کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
حدیث نمبر: 39839
٣٩٨٣٩ - حدثنا وكيع وابن إدريس عن إسماعيل بن أبي خالد عن (زييد) (١) بن الحارث (أن) (٢) أبا بكر حين حضره الموت أرسل إلى عمر يستخلفه، فقال الناس: تستخلف علينا فظًا غليظًا، (ولو) (٣) قد ولينا كان أفظ وأغلظ، فما تقول لربك إذا لقيته وقد استخلفت علينا عمر، قال أبو بكر: أبربي تخوفونني، أقول: اللهم استخلفت عليهم خير (خلقك) (٤)، ثم أرسل إلى عمر فقال: إني موصيك بوصية إن أنت حفظتها: إن للَّه حقا بالنهار لا يقبله بالليل، وإن للَّه حقا بالليل لا يقبله بالنهار، وأنه لا يقبل نافلة حتى تؤدى الفريضة؛ وإنما ثقلت موازين من ثقلت موازينه يوم القيامة باتباعهم (في الدنيا الحق وثقله عليهم، وحق لميزان لا يوضع فيه إلا الحق أن يكون ثقيلًا، وإنما خفت موازين من خفت موازينه يوم القيامة باتباعهم) (٥) الباطل وخفته عليهم، وحق لميزان لا يوضع فيه إلا الباطل أن يكون خفيفًا، وأن اللَّه ذكر أهل الجنة (وصالح) (٦) ما عملوا، (وأنه) (٧) تجاوز عن سيئاتهم، فيقول القائل: (لا) (٨) أبلغ هؤلاء، وذكر أهل النار باسوء ما عملوا، (وأنه) (٩) رد عليهم صالح ما عملوا، ⦗١٥٢⦘ فيقول قائل: أنا خير من هؤلاء، وذكر آية الرحمة وآية العذاب؛ ليكون المؤمن راغبا (راهبًا) (١٠)، لا يتمنى على اللَّه غير الحق ولا يلقي بيده إلى التهلكة، (فإن) (١١) أنت حفظت وصيتي لم يكن غائب أحب إليك من الموت، كان أنت ضيعت وصيتي لم يكن غائب أبغض إليك من الموت، (ولن) (١٢) تعجزه (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبید بن الحارث سے روایت ہے کہ جب حضرت ابوبکر کی مو ت کا وقت آیا تو انہوں نے حضرت عمر کی طرف قاصد بھیجا ۔ اور حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کو خلیفہ بنایا۔ اس پر لوگوں نے کہا۔ آپ ہم پر ایک ترش مزاج اور سخت آدمی کو خلیفہ بنا رہے ہیں۔ اور اگر وہ ہمارے والی بن گئے تو وہ مزید ترش مزاج اور سخت آدمی ہوجائیں گے۔ پس جب آپ حضرت عمر کو ہم پر خلیفہ بنائیں گے تو آپ اپنے رب سے ملاقات کے وقت اپنے پروردگار کو کیا جواب دیں گے ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا : کیا تم لوگ میرے پروردگار سے مجھے ڈرا رہے ہو ؟ میں (اللہ تعالیٰ کو) یہ جواب دوں گا۔ اے اللہ ! میں نے لوگوں پر آپ کی مخلوق میں بہترین شخص کو خلیفہ بنایا ہے۔ ٢۔ پھر حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کی طرف قاصد بھیجا (اور بلا کر) فرمایا۔ اگر تم یاد رکھو تو میں تمہیں ایک وصیت کرتا ہوں۔ یقینا دن کے وقت اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا حق ہے جس کو وہ رات کے وقت قبول نہیں کرتا اور (اسی طرح) اللہ تعالیٰ کا رات کے وقت کوئی ایسا حق ہے جس کو وہ دن کے وقت قبول نہیں کرتا۔ اور بلاشبہ جب تک فرائض کو ادا نہ کیا جائے نوافل کو قبول نہیں کیا جاتا۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن میزان میں بھاری ہوں گے ان کے اعمال صرف اس وجہ سے بھاری ہوں گے کہ دناا میں ان لوگوں نے حق کی اتباع کی ہوگی اور حق ان پر وزنی رہا ہوگا۔ اور میزان کے لئے بھی یہ بات حق ہے کہ (جب) اس میں صرف حق ہی کو رکھا جائے تو وہ وزنی ہوجائے۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن میزان میں ہلکے ہوں گے تو اس کی وجہ صرف یہ ہوگی کہ ان لوگوں نے باطل کی پیروی کی اور باطل ان لوگوں پر ہلکا رہا ہوگا۔ اور میزان کے لئے بھی یہ بات حق ہے کہ جب اس میں صرف باطل ہی کو رکھا جائے تو وہ ہلکا ہوجائے۔ ٣۔ اور یقینا اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا ذکر ان کے بہترین اعمال کی وجہ سے کیا ہے اور ان کی غلطیوں سے درگزر فرمایا ہے۔ پس کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ میں تو ان تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور (اسی طرح) اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کا ذکر ان کے بد اعمال کے ساتھ کیا ہے۔ اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم پر ان کے اعمال صالحہ کو رد فرما دیا ہے۔ پس کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ میں تو ان سے بہتر ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ نے رحمت والی آیت اور عذاب والی آیت (دونوں) کو ذکر فرمایا تاکہ مؤمن رغبت بھی کرے اور خوف بھی۔ اللہ تعالیٰ پر ناحق امیدیں نہ کرے اور اپنے ہاتھ سے ہلاکت کی طرف نہ پڑے۔ ٤۔ پس اگر تم نے میری وصیت کی حفاظت کی تو تمہیں کوئی غائب چیز موت سے زیادہ محبوب نہیں ہوگی۔ اور اگر تم نے میری وصیت کو ضائع کیا تو کوئی غائب چیز تمہیں موت سے زیادہ مبغوض نہیں ہوگی۔ اور تم ہرگز موت کو عاجز نہیں کرسکتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39839
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39839، ترقيم محمد عوامة 38211)
حدیث نمبر: 39840
٣٩٨٤٠ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس بن أبي حازم قال: رأيت عمر بن الخطاب وبيده عسيب تحل وهو يُجلِس الناس ويقول: اسمعوا (لقول) (١) خليفة رسول اللَّه ﷺ (٢)، قال: فجاء مولى لأبي بكر يقال (له) (٣) شديد (٤) بصحيفة، فقرأها على الناس فقال: يقول أبو بكر: اسمعوا وأطيعوا (لمن) (٥) في هذه الصحيفة، فو اللَّه ما (ألوتكم) (٦)، قال قيس: فرأيت عمر بن الخطاب بعد ذلك على المنبر (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن حازم سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں کھجور کی صاف شاخ تھی اور وہ لوگوں کو بٹھا رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ کی بات سُنو۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت ابوبکر کا غلام … جس کو شدید کہا جاتا تھا … ایک رقعہ لے کر آیا۔ اور وہ لوگوں کو پڑھ کر سنایا۔ اس نے کہا۔ حضرت ابوبکر کہتے ہیں : اس آدمی کی بات سنو اور اطاعت کرو جس کا اس صحیفہ میں نام ہے۔ خدا کی قسم ! میں نے تمہیں خیر تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ قیس راوی کہتے ہیں۔ پھر اس کے بعد مں ا نے حضرت عمر بن خطاب کو منبر پر دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39840
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد ١/ ٣٧ (٢٥٩)، وابن شبه (١٠٩٤)، وابن عساكر ٤٤/ ٢٥٧، واللالكائي (٢٥٢٣)، والخلال في السنة (٣٣٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39840، ترقيم محمد عوامة 38212)
حدیث نمبر: 39841
٣٩٨٤١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن أبي (الأحوص) (١) عن ⦗١٥٣⦘ عبد اللَّه قال: أفرس الناس ثلاثة: أبو بكر حين تفرس في عمر فاستخلفه، والتي قالت: ﴿اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ (الْأَمِينُ) (٢)﴾ [القصص: ٢٦] والعزيز حين قال: لامرأته: ﴿أَكْرِمِي مَثْوَاهُ﴾ [يوسف: ٢١] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ فراست والے تین لوگ ہوئے ہیں۔ حضرت ابوبکر جب انہوں نے حضرت عمر کے بارے میں فراست کا اظہار کیا اور انہیں خلیفہ بنایا ۔ اور (دوسری) وہ عورت جس نے کہا تھا۔ { اسْتَأْجِرْہُ ، إِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِیُّ الأَمِینُ } اور (تیسرا) عزیز مصر جب اس نے اپنی بیوی سے کہا۔ { أَکْرِمِی مَثْوَاہُ }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39841
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن جرير في التفسير ١/ ١٧٥، والحاكم ٢/ ٣٤٥، وابن أبي حاتم في التفسير (١٦٨٣٨)، والخلال في السنة (٣٤٠)، والبيهقي في الاعتقاد ١/ ٣٥٩، وابن عساكر ٤٤/ ٢٥٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39841، ترقيم محمد عوامة 38213)
حدیث نمبر: 39842
٣٩٨٤٢ - حدثنا ابن فضيل عن (حصين) (١) عن عمرو بن ميمون قال: جئت وإذا عمر واقف على حذيفة (٢) وعثمان بن حنيف، فقال: تخافان أن تكونا حملتما الأرض ما لا تطيق، فقال حذيفة: لو شئت لأضعفت أرضي، وقال عثمان: لقد حملت أرضي أمرا هي له مطيقة، وما فيها (كثير) (٣) فضل، فقال: انظرا ما لديكما أن تكونا حملتما الأرض ما لا تطيق، ثم قال: واللَّه لئن سلمني اللَّه لأدعن أرامل (أهل) (٤) العراق لا يحتجن بعدي إلى أح أبدًا، قال: فما أتت عليه إلا أربعة حتى أصيب. (قال) (٥): وكان إذا دخل المسجد قام بين الصفوف (فقال) (٦): استووا، فإذا استووا تقدم فكبر، قال: فلما كبر طعن مكانه، قال: فسمعته يقول: قتلني الكلب -أو (أكلني) (٧) الكلب، قال عمرو: (ما) (٨) أدري أيهما قال: قال: وما بيني وبينه ⦗١٥٤⦘ (غير) (٩) ابن عباس، فأخذ عمر بيد عبد الرحمن (بن عوف) (١٠) فقدمه (وطار) (١١) (العلج) (١٢) وبيده سكين ذات طرفين، ما يمر (برجل) (١٣) يمينًا ولا شمالًا إلا طعنه حتى أصاب منهم ثلائة عشر رجلا، فمات منهم تسعة، قال: فلما رأى ذلك رجل من المسلمين طرح عليه برنسا ليأخذه، فلما ظن أنه مأخوذ (١٤) نحر نفسه، قال: فصلينا الفجر صلاة خفيفة، قال: فأما نواحي المسجد فلا يدرون ما الأمر، إلا أنهم حيث فقدوا صوت عمر جعلوا يقولون: سبحان اللَّه -مرتين. فلما انصرفوا كان أول من دخل عليه ابن عباس فقال: انظر من قتلني؟ (قال) (١٥): (فجال) (١٦) ساعة ثم جاء فقال: غلام المغيرة الصناع، وكان نجارا، (قال) (١٧): فقال عمر: الحمد للَّه الذي لم يجعل منيتي بيد رجل يدعي الإسلام، قاتله اللَّه، لقد أمرت به معروفًا، قال: ثم قال لابن عباس: لقد كنت أنت وأبوك تحبان أن (تكثر) (١٨) العلوج بالمدينة، قال: فقال (ابن عباس) (١٩): إن شئت فعلنا، فقال: بعد ما تكلموا بكلامكم، وصلوا (صلاتكم) (٢٠)، ونسكوا (نسككم) (٢١)، ⦗١٥٥⦘ قال: فقال (له) (٢٢) الناس: ليس عليك بأس. قال: فدعا بنبيذ فشرب فخرج من جرحه، (ثم دعا) (٢٣) (بلبن) (٢٤) فشربه فخرج من جرحه، فظن أنه الموت فقال لعبد اللَّه بن عمر: (انظر ما عليَّ من الدين) (٢٥) (فاحسبه) (٢٦) فقال: (ستة) (٢٧) وثمانين (ألفًا) (٢٨)، فقال: إن (وفى بها) (٢٩) مال (آل) (٣٠) عمر فأدها عني من أموالهم، وإلا فسل بني عدي بن كعب، فإن (تف) (٣١) من أموالهم وإلا فسل قريشًا، ولا تَعْدُهم إلى غيرهم، (فأدها) (٣٢) عني. ٠٥ اذهب إلى عائشة أم المؤمنين فسلم وقل: يستأذن عمر بن الخطاب -ولا (تقل) (٣٣): أمير المؤمنين، فإني لست لهم اليوم بأمير- أن يدفن مع صاحبيه. قال: فأتاها عبد اللَّه بن عمر فوجدها قاعدة تبكي، فسلم ثم قال: يستأذن عمر بن الخطاب أن يدفن مع صاحبيه، قالت: قد -واللَّه- كنت أريده لنفسي، ولأوثرنه اليوم على نفسي. فلما جاء قيل: هذا عبد اللَّه بن عمر، قال: فقال: ارفعاني، فأسنده رجل إليه فقال: ما لديك؟ قال: أذنت لك، قال: فقال عمر: ما كان شيءٌ أهمَّ عندي من ⦗١٥٦⦘ ذلك، ثم قال: إذا أنا مت فاحملوني على سريري (٣٤)، ثم استأذن فقل: يستأذن عمر ابن الخطاب، فإن أذنت لك فأدخلني، وإن لم تأذن فردني إلى مقابر المسلمين. قال: فلما حمل (كأن) (٣٥) الناس لم تصبهم مصيبة إلا يومئذ، قال: فسلم عبد اللَّه بن عمر (وقال) (٣٦): (يستأذن) (٣٧) عمر بن الخطاب، فأذنت له حيث أكرمه اللَّه مع (رسول) (٣٨) اللَّه ﷺ (٣٩) ومع أبي بكر. فقالوا له حين حضره الموت: استخلف، فقال: لا أجد أحدا أحق بهذا الأمر من هؤلاء النفر الذين توفي رسول اللَّه ﷺ وهو عنهم راض، (فأيهم) (٤٠) استخلفوا فهو الخليفة بعدي، فسمى عليا وعثمان وطلحة والزبير وعبد الرحمن بن عوف وسعدا، فإن أصابت سعدا فذلك، وإلا فأيهم استخلف فليَستعن به، فإني لم أنزعه عن عجز ولا خيانة، قال: وجعل عبد اللَّه (بن عمر) (٤١) (يشاور معهم) (٤٢) وليس له له من الأمر شيء. قال: فلما اجتمعوا قال عبد الرحمن بن عوف: اجعلوا أمركم إلى ثلاثة نفر، قال: فجعل الزبير أمره إلى علي، وجعل طلحة أمره إلى عثمان، وجعل سعد أمره إلى عبد الرحمن، قال: فأتمروا أولئك الثلاثة حين جعل الأمر (إليهم) (٤٣)، ⦗١٥٧⦘ قال: فقال عبد الرحمن: أيكم (يتبرأ) (٤٤) من الأمر؟ ويجعل الأمر إليَّ، ولكم اللَّه عليَّ أن لا آلو عن أفضلكم (وخيركم) (٤٥) للمسلمين (٤٦)، (قالوا: نعم) (٤٧). فخلا لجي فقال: إن لك من القرابة من رسول اللَّه ﷺ (٤٨) والقدم، ولي اللَّه عليك لئن استخلفت لتعدلن، ولئن استخلف عثمان لتسمعن ولتطيعن، قال: فقال: نعم، قال: وخلا بعثمان فقال مثل ذلك، فقال له عثمان: نعم، ثم قال: يا عثمان ابسط يدك، فبسط يده فبايعه وبايعه علي والناس. ثم قال عمر: أوصي الخليفة من بعدي بتقوى اللَّه والمهاجرين الأولين أن يعرف (لهم) (٤٩) حقهم، ويعرف (لهم) (٥٠) حرمتهم، وأوصيه بأهل الأمصار (خيرًا) (٥١) فإنهم ردء الإسلام وغيظ العدو وجباة الأموال: أن لا يؤخذ منهم فيئهم إلا عن رضا منهم، وأوصيه بالأنصار خيرًا: الذين تبوؤا الدار والإيمان أن يقبل من محسنهم (٥٢)، وأوصيه بالأعراب خيرا فإنهم أصل العرب ومادة الإسلام، أن يؤخذ من حواشي أموالهم فترد على فقرائهم، وأوصيه بذمة اللَّه وذمة رسوله أن يوفى لهم بعهدهم وأن لا يكلفوا إلا طاقتهم (٥٣) (٥٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ میں آیا تو میں نے دیکھا کہ حضرت عمر ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور عثمان بن حنیف کے پاس کھڑے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں۔ تم خوف کرو کہ تم نے زمین کو اس قدر عوض پر دیا ہے جو وسعت سے زیادہ ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اگر میں چاہوں تو اپنی زمین کو دو چند (عوض پر) کر دوں اور حضرت عثمان نے کہا۔ میں نے اپنی زمین کو ایسے معاملہ کے عوض میں رکھا جو اس کے مطابق ہے اور اس میں بہت زیادہ اضافہ نہیں ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے سلامت رکھا تو میں اہل عراق کے محتاجوں کو ایسی حالت میں چھوڑوں گا کہ میرے بعد وہ کسی اور کے محتاج نہیں ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عمر چار دن ہی گزرے تھے کہ انہیں شہید کردیا گیا۔ ٢۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر جب مسجد میں داخل ہوتے تو آپ صفوں کے درمیان کھڑے ہوجاتے اور فرماتے ۔ (صفوں میں) سیدھے ہو جاؤ۔ پس جب لوگ سیدھے ہوجاتے تو آپ تکبیر کہتے ۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر (جب ایک صبح) آپ نے نماز شروع کی تو آپ کی جگہ وار کیا گیا۔ راوی کہتے ہیں : پس میں نے آپ کو کہتے سُنا۔ مجھے کتے نے قتل کر ڈالا… یا …مجھے کُتّے نے کھالیا۔ راوی عمروکہتے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ کیا کہا ؟ میرے اور ان کے درمیان حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ پھر حضرت عمر نے عبد الرحمان بن عوف کو ہاتھ سے پکڑا اور آگے کر دیا…وہ قاتل دوڑنے لگا جبکہ اس کے ہاتھ میں دو دھاری چھری تھی وہ دائیں بائیں جس آدمی کے پاس سے گزرتا اس کو مارتا جاتا یہاں تک کہ اس نے تیرہ لوگوں کو زخمی کردیا۔ پھر ان زخمیوں میں سے نو افراد وفات بھی پا گئے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب یہ منظر ایک مسلمان نے دیکھا تو اس نے اس کو پکڑنے کے لئے اس پر ایک بڑی چادر ڈال دی۔ پھر جب اس قاتل کو یہ یقین ہوگیا کہ وہ پکڑا جائے گا تو اس نے خود کو ذبح کرلیا۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں : پس ہم نے فجر کی ہلکی سی نماز ادا کی۔ راوی کہتے ہیں : مسجد کے کناروں والے لوگوں کو پتہ ہی نہیں لگا کہ کیا معاملہ ہوا ہے۔ ہاں جب انہوں نے حضرت عمر (کی آواز) کو نہ پایا تو یہ کہنا شروع کیا۔ سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! پھر جب لوگ چلے گئے تو پہلا شخص جو حضرت عمر کے پاس آیا وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔ حضرت عمر نے (ان سے) کہا۔ دیکھو (معلوم کرو) مجھے کس نے قتل کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تھوڑا سا گھوم کر واپس آئے اور بتایا۔ حضرت مغیرۃ کے کاریگر غلام نے ۔ اور یہ غلام بڑھئی تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا : تمام تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جس نے میری موت کسی ایسے آدمی کے ہاتھ سے واقع نہیں کی جو اسلام کا دعویدار ہو۔ اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کرے۔ یقینا میں نے اس کو بھلائی کا حکم دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عمر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا۔ تحقیق تم اور تمہارے والد اس بات کو پسند کرتے تھے کہ مدینہ منورہ میں علوج زیادہ ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا۔ اگر آپ چاہتے ہیں تو ہم یہ کرتے۔” انہوں نے کہا کہ بعد اس کے کہ تم اپنی بات کرچکے، اپنی نماز پڑھ چکے اور اپنے نسک ادا کرچکے۔ “ ٤۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے حضرت عمر سے کہا۔ آپ کو کوئی (بڑا) مسئلہ نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عمر نے نبیذ منگوائی اور اس کو پیا لیکن وہ آپ کے زخموں سے باہر نکل گئی۔ پھر حضرت عمر نے دودھ منگوایا اور اس کو پیا لیکن وہ بھی آپ کے زخموں سے باہر نکل گیا۔ چناچہ آپ کو موت کا یقین ہوگیا ۔ تو آپ نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا۔ مجھ پر جو قرض ہے اس کو دیکھو اور اس کا حساب کرو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا۔ چھیاسی ہزار ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ اگر یہ قرض آلِ عمر کے مال سے پورا ہوجائے تو میری طرف سے ان کے اموال میں سے اس قرض کو ادا کردو۔ وگرنہ بنو عدی بن کعب سے مانگ لینا۔ پھر اگر یہ قرض ان کے اموال سے پورا ہوجائے تو ٹھیک وگرنہ قریش سے مانگ لینا اور ان کے سوا اور کسی سے نہ مانگنا۔ اور یہ میری طرف سے قرضہ ادا کردینا۔ ٥۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف جاؤ اور (انہیں) سلام کرو اور کہو۔ عمر بن خطاب … امیر المؤمنین کا لفظ نہ کہنا کیونکہ میں اس وقت لوگوں کا امیر نہیں ہوں …اپنے دونوں ساتھیوں ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر ) کے ساتھ دفن کئے جانے کی اجازت مانگتا ہے۔ راوی کہتے ہیں : پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس عبداللہ بن عمر آئے تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بیٹھے روتے پایا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سلام کیا پھر کہا۔ عمر بن خطاب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ فن کئے جانے کی اجازت مانگتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا۔ خدا کی قسم ! میں تو اس بات کو اپنے لئے چاہتی تھی (یعنی حجرہ میں دفن ہونا) لیکن میں آج اس رات (حجر ہ میں دفن ہونا) میں عمر فاروق کو اپنے اوپر ترجحب دیتی ہوں۔ پھر جب حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو کہا گیا۔ یہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (واپس آگئے) ہیں۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر نے فرمایا : م
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39842
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٠٠)، وابن حبان (٦٩١٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39842، ترقيم محمد عوامة 38214)
حدیث نمبر: 39843
٣٩٨٤٣ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون الأودي أن عمر بن الخطاب لما حضر قال: ادعوا لي عليا وطلحة والزبير (وعثمان) (١) وعبد الرحمن بن عوف وسعدًا، قال: فلم يكلم (أحدًا منهم) (٢) إلا (عليا) (٣) وعثمان، فقال: يا علي! لعل هؤلاء القوم يعرفون (لك) (٤) قرابتك وما آتاك اللَّه من العلم والفقه، (فاتق) (٥) (اللَّه) (٦)، وإن وليت هذا الأمر فلا ترفعن بني فلان على رقاب الناس، وقال لعثمان: يا عثمان إن هؤلاء القوم لعلهم يعرفون لك صهرك من رسول اللَّه ﷺ (وسنك) (٧) وشرفك، فإن أنت وليت هذا (الأمر) (٨) فاتق اللَّه، (و) (٩) لا ترفع بني فلان على رقاب الناس، فقال: ادعوا لي صهيبا، فقال: صل بالناس (ثلاثًا) (١٠)، وليجتمع هؤلاء الرهط (فليخلوا) (١١) فإن أجمعوا على رجل فاضربوا رأس (من) (١٢) خالفهم (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون اودی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کی موت کا وقت جب قریب ہوا تو آپ نے فرمایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر ، حضرت عثمان ، حضرت عبد الرحمان بن عوف اور حضرت سعد کو میرے پاس بلاؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر حضرت عمر نے (ان میں سے) صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان سے گفتگو فرمائی۔ چناچہ آپ نے کہا۔ اے علی رضی اللہ عنہ ! شاید یہ لوگ تمہارے بارے میں قرابت (نبوی) کو اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں علم اور فقہ عطاء کی ہے اس کو پہچانیں۔ پس تم اللہ سے ڈرنا۔ اور اگر تمہیں اس کا م (خلافت) کی سپردگی ہوجائے تو تم بنو فلاں کو دیگر لوگوں کی گردنوں پر بلند نہ کرنا (یعنی برتری نہ دینا) ور حضرت عمر نے حضرت عثمان سے کہا۔ اے عثمان ! شاید یہ لوگ تمہارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دامادی کا رشتہ، اور تمہاری عمر اور تمہاری شرافت کو پہچانیں۔ پس اگر تم اس امر (خلافت) کے متولی ٹھہرے تو اللہ سے ڈرنا اور بنو فلاں کو دیگر لوگوں کی گردنوں پر بلند نہ کرنا۔ پھر حضرت عمر نے کہا۔ حضرت صہیب کو میرے پاس بلاؤ۔ اور آپ نے (انہیں) کہا۔ تم تین دن تک لوگوں کو نماز پڑھاؤ۔ ان (مذکورہ بالا) افراد کو چاہیے کہ اکٹھے ہوں اور خلوت میں (کوئی فیصلہ) کریں۔ پھر اگر یہ لوگ کسی ایک آدمی پر اکٹھے ہوجائیں تو اس کی مخالفت کرنے والے کا سر مار دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39843
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39843، ترقيم محمد عوامة 38215)
حدیث نمبر: 39844
٣٩٨٤٤ - حدثنا ابن إدريس عن (طلحة) (١) بن يحيى عن (عميه) (٢) عيسى بن طلحة وعروة بن الزبير (قالا) (٣): قال (٤) (عمر: ليصل) (٥) لكم (صهيب) (٦) (ثلاثًا) (٧)، وانظروا (فإن) (٨) كان ذلك وإلا فإن أمر (أمة) (٩) محمد لا يترك فوق (ثلاث) (١٠) سدى (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیسیٰ بن طلحہ اور حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا : ت میں صہیب تین دن نماز پڑھائیں۔ اور تم دیکھو اگر تو یہی (خلیفہ منتخب) ہوجائیں تو ٹھیک وگرنہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت تین دن سے زیادہ عبث نہیں چھوڑی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39844
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39844، ترقيم محمد عوامة 38216)
حدیث نمبر: 39845
٣٩٨٤٥ - حدثنا ابن [علية عن (سعيد) (١)] (٢) عن قتادة عن سالم (بن أبي الجعد الغطفاني عن معدان بن أبي طلحة اليعمري) (٣) أن عمر بن الخطاب (قام) (٤) خطيبًا يوم جمعة -أو خطب يوم جمعة- فحمد اللَّه وأثنى عليه، ثم ذكر نبي اللَّه ﷺ وأبا بكر. ثم قال: أيها الناس! إني قد رأيت رؤيا كأن ديكا أحمر نقرني نقرتين، ولا أرى ⦗١٦٠⦘ ذلك (إلا لحضور) (٥) (أجلي) (٦)، وإن الناس (يأمرونني) (٧) أن أستخلف، وإن اللَّه لم يكن ليضيع دينه وخلافته، والذي بعث (به) (٨) نبيه (٩)، فإن عجل (بي) (١٠) أمر فالخلافة شورى بين هؤلاء الرهط (الستة) (١١) (الذين) (١٢) توفي رسول اللَّه ﷺ وهو عنهم راض، فأيهم بايعتم له فاسمعوا له وأطيعوا. وقد عرفت أن رجالًا (سيطعنون) (١٣) في هذا الأمر، وإني قاتلتهم بيدي هذه على الإسلام، فإن فعلوا ذلك فأولئك أعداء اللَّه الكفرة الضلال، إني واللَّه ما أدع بعدي أهم إلي من أمر الكلالة، وقد سألت رسول اللَّه ﷺ (١٤) فما أغلظ لي في شيء ما أغلظ لي فيها (حتى) (١٥) طعن بإصبعه في (جنبي) (١٦) أو (في) (١٧) صدري، ثم قال: "يا عمر! (تكفيك) (١٨) آية الصيف التي أنزلت في آخر النساء"، وإن أعش فسأقضي فيها قضية لا يختلف فيها أحد يقرأ القرآن (أو لا يقرأ القرآن) (١٩). ⦗١٦١⦘ ثم قال: اللهم إني أشهدك على أمراء الأمصار، فإني إنما بعثتهم ليعلموا الناس دينهم وسنة نبيهم (٢٠)، ويقسموا فيهم فيئهم، ويعدلوا فيهم، فمن أشكل عليه شيء رفعه إليّ. ثم قال: أيها الناس! إنكم (٢١) تأكلون شجرتين لا أراهما إلا خبيثتين: هذا الثوم وهذا البصل، لقد كنت أرى الرجل على عهد رسول اللَّه ﷺ يوجد ريحه منه فيؤخذ بيده حتى (يخرج به) (٢٢) إلى البقيع، (فمن) (٢٣) كان آكلهما (لا بد) (٢٤) (فليمتهما) (٢٥) (طبخا) (٢٦). قال: فخطب بها عمر يوم الجمعة وأصيب يوم الأربعاء لأربع بقين لذي الحجة (٢٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے یا آپ نے جمعہ کا خطبہ دیا … پس اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا۔ پھر حضرت عمر نے کہا۔ اے لوگو ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔ گویا کہ ایک مرغ تھا اس نے مجھے دو مرتبہ ٹھونگ ماری اور میں اس خواب کو اپنی عمر کے پورا ہونے سے ہی کنایہ دیکھ رہا ہوں اور لوگ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں خلیفہ مقرر کر دوں۔ یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو خلافت کو ضائع نہیں کرے گا اور اس چیز کو بھی ضائع نہیں کرے گا جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا ہے۔ پس اگر مجھے جلد ہی موت نے آلیا تو پھر خلافت ان چھ لوگوں کے درمیان مشاورت کے ساتھ (طے) ہوگی جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رضا مندی کے ساتھ رخصت ہوئے ۔ ان میں سے جس کی بھی تم بیعت کرلو تو پھر اس کی بات سنو اور مانو۔ یقینا مجھے معلوم ہے کہ عنقریب کچھ لوگ اس معاملہ میں طعن کریں گے۔ اگر یہ لوگ ایسا کریں گے تو یہ اللہ کے دشمن ، کافر اور گمراہ ہوں گے۔ ٢۔ میں نے اپنے بعد کلالۃ کے معاملہ سے زیادہ اہم بحث نہیں چھوڑی اور تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی یہ سوال کیا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کسی چیز میں اتنی سختی نہیں کی جو سختی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ساتھ اس (کلالہ) میں فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عمر ! تمہیں سورة نساء کے آخر میں نازل ہونے والی آیۃ الصیف کافی ہے ۔ “ اور اگر میں مزید زندہ رہا تو عنقریب میں کلالہ کے بارے میں ایسا فیصلہ کر جاؤں گا کہ پھر کوئی اس مسئلہ میں اختلاف نہیں کرے گا۔ چاہے وہ قرآن پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو۔ ٣۔ پھرحضرت عمر نے کہا … اے اللہ ! میں تجھے شہروں کے امراء پر گواہ بناتا ہوں۔ کیونکہ میں نے انہیں صرف اس لئے بھیجا تھا تاکہ وہ لوگوں کو ان کا دین اور ان کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سُنَّت سکھائیں۔ اور ان کی فئی ان ہی میں تقسیم کریں اور ان میں انصاف کریں اور انہیں جس بات کا اشکال ہو وہ بات مجھ تک لائیں ۔ ٤۔ پھر حضرت عمر نے کہا۔ اے لوگو ! تم دو درخت (پیداوار) ایسے کھاتے ہو کہ جن کو میں خبیث (ناپسندیدہ) ہی خیال کرتا ہوں۔ یہ تھوم اور یہ پیاز ہے یقینا میں ایک آدمی کو عہد پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں دیکھتا کہ اس سے یہ بو آتی تو اس کو ہاتھ سے پکڑ کر باہر لے جایا جاتا یہاں تک کہ اس کو بقیع کی طرف نکال دیا جاتا۔ پس جو شخص ان کو ضرور کھانا چاہے تو پکا کر ان کی بو کو مار ڈالے۔ ٥۔ راوی کہتے ہیں : پس یہ خطبہ حضرت عمر نے جمعہ کے دن ارشاد فرمایا اور بدھ کے روز آپ کو زخمی کردیا گیا۔ ابھی ذی الحجہ میں چار دن باقی تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39845
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٥٦٧)، وأحمد (٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39845، ترقيم محمد عوامة 38217)
حدیث نمبر: 39846
٣٩٨٤٦ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن أبي (جمرة) (١) عن (جارية) (٢) ابن قدامة السعدي قال: حججت العام الذي أصيب فيه عمر، قال: فخطب (٣) فقال: إني رأيت (أن) (٤) (ديكًا) (٥) نقرني نقرتين أو ثلاثًا، ثم لم ⦗١٦٢⦘ (تكن) (٦) إلا جمعة أو نحوها حتى أصيب، قال: فأذن لأصحاب رسول اللَّه ﷺ، ثم أذن لأهل المدينة، ثم أذن لأهل الشام، ثم أذن لأهل العراق، فكنا آخر من دخل عليه وبطنه معصوب ببرد أسود والدماء تسيل، كلما دخل قوم بكوا وأثنوا عليه، فقلنا له: أوصنا -وما سأله الوصية أحد غيرنا- فقال: عليكم بكتاب اللَّه، فإنكم لن تضلوا ما اتبعتموه، وأوصيكم بالمهاجرين فإن الناس يكثرون ويقلون، وأوصيكم بالأنصار فإنهم شعب (الإسلام) (٧) الذي لجأ إليه، وأوصيكم بالأعراب فإنها أصلكم ومادتكم، وأوصيكم بذمتكم فإنها ذمة نبيكم (٨)، ورزق عيالكم، قوموا عني، فما (زادنا) (٩) على هؤلاء الكلمات (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جاریہ بن قدامہ سعدی سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں : جس سال حضرت عمر کو زخمی کیا گیا میں نے اس سال حج کیا ۔ بیان کرتے ہیں کہ … حضرت عمر نے خطبہ دیا اور (اس میں) ارشاد فرمایا۔ میں نے (خواب) دیکھا ہے کہ ایک مرغ نے مجھے دو یا تین مرتبہ ٹھونگ ماری ہے۔ پھر اس کے بعد ایک جمعہ یا اس کے قریب ہی وقت گزرا تھا کہ حضرت عمر پر حملہ ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں : پس (پہلے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو اجازت دی گئی۔ پھر اہل مدینہ کو اجازت دی گئی پھر اہل شام کو اجازت دی گئی پھر اہل عراق کو اجازت دی گئی۔ پس ہم حضرت عمر کی خد مت میں حاضر ہونے والے آخری لوگ تھے۔ آپ کا پیٹ سیاہ چادر سے باندھا ہوا تھا اور خون بہہ رہا تھا۔ جب بھی کچھ لوگ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوتے تو لوگ رو پڑتے اور آپ کی تعریف کرتے۔ ہم نے آپ سے کہا۔ آپ ہمیں وصیت کریں۔ اور ہمارے علاوہ کسی نے بھی آپ سے وصیت کرنے کا سوال نہیں کیا … چناچہ حضرت عمر نے کہا۔ کتاب اللہ کو لازم پکڑو۔ کیونکہ جب تک تم لوگ اس کی تابعداری کرتے رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔ اور میں تمہیں مہاجرین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ دیگر لوگ بڑھیں گے اور (یہ) کم ہوں گے۔ اور میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ لوگ ایمان کی ایسی گھاٹی ہیں جس کی طرف ایمان نے پناہ پکڑی اور میں تمہیں دیہاتیوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہاری اصل اور مادہ ہیں۔ اور میں تمہیں تمہارے ذمیوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں یہ لوگ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذمہ ہیں اور تمہارے مال بچوں کی روزی ہیں۔ میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ اس سے زیادہ حضرت عمر نے ہمارے ساتھ بات نہیں کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39846
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرج بعضه البخاري (٣١٦٢)، وأخرجه أحمد (٣٦٢)، والطيالسي (٦٦)، وابن سعد ٣/ ٣٣٦، وابن شبه في تاريخ المدينة ٣/ ٩٣٦، والبغوي في الجعديات (١٢٩٠)، وأبو عبيد في الأموال (٥٦٩)، وابن زنجوية (٥١٩)، والبيهقي ٩/ ٢٠٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39846، ترقيم محمد عوامة 38218)
حدیث نمبر: 39847
٣٩٨٤٧ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون قال: لما طعن عمر ماج الناس بعضهم في بعض، حتى كادت الشمس أن تطلع، فنادى مناد الصلاة، فقدموا عبد الرحمن بن عوف فصلى بهم، فقرأ بأقصر سورتين في القرآن ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [الكوثر: ١] ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (٢)﴾ [النصر: ١]، فلما أصبح دخل عليه الطبيب، وجرحه يسيل دمًا، فقال: أي الشراب أحب إليك؟ قال: النبيذ، فدعا بنبيذ فشربه فخرج من جرحه، (فقال: هذا صديد، ائتوني بلبن ⦗١٦٣⦘ (فأتي بلبن) (٣) فشرب فخرج من جرحه) (٤)، فقال له الطبيب: أوصه فإني لا أظنك إلا ميتا من يومك أو من غد (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر کو نیزہ لگا تو سب لوگ مضطرب ہوگئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہوگیا ۔ تو ایک آواز دینے والے نے ندا دی۔ نماز ! چناچہ لوگوں نے حضرت عبد الرحمان بن عوف کو آگے کردیا۔ پس انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اور قرآن مجید کی دو مختصر سورتیں یعنی {إِنَّا أَعْطَیْنَاک الْکَوْثَرَ } اور {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللہِ } کو پڑھا۔ پھر جب دن نکل آیا تو ایک طبیب حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت عمر کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔ طبیب نے پوچھا۔ آپ کو کون سا مشروب پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا : نبیذ چناچہ نبیذ منگوایا اور اس کو حضرت عمر نے پیا لیکن وہ آپ کے زخموں سے باہر نکل آیا ۔ آپ نے فرمایا۔ یہ خون ملی پیپ ہے۔ تم میرے پاس دودھ لاؤ۔ چناچہ دودھ لایا گیا آپ نے دودھ نوش فرمایا تو وہ بھی زخموں سے باہر نکل آیا ۔ اس پر طبیب نے آپ سے کہا۔ کوئی وصیت کرلو۔ کیونکہ میرے خیال میں آپ ایک یا دو دن میں فوت ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39847
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39847، ترقيم محمد عوامة 38219)
حدیث نمبر: 39848
٣٩٨٤٨ - حدثنا إسحاق الرازي عن أبي سنان عن عطاء بن السائب عن (عامر) (١) قال: [(حلف) (٢) باللَّه] (٣) لقد طعن عمر وإنه لفي النحل يقرؤها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے روایت ہے ۔ وہ اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تحقیق حضرت عمر کو نیزہ مارا گیا تو وہ اس وقت سورة نحل کی قراءت کر رہے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39848
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عطاء اختلط.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39848، ترقيم محمد عوامة 38220)
حدیث نمبر: 39849
٣٩٨٤٩ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن ابن (ميناء) (١) عن (المسور) (٢) بن مخرمة قال: سمعت عمر وإن (إحدى) (٣) أصابعي في جرحه هذه أو هذه أو هذه، وهو يقول: يا معشر قريش! إني لا أخاف الناس عليكم، إنما أخافكم على الناس، إني قد تركت فيكم ثنتين (لن) (٤) تبرحوا بخير ما (لزمتموهما) (٥): العدل في الحكم، والعدل في القسم، وإني قد تركتكم (على ⦗١٦٤⦘ مثل) (٦) (مخرفة) (٧) النعم إلا أن يتعوج (قوم فيعوج) (٨) بهم (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں : میں نے حضرت عمر کو کہتے سُنا…جبکہ میری انگلیوں میں سے ایک انگلی ان کے زخم کے اندر تھی … اے گروہ قریش ! میں تمہارے خلاف لوگوں سے خوف نہیں رکھتا بلکہ مجھے تو صرف لوگوں کے خلاف تم سے خوف ہے۔ یقینا میں دو چیزیں تم میں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک تم ان کو لازم پکڑو گے تب تک مسلسل خیر پر رہو گے۔ فیصلہ کرنے میں عدل اور تقسیم کرنے میں عدل۔ اور یقینا میں تمہیں بالکل سیدھا چھوڑ کر جا رہا ہوں البتہ اگر کسی قوم نے ٹیڑھا راستہ اختیار کیا تو وہ ٹیڑھے راستے پر چل پڑیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39849
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البيهقي ١٠/ ١٣٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39849، ترقيم محمد عوامة 38221)
حدیث نمبر: 39850
٣٩٨٥٠ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن (عروة) (١) عن أبيه عن سليمان بن يسار عن المسور بن مخرمة قال: دخلت أنا وابن عباس على عمر بعد ما طعن وقد أغمي عليه، فقلنا لا ينتبه [(لشيء) (٢) (أفزع) (٣) له من الصلاة، فقلنا: الصلاة يا أمير المؤمنين] (٤)، فانتبه وقال: (الصلاة) (٥)، ولا حظ في الإسلام لامرئ قرك الصلاة، فصلى و (إن) (٦) جرحه ليثعب (٧) دما (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ میں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت عمر پر حملہ ہونے کے بعد جبکہ ان پر بےہوشی طاری تھی۔ داخل ہوئے۔ تو ہم نے کہا۔ ان کو نماز سے زیادہ گھبراہٹ میں ڈالنے والی کسی چیز سے نہیں بیدار کیا جاسکے گا۔ چناچہ ہم نے کہا۔ اے امیر المؤمنین ! نماز ! پس حضرت عمر متنبہ ہوئے اور فرمایا : نماز ! ایسے آدمی کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں جو نماز کو چھوڑ دے۔ پھر حضرت عمر نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ ان کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39850
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مالك في الموطأ ١/ ٣٩ (٨٢)، وابن سعد ٣/ ٣٥١، والطبراني في الأوسط (٨١٨١)، والبيهقي ١/ ٣٥٧، وابن عساكر ٤٤/ ٤١٩، والمروزي في تعظيم الصلاة (٩٢٣)، واللالكائي (١٥٢٨)، وابن أبي عمر في الإيمان (٣٢)، والآجري (٢٧١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39850، ترقيم محمد عوامة 38222)
حدیث نمبر: 39851
٣٩٨٥١ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن عمرو بن ميمون قال: كنت أدع الصف الأول هيبة لعمر، وكنت في الصف الثاني يوم أصيب؛ فجاء فقال: الصلاة (عباد) (١) اللَّه، استووا، قال: فصلى بنا فطعنه أبو لؤلؤة طعنتين أو ⦗١٦٥⦘ (ثلاثًا) (٢)، قال: وعلى عمر ثوب (أصفر) (٣)، قال: (فجمعه) (٤) على صدره ثم أهوى وهو يقول: ﴿وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَقْدُورًا﴾ [الأحزاب: ٣٨]، فقتل وطعن اثني عشر أو ثلاثة عشر، قال: (ومال) (٥) الناس عليه فاتكأ على خنجره فقتل نفسه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر کی ہیبت کی وجہ سے پہلی صف کو چھوڑ دیتا تھا۔ جس دن حضرت عمر پر حملہ ہوا اس دن میں دوسری صف میں تھا۔ حضرت عمر تشریف لائے اور فرمایا۔ اے بندگانِ خدا ! نماز، (صفوں میں) سیدھے ہو جاؤ۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ نے ہمیں نماز پڑھانا شروع کی۔ کہ ابو لؤلؤ نے آپ پر دو یا تین وار کئے۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمر نے زرد کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس آپ نے اس کپڑے کو اپنے سینے کی طرف اکٹھا کرلیا پھر آپ نے اشارہ کیا اور آپ فرما رہے تھے۔ { وَکَانَ أَمْرُ اللہِ قَدَرًا مَقْدُورًا } پھر اس نے مزید بارہ یا تیرہ لوگوں کو قتل کیا اور وار کئے۔ راوی کہتے ہیں۔ لوگ اس قاتل کی طرف بڑھے تو اس نے اپنے خنجر پر تکیہ لگا کر اپنے آپ کو قتل کرلیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39851
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٣/ ٣٤٨، وابن شبه (١٥٢١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39851، ترقيم محمد عوامة 38223)
حدیث نمبر: 39852
٣٩٨٥٢ - حدثنا ابن نمير عن سفيان عن الأسود بن قيس عن عبد اللَّه بن الحارث الخزاعي قال: سمعت عمم يقول في خطبته: إني رأيت البارحة ديكا نقرني، ورأيته (يجليه) (١) الناس عني، وإني أقسم باللَّه لئن بقيت لأجعلن سفلة المهاجرين في العطاء على ألفين ألفين، فلم يمكث إلا ثلاثًا حتى قتله غلام المغيرة: أبو لؤلؤة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن الحارث خزاعی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر کو ان کے خطبہ میں یہ کہتے سُنا کہ : میں نے گزشتہ رات (خواب میں) ایک مرغ کو دیکھا کہ وہ مجھے ٹھونگ مار رہا ہے اور میں نے اس کو دیکھا کہ لوگ اس کو مجھ سے دور کر رہے ہیں۔ اور میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر میں باقی رہا تو میں ضرور بالضرور عام مہاجرین کو بھی دو دو ہزار عطیہ دوں گا۔ لیکن تین دن ہی گزرے تھے کہ آپ کو حضرت مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابو لؤلؤ نے قتل کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39852
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39852، ترقيم محمد عوامة 38224)
حدیث نمبر: 39853
٣٩٨٥٣ - حدثنا جعفر بن عون عن محمد بت شريك عن ابن أبي مليكة قال: ما خص عمر أحدا من أهل الشورى دون أحد إلا أنه خلا بعلي وعثمان، كل واحد منهما على حدة، فقال: يا فلان! (اتق) (١) اللَّه فإن ابتلاك اللَّه بهذا الأمر فلا ترفع بني فلان على رقاب الناس، وقال: للآخر مثل ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے اہل شوریٰ میں سے کسی کو خاص نہیں کیا لیکن آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان سے علیحدگی (میں کوئی بات) کی۔ اور ان میں سے بھی ہر ایک کو دوسرے سے علیحدہ کیا۔ آپ نے فرمایا۔ اے فلاں ! اللہ سے ڈر اور اگر تجھے اس معاملہ کے ذریعہ خدا تعالیٰ آزمائے تو تُو بنی فلاں کو دیگر لوگوں کی گردنوں پر بلند نہ کرنا۔ اور (اسی طرح) آپ دوسرے (علی رضی اللہ عنہ و عثمان میں) سے بھی ایسا کہا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39853
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39853، ترقيم محمد عوامة 38225)
حدیث نمبر: 39854
٣٩٨٥٤ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن حسن (بن) (١) محمد قال: قال عمر لعثمان: اتق اللَّه! وإن وليت شيئا من أمور الناس فلا (تحمل) (٢) (بني أبي معيط على رقاب الناس، وقال لعلي: اتق اللَّه وإن وليت شيئا من أمور الناس فلا تحمل بني هاشم) (٣) على رقاب الناس (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے حضرت عثمان سے کہا۔ اللہ سے ڈر اور اگر تجھے لوگوں کے معاملا ت میں سے کسی کی ولایت مل جائے تو تُو بنو ابی معیط کے لوگوں کو دیگر لوگوں کی گردنوں پر بلند نہ کرنا ۔ اور حضرت عمر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا۔ اللہ سے ڈر۔ اور اگر تجھے لوگوں کے معاملات میں سے کسی کا اختیار مل جائے تو تُو بنو ہاشم کو دیگر لوگوں کی گردن پر بلند نہ کرنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39854
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39854، ترقيم محمد عوامة 38226)
حدیث نمبر: 39855
٣٩٨٥٥ - حدثنا ابن إدريس عن عبد العزيز بن عمر عن إبراهيم بن زرعة عالم من علماء أهل الشام قال: قلت له: من صلى على عمر؟ قال: صهيب (١).
مولانا محمد اویس سرور
اہل شام کے علماء میں سے ایک عامل حضرت ابراہیم بن زرعہ سے عبد العزیز بن عمر نقل کرتے ہیں کہ میں نے ابن زرعہ سے پوچھا۔ حضرت عمر کا جنازہ کس نے پڑھا یا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا۔ صہیب نے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39855
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39855، ترقيم محمد عوامة 38227)
حدیث نمبر: 39856
٣٩٨٥٦ - حدثنا ابن نمير عن يحيى (بن سعيد) (١) عن القاسم أن عمر حيث طعن جاء الناس يثنون عليه ويدعون له، فقال عمر ﵀: (أبالإمارة) (٢) (تزكونني؟) (٣) لقد صحبت رسول اللَّه ﷺ فقبض وهو عني راض، (وصحبت) (٤) أبا بكر فسمعت وأطعت، فتوفي أبو بكر وأنا سامع مطيع، وما أصبحت أخاف على نفسي إلا إمارتكم (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم سے روایت ہے ۔ کہ جب حضرت عمر کو نیزہ لگا تو لوگ (آپ کے پاس) آ کر آپ کی تعریف کرنے لگے اور آپ کے لئے دعا کرنے لگے تو حضرت عمر نے ان سے کہا۔ کیا تم لوگ خلافت کی بنیاد پر مجھے پاکیزہ سمجھ رہے ہو ؟ تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت اختاکر کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حالت میں دنیا سے تشریف لے گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے خوش تھے پھر میں نے حضرت ابوبکر کی صحبت اختیار کی اور میں نے آپ کا حکم سُنا اور مانا پھر آپ کی وفات بھی اس حالت میں ہوئی کہ میں آپ کی بات سننے اور ماننے والا تھا۔ اور مجھے تو اپنے آپ پر صرف تمہاری امارت ہی کا خوف ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39856
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39856، ترقيم محمد عوامة 38228)
حدیث نمبر: 39857
٣٩٨٥٧ - حدثنا محمد بن بشر، (حدثنا) (١) محمد بن عمرو، (حدثنا) (٢) أبو سلمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب وأشياخ، قالوا: رأى عمر بن الخطاب في المنام (فقال) (٣): رأيت ديكا أحمر نقرني ثلاث نقرات بين (الثنة) (٤) والسرة، قالت أسماء بنت (عميس) (٥) أم عبد اللَّه بن جعفر: قولوا له: فليوص، وكانت تعبر الرؤيا، فلا أدري أبلغه (ذلك) (٦) أم لا. فجاءه أبو لؤلؤة الكافر المجوسي (عبد) (٧) المغيرة بن شعبة، فقال: إن المغيرة قد جعل عليَّ من الخراج (مالًا) (٨) (٩)، قال: كم جعل عليك؟ قال: كذا وكذا، قال: وما عملك؛ قال: (أجوب) (١٠) الأرحاء، قال: وما ذاك (عليك) (١١) (بكثير) (١٢)، ليس بأرضنا أحد يعملها غيرك، ألا تصنع لي (رحى؟) (١٣) قال: بلى واللَّه، لأجعلن لك (رحى) (١٤) (يسمع) (١٥) بها أهل الآفاق. ⦗١٦٨⦘ فخرج عمر إلى الحج فلما صدر اضطجع (بالمحصب) (١٦)، وجعل رداءه تحت رأسه، فنظر إلى القمر فأعجبه استواؤه وحسنه، فقال: بدأ (ضعيفا) (١٧) ثم لم يزل اللَّه يزيده وينميه حتى استوى، فكان أحسن ما كان، ثم هو ينقص حتى يرجع كما كان، وكذلك الخلق كله، ثم رفع يديه فقال: اللهم رعيتي قد كثرت وانتشرت فاقبضني إليك غير عاجز ولا مضيع. فصدر إلى المدينة فذكر له أن امرأة من المسلمين ماتت بالبيداء مطروحة على الأرض يمر بها الناس لا يكفنها أحد، ولا يواريها أحد، حتى مر بها كليب بن البكير الليثي، فأقام عليها حتى كفنها وواراها فذكر ذلك لعمر، فقال: من مر عليها من المسلمين؟ فقالوا: لقد مر عليها عبد اللَّه بن عمر فيمن مر عليها من (المسلمين) (١٨) فدعاه، وقال: ويحك مررت على امرأة من المسلمين مطروحة على ظهر الطريق، فلم توارها ولم تكفنها؟ قال: (واللَّه) (١٩) (ما شعرت) (٢٠) بها ولا ذكرها لي أحد، فقال: لقد خشيت أن لا يكون فيك خير، فقال: من (واراها وكفنها؟ قالوا: كليب ابن بكير الليثي) (٢١) قال: واللَّه (لحري) (٢٢) أن يصيب كليب خيرًا. فخرج عمر (يوقظ الناس بدرته) (٢٣) لصلاة الصبح، فلقيه الكافر أبو لؤلؤة فطعنه (ثلاث طعنات بين الثنة والسرة، وطعن كليب بن بكير فأجهز عليه) (٢٤)، ⦗١٦٩⦘ (وتصايح) (٢٥) الناس، فرمى رجل على رأسه ببرنس ثم (اصطعنه) (٢٦) إليه. وحمل عمر إلى الدار فصلى عبد الرحمن بن عوف بالناس، وقيل لعمر: الصلاة، (فصلى) (٢٧) (وجرحه) (٢٨) (يثعب) (٢٩)، (وقال) (٣٠): لا حظ (في الإسلام) (٣١) لمن لا صلاة له، فصلى ودمه (يثعب) (٣٢). ثم انصرف الناس عليه فقالوا: يا أمير المؤمنين، إنه ليس بك بأس، وإنا لنرجو أن (ينسي) (٣٣) اللَّه في أثرك ويؤخرك إلى حين، أو إلى خير، فدخل عليه ابن عباس وكان يعجب به، فقال: اخرج فانظر من صاحبي ثم خرج فجاء، فقال: أبشر يا أمير المؤمنين! صاحبك أبو لؤلؤة المجوسي (عبد) (٣٤) المغيرة بن شعبة، فكبر حتى خرج صوته من الباب، ثم قال: الحمد للَّه الذي لم يجعله رجلا من المسلمين (يحاجني) (٣٥) (سجد سجدة) (٣٦) للَّه يوم القيامة. ثم أقبل على القوم فقال: (أكان) (٣٧) هذا عن ملأ منكم؟ فقالوا: معاذ اللَّه؛ ⦗١٧٠⦘ واللَّه لوددنا أنا فديناك بآبائنا، (وزدنا) (٣٨) في عمرك من أعمارنا، إنه ليس بك بأس. قال: أي يرفأ؛ (ويحك) (٣٩)، اسقني، فجاءه بقدح فيه نبيذ حلو فشربه، فألصق رداءه ببطنه، قال: فلما وقع الشراب في بطنه خرج من الطعنات، قالوا: الحمد للَّه، هذا دم استكن في جوفك، فأخرجه اللَّه من جوفك، قال: أي يرفأ، (ويحك) (٤٠) (اسقني) (٤١) لبنًا، فجاء بلبن فشربه فلما (٤٢) وقع في جوفه خرج (من) (٤٣) الطعنات. فلما (رأوا) (٤٤) ذلك علموا أنه هالك، قالوا: جزاك اللَّه خيرًا (قد) (٤٥) كنت تعمل فينا بكتاب اللَّه وتتبع سنة (صاحبيك) (٤٦)؛ لا تعدل عنها إلى غيرها، جزاك اللَّه أحسن الجزاء، قال: بالإمارة (تغبطونني) (٤٧)، فواللَّه لوددت (أني) (٤٨) أنجو منها كفافا لا عليَّ ولا ليَّ، قوموا فتشاوروا في أمركم، أمروا عليكم رجلا منكم، فمن خالفه فاضربوا رأسه. ⦗١٧١⦘ قال: فقاموا وعبد اللَّه بن عمر مسنده إلى صدره، فقال عبد اللَّه: (أتؤمّرون) (٤٩) وأمير المؤمنين حي؟ فقال عمر: (لا) (٥٠)، وليصل صهيب ثلاثًا، وانتظروا طلحة، وتشاوروا في أمركم، فأمروا عليكم رجلا منكم، فإن خالفكم فاضربوا رأسه. قال: اذهب إلى (عائشة) (٥١) فاقرأ عليها مني السلام، وقل: إن عمر يقول: إن كان ذلك ولا يضر بك ولا يضيق عليك فإني أحب أن أدفن مع صاحبي، وإن كان يضرُّ بك ويضيق عليك، فلعمري لقد دفن في هذا البقيع من أصحاب رسول اللَّه ﷺ وأمهات المؤمنين من هو خير من عمر، فجاءها الرسول فقالت: إن ذلك لا يضر (بي) (٥٢) ولا يضيق علي، قال: فادفنوني معهما. قال عبد اللَّه بن عمر: فجعل الموت يغشاه وأنا أمسكه إلى صدري، قال: ويحك ضع رأسي بالأرض، قال: فأخذته غشية فوجدت من ذلك، فأفاق فقال: (ويحك) (٥٣) ضع رأسي بالأرض، فوضعت رأسه بالأرض فعفره بالتراب فقال: ويل عمر، وويل أمه: إن لم يغفر اللَّه له. قال محمد بن عمرو: وأهل الشورى: علي وعثمان وطلحة والزبير وسعد وعبد الرحمن بن عوف (٥٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب اور دوسرے بزرگ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے شہادت سے پہلے خواب میں دیکھا کہ ایک مرغے نے ان کی ناف اور سینے کے درمیان چونچ ماری ہے۔ حضرت اسماء بنت عمیس تعبیر کی ماہر تھیں، انہوں نے یہ خواب سنا تو فرمایا کہ ان سے کہو کہ وصیت کردیں۔ میں نہیں جانتا کہ یہ تعبیر ان تک پہنچی یا نہیں۔ کچھ دنوں بعد مغیرہ بن شعبہ کا غلام ابو لؤلؤ ، حضرت عمر کے پاس آیا اور حضرت عمر نے پوچھا کہ تم کیا کرتے ہو ؟ اس نے کہا میں چکیاں بناتا ہوں۔ حضرت عمر نے کہا کہ پھر تو بہت زیادہ نہیں کیونکہ یہاں تمہارے علاوہ کوئی یہ کام نہیں کرتا، کیا تم مجھے ایک چکی بنا کردو گے ؟ اس نے کہا میں آپ کو ایسی چکی بنا کر دوں گا کہ اس کی شہرت سارے عالم میں ہوگی۔ ٢۔ پھر حضرت عمر حج کے لئے چل پڑے پس جب آپ پہنچے تو آپ رمی جمار کی جگہ لیٹ گئے اور اپنی چادر کو اپنے سر کے نیچے رکھ لیا۔ آپ نے چاند کی طرف دیکھا تو آپ کو اس کی خوبصورتی اور برابری بہت پیاری لگی اس پر آپ نے فرمایا۔ یہ ابتداء میں کمزور ساظاہر ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس میں اضافہ کرتے رہتے ہیں اور اس کو بڑھاتے رہتے ہیں یہاں تک کہ یہ برابر ہوجاتا ہے۔ اور پھر یہ کمال حسن تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر یہ کم ہونا شروع ہوتا ہے یہاں تک دوبارہ ویسا ہی (پہلے جیسا) ہوجاتا ہے۔ ساری مخلوق کی حالت ایسی ہی ہے۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور عرض کیا۔ اے اللہ ! میری رعایا بہت زیادہ ہوگئی ہے۔ اور بہت پھیل گئی ہے پس تو مجھے اپنی طرف واپس بلا لے عاجز اور ضائع کیے بغیر۔ ٣۔ پھر حضرت عمر مدینہ واپس آئے تو ان کے سامنے ذکر کیا گیا کہ مسلمانوں کی ایک عورت مقام بیداء میں مرگئی تھی، وہ زمین پر پڑی ہوئی تھی اور لوگ اس کے پاس سے گزرتے جا رہے تھے۔ کسی نے بھی اس کو کفن نہ دیا اور نہ ہی اس کو دفنایا یہاں تک کہ حضرت کلیب بن بکیر لیثی اس عورت کے پاس سے گزرے تو وہ اس کے پاس ٹھہرے رہے یہاں تک کہ انہوں نے اس کو کفنایا اور دفنایا۔ یہ بات حضرت عمر کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ نے پوچھا۔ مسلمانوں میں سے کون لوگ اس کے پا س سے گزرے تھے ؟ لوگوں نے جواب دیا۔ اس کے پاس سے گزرنے والے لوگوں میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ چناچہ آپ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بلایا اور فرمایا۔ تو ہلاک ہوجائے۔ تو ایک مسلمان عورت پر سے جو راستہ میں زمین پر گری پڑی تھی گزرا اور تو نے اس کو کفنایا، دفنایا کیوں نہیں ؟ انہوں نے جواب دیا۔ مجھے تو اس کا پتہ ہی نہیں چلا اور نہ ہی مجھ سے کسی نے اس کے بارے میں ذکر کیا۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں تو خیر سے خالی نہ ہو۔ پھر حضرت عمر نے پوچھا۔ اس عورت کو کس نے کفنایا اور دفنایا ؟ لوگوں نے جواب دیا کہ کلیب بن بکیر لیثی نے۔ آپ نے فرمایا : خدا کی قسم ! کلیب اس بات کا حق دار ہے کہ اس کو خیر پہنچے۔ ٤۔ پھر حضرت عمر لوگوں کو صبح کی نماز کے لئے بیدار کرنے کے لئے نکلے تھے کہ آپ کو ابو لؤلؤ کافر ملا اور اس نے آپ کی ناف اور سینے کے درمیان تین وار کئے۔ اور حضرت کلیب بن بکیر کو مارا اور ان کا کام تمام کردیا۔ لوگوں نے آوازیں بلند کیں تو ایک آدمی نے اس پر بڑی چادر پھینک دی۔ اور حضرت عمر کو اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔ اور حضرت عبد الرحمان بن عوف نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اور حضرت عمر سے کہا گیا۔ نماز ! تو آپ نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ آپ کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا ۔ اور آپ نے ارشاد فرمایا۔ جس آدمی کی نماز نہیں، اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔ پس آپ نے اس حالت میں نماز ادا فرمائی کہ آپ کا خون ٹپک رہا تھا۔ پھر لوگ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔ اے امیر المؤمنین ! آپ کو کوئی زخم نہیں ہیں۔ اور یقینا ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے فیض کو مزید باقی رکھے گا اور آپ کو مزید ایک وقت تک یا ایک خیر (کے کام) تک مہلت دے گا۔ ٥۔ پھر حضرت عمر کی خدمت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حاضر ہوئے … حضرت عمر کو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے محبت تھی … حضرت عمر نے فرمایا۔ تم دیکھو کہ مجھے قتل کرنے والا کون ہے ؟ چناچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما باہر چلے گئے پھر واپس آئے تو فرمایا۔ اے امیر المؤمنین ! آپ کو خوشخبری ہو کہ آپ کا قاتل حضرت مغیرہ بن شعبہ کا غلام ابو لؤلؤ مجوسی ہے۔ اس پر حضرت عمر نے اللہ اکبر کہا۔ یہاں تک (بلند آواز میں کہا کہ) آپ کی آواز دروازے سے باہر نکل گئی پھر حضرت عمر نے فرمایا۔ تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جس نے قاتل کو مسلمان آدمی نہیں بنایا کہ بروز قیامت وہ میرے ساتھ کسی ایسے سجدہ کی وجہ سے مخاصمت کرتا جو اس سے صرف خدا کے لئے کیا ہوتا۔ پھر حضرت عمر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔ کیا یہ آدمی تمہارے قوم میں سے ہے ؟ لوگوں نے کہا۔ اللہ کی پناہ ! ہم تو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ہم آپ پر اپنے آباء کو فداء کردیں اور آپ کی عمر میں اپنی عمروں سے اضافہ کردیں۔ آپ کو کوئی ز
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39857
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39857، ترقيم محمد عوامة 38229)