کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اہل نجران کے بارے میں ذکر ہونے والی احادیث اور جو کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ارادہ کیا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 39791
٣٩٧٩١ - حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي قال: لما أراد رسول اللَّه ﷺ أن يلاعن أهل نجران قبلوا الجزية أن يعطوها، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لقد أتاني البشير بهلكة أهل نجران لو تموا على الملاعنة حتى الطير على الشجر أو العصفور على الشجر"، ولما غدا إليهم رسول اللَّه ﷺ أخذ بيد حسن وحسين وكانت فاطمة تمشي خلفه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل نجران کے ساتھ مباہلہ کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جزیہ ادا کرنا قبول کرلیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تحقیق مجھے ایک بشارت دینے والے نے اہل نجران کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی اگر یہ لوگ مباہلہ میں مکمل شریک ہوجاتے حتیٰ کہ درختوں پر پرندے بھی … یا … فرمایا… درختوں پر چڑیا بھی۔ “ اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان اہل نجران کی طرف جا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن اور حسین کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور حضرت فاطمہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چل رہی تھیں۔
حدیث نمبر: 39792
٣٩٧٩٢ - حدثنا عفان (حدثنا) (١) عبد الواحد بن زياد (حدثنا) (٢) (مجالد) (٣) بن سعيد عن الشعبي قال: كتب رسول اللَّه ﷺ إلى أهل نجران وهم نصارى: "أن من (بايع) (٤) منكم بالربا فلا ذمة له" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل نجران کو تحریر فرمایا… یہ عیسائی لوگ ہیں … ” کہ تم میں سے جو سود پر خریدو فروخت کرے گا اس کا (ہم پر) کوئی ذمہ نہیں ۔ “
حدیث نمبر: 39793
٣٩٧٩٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد أن عمر أجلى أهل نجران اليهود والنصارى، واشترى بياض أرضهم وكرومهم، فعامل عمر الناس إن هم جاءوا بالبقر والحديد من عندهم (١) فلهم الثلثان ولعمر الثلث، وإن جاء عمر بالبذر من عنده (فله الشطر) (٢)، وعاملهم النخل على أن لهم الخمس ولعمر أربعة أخماس، وعاملهم الكرم على أن لهم الثلث ولعمر الثلثان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے اہل نجران … یہودو نصاریٰ … کو جلا وطن کیا اور ان کی زمینوں اور انگوروں کی بیلوں کو خرید لیا اور حضرت عمر نے (ان سے یہ) معاملہ کیا کہ اگر وہ بیل اور ہل کا سامان خود مہیا کریں تو ان کو (پیداوار کا) دو ثلث اور حضرت عمر کو ایک ثلث ملے گا اور اگر حضرت عمر بیج مہیا کریں تو ان کو نصف حصہ ملے گا۔ اور حضرت عمر نے ان کے ساتھ کھجوروں کا اس شرط پر معاملہ کیا کہ (پیداوار کا) ایک خمس ان کا ہوگا اور چار خمس حضرت عمر کے ہوں گے … اور انگوروں میں ان کے ساتھ اس شرط پر معاملہ کیا کہ ان کا حصہ ایک ثلث ہوگا اور حضرت عمر کا حصہ دو ثلث ہوں گے۔
حدیث نمبر: 39794
٣٩٧٩٤ - حدثنا وكيع حدثنا الأعمش عن سالم قال: كان أهل نجران قد بلغوا أربعين ألفًا، قال: وكان عمر يخافهم أن يميلوا على المسلمين فتحاسدوا بينهم، قال: فأتوا عمر، فقالوا: إنا قد تحاسدنا بيننا فأَجْلنا، قال: وكان رسول اللَّه ﷺ قد كتب لهم كتابا أن لا يجلوا، قال: فاغتنمها عمر فأجلاهم فندموا فأتوه، فقالوا: أقلنا، فأبى أن يقيلهم، فلما قدم علي أتوه فقالوا: إنا نسألك بخط يمينك وشفاعتك عند نبيك (١) ألا أقلتنا، فأبى وقال: ويحكم، إن عمر كان رشيد الأمر، قال سالم: ⦗١٢٥⦘ فكانوا يرون أن عليًا لو كان طاعنا على عمر في شيء من أمره طعن عليه في أهل نجران (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم سے روایت ہے کہ اہل نجران کی تعداد (جب) چالسد ہزار کو پہنچ گئی … راوی کہتے ہیں : حضرت عمر ان سے اس بات کا خوف کرتے تھے کہ یہ مسلمانوں پر حملہ آور ہوجائیں گے۔ تو (اتفاقاً ) ان میں باہم حسد پیدا ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں۔ یہ لوگ حضرت عمر کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔ ہم لوگوں میں باہم حسد پیدا ہوگیا ہے پس آپ ہمیں جلا وطن کردیں … راوی کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لئے ایک تحریر لکھ دی تھی کہ انہیں جلا وطن نہیں کیا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر نے اس کو غنیمت سمجھا اور ان کو جلا وطن فرما دیا۔ اس کے بعد اہل نجران کو ندامت ہوئی اور وہ آپ کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے ہم اپنی بات سے معذرت کرتے ہیں ۔ حضرت عمر نے ان کی معذرت قبول کرنے سے انکار فرما دیا۔ پھر جب حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے۔ ہم آپ سے آپ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر اور آپ کے نیو کی سفارش کے ذریعہ سوال کرتے ہیں کہ آپ ہماری معذرت قبول کرلیں۔ لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی انکار فرما دیا اور کہا۔ تم ہلاک ہو جاؤ۔ حضرت عمر تو ایک بصیرت والے شخص تھے۔ سالم راوی کہتے ہیں۔ اسلاف کی رائے یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہاگر حضرت عمر کی کسی بات پر معترض ہوتے تو وہ آپ کو اہل نجران کے بارے میں اعتراض دیتے۔
حدیث نمبر: 39795
٣٩٧٩٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا عن أبي إسحاق عن صلة بن زفر عن حذيفة قال: أتى النبيَ ﷺ أسقفا نجران: العاقب والسيد، فقالا: ابعث معنا رجلا أمينا حق أمين، حق أمين، فقال: "لأبعثن معكم رجلا حق أمين"، فاستشرف لها أصحاب محمد (١)، قال: "قم يا أبا عبيدة بن الجراح"، فأرسله معهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نجران کے دو راہب عاقب اور سید حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا۔ آپ ہمارے ساتھ خوب امانتدار شخص بھیج دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” میں ضرور بالضرور تمہارے ہمراہ ایک کامل امانتدار آدمی کو بھیجوں گا “ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اس معاملہ کا انتظار کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اے ا بو عبیدہ بن الجراح ! اٹھو “ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ان کے ہمراہ بھیج دیا۔
حدیث نمبر: 39796
٣٩٧٩٦ - حدثنا ابن إدريس عن أبيه عن سماك عن علقمة بن وائل عن المغيرة ابن شعبة قال: بعثني رسول اللَّه ﷺ إلى نجران فقالوا (لي) (١): إنكم (تقرأون) (٢): ﴿يَاأُخْتَ هَارُونَ﴾ [مريم: ١٢٨] وبين (موسى وعيسى) (٣) ما شاء اللَّه من السنين؟ فلم أدر ما (أجيبهم) (٤) به، حتى رجعت إلى النبي ﷺ (فسألته) (٥) فقال: "ألا أخبرتهم أنهم كانوا يسمون بأنبيائهم والصالحين من قبلهم" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نجران (والوں) کی طرف بھیجا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا۔ تم لوگ تو پڑھتے ہو { یَا أُخْتَ ہَارُونَ } حالانکہ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کے درمیان بہت زیادہ سالوں کا وقفہ ہے ؟ مجھے ان کے اس سوال کا جواب معلوم نہیں تھا۔ یہاں تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم نے انہیں یہ کیوں نہیں بتایا کہ وہ لوگ اپنے سے پہلے والے انبیاء اور صالحین کے ناموں کے مطابق نام رکھتے تھے “۔ ؟
حدیث نمبر: 39797
٣٩٧٩٧ - حدثنا (معتمر) (١) عن أبيه عن قتادة قال: قال رسول اللَّه ﷺ (لأسقف) (٢) نجران: "يا أبا الحارث أسلم"، فقال: إني مسلم، قال: "يا أبا الحارث أسلم"، قال: قد أسلمت قبلك، قال نبي اللَّه ﷺ (٣): "كذبت منعك من الإسلام ثلاثة: ادعاؤك للَّه ولدا، وأكللك الخنزير، وشربك الخمر" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجران کے اسقف سے فرمایا۔ ” اے ابو الحارث ! اسلام لے آؤ “ اس نے جواب دیا۔ میں تو مسلمان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دوبارہ) فرمایا۔ اے ابو الحارث ! اسلام لے آؤ “ اس نے (دوبارہ) جواب میں کہا۔ تحقیق میں آپ سے پہلے ہی اسلام لے آیا ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تو جھوٹ بولتا ہے۔ تجھے تین چیزوں نے اسلام سے روکا ہے۔ تمہارا خدا کے لئے بیٹے کا دعویٰ کرنا۔ تمہارا خنزیر کھانا ۔ تمہارا شراب پینا۔