حدیث نمبر: 39884
٣٩٨٨٤ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن عبد اللَّه بن أبي بكر قال: قال رسول اللَّه ﷺ ليلة العقبة: "أخرجوا إلى اثني عشر منكم يكونوا (كفلاء على قومهم) (١) (ككفالة) (٢) الحواريين لعيسى بن مريم،، فكان نقيب بني النجار - (قال: ابن إدريس) (٣): وهم أخوال رسول اللَّه ﷺ: أسعد بن زرارة أبو أمامة، وكان (نقيبي) (٤) بني الحارث بن الخزرج: عبد اللَّه بن رواحة وسعد بن ربيع، وكان (نقيبي) (٥) بني سلمة: عبد اللَّه بن عمرو بن (حرام) (٦) والبراء بن معرور، وكان (نقيبي) (٧) بني ساعدة: سعد بن عبادة والمنذر بن عمرو، وكان (نقيب) (٨) بني زريق رافع بن مالك، وكان نقيب بني عوف بن الخزرج، وهم القوافل، عبادة بن الصامت، وكان (نقيبي) (٩) بني عبد الأشهل: (أسيد بن الحضير) (١٠) وأبو الهيثم بن التيهان، وكان نقيب بني عمرو بن عوف: سعد بن خيثمة (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لیلۃ العقبہ کو فرمایا۔ ” تم لوگ اپنے میں سے بارہ لوگوں کو میری طرف نکال دو جو اپنی اپنی قوم کے کفیل ہوں جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم کے حواریوں کے کفیل تھے “۔ پس بنو نجار کے کفیل … ابن ادریس کہتے ہیں۔ بنو نجار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماموں لگتے تھے… اسعد بن زرار اور ابو امامہ تھے اور بنو الحارث بن خزرج کے دو نقیب (کفیل) حضرت عبد اللہ بن رواحہ اور سعد بن ربیع تھے اور بنو سلمہ کے دو نقیب حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بن حرام اور حضرت براء بن معرور تھے اور بنو ساعدہ کے دو نقیب حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت منذر بن عمرو تھے۔ اور بنوزریق کے نقیب رافع بن مالک تھے اور بنو عوف بن خزرج کے نقیب … یہ لوگ قواقل کے لقب سے ملقب تھے … عبادہ بن صامت تھے اور بنو عبدالاشہل کے دو نقیب حضرت اسید بن حضیر اور حضرت ابو الہیثم بن تیہان تھے اور بنو عمرو بن عوف کے نقیب حضرت سعد بن خیثمہ تھے۔
حدیث نمبر: 39885
٣٩٨٨٥ - حدثنا عبد الرحيم عن (مجالد) (١) عن الشعبي عن عقبة بن عمرو الأنصاري قال: وعدنا رسول اللَّه ﷺ (أصل) (٢) العقبة يوم (الأضحى) (٣) ونحن سبعون رجلًا، قال (عقبة) (٤): إني من أصغرهم، (فأتانا) (٥) رسول اللَّه ﷺ فقال: "أوجزوا في الخطبة، فإني أخاف عليكم كفار قريش"، قال: قلنا: يا رسول اللَّه سلنا لربك، وسلنا لنفسك، وسلنا لأصحابك، وأخبرنا ما الثواب على اللَّه وعليك؟ فقال: " (أسألكم) (٦) لربي: أن تؤمنوا به ولا تشركوا به شيئًا، (وأسألكم) (٧) (لنفسي) (٨): أن تطيعوني (اهدكم) (٩) سبيل الرشاد، (وأسألكم) (١٠) لي ولأصحابي: أن تواسونا في ذات أيديكم، وأن (تمنعونا) (١١) مما (منعتم) (١٢) منه أنفسكم، مإذا فعلتم ذلك فلكم على اللَّه الجنة (وعليّ) (١٣) "، قال: فمددنا أيدينا (فبايعناه) (١٤) (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عمرو انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم الاضحی کو گھاٹی کی جڑ میں ہم لوگوں سے وعدہ لیا اور ہم لوگ ستر کی تعداد میں تھے … حضرت عقبہ کہتے ہیں۔ میں ان میں سب سے چھوٹا تھا … پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا۔ ” گفتگو مختصر کرو کیونکہ مجھے تم پر قریش کے کفار کا ڈر ہے۔ “ راوی کہتے ہیں۔ ہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ ہم سے اپنے رب کے بارے میں سوال کریں اور آپ ہم سے اپنے بارے میں کوئی سوال کریں اور آپ ہم سے اپنے ساتھیوں کے بارے میں کچھ سوال کریں اور ہمں ب بھی بتادیں کہ اللہ پر اور آپ پر (ہمارے لئے) کیا ثواب دینا لازم ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” میں اپنے رب کے بارے میں تم سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور میں تم سے اپنے بارے میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تم میری بات مانو میں تمہیں راہ ہدایت کی جانب راہ نمائی کروں گا۔ اور میں تم سے اپنے ساتھیوں کے بارے میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تم ان کے ساتھ اپنے مال میں ہمدردی کرو اور یہ کہ تم ہم سے ان چیزوں کو روکو جن کو تم خود سے روکتے ہو۔ پس جب تم لوگ یہ کچھ کرو گے تو پھر تمہارے لئے اللہ پر اور مجھ پر جنت واجب ہے۔ “ راوی کہتے ہیں پس ہم نے اپنے ہاتھ دراز کیے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی۔
حدیث نمبر: 39886
٣٩٨٨٦ - حدثنا ابن نمير عن إسماعيل عن الشعبي قال: انطلق العباس مع النبي ﷺ إلى الأنصار فقال: تكلموا ولا (تطيلوا) (١) (الخطبة، إن) (٢) عليكم عيونا (وإني) (٣) أخشى عليكم كفار قريش، فتكلم رجل منهم يكنى أبا أمامة، وكان خطيبهم يومئذ وهو أسعد بن زرارة، فقال للنبي ﷺ: سلنا لربك وسلنا لنفسك وسلنا لأصحابك، وما الثواب على ذلك؟ فقال النبي ﷺ: " (أسألكم) (٤) لربي أن تعبدوه ولا تشركوا به شيئًا، ولنفسي أن تؤمنوا بي وتمنعوني مما (تمنعون) (٥) منه أنفسكم وأبناءكم، ولأصحابي المواساة في ذات أيديكم"، قالوا: فما لنا إذا فعلنا ذلك؟ قال: "لكم على اللَّه الجنة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے کہ حضرت عباس ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ انصار کی طرف چل کر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” بات کرو لیکن گفتگو لمبی نہ کرنا۔ تم پر جاسوس متعین ہیں اور مجھے تمہارے بارے میں قریش کے کفار سے خوف ہے “ پس ان میں سے ایک آدمی … جس کی کنیت ابو امامہ تھی … اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ آپ ہم سے اپنے رب کے لئے سوال کریں، آپ ہم سے اپنے لئے سوال کریں اور آپ ہم سے اپنے ساتھیوں کے لئے سوال کریں۔ اور (یہ بتائیں کہ) اس پر کیا ثواب ملے گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” میں تم سے اپنے رب کے بارے میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اور اپنے لئے یہ سوال کرتا ہوں کہ تم مجھ پر ایمان لاؤ اور مجھ سے ان چیزوں کو روکو جن چیزوں کو تم اپنے اور اپنے بیٹوں سے روکتے ہو۔ اور اپنے ساتھیوں کے لئے یہ سوال کرتا ہوں کہ تم ان کے ساتھ اپنے اموال میں ہمدردی کرو “ انصار نے پوچھا۔ جب ہم یہ سب کچھ کریں گے تو ہمیں کیا ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ تمہارے لئے اللہ پر جنت واجب ہے۔
حدیث نمبر: 39887
٣٩٨٨٧ - حدثنا الفضل بن دكين عن الوليد بن جميع عن أبي الطفيل قال: كان بين (١) حذيفة وبين رجل منهم من أهل العقبة (٢) بعض ما يكون بين الناس، (فقال) (٣): أنشدك باللَّه، كم كان أصحاب العقبة؟ فقال القوم: فأخبره فقد سالك، فقال أبو موسى الأشعري: قد كنا نخبر أنهم أربعة عشر، فقال حذيفة: وإن كنت ⦗١٨٧⦘ فيهم فقد كانوا خمسة عشر، أشهد باللَّه أن إثني عشر منهم (حرب) (٤) (للَّه) (٥) ورسوله في الحياة الدنيا ويوم يقوم الأشهاد، وعذر ثلاثة، قالوا: ما سمعنا منادي رسول اللَّه ﷺ (٦) ولا علمنا ما يريد القوم (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوا لطفیل سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور اہل عقبہ میں سے ایک اور آدمی کے درمیان کچھ تکرار سی تھی تو انہوں نے پوچھا۔ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں (بتاؤ) اصحاب العقبہ کی تعداد کیا تھی ؟ اس پر لوگوں نے بھی کہا۔ تم اس کو بتاؤ کیونکہ اس نے تم سے سوال کیا ہے۔ پس حضرت ابو موسیٰ اشعری نے کہا۔ تحقیق ہمیں تو یہ خبر ملی تھی کہ وہ چودہ تھے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اور اگر آپ ان میں ہوتے تو وہ پندرہ ہوتے۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان میں سے بارہ تو دنیا و آخرت میں اللہ اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار تھے۔ اور تین نے معذرت کی تھی اور انہوں نے کہا تھا۔ ہم نے اللہ کے رسول کے منادی کو نہیں سنا اور ہمیں پتا نہیں کہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 39888
٣٩٨٨٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل بن أبي خالد قال: سمعت عبد اللَّه بن أبي أوفى، وكان ممن بايع تحت الشجرة، يقول: دعا رسول اللَّه ﷺ على الأحزاب فقال: "اللهم (١) منزل الكتاب، سريع الحساب، هازم الأحزاب، اللهم اهزمهم وزلزلهم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن خالد سے روایت ہے کہ میں عبد اللہ بن ابی اوفیٰ … یہ ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی…کو کہتے سُنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لشکروں کے خلاف بددعا کی اور فرمایا۔ ” اے اللہ ! کتاب کو اتارنے والے ، جلد حساب لینے والے، لشکروں کو شکست دینے والے، اے اللہ ! تو ان کو شکست دے دے اور ان کو ہلا دے۔ “
حدیث نمبر: 39889
٣٩٨٨٩ - حدثنا يحيى بن أبي بكير (حدثنا) (١) شعبة عن عمرو بن مرة قال: سمعت بن أبي أوفى يقول: كان أصحاب النبي ﷺ الذين (بايعوا) (٢) تحت الشجرة (ألفا) (٣) وأربعـ (ــمائة) (٤) أو (ألفا) (٥) وثلاثمائة، وكانت أسلم (من) (٦) المهاجرين (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفیٰ کو کہتے سُنا کہ جن صحابہ نے درخت کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی وہ چودہ سو یا تیرہ سو تھے اور قبیلہ اسلم کے لوگ مہاجرین کا ایک ثمن تھے۔
حدیث نمبر: 39890
٣٩٨٩٠ - حدثنا عبدة بن سليمان عن (مجالد) (١) عن عامر قال: أول من بايع تحت الشجرة أبو سنان الأسدي وهب، أتى النبي ﷺ فقال (٢): أبايعك، (قال) (٣): "علام تبايعني؟ " قال: على ما في نفسك، قال: فبايعه، قال: وأتاه رجل آخر فقال: أبايعك على ما بايعك عليه أبو سنان فبايعه، ثم بايعه الناس (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے روایت ہے کہ درخت کے نیچے سب سے پہلے ابو سنان اسدی وھب نے بیعت کی تھی۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ میں آپ کی بیعت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ” تم کس بات پر میری بیعت کرتے ہو ؟ “ ابو سنان نے کہا۔ اس بات پر جو آپ کے دل میں ہے۔ راوی کہتے ہیں ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بیعت کیا۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر ایک اور آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور اس نے کہا ۔ جس بات پر ابو سنان نے بیعت کی ہے میں بھی اس پر آپ کی بیعت کرتا ہوں۔ پس اس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی ۔ پھر باقی لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی۔
حدیث نمبر: 39891
٣٩٨٩١ - حدثنا محمد بن بشر (حدثنا) (١) إسماعيل عن عامر قال: السابقون الأولون: من أدرك بيعة الرضوان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے روایت ہے کہ السَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بیعۃ الرضوان کی تھی۔