کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: غزوہ تبوک کے بارے میں احادیث
حدیث نمبر: 39780
٣٩٧٨٠ - حدثنا عبد اللَّه بن المبارك عن معمر عن الزهري عن عبد الرحمن بن كعب (بن مالك) (١) عن أبيه قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا أراد غزوة (ورّى) (٢) بغيرها ⦗١١٠⦘ حتى كان غزوة تبوك، سافر رسول اللَّه ﷺ في حر شديد واستقبل سفرا بعيدا، فجلى للمسلمين عن أمرهم وأخبرهم بذلك ليتأهبوا أهبة (عدوهم) (٣) وأخبرهم بالوجه الذي يريد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمان بن کعب بن مالک، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی عادت یہ تھی کہ) جب کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو کسی دوسرے کے ساتھ توریہ فرما لیتے حتی کہ غزوہ تبوک پیش آیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبوک کا سفر سخت گرمی میں کیا اور اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دور جگہ جانا تھا۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو ان کے معاملہ (یعنی غزوہ) کے بارے میں وضاحت فرما دی اور انہیں اس کی خبر دے دی تاکہ لوگ دشمن کے سامان کی شایان شان تیاری کرلیں۔ اور جس طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ تھا وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو بتادیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39780
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٤٩)، ومسلم (٢٧٦٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39780، ترقيم محمد عوامة 38160)
حدیث نمبر: 39781
٣٩٧٨١ - حدثنا عفان (حدثنا) (١) وهيب (حدثنا) (٢) عمرو بن يحيى عن العباس ابن سهل بن سعد الساعدي عن أبي حميد الساعدي قال: خرجنا مع رسول اللَّه صلى اللَّه عليه أوسلم عام تبوك حتى (جئنا) (٣) وادي القرى، وإذا امرأة في حديقة لها، (فقال) (٤) رسول اللَّه ﷺ (٥): "اخرصوا"، (قال) (٦): (فخرص) (٧) القوم، (وخرص) (٨) رسول اللَّه ﷺ عشرة أوسق، وقال للمرأة: "أحصي ما يخرج منها حتى أرجع إليك إن شاء اللَّه". (قال) (٩): فخرج رسول اللَّه ﷺ حتى قدم تبوك، فقال: "إنها ستهب عليكم الليلة ريح شديدة، فلا يقومن (رجل فيها) (١٠)، فمن كان له بعير فليوثق عقاله"، قال: قال أبو حميد: فعقلناها، فلما كان من الليل هبت ريح شديدة، فقام ⦗١١١⦘ فيها رجل فألقته في (جبلي) (١١) طيء. ثم جاء رسول اللَّه ﷺ إلى ملك أيلة، فأهدى إلى رسول اللَّه ﷺ بغلة بيضاء، فكساه رسول اللَّه ﷺ بردا، (وكتب) (١٢) له رسول اللَّه ﷺ (١٣) ببحرهم، قال: ثم أقبل وأقبلنا معه حتى جئنا وادي القرى، فقال (للمرأة) (١٤): "كم حديقتك؟ " قالت: عشرة أوسق، خرص رسول اللَّه ﷺ. (قال) (١٥) (رسول اللَّه) (١٦) ﷺ (١٧): "إني متعجل فمن أحب منكم أن يتعجل فليفعل"، قال: فخرج رسول اللَّه ﷺ وخرجنا معه، حتى إذا (أوفى) (١٨) على المدينة قال: "هذه طابة"، فلما رأى أحدا قال: "هذا جبل يحبنا ونحبه" (١٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حمید ساعدی سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تبوک کے سال (غزوہ کے لئے) نکلے یہاں تک کہ جب ہم وادی قُریٰ میں پہنچے تو ایک عورت (کو ہم نے دیکھاجو) اپنے باغ میں کھڑی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا : ” (کھجوروں کا) اندازہ لگاؤ۔ “ راوی کہتے ہیں۔ لوگوں نے (کھجوروں کا) اندازہ لگایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی کھجوروں کا اندازہ لگایا اور دس وسق کا اندازہ ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت سے فرمایا : ” ان کھجوروں سے جتنی (زکوۃ) نکلتی ہے اس کا حساب کرلینا۔ میں ان شاء اللہ تمہارے پاس واپس آؤں گا۔ “ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (وہاں سے) نکلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک میں تشریف فرما ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ” آج کی رات تم پر شدید ہوا چلے گی۔ پس کوئی آدمی اس ہوا میں کھڑا نہ ہو۔ اور جس آدمی کے پاس اونٹ ہو وہ اس اونٹ کی رسی باندھ دے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابوحمید بیان کرتے ہں ز۔ ہم نے اونٹوں کو باندھ لیا۔ پس جب رات ہوئی تو خوب تیز ہوا چلی ۔ اور اس ہوا میں ایک آدمی کھڑا ہوا تو ہوا نے اس کو طَیْ کے دو پہاڑوں میں دے مارا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شاہ ایلہ حاضر ہوا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک سفید خچر ہدیہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ایک چادر عطا فرمائی اور اس کو ان کے سمندر کے بارے میں تحریر لکھ دی۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ آگے بڑھے یہاں تک کہ ہم وادی قُریٰ میں پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے پوچھا۔ تمہارے باغ (کی زکوۃ کتنی) ہے ؟ عورت نے جواب دیا۔ آپ کے اندازہ کے مطابق دس وسق ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” میں تو جلدی چلوں گا۔ تم میں سے جو آدمی جلدی چلنا چاہے وہ بھی (میرے ساتھ) چلے “ راوی کہتے ہیں : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نکلے یہاں تک کہ جب ہم مدینہ کے سامنے پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” یہ پاکیزہ جگہ ہے “ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احدپہاڑ کو دیکھا تو فرمایا ” یہ ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39781
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٤٨١)، ومسلم (١٣٩٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39781، ترقيم محمد عوامة 38161)
حدیث نمبر: 39782
٣٩٧٨٢ - حدثنا خالد بن مخلد (حدثنا) (١) عبد الرحمن بن عبد العزيز الأنصاري قال: حدثني ابن شهاب قال: حدثني عبد الرحمن بن عبد اللَّه بن كعب بن مالك (٢) عن أبيه كعب قال: إن رسول اللَّه ﷺ لما همّ ببني الأصفر أن (يغزوهم) (٣) (جلّى) (٤) ⦗١١٢⦘ للناس أمرهم؟ وكان قل ما أراد غزوة إلا ورّى عنها بغيرها، حتى كانت (تلك) (٥) الغزوة، فاستقبل حرا شديدا وسفرا (بعيدًا) (٦) وعدوا (حديدًا) (٧)، فكشف للناس الوجه الذي (خرج) (٨) بهم إليه ليتأهبوا أهبة (عدوهم) (٩). فتجهز رسول اللَّه ﷺ وتجهز الناس معه، (وطفقت) (١٠) أغدو لأتجهز فأرجع ولم أقض شيئًا؛ حتى فرغ الناس وقيل: إن رسول اللَّه ﷺ غادٍ وخارج إلى وجهه، فقلت: (أتجهز) (١١) بعده (بيوم) (١٢) أو (يومين) (١٣) ثم أدركهم، وعندي راحلتان، ما اجتمعت عندي راحلتان (قط قبلهما) (١٤) فأنا قادر في نفسي، قوي بعدتي. فما زلت أغدو بعده وأرجع ولم أقض شيئا حتى أمعن القوم وأسرعوا، وطفقت أغدو للحديث، (وشغلني) (١٥) (الرجال) (١٦)، فأجمعت القعود حتى سبقني القوم، وطفقت أغدو فلا أرى ((الأسي) (١٧)، لا أرى) (١٨) إلا رجلًا ممن عذر اللَّه أو رجلا مغموصًا عليه في النفاق، فيحزنني ذلك، فطفقت أعد العذر ⦗١١٣⦘ لرسول اللَّه ﷺ إذا (جاء) (١٩) وأهيئ الكلام. وقدّر (برسول) (٢٠) اللَّه ﷺ أن لا يذكرني حتى نزل تبوك، فقال في الناس بتبوك وهو جالس: "ما فعل كعب بن مالك؟ " فقام إليه رجل من قومي فقال: شغله برداه والنظر في عطفيه، (قال) (٢١): فتكلم رجل آخر فقال: واللَّه -يا رسول اللَّه- إن علمنا (٢٢) إلا خيرًا، (فصمت) (٢٣) رسول اللَّه ﷺ. فلما قيل: إن رسول اللَّه ﷺ (قد أظل) (٢٤) قادمًا (زاغ) (٢٥) عني الباطل وما كنت أجمع من الكذب والعذر، وعرفت أنه لن ينجيني منه إلا الصدق، فأجمعت صدقه. وصبح رسول اللَّه ﷺ المدينة فقدم، فغدوت إليه فإذا هو في الناس جالس في المسجد، وكان إذا قدم من سفر دخل المسجد [(فركع) (٢٦) فيه ركعتين، ثم دخل على أهله فوجدته جالسًا في المسجد] (٢٧)، فلما نظر إلي دعاني فقال: "هلمَ يا كعبَ ما خلفك عني؟ " وتبسم تبسم المغضب قال: قلت: يا رسول اللَّه لا عذر لي، ما كنت قط أقوى ولا أيسر مني حين تخلفت عنك، وقد (جاءه) (٢٨) المتخلفون يحلفون فيقبل منهم ويستغفر لهم ويكل سرائرهم في ذلك إلى اللَّه ﷿، فلما صدقته قال: "أما هذا فقد صدق، فقم حتى يقضى اللَّه فيك ما هو قاض". ⦗١١٤⦘ فقمت فقام إليَّ رجال من بني سلمة فقالوا: واللَّه ما صنعت شيئًا، واللَّه (٢٩) (إن) (٣٠) كان (لكافيك) (٣١) من ذنبك الذي أذنبت استغفار رسول اللَّه ﷺ لك كما صنع (٣٢) ذلك (لغيرك) (٣٣)، (فقد) (٣٤) قبل منهم عذرهم واستغفر لهم، فما زالوا يلومونني حتى هممت أن أرجع فأكذب نفسي، ثم قلت لهم: هل قال هذه المقالةَ (أحدٌ) (٣٥) أو (اعتذر) (٣٦) بمثل ما اعتذرت به؟ قالوا: نعم، قلت: من؟ قالوا: هلال بن أمية الواقفي، (وربيعة بن مرارة العمري) (٣٧)، (وذكروا) (٣٨) لي رجلين صالحين قد شهدا بدرا قد اعتذرا بمثل الذي اعتذرت به، (وقيل) (٣٩) لهما مثل الذي قيل لك. قال: ونهى رسول اللَّه ﷺ عن كلامنا فطفقنا نغدو في الناس، لا يكلمنا أحد ولا يسلم علينا أحد ولا يرد علينا سلامًا، حتى إذا (وفت) (٤٠) أربعون ليلة جاءنا ⦗١١٥⦘ (رسول) (٤١) رسول اللَّه ﷺ أن اعتزلوا نساءكم، فأما هلال بن أمية فجاءت امرأته إلى رسول اللَّه فقالت له: إنه شيخ قد ضعف بصره فهل تكره أن أصنع له طعامه؟ قال: "لا، ولكن لا يقربنّك"، قالت: إنه واللَّه ما به حركة إلى شيء، واللَّه ما زال يبكي منذ كان من أمره ما كان إلى (يومه) (٤٢) هذا. قال: فقال لي بعض أهلي: لو استأذنتَ رسول اللَّه ﷺ في امرأتك كما استأذنت امرأة هلال بن أمية فقد أذن لها أن تخدمه، قال: (فقلت) (٤٣): (واللَّه) (٤٤) لا أستأذنه فيها، وما أدري ما يقول (٤٥) رسول اللَّه ﷺ إن استأذنته، وهو شيخ كبير وأنا رجل شاب، فقلت لامرأتي: الحقي بأهلك حتى يقضي اللَّه ما هو قاض. وطفقنا نمشي في الناس ولا يكلمنا أحد ولا يرد علينا سلامًا، قال: فأقبلت حتى تسورت جدارا لابن عم لي في حائطه، فسلمت فما حرك شفتيه يرد علي السلام، فقلت: أنشدك (باللَّه) (٤٦) أتعلم أني أحب اللَّه ورسوله؟ فما كلمني كلمة، ثم (عدت) (٤٧) فلم يكلمني حتى إذا كان في الثالثة أو الرابعة قال: اللَّه ورسوله أعلم، فخرجت. فإني لأمشي في السوق إذا الناس يشيرون (إلي) (٤٨) بأيديهم، وإذا نبطي من نبط الشام يسأل عني، فطفقوا يشيرون له إلي حتى جاءني فدفع إلي كتابا من بعض ⦗١١٦⦘ قومي بالشام: أنه قد بلغنا ما صنع بك صاحبُك وجفوتُه عنك فالحق بنا، فإن اللَّه لم يجعلك بدار هوان ولا دار مضيعة، (نواسك) (٤٩) في أموالنا، قال: قلت: إنا للَّه (٥٠)، قد طمع فيّ أهل الكفر، فيممت به تنورا فسجرته (به) (٥١). فواللَّه (إني) (٥٢) لعلى تلك الحال التي قد ذكر اللَّه، قد ضاقت علينا الأرض بما رحبت، وضاقت علينا أنفسنا، (صباحية) (٥٣) خمسين ليلة (منذ) (٥٤) نهي عن كلامنا، أنزلت التوبة على رسول اللَّه ﷺ، (ثم آذن رسول اللَّه ﷺ) (٥٥) بتوبة اللَّه علينا حين صلى الفجر. فذهب الناس يبشروننا، وركض رجل إليَّ فرسًا وسعى ساع من أسلم (فأوفى) (٥٦) على الجبل، وكان الصوت أسرع من الفرس، فنادى: يا كعب بن مالك أبشر، فخررت ساجدا وعرفت أن قد جاء الفرج، فلما جاءني الذي سمعت صوته (خففت) (٥٧) له ثوبين ببشراه، واللَّه ما أملك يومئذ ثوبين غيرهما واستعرت ثوبين. فخرجت قبل رسول اللَّه ﷺ (فلقيني) (٥٨) الناس فوجا فوجا (يهنئونني) (٥٩) بتوبة اللَّه علي حتى دخلت المسجد، فقام إليّ طلحة بن عبيد اللَّه يهرول حتى ⦗١١٧⦘ (صافحني) (٦٠) وهنأني، ما قام إلي من المهاجرين غيره، فكان كعب لا ينساها لطلحة. ثم أقبلت حتى وقفت على رسول اللَّه ﷺ كأن وجهه قطعة قمر، (و) (٦١) كان إذا سر (استنار) (٦٢) وجهه كذلك، فناداني: "هلم يا كعب أبشر بخير يوم مر عليك منذ ولدتك أمك"، قال: (فقلت) (٦٣): أمن عند اللَّه (أم) (٦٤) من عندك؟ قال: "لا، بل من عند اللَّه، إنكم صدقتم اللَّه (فصدقكم) (٦٥) (٦٦) "، قال: (قلت) (٦٧): إن من توبتي اليوم أن أخرج من مالي صدقة إلى اللَّه (وإلى رسوله) (٦٨)، قال (رسول اللَّه ﷺ) (٦٩): "أمسك عليك بعض مالك"، قلت: أمسك سهمي بخيبر، قال كعب: فواللَّه ما أبلى اللَّه رجلا في صدق الحديث ما أبلاني (٧٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمان بن عبد اللہ بن کعب بن مالک، اپنے والد حضرت کعب بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بنو الاصفر کا ارادہ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ لڑائی کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے سامنے ان کے معاملہ کو کھول کر بیان فرمایا… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت یہ تھی کہ جب بھی کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو کسی دوسرے سفر سے توریہ فرما لیتے … تاآنکہ یہ غزوہ پیش آیا۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شدید گرمی، دور کے سفر اور نئے دشمن سے سابقہ پیش آیا چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو وہ مقصد کھول کر بیان کردیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں لے کر جا رہے تھے تاکہ مسلمان، دشمن کے شایانِ شان تیاری کرلیں۔ ٢۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیاری فرمائی اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تیاری کرلی۔ میں نے صبح کے وقت تیاری کرنا چاہی لیکن میں تیاری نہ کرسکا یہاں تک کہ لوگ (تیار ہو کر) فارغ ہوگئے اور کہا جانے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح ہوتے ہی اپنے سفر پر روانہ ہوجائیں گے۔ میں نے (دل میں) کہا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ایک دو دن میں تیاری کرلوں گا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پالوں گا۔ میرے پاس دو سواریاں تھیں۔ جبکہ میرے پاس اس سے پہلے کبھی دو سواریاں اکٹھی نہیں ہوئی تھیں۔ پس میں اپنی ذات کے اعتبار سے بھی قادر تھا اور اپنے زاد راہ کے حوالہ سے بھی قوی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مسلسل دن گزرتے رہے اور میں کچھ بھی نہ کرسکا یہاں تک کہ لشکر کے لوگ تیزی سے سفر کرنے لگے۔ پھر مجھ پر ایک دن ایسا آیا کہ میں نے (پیچھے رہنے والوں میں) صرف ایسے آدمی کو دیکھا جس کو اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دے رکھا تھا۔ یا ایسے آدمی کو دیکھا جس کے بارے میں نفاق کا چرچا تھا۔ اس بات نے مجھے بہت غمگین کردیا۔ ٣۔ اب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واپس آجانے کے وقت کے لئے عذر تیار کرنا شروع کیا اور باتیں بنانے کی کوشش شروع کی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسی تقدیر پیش آئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تبوک کے مقام پر پہنچنے تک میری یاد ہی نہیں آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام تبوک میں لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے پوچھا۔ کعب بن مالک نے کیا کیا ؟ “ میری قوم کے آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا۔ اسے کچھ چیزوں نے مصروف رکھا۔ راوی کہتے ہیں ۔ ایک دوسرا آدمی بولا اور اس نے کہا۔ خدا کی قسم ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم تو اچھی بات ہی کو جانتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے۔ ٤۔ پھر جب کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس پہنچنے والے ہیں۔ تو مجھ سے ہر باطل اور جو کچھ میں نے جھوٹ، عذر گھڑے تھے وہ سب دور ہوگئے۔ مجھے معلوم ہوگیا کہ مجھے اس حالت میں صرف سچ ہی نجات دے سکتا ہے۔ چناچہ میں نے سچ کو اکٹھا کیا۔ (جب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مدینہ میں) تشریف لائے ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے اور مسجد میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت یہ تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپسی فرماتے تو مسجد میں آتے اور وہاں دو رکعات ادا کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اہل خانہ کے پاس تشریف لے جاتے۔ چناچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد میں بیٹھا ہوا پایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو مجھے بلایا اور فرمایا۔ اے کعب ! ادھر آؤ تمہیں کس چیز نے میرے ساتھ سے پیچھے رکھا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ والے آدمی کی طرح مسکرائے۔ کعب کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔ میں آپ کے ساتھ سے پیچھے رہنے کے وقت جس قدر وسعت اور قدرت میں تھا اتنا میں کبھی نہیں ہوا ۔ (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پیچھے رہ جانے والے لوگ آ کر قسمیں کھا رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی قسموں کا اعتبار کر کے ان کے لئے مغفرت طلب کر رہے تھے۔ اور ان کے خفیہ ارادوں کو اللہ کی طرف سپرد فرما رہے تھے۔ پس جب مں و نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سچ بات کہہ ڈالی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رہا یہ آدمی ! تو اس نے سچ بولا ہے۔ پس تم کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں جو فیصلہ کرنا ہے وہ کر دے۔ “ چناچہ میں (وہاں سے) ا
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39782
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ خالد بن مخلد صدوق، وعبد الرحمن سمع من جده، والحديث أخرجه البخاري (٤٦٧٦)، ومسلم (٢٧٦٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39782، ترقيم محمد عوامة 38162)
حدیث نمبر: 39783
٣٩٧٨٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن مصعب بن سعد (عن سعد) (١) قال: لما خرج رسول اللَّه ﷺ في غزوة تبوك خلف عليا في النساء والصبيان، فقال: يا رسول اللَّه تخلفني في النساء والصبيان، فقال: "أما ترضى أن ⦗١١٨⦘ تكون مني بمنزلة هارون من موسى، إلا أنه (لا) (٢) (٣) نبي بعدي" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ تبوک کے لئے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عورتوں اور بچوں میں چھوڑ دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا : کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لئے بمنزلہ موسیٰ سے ہارون کے ہو، مگر یہ بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39783
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٤١٦)، ومسلم (٢٤٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39783، ترقيم محمد عوامة 38163)
حدیث نمبر: 39784
٣٩٧٨٤ - حدثنا يزيد بن هارون (أخبرنا) (١) سعيد بن أبي عروبة عن موسى عن (الحسن) (٢) (أن) (٣) عثمان أتى رسول اللَّه ﷺ بدنانير في غزوة تبوك، فجعل رسول اللَّه ﷺ (يقلبها) (٤) في حجره (ويقول) (٥): "ما على عثمان بن عفان ما (عمل) (٦) بعد هذا" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے کہ حضرت عثمان ، غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دینار لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دیناروں کو اپنی جھولی میں ڈال لیا اور ان کو الٹ پلٹ کرنے لگے اور ارشاد فرمایا۔ ” اس (خیر کے کام) کے بعد عثمان بن عفان جو کچھ بھی کرے اس کو نقصان نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39784
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي، أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (٧٨٧)، وابن عساكر ٣٩/ ٦٩، والخلال في السنة (٤١٧)، وأخرجه الطبراني في الأوسط (٢٠١٣): عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39784، ترقيم محمد عوامة 38164)
حدیث نمبر: 39785
٣٩٧٨٥ - حدثنا يزيد بن هارون (أخبرنا) (١) حميد عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ لما رجع من غزوة تبوك ودنا من المدينة قال: "إن بالمدينة لأقواما ما سرتم مسيرا، ولا قطعتم من واد إلا كانوا معكم فيه" قالوا: يا رسول اللَّه وهم بالمدينة؟ [قال: " (نعم) (٢)] (٣) (وهم بالمدينة) (٤) حبسهم العذر" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب غزوہ تبوک سے واپس ہوئے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ” بلاشبہ مدینہ میں کچھ لوگ ایسے تھے کہ تم نے جو بھی سفر کیا یا جو وادی بھی قطع مسافت کی تو وہ لوگ اس میں (ثواب کے اعتبار سے) تمہارے ساتھ شریک تھے۔ “ صحابہ نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! وہ لوگ مدینہ میں تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ! وہ مدینہ میں تھے اور ان کو عذر نے (وہاں) روک رکھا تھا۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39785
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٨٣٨)، وأحمد (١٢٠٢٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39785، ترقيم محمد عوامة 38165)
حدیث نمبر: 39786
٣٩٧٨٦ - حدثنا (هشيم) (١) (أخبرنا) (٢) داود بن (عمرو) (٣) عن (بسر) (٤) بن عبيد اللَّه الحضرمي عن أبي إدريس الخولاني (حدثنا) (٥) عوف بن مالك الأشجعي أن رسول اللَّه ﷺ أمر بالمسح على الخفين في غزوة تبوك ثلاثة أيام ولياليهن للمسافر، ويوما وليلة للمقيم (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ تبوک میں مسافر کے لئے تین دن، رات اور مقیم کے لئے ایک دن رات تک موزوں پر مسح کا حکم فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39786
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ داود صدوق، أخرجه أحمد (٢٣٩٩٥)، والبزار (٢٧٥٧)، والطحاوي ١/ ٨٢، والطبراني ١٨/ (٦٩)، والدارقطني ١/ ١٩٧، والبيهقي ١/ ٢٧٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39786، ترقيم محمد عوامة 38166)
حدیث نمبر: 39787
٣٩٧٨٧ - حدثنا جعفر بن عون (أخبرنا) (١) المسعودي عن إسماعيل بن أوسط عن محمد بن أبي كبشة الأنماري عن أبيه قال: لما كان في غزوة تبوك سارع (ناس إلى) (٢) أصحاب الحجر، فدخلوا عليهم، فبلغ ذلك رسولَ اللَّه ﷺ، فأمر فنودي: إن الصلاة جامعة، قال: فأتيته وهو ممسك ببعيره وهو يقول: "علام تدخلون على قوم غضب اللَّه عليهم؟ " (قال) (٣): فناداه رجل تعجبا (منهم) (٤): يا رسول اللَّه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أفلا أنبئكم بما هو أعجب من ذلك؟ رجل من أنفسكم يحدثكم بما كان قبلكم وبما يكون بعدكم، (استقيموا) (٥) (و) (٦) سددوا فإن اللَّه لا يعبأ بعذابكم ⦗١٢٠⦘ شيئا، وسيأتي اللَّه بقوم لا يدفعون عن أنفسهم (بشيء) (٧) " (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن کبشہ انماری، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ (ہم لوگ) جب غزوہ تبوک (میں) تھے تو کچھ لوگ جلدی جلدی اصحاب الحجر (کے کھنڈرات) میں داخل ہونے لگے تو یہ بات جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تو آواز لگائی گئی۔ ان الصلاۃ جامعۃ … راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی پر بیٹھے ہوئے تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : ” خدا کی غضب شدہ قوم پر تم کیوں داخل ہوئے ؟ “ راوی کہتے ہیں : ایک آدمی نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ن سے تعجب میں پڑ کر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں اس سے بھی عجیب بات نہ بتاؤں ؟ ایک آدمی تمہیں میں سے ہے اور وہ تم کو پہلوں کی باتیں بیان کرتا ہے اور آنے والی بھی بیان کرتا ہے۔ استقامت کا مظاہرہ کرو اور سیدھے ہو جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تمہیں عذاب دینے میں کسی شئی کی پروا نہیں ہے۔ اور عنقریب اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لائیں گے جو خود سے کسی شئی کو دور نہیں کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39787
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39787، ترقيم محمد عوامة 38167)