کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
حدیث نمبر: 39756
٣٩٧٥٦ - [حدثنا أبو عبد الرحمن، (حدثنا) (١) أبو بكر (حدثنا) (٢)] (٣) أبو أسامة عن زكريا عن أبي إسحاق قال: قال رجل للبراء: هل كنتم وليتم يوم حنين (يا أبا) (٤) عمارة؟ (فقال) (٥): أشهد على النبي ﷺ (٦) ما ولى، ولكن انطلق (أخفّاءُ) (٧) من الناس (وحسر) (٨) إلى هذا الحي (من) (٩) هوازن، وهم قوم رماة فرموهم برشق من نبل كأنها رجل من جراد، قال: (فانكشفوا) (١٠) فأقبل القوم ⦗٩٠⦘ (هنالك) (١١) إلى رسول اللَّه ﷺ، وأبو سفيان بن (الحارث) (١٢) يقود بغلته، فنزل رسول اللَّه ﷺ فاستنصر وهو يقول: "أنا النبي لا كذب … أنا ابن عبد المطلب اللهم (نزل) (١٣) نصرك"، قال: (كنا) (١٤) واللَّه إذا احمر (البأس) (١٥) نتقي به، وإن الشجاع الذي يحاذي به (١٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت براء سے کہا۔ اے ابو عمارہ ! کیا تم لوگ حنین کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے ؟ حضرت براء نے کہا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری تھی۔ لیکن کچھ لوگ جلد بازی میں خالی ہاتھ قبیلہ ہوازن کی طرف چل پڑے تھے حالانکہ ہوازن والے تو ایک تیر انداز قوم تھے۔ چناچہ انہوں نے اس (خالی ہاتھ) جماعت کو تیز تیر پھینکنے والی کمان کے ذریعہ سے خوب تیر برسائے یوں لگتا تھا کہ گویا تیروں کا مجموعہ آ رہا ہے۔ راوی کہتے ہیں : پس لوگ چھٹ گئے اور اس وقت ہوازن کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بڑھے جبکہ ابو سفیان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خچر کو ہانک رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (خچر سے) نیچے تشریف لائے اور مدد کے لئے پکارا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہہ رہے تھے۔ ” میں جھوٹا نبی نہیں ہوں۔ میں تو عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔ “ اے اللہ ! اپنی مدد نازل فرما “ راوی کہتے ہیں : خدا کی قسم ! جب جنگ خوب شعلہ زن ہوتی تھی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آڑ میں (اپنا) بچاؤ کرتے تھے۔ اور یقینا (اس وقت) بہادر وہی شخص ہوتا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39756
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٣٠)، ومسلم (١٧٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39756، ترقيم محمد عوامة 38138)
حدیث نمبر: 39757
٣٩٧٥٧ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن البراء قال: لا واللَّه ما ولى رسول اللَّه ﷺ (١) يوم حنين دبره، قال: والعباس وأبو سفيان (آخذان) (٢) بلجام بغلته وهو يقول: "أنا النبي لا كذب … أنا ابن عبد المطلب" (٣)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء سے روایت ہے کہ نہیں خدا کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کی جنگ کے دن اپنی پشت نہیں پھیری ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عباس اور ابو سفیان ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خچر کی لگام کو پکڑے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہہ رہے تھے۔ ” میں جھوٹا نبی نہیں ہوں میں تو عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39757
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق، وقوله والعباس شاذ، وأصل الحديث أخرجه البخاري (٢٨٦٤)، ومسلم (١٧٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39757، ترقيم محمد عوامة 38139)
حدیث نمبر: 39758
٣٩٧٥٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن حميد عن أنس قال: كان من دعاء النبي ﷺ يوم حنين: "اللهم إنك إن تشأ لا تعبد بعد هذا اليوم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ حنین کے دن ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاء یہ تھی۔ ” اے اللہ ! اگر آپ چاہتے ہیں تو آج کے بعد آپ کی عبادت نہیں کی جائے گی۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39758
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٤٢٢٠)، والخطيب ٣/ ٣٩٤، وبنحوه مسلم (١٧٤٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39758، ترقيم محمد عوامة 38140)
حدیث نمبر: 39759
٣٩٧٥٩ - حدثنا عفان حدثنا سليم بن أخضر حدثني ابن عون حدثني هشام بن زيد عن أنس قال: لما كان يوم حنين جمعت هوازن وغطفان للنبي ﷺ جمعا كثيرا، والنبي ﷺ يومئذ في عشرة آلاف أو أكثر من عشرة آلاف، ((قال) (١): ومعه الطلقاء) (٢)، قال: فجاؤوا (بالنفر) (٣) والذرية، (فجعلوا) (٤) خلف ظهورهم، قال: فلما التقوا ولى الناس، والنبي ﷺ يومئذ على بغلة بيضاء، قال: فنزل فقال: "إني عبد اللَّه ورسوله"، قال: ونادى يومئذ (نداءين لم يخلط) (٥) بينهما (كلاما) (٦)، فالتفت عن يمينه فقال: "أي معشر الأنصار"، فقالوا: لبيك يا رسول اللَّه، نحن معك، (ثم التفت عن يساره فقال: "أي معشر الأنصار"، فقالوا: لبيك يا رسول اللَّه نحن معك) (٧)، ثم نزل إلى الأرض، فالتقوا فهزَموا وأصابوا من الغنائم، فأعطى النبي ﷺ الطلقاء وقسم فيها، فقالت الأنصار: ندعى عند الشدة وتقسم الغنيمة لغيرنا، فبلغ ذلك النبي ﷺ فجمعهم وقعد في قبة فقال: "أي معشر الأنصار (ما حديث) (٨) بلغني عنكم؟ " فسكتوا، (فقال) (٩): "يا معشر الأنصار! لو أن الناس (سلكوا) (١٠) (واديًا) (١١) (وسلكت) (١٢) الأنصار شعبا ⦗٩٢⦘ لأخذت شعب الأنصار"، ثم (قال) (١٣): "أما ترضون أن يذهب الناس بالدنيا (وتذهبون) (١٤) برسول اللَّه تحوزونه إلى بيوتكم"، فقالوا: رضينا (رضينا) (١٥) (يا رسول) (١٦) اللَّه، قال: ابن عون قال هشام بن زيد: قلت: لأنس وأنت شاهد ذلك؟ قال: وأين أغيب عن ذلك (١٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ جب حنین کا دن تھا تو قبیلہ ہوازن اور غطفان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک بہت بڑی تعداد جمع کرلی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس دن دس ہزار یا دس ہزار سے بھی زیادہ کی تعداد کے ہمراہ تھے۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ طلقاء (فتح مکہ کے موقع کے مسلمان) بھی تھے۔ راوی کہتے ہیں : دشمن اپنے مال مویشی اور بیوی بچوں کو ساتھ لایا تھا اور انہیں اپنے پیچھے چھوڑا ہوا تھا۔ پس جب دونوں گروہوں کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی تو کچھ لوگ بھاگ گئے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن ایک سفید خچر پر سوار تھے۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (خچر سے) نیچے اترے اور فرمایا : ” میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ “ راوی کہتے ہیں : اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ (یہ) آواز لگائی اور ان کے درمیان کوئی اور کلام مخلوط نہیں فرمایا چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دائیں طرف رُخ کیا اور آواز لگائی۔ ” اے گروہ انصار ! “ انصار نے جواب میں کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم حاضر ہیں ۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بائیں طرف رُخ کیا اور آواز دی، اے گروہ انصار ! “ انصار نے جواب دیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم حاضر ہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین پر اترے اور (دوبارہ) آمنا سامنا ہوا تو دشمن شکست خوردہ ہوا اور مسلمانوں کو بہت سی غنیمتیں ملیں۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ غنائم طلقاء کو عطا فرمائیں اور ان میں تقسیم کردیں۔ (اس پر) انصار نے کہا۔ سختی کے وقت ہمیں پکارا جاتا ہے اور غنیمتیں ہمارے سوا اوروں کو تقسیم کی جاتی ہیں۔ یہ بات جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام انصار کو جمع فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ان کے ساتھ) ایک قبہ میں بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا : ” اے گروہ انصار ! مجھے تمہاری طرف سے کیا بات پہنچی ہے ؟ “ انصار صحابہ خاموش رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اے گروہ انصار ! اگر لوگ ایک کشادہ اور صاف راستہ پر چلیں اور انصار ایک پہاڑی گھاٹی پر چلیں تو میں انصار کی گھاٹی کو (چلنے کے لئے) پکڑوں گا ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ دنیا (کا سامان) لے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو لے جاؤ اور اپنے گھروں میں پناہ دو ؟ “ انصار کہنے لگے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم راضی ہیں، ہم راضی ہیں۔ ابن عون کہتے ہیں کہ ہشام بن زید کہتے ہیں میں نے حضرت انس سے پوچھا۔ آپ اس وقت حاضر تھے ۔ انہوں نے جواب دیا ۔ تو میں اس وقت کہاں غائب ہوتا ؟۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39759
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٣٣٣)، ومسلم (١٠٥٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39759، ترقيم محمد عوامة 38141)
حدیث نمبر: 39760
٣٩٧٦٠ - حدثنا أبو أسامة عن سليمان (بن) (١) المغيرة (عن ثابت) (٢) عن أنس قال: جاء أبو طلحة يوم حنين يضحك رسول اللَّه ﷺ فقال: يا رسول اللَّه، ألم تر إلى أم سليم معها خنجر؟ فقال لها رسول اللَّه ﷺ: " (يا) (٣) أم سليم ما أردت إليه؟ " قالت: أردت إن (دنا) (٤) إلي أحد منهم طعنته به (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت طلحہ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہنسانے لگے اور فرمایا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے ام سلیم کو نہیں دیکھا ان کے ہاتھ میں چھرا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ام سلیم سے پوچھا۔ ” اے ام سلیم ! اس چھرے سے تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ “ حضرت ام سلیم نے جواب دیا۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ اگر کوئی دشمن میرے قریب آیا تو میں یہ چھرا اسے گھونپ دوں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39760
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٠٩)، وأحمد (١٢١٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39760، ترقيم محمد عوامة 38142)
حدیث نمبر: 39761
٣٩٧٦١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) حماد بن سلمة عن إسحاق ابن عبد اللَّه بن أبي طلحة عن أنس أن النبي ﷺ قال يوم حنين: "من قتل قتيلا فله سلبه"، فقتل (يومئذ أبو طلحة) (٢) عشرين رجلًا؛ فأخذ أسلابهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن ارشاد فرمایا تھا۔ ” جس نے کسی کو قتل کیا تو اس (قاتل) کو مقتول کا سامان ملے گا۔ “ چناچہ حضرت ابو طلحہ نے اس دن بیس آدمی قتل کیے اور ان کا سامان حاصل کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39761
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٢٢٣٦)، والحاكم ٣/ ٣٥٣، وابن حبان (٤٨٤١)، وأبو داود (٢٧١٨)، والبيهقي ٦/ ٣٠٧، والدارمي (٢٤٨٤)، والطحاوي ٣/ ٢٢٧، والضياء (١٥٢٣)، والطيالسي (٢٠٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39761، ترقيم محمد عوامة 38143)
حدیث نمبر: 39762
٣٩٧٦٢ - حدثنا وكيع عن مالك بن مغول عن طلحة بن مصرف قال: انهزم المسلمون يوم حنين (فنودوا) (١): يا أصحاب سورة البقرة، قال: فرجعوا ولهم حنين -يعني: بكاء- (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ بن مصرف سے روایت ہے کہ حنین کے دن مسلمانوں کو شکست ہوئی تو انہیں آواز دی گئی۔ اے سورة بقرہ والو ! راوی کہتے ہیں : پس صحابہ کرام واپس پلٹ آئے اور ان کے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39762
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ طلحة بن مصرف تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39762، ترقيم محمد عوامة 38144)
حدیث نمبر: 39763
٣٩٧٦٣ - حدثنا الفضل بن دكين قال: (حدثنا) (١) يوسف بن صهيب عن عبد اللَّه ابن (بريدة) (٢) أن رسول اللَّه ﷺ يوم حنين انكشف الناس عنه، فلم يبق معه إلا رجل يقال: له زيد، آخذ بعنان بغلته الشهباء، وهي التي أهداها له النجاشي، فقال (٣) رسول اللَّه ﷺ: "ويحك [يا زيد ادع الناس"، فنادى: أيها الناس هذا رسول اللَّه (٤) (يدعوكم) (٥)، فلم يجب أحد عند ذلك، فقال: "ويحك] (٦) (خُصَّ) (٧) الأوس والخزرج"، فقال: يا معشر الأوس والخزرج، هذا رسول اللَّه يدعوكم، فلم يجبه أحد عند ذلك، فقال: "ويحك ادع المهاجرين، فإن للَّه في أعناقهم بيعة" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن لوگ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چھٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صرف ایک آدمی رہ گیا جس کا نام زید تھا۔ اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھورے رنگ کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھا … یہ وہی خچر تھا جو نجاشی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہدیہ کیا تھا … جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید سے کہا ۔ ” تو ہلاک ہوجائے اے زید ! لوگوں کو بلاؤ۔ “ چناچہ زید نے آواز دی۔ اے لوگو ! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں۔ لیکن کسی نے زید کو اس وقت جواب نہیں دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” تو ہلاک ہوجائے ! اوس اور خزرج کو خاص کر کے بلاؤ۔ “ چناچہ حضرت زید نے آواز دی۔ اے اوس و خزرج کے لوگو ! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں۔ لیکن اس وقت بھی زید کو کسی نے جواب نہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (پھر) فرمایا۔ ” تو ہلاک ہوجائے۔ مہاجرین کو بلا لو کیونکہ ان کی گردنوں میں تو اللہ کے لئے بیعت ہے۔ “ راوی کہتے ہیں : مجھے حضرت بریدہ نے بیان کیا کہ لوگوں میں سے ایک ہزار ایسے لوگ (واپس) متوجہ ہوئے جنہوں نے نیاموں کو توڑا اور پھینک دیا تھا۔ پھر یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے (اور لڑے) یہاں تک کہ کفار پر ان کو فتح ہوئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39763
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عبد اللَّه بن بريدة تابعي، وقد أشار للمرسل الحافظ ابن حجر في الإصابة ٢/ ٦٢٧، وقد رواه المؤلف في المسند بهذا السند عن ابن بريدة عن أبيه، وهذا إسناد متصل كما في المطالب العالية (٤٣٠٧)، وهكذا رواه البزار كما في كشف الأستار (١٨٢٨)، والروياني (٣١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39763، ترقيم محمد عوامة 38145)
حدیث نمبر: 39764
٣٩٧٦٤ - قال: فحدثني بريدة أنه أقبل منهم ألف قد طرحوا الجفون وكسروها ثم أتوا رسول اللَّه ﷺ حتى فتح عليهم (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39764
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البزار (١٨٢٨/ كشف)، والروياني (٣١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39764، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 39765
٣٩٧٦٥ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن موسى بن عبيدة قال: أخبرني عمر مولى (غفرة) (١) قال: نزل النبي ﷺ عن بغلة كان عليها فجعل يصرخ بالناس: "يا أهل سورة البقرة، يا أهل بيعة الشجرة، أنا رسول اللَّه (٢) ونبيه، (فتولوا) (٣) مدبرين" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر مولیٰ غفرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس خچر پر تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے نیچے تشریف لائے اور لوگوں کو آواز دینے لگے ۔ ” اے سورة بقرہ والو ! … اے درخت کی (جگہ) بیعت کرنے والو ! میں اللہ کا رسول ہوں (کیا یہ) لوگ پیٹھ پھیر کر چلے جائیں گے ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39765
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ عمر تابعي ضعيف، وموسى ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39765، ترقيم محمد عوامة 38146)
حدیث نمبر: 39766
٣٩٧٦٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) إسماعيل بن أبي خالد قال: رأيت عبد اللَّه بن (أبي) (٢) أوفى بيده ضربة فقلت: ما هذا؟ فقال: ضُربتُها يوم حنين، قال: قلت له: وشهدت مع رسول اللَّه ﷺ حنينا؟ قال: نعم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسمعیل بن ابی خالد روایت کرتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن ابی اوفی کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں زخم کے آثار تھے تو میں نے پوچھا۔ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا۔ غزوہ حنین کے دن میرے اس ہاتھ پر ضرب لگ گئی تھی۔ اسماعیل کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا : آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حنین میں حاضر ہوئے تھے ۔ انہوں نے جواب دیا۔ ہاں !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39766
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٣١٤)، والحاكم (٦٤٣٣)، وأحمد ٤/ ٣٥٥ (١٩١٥٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39766، ترقيم محمد عوامة 38147)
حدیث نمبر: 39767
٣٩٧٦٧ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا موسى عن أخيه عبد اللَّه بن عبيدة أن نفرا من هوازن جاؤا بعد الوقعة فقالوا: يا رسول اللَّه إنا نرغب في رسول اللَّه (١)، قال: "في أي ذلك ترغبون أفي الحسب أم في المال"، قالوا: (بل) (٢) في الحسب ⦗٩٥⦘ (والأمهات) (٣) والبنات، وأما المال فسيرزقنا اللَّه، قال: "أما أنا فأرد ما في يدي وأيدي بني هاشم من عورتكم، وأما الناس (فسأشفع) (٤) لكم إليهم إذا صليت إن شاء اللَّه، (فقوموا) (٥) فقولوا: كذا وكذا"، فعلمهم ما يقولون، (ففعلوا) (٦) (ما) (٧) أمرهم به، وشفع لهم، فلم يلق أحد من (المسلمين) (٨) إلا رد ما في يديه من عورتهم غير الأقرع ابن حابس وعيينة بن حصن، أمسكا امرأتين كانتا في أيديهما (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبیدہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین کے بعد قبیلہ ہوازن کے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہمیں آپ سے ایک رغبت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ” تمہاری رغبت کس چیز میں ہے۔ حسب (رشتہ داروں میں) یا مال میں “ انہوں نے جواب دیا (مال میں نہیں) بلکہ حسب میں، ماؤں میں اور بیٹیوں میں۔ رہا مال تو وہ اللہ تعالیٰ ہمیں پھر دے دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” جو کچھ میرے اور بنو ہاشم کے قبضہ میں موجود ہے وہ تو میں واپس کرتا ہوں اور باقی لوگوں سے میں تمہارے لئے سفارش کروں گا جب میں نماز پڑھ لوں گا۔ انشاء اللہ۔ پس تم کھڑے ہوجانا اور یوں یوں کہنا۔ پس جو انہوں نے کہنا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں وہ سکھا دیا ۔ چناچہ انہوں نے وہی کچھ کہا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی سفارش فرمائی۔ چناچہ جو کچھ عورتوں میں سے مسلمانوں کے قبضے میں موجود تھیں وہ سارا کچھ مسلمانوں نے واپس کردیا سوائے حضرت اقرع بن حابس کے اور عیینہ بن حصن کے ۔ جو عورتیں ان دونوں کے پاس تھیں انہوں نے انہیں اپنے پاس ہی رکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39767
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ عبد اللَّه تابعي، وأخوه موسى ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39767، ترقيم محمد عوامة 38148)
حدیث نمبر: 39768
٣٩٧٦٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن أشعث عن الحكم بن (عتيبة) (١) قال: لما فر الناس عن النبي ﷺ يوم حنين جعل النبي ﷺ يقول: "أنا النبي لا كذب … أنا ابن عبد المطلب" قال: فلم يبق معه إلا أربعة: ثلاثة من بني هاشم، ورجل من غيرهم: علي ابن أبي طالب والعباس وهما بين يديه، وأبو سفيان بن (الحارث) (٢) آخذ بالعنان، وابن مسعود من جانبه الأيسر، قال: فليس يقبل نحوه أحد إلا قتل، والمشركون حوله صرعى بحساب الاكليل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بن عتیبہ روایت کرتے ہیں کہ جب غزوہ حنین کے دن بہت سے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے بھاگ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” میں جھوٹا نبی نہیں ہوں میں تو عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔ “ راوی کہتے ہیں : پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صرف چار آدمی رہ گئے۔ تین آدمی بنو ہاشم میں سے تھے اور ایک آدمی ان کے سوا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب اور حضرت عباس ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تھے اور حضرت ابو سفیان، ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خچر کی) لگام پکڑے ہوئے تھے۔ اور ابن مسعود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جو کافر بھی بڑھتا تھا وہ قتل کردیا جاتا تھا۔ مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد قتل ہوئے پڑے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39768
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحكم من تابعي التابعين، وأشعث بن سوار ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39768، ترقيم محمد عوامة 38149)
حدیث نمبر: 39769
٣٩٧٦٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) حميد عن أنس بن مالك ⦗٩٦⦘ قال: أعطى رسول اللَّه ﷺ من غنائم (حنين) (٢)؛ الأقرع بن (حابس) (٣) مائة من الإبل وعيينة بن حصن مائة من الإبل؛ فقال ناس من الأنصار: يعطي رسول اللَّه غنائمنا ناسا تقطر سيوفنا من دمائهم أو سيوفهم من دمائنا، فبلغ ذلك النبي ﷺ، فأرسل إليهم فجاءوا فقال (لهم) (٤): " (٥) فيكم غيركم؟ " قالوا: لا إلا ابن أختنا، قال: "ابن اخت القوم منهم"، فقال: "قلتم كذا وكذا، أما ترضون أن يذهب الناس بالشاء والبعير، وتذهبون بمحمد (٦) إلى دياركم"، قالوا: بلى يا رسول اللَّه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "الناس دثار والأنصار شعار، الأنصار كرشي وعيبتي، ولولا الهجرة لكنت امرأ من الأنصار" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کی غنائم میں سے اقرع بن حابس کو ایک سو اونٹ عطا فرمائے اور عیینہ بن حصن کو بھی ایک سو اونٹ عطا فرمائے۔ انصار میں سے بعض لوگوں نے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری (حاصل کردہ) غنائم ایسے لوگوں کو عطاء فرمائی ہیں جن کے (رشتہ داروں کے) خون سے ہماری تلواریں تر ہیں یا ان کی تلواریں ہمارے (رشتہ داروں کے) خون سے تر ہیں ؟ یہ بات جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان انصار کی طرف قاصد بھیجا چناچہ یہ تمام انصار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا : کیا تم میں تمہارے (انصار کے) سوابھی کوئی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : نہیں ! لیکن ہمارے بھانجے (ہمارے ساتھ ہیں) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” قوم کے بھانجے بھی قوم کا حصہ ہیں “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” تم لوگوں نے یہ یہ بات کہی ہے ؟ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ باقی لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم لوگ اپنے گھروں میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لے جاؤ ؟ “ انصار نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیوں نہیں ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگ اوپر کا کپڑا ہیں اور انصار جسم کے ساتھ والا کپڑا ہیں۔ انصار میرے مخلص دوست اور راز دار ہیں اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک آدمی ہوتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39769
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٣٣١)، ومسلم (١٠٥٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39769، ترقيم محمد عوامة 38150)
حدیث نمبر: 39770
٣٩٧٧٠ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: (أخبرنا) (١) موسى بن عبيدة عن عبد اللَّه بن عبيدة أن أبا سفيان وحكيم بن حزام وصفوان بن أمية خرجوا يوم حنين ينظرون على من تكون (الدَّبْرَة) (٢)، فمر بهم أعرابي فقالوا: يا عبد اللَّه ما فعل الناس؟ قال: (لا) (٣) (يستقبلها) (٤) محمد أبدا، قال: و (ذلك) (٥) حين تفرق عنه ⦗٩٧⦘ أصحابه، فقال بعضهم لبعض: لربٌ من قريش أحب إلينا من رب (من) (٦) الأعراب، يا فلان اذهب فأتنا بالخبر -لصاحب لهم-، قال: فذهب حتى كان بين ظهراني القوم، فسمعهم يقولون: يا للأوس، يا للخزرج وقد (علوا) (٧) القوم، وكان شعار النبي ﷺ (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبیدہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن ابو سفیان، حکیم بن حزام اور صفوان بن امیہ (اس ارادہ سے نکلے کہ) وہ دیکھیں کس کو شکست ہوتی ہے۔ (اس دوران) ان کے پاس سے ایک دیہاتی گزراتو انہوں نے پوچھا۔ اے عبد اللہ ! لوگوں کا کیا بنا ؟ اس نے جواب دیا ۔ محمد کبھی بھی حنین سے آگے نہیں جاسکتا۔ راوی کہتے ہیں : یہ اس وقت کا تاثر تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متفرق ہوگئے تھے … تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا۔ قریش میں سے کوئی رب (بڑا) بن جائے یہ بات ہمیں اس سے زیادہ محبوب ہے کہ دیہاتیوں میں سے کوئی رب (بڑا) بنے۔ پھر آپس میں سے ایک سے کہا۔ اے فلاں ! جاؤ اور ہمارے پاس کوئی خبر لاؤ۔ راوی کہتے ہیں؛ وہ آدمی چل پڑا یہاں تک کہ جب وہ قوم کے درمیان پہنچا تو اس نے انہیں یہ کہتے ہوئے سُنا۔ اے اوس، اے خزرج ! وہ لوگوں پر بلند ہوگئے۔ وہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شعار تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39770
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ موسى ضعيف وأخوه عبد اللَّه تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39770، ترقيم محمد عوامة 38151)
حدیث نمبر: 39771
٣٩٧٧١ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد عن أبي سعيد الخدري قال: لما قسم رسول اللَّه ﷺ السبي بالجعرانة أعطى عطايا قريشا وغيرها من (العرب) (١)، ولم يكن في الأنصار منها شيء، (فكثرت) (٢) (القالة) (٣) وفشت حتى قال قائلهم: أما رسول اللَّه (فقد) (٤) لقي قومه. قال: فأرسل إلى سعد بن عبادة فقال: "ما مقالة بلغتني عن قومك أكثروا فيها؟ " قال: فقال له سعد: فقد كان ما بلغك. قال: "فأين أنت من (ذاك؟) (٥) " قال: ما أنا إلا رجل من قومي، قال: فاشتد غضبه، وقال: "اجمع قومك، ولا يكن معهم غيرهم". قال: فجمعهم في حظيرة من حظائر (السبي) (٦)، وقام على بابها وجعل لا ⦗٩٨⦘ يترك إلا من كان من قومه، وقد ترك رجالا من المهاجرين، (ورد) (٧) أناسًا. قال: ثم جاء النبي ﷺ (٨) يعرف في وجهه الغضب (فقال) (٩): "يا معشر الأنصار، [ألم أجدكم ضلالا فهداكم اللَّه"، فجعلوا يقولون: نعوذ باللَّه من غضب اللَّه و (من) (١٠) غضب رسوله: "يا معشر الأنصار [ألم أجدكم عالة فأغناكم اللَّه؟ "، فجعلوا يقولون: نعوذ باللَّه من غضب اللَّه وغضب رسوله، "يا معشر الأنصار] (١١) [ألم أجدكم أعداء فألف اللَّه بين قلوبكم"، فيقولون: نعوذ باللَّه من غضب اللَّه (١٢) وغضب رسوله] (١٣)، (فقال) (١٤): "ألا تجيبون؟ " قالوا: اللَّه ورسوله أمنُّ وأفضل، فلما سري عنه قال: "ولو شئتم لقلتم فصدقتم (وصدقتم) (١٥): ألم نجدك طريدا فآويناك، ومكذبا فصدقناك، وعائلا فآسيناك، ومخذولا فنصرناك"، فجعلوا يبكون ويقولون: اللَّه ورسوله أمن وأفضل، (١٦) "أوجدتم من شيء من دنيا أعطيتها قومًا أتألفهم على الإسلام، (و) (١٧) وكلتكم إلى اسلامكم، لو سلك الناس واديًا أو شعبًا وسلكتم واديًا أو شعبًا لسلكت واديكم (أو) (١٨) شعبكم، أنتم شعار، والناس دثار، ولولا الهجرة لكنت امرأ من الأنصار". ⦗٩٩⦘ ثم رفع يديه حتى إني لأرى ما تحت منكبيه فقال: "اللهم اغفر للأنصار (ولأبناء الأنصار) (١٩) ولأبناء أبناء الأنصار، أما ترضون أن يذهب الناس بالشاة والبعير، وتذهبون برسول اللَّه (٢٠) إلى بيوتكم"، فبكى القوم حتى (أخضلوا) (٢١) لحاهم وانصرفوا وهم يقولون: رضينا باللَّه ربا، وبرسوله (٢٢) حظا ونصيبا (٢٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام جعرانہ میں قیدیوں کو تقسیم فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش وغیرہ کو قیدی عطا فرمائے لیکن ا ن قیدیوں میں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار صحابہ کو کچھ بھی نہ دیا۔ اس پر بہت سی باتیں کہی گئیں اور پھیلائی گئیں۔ یہاں تک کہ ایک کہنے والے نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! تو اپنی قوم کے ساتھ مل گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد بن عبادہ کی طرف قاصد بھیجا اور استفسار فرمایا کہ ” مجھے تمہاری جانب سے کیسی بات پہنچی ہے جو وہ بہت زیادہ کر رہے ہیں ؟ “ راوی کہتے ہیں : انہوں نے جواب دیا۔ یقینا ایسی بات ہوئی ہوگی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : تم اس کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا۔ میں تو اپنی قوم کا محض ایک فرد ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ زیادہ ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اپنی قوم کو جمع کرو اور ان کے ساتھ کوئی اور (قوم) نہ ہو۔ راوی کہتے ہیں : حضرت سعد نے انصار کو قیدیوں کے باڑوں میں سے ایک باڑہ میں جمع کیا اور خود اس باڑہ کے دروازہ پر کھڑے ہوگئے اور جو ان کی قوم میں سے آتا تھا یہ اسی کو (اندر جانے کے لئے) چھوڑتے تھے۔ اور کچھ مہاجرین کو بھی انہوں نے (اندر جانے کے لئے) چھوڑ دیا ۔ اور کچھ کو واپس کردیا۔ راوی کہتے ہیں : پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ، غصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور سے ظاہر ہو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” اے گروہ انصار ! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت دی ؟ “ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے۔ ” اے گروہ انصار ! کیا میں نے تمہیں تنگدست نہیں پایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں غنی بنادیا ؟ “ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غصہ سے۔ ” اے گروہ انصار ! کیا میں نے تمہیں (باہم) دشمن نہیں پایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا “ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ تم جواب کیوں نہیں دیتے ؟ انصار نے کہا۔ اللہ اور اس کے رسول زیادہ بڑے محسن ہیں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (یہ غصہ کی حالت) ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم چاہتے تو تم یہ بات کہتے اور سچ کہتے، تمہاری تصدیق بھی کی جاتی کہ : ” کیا ہم نے آپ کو نکالا ہوا نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کو ٹھکانا دیا ۔ اور کیا ہم نے آپ کو جھٹلایا ہوا نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کی تصدیق کی ۔ اور کیا ہم نے آپ کو تنگدست نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کے ساتھ موالات کیا۔ اور کیا ہم نے آپ کو بےیارو مدد گار نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کی مدد کی ؟ “ اس پر انصار نے رونا شروع کیا اور کہنے لگے۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ بڑے محسن اور فضیلت والے ہیں۔ “ کیا تم نے دنیا کی اس چیز کو جو میں نے کسی قوم کو اس لئے دی تاکہ میں انہیں اسلام کے ساتھ مضبوط کر سکوں… محسوس کیا ہے … اور میں نے تمہیں تمہارے اسلام کے سپرد کردیا (یعنی تم پختہ ایمان والے ہو) اگر سب لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور تم انصار ایک دوسری وادی یا گھاٹی میں چلو تو البتہ میں تمہاری وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ تم لوگ جسم سے متصل کپڑے (کی طرح) ہو اور بقیہ لوگ جسم کے اوپر والے کپڑے (کی طرح) ہیں۔ اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک فرد ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند فرمائے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مونڈھوں کے نیچے کا حصہ (بغلیں) دکھائی دینے لگیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی ۔ ” اے اللہ ! انصار کی مغفرت فرما، اور انصار کے بچوں کی مغفرت فرما۔ اور انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت فرما۔ کیا تم لوگ اس بات پر راضی نہیں ہو کہ باقی لوگ تو بکریاں، اونٹ لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں میں اللہ کے رسول کو لے کر جاؤ ؟ “ اس پر تمام صحابہ رونے لگے یہاں تک کہ ان کی داڑھیاں تر ہوگئیں۔ اور وہ لوگ یہ کہتے ہوئے واپس ہوئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حصہ اور نصیب ہونے پر راضی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39771
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن إسحاق صدوق صرح بالسماع عند أحمد، أخرجه أحمد (١١٧٣٠)، وأبو يعلى (١٠٩٢)، والبيهقي في الدلائل ٥/ ١٧٦، وعبد الرزاق (١٩٩١٨)، وعبد بن حميد (٩١٥)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ٢/ ٧٢، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٧٢٠)، وابن سعد ٢/ ٢٥١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39771، ترقيم محمد عوامة 38152)
حدیث نمبر: 39772
٣٩٧٧٢ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة قال: (أخبرنا) (٢) يعلى ابن عطاء عن أبي همام عبد اللَّه بن يسار عن أبي عبد الرحمن الفهري قال: كنت مع رسول اللَّه ﷺ في غزوة حنين، فسرنا في يوم قائظ شديد الحر، فنزلنا تحت ظلال الشجر، فلما زالت الشمس لبست لامتي وركبت (٣) فرسي، فانطلقت إلى رسول اللَّه ﷺ وهو في فسطاطه فقلت: السلام عليك يا رسول اللَّه ورحمة اللَّه، الرواح حان الرواح، فقال: " أجل"، فقال: "يا بلال"، فثار من تحت (سمرة) (٤) كأن ظله ظل طائر، فقال: لبيك وسعديك وأنا فداؤك، فقال: "اسرج لي فرسي"، فأخرج سرجا دفتاه من ليف، ليس فيهما أشر ولا بطر، قال: فأسرج، (قال) (٥): فركب ⦗١٠٠⦘ وركبنا (وصاففناهم) (٦) عشيتنا وليلتنا، فتشامت الخيلان، فولى المسلمون مدبرين كما قال اللَّه (٧)، فقال رسول اللَّه ﷺ: "يا عباد اللَّه أنا عبد اللَّه ورسوله"، (ثم قال: "يا معشر المهاجرين أنا عبد اللَّه ورسوله") (٨)، ثم اقتحم رسول اللَّه ﷺ عن فرسه فأخذ كفا من تراب، فأخبرني الذي كان أدنى إليه مني أنه ضرب به وجوههم، وقال: "شاهت الوجوه"، (قال) (٩): فهزمهم اللَّه (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن الفہری سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں : کہ میں غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ ہم ایک انتہائی سخت گرمی والے دن میں چلے پھر ہم نے درختوں کے سایہ میں پڑاؤ کیا۔ پھر جب سورج زوال کر گیا تو میں نے اپنا سامان حرب پہن لیا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوگیا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چل دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خیمہ میں تھے۔ میں نے (جا کر) کہا : السَّلاَمُ عَلَیْک یَا رَسُولَ اللہِ ، وَرَحْمَۃُ اللہِ روانگی ! روانگی کا وقت ہوگیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اے بلال ! پس وہ بھی ایک ایسے درخت کے نے چن سے گرد جھاڑتے ہوئے اٹھے جس کا سایہ پرندے کے سایہ کی طرح تھا۔ اور انہوں نے (آ کر) عرض کیا۔ میں آپ پر فدا ہوں۔ میں حاضر ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا؛ میرے گھوڑے پر زین کس دو ۔ چناچہ حضرت بلال نے ایک زین نکالی جس کے اطراف میں گھاس لگا ہوا تھا۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر حضرت بلال نے گھوڑے پر زین کس دی۔ ٢۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سوار ہوگئے اور ہم بھی سوار ہوگئے اور ہم نے رات ، دن ان کے سامنے صف بندی کی اور مسلمانوں اور کافروں کے گھڑ سواروں کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی۔ جیسا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے … مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز دی۔ ” اے خدا کے بندو ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے گروہ مہاجرین ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھوڑے اترے اور ایک مٹھی مٹی کی لی … مجھے اس صحابی نے بتایا جو مجھ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مٹی ان کے چہروں کی طرف پھینکی اور فرمایا ۔ ” چہرے بگڑ جائیں۔ “ راوی کہتے ہیں : پس اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی۔ ٣۔ یعلی رضی اللہ عنہ بن عطاء کہتے ہیں۔ مجھ سے مخالفین کے بیٹوں نے اپنے آباء کی سند سے بیان کیا کہ ہم میں سے کوئی بھی نہیں بچا مگر یہ کہ ا س کی آنکھیں اور منہ مٹی سے بھر گیا اور ہم نے آسمان اور زمین کے درمیان ایک گھنٹی کی آواز سُنی جیسا کہ لوہے کی طشت پر لوہا مارنے سے نکلتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39772
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39772، ترقيم محمد عوامة 38153)
حدیث نمبر: 39773
٣٩٧٧٣ - قال يعلى بن عطاء: فحدثني (أبناؤهم) (١) عن آبائهم أنهم قالوا: لم يبق منا أحد إلا امتلأت عيناه وفمه ترابًا، وسمعنا صلصلة بين السماء والأرض كإمرار الحديد على (الطست) (٢) (الجديد) (٣) (٤).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39773
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39773، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 39774
٣٩٧٧٤ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن إسحاق بن عبد اللَّه بن أبي طلحة عن أنس بن مالك أن هوازن (جاءت يوم حنين بالصبيان) (٢) ⦗١٠١⦘ والنساء والإبل والغنم، فجعلوها صفوفا يكثِّرون على رسول اللَّه ﷺ فلما التقوا ولى المسلمون كما قال اللَّه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "يا عباد اللَّه! أنا عبد اللَّه ورسوله"، ثم قال: "يا معشر المهاجرين! أنا عبد اللَّه ورسوله"، قال: فهزم اللَّه المشركين ولم يضرب بسيف (ولم) (٣) يطعن برمح، قال: وقال رسول اللَّه ﷺ يومئذ: "من قتل كافرا فله سلبه"، قال: فقتل أبو طلحة يومئذ عشرين رجلًا، فأخذ أسلابهم، وقال أبو قتادة: يا رسول اللَّه إني ضربت رجلا على (حبل العاتق) (٤) وعليه درع له (فاتخفضت) (٥) عنه، وقد قال حماد: فأعجلت عنه، قال: "فانظر من أخذها؟ " قال: فقام رجل فقال: أنا أخذتها فارضه منها وأعطنيها، وكان رسول اللَّه ﷺ لا يسأل شيئا إلا أعطاه أو سكت، فسكت رسول اللَّه ﷺ، قال: فقال عمر: لا واللَّه لا (يفيئها) (٦) اللَّه على أسد من أسده ويعطيكها، قال: فضحك رسول اللَّه ﷺ، (و) (٧) قال: "صدق عمر"، ولقي أبو طلحة أم سليم ومعها خنجر فقال أبو طلحة: يا أم سليم (ما) (٨) هذا معك؟ قالت: أردت إن دنا مني بعض المشركين أن أبعج به بطنه، فقال أبو طلحة: يا رسول اللَّه! ألا تسمع ما تقول أم سليم؟ قالت: يارسول اللَّه (قتل) (٩) (من) (١٠) بعدنا من الطلقاء، انهزموا بك يا رسول اللَّه فقال: "إن اللَّه قد كفى وأحسن" (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہوازن والے غزوہ حنین کے موقع پر (اپنے) بچوں عورتوں، اونٹوں اور بکریوں کو ساتھ لائے اور انہیں صفوں کی حالت میں جمع کردیا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے زیادہ لگیں۔ پس جب آمنا سامنا ہوا ۔ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ مسلمان بھاگ نکلے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ کے بندو ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اے گروہ مہاجرین ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں۔ “ راوی کہتے ہیں : پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست سے دوچار کیا ۔ کوئی تلوار نہیں ماری گئی اور نہ ہی کوئی نیزہ بازی کی گئی ۔ راوی کہتے ہیں : اور رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن ارشاد فرمایا : ” جو کسی کافر کو قتل کرے گا وہی اس کا سامان لے گا۔ “ حضرت انس کہتے ہیں، چناچہ اس دن حضر ت ابو طلحہ نے بیس (٢٠) آدمیوں کو قتل کیا اور ان کے سامان کو لے لیا۔ حضرت ابو قتادہ کہتے ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں نے ایک آدمی کو گردن پر تلوار مار کر ہلاک کیا اس کے جسم پر زرہ تھی لیکن مجھ سے پہلے ہی کسی نے وہ زرہ اتار لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم دیکھ لو کس نے وہ زرہ لی ہے۔ راوی کہتے ہیں : ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا۔ میں نے وہ زرہ لی ہے۔ آپ اس کو اس زرہ سے راضی کردیں۔ (یعنی چھوڑنے پر) اور یہ زرہ مجھے دے دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب بھی کسی شئی کا سوال کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ چیز عطا فرما دیتے یا خاموش رہتے (یعنی انکار نہ کرتے) ۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یہ بات سن کر) خاموش ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمر کہنے لگے۔ نہیں خدا کی قسم ! اللہ تعالیٰ اپنے شیروں میں سے ایک شیر پر سے یہ غنیمت نہیں ہٹائیں گے اور نہ یہ تجھے دیں گے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” عمر نے سچ کہا ہے۔ “ حضرت ابو طلحہ کی ام سلیم سے ملاقات ہوئی۔ حضرت ام سلیم کے پاس چھُرا تھا۔ حضرت ابو طلحہ نے پوچھا۔ اے اُم سلیم ! یہ آپ کے پاس کیا ہے ؟ وہ فرمانے لگیں۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ اگر مشرکنا میں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اس چھرے کے ذریعہ سے پیٹ پھاڑ کر اس کی آنتیں باہرنکال دوں گی۔ حضرت ابو طلحہ نے ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اُم سلیم جو کچھ کہہ رہی ہیں۔ آپ نے نہیں سُنا۔ حضرت ام سلیم کہنے لگیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہمارے بعد طلقاء میں سے جو لوگ ہیں ان کو خوب قتل کریں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ لوگ آپ کے ذریعہ (خوب) شکست کھاچکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا : ” یقینا اللہ کافی ہے اور خوب ہے۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39774
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٣٩٧٥)، ومسلم (١٨٠٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39774، ترقيم محمد عوامة 38154)
حدیث نمبر: 39775
٣٩٧٧٥ - حدثنا هاشم بن القاسم قال: (حدثنا) (١) عكرمة بن عمار قال: حدثنا إياس بن سلمة قال: حدثني أبي قال: غزوت مع رسول اللَّه ﷺ هوازن فبينما نحن نتضحى، وعامتنا مشاة فينا ضعفة، إذ جاء رجل على جمل أحمر، فانتزع طلقا من (حقبه) (٢) فقيد به جمله رجل شاب، ثم جاء يتغدى مع القوم، فلما رأى ضعفهم وقلة (ظهرهم) (٣) خرج يعدو إلى جمله فأطلقه ثم أناخه فقعد عليه ثم خرج يركضه، واتبعه رجل من أسلم من صحابة النبي ﷺ على ناقة ورقاء هي أمثل ظهر القوم، فقعد فاتبعه، فخرجت (أعدو) (٤) فأدركته ورأس الناقة عند ورك الجمل وكنت عند ورك الناقة، (ثم) (٥) تقدمت حتى أخذت بخطام الجمل فأنخته، فلما وضع ركبتيه بالأرض اخترطت سيفي فأضرب رأسه، فندر فجئت (براحلته) (٦) وما عليها (أقوده) (٧) فاستقبل رسول اللَّه ﷺ مقبلا فقال: "من قتل الرجل؟ " فقالوا: ابن الأكوع، فنفله سلبه (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن سلمہ ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوازن کے جہاد میں شرکت کی تھی۔ ہم صبح کا کھانا کھا رہے تھے اور ہمارے اکثر لوگ پیدل تھے اور ہم میں کمزور لوگ بھی تھے کہ ایک آدمی سرخ اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور اس نے اپنے (اونٹ) کے کجاوہ سے ایک چمڑے کی رسی کو پھینکا اور ایک نوجوان آدمی نے اس کے ساتھ اس کے اونٹ کو باندھ دیا۔ پھر وہ آیا اور اس نے لوگوں کے ہمراہ کھانا کھایا۔ جب اس نے لوگوں کی کمزوری اور کمی کو دیکھا تو وہ اپنے اونٹ کی طرف بھاگ نکلا اور اس نے اس کو کھول لیا پھر اس کو بٹھایا اور اس پر سوار ہوگیا اور پھر اس اونٹ کو مہمیز کرنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی … جن کا تعلق بنو اسلم سے تھا … ایک اونٹنی پر ان کے پیچھے گئے۔ میں نے بھاگتے ہوئے اس شخص کا پیچھا کیا۔ ابھی بنو اسلم کے آدمی کی اونٹنی اس آدمی کے اونٹ کے قریب ہی پہنچی تھی کہ میں نے آگے بڑھ کر اونٹ کی لگام کو پکڑ لیا۔ جونہی وہ نیچے ہوئے میں نے اس آدمی کو قتل کردیا۔ پھر میں وہ سواری اور اس کا سامان لے کر حاضر ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ اس آدمی کو کس نے مارا ؟ لوگوں نے بتایا کہ ابن اکوع نے۔ پس آپ نے اس کا ساز و سامان مجھے دے دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39775
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٥٤)، وأحمد (١٦٥٢٣)، وأصله عند البخاري (٣٠٥١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39775، ترقيم محمد عوامة 38155)
حدیث نمبر: 39776
٣٩٧٧٦ - حدثنا عفان (حدثنا) (١) وهيب (حدثنا) (٢) عمرو بن يحيى عن عباد بن تميم عن عبد اللَّه بن زيد قال: لما أفاء اللَّه على رسوله يوم حنين ما أفاء قسم في ⦗١٠٣⦘ الناس في المؤلفة قلوبهم، ولم يقسم ولم يعط الأنصار شيئًا، فكأنهم وجدوا إذ لم يصيبهم ما أصاب الناس، فخطبهم فقال: "يا معشر الأنصار! ألم أجدكم ضلالا فهداكم اللَّه بي، وكنتم متفرقين فجمعكم اللَّه بي، وعالة فأغناكم اللَّه بي"، قال: كلما قال شيئا قالوا: اللَّه ورسوله أمنُّ، قال: "فما يمنعكم أن تجيبوا؟ " قالوا: اللَّه ورسوله أمنُّ، قال: "لو شئتم قلتم: جئتنا كذا وكذا، أما ترضون أن يذهب الناس بالشاة والبعير، وتذهبون برسول (٣) اللَّه إلى رحالكم، (لولا) (٤) الهجرة لكنت امرأ من الأنصار، لو سلك الناس واديا أو شعبا لسلكت وادي الأنصار وشعبهم، الأنصار شعار والناس دثار، وإنكم ستلقون بعدي أثرة فاصبروا حتى تلقوني على الحوض" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن زید سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو غزوہ حنین میں جو مال غنیمت میں دینا مقصود تھا وہ عطا فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مال لوگوں میں اور مؤلفۃ القلوب میں تقسیم فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار میں کوئی مال بھی تقسیم نہیں فرمایا اور ان کو نہیں دیا۔ اس پر گویا جب انہیں حصہ نہیں ملا تو انہوں نے محسوس کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا۔ ” اے گروہ انصار ! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے ہدایت بخشی اور تم لوگ پراگندہ و منتشر تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے اکٹھا فرمایا۔ اور کیا میں نے تمہیں تنگدست نہیں پایا تھا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے غنی کردیا۔ “ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی کوئی بات پوچھتے تو صحابہ جوا ب میں کہتے : اللہ اور اس کے رسول زیادہ بڑے محسن ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں جواب دینے سے کیا چیز مانع ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا۔ اللہ اور اس کے رسول زیادہ بڑے محسن ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہو تو یوں کہو۔ آپ ایسی ایسی حالت میں ہمارے پاس آئے تھے۔ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ تو بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم اپنے کجاو وں کی طرف اللہ کے رسول کو لے جاؤ ؟ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک آدمی ہوتا ۔ اگر سب لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ انصار لوگ جسم سے متصل کپڑے (کی مانند) ہیں اور بقیہ لوگ جسم سے اوپر کے کپڑے (کی مانند) ہیں۔ تم لوگ میرے بعد ترجیح نفس کا مشاہدہ کرو گے لیکن تم صبر کرنا، یہاں تک کہ تم میرے ساتھ حوض پر آ ملو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39776
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٣٣٠)، ومسلم (١٠٦١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39776، ترقيم محمد عوامة 38156)