کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
حدیث نمبر: 39858
٣٩٨٥٨ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن أبي إسحاق عن حارثة بن مضرب قال: حججت في إمارة عمر فلم يكونوا (يشكون) (١) (أن) (٢) الخلافة من بعده لعثمان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارثہ بن مضرب سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر کے عہد امارت میں حج کیا تھا تو لوگوں کو اس بات میں شک نہیں تھا کہ حضرت عمر کے بعد خلافت حضرت عثمان کے پاس ہوگی۔ (یعنی یقین تھا) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39858
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39858، ترقيم محمد عوامة 38230)
حدیث نمبر: 39859
٣٩٨٥٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عبد اللَّه بن سنان قال: قال (عبد اللَّه) (١) حين استخلف عثمان: ما ألونا عن (أعلانا) (٢) ذا فوق (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سنان سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان کو خلیفہ مقرر کیا گیا تو عبد اللہ نے کہا۔ مَا أَلَوْنَا عَنْ أَعْلاَہَا ذَا فُوْقٍ ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39859
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم ٣/ ٩٧، وأحمد في فضائل الصحابة (٧٣١)، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٨٢ (٤٥٣٥)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٤٦)، والطبراني (١٤٠)، وابن عساكر ٣٩/ ٢١١، والخلال (٥٤٤)، والعسكري في جمهرة الأمثال ١/ ١٧٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39859، ترقيم محمد عوامة 38231)
حدیث نمبر: 39860
٣٩٨٦٠ - حدثنا محمد بن بشر عن إسماعيل بن أبي خالد عن حكيم بن جابر قال: سمعت ابن مسعود يقول حين بويع عثمان: ما ألونا عن (إعلانا) (١) (٢) (ذا) (٣) فوق (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکیم بن جابر سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان کی بیعت کی گئی تو ابن مسعود نے کہا۔ ہم نے مَا أَلَوْنَا عَنْ أَعْلاَہَا ذَا فُوْقٍ ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39860
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الطبراني (١٤١)، والخلال في السنة (٥٥٧)، وابن جرير في مسند عمر من تهذيب الآثار (١٣٢٣)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٤٧)، وأبو نعيم في الإمامة (١١٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39860، ترقيم محمد عوامة 38232)
حدیث نمبر: 39861
٣٩٨٦١ - حدثنا أبو أسامة عن كهمس عن عبد اللَّه بن شقيق قال: حدثني هرم بن الحارث وأسامة بن (خريم) (١) قال: (وكانا) (٢) (يغازيان) (٣) فحدثاني (جميعا) (٤) ولا يشعر كل واحد منهما أن صاحبه حدثنيه، عن مرة (البهزي) (٥)، قال: بينما نحن مع رسول اللَّه ﷺ ذات يوم في طربق من طرق المدينة فقال: "كيف تصنعون في فتنة تثور في أقطار الأرض كأنها صياصي بقر؟ " قالوا: فنصنع ماذا يا نبي اللَّه؟ قال: "عليكم بهذا وأصحابه"، قال: فأسرعت حتى عطفت على الرجل، فقلت: هذا (يا) (٦) نبي اللَّه؟ قال: "هذا؟، فإذا هو عثمان (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرہ خریم سے روایت ہے کہ ہم ایک دن مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” تم اس فتنہ میں کیا کرو گے جو زمین کے اطراف میں یوں پھیل جائے گا جیسے گائے کے سینگ ہوتے ہیں۔ “ صحابہ نے پوچھا ۔ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! پھر ہم کیا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس کو اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑنا۔ “ راوی کہتے ہیں : پس میں (یہ سن کر) اس آدمی پر جلدی سے لپٹا اور میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ آدمی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” یہی “ اور یہ شخص حضرت عثمان تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39861
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39861، ترقيم محمد عوامة 38233)
حدیث نمبر: 39862
٣٩٨٦٢ - حدثنا إسماعيل بن علية عن ابن عون عن الحسن قال: أنبأني وثاب (وكان) (١) ممن أدركه عتق أمير المؤمنين عمر، وكان (يكون) (٢) بعد بين يدي عثمان، قال: فرأيت في حلقه (٣) طعنتين، كأنهما كيتان طعنهما يوم الدار دار عثمان، قال: بعثني أمير المؤمنين عثمان، قال: ادع لي الأشتر فجاء، قال ابن عون: أظنه قال: فطرحت لأمير المؤمنين وسادة (٤). ⦗١٧٤⦘ فقال: يا أشتر! ما يريد الناس مني؟ قال: ثلاثًا ليس (٥) من إحداهن بد، يخيرونك بين أن تخلع لهم أمرهم وتقول: هذا أمركم، اختاروا له من شئتم، وبين أن تقص من نفسك، فإن أبيت (هاذين) (٦) فإن القوم (قاتلوك، قال: ما من إحداهن بد؟ قال: ما من إحداهن بد، قال: أما) (٧) أن أخلع لهم أمرهم فما كنت أخلع سربالا (سربلنيه) (٨) اللَّه ﷿ أبدا. قال ابن عون: وقال غير الحسن: لأن أقدم فيضرب عنقي أحب إلي من أن اخلع أمر أمة محمد (٩) بعضها عن بعض، قال ابن عون: (وهذا أشبه) (١٠) بكلامه. (ولأن) (١١) أقص لهم من نفسي، فواللَّه لقد علمت، أن صاحبي بين يدي كانا يقصان من (أنفسهما) (١٢)، وما يقوم بدني بالقصاص، وأما أن يقتلوني، فواللَّه لو قتلوني لا يتحابون بعدي أبدا، ولا يقاتلون بعدي عدوا جميعا أبدا، قال: فقام الأشتر وانطلق، فمكثنا فقلنا: لعل الناس. ثم جاء (رويجل) (١٣) كأنه (ذئب) (١٤) (فاطلع) (١٥) من الباب، ثم رجع ⦗١٧٥⦘ (وقام) (١٦) محمد بن أبي بكر في ثلاثة عشر حتى انتهى إلى عثمان، فأخذ بلحيته فقال: بها حتى سمعت وقع أضراسه، وقال: ما أغنى عنك معاوية، ما أغنى عنك ابن عامر، ما (أغنت) (١٧) عنك كتبك، فقال: أرسل لي لحيتي ابن أخي، أرسل لي لحيتي ابن أخي، قال: فأنا رأيته (١٨) استعدى رجلا من القوم (يُعينه) (١٩)، فقام إليه بمشقص حتى وجأ به في رأسه (فاثبته) (٢٠)، (قال) (٢١): ثُمّ (مَهْ؟) (٢٢) (قال) (٢٣): ثم دخلوا عليه حتى قتلوه (٢٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے کہ مجھے وثَّاب نے بیان کیا ۔ اور یہ وثاب راوی کہتے ہیں ۔ میں نے اس کے حلق میں تیر کے دو نشانات تھے۔ حضرت عثمان کے گھر میں محاصر ہ کے دن یہ نیزے انہیں مارے گئے تھے۔ یہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے امیر المؤمنین حضرت عثمان نے بھیجا اور فرمایا : اشتر کو میرے پاس لاؤ ۔ ابن عون کہتے ہیں : میرا گمان یہ ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا۔ کہ اس نے امیر المؤمنین کے پاس تکیہ چھوڑ دیا۔ اور اس کے پاس تکیہ تھا۔ پس حضرت عثمان نے فرمایا۔ اے اشتر ! (باغی) لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ؟ اشتر نے کہا ۔ تین باتیں ہیں جن میں سے کسی ایک کا کرنا ضروری ہے۔ وہ لوگ آپ کو اس بات کا اختیار دیتے ہیں کہ یا تو آپ ان کی حکمرانی ان کے حوالہ کردیں اور یہ کہہ دیں کہ یہ تمہاری حکمرانی ہے تم جس کو چاہو یہ حکمرانی سونپ دو ۔ اور یا یہ ہے کہ آپ اپنے سے بدلہ لینے کا موقع دیں۔ پس اگر آپ ان دونوں باتوں سے انکار کرتے ہیں تو پھر لوگ آپ سے لڑیں گے۔ حضرت عثمان نے پوچھا۔ کیا ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ضروری ہے ؟ اشتر نے کہا (جی) ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ ٢۔ حضرت عثمان نے فرمایا۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ میں ان کی حکمرانی کی ذمہ داری چھوڑ دوں۔ تو (سنو) میں وہ کبھی کرتا نہیں اتاروں گا جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پہنایا ہے۔ ابن عون کہتے ہیں۔ حسن کے علاوہ دوسرا راوی بیان کرتا ہے کہ : اگر مجھے یوں پیش کیا جائے کہ میری گردن اڑا دی جائے تو بھی مجھے یہ بات اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معاملہ لوگوں کے درمیان چھوڑ دوں۔ ابن عون کہتے ہیں : یہ بات آپ کے کلام سے ملتی جلتی ہے۔ اور رہی یہ بات کہ میں لوگوں کو خود سے بدلہ لینے کا موقع دوں تو خدا کی قسم ! میں جانتا ہوں کہ مجھ سے پہلے میرے دو ساتھی (لوگوں کو) اپنے آپ سے بدلہ لینے کا موقع دیتے تھے۔ لیکن میرا جسم قصاص کے لئے کھڑا نہیں ہوگا۔ اور یہ بات کہ لوگ مجھے قتل کریں گے تو خدا کی قسم (یاد رکھو) اگر وہ لوگ مجھے قتل کردیں تو پھر میرے بعد کبھی آپس میں محبت نہیں کرسکیں گے۔ اور نہ ہی میرے بعد دشمن کے خلاف کبھی سارے اکٹھے ہو کر جہاد کرسکیں گے۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر اشتر اٹھ کر چل پڑا۔ ہم وہیں ٹھہرے اور ہم کہنے لگے۔ ہوسکتا ہے کہ لوگ واپس پیچھے چلے جائیں۔ پھر رویجل آیا ۔ یوں لگتا تھا کہ وہ بھیڑیا ہے۔ اور اس نے دروازے سے جھانکا اور واپس ہوگیا۔ پھر محمد بن ابی بکر تیرہ افراد کے ہمراہ کھڑا ہوا اور حضرت عثمان کے پاس پہنچا اور آپ کی داڑھی کو پکڑ لیا اور وہ کہہ رہا تھا۔ تمہیں معاویہ نے کوئی فائدہ نہیں دیا ! تمہیں ابن عامر نے کوئی فائدہ نہیں دیا ! تمہیں تمہارے لشکروں نے کوئی فائدہ نہیں دیا۔ حضرت عثمان نے کہا۔ اے بھتیجے ! میری داڑھی تو چھوڑ دے۔ اے بھتیجے ! میری داڑھی تو چھوڑ دے۔ ٤۔ راوی کہتے ہیں : میں نے اس کو دیکھا کہ اس نے (اپنی) قوم میں سے ایک آدمی سے مدد مانگی تو اس کے پاس ایک آدمی چوڑے پھل والا نیزہ لے کر آیا اور اس کے ذریعہ سے حضرت عثمان کے سر پر زور لگا کر اس کو آپ کے سر میں اتار دیا۔ راوی (سے) پوچھا۔ پھر کیا ہوا ؟ راوی نے جواب دیا۔ پھر یہ باغی حضر ت عثمان پر داخل ہوئے اورا نہیں قتل کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39862
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39862، ترقيم محمد عوامة 38234)
حدیث نمبر: 39863
٣٩٨٦٣ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الملك بن أبي سليمان قال: سمعت أبا ليلى الكندي قال: رأيت عثمان اطلع إلى الناس وهو محصور فقال: أيها الناس! لا تقتلوني (واستعتبوني) (١)، (فواللَّه) (٢) لئن قتلتموني لا (تقاتلون) (٣) جميعا أبدا، ولا تجاهدون عدوا أبدا، ولتختلفن حتى تصيروا هكذا -وشبك بين أصابعه، ﴿وَيَاقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ (قَوْمَ) (٤) هُودٍ أَوْ قَوْمَ ⦗١٧٦⦘ صَالِحٍ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْكُمْ بِبَعِيدٍ﴾ [هود: ٨٩]، قال: وأرسل إلى عبد اللَّه بن سلام فسأله فقال: الكف الكف، فإنه أبلغ لك في الحجة، فدخلوا عليه فقتلوه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو لیلی کندی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عثمان کو دیکھا کہ انہوں نے لوگوں کی طرف جھانکا … جبکہ وہ محصور تھے… اور فرمایا … اے لوگو ! مجھے قتل نہ کرو بلکہ تم مجھ سے رضا مندی اور خوشنودی چاہو۔ خدا کی قسم ! اگر تم نے مجھے قتل کردیا تو پھر کبھی تم لوگ اکٹھے ہو کر جہاد نہیں کرو گے۔ اور کبھی دشمن کے خلاف اکٹھے ہو کر لڑ نہیں سکو گے۔ اور تم اس حالت میں پیچھے رہ جاؤ گے کہ تم یوں ہو جاؤ گے۔ حضرت عثمان نے اپنی انگلیاں، انگلیوں میں داخل کیں۔ اور آیت پڑھی { وَیَا قَوْم لاَ یَجْرِ مَنَّکُمْ شِقَاقِی أَنْ یُصِیبَکُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ ، أَوْ قَوْمَ ہُودٍ ، أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ، وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْکُمْ بِبَعِیدٍ } راوی کہتے ہیں : حضرت عثمان نے حضرت عبد اللہ بن سلام کی طرف قاصد بھیج کر ان سے (اس معاملہ) میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا۔ رُکے رہو۔ رُکے رہو۔ کیونکہ یہ رویہ تمہارے حق میں خوب حجت ہوگا۔ چناچہ یہ باغی لوگ حضرت عثمان کے پاس داخل ہوئے اور انہیں قتل کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39863
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف أبي ليلى، أخرجه ابن سعد ٣/ ٧١، وابن شبه (٢٠٧٤)، والدولابي ٣/ ٩٤٣، وأحمد بن منيع كما في المطالب العالية (٣٩١٠ و ٤٣٧٩)، وابن عساكر ٣٩/ ٣٤٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39863، ترقيم محمد عوامة 38235)
حدیث نمبر: 39864
٣٩٨٦٤ - حدثنا ابن إدريس عن يحيى بن سعيد عن عبد اللَّه بن عامر قال: سمعت عثمان يقول: إن أعظمكم عندي غنا من كف سلاحه ويده (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عامر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان کو کہتے سُنا۔ بیشک میرے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ فائدہ والا شخص وہ ا ہے جو اپنے اسلحہ اور اپنے ہاتھ کو روک لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39864
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه سعيد بن منصور (٣٢٠٣٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39864، ترقيم محمد عوامة 38236)
حدیث نمبر: 39865
٣٩٨٦٥ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن ابن سيرين قال: جاء زيد بن ثابت إلى عثمان فقال: هذه الأنصار بالباب، قالوا: إن شئت أن (نكون) (١) أنصار اللَّه مرتين، فقال: أما القتال فلا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے روایت ہے کہ حضرت زید بن ثابت، حضرت عثمان کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے۔ یہ دروازے پر انصار (صحابہ ) موجود ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ چاہیں تو ہم دوسری مرتبہ اللہ کے (دین کے) مدد گار بنیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا۔ اگر لڑنے کے بارے میں کہتے ہیں تو بالکل نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39865
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39865، ترقيم محمد عوامة 38237)
حدیث نمبر: 39866
٣٩٨٦٦ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عبد اللَّه بن الزبير [قال: قلت لعثمان يوم الدار: اخرج فقاتلهم فإن معك من قد نصر اللَّه بأقل منه، واللَّه (إن قتالهم) (١) لحلال، قال: فأبى وقال: من كان لي عليه سمع وطاعة فليطع عبد (اللَّه) (٢) بن الزبير] (٣)، وكان أمره يومئذ على الدار، وكان يومئذ صائمًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن زبیر سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں۔ میں نے محاصرہ کے دن حضرت عثمان سے کہا۔ آپ باہر آئیں اور ان لوگوں سے لڑائی کریں۔ کیونکہ آپ کے ہمراہ (آج اتنے) لوگ ہیں کہ جن سے کم تعداد کی اللہ پاک نے مدد کی تھی۔ اور خدا کی قسم ! ان لوگوں سے لڑنا حلال ہے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عثمان نے انکار فرمایا اور حکم دیا ۔ جو آدمی خود میر ی سمع وطاعت کو واجب سمجھتا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ عبد اللہ بن زبیر کی اطاعت کرے ۔ حضرت عثمان نے اس (محاصرے کے) دن ان کو گھر میں امیر مقرر فرمایا تھا اور حضرت عثمان اس (محاصرہ کے) دن روزہ کی حالت میں تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39866
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39866، ترقيم محمد عوامة 38238)
حدیث نمبر: 39867
٣٩٨٦٧ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع أن رجلا يقال له: جهجاه، تناول محصاكانت في يد عثمان فكسرها بركبته، فرمى في ذلك الموضع بأكلة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے روایت ہے کہ ایک آدمی جس کو جہجاہ کہا جاتا تھا۔ اس نے حضرت عثمان کے ہاتھ میں موجود عصا لیا اور اس کو اپنے گھٹنے پر رکھ کر توڑ دیا۔ پس (آخر میں) اس آدمی کے اس مقام پر نہ ختم ہونے والی خارش شروع ہوگئی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39867
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39867، ترقيم محمد عوامة 38239)
حدیث نمبر: 39868
٣٩٨٦٨ - حدثنا إسحاق الرازي عن أبي جعفر عن أيوب عن نافع عن ابن عمر أن عثمان أصبح يحدث الناس قال: رأيت النبي ﷺ الليلة في المنام فقال: "يا عثمان! أفطر عندنا"، فأصبح صائما وقتل من يومه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عثمان نے ایک صبح لوگوں سے بیان کیا۔ فرمایا۔ میں نے آج رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اے عثمان ! تم روزہ ہمارے پاس افطار کرو۔ حضرت عثمان نے روزہ کی حالت میں صبح کی اور پھر اسی دن شہید ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39868
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو جعفر صدوق، أخرجه الحاكم ٣/ ١٠٣، والبزار (٧٤٧)، وأبو يعلى كما في المطالب (٤٣٨٥)، وابن عساكر ٣٩/ ٣٨٤، وأبو نعيم تاريخ أصبهان ١/ ٢٦١، وأبو الشيخ في طبقات أصبهان ٢/ ٢٩٨، واللالكائي (٢٥٧٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39868، ترقيم محمد عوامة 38240)
حدیث نمبر: 39869
٣٩٨٦٩ - حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل عن قيس عن سعيد بن زيد قال: لقد رأيتني موثقي عمر وأخته على الإسلام (ولو) (١) أرفضَّ أحد مما صنعتم بعثمان كان حقيقًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر اور ان کی ہمشیرہ کو اسلام پر مضبوط کیا۔ حضرت عثمان کے ساتھ تم نے جو کچھ کیا اگر اس کے بعد تمہارے ساتھ جو بھی سلوک کیا جائے وہ صحیح ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39869
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٩٤٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39869، ترقيم محمد عوامة 38241)
حدیث نمبر: 39870
٣٩٨٧٠ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش (حدثنا) (١) أبو صالح قال: قال عبد اللَّه ابن سلام: لما حُصر عثمان في الدار قال: لا تقتلوه فإنه لم يبق من أجله إلا قليل؛ واللَّه لئن قتلتموه لا تصلون جميعا أبدا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان کا گھر میں محاصرہ کیا گیا تو ابن سلام نے فرمایا۔ تم انہیں قتل نہ کرو۔ کیونکہ ان کی (ویسے ہی) تھوڑی سی زندگی باقی ہے۔ خدا کی قسم ! اگر تم نے انہیں قتل کردیا تو پھر تم کبھی بھی اکٹھے نماز نہیں پڑھو گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39870
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن شبه (٢٠٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39870، ترقيم محمد عوامة 38242)
حدیث نمبر: 39871
٣٩٨٧١ - حدثنا أبو أسامة عن صدقة بن أبي عمران قال: (حدثنا) (١) أبو اليعفور عن أبي سعيد مولى عبد اللَّه بن مسعود قال: قال عبد اللَّه بن مسعود: (واللَّه) (٢) لئن (قتلتم) (٣) عثمان لا تصيبون منه خلفا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو سعید سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا۔ خدا کی قسم ! اگر تم نے عثمان کو قتل کردیا تو ان کے بعد کسی صحیح جانشین کو نہیں پہنچ پاؤ گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39871
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39871، ترقيم محمد عوامة 38243)
حدیث نمبر: 39872
٣٩٨٧٢ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة أن رجلا من قريش يقال له ثمامةكان على صنعاء، فلما جاء قتل عثمان بكى فأطال البكاء، فلما أفاق قال: اليوم انتزعت النبوة - (أو (قال) (١) -: الخلافة من أمة محمد (٢)، وصارت ملكا (وجبرية) (٣)، فمن غلب على شيء أكله (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ سے روایت ہے کہ قریش کا ایک آدمی تھا جس کو ثمامہ کہا جاتا تھا وہ مقام صنعاء میں تھا۔ جب اس کو حضرت عثمان کے قتل کی خبر پہنچی تو وہ رو پڑا اور خوب دیر تک روتا رہا۔ پھر جب اسے افاقہ ہواتو اس نے کہا۔ آج کے دن امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نبوت واپس لے لی گئی ہے۔ خلافت واپس لے لی گئی ہے۔ اور (اب) بادشاہی اور سختی ہوگی۔ پس جو جس چیز پر غالب ہوگا اس کو کھاجائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39872
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39872، ترقيم محمد عوامة 38244)
حدیث نمبر: 39873
٣٩٨٧٣ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة قال: لما قتل عثمان قام خطباء إيلياء؛ فقام من (آخرهم رجل من) (١) أصحاب النبي ﷺ يقال له: مرة بن كعب فقال: لولا حديث سمعته من رسول اللَّه ﷺ (ما قمت، إن رسول اللَّه ⦗١٧٩⦘ ﷺ) (٢) (٣) ذكر فتنة -أحسبه قال: فقربها، فمر رجل مقنع بردائه فقال رسول اللَّه ﷺ: "هذا (يومئذ وأصحابه) (٤) على الحق"، فانطلقت فأخذت (٥) بوجهه إلى رسول اللَّه ﷺ فقلت: هذا؟ فقال: "نعم" (٦)، فإذا هو عثمان (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان کو قتل کیا گیا تو مقام ایلیاء کے خطباء کھڑے ہوئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے (ان کا) آخری خطیب کھڑا ہوا جس کو مرہ بن کعب کہا جاتا تھا۔ اس نے کہا۔ اگر ایسی حدیث نہ ہوتی جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سُنی ہے تو میں کھڑا نہ ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا … میرے خیال کے مطابق راوی کہتے ہیں … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا قریب الوقوع ہونا بیان کیا …کہ اس دوران ایک آدمی اپنی چادر ڈالے ہوئے گزرا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اس (فتنہ کے) دن یہ اور اس کے ساتھی حق پر ہوں گے۔ (راوی کہتے ہیں) پس میں چل پڑا اور میں نے ان صاحب کا رُخ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پھیر کر عرض کیا۔ یہ آدمی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ ” ہاں “ یہ آدمی حضرت عثمان تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39873
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39873، ترقيم محمد عوامة 38245)
حدیث نمبر: 39874
٣٩٨٧٤ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن (زياد) (١) بن أبي (المليح) (٢) عن أبيه عن ابن عباس قال: لو أن الناس (اجتمعوا) (٣) على قتل عثمان (لرجموا) (٤) بالحجارة كما رجم قوم لوط (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں ۔ اگر تمام لوگ بھی حضرت عثمان کے قتل پر اکٹھے ہوجاتے تو تمام لوگوں کو ہی سنگسار کردیا جاتا جیسا کہ قوم لُوط کو سنگسار کیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39874
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ زياد قال عنه أبو حاتم: "ليس بالقوي"، وليث ضعيف، أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (٧٤٦)، وابن سعد ٣/ ٨٠، وابن عساكر ٣٩/ ٤٤٨، وابن معين في تاريخه ٣/ ٣٤٥، واللالكائي (٢٥٨٦)، والآجري (١٤٤٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39874، ترقيم محمد عوامة 38246)
حدیث نمبر: 39875
٣٩٨٧٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن ابن عون عن محمد بن سيرين قال: أشرف عليهم عثمان من القصر فقال: ائتوني برجل أتاليه كتاب اللَّه، فأتوه ⦗١٨٠⦘ بمصعصعة بن صوحان وكان شابًا، فقال: أما وجدتم أحدا (تأتونى) (١) به غير هذا الشاب؟ قال: فتكلم صعصعة بكلام، فقال له عثمان: اتل (فقال) (٢): ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (وَإِنَّ) (٣) اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ﴾، فقال: كذبت، ليست لك ولا لأصحابك، ولكنها لي ولأصحابي ثم تلا عثمان: ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ﴾ حتى بلغ ﴿(وَلِلَّهِ) (٤) عَاقِبَةُ الْأُمُورِ﴾ [الحج: ٣٩ - ٤١] (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ حضرت عثمان نے اپنے گھر سے باغیوں کو جھانک کر دیکھا اور فرمایا ۔ تم میرے پاس کوئی آدمی لاؤ جس سے میں اللہ کی کتاب پڑھواؤں۔ پس باغی صعصعہ بن صوحان کو لے آئے۔ یہ ایک جوان آدمی تھا۔ حضرت عثمان نے کہا۔ کیا تم نے اس نوجوان کے علاوہ کوئی آدمی نہیں پایا جس کو تم میرے پاس لائے ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر صعصعہ نے کوئی گفتگو کی۔ تو حضرت عثمان نے اس سے کہا۔ قرآن پڑھ۔ اس نے پڑھا۔ { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا ، وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} حضرت عثمان نے فرمایا۔ تو جھوٹ بول رہا ہے۔ یہ آیت تیرے اور تیرے ساتھیوں کے حق میں نہیں ہے بلکہ یہ آیت تو میرے اور میرے ساتھیوں کے لئے ہے۔ پھر حضرت عثمان نے تلاوت کی۔ { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا ، وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} حضرت عثمان نے یہاں تک پڑھا۔ { وَإِلَی اللہِ عَاقِبَۃُ الأُمُورِ }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39875
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39875، ترقيم محمد عوامة 38247)