کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
حدیث نمبر: 39798
٣٩٧٩٨ - حدثنا ابن فضيل عن أبيه عن نافع عن ابن عمر قال: لما قبض رسول اللَّه ﷺ كان أبو بكر في ناحية المدينة، فجاء فدخل على رسول اللَّه ﷺ وهو مسجى، فوضع فاه على جبين رسول اللَّه ﷺ فجعل يقبله ويبكي ويقول: بأبي (١) وأمي (طبت) (٢) حيا و (طبت) (٣) ميتا، فلما خرج مر بعمر بن الخطاب وهو يقول: ما مات رسول اللَّه ﷺ (٤) ولا يموت حتى (يقتل) (٥) اللَّه المنافقين، (وحتى يخزي اللَّه المنافقين) (٦)، قال: وكانوا قد استبشروا بموت رسول اللَّه ﷺ، فرفعوا رؤوسهم، ⦗١٢٧⦘ فقال: أيها الرجل أربع على نفسك، فإن رسول اللَّه ﷺ (٧) قد مات، ألم تسمع اللَّه يقول: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ﴾ [الزمر: ٣٠] وقال (٨): ﴿(وَمَا) (٩) جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ﴾ [الأنبياء: ٣٤]، قال: ثم أتى المنبر فصعده فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: أيها الناس، إن كان (محمدٌ) (١٠) (١١) إلهكَم الذي تعبدون فإن (إلهكم) (١٢) (١٣) قد مات، وإن كان إلهكم الذي في السماء فإنّ إلهكم لم يمت، ثم تلا: ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ (الرُّسُلُ) (١٤) أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ﴾ [آل عمران: ١٤٤] حتى ختم الآية، ثم نزل (وقد استبشر المسلمون بذلك) (١٥) واشتد فرحهم، (وأخذت) (١٦) (المنافقين) (١٧) الكآبة قال عبد اللَّه بن (عمر) (١٨): فو الذي نفسي بيده لكأنما كانت على وجوهنا أغطية فكشفت (١٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مبارک قبض ہوئی تو (اس وقت) حضرت ابوبکر ، مدینہ کے گوشہ میں تھے پھر آپ تشریف لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھکا ہوا تھا۔ اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر اپنا منہ رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دے کر رونا شروع کردیا اور کہنے لگے۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ زندگی میں بھی خوشبودار تھے اور مر کر بھی خوشبودار ہیں۔ پھر جب حضرت ابوبکر (وہاں سے) نکلے تو ان کا گزر عمر بن خطاب سے ہوا۔ وہ کہہ رہے تھے۔ اللہ کے رسول کو موت نہیں آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موت نہیں آئے گی حتی کہ اللہ تعالیٰ منافقوں کو موت دے دے اور یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ منافقوں کو رسوا کر دے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت کی وجہ سے (منافقین نے) خوشی محسوس کی تھی چناچہ انہوں نے اپنے سر اٹھا لئے تھے۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ اے آدمی ! ٹھہرو (ذرا چپ کرو) کیونکہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں۔ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سُنا۔ {إِنَّک مَیِّتٌ ، وَإِنَّہُمْ مَیِّتُونَ } اور ارشاد خداوندی ہے۔ { وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ ، أَفَإِنْ مِتَّ فَہُمُ الْخَالِدُونَ }۔ پھر حضرت ابوبکر منبر کے پاس آئے اور اس پر چڑھ گئے۔ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا اے لوگو ! اگر تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے الہٰ تھے جس کی تم عبادت کرتے تھے تو یقین جانو کہ تمہارے الہٰ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں۔ اور اگر تمہارا الہٰ وہ ذات ہے جو آسمانوں میں ہے تو پھر یقین کرو کہ تمہارا الہٰ نہیں مرا۔ پھر حضرت ابوبکر نے یہ آیت تلاوت کی۔ { وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ، أَفَإِنْ مَاتَ ، أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ } ۔ یہاں تک کہ آپ نے یہ آیت مکمل فرما دی۔ پھر آپ نیچے تشریف لے آئے اور (اب) ان باتوں سے مسلمانوں نے خوشی محسوس کی اور یہ خوب خوش ہوئے اور منافقین کو مصیبت پڑگئی۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے۔ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ یوں لگتا تھا جیسا کہ ہمارے چہروں پر پردے تھے جو ہٹا دیئے گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39798
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البزار (١٠٣)، والبخاري في التاريخ ١/ ٢٠١، والذهبي في العلو (١٦٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39798، ترقيم محمد عوامة 38176)
حدیث نمبر: 39799
٣٩٧٩٩ - حدثنا عيسى بن يونس عن ابن جريج عن أبيه أنهم شكوا في قبر النبي ﷺ أين يدفنونه؟ فقال أبو بكر: سمعت النبي ﷺ يقول: "إن النبي لا يحول عن مكانه يدفن حيث يموت"، فنحوا فراشه فحفروا له موضع فراشه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کے متعلق تردد ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہاں دفن کریں ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سُنا تھا کہ ” نبی کو اس کی جگہ سے نہیں ہٹایا جاتا اور جہاں وہ فوت ہوتا ہے وہیں دفن کیا جاتا ہے “ چناچہ صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بستر ایک طرف کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر والی جگہ پر آپ کی قبر کھودی گئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39799
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39799، ترقيم محمد عوامة 38177)
حدیث نمبر: 39800
٣٩٨٠٠ - حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس (بن) (١) أبي حازم عن جرير قال: كنت باليمن فلقيت رجلين من أهل اليمن ذا كلاع وذا عمرو، فجعلت (أحدثهما) (٢) عن رسول اللَّه ﷺ (فقالا) (٣): إن كان حقًا ما تقول فقد مر صاحبك على أجله منذ ثلاث، فأقبلت وأقبلا معي حتى إذا كنا في بعض الطريق (رُفع) (٤) لنا ركب من قبل المدينة، فسألناهم فقالوا: قبض رسول اللَّه ﷺ واستخلف أبو بكر والناس صالحون، قال: فقالا لي: أخبر صاحبك أنا قد جئنا، ولعلنا سنعود إن شاء اللَّه، ورجعا إلى اليمن، (قال) (٥): فأخبرت أبا بكر بحديثهم، قال: أفلا جئت بهم! قال: فلما كان بعد قال لي ذو عمرو: يا جرير إن بك علي كرامة، وإني مخبرك خبرا، إنكم معشر العرب (لن) (٦) (تزالوا) (٧) (بخير) (٨) ما كنتم إذا هلك أمير ⦗١٢٩⦘ تأمرتم في آخر، فإذا (كانت) (٩) بالسيف كانوا ملوكا يغضبون غضب الملوك ويرضون رضى الملوك (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر سے روایت ہے کہ میں یمن میں تھا کہ مجھے اہل یمن میں سے دو آدمی ملے جن کے نام ذوکلاع اور ذو عمرو تھے۔ پس میں نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں بتانا شروع کیا تو ان دونوں نے کہا۔ جو کچھ تم کہہ رہے ہو اگر یہ سچ ہے تو پھر تمہارے یہ ساتھی ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تین دن پہلے اپنی مدت عمر گزار چکے ہیں۔ چناچہ میں بھی چلا اور وہ بھی چلے یہاں تک کہ جب ہم کچھ راستہ طے کرچکے تو مدینہ کی جانب سے ایک لشکر ہماری جانب آ رہا تھا تو ہم نے ان سے پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے ہیں اور حضرت ابوبکر کو خلیفہ مقرر کردیا گیا ہے۔ تمام لوگ نیکی کے پابند ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر ان دونوں نے مجھ سے کہا۔ آپ اپنے ساتھی (حضرت ابوبکر ) کو بتادینا کہ ہم آئے تھے۔ اور شاید کہ ہم واپس آئیں گے انشاء اللہ۔ اور (پھر) وہ دونوں یمن کی طرف چلے گئے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت ابوبکر کو ان کی بات بتائی تو انہوں نے فرمایا : تم انہیں لے کر کیوں نہ آئے۔ ! ! ! راوی کہتے ہیں : پھر اس کے بعد ذو عمرو نے مجھ سے کہا۔ اے جریر ! تمہیں مجھ پر ایک عزت و شرافت حاصل ہے اور میں تمہیں ایک بات بتایا ہوں ۔ تم اہل عرب ہمیشہ خیر کی حالت میں رہو گے۔ جب تک تمہاری کیفیت یہ ہوگی کہ جب (تمہارا) امیر فوت ہوجائے تو تم کسی اور کو امیر مان لو۔ لیکن جب تلوار آجائے گی تو پھر (تمہارے امیر) بادشاہ ہوں گے اور ان کے غصے بادشاہوں کے غصے ہوں گے اور ان کی رضا بادشاہوں کی رضا کی طرح ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39800
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عن طريق المؤلف: البخاري (٤٣٥٩)، وأحمد وابنه عبد اللَّه (١٩٢٤٤)، ويعقوب بن سفيان في المعرفة ٣/ ٢٩٠، وابن عساكر ١٧/ ٣٨٣، وابن البخاري في مشيخته ١/ ٣٦٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39800، ترقيم محمد عوامة 38178)
حدیث نمبر: 39801
٣٩٨٠١ - حدثنا جعفر بن عون عن ابن جريج عن عطاء قال: بلغنا أن رسول اللَّه ﷺ حين مات، قال: أقبل الناس يدخلون فيصلون عليه ثم يخرجون ويدخل آخرون كذلك، قال: قلت لعطاء: يصلون ويدعون، قال: يصلون ويستغفرون (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے روایت ہے فرماتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر (حجرہ میں) داخل ہوتے۔ آپ پر نماز پڑھتے اور نکل جاتے پھر اسی طرح اور لوگ اندر چلے جاتے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت عطاء سے پوچھا۔ وہ نماز پڑھتے تھے اور دعا مانگتے تھے ؟ عطاء نے کہا۔ نماز پڑھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39801
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عطاء تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39801، ترقيم محمد عوامة 38179)
حدیث نمبر: 39802
٣٩٨٠٢ - حدثنا حفص عن جعفر عن أبيه قال: لم يؤم على النبي ﷺ إمام وكانوا يدخلون أفواجا يصلون (١) ويخرجون (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی امام نے (نماز جنازہ کی) امامت نہیں کروائی۔ بلکہ لوگ جماعت جماعت کی شکل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر (حجر ہ میں) داخل ہوتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نماز جنازہ پڑھتے اور نکل آتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39802
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو جعفر ليس صحابيًا، أخرجه ابن سعد ٢/ ٢٩١، وابن الجوزي في المنتظم ٤/ ٤٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39802، ترقيم محمد عوامة 38180)
حدیث نمبر: 39803
٣٩٨٠٣ - حدثنا أبو أسامة عن سفيان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: لما قبض النبي ﷺ جعلت أم أيمن تبكي؛ فقيل لها: لم (تبكين) (١) يا أم أيمن؟ قالت: أبكي على خبر السماء انقطع عنا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مبارک قبض ہوئی تو ام ایمن نے رونا شروع کیا۔ ان سے کہا گیا۔ اے ام ایمن ! تم کیوں رو رہی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا۔ میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ آسمانی خبریں (اب) ہم پر منقطع ہوگئی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39803
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الطبراني ٢٥/ (٢٢٧)، وأبو نعيم في الحلية ٢/ ٦٨ وابن عساكر ٤/ ٣٠٣، وابن سعد ٨/ ٢٢٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39803، ترقيم محمد عوامة 38181)
حدیث نمبر: 39804
٣٩٨٠٤ - حدثنا أبو أسامة عن سليمان بن المغيرة عن ثابت (١) قال: لما قبض النبي ﷺ قال أبو بكر لعمر أو عمر لأبي بكر: انطلق بنا إلى أم أيمن نزورها، ⦗١٣٠⦘ (فانطلقا) (٢) إليها فجعلت تبكي، فقالا لها: يا أم أيمن! إن ما عند اللَّه خير لرسول اللَّه ﷺ (٣)، فقالت: قد علمت أن ما عند اللَّه خير لرسول اللَّه ﷺ (٤)، (ولكني) (٥) أبكي على خبر السماء، انقطع عنا، فهيجتهما على البكاء؛ فجعلا يبكيان معها (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تو حضرت ابوبکر نے حضرت عمر سے کہا یا حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ ہمارے ساتھ ام ایمن کے پاس چلو تاکہ ہم ان کو دیکھیں۔ پس ہم ان کے پاس گئے تو وہ رونے لگیں۔ شیخین نے ام ایمن سے کہا۔ اے ام ایمن ! جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ہے وہ بہتر ہے۔ اس پر ام ایمن نے کہا۔ یقینا مجھے بھی اس بات کا علم ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے زیادہ بہتر ہے لیکن میں تو اس بات پر رو رہی ہوں کہ ہم سے آسمان کی خبریں منقطع ہوگئیں۔ پس ام ایمن نے حضرت ابوبکر و عمر کو بھی رونے پر ابھار دیا چناچہ وہ دونوں حضرات بھی ان کے ساتھ رونے لگے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39804
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ ثابت تابعي، وقد ورد متصلًا من حديث عمرو بن عاصم عن سليمان بن المغيرة عن ثابت عن أنس، أخرجه مسلم (٢٤٥٤)، وابن ماجه (١٦٣٥)، وأبو يعلى (٦٩)، والبخاري في التاريخ الأوسط (٢٤١)، والمروزي في مسند أبي بكر (٧٦)، وأبو نعيم في الحلية ٢/ ٦٨ والبيهقي ٧/ ٩٣، وابن عساكر ٤/ ٣٠٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39804، ترقيم محمد عوامة 38182)
حدیث نمبر: 39805
٣٩٨٠٥ - حدثنا حفص عن جعفر عن أبيه قال: خرجت صفية وقد قبض (النبي) (١) ﷺ وهي تلمع بثوبها -يعني تشير (به) (٢) - وهي تقول: قد كان بعدك (هنباء) (٣) و (هنبثة) (٤) … لو كنت شاهدها لم (تكثر) (٥) الخطب (٦)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فوت ہوگئے تو حضرت صفیہ باہر آئیں اور اپنے کپڑے سے اشارہ کرتی ہوئی فرما رہی تھیں۔ ” تحقیق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بہت سی باتیں اور شدید معاملات ہوں گے۔ اگر آپ ان کو دیکھتے تو مصائب کثیر نہ ہوتے۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39805
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو جعفر تابعي، وأخرجه الطبراني ٢٤/ (٨٠٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39805، ترقيم محمد عوامة 38183)
حدیث نمبر: 39806
٣٩٨٠٦ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب أن الذي ولي دفن رسول اللَّه ﷺ وإجنانه أربعة نفر دون الناس: علي ⦗١٣١⦘ (والعباس) (١) والفضل وصالح مولى (النبى) (٢) ﷺ لحدوا (له) (٣) ونصبوا عليه اللبن نصبا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ تمام لوگوں میں سے جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفن کرنا اور قبر میں اتارنا سونپا گیا تھا وہ چار لو گ تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت عباس ، حضرت فضل اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام صالح۔ چناچہ ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے لحد بنائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کچی اینٹیں نصب کیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39806
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي، وأخرجه مسدد كما في المطالب العالية (٤٣٢٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39806، ترقيم محمد عوامة 38184)
حدیث نمبر: 39807
٣٩٨٠٧ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن عامر قال: دخل قبر النبي ﷺ عليٌ والفضل وأسامة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت فضل اور حضرت اسامہ داخل ہوئے۔ حضرت شعبی کہتے ہیں۔ مجھے مرحب یا ابن ابی مرحب نے بیان کیا کہ حضرت عبد الرحمان بن عوف بھی ان کے ساتھ قبر میں داخل ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39807
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الشعبي تابعي، أخرجه ابن سعد ٢/ ٣٠٠، وأبو داود (٣٢٠٩)، والبيهقي ٤/ ٥٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39807، ترقيم محمد عوامة 38185)
حدیث نمبر: 39808
٣٩٨٠٨ - قال الشعبي: وحدثني مرحب أو ابن أبي مرحب أن عبد الرحمن بن عوف دخل معهم القبر (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39808
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو داود (٣٢٠٩)، وعبد الرزاق (٦٤٥٥)، والبخاري في التاريخ ٨/ ٥٦، وابن سعد ٢/ ٣٠٠، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٧٢٦)، وأبو يعلى (٢٣٦٧)، والدولابي ١/ ١٥٩، والطبراني ٢٠/ (٨٦٣٦)، والبيهقي ٤/ ٥٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39808، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 39809
٣٩٨٠٩ - حدثنا ابن إدريس عن (إسماعيل) (١) عن الشعبي قال: غسل النبي ﷺ عليٌ والفضل وأسامة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت فضل اور حضرت اسامہ نے غسل دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ مجھے ابن ابی مرحب نے بیان کیا کہ حضرت عبد الرحمان بن عوف بھی ان کے ساتھ قبر میں داخل ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت شعبی ارشاد فرماتے ہیں : متَ کے ولی اس کے اہل ہی ہوتے ہیں۔ ابو ادریس کی حدیث میں ابن ابی خالد کے حوالہ سے نقل ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے۔ میرے ماں ، باپ آپ پر قربان ہوں آپ زندگی میں بھی خوشبو دار تھے اور موت کے بعد بھی خوشبودار ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39809
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الشعبي تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39809، ترقيم محمد عوامة 38186)
حدیث نمبر: 39810
٣٩٨١٠ - قال: وحدثني ابن أبي مرحب أن عبد الرحمن بن عوف دخل معهم القبر (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39810
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وانظر: ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39810، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 39811
٣٩٨١١ - قال: وقال الشعبي: من يلي الميت إلا أهله.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39811
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39811، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 39812
٣٩٨١٢ - وفي حديث ابن إدريس عن (ابن) (١) [أبي خالد وجعل علي يقول: بأبي وأمي (طبت) (٢) حيا وميتا (٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39812
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39812، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 39813
٣٩٨١٣ - حدثنا (١) ابن إدريس عن ابن جريج عن محمد بن علي قال: غسل النبي ﷺ في قميص، فولي علي سفلته، والفضل محتضنه، والعباس يصب الماء، قال: والفضل يقول: أرحني قطعت وتيني، إني لأجد شيئا ينزل علي، قال: وغسل من بئر سعد بن خيثمة بقباء، وهي البئر التي يقال لها: بئر (أريس) (٢) قال: وقد واللَّه شربت منها واغتسلت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک قمیص میں غسل دیا گیا تھا۔ چناچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قمیص کا نچلا حصہ سپرد ہوا اور حضرت فضل کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ سے بغل اور پہلو تک کا حصہ سپرد ہوا۔ حضرت عباس ، پانی بہا رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت فضل کہہ رہے تھے۔ میں محسوس کر رہاہوں کہ کوئی چیز مجھ پر اتر رہی ہے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقام قباء میں واقع سعد بن خیثمہ کے کنویں سے غسل دیا گیا تھا۔ “ یہ وہی کنواں ہے جس کو بیرا ریس کہا جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ خدا کی قسم ! میں نے (خود بھی) اس کنویں سے پانی پیا ہے اور غسل بھی کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39813
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ محمد بن علي الباقر تابعي، وأخرجه عبد الرزاق (٦٠٧٧)، وابن سعد ٢/ ٢٨٠، وابن شبه في تاريخ المدينة (٤٧٧)، والبيهقي ٣/ ٣٩٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39813، ترقيم محمد عوامة 38187)
حدیث نمبر: 39814
٣٩٨١٤ - حدثنا عبد الأعلى وابن مبارك عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب أن عليا التمس من النبي ﷺ (١) -كرمه اللَّه- ما يلتمس من الميت، فلم يجد شيئا فقال: بأبي وأمي (طبت) (٢) حيا و (طبت) (٣) ميتا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ کچھ تلاش کرنا چاہا جو کچھ میت سے تلاش کیا جاتا ہے لیکن انہوں نے کچھ بھی نہ پایا تو کہنے لگے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ زندگی میں بھی خوشبودار تھے اور موت کے بعد بھی خوشبو دار ہں ا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39814
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي، أخرجه عبد الرزاق (٦٠٩٤)، وابن سعد ٢/ ٢٨٠، وأبو داود في المراسيل (٤١٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39814، ترقيم محمد عوامة 38188)
حدیث نمبر: 39815
٣٩٨١٥ - حدثنا يحيى بن سعيد عن جعفر عن أبيه قال: لما أرادوا أن ⦗١٣٣⦘ (يغسلوا) (١) النبي ﷺ كان عليه قميص، فأرادوا أن ينزعوه، فسمعوا نداء من البيت (أن) (٢) لا تنزعوا القميص (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم مبارک پر قمیص تھی۔ انہوں نے اس قمیص کو اتارنا چاہا تو انہوں نے کمرہ میں سے ایک آواز سنی ۔ قمیص نہ اتارو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39815
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو جعفر محمد بن علي تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39815، ترقيم محمد عوامة 38189)
حدیث نمبر: 39816
٣٩٨١٦ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن موسى بن أبي عائشة عن (عبيد اللَّه) (١) بن عبد اللَّه بن عتبة عن عائشة وابن عباس أن أبا بكر قبل النبي ﷺ بعد ما مات (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد چوما تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39816
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٤٥٥) من طريق المؤلف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39816، ترقيم محمد عوامة 38190)
حدیث نمبر: 39817
٣٩٨١٧ - حدثنا عبد العزيز بن أبان (عن سفيان) (١) عن معمر عن الزهري عن أنس (قال) (٢): لما قبض (رسول) (٣) اللَّه ﷺ بكى الناس، فقام عمر في المسجد خطيبًا، فقال: لا أسمع أحدا يزعم أن محمدًا قد مات، ولكن أرسل إليه ربُّه كما أرسل إلى موسى ربه، فقد أرسل اللَّه إلى موسى فلبث عن قومه أربعين ليلة، واللَّه إني لأرجو أن تقطع أيدي رجال وأرجلهم يزعمون أنه مات (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو لوگ رونے لگے۔ اس پر حضرت عمر مسجد میں خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا : میں کسی آدمی کے بارے میں نہ سنوں کہ اس کا یہ گمان ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے ہیں۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ان کے پروردگار نے ایسی ہی حالت بھیجی ہے جیسا کہ موسیٰ کی طرف ان کے پروردگار نے بھیجی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی طرف پیغام بھیجا تھا تو وہ اپنی قوم سے چالیس دن تک (دور) ٹھہرے رہے۔ خدا کی قسم ! مجھے تو اس بات کی پختہ امید ہے کہ ایسے لوگوں کے ہاتھ ، پاؤں کٹ جائیں گے جن کا یہ خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر موت واقع ہوگئی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39817
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ عبد العزيز بن أبان متروك، والحديث أخرجه البخاري (٣٦٥٤)، وابن ماجه (١٦٢٧)، وابن حبان (٦٨٧٥)، وأحمد ٣/ ١٩٦ (١٣٠٥١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39817، ترقيم محمد عوامة 38191)
حدیث نمبر: 39818
٣٩٨١٨ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن (أنيس) (١) بن أبي يحيى عن أبيه عن أبي سعيد الخدري قال: خرج علينا رسول اللَّه ﷺ يومًا ونحن في المسجد وهو عاصب ⦗١٣٤⦘ رأسه بخرقة في المرض الذي مات فيه، فأهوى قبل المنبر حتى استوى عليه فاتبعناه، (فقال) (٢): "والذي نفسي بيده إني لقائم على (الحوض) (٣) الساعة"، وقال: "إن عبدًا عرضت عليه الدنيا وزينتها فاختار الآخرة"، فلم يفطن (لها) (٤) أحد إلا أبو بكر، (فذرفت) (٥) عيناه فبكى (وقال) (٦): بأبي (٧) وأمي بل (نفديك) (٨) بآبائنا وأمهاتنا (وأنفسنا) (٩) وأموالنا، قال: (ثم هبط فما قام عليه حتى) (١٠) الساعة ﷺ (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس (حجرہ مبارک سے) باہر تشریف لائے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں اپنے سر مبارک کو ایک پٹی سے باندھا ہوا تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر کی جانب بڑھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوگئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! بلاشبہ میں اس وقت حوض کوثر پر کھڑا ہوں “۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک ایک بندے پر دنیا اور اس کی زینت کو پیش کیا گیا لیکن اس نے آخرت کو پسند کیا “۔ یہ بات حضرت ابوبکر کے سوا کوئی اور آدمی نہیں سمجھ سکا۔ چناچہ ان کی آنکھیں بہہ پڑیں اور وہ رونے لگے۔ اور حضرت ابوبکر نے کہا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ بلکہ ہم تو آپ پر اپنے آبائ، امہات، جانیں اور اموال بھی فدا کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے تشریف لے آئے۔ پھر (اس کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر (موت تک دوبارہ) تشریف فرما نہیں ہوئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39818
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو يحيى صدوق، أخرجه أحمد (١١٨٨٢)، وابن حبان (٦٥٩٣)، والحاكم ٤/ ٢٨٢، وابن سعد ٢/ ٢٣٠، وعبد بن حميد (٩٦٤)، وأبو يعلى (١١٥٥)، وابن عساكر ٣٠/ ٢٤٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39818، ترقيم محمد عوامة 38192)
حدیث نمبر: 39819
٣٩٨١٩ - حدثنا حاتم عن جعفر عن أبيه قال: لما ثقل النبي ﷺ قال: "أين أكون غدا؟ " قالوا: عند فلانة، قال: "أين أكون بعد غد؟ " قالوا: عند فلانة، فعرفن أزواجه أنه إنما يزيد عائشة، فقلن: يا رسول اللَّه قد وهبنا أيامنا لأختنا عائشة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہں ج کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” میں کل کہاں ہوں گا۔ ؟ “ لوگوں نے کہا : فلانی زوجہ کے ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دوبارہ) پوچھا۔ میں اس کے بعد کہاں ہوں گا ؟ “ لوگوں نے کہا ۔ فلانی زوجہ کے پاس۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات نے معلوم کرلیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہے ۔ تو تمام ازواج نے کہا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم نے اپنی باریاں اپنی بہن عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہدیہ کردی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39819
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو جعفر محمد بن علي الباقر تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39819، ترقيم محمد عوامة 38193)
حدیث نمبر: 39820
٣٩٨٢٠ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن موسى بن أبي عائشة قال: ⦗١٣٥⦘ حدثني (عبيد اللَّه) (١) بن عبد اللَّه بن عتبة قال: أتيت عائشة فقلت: حدثيني عن مرض رسول اللَّه ﷺ (٢)، قالت: نعم، مرض رسول اللَّه ﷺ فثقل فأغمي عليه (٣) (فأفاق) (٤) (فقال) (٥): "ضعوا لي ماء في المخضب"، ففعلنا، قالت: فاغتسل (فذهب) (٦) (لينوء) (٧)، فأغمي عليه، (قالت) (٨): (ثم أفاق) (٩) فقال: "ضعوا لي ماء في المخضب (١٠) "، ففعلنا، قالت: فاغتسل (ثم ذهب) (١١) لينوء، فأغمي عليه، [(قالت) (١٢): ثم أفاق] (١٣) فقال: ["ضعوا لي ماء في المخضب"، قالت: (قلت: قد) (١٤) (فعلنا) (١٥)، قالت: فاغتسل ثم ذهب لينوء فأغمي عليه، ثم أفاق، فقال] (١٦): "أصلى الناس بعد؟ " فقلنا: لا يا رسول اللَّه هم ينتظرونك، قالت: ⦗١٣٦⦘ والناس عكوف ينتظرون رسول اللَّه ﷺ ليصلي بهم عشاء الآخرة، قالت: فاغتسل (رسول اللَّه ﷺ) (١٧)، ثم ذهب لينوء فأغمي عليه ثم أفاق فقال: "أصلى الناس بعد؟ " قلت: لا، فأرسل رسول اللَّه ﷺ إلى أبي بكر أن يصلي بالناس، قالت: فأتاه الرسول فقال (١٨): إن رسول اللَّه ﷺ (١٩) يأمرك أن تصلي بالناس، فقال: يا عمر صل بالناس، (قال) (٢٠): فقال: أنت أحق، إنما أرسل إليك رسول اللَّه ﷺ، قالت: فصلى بهم أبو بكر تلك (الأيام) (٢١)، ثم إن رسول اللَّه ﷺ (٢٢) وجد خفة من نفسه، فخرج لصلاة الظهر بين العباس ورجل آخر، فقال لهما: "أجلساني (عن يمينه) (٢٣) "، فلما سمع أبو بكر حسه ذهب يتأخر، فأمره أن يثبت مكانه، قالت: فأجلساه عن يمينه، فكان أبو بكر يصلي بصلاة رسول اللَّه ﷺ وهو جالس، والناس يصلون بصلاة أبي بكر (٢٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا۔ آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض کے بارے میں بیان کریں ۔ انہوں نے کہا : ہاں (بیان کرتا ہوں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہوگئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” میرے واسطے لگن میں پانی رکھ دو ۔ “ چناچہ ہم نے یہ حکم پورا کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھنے لگے تھے کہ آپ پر غشی طاری ہوگئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” میرے واسطے لگن میں پانی رکھ دو “۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ ہم نے یہ حکم پورا کردیا۔ فرماتی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل فرمایا اور اٹھنے لگے تھے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہوگئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ۔ ” کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔ ؟ “ ہم نے عرض کیا۔ نہیں ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! لوگ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کررہے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ لوگ خوب جھک کر (متوجہ ہو کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائیں۔ ٢۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھنا چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہوگئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔ ؟ “ میں نے عرض کیا : نہیں ! چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ حضرت ابوبکر کے پاس قاصدآیا اور آ کر کہا۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ اے عمر ! لوگوں کو نماز پڑھاؤ۔ حضرت عمر نے کہا۔ آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ ہی کی طر ف قاصد بھیجا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ۔ چناچہ حضرت ابوبکر نے ان دنوں میں لوگوں کو نمازیں پڑھائیں۔ ٣۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نفس میں ہلکا پن محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عباس اور ایک اور آدمی کے درمیان نماز ظہر کے لئے باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا۔ مجھے ابوبکر کے دائیں طرف بٹھا دو ۔ پس جب حضرت ابوبکر نے یہ بات سنی تو انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محسوس ہوئے وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنی جگہ پر ہی رہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ چناچہ ان دونوں صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت ابوبکر کے دائیں جانب بٹھا دیا۔ پس حضرت ابوبکر ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (اقتداء میں) نماز پڑھنے لگے اور باقی لوگ حضرت ابوبکر (کی اقتداء میں) نماز پڑھنے لگے۔ ٤۔ روای کہتے ہیں : پھر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ کیا میں آپ پر وہ حدیث پیش نہ کروں جو مجھ سے امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کی ہے ؟ انہوں نے کہا۔ لاؤ۔ پس میں نے یہ حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما پر پیش کی تو انہوں نے اس میں سے کسی بات کا انکار نہ کیا مگر انہوں نے یہ کہا۔ کیا انہوں نے تمہیں بتایا کہ دوسرا آدمی کون تھا ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ نیں و ! انہوں نے فرمایا : یہ دوسرا آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39820
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨٧)، ومسلم (٤١٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39820، ترقيم محمد عوامة 38194)
حدیث نمبر: 39821
٣٩٨٢١ - قال: فأتيت ابن عباس فقلت: ألا أعرض عليك ما حدثتني عائشة؟ قال: هات، فعرضت عليه هذا، فلم ينكر منه شيئا إلا أنه قال: أخبرتك من الرجل الآخر؟ قال: (قلت) (١): لا، فقال: هو عليٌّ ﵀ (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39821
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٩٥)، ومسلم (٤١٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39821، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 39822
٣٩٨٢٢ - حدثنا عفان (حدثنا) (١) وهيب (٢) (حدثنا) (٣) داود عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال: لما توفي رسول اللَّه ﷺ (٤) قام خطباء الأنصار، فجعل الرجل منهم يقول: يا معشر المهاجرين! إن رسول اللَّه ﷺ كان إذا استعمل رجلا منكم قرن معه رجلا منا، فنرى أن (يلي) (٥) هذا الأمر رجلان أحدهما منكم والآخر منا، قال: (فتتابعت) (٦) خطباء الأنصار على ذلك، فقام زيد بن ثابت فقال: إن رسول اللَّه ﷺ (٧) كان من المهاجرين (٨)، ونحن أنصاره كما كنا أنصار رسول اللَّه ﷺ (٩)، فقام أبو بكر فقال: جزاكم اللَّه خيرا يا معشر الأنصار وثبت قائلكم، ثم قال: واللَّه لو فعلتم غير ذلك لما صالحتكم (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو انصار کے خطیب اٹھ کھڑے ہوئے اور ان میں سے ایک نے کہنا شروع کیا۔ اے جماعت مہاجرین ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تم میں سے کسی کو عادل (امیر) مقرر کرتے تو اس کے ساتھ ہم میں سے بھی ایک آدمی کو ملا دیتے۔ پس ہماری رائے تو یہ ہے کہ یہ معاملہ (خلافت) بھی دو آدمیوں کو سونپ دیا جائے جن میں ایک تم سے ہو اور ایک ہم سے ہو۔ راوی کہتے ہیں : پس انصار کے بہت سے خطباء نے تسلسل سے یہ بات کہی ۔ تو اس پر حضرت زید بن ثابت کھڑے ہوئے اور فرمایا : یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہاجرین میں سے تھے۔ لہٰذا امام بھی مہاجرین میں سے ہوگا۔ اور اہم اس امام کے بھی اسی طرح مدد گار ہوں گے جس طرح ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مددگار تھے۔ پھر حضرت ابوبکر کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے جماعت انصار ! اللہ تعالیٰ تمہیں بہترین بدلہ دے اور تمہارے قائل کو ثابت قدم رکھے پھر آپ نے فرمایا : خدا کی قسم ! اگر تم اس کے علاوہ (فیصلہ) کرتے تو ہم آپ سے مصالحت نہ کرتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39822
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد ٥/ ١٨٥ (٢١٦٥٧)، وابن سعد ٣/ ٢١٢، والحاكم ٣/ ٨٦، والطبراني (٤٧٨٥)، والطيالسي (٦١٢)، والبيهقي ٨/ ١٤٣، وابن عساكر ١٩/ ٣١٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39822، ترقيم محمد عوامة 38195)
حدیث نمبر: 39823
٣٩٨٢٣ - حدثنا خالد بن مخلد (حدثنا) (١) سليمان بن بلال قال: حدثني عبد الرحمن بن حرملة قال: سمعت سعيد بن المسيب قال: لما توفي رسول اللَّه ﷺ وضع على سريره، فكان الناس يدخلون (عليه) (٢) زمرا (زمرا) (٣) يصلون ⦗١٣٨⦘ عليه ويخرجون ولم يؤمهم أحد، وتوفي يوم (الاثنين) (٤) ودفن يوم الثلاثاء ﷺ (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک تخت پر رکھ دیا گیا ۔ اور لوگ جماعت ، جماعت کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ میں داخل ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نماز پڑھتے اور باہر نکل آتے لیکن کوئی ان کی امامت نہ کرواتا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پیر کے روز ہوئی اور منگل کے روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دفنایا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39823
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي، أخرجه ابن سعد ٢/ ٢٨٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39823، ترقيم محمد عوامة 38196)