کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: غزوہ ذی قرد کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 39777
٣٩٧٧٧ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): (حدثنا) (٢) هاشم بن القاسم (أبو) (٣) (النضر) (٤) قال: (حدثنا) (٥) عكرمة بن عمار قال: حدثني إياس بن سلمة ⦗١٠٤⦘ عن أبيه قال: قدمت المدينة (من) (٦) الحديبية مع النبي ﷺ، فخرجت أنا ورباح غلام (رسول اللَّه ﷺ، بعثه رسول اللَّه ﷺ مع الإبل وخرجت معه بفرس طلحة) (٧) (أبديه) (٨) مع الإبل. فلما كان بغلس أغار عبد الرحمن بن عيينة على أبل رسول اللَّه ﷺ فقتل (راعيها) (٩) وخرج يطرد بها هو وأناس معه في خيل، فقلت: يا رباح، أقعد على هذا الفرس فألحقه بطلحة وأخبر رسول اللَّه ﷺ أنه قد أغير على سرحه، قال: فقمت على تل وجعلت وجهي من قبل المدينة ثم ناديت ثلاث مرات: يا صباحاه. ثم اتبعت القوم معي سيفي ونبلي فجعلت أرميهم وأعقر بهم، وذاك حين يكثر (الشجر) (١٠)، قال: فإذا رجع إليَّ فارس جلست له في أصل شجرة ثم رميت فلا يقبل علي فارس إلا عقرت به، فجعلت أرميهم وأقول: أنا ابن الأكوع … (واليوم) (١١) يوم الرضع (فألحق برجل فأرميه وهو على رحله فيقع سهمي في الرجل، حتى انتظمت كتفه قلت: خذها) (١٢): (أنا ابن الأكوع … واليوم يوم الرضع) (١٣) ⦗١٠٥⦘ فإذا كنت في الشجرة أحرقتهم بالنبل، وإذا (تضايقت) (١٤) الثنايا علوت الجبل (فرديتهم) (١٥) بالحجارة. فما زال ذلك شأني وشأنهم: أتبعهم وأرتجز حتى ما خلق اللَّه شيئا من ظهر النبي ﷺ إلا خلفته وراء ظهري، واستنقذته من أيديهم، قال: ثم لم أزل أرميهم حتى ألقوا أكثر من ثلاثين رمحا وأكثر من ثلاثين بردة، يستخفون منها، ولا يلقون من ذلك شيئا إلا جعلت عليه (١٦) (الحجارة) (١٧) وجمعته على طريق رسول اللَّه ﷺ. حتى إذا امتد الضحى أتاهم عيينة بن بدر الفزاري ممدًا لهم وهم في ثنية ضيقة، ثم علوت الجبل فأنا فوقهم، قال عيينة: ما هذا الذي أرى؟ قالوا: لقينا من هذا البَرَح، ما (فارقنا) (١٨) (بسحر) (١٩) حتى الآن، وأخذ كل شيء في أيدينا وجعله وراء ظهره، فقال عيينة: لولا أن هذا يرى أن وراءه طلبا لقد ترككم، قال: ليقم إليه نفر منكم. فقام إليَّ نفر منهم أربعة فصعدوا في الجبل، فلما أسمعتهم الصوت قلت لهم: أتعرفوني؟ قالوا: ومن أنت؟ قلت: أنا ابن الأكوع، والذي كرم وجه محمد (٢٠) لا يطلبني رجل منكم فيدركني، ولا أطلبه فيفوتني، قال رجل منهم: أظن. ⦗١٠٦⦘ قال: فما برحت مقعدي ذاك حتى نظرت إلى فوارس رسول اللَّه ﷺ يتخللون الشجر، وإذا أولهم الأخرم الأسدي، وعلى أثره أبو قتادة فارس رسول اللَّه ﷺ، وعلى أثر أبي قتادة: المقداد الكندي، قال: فولوا المشركين مدبرين، وأنزل من الجبل فأعرض للأخرم فآخذ عنان فرسه، قلت: يا أخرم! أنذر بالقوم -يعني أحذرهم، فإني لا آمن أن يقطعوك، فاتئد حتى يلحق (رسول اللَّه) (٢١) ﷺ (٢٢) وأصحابه، قال: يا سلمة! إن كنت تؤمن باللَّه واليوم الآخر، وتعلم أن الجنة حق والنار حق فلا تحل بيني وبين الشهادة. قال: فخليت عنان فرسه فيلحق بعبد الرحمن بن عيينة ويعطف عليه عبد الرحمن فاختلفا طعنتين فعقر الأخرم بعبد الرحمن، وطعنه عبد الرحمن فقتله، وتحول عبد الرحمن على فرس الأخرم، (فيلحق) (٢٣) أبو قتادة بعبد الرحمن واختلفا طعنتين فعقر بأبي قتادة، وقتله أبو قتادة، وتحول أبو قتادة على فرس الأخرم. ثم إني خرجت أعدو في أثر القوم حتى ما أرى من غبار صحابة النبي ﷺ شيئًا، ويعرضون قبل غيبوبة الشمس إلى شعب فيه ماء يقال له: ذو قرد، فأرادوا أن يشربوا منه فأبصروني أعدو وراءهم، فعطفوا عنه وشدوا في الثنية ثنية ذي (ثبير) (٢٤) وغربت الشمس فألحق (بهم) (٢٥) رجلًا فأرميه، فقلت: خذها: وأنا ابن الأكوع … (اليوم) (٢٦) يوم الرضع ⦗١٠٧⦘ فقال: يا ثكلتني أمي أكوعي بكرة، قلت: نعم أي عدو نفسه، وكان الذي رميته بكرة فأتبعته بسهم آخر، فعلق فيه سهمان (وتخلفوا) (٢٧) فرسين. فجئت بهما أسوقهما إلى رسول اللَّه ﷺ وهو على الماء الذي (خلأتهم) (٢٨) عنه (ذي) (٢٩) قرد، فإذا نبي اللَّه ﷺ في (خمسمائة) (٣٠)، وإذا بلال قد نحر جزورا مما خلفت، فهو (يشوي) (٣١) لرسول اللَّه ﷺ من كبدها وسنامها. فأتيت رسول اللَّه ﷺ فقلت: يا رسول اللَّه خلني، فأنتخب من أصحابك مائة رجل فآخذ على الكفار بالعشوة فلا يبقى منهم مخبر إلا قتلته، قال: "أكنت فاعلا ذاك يا سلمة؟ " قال: نعم، والذي أكرم وجهك، فضحك رسول اللَّه ﷺ حتى رأيت نواجذه في ضوء (النار) (٣٢)، قال: ثم قال: "يقرون الآن بأرض غطفان"، فجاء رجل من غطفان قال: مروا على فلان الغطفاني، (فنحر) (٣٣) لهم جزورًا، فلما أخذوا يكشطون جلدها رأوا غبرة فتركوها وخرجوا هرابا. فلما أصبحنا قال رسول اللَّه ﷺ: "خير فرساننا اليوم أبو قتادة، وخير رجالتنا سلمة"، فأعطاني رسول اللَّه ﷺ سهم الفارس والراجل جميعًا، ثم أردفني وراءه على العضباء راجعين إلى المدينة، فلما كان بيننا وبينها قريب من ضحوة وفي القوم رجل من الأنصار، كان لا يسبق فجعل ينادي: (هل من مسابق) (٣٤)، ألا رجل ⦗١٠٨⦘ يسابق إلى المدينة، فعل ذلك مرارا، وأنا وراء رسول اللَّه ﷺ مردفًا، قلت له: (أما) (٣٥) تكرم كريما ولا تهاب شريفًا، قال: لا، إلا رسول اللَّه (٣٦)، قلت: يا رسول (اللَّه) (٣٧) -بأبي أنت وأمي- خلني، (فلأسابق) (٣٨) الرجل، قال: "إن شئت قلت: أذهب إليك"، (فطفر) (٣٩) عن راحلته وثنيت رجلي فطفرت عن الناقة، (ثم) (٤٠) إني ربطت (عليه) (٤١) شرفًا أو شرفين، يعني استبقيت نفسي، ثم إني (عدوت) (٤٢) حتى ألحقه فأصك بين كتفيه بيدي، فقلت: سبقتك واللَّه أو كلمة نحوها، قال: فضحك (وقال: (إن) (٤٣) أظن) (٤٤) حتى قدمنا المدينة (٤٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن سلمہ ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں صلح حدیبیہ کے دنوں میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مدینہ میں آیا تھا ۔ پس (ایک مرتبہ) میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غلام حضرت رباح باہر نکلے۔ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رباح کو اونٹوں کے ہمرا ہ بھیجا اور میں ان کے ساتھ حضرت طلحہ کا گھوڑا لے کر نکلا اور اونٹوں کے ساتھ میں گھوڑے کو ایڑ لگاتا رہا۔ پس جب صبح کا اندھیرا (چھایا ہوا) تھا تو عبد الرحمان بن عیینہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کردیا اور اونٹوں کے چرواہے کو قتل کردیا۔ اور وہ اس کے ساتھ جو گھڑ سوار لوگ تھے وہ اونٹوں کو لے گئے۔ میں نے کہا۔ اے رباح ! اس گھوڑے پر بیٹھ جاؤ اور یہ حضرت طلحہ تک پہنچا دو ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دے دو کہ ان پر حملہ ہوگیا ہے۔ ٢۔ سلمہ کہتے ہیں : پھر میں ایک ٹیلہ پر کھڑا ہوگیا اور اپنا منہ مدینہ کی طرف کیا اور پھر میں نے تین مرتبہ آواز لگائی ۔ یا صباحاہ ! اس کے بعد ان لوگوں کے پیچھے چل نکلا۔ میرے پاس میری تلوار اور تیر تھے ۔ پس میں نے ان کی طرف تیر پھینکنے شروع کیے اور ان کو زخمی کر کے روکنے لگا۔ اور یہ بات تب ہوتی جب درخت زیادہ ہوتے… کہتے ہیں : جب میری طرف کوئی سوار آتا تو میں کسی درخت کی اوٹ میں بیٹھ جاتا اور پھر تیر اندازی کرتا۔ چناچہ کوئی سوار میری طرف نہ بڑھتا مگر یہ کہ میں اس کو زخمی کر کے روک دیتا میں ان پر تیر برساتا اور یہ کہتا۔ میں ابن الاکوع ہوں اور آج کا دن ذلیلوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ ٣۔ پھر میں ایک آدمی کے پاس پہنچا تو میں نے اس کو تیر مارا جبکہ وہ اپنی سواری پر تھا۔ میرا تیر اس آدمی کو لگا یہاں تک کہ وہ اس کے کندھے میں پیوست ہوگیا۔ میں نے کہا۔ اس کو پکڑ۔ اور ” میں ابن الاکوع ہوں ۔ اور آج کا دن ذلیلوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ “ ٤۔ جب میں درختوں (کے جھرمٹ) میں ہوتا تو میں ان لوگوں پر خوب تیر اندازی کرتا اور جب گھاٹیاں تنگ ہوجاتیں تو میں پہاڑ پر چڑھ جاتا اور ان پر پتھر پھینکتا۔ میری اور ان کی یہی حالت رہی کہ میں ان کے پیچھے دوڑتا رہا اور رجزیہ اشعار پڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواریوں میں سے جو کچھ پیدا کیا ہو اتھا میں اس سب کو اپنے پیچھے چھوڑ آیا اور میں نے اس کو حملہ آوروں سے چھڑا لیا۔ ٥۔ سلمہ کہتے ہیں : پس میں ان پر تیر اندازی کرتا رہا یہاں تک کہ تیس سے زیادہ نیزے اور تیس سے زیادہ چادریں گرا دیں جن کو وہ ہلکا (گھٹیا) سمجھتے تھے۔ وہ جو کچھ بھی پھینکتے تھے میں ان پر پتھروں کو رکھ دیتا تھا۔ اور میں اس کو رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راستہ پر جمع کردیتا تھا۔ یہاں تک کہ جب چاشت کا وقت ہوا تو حملہ آوروں کے پاس عیینہ بن بدر فزاری مدد کرنے کے لئے آپہنچا اور یہ لوگ ایک تنگ گھاٹی میں تھے۔ میں پہاڑ پر چڑھ گیا چناچہ میں ان سے بلند ہوگیا۔ عیینہ نے کہا میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں ؟ حملہ آوروں نے جواب دیا۔ ہمیں یہ مصیبت چمٹی ہوئی ہے۔ صبح سے ابھی تک اس نے ہما را ساتھ نہیں چھوڑا۔ جو کچھ ہمارے پاس تھا وہ اس نے ہم سے لے لیا ہے اور اس کو اپنے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس پر عیینہ نے کہا۔ اگر اس کو اپنے پیچھے سے کسی طلب (کمک) کا خیال نہ ہوتا تو البتہ یہ تمہیں چھوڑ دیتا ۔ عیینہ نے کہا۔ تم میں سے ایک جماعت اس کی طرف (لڑنے کے لئے) اٹھنی چاہیے۔ چناچہ میری جانب ایک جماعت اٹھی جس میں چار افراد تھے۔ انہوں نے پہاڑ پر چڑھنا شروع کیا پس جب وہ میری آواز کے قریب پہنچے تو میں نے ان سے کہا۔ کیا تم مجھے جانتے ہو ؟ انہوں نے پوچھا تم کون ہو ؟ مں پ نے جواب دیا۔ میں ابن الاکوع ہوں۔ قسم اس ذات کی جس نے محمد کے چہرے کو عزت بخشی تم میں سے کوئی آدمی مجھے پکڑنا چاہے تو نہیں پکڑ سکتا اور میں جس کو پکڑنا چاہوں وہ چھوٹ نہیں سکتا۔ ان میں سے ایک آدمی نے کہا۔ مجھے بھی یہی گمان ہے۔ ٦۔ سلمہ کہتے ہیں : پھر میں اپنی اسی جگہ بیٹھا رہا یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سواروں کو درختوں کے درمیان سے دیکھا کہ ان کے اول میں اخرم اسدی ہیں اور ان کے پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہسوار حضرت ابو قتادہ تھے اور ابو قتادہ کے پیچھے مقداد کندی تھے۔ سلمہ کہتے ہیں۔ پس مشرکین پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے ۔ میں پہاڑ سے اترا اور حضرت اخرم کے پاس پہنچا اور میں نے ان کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی۔ میں نے کہا۔ اے اخرم ! ان لوگوں سے ڈرو (یعنی ابھی رک جاؤ) کیونکہ مجھے اس بات پر امن نہیں ہے کہ یہ لوگ تمہیں قتل کردیں گے۔ پس تم رکو یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ (ہم تک) پہنچ جائیں۔ اخرم نے کہا ۔ اے سلمہ ! اگر تم
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39777
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٠٧)، وابن حبان (٧١٧٥) من طريق المؤلف، وأخرجه أحمد ٤/ ٥٢ (١٦٥٣٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39777، ترقيم محمد عوامة 38157)
حدیث نمبر: 39778
٣٩٧٧٨ - حدثنا وكيع (حدثنا) (١) سفيان عن أبي بكر بن أبي الجهم بن (صخير) (٢) العدوي عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن (عتبة) (٣) عن ابن عباس قال: ⦗١٠٩⦘ صلى رسول اللَّه ﷺ صلاة الخوف بذي قرد أرض من (أرض) (٤) بني سليم، فصف الناس خلفه صفين: صف خلفه، وصف (موازي) (٥) العدو، فصلى بالصف الذي يليه ركعة، ثم نهض هؤلاء إلى مصاف هؤلاء، وهؤلاء إلى مصاف هؤلاء، فصلى بهم ركعة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام ذی قرد میں … بنو سلیم کے علاقہ میں …نماز خوف ادا فرمائی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے لوگوں نے دو صفیں بنالیں۔ ایک صف نے آپ کے پیچھے (پہلے ایک رکعت) نماز پڑھی اور ایک صف دشمن کے مقابل کھڑی ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صف کو جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھی ایک رکعت نماز پڑھائی پھر یہ لوگ ان لوگوں کی صف کی جگہ چلے گئے اور وہ لوگ ان لوگوں کی صف کی جگہ چلے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39778
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٠٦٣)، وابن حبان (٢٨٧١)، والحاكم ١/ ٣٣٥، والنسائي ٣/ ١٦٩، وعبد الرزاق (٤٢٥١)، وابن خزيمة (١٣٤٤)، والطحاوي ١/ ٣٠٩، والطبري ٥/ ٢٤٨، والبيهقي ٣/ ٢٦٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39778، ترقيم محمد عوامة 38158)
حدیث نمبر: 39779
٣٩٧٧٩ - حدثنا وكيع (حدثنا) (١) سفيان عن الركين (الفزاري) (٢) عن القاسم بن حسان عن زيد بن ثابت أن رسول اللَّه ﷺ صلى صلاة الخوف -فذكر مثل حديث ابن عباس (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز خوف ادا فرمائی … پھر اس کے بعد حضرت زید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما والی روایت بیان فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39779
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ القاسم بن حسان صدوق، أخرجه أحمد (٢١٥٩٣)، وابن خزيمة (١٣٤٥)، وابن حبان (٢٨٧٠)، وعبد الرزاق (٤٢٥٠)، والطحاوي ١/ ٣١٠، والطبراني (٤٩١٩)، والبيهقي ٣/ ٢٦٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39779، ترقيم محمد عوامة 38159)