله عن الشر، (وعرفت) (٢) أن الخير لن يسبقني، قال: قلت: يا رسول اللَّه! هل بعد هذا الخير من شر؟ قال: "يا حذيفة! تعلم كتاب اللَّه واتبع ما فيه"، -ثلاثًا، (قال: قلت: يا رسول اللَّه! هل بعد هذا الخير شر؟ قال: "فتنة وشر") (٣)، قال: قلت: يا رسول اللَّه هل بعد هذا الشر خير؟ قال: "يا حذيفة تعلم كتاب اللَّه واتبع ما فيه" -ثلاث مرار، قال: قلت: يا رسول اللَّه! هل بعد هذا الخير (شر؟) (٤) قال: "فتنة عمياء صماء، عليها دعاة على أبواب النار، فأن (تموتَ) (٥) ⦗١٩٤⦘ يا حذيفة وأنت عاض على (جذر) (٦) خير من أن تتبع أحدا منهم" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یشکری فرماتے ہیں میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھلائی کے بارے میں پوچھتے تھے اور میں آپ سے برائی کے بارے میں پوچھتا تھا اور میں پہچان چکا تھا کہ خیر مجھ سے ہرگز نہیں بڑھے گی راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا اس خیر کے بعد برائی ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے حذیفہ رضی اللہ عنہاللہ کی کتاب سیکھو اور اس میں موجود احکام کی پیروی کرو تین مرتبہ (فرمایا) راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا اس برائی کے بعد بھلائی ہوگی ارشاد فرمایا اے حذیفہ رضی اللہ عنہاللہ کی کتاب سیکھو اور جو اس میں ہے اس کی پیروی کرو تین مرتبہ فرمایا میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول کیا اس خیر کے بعد برائی ہوگی ارشاد فرمایا : اندھا اور بہرا فتنہ ہوگا اس پر قائم ہوں گے جہنم کے دروازوں کی طرف دعوت دینے والے اے حذیفہ رضی اللہ عنہاگر تمہیں موت آئے اس حال میں کہ تم درخت کے تنے کو کھانے والے ہو یہ بہتر ہے اس بات سے کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔
حدیث نمبر: 39898
٣٩٨٩٨ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا يونس بن أبي إسحاق عن هلال ابن خباب (قال: حدثني عكرمة) (١) قال: حدثني عبد اللَّه بن عمرو قال: بينا نحن حول رسول اللَّه ﷺ (إذ ذكر) (٢) الفتنة أو ذكرت عنده، قال: فقال: "إذا رأيت الناس مرجت عهودهم وخفت أماناتهم، وكانوا هكذا" -وشبك بين أصابعه- قال: فقمت إليه فقلت: كيف أفعل (عند) (٣) ذلك؟ جعلني اللَّه فداءك، قال: فقال لي: "الزم بيتك وأمسك عليك لسانك وخذ بما تعرف وذر ما تنكر، وعليك بخاصة نفسك، وذر عنك أمر العامة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد تھے جب آپ نے فتنے کا تذکرہ کیا یا آپ کے پاس اس کا تذکرہ کیا گیا۔ فرماتے ہیں آپ نے فرمایا : جب تو لوگوں کو دیکھے کہ ان کے وعدے خراب ہوجائیں اور امانتیں ہلکی ہوجائیں اور وہ ہوجائیں اس طرح اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا، راوی فرماتے ہیں میں آپ کی طرف کھڑا ہوا میں نے عرض کیا اس وقت میں کیسے کروں اللہ مجھے آپ پر قربان کرے فرماتے ہیں مجھ سے آپ نے ارشاد فرمایا : اپنے گھر کو لازم پکڑنا اور اپنی زبان کو روک کر رکھنا جو جانتے ہو وہ لے لینا اور جو نہیں جانتے وہ چھوڑ دینا اور تم پر لازم ہے خاص طور پر تمہاری ذات اور عامۃ الناس کے معاملے کو چھوڑ دینا۔
حدیث نمبر: 39899
٣٩٨٩٩ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن يحيى بن سعيد عن (عبد اللَّه بن) (١) عبد الرحمن الأنصاري عن أبيه أنه سمع أبا سعيد يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: ⦗١٩٥⦘ "يوشك أن يكون خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال (٢) مواقع القطر، يفر بدينه من الفتن" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ وقت قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش برسنے کی جگہوں پر چلا جائے گا وہ فتنوں سے اپنے دین کو بچانے کے لیے وہاں سے بھاگ جائے گا۔
حدیث نمبر: 39900
٣٩٩٠٠ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن حميد بن هلال عن (حجير) (١) بن الربيع قال: قال لي عمران بن حصين: ائت قومك فانههم أن يخفوا في هذا الأمر، فقلت: إني فيهم (لمغمور) (٢) و (لما) (٣) أنا فيهم بالمطاع، (٤) فأبلغهم عني لأن أكون عبدا حبشيا في أعنز (حضنيات) (٥) أرعاها في رأس جبل حتى يدركني الموت أحب إليَّ (من) (٦) أن أرمي في واحد من الصفين بسهم أخطأت أو أصبت (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجیربن الربعو فرماتے ہیں مجھ سے حضرت عمر ان بن حصین نے فرمایا اپنی قوم کے پاس جاؤ اور ان کو اس معاملے میں جلدی کرنے سے روکو میں نے عرض کیا میں ان میں مامور ہوں اور میں ان میں امیر نہیں ہوں حضرت عمران بن حصین نے فرمایا انہیں میری جانب سے یہ پیغام پہنچا دو کہ اگر میں ایک حبشی غلام ہوں عیب دار ہوں بھیڑوں کو چراؤں ایک پہاڑ کی چوٹی میں یہاں تک کہ مجھے موت آجائے یہ بات مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں دونوں صفوں میں سے کسی ایک میں تیر ماروں چاہے درستگی تک پہنچ جاؤں یا غلطی پر ہوں۔
حدیث نمبر: 39901
٣٩٩٠١ - حدثنا (أبو) (١) معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب قال: قال حذيفة: إن (للفتنة) (٢) وقفات وبعثات، فإن استطعت أن تموت في وقفاتها فافعل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یقینا فتنے میں تلواریں سونتی بھی جاتی ہیں اور نیام میں بھی ڈال لی جاتی ہیں۔ یا یقینا فتنہ رکتا بھی ہے اور اٹھتا بھی ہے پس اگر تم سے ہوسکے کہ تمہیں موت آئے اس کے رکنے کے وقت تو ایسا ہی کرنا۔
حدیث نمبر: 39902
٣٩٩٠٢ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ليث عن طاوس عن زياد سيمين كوش اليماني عن عبد اللَّه بن عمرو قال: تكون فتنة أو فتن تستنظف العرب، قتلاها في النار، اللسان فيها أشد من وقع السيف (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن سمین کوش الیمانی حضرت عبداللہ بن عمرو سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا فتنہ ہوگا یا فتنے ہوں گے جو سارے عرب کو ہلاک کردیں گے ان فتنوں کے مقتول آگ میں ہوں گے ان میں زبان (سے بات کرنا) تلوار مارنے سے سخت ہوگی۔
حدیث نمبر: 39903
٣٩٩٠٣ - حدثنا علي بن مسهر وأبو معاوية عن عاصم عن أبي كبشة السدوسي عن أبي موسى قال: خطبنا (١) فقال: "ألا وإن من ورائكم فتنا كقطع الليل المظلم، يصبح (الرجل) (٢) فيها مؤمنا ويمسي كافرا، ويصبح كافرا ويمسي مؤمنا، القاعد فيها خير من القائم، والقائم خير من الماشي، والماشي خير من الراكب"، قالوا: فما تأمرنا؟ قال: "كونوا (أحلاس) (٣) البيوت" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا پس فرمایا خبردار ہو یقینا تمہارے سامنے فتنے ہیں اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ان میں آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا اور شام کو کافر اور صبح کو کافر ہوگا اور شام کو مومن ہوگا، ان میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور پیدل چلنے والا سوار سے بہتر ہوگا، صحابہ کرام j نے عرض کیا آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہوجانا گھروں کے ٹاٹ۔
حدیث نمبر: 39904
٣٩٩٠٤ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن مجاهد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "بين يدي الساعة فتن كقطع الليل المظلم، يصبح الرجل فيها مؤمنا ويمسي كافرا، (ويمسي مؤمنا ويصبح كافرا) (١)، ويبيع أقوام دينهم بعرض الدنيا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے فتنے ہوں گے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ان میں آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوجائے گا اور شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر ہوجائے گا اور لوگ اپنے دین کو بیچیں گے دنیاوی سامان کے بدلے میں۔
حدیث نمبر: 39905
٣٩٩٠٥ - حدثنا عفان (قال: حدثنا همام) (١) قال: حدثنا محمد بن جحادة عن ⦗١٩٧⦘ عبد الرحمن بن ثروان عن (الهزيل) (٢) عن أبي موسى عن النبي ﷺ قال: " (اكسروا) (٣) قسيكم -يعني في الفتنة- (واقطعوا) (٤) الأوتار والزموا أجواف البيوت، وكونوا فيها كالخيّر من (ابني) (٥) آدم" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : اپنی کمانیں توڑ دو فتنے کے بارے میں فرما رہے تھے اور کمان کی تانتیں کاٹ دو اور اپنے گھروں کے اندرونی حصوں کو لازم پکڑو اور ہوجاؤ ان میں آدم کے دو بیٹوں میں سے بہتر بیٹے کی طرح۔
حدیث نمبر: 39906
٣٩٩٠٦ - حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد العمي عن أبي عمران الجوني عن عبد اللَّه بن الصامت عن أبي ذر قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: "يا أبا ذر! أرأيت إن اقتتل الناس حتى تغرق حجارة الزيت من الدماء كيف أنت صانع؟ " قال: قلت: اللَّه ورسوله أعلم، قال (١): "تدخل ييتك"، قال: قلت: (أفأحمل) (٢) السلاح؟ قال: " (إذن) (٣) (شأنك) (٤) " قال: قلت: فما أصنع يا رسول اللَّه؟ قال: "إن خفت أن يغلب شعاع (الشمس) (٥) فألق من ردائك على وجهك يبوء بإثمك وإثمه" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن صامت حضرت ابو ذر سے نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابو ذر مجھے بتاؤ تو سہی اگر لوگ لڑائی کریں یہاں تک کہ (مقام) حجارۃ الزیت خون سے ڈوب جائے تو تو کیا کرنے والا ہوگا حضرت ابو ذر کہتے ہیں میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے گھر میں داخل ہوجانا حضرت ابو ذر فرماتے ہیں میں نے عرض کیا، کہ کیا میں اسلحہ اٹھاؤں آپ نے ارشاد فرمایا : اس وقت تم بھی شریک ہوجاؤ گے، حضرت ابو ذرکہتے ہیں میں نے عرض کیا میں کیا کروں، اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تمہیں خوف ہو کہ سورج کی شعاعیں تم پر غالب آجائیں گی تو اپنے چہرے پر اپنی چادر ڈال لینا وہ لوٹے گا تمہارے گناہ اور اپنے گناہ کو لے کر۔ (مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی گھر میں آکر بھی حملہ کرے تو جواب نہ دینا وہ حملہ آور ہی وبال کے ساتھ لوٹے گا)
حدیث نمبر: 39907
٣٩٩٠٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق عن أبي موسى قال: قال رسول اللَّه ﷺ " (إن) (١) (من) (٢) ورائكم أياما ينزل فيها الجهل ويرفع فيها العلم، ويكثر فيها الهرج"، قالوا: يا رسول اللَّه وما الهرج؟ قال: "القتل" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یقینا تمہارے سامنے ایسے ایام آئیں گے جن میں جہالت اترے گی اور علم اٹھا لیا جائے گا اور ہرج کثرت سے ہوجائے گا صحابہ کرام j نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہرج سے کیا مراد ہے ارشاد فرمایا قتل۔
حدیث نمبر: 39908
٣٩٩٠٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن يزيد بن الأصم قال: قال حذيفة: أتتكم الفتن مثل قطع الليل المظلم، يهلك فيها كل شجاع بطل، وكل راكب موضع، وكل خطيب مصقع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن الاصم فرماتے ہیں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم پر فتنے آئیں گے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ہلاک ہوگا ان میں ہر دلیر اور بہادر اور ہر تیز رفتار سوار اور ہر بلیغ و بلند آواز خطیب۔
حدیث نمبر: 39909
٣٩٩٠٩ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن كرز بن علقمة الخزاعي قال: قال رجل: يا رسول اللَّه هل (للإسلام) (١) منتهى؟ قال: "نعم، أيما أهل بيت من العرب أو العجم أراد اللَّه بهم خيرا أدخل عليهم الإسلام"، قال: ثم مه؟ قال: "ثم الفتن تقع (كالظلل) (٢) تعودون فيها أساود (صبا) (٣)، يضرب بعضكم رقاب بعض". - والأسود الحية ترتفع ثم تنصب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کرزبن علقمہ الخزاعی فرماتے ہیں ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا اسلام کے لیے انتہاء ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں کوئی بھی عرب یا عجم میں سے گھر والے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ فرمائیں گے ان پر اسلام کو داخل کردیں گے، انہوں نے عرض کیا پھر کیا ہوگا ارشاد فرمایا : پھر فتنے ہوں گے جو بادلوں کی طرح وقوع پذیر ہوں گے تم ان میں ڈسنے والے ناگ بن کر لوٹو گے ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے، کالا سانپ سر اٹھاتا ہے پھر ڈسنے کے لیے (شکار) پر گرتا ہے۔
حدیث نمبر: 39910
٣٩٩١٠ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن أسامة أن النبي ﷺ أشرف على أُطُم من آطام المدينة ثم قال: "هل ترون ما أرى؟ إني لأرى مواقع الفتن خلال بيوتكم كمواقع (القطر) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ حضرت اسامہ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے ٹیلوں میں سے کچھ ٹیلوں کی طرف جھانکا پھر ارشاد فرمایا کیا تم دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں، میں تمہارے گھروں میں فتنوں کو بارش کے قطروں کی طرح اترتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔
حدیث نمبر: 39911
٣٩٩١١ - حدثنا مروان بن معاوية عن عوف عن أبي المنهال سيار بن سلامة قال: لما كان زمن (أخرج) (١) ابن زياد (وثب) (٢) مروان بالشام حين وثب، ووثب ابن الزبير بمكة، ووثبت القراء بالبصرة؛ قال: قال أبو المنهال: غم أبي غما شديدًا، قال: وكان يثني على أبيه خيرًا، قال: قال لي أبي: أي بني! انطلق بنا إلى هذا الرجل من صحابة رسول اللَّه ﷺ. فانطلقنا إلى (أبي) (٣) (برزة) (٤) الأسلمي في يوم حار شديد الحر، وإذا هو جالس في ظل علوٍ له من قصب، فأنشأ أبي يستطعمه الحديث، فقال: يا أبا برزة! ألا ترى؟ ألا ترى؟ فكان أول شيء تكلم به، قال: (أما) (٥) إني أصبحت ساخطا على أحياء قريش، إنكم -معشر العرب- كنتم على الحال التي قد علمتم من قلتكم وجاهليتكم، وإن اللَّه (نعشكم) (٦) (بالإسلام) (٧) وبمحمد حتى بلغ بكم ما ترون، وإن هذه الدنيا هي التي قد أفسدت بينكم، إن ذاك الذي بالشام -يعني مروان- واللَّه إن يقاتل إلا على ⦗٢٠٠⦘ الدنيا، وإن ذاك الذي بمكة -يعني ابن الزبير- واللَّه إن يقاتل إلا على الدنيا وإن هؤلاء الذين حولهكم (تدعونهم قراءكم) (٨) واللَّه إن يقاتلون إلا على الدنيا. قال: فلما لم يدع أحدا قال له أبي: يا أبا برزة! ما ترى؟ قال: لا أرى اليوم خيرا من عصابة ملبدة، خماص بطونهم من أموال الناس، خفاف ظهورهم من دمائهم (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو المنہال سیار بن سلامہ روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ جس زمانے میں ابن زیاد کو نکالا گیا تو مروان نے شام پر اور حضرت عبداللہ بن زبیر نے مکہ اور قراء نے بصرہ پر حملہ کیا اوف کہتے ہیں، ابو المنہال نے فرمایا میرے والد بہت زیادہ غمگین ہوئے اور راوی کہتے ہیں حضرت ابو المنہال اپنے والد کی اچھی تعریف کرتے تھے۔ ابو المنہال نے فرمایا مجھ سے میرے والد نے کہا کہ اے بیٹے ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے اس آدمی کی طرف ہمیں لے چلو پس ہم نکلے حضرت ابو برزہ اسلمی کی طرف ایسے دن میں جو سخت گرمی والا تھا پس وہ بیٹھے ہوئے تھے بلند سایے میں جو ان کے لیے بانس سے بنایا گیا تھا۔ پس شروع ہوئے میرے والد کہ ان سے گفتگو چاہتے تھے پس میرے والد نے کہا اے ابا برزہ ! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ؟ کیا آپ دیکھ نہیں رہے ؟ پس پہلی بات جو انہوں نے کہی فرمایا میں قریش کے قبائل پر ناراض ہوں۔ یقینا اے عرب کے قبائل تم تھے اس قلت اور جاہلیت کی حالت پر جو تم جانتے ہو۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے بلند کیا یہاں تک کہ تم اس حالت پر پہنچ گئے جو تم دیکھ رہے ہو، اور یہ دنیا ہی ہے جس نے تمہارے درمیان فسادبرپا کردیا ہے۔ بیشک یہ جو شام میں ہیں ان کی مراد تھی مروان۔ بخدا نہیں وہ لڑائی کر رہا مگر دنیا کے لیے اور بیشک یہ جو تمہارے گرد ہیں جنہیں تم اپنے قراء کہتے ہو بخدا یہ بھی نہیں لڑ رہے مگر دنیا کے لیے۔ ابو المنہال راوی فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا تو ان سے میرے والد نے کہا کہ آپکی کیا رائے ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا میں تو آج اس جماعت سے بہتر کسی کو نہیں سمجھتا جو زمین سے چپکی ہوئی ہو ان کے پیٹ لوگوں کے مالوں سے خالی ہوں ان کی کمریں لوگوں کے خونوں کی ذمہ داری سے فارغ ہوں۔
حدیث نمبر: 39912
٣٩٩١٢ - حدثنا أبو معاوية وابن نمير وحميد بن عبد الرحمن، عن الأعمش، عن شقيق، عن حذيفة قال: كنا جلوسا عند عمر فقال: أيكم يحفظ حديث رسول اللَّه ﷺ في الفتنة كما قال؟ (١) فقلت: أنا، قال: فقال: إنك لجريء، وكيف؟ قال: قلت: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "فتنة الرجل في أهله وماله ونفسه وجاره يكفرها الصيام والصدقة والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر"، فقال عمر: ليس هذا أريد، إنما أريد التي تموج (كـ) (٢) ــموج البحر، قال: قلت: مالك ولها يا أمير المؤمنين؟ إن بينك وبينها بابا مغلقًا، قال: (فيكسر) (٣) الباب، [أم يُفتح؟ قال: قلت: لا، بل يكسر، قال: (ذاك) (٤) أحرى أن لا يغلق أبدًا، قال: قلنا لحذيفة: هل] (٥) كان (عمر) (٦) يعلم من الباب؟ قال: نعم، كما أعلم أن غدا دون الليلة، ⦗٢٠١⦘ (إني حدثته) (٧) حديثًا ليس بالأغاليط، قال: فهبنا حذيفة أن نسأله: من الباب؟ فقلنا لمسروق: سله، فسأله فقال: عمر (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم حضرت عمر کے پاس بیٹھے تھے انہوں نے فرمایا تم میں کون ہے جسے فتنے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ایسے ہی یاد ہے جیسے آپ نے ارشاد فرمائی میں نے عرض کیا کہ میں ہوں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر نے فرمایا یقینا تو جری ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیسے ارشاد فرمایا میں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے آدمی کے گھر اور مال اور اپنی ذات اور پڑوسی میں فتنہ اس کا کفارہ ہوجائے گا روزہ اور صدقہ اور اچھائی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا، حضرت عمر نے فرمایا میری یہ مراد نہیں ہے میری مراد تو وہ فتنہ ہے جو سمندر کی موج کی طرح زور پر ہوگا راوی کہتے ہیں میں نے کہا آپ کو اس سے کیا غرض امیر المؤمنین بلا شبہ آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے، حضرت عمر نے فرمایا کیا دروازہ توڑا جائے یا کھولا جائے گا راوی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا نہیں بلکہ توڑا جائے گا انہوں نے فرمایا یہ (دروازہ) زیادہ لائق ہے اس بات کے کہ اسے کبھی بند نہ کیا جائے۔ شقیق راوی کہتے ہیں ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا حضرت عمر جانتے تھے دروازہ کون ہے انہوں نے فرمایا ہاں جیسے میں جانتا ہوں کہ صبح رات سے پہلے ہے میں نے ان سے حدیث بیان کی ہے نہ کہ مغالطہ آمیز باتیں راوی حضرت شقیق کہتے ہیں ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ بات کہ دروازہ کون ہے پوچھنے سے ڈر گئے ہم نے حضرت مسروق سے کہا آپ ان سے پوچھیں انہوں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا حضرت عمر ۔
حدیث نمبر: 39913
٣٩٩١٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق عن حذيفة قال: لفتنة السوط أشد من فتنة السيف، قالوا: وكيف ذاك؟ قال: إن الرجل ليضرب بالسوط حتى يركب (الخشبة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کوڑے کا فتنہ تلوار کے فتنے سے زیادہ سخت ہے تو ان کے اصحاب نے عرض کیا یہ کیسے ہوسکتا ہے انہوں نے فرمایا بیشک آدمی کو کوڑا مارا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ لکڑی پر سوار ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 39914
٣٩٩١٤ - حدثنا أبو الأحوص، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن سعيد ابن زيد قال: كنا عند النبي ﷺ فذكر فتنة (فعظم) (١) أمرها، قال: فقلنا -أو قالوا-: يا رسول اللَّه لئن أدركنا هذا لنهلكن، قال: "كلا، إن بحسبكم القتل"، قال سعيد: فرأيت إخواني قتلوا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن زید فرماتے ہیں ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے آپ نے ایک فتنے کا تذکرہ فرمایا اس کے معاملے کو بڑا جانا راوی فرماتے ہیں ہم نے یا انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر ہم نے اسے پا لیا تو ہم ہلاک ہوجائیں گے ارشاد ہرگز نہیں تمہیں کافی ہوگا قتل حضرت سعید فرماتے ہیں میں نے اپنے بھائیوں کو دیکھا کہ سب قتل کیے گئے۔
حدیث نمبر: 39915
٣٩٩١٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الوليد بن جميع عن عامر بن واثلة قال: قال حذيفة: تكون ثلاث فتن، الرابعة تسوقهم إلى الدجال، التي ترمي (بالنشف) (١)، والتي ترمي (بالرضف) (٢)، والمظلمة التي تموج كموج البحر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین فتنے واقع ہونگے اور چوتھا فتنہ لوگوں کو دجال کی طرف لے جائے گا ان کے لیے پہلا فتنہ پانی خشک کرنے والے پتھر مارے گا اور دوسرا گرم پتھر پھینکے گا اور تیسرا وہ اندھیرا پھیلائے گا جو سمندر کی موج کی طرح ٹھاٹھیں مارے گا۔
حدیث نمبر: 39916
٣٩٩١٦ - حدثنا أبو أسامة عن سليمان بن المغيرة قال: قال: حميد حدثنا نصر ابن عاصم قال: حدثنا اليشكري قال: سمعت حذيفة يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "فتنة عمياء صماء عليها دعاة على أبواب النار، فإن (تموت) (١) يا حذيفة وأنت عاض على (جذل) (٢) خير لك من أن تتبع أحدا منهم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یشکری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک اندھا بہرہ فتنہ ہوگا جس کی طرف بلانے والے جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے ہونگے۔ اے حذیفہ رضی اللہ عنہ ! تمہیں اس حال میں موت آئے کہ تم درخت کی جڑ کو کھانے والے ہو یہ بات بہتر ہے اس سے کہ تم ان میں سے کسی ایک کی پیروی کرو۔
حدیث نمبر: 39917
٣٩٩١٧ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن ربعي قال: قال رجل لحذيفة: (كيف أصنع إذا اقتتل المصلون؟ قال: تدخل بيتك، قال: قلت) (١): كيف أصنع إن دُخل بيتي؟ قال: قل: إني (لن) (٢) أقتلك إني أخاف اللَّه رب العالمين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربعی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھاجب نمازی آپس میں جھگڑا کریں تو میں کیا کروں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اپنے گھر میں پناہ پکڑنا اس صاحب نے کہا کہ اگر وہ میرے گھر میں بھی داخل ہوجائیں تو میں کیا صورت اختیار کروں تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہہ دینا تمہیں ہرگز نہیں قتل کرونگا کیونکہ میں تمام جہانوں کے پروردگار سے ڈرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 39918
٣٩٩١٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب عن حذيفة قال: وكلت الفتنة بثلاثة: بالجاد النحرير الذي لا يريد أن يرتفع له (شيء) (١) إلا قمعه بالسيف، وبالخطيب الذي (يدعو) (٢) إليه الأمور، وبالشريف المذكور، فأما الجاد النحرير فتصرعه، وأما هذان (فتبحثهما) (٣) فتبلو ما عندهما (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں فتنہ تین آدمیوں کی وجہ سے قائم ہوگا ایک تو محنتی صاحب بصیرت آدمی جب بھی اس کے سامنے کوئی چیز بلند ہوتی ہے تو وہ اسے تلوار سے ختم کردیتا ہے اور وہ خطیب جس کی طرف تمام امور دعوت دیتے ہیں اور مذکورہ شریف باقی وہ محنتی صاحب بصر ت اس فتنے کو پچھاڑ دیتا ہے اور باقی یہ دو فتنہ ان کو تلاش کرتا ہے اور جو ان کے پاس ہوتا ہے اسے پرانا کردیتا ہے۔
حدیث نمبر: 39919
٣٩٩١٩ - حدثنا مروان بن معاوية عن الصلت بن بهرام عن المنذر بن هوذة عن خرشة بن الحر قال: قال حذيفة: كيف أنتم إذا بركت تجرُّ خطامها فأتتكم من هاهنا (ومن هاهنا؟) (١) قالوا: لا ندري واللَّه، قال: لكني -واللَّه- أدري، أنتم يومئذ كالعبد وسيده، إن سبه السيد لم يستطع العبد أن يسبه وإن ضربه لم يستطع العبد أن يضربه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خرشہ بن حرر فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا حالت ہوگی تمہاری اس وقت جب وہ (فتنہ) تمہاری طرف آئے گا اپنی لگام کو کھینچتے ہوئے پس وہ تمہارے پاس اس طرف سے بھی آئیگا اور اس طرف سے بھی آئے گا۔ لوگوں نے عرض کیا بخدا ہم تو نہیں جانتے، تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن اللہ کی قسم میں جانتا ہوں تم اس دن غلام اور آقا کی طرح ہوگے اگر آقا اسے برا بھلا کہے تو غلام اس کو برا بھلا نہیں کہہ سکتا اور اگر وہ اسے مارے تو غلام اس کو نہیں مار سکتا۔
حدیث نمبر: 39920
٣٩٩٢٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا الصلت بن بهرام عن منذر بن هوذة عن خرشة عن حذيفة قال: كيف أنتم إذا انفرجتم عن دينكم كما تنفرج المرأة عن قبلها لا تمنع من يأتيها؟ قالوا: لا ندري، قال: لكني -واللَّه- أدري أنتم يومئذ بين عاجز وفاجر، فقال رجل من القوم: قبح العاجز عن ذاك، قال: فضرب ظهرَه حذيفة مرارا، ثم قال: (قبحت أنت، قبحت أنت) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خرشہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کیا حال ہوگا تمہارا اس وقت جب تم اپنے دین کو ارزاں کردو گے جیسے ارزاں کردیتی ہے وہ عورت اپنی شرم گاہ کو جو اپنے پاس آنے سے کسی کو نہیں روکتی ، پھر لوگوں نے عرض کیا ہم نہیں جانتے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن اللہ کی قسم میں جانتا ہوں تم اس دن عاجز اور فاجر کے درمیان ہوگے۔ لوگوں میں سے ایک صاحب نے کہا یہ عاجز اس فاجر کے مقابلے میں بھلائی سے دور کیا جائے، راوی فرماتے ہیں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پشت پر کئی مرتبہ ماراتو بھلائی سے دور کیا جائے تو بھلائی سے دور کیا جائے۔
حدیث نمبر: 39921
٣٩٩٢١ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا الصلت بن بهرام قال: أخبرنا المنذر ابن هوذة عن خرشة أن حذيفة دخل المسجد، فمر على قوم يقرئ بعضهم بعضا (فقال) (١): أن تكونوا على الطريقة، لقد سبقتم سبقا بعيدا، وأن تدعوه فقد ضللتم، قال: ثم جلس إلى حلقة، فقال: إنا كنا قوما آمنا قبل أن نقرأ، وإن قوما سيقرأون قبل أن يؤمنوا، فقال رجل من القوم: تلك الفتنة، قال: أجل، قد أتتكم من أمامكم حيث تسوء وجوهكم، ثم لتأتينكم ديما ديما، إن الرجل ليرجع فيأتمر الأمرين: أحدهما عجز، والآخر فجور، قال خرشة: فما برحت إلا قليلا حتى ⦗٢٠٤⦘ رأيت الرجل يخرج بسيفه يستعرض الناس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خرشہ سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جن میں سے کچھ دوسروں کو قرآن پڑھا رہے تھے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تم درست طریقے پر قائم ہو تو تم بہت سبقت لے گئے ہو اور اگر تم اسے چھوڑ چکے ہو تو تم گمراہ ہوچکے ہو راوی فرماتے ہیں پھر ایک حلقہ میں تشریف فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا بلا شبہ ہم لوگ قرآن پڑھنے سے پہلے ایمان لائے اور آئندہ کچھ لوگ ایمان لانے سے پہلے قرآن پڑھیں گے لوگوں مں ئ سے ایک صاحب نے عرض کیا یہ فتنہ ہوگا ارشاد فرمایا ہاں وہ تمہارے سامنے سے جہاں سے تم رنجیدہ ہو وہاں سے آئے گا پھر رش کی طرح (آہستہ آہستہ ہمیشگی کے ساتھ) آتا رہے گا۔ بلا شبہ کوئی آدمی اس سے لوٹے گا اور دو کاموں کا حکم دے گا ایک ان میں سے عجز اور دوسرا فسق و فجور ہے۔ حضرت خرشہ فرماتے ہیں (اس بات کے) تھوڑی ہی مدت کے بعد میں نے دیکھا ایک آدمی کو کہ وہ اپنی تلوار لے کر نکلا لوگوں کا پیچھا کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 39922
٣٩٩٢٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الحارث بن (حصيرة) (١) عن زيد بن وهب قال: قيل لحذيفة: ما وقفات الفتنة وما بعثاتها؟ قال: بعثاتها سل السيف، ووقفاتها (إغماده) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا فتنے کے وقفات اور بعثات سے کیا مراد ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا فتنے کے بعثات سے مراد تلواروں کا سونتنا ہے کا اور اس کے وقفات سے مراد تلواروں کا نیاموں میں ڈالنا ہے۔
حدیث نمبر: 39923
٣٩٩٢٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا يحيى بن سعيد أن أبا الزبير أخبره عن أبي الطفيل عامر بن واثلة أن حذيفة قال له: كيف أنت وفتنة خير الناس فيها غني خفي؟ قال: قلت: وكيف؟ وإنما هو عطاء أحدنا يطرح به كل مطرح، ويرمي به كل مرمى (١)، قال: كن إذن كابن المخاض لا ركوبة (فتركب) (٢) ولا حلوبة (فتحلب) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الطفیل عامر بن واثلہ سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کیا حالت ہوگی تمہاری جبکہ ایک فتنہ ہوگا اس میں لوگوں میں سے سب سے بہتر پوشیدہ غنی آدمی ہوگا۔ حضرت عامر بن واثلہ نے فرمایا میں نے کہا یہ کیسے ہوگا انہوں نے فرمایا بلاشبہ وہ ہم میں سے کسی کی عطاء ہے جسے وہ ڈالنے والی جگہ ڈال دیتا ہے اور پھینکنے والی جگہ میں پھینک دیتا ہے (اور) فرمایا اس وقت اونٹنی کے ایک سال کے بچے کی طرح ہوجانا جو نہ سواری بن سکتا ہے کہ اسے سواری بنایا جائے اور نہ دودھ دینے والا ہوتا ہے کہ اس سے دودھ دھویا جائے۔
حدیث نمبر: 39924
٣٩٩٢٤ - حدثنا يزيد بن هارون عن شعبة عن أبي إسحاق عن عبد اللَّه بن الرواع (عن) (١) حذيفة قال: تكون فتنة تقبل مشبهة وتدبر (مبينة) (٢)، فإن كان ⦗٢٠٥⦘ ذلك فالبدو (لبود) (٣) الراعي على عصاه خلف غنمه، لا (يذهب) (٤) (بكم) (٥) السيل (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن الرواع حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا ایک فتنہ ہوگا جو آئے گا شبہات ڈالتے ہوئے اور واپس ہوگا تعفن پھیلائے ہوئے پس اگر یہ ہوجائے تو تم چرواہے کے اپنی بکریوں کے پیچھے لاٹھی پر چمٹنے کی طرح زمین کی طرف چمٹ جانا تا کہ سیلاب بہا کر نہ لے جائے۔
حدیث نمبر: 39925
٣٩٩٢٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب عن ميمون بن أبي شبيب قال: قيل لحذيفة: أكفرت بنو إسرائيل في يوم (واحد؟) (١) قال: لا، ولكن كانت تعرض عليهم الفتنة فيأتونها فيُكرهون عليها، ثم (تعرض) (٢) (عليهم) (٣) فيأتونها حتى ضربوا عليها بالسياط والسيوف حتى خاضوا (إخاضة) (٤) الماء حتى لم يعرفوا معروفا ولم ينكروا منكرا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن ابوشبیب سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا، بنی اسرائیل نے ایک دن میں کفر کیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا نہیں لیکن ان پر فتنہ پیش کیا جاتا تھا اور وہ اسے اختیار کرنے سے انکار کرتے تھے پس انہیں اس پر مجبور کیا جاتا تھا پھر فتنہ ان پر پیش کیا گیا انہوں نے اسے اختیار کرنے سے انکار کیا، یہاں تک کہ انہیں اس کے اختیار کرنے پر کوڑوں اور تلواروں کے ذریعے مارا گیا یہاں تک کہ وہ اس فتنے میں گھس گئے پانی میں گھس جانے کی طرح (نوبت بایں جارسید) یہاں تک کہ وہ کسی نیکی کو نہ جانتے پہچانتے تھے اور نہ کسی منکر پر انکار کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 39926
٣٩٩٢٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن ربعي قال: سمعت رجلا في جنازة حذيفة يقول: سمعت صاحب هذا السرير يقول: ما بي بأس (مذ) (١) سمعت من رسول اللَّه ﷺ: ولئن اقتتلتم لأدخلن بيتي، فلئن دخل علي لأقولن: ها بؤ بإثمي وإثمك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربعی بن حراش سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے ایک صاحب کو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اس چارپائی والے کو فرماتے ہوئے سنا ہے مجھے کوئی پروا نہیں جب سے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد سنا ہے کہ اگر تم آپس میں لڑائی کرو گے تو میں اپنے گھر میں داخل ہوجاؤں گا اور اگر کوئی میرے گھر میں داخل ہوگا تو میں کہوں گا لے میرا اور اپنے گناہ کا وبال لے کر لوٹ۔
حدیث نمبر: 39927
٣٩٩٢٧ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن سعد قال: قال حذيفة: ⦗٢٠٦⦘ من فارق الجماعة شبرا (١) فارق الإسلام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا جو آدمی ایک بالشت بھی جماعت (المسلمین) سے ہٹا تو وہ اسلام سے جدا ہوگیا۔
حدیث نمبر: 39928
٣٩٩٢٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن همام عن حذيفة قال: ليأتين على الناس زمان لا ينجو فيه إلا (الذي يدعو) (١) بدعاء كدعاء (الغريق) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہمام سے روایت ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا ضرور بالضرور لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں نہیں نجات پائے گا مگر وہ شخص جو ڈوبنے والے آدمی کی طرح دعامانگے گا۔
حدیث نمبر: 39929
٣٩٩٢٩ - [حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمارة عن أبي عمار قال: قال حذيفة: ليأتين على الناس زمان لا ينجو فيه إلا من دعا بدعاء دعاء (الغريق) (١)] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمار سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ضرور بالضرور لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں نجات نہیں پائے گا مگر وہ شخص جو ڈوبنے والے کی طرح دعا مانگے گا۔
حدیث نمبر: 39930
٣٩٩٣٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن عمارة عن أبي عمار عن (١) حذيفة قال: واللَّه إن الرجل ليصبح بصيرا ثم (يمسي) (٢) وما ينظر بشفر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمار حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم کوئی آدمی صبح کے وقت دیکھنے والا ہوگا پھر شام کرے گا اور کسی چیز کے کنارے کو بھی دیکھنے کی قدرت نہ رکھتا ہوگا۔
حدیث نمبر: 39931
٣٩٩٣١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (زيد) (١) قال: قرأ حذيفة هذه الآية: ﴿(فَقَاتِلُوا) (٢) أَئِمَّةَ الْكُفْرِ﴾ [التوبة: ١٢]، قال: ما قوتل أهل هذه الآية بعد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت { فَقَاتِلُوا أَئِمَّۃَ الْکُفْرِ } تلاوت کی (یعنی کفر کے رہنماؤں کو قتل کرو) پھر ارشاد فرمایا اس آیت کے مصداق لوگوں سے اس کے بعد قتال نہیں کیا گیا۔
…