کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
حدیث نمبر: 39824
٣٩٨٢٤ - حدثنا (١) غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم قال: سمعت عبيد اللَّه ابن عبد (اللَّه) (٢) بن عتبة يحدث عن ابن عباس عن عبد الرحمن بن عوف (قال: حج عمر فأراد أن يخطب الناس خطبة، فقال عبد الرحمن بن عوف) (٣): إنه قد اجتمع عندك رعاع الناس وسفلتهم، فأخر ذلك حتى تأتي المدينة، قال: فلما قدمت المدينة دنوت قريبا من المنبر، فسمعته يقول: إني قد عرفت أناسًا يقولون: إن خلافة أبي بكر (فلتة) (٤) وإنما كانت (فلتة) (٥)، ولكن اللَّه وقى شرها، إنه لا خلافة إلا عن مشورة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمان بن عوف سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے حج کیا اور آپ نے لوگوں کو ایک خطبہ دینے کا ارادہ کیا ۔ تو حضرت عبد الرحمان بن عوف نے عرض کیا۔ (اس وقت) آپ کے پاس معمولی درجہ کے اور متفرق مقامات کے لوگ جمع ہیں۔ لہٰذا آپ مدینہ آنے تک خطبہ کا ارادہ مؤخر کردیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر جب میں مدینہ پہنچا تو میں منبر کے قریب ہو کر بیٹھ گیا۔ اور میں نے حضرت عمر کو کہتے سنا۔ مجھے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ لوگ کہتے ہیں۔ حضرت ابوبکر کی خلافت اچانک رونما ہوگئی تھی۔ واقعۃً وہ اچانک تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی خلافت کے شر (کے امکان کو) ختم فرما دیا (اور اب) یہ خلافت مشورہ سے ہی (باقی) ہے۔
حدیث نمبر: 39825
٣٩٨٢٥ - حدثنا عبد (الأعلى) (١) عن ابن إسحاق عن (عبد اللَّه) (٢) بن أبي بكر ⦗١٣٩⦘ عن (الزهري) (٣) عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه (بن عتبة) (٤) عن ابن عباس قال: كنت (أختلف إلى عبد الرحمن) (٥) بن عوف (ونحن بمنى) (٦) مع عمر (بن الخطاب) (٧)، أعلم عبد الرحمن بن عوف القرآن، فأتيته في المنزل فلم أجده فقيل: هو عند أمير المؤمنين، فانتظرته حتى جاء فقال لي: قد (غضب) (٨) هذا اليوم غضبًا (٩) ما رأيته (غضب) (١٠) مثله منذ كان، قال: قلت: لم ذاك؟ قال: بلغه أن رجلين من الأنصار ذكرا بيعة أبي بكر فقالا: واللَّه ما كانت إلا فلتة، فما يمنع امرءا إن هلك هذا أن يقوم إلى من (يحب) (١١) فيضرب على يده فتكون كما كانت. قال: فهم عمر أن يكلم الناس، قال: فقلت: لا تفعل يا أمير المؤمنين، فإنك ببلد قد اجتمعت إليه (أفناء) (١٢) العرب كلها، وإنك إن قلت مقالة حملت عنك وانتشرت في الأرض كلها، فلم تدر ما يكون في ذلك، وإنما يعينك من قد عرفت أنه سيصير إلى المدينة. فلما قدمنا المدينة رحت (مهجرا) (١٣) حتى أخذت (عضادة) (١٤) المنبر اليمنى، ⦗١٤٠⦘ وراح إلي سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل حتى جلس معي، (فقلت) (١٥): ليقولن هذا اليوم مقالة (ما قالها) (١٦) منذ استخلف، قال: وما عسى أن يقول؟ قلت: ستسمع (ذاك) (١٧). قال: فلما اجتمع الناس خرج عمر حتى جلس على المنبر ثم حمد اللَّه وأثنى عليه ثم ذكر رسول اللَّه ﷺ فصلى عليه ثم قال: إن اللَّه أبقى رسوله بين أظهرنا ينزل عليه الوحي من اللَّه يحل به ويحرم، ثم قبض اللَّه رسوله فرفع (معه) (١٨) ما شاء أن يرفع، وأبقى منه ما شاء أن يبقى، فتشبثنا ببعض، وفاتنا بعض. فكان مما كنا نقرأ (في) (١٩) القرآن: ﴿لا ترغبوا عن آبائكم، فإنه كفر بكم أن ترغبوا عن آبائكم﴾ ونزلت آية الرجم، فرجم النبي ﷺ ورجمنا معه، والذي نفس محمد بيده لقد حفظتها (وعلمتها) (٢٠) وعقلتها لولا أن يقال: كتب عمر في المصحف ما ليس فيه، لكتبتها بيدي كتابًا، والرجم على ثلاثة منازل: حمل بيّنٌ، أو اعتراف (من) (٢١) صاحبه، أو شهود عدل، كما أمر اللَّه. وقد بلغني أن رجالا يقولون في خلافة أبي بكر: إنها كانت فلتة ولعمري إن كانت كذلك، ولكن اللَّه أعطى خيرها (ووقى) (٢٢) شرها؛ (وأيكم) (٢٣) هذا الذي تنقطع إليه الأعناق كانقطاعها إلى أبي بكر. ⦗١٤١⦘ إنه كان من شأن الناس أن رسول اللَّه ﷺ توفي فأتينا فقيل لنا: إن الأنصار قد اجتمعت في بني ساعدة مع سعد بن عبادة يبايعونه، فقمت وقام أبو بكر وأبو عبيدة ابن الجراح نحوهم فزعين أن يحدثوا في الإسلام (فتقا) (٢٤)، فلقينا رجلان من الأنصار، (رجلا) (٢٥) صدقٍ: عويم بن ساعدة ومعن بن عدي، فقالا: أين تريدون؟ فقلنا: قومكم لما بلغنا من أمرهم، (فقالا) (٢٦): ارجعوا فإنكم لن تخالفوا، ولن يؤت شيء تكرهونه، فأبينا إلا أن نمضي، وأنا (أزوي) (٢٧) كلاما أريد أن أتكلم به. حتى انتهينا إلى القوم وإذا هم (عكر) (٢٨) هناك على سعد بن عبادة، وهو على سرير له مريض، فلما غشيناهم تكلموا فقالوا: يا معشر قريش! منا أمير ومنكم أمير، فقام (الحباب) (٢٩) بن المنذر فقال: أنا (جذيلها) (٣٠) المحكك وعذيقها (المرجب) (٣١)، إن شئتم واللَّه رددناها جذعة. فقال أبو بكر: على رسلكم، فذهبت لأتكلم فقال: (أنصت) (٣٢) يا عمر، فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: يا معشر الأنصار إنا واللَّه ما ننكر فضلكم ولا بلاءكم في الإسلام ولا حقكم الواجب علينا، (ولكنكم) (٣٣) قد عرفتم أن هذا الحي من قريش بمنزلة من العرب ليس بها غيرهم، وإن العرب لن تجتمع إلا على رجل منهم، ⦗١٤٢⦘ فنحن الأمراء وأنتم الوزراء، فاتقوا اللَّه ولا تصدعوا الإسلام، ولا تكونوا أول من أحدث في الإسلام، ألا وقد رضيت لكم أحد هذين الرجلين لي ولأبي عبيدة بن الجراح، فأيهما بايعتم فهو لكم ثقة. قال: فو اللَّه ما بقي شيء كنت أحب أن أقوله إلا وقد قاله يومئذ غير هذه الكلمة، فواللَّه لأن أُقتل ثم أحيا (ثم أقتل ثم أحيا) (٣٤) في غير معصية أحب إلي من أن أكون أميرا على قوم فيهم أبو بكر. قال: ثم قلت: يا معشر الأنصار! يا معشر المسلمين! إن أولى الناس بأمر رسول اللَّه ﷺ-من بعده ثاني اثنين إذ هما في الغار، أبو بكر السباق (المتين) (٣٥)، ثم أخذت بيده وبادرني (رجل من الأنصار) (٣٦) فضرب على (يده) (٣٧) قبل أن أضرب على يده، (ثم ضربت) (٣٨) على يده، [(وتتابع) (٣٩) الناس. وميل على سعد بن عبادة فقال: الناس] (٤٠) قتل سعد، فقلت: (اقتلوه) (٤١) قتله اللَّه، ثم انصرفنا وقد جمع اللَّه أمر المسلمين بأبي بكر، (فكانت) (٤٢) (لَعَمْرُ) (٤٣) اللَّه (فلتة) (٤٤) كما (قلتم) (٤٥) أعطى اللَّه خيرها ووقى شرها، فمن دعا إلى مثلها فهو ⦗١٤٣⦘ (الذي) (٤٦) لا بيعة له ولا لمن بايعه (٤٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں عبد الرحمان بن عوف کے پاس آتا جاتا رہتا تھا اور (اس وقت) ہم حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ مقام منیٰ میں تھے۔ میں عبد الرحمان بن عوف کو قرآن پڑھا تا تھا پس میں ان کے پاس منزل میں آیا تو میں نے انہیں نہیں پایا۔ کہا گیا کہ وہ امیر المؤمنین کے پاس ہیں۔ چناچہ میں ان کا انتظار کرنے لگا یہاں تک کہ وہ آگئے اور انہوں نے بتایا۔ آج حضرت عمر کو اتنا شدید غصہ آیا تھا کہ اس سے پہلے کبھی ان کو اتنا غصہ نہیں آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے پوچھا : یہ کیوں ؟ عبد الرحمن بن عوف نے جوا ب دیا۔ حضرت عمر کو یہ بات پہنچی کہ انصار میں سے دو آدمیوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت کا ذکر کیا تو پھر ان دونوں نے کہا۔ بخدا ! ان کی بیعت تو اچانک ہوگئی تھی۔ وہ اس کے ہاتھ پر مارتا پھر جو ہوتا سو ہوتا۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عمر نے لوگوں سے گفتگو کرنے کا ارادہ کیا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ اے امیر المؤمنین ! آپ (ابھی) گفتگو نہ کریں کیونکہ آپ (اس وقت) ایسے شہر میں ہیں کہ آپ کے پاس تمام عرب کے دور دراز غیر معروف علاقوں کے لوگ جمع ہیں۔ اور آپ اگر (اب) کوئی بھی بات کریں گے تو وہ آپ سے منسوب ہو کر تمام زمین میں پھیل جائے گی۔ پھر آپ کو نہیں معلوم کہ کیا ہوگا۔ آپ کے مطلب کے لوگ تو وہی ہیں جن کو آپ جانتے ہیں کہ وہ مدینہ واپس جائیں گے۔ ٢۔ پھر جب ہم مدینہ میں آئے تو میں سویرے سویرے چلا گیا یہاں تک کہ میں نے منبر کے دائیں پائے (کے ساتھ جگہ) پکڑ لی۔ پھر حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل بھی میری طرف آئے یہاں تک کہ وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ گئے ۔ میں نے (ان سے) کہا۔ آج کے دن حضرت عمر ایسی گفتگو کریں گے کہ ویسی گفتگو انہوں نے خلیفہ بننے کے بعد سے کبھی نہیں کی۔ سعید نے پوچھا۔ وہ کیسی بات کریں گے ؟ میں نے جواب دیا، ابھی تم وہ بات سُن لو گے۔ ٍ ٣۔ راوی کہتے ہیں : پھر جب لوگ جمع ہوگئے تو حضرت عمر باہر تشریف لائے یہاں تک کہ آپ منبر پر بیٹھ گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی پھر آپ نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھا۔ پھر آپ نے فرمایا : یقینا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہمارے درمیان باقی رکھا ان پر اللہ کی جانب سے وحی نازل ہوتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ذریعہ حلال و حرام بیان کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو (کی روح کو) قبض کرلیا پس جو کچھ ان کے ہمراہ اللہ نے اٹھانا چاہا وہ اٹھا لیا ۔ اور جس کو اللہ نے باقی رکھنا چاہا تھا اس کو باقی رکھا۔ چناچہ بعض باتوں کے ساتھ تو ہم وابستہ رہے اور بعض باتیں ہم سے فوت ہوگئیں۔ پس ہم قرآن میں سے جو کچھ پڑھتے تھے اس میں یہ بھی تھا۔ ولا ترغبوا عن آباء کم فانہ کفر بکم ان ترغبوا عن آباء کم۔ اور رجم کی آیت بھی نازل ہوئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجم بھی کیا تھا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ رجم کیا تھا۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے ! بلاشبہ میں نے (خود) اس آیت کو یا د کیا تھا اور اس کو سمجھا تھا اور معلوم کیا تھا۔ اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ کہا جائے گا۔ عمر نے قرآن میں اس بات کو لکھا جو اس میں سے نہیں ہے تو البتہ میں اس آیت رجم کو اپنے ہاتھوں سے لکھتا۔ رجم کی تین حالات ہیں ۔ واضح حمل ہو۔ یا زانی کی طرف سے اقرار ہو یا عادل گواہ ہوں۔ جیسا کہ حکم خداوندی ہے۔ ٤۔ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ کچھ لوگوں نے حضرت ابوبکر کی خلافت کے بارے میں یہ بات کہی ہے کہ یہ تو اچانک ہوگئی تھی۔ میری عمر کی قسم ! اگر چہ بات ایسی ہی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی خلافت کی خیر و برکت عطا فرمائی اور اس کے شر سے محفوظ فرما لیا۔ تم میں سے کون سا آدمی ہے جس کے لئے (لوگوں کی) گردنیں یوں خم ہوجائیں جیسا کہ حضرت ابوبکر کے لئے خم ہوگئیں تھیں۔ ٥۔ یقینا لوگوں کا معاملہ کچھ ایسا تھا کہ (جب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تو ہمارے پاس معاملہ لایا گیا اور ہمیں کہا گیا۔ انصار، سعد بن عبادہ کے پاس بنو ساعدہ میں جمع ہیں اور سعد کی بیعت کر رہے ہیں۔ چناچہ میں، حضرت ابوبکر ، حضرت ابو عبیدہ بن جرا ح ان کی طرف پریشانی کے عالم میں اٹھ کھڑے ہوئے کہ (مبادا) وہ اسلام میں کوئی دراڑ پیدا کردیں۔ پس ہمیں انصار ہی میں سے دو سچے آدمی ملے ۔ عویم بن ساعدہ اور معن بن عدی۔ انہوں نے پوچھا : تم کہاں جا رہے ہو ؟ ہم نے کہا : تمہاری قوم کے پاس، کیونکہ ہمیں ان کے بارے میں کوئی بات پہنچی ہے۔ ان دونوں نے کہا۔ واپس چلے جاؤ کیونکہ تمہاری مخالفت نہیں کی جائے گی اور ایسی چیز نہیں لائی جائے گی جس کو تم ناپسند کرو۔ لیکن ہم نے آگے جانے پر ہی اصرار کیا۔ اور میں (عمر ) وہ کلام تیار کر رہا تھا جس کے ب
حدیث نمبر: 39826
٣٩٨٢٦ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن زر عن عبد اللَّه قال: لما قبض رسول اللَّه ﷺ قالت الأنصار: منا أمير ومنكم أمير، قال: فأتاهم عمر فقال: يا (معاشر) (١) الأنصار! ألستم تعلمون أن رسول اللَّه ﷺ أمر أبا بكر أن (يصلي) (٢) بالناس؟ قالوا: بلى، قال: فأيكم تطيب نفسه أن يتقدم أبا بكر، (قالوا) (٣): نعوذ باللَّه أن نتقدم أبا بكر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی روح مبارکہ) قبض ہوئی تو انصار نے کہا۔ ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر تم (مہاجرین) میں سے ہوگا۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر ان کے پاس آئے اور فرمایا : اے گروہانِ انصار ! کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ؟ انصار نے کہا۔ کیوں نہیں ! حضرت عمر نے کہا۔ پھر تم میں سے کس کا دل اس بات پر خوش ہے کہ وہ ابوبکر سے آگے بڑھے۔ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ سے اس بات کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم ابوبکر سے آگے بڑھیں۔
حدیث نمبر: 39827
٣٩٨٢٧ - حدثنا محمد بن بشر (حدثنا) (١) عبيد اللَّه بن عمر (حدثنا) (٢) زيد بن أسلم عن أبيه أسلم أنه حين بويع لأبي بكر بعد رسول اللَّه ﷺ كان علي والزبير (يدخلان) (٣) على فاطمة بنت رسول اللَّه ﷺ فيشاورونها ويرتجعون في أمرهم، فلما بلغ ذلك عمر بن الخطاب خرج حتى دخل على فاطمة فقال: يا بنت رسول اللَّه ﷺ (٤) واللَّه ما من (الخلق) (٥) (أحد) (٦) أحب إلينا من أبيك، وما من أحد ⦗١٤٤⦘ (أحب) (٧) إلينا بعد أبيك منك، وأيم اللَّه ما ذاك (بمانعي) (٨) أن أجتمع هؤلاء النفر عندك؛ أن أمرتهم أن يحرق عليهم (البيت) (٩)، قال: فلما خرج عمر جاؤوها (فقالت) (١٠): تعلمون أن عمر قد جاءني وقد حلف (باللَّه) (١١) لئن عدتم ليحرقن عليكم البيت، وأيم اللَّه (ليمضين) (١٢) لما حلف عليه، فانصرفوا راشدين، فرءوا رأيكم ولا ترجعوا إليَّ، فانصرفوا عنها (فلم) (١٣) (يرجعوا) (١٤) إليها حتى بايعوا لأبي بكر (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی وفات) کے بعد جب حضرت ابوبکر کی بیعت کی گئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ کے ہاں آنے جانے لگے اور ان سے مشاورت کرنے لگے اور اپنے معاملہ (خلافت) میں ان سے تقاضا کرنے لگے۔ پس جب یہ بات حضرت عمر بن خطاب کو پہنچی تو آپ نکل کھڑے ہوئے یہاں تک کہ آپ حضرت فاطمہ کے ہاں داخل ہوئے اور فرمایا : اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی ! خدا کی قسم ! تمام مخلوق میں ہمیں تمہارے والد سے زیادہ کوئی محبوب نہیں ۔ اور آپ کے بعد والد کے بعد ہمیں آپ سے زیادہ کوئی محبوب نہیں۔ خدا کی قسم ! (لیکن) اگر یہ آپ کے پاس (دوبارہ) جمع ہوئے تو مجھے یہ (محبت والی) بات اس سے مانع نہیں ہوگی کہ میں لوگوں کو حکم دوں اور ان تمام (گھر میں موجود) افراد پر گھر کو جلا دیا جائے۔ راوی کہتے ہیں : پس جب حضرت عمر باہر چلے گئے تو یہ حضرات بی بی فاطمہ کے پاس آئے۔ حضرت فاطمہ نے فرمایا : تمہیں معلوم ہے کہ حضرت عمر میرے پاس آئے تھے۔ اور انہوں نے خدا کی قسم کھا کر کہا ہے کہ اگر تم لوگ دوبارہ جمع ہوئے تو وہ ضرور بالضرور تمہیں گھر میں جلا دیں گے۔ اور خدا کی قسم ! حضرت عمر نے جو کہا ہے وہ اس کو ضرور پورا کریں گے۔ پس تم لوگ اچھی حالت میں ہی واپس چلے جاؤ۔ اور اپنی رائے کو دیکھ لو۔ میری طرف واپس نہ آنا چناچہ لوگ وہاں سے واپس ہوگئے اور جب تک ان لوگوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت نہیں کی یہ (فاطمہ کے پاس) واپس نہیں آئے۔
حدیث نمبر: 39828
٣٩٨٢٨ - حدثنا ابن نمير عن هشام بن عروة عن أبيه أن أبا بكر وعمر لم (يشهدا) (١) دفن النبي ﷺ، (كانا) (٢) في الأنصار (فبويعا) (٣) قبل أن يرجعا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفن میں حاضر نہیں تھے۔ یہ دونوں انصار میں موجود تھے۔ پس ان کے واپس آنے سے پہلے ان کی بیعت ہوگئی ۔
حدیث نمبر: 39829
٣٩٨٢٩ - حدثنا ابن إدريس عن ابن عجلان عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: ⦗١٤٥⦘ دخل عمر على أبي بكر وهو آخذ بلسانه (ينضنضه) (١) فقال له عمر: اللَّه، اللَّه، يا خليفة رسول اللَّه (٢) وهو يقول: هاه، إن هذا (أوردني) (٣) الموارد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر ، حضرت ابوبکر کے پاس حاضر ہوئے تو (دیکھا کہ) حضرت ابوبکر اپنی زبان کو پکڑے ہوئے تھے اور اس کو ہلا رہے تھے۔ حضر ت عمر نے کہا۔ اے خلیفہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔ حضرت ابوبکر کہنے لگے۔ ہاں اسی زبان نے مجھے بہت سے گھاٹوں پر اتارا ہے۔
حدیث نمبر: 39830
٣٩٨٣٠ - حدثنا وكيع عن نافع بن عمر عن ابن أبي مليكة قال: قال رجل لأبي بكر: يا خليفة اللَّه، قال: لست بخليفة اللَّه، ولكني خليفة رسول اللَّه ﷺ، أنا راض بذلك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ اے خلیفۃ اللہ ! حضرت ابوبکر نے کہا۔ میں خلیفۃ اللہ نہیں ہوں۔ بلکہ میں خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں اور میں اس پر راضی ہوں۔
حدیث نمبر: 39831
٣٩٨٣١ - (١) (حدثنا) (٢) وكيع عن سفيان عن عبد الملك بن عمير عن مولى لربعي بن (حراش) (٣) عن ريعي عن حذيفة قال: كنا جلوسا عند النبي ﷺ فقال: " (إني) (٤) لا أدري ما قدر (بقائي) (٥) فيكم؟ فاقتدوا بالذين من بعدي -وأشار إلى أبي بكر وعمر- ⦗١٤٦⦘ واهتدوا بهدي عمار وما حدثكم ابن مسعود من شيء فصدقوه" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔” میں نہیں جانتا کہ میری تم میں رہنے کی مقدار کتنی باقی ہے۔ پس تم ان دونوں کی اقتداء کرنا جو میرے بعد (خلیفہ) ہوں گے۔ “ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی طرف اشارہ فرمایا : ” اور حضرت عمار کے طریقہ کے مطابق چلنا۔ اور جو حدیث تم کو ابن مسعود بیان کرے تو اس کی تصدیق کرو۔ “
حدیث نمبر: 39832
٣٩٨٣٢ - حدثنا وكيع عن سالم المرادي أبي العلاء عن عمرو بن (مرة) (١) عن ربعي بن حراش وأبي عبد اللَّه رجل من أصحاب حذيفة عن حذيفة قال: كنا جلوسا عند النبي ﷺ فذكر مثل حديث عبد الملك بن عمير إلا أنه قالت: "تمسكوا بعهد ابن أم (عبد) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر (اس کے بعد) انہوں نے عبد الملک بن عمیر کی طرح ہی حدیث بیان کی … لیکن انہوں نے یہ بھی کہا۔ اور ابن ام عبد کے عہد کو مضبوطی سے پکڑو۔
حدیث نمبر: 39833
٣٩٨٣٣ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن محمد عن رجل من بني (زريق) (١) قال: لما كان ذلك اليوم خرج أبو بكر وعمر حتى (أتيا) (٢) الأنصار، فقال أبو بكر: يا معشر الأنصار إنا لا ننكر حقكم؛ ولا ينكر حقكم مؤمن، وإنا واللَّه ما أصبنا خيرا إلا ⦗١٤٧⦘ ما شاركتمونا فيه، ولكن لا ترضى العرب ولا تقر إلا على رجل من قريش لأنهم أفصح الناس ألسنة، وأحسن الناس وجوها، وأوسط العرب دارا، وأكثر الناس (شجنة) (٣) في العرب، فهلموا إلى عمر فبايعوه، قال: فقالوا: (لا) (٤)، فقال عمر: لم؟ فقالوا: نخاف الأثرة، قال عمر: أما ما عشت فلا، قال: فبايعوا أبا بكر، فقال أبو بكر لعمر: أنت أقوى مني، فقال عمر: أنت أفضل مني، فقالاها الثانية، فلما كانت الثالثة قال له عمر: إن قوتي (لك) (٥) مع فضلك، قال: فبايعوا أبا بكر (٦).
مولانا محمد اویس سرور
بنو زریق کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ جب یہ دن تھا تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نکلے یہاں تک کہ وہ انصار کے پاس آئے۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ اے گروہ انصار ! یقینا ہم تمہارے حق کے منکر نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی مؤمن تمہارے حق کا منکر ہوسکتا ہے۔ اور خدا کی قسم ! بلاشبہ ہم نے جو خیر بھی حاصل کی ہے تم اس میں ہمارے ساتھ شریک تھے۔ لیکن قریش کے آدمی کے علاوہ کسی اور آدمی پر اہل عرب راضی ہوں گے اور نہ قرار پکڑیں گے۔ کیونکہ قریش کے لوگ سب سے زیادہ فصیح اللسان ہیں اور تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت چہرے والے ہں ۔ اور اہل عرب میں سے سب سے وسیع گھر والے ہیں اور عرب کے لوگوں میں سب سے زیادہ باعزت ہیں۔ پس تم آؤ عمر کی طرف اور ان کی بیعت کرو۔ راوی کہتے ہیں : انصار نے کہا : نہیں ! حضرت عمر نے پوچھا : کیوں ؟ انصار نے جواب دیا ۔ ہمیں ترجیح دیے جانے کا اندیشہ ہے۔ حضرت عمر نے کہا۔ بہر حال جب تک میں زندہ ہوں تب تک تو (یہ) نہیں ہوگا۔ حضرت عمر نے کہا۔ چلو پھر حضرت ابوبکر کی بیعت کرلو۔ ٢۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر سے کہا۔ تم مجھ سے زیادہ قوی ہو۔ حضرت عمر نے (جواباً ) فرمایا : آپ مجھ سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں۔ پھر دوبارہ ان دونوں حضرات نے باہم ان جملوں کا تکرار کیا۔ پھر جب تیسری مرتبہ یہ بات ہوئی تو حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ یقینا میری قوت بھی آپ کے لئے ہے اور اس کے ساتھ آپ کو فضیلت بھی حاصل ہے۔ چناچہ لوگوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت کرلی۔ ٣۔ محمد کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کی بیعت کے وقت لوگ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا۔ تم لوگ میرے پاس آئے ہو حالانکہ تم میں تین میں سے تیسرا موجود ہے یعنی حضرت ابوبکر ۔ ٤۔ ابن عون کہتے ہیں : میں نے محمد سے پوچھا۔ تین میں سے تیسرا کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : ارشاد خداوندی ہے۔ { ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ }۔
حدیث نمبر: 39834
٣٩٨٣٤ - قال محمد: وأتى الناس عند بيعة أبي بكر أبا (عبيدة) (١) بن الجراح فقال: (أتأتوني) (٢) وفيكم ثالث ثلاثة -يعني أبا بكر، قال ابن عون: فقلت لمحمد: من ثالث ثلاثة؟ قال: قول اللَّه: ﴿ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ﴾ [التوبة: ٤٠] (٣).
حدیث نمبر: 39835
٣٩٨٣٥ - حدثنا جعفر بن عون عن أبي (العميس) (١) عن ابن أبي مليكة قال: سمعت (عائشة) (٢) وسئلت: يا أم المؤمنين (من كان) (٣) رسول اللَّه ﷺ (٤) ⦗١٤٨⦘ [يستخلف) (٥) (لو) (٦)] (٧) استخلف؟ قالت: أبو بكر، [قال: ثم قيل لها: (ثم) (٨) من] (٩) (١٠) قالت: (ثم) (١١) عمر، قيل: من بعد عمر؟ قالت: أبو عبيدة بن الجراح، (ثم انتهت إلى ذلك) (١٢) (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا اور (ان سے) سوال کیا گیا تھا۔ اے ام المؤمنین ! اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خلیفہ بناتے تو کس کو خلیفہ بناتے ؟ انہوں نے جواب دیا ۔ حضرت ابوبکر کو۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ سے پوچھا گیا۔ پھر ابوبکر کے بعد کس کو ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا۔ پھر عمر کو ۔ پوچھا گیا۔ حضرت عمر کے بعد کس کو ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا ۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہاں پہنچ کر رک گئیں۔
حدیث نمبر: 39836
٣٩٨٣٦ - حدثنا ابن نمير عن عبد الملك بن (سلع) (١) عن عبد خير قال: سمعت عليا يقول: قبض رسول اللَّه ﷺ على خير ما قبض عليه نبي من الأنبياء، (وأثنى عليه ﷺ) (٢)، قال: ثم استخلف أبو بكر فعمل بعمل رسول اللَّه ﷺ (٣) (وبسنته) (٤)، ثم قبض أبو بكر على خير ما قبض عليه أحد، وكان خير هذه الأمة بعد (نبيها) (٥) ﷺ (٦)، ثم استخلف عمر فعمل بعملهما وسنتهما ثم ⦗١٤٩⦘ قبض على خير ما قبض عليه أحد، وكان خير هذه الأمة بعد (نبيها) (٧) ﷺ (٨) وبعد أبي بكر (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد خیر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بہترین حالت میں موت آئی جس بہترین حالت پر انبیاء کرام کو موت آتی ہے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف بیان کی۔ (پھر) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنایا گیا پس انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق کام کیا۔ پھر حضرت ابوبکر کی موت بھی اس بہترین حالت میں آئی جس پر کسی آدمی کی بہترین موت آسکتی ہے۔ اور حضرت ابوبکر اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص تھے۔ پھر حضرت عمر کو خلیفہ بنایا گیا چناچہ انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر کے عمل اور سنت کے مطابق عمل کیا پھر ان کو بھی اس بہترین حالت میں موت آئی جس پر کسی بھی آدمی کو بہترین موت آسکتی ہے۔ اور حضرت عمر اس امت میں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے بعد سب سے بہترین شخص تھے۔
حدیث نمبر: 39837
٣٩٨٣٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان (بن) (١) حسين عن الزهري عن (عبيد اللَّه بن عبد اللَّه) (٢) بن عتبة قال: لما ارتد (من ارتد) (٣) على عهد أبي بكر (أراد) (٤) أبو بكر أن يجاهدهم، فقال عمر (له) (٥): (أتقاتلهم) (٦) وقد سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من شهد أن لا إله إلا اللَّه وأن محمدا رسول اللَّه حرم ماله ودمه إلا بحقه وحسابه على اللَّه)، فقال (له) (٧) أبو بكر: أنا لا أقاتل من فرق بين الصلاة والزكاة؟ واللَّه لأقاتلن من فرق بينهما حتى أجمعهما، قال عمر: فقاتلنا معه، فكان واللَّه رشدًا، فلما ظفر بمن ظفر (به) (٨) منهم (قال) (٩): اختاروا بين خطتين: إما حرب مجلية؛ وإما الخطة المخزية، قالوا: هذه الحرب المجلية قد عرفناها، فما الخطة المخزية؟ قال: تشهدون على قتلانا أنهم في الجنة وعلى قتلاكم أنهم في ⦗١٥٠⦘ النار ففعلوا (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر کے زمانہ میں مرتد ہونے والے لوگ مرتد ہوئے تو حضرت ابوبکر نے ان سے قتال کرنے کا ارادہ فرمایا۔ حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا ۔ کیا آپ ان سے قتال کریں گے حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے ہوئے سُنا ہے کہ : ” جو شخص گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں تو اس کا مال اور اس کا خون حرمت حاصل کرلیتا ہے مگر حق کے بدلے میں (حرمت ختم ہوسکتی ہے) اور اس کا (باطنی) حساب اللہ کے ذمہ ہے “ ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا۔ میں کیسے اس آدمی سے قتال نہ کروں جو نماز اور زکوۃ میں فرق کرتا ہے ؟ خدا کی قسم ! میں تو ضرور بالضرور اس آدمی سے قتال کروں گا جو ان دونوں میں فرق کرے گا یہاں تک کہ وہ ان دونوں کو جمع کرلے۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ پھر ہم نے حضرت ابوبکر کے ہمراہ قتال کیا۔ پس خدا کی قسم ! حضرت ابوبکر راہ حق پر سختی سے قائم رہنے والے تھے۔ پھر جب حضرت ابوبکر نے مرتدین میں سے کچھ لوگوں کو قابو کرلیا تو آپ نے فرمایا : تم دو لائحہ عمل میں سے کسی کو اختیار کرلو۔ یا تو ننگی جنگ ہے۔ اور یا رسوا کن لائحہ عمل ہے۔ انہوں نے کہا۔ یہ ننگی جنگ تم ہم جانتے ہیں لیکن رسواکن لائحہ عمل کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم ہمارے مقتولین کے بارے میں یہ گواہی دو کہ وہ جنت میں ہیں اور اپنے مقتولین کے بارے میں گواہی دو کہ وہ جہنم میں ہیں۔ چناچہ انہوں نے یہی کام کیا۔
حدیث نمبر: 39838
٣٩٨٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن عبد العزيز بن عبد اللَّه بن أبي سلمة عن عبد (الواحد) (١) بن أبي (عون) (٢) عن القاسم بن محمد عن عائشة أنها كانت تقول: توفي رسول اللَّه ﷺ فنزل بأبي بكر ما لو نزل بالجبال لهاضها، (اشرأب) (٣) (النفاق بالمدينة) (٤) وارتدت العرب، فو اللَّه ما اختلفوا في نقطة إلا طار (أبي) (٥) بحظها و (عنائها) (٦) في الإسلام، وكانت تقول مع هذا: ومن رأى عمر بن الخطاب عرف أنه (خلق غناء) (٧) للإسلام، كان واللَّه (أحوذيا) (٨) (نسيج) (٩) وحده قد أعد للأمور (أقرانها) (١٠) (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو حضرت ابوبکر پر ایسے مصائب اترے کہ اگر وہ مصائب کسی پہاڑ پر اترتے تو اس پہاڑ کو ریزہ ریزہ کردیتے۔ مدینہ میں نفاق پھیل گیا اور عرب کے (بہت) لوگ مرتد ہوگئے۔ پس خدا کی قسم ! لوگوں نے اسلام کے کسی حکم میں اختلاف نہیں کیا مگر یہ کہ حضرت ابوبکر اس کے تحفظ اور دفاع کے لئے دوڑ پڑے۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس کے ساتھ یہ بھی کہتی تھیں۔ اور جو شخص عمر بن خطاب کو دیکھتا تو جان لیتا کہ ا س کو اسلام سے نقصان دور کرنے کے لئے پیدا کا و گیا ہے۔ اور خدا کی قسم ! حضرت عمر تمام معاملات میں نہایت چاق و چوبند تھے بےمثال تھے ۔ اور انہوں نے معاملات کے لئے ان کے مناسب لوگوں کو تیار کیا۔