حدیث نمبر: 39876
٣٩٨٧٦ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن آبي صالح قال: كان الحادي (يحدو) (١) بعثمان وهو يقول: إن الأمير بعده علي … وفي الزبير خلف رضي قال: فقال كعب: ولكنه صاحب البغلة الشهباء -يعني معاوية، فقيل لمعاوية: إن (كعبًا) (٢) يسخر بك ويزعم أنك تلي هذا الأمر، قال: فأتاه (فقال) (٣): ⦗١٨١⦘ يا أبا إسحاق! وكيف وههنا علي والزبير وأصحاب محمد (٤)؟ قال: أنت صاحبها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح سے روایت ہے کہ ایک حدی خوان حضرت عثمان کے لئے حدی پڑھ رہا تھا اور کہہ رہا تھا۔ ” یقینا عثمان کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہامیر ہیں اور زبیر میں پسندیدہ خلافت ہے۔ “ راوی کہتے ہیں۔ حضرت کعب نے کہا۔ لیکن وہ جو بھورے رنگ کے خچر والے معاویہ ہیں ۔ پس حضرت معاویہ سے کہا گیا کہ حضرت کعب آپ کے ساتھ مذاق کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ آپ اس امر خلافت کے ولی بنیں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر یہ حضرت معاویہ کے پاس آئے تو معاویہ نے کہا۔ اے ابو اسحاق ! یہ بات تم نے کیسے کہی جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زبیر اور دیگر اصحابِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہیں۔ کعب نے کہا۔ آپ ہی اس خلافت کے حق دار ہیں۔
حدیث نمبر: 39877
٣٩٨٧٧ - حدثنا هشيم عن العوام عن إبراهيم التيمي قال: لما بويع أبو بكر (قال) (١): قال سلمان: أخطاتم وأصبتم، أما لو جعلتموها في أهل بيت نبيكم (٢) (لأكلتموها) (٣) رغدا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی سے روایت ہے کہ جب حضرت ابوبکر کی بیعت کی گئی تو راوی کہتے ہیں۔ حضرت سلمان نے کہا۔ تم نے غلطی کی ہے اور درست (بھی) کیا ہے۔ اگر تم لوگ خلافت کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کے حوالہ کرتے تو البتہ تم لوگ اس خلافت کو خوب آسودہ حالی کے ساتھ کھاتے۔
حدیث نمبر: 39878
٣٩٨٧٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن عيينة بن عبد الرحمن بن جوشن عن أبيه عن عبد الرحمن بن أبي بكرة قال: ما (رزأ) (١) علي من بيت مالنا حتى فارقنا إلا جبة محشوة وخميصة (درا) (٢) (بجردية) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہم سے جدا ہونے تک بیت المال سے صرف ایک روئی بھرا چوغہ اور ایک کرتا جس میں سرخ دھاریاں تھیں، لیا تھا۔
حدیث نمبر: 39879
٣٩٨٧٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم قال: سمعت عبيد اللَّه بن أبي رافع قال: رأيت (عليًا) (١) حين ازدحموا عليه حتى أدموا رجله، فقال: اللهم إني قد كرهتهم وكرهوني فأرحني منهم وأرحهم مني (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ میں نے عبید اللہ بن ابی رافع کو کہتے سناکہ جب لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ازدحام (رش) کیا اور انہوں نے آپ کے پاؤں کو خون آلود کردیا تو میں ان کو دیکھ رہا تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اے اللہ ! تحقیق میں ان لوگوں کو ناپسند کرتا ہوں اور یہ لوگ مجھے ناپسند کرتے ہیں۔ پس تو مجھے ان سے اور ان کو مجھ سے راحت دے دے۔
حدیث نمبر: 39880
٣٩٨٨٠ - حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن الشعبي قال: اكتنف عبد الرحمن بن ملجم وشبيب الأشجعي عليا حين خرج إلى الفجر، فأما شبيب فضربه فأخطأه (وثبت) (١) سيفه في الحائط ثم (أحصر) (٢) نحو أبواب (كندة) (٣)، وقال الناس: عليكم صاحب السيف؛ فلما خشي أن يؤخذ رمى بالسيف ودخل في (عرض) (٤) الناس، وأما عبد الرحمن فضربه (بالسيف) (٥) على قرنه، (ثم) (٦) (احصر) (٧) نحو باب الفيل؛ فأدركه عريض أو عويض الحضرمي فأخذه فأدخله على علي، فقال علي: إن أنا مت فاقتلوه، (٨) إن شئتم أودعوه، وإن أنا نجوت كان القصاص (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ فجر کے لئے نکلے تو عبد الرحمن بن ملجم نے اور شبیب اشجعی نے آپ کو گھیر لیا۔ پس شبیب نے آپ پر وار کیا لیکن وہ خطا ہوگیا اور اس کی تلوار دیوار میں جا لگی پھر اس کو کندہ کے دروازوں کی طرف محصور کردیا گیا اور لوگ کہنے لگے۔ تلوار والے کو پکڑو پس جب شبیب نے پکڑے جانے کا خوف محسوس کیا تو اس نے تلوار پھینک دی اور عام لوگوں میں داخل ہوگیا۔ اور جو عبد الرحمان تھا اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سر مبارک پر تلوار ماری پھر اس کو بھی باب الفیل کی جانب محصور کرلیا گیا اور اس کو عریض یا عویض حضرمی نے پکڑ لیا۔ پس اس کو پکڑ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لائے۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اگر میں مر جاؤں تو تم چاہو تو اس کو قتل کردینا۔ یا اس کو چھوڑ دینا اور اگر میں بچ گیا تو پھر قصاص ہوگا۔
حدیث نمبر: 39881
٣٩٨٨١ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن (سالم) (١) عن (عبد) (٢) اللَّه بن سبيع قال: سمعت عليًا يقول: لتخضبن هذه من هذا -فما ينتظر بالأشقى، (قالوا) (٣): ⦗١٨٣⦘ (فأخبرنا) (٤) به (نبير عترته) (٥)، قال: إذا تاللَّه تقتلون غير قاتلي، قالوا: أفلا تستخلف، قال: لا، ولكني أترككم إلى ما ترككم إليه رسول اللَّه ﷺ، قالوا: فما (تقول) (٦) لربك إذا لقيته؟ قال: أقول: اللهم تركتني فيهم ثم قبضتني إليك وأنت فيهم، فإن شئت أصلحتهم، وإن (شئت) (٧) أفسدتهم (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سبیع سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سُنا۔ ضرور بالضرور یہ (داڑھی) اس سے رنگ جائے گی۔ لوگوں نے کہا۔ آپ ہمیں اس کے (قاتل کے) بارے میں بتائیں ہم اس کے خاندان کو ہلاک کردیں گے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا۔ خدا کی قسم ! تب تو تم میرے قاتل کے علاوہ کو قتل کرو گے۔ لوگوں نے پوچھا۔ آپ خلیفہ مقرر کیوں نہیں کرتے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں ! بلکہ میں تمہیں اسی طرح چھوڑ جاؤں گا جس طرح تمہیں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چھوڑ گئے تھے۔ لوگوں نے پوچھا۔ تو پھر جب آپ اپنے پروردگار سے ملیں گے تو ان سے کیا کہیں گے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں کہوں گا۔ اے اللہ ! تو نے مجھے ان میں (ایک مدت) چھوڑے رکھا پھر تو نے مجھے اپنی طرف بلا لیا جبکہ تو خود ان میں موجود تھا۔ پس اگر تو چاہتا ان کو درست کردیتا اور اگر تو چاہتا تو ان کو خراب کردیتا۔
حدیث نمبر: 39882
٣٩٨٨٢ - حدثنا (هشيم) (١) عن أبي حمزة عن أبيه قال: سمعت عليا يقول: يا للدماء لتخضبن هذه من (هذا) (٢) -يعني لحيته من دم رأسه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حمزہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سُنا۔ اے خون ضرور بالضرور یہ اس سے رنگین ہوجائے گی یعنی آپ کی داڑھی آپ کے سر کے خون سے۔
حدیث نمبر: 39883
٣٩٨٨٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام بن حسان عن محمد عن عبيدة قال: قال علي: ما يحبس (أشقاها) (١) أن يجيء فيقتلني، اللهم إني قد سئمتهم وسئموني فأرحني منهم وأرحهم (مني) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے تھے۔ امت کے بدبخت کو اس بات سے کس چیز نے روکا ہوا ہے کہ وہ آئے اور مجھے قتل کر دے ؟ اے اللہ ! تحقیق میں ان لوگوں سے اکتا گیا ہوں اور یہ لوگ مجھ سے اکتا گئے ہیں۔ پس تو مجھے ان سے اور ان کو مجھ سے راحت نصیب فرما دے۔