کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
حدیث نمبر: 39738
٣٩٧٣٨ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): (حدثنا) (٢) أبو خالد الأحمر عن حجاج عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس أن رسول اللَّه ﷺ بعث إلى مؤتة فاستعمل زيدا فإن قتل زيد فجعفر، فإن قتل جعفر فابن رواحة، فتخلف ابن رواحة (يجمع) (٣) مع النبي ﷺ، فرآه النبي ﷺ فقال: "ما خلفك؟ " قال: أجمع معك، قال: "لغدوة أو روحة في سبيل اللَّه خير من الدنيا وما فيها" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مؤتہ کے طرف لشکر روانہ فرمایا اور ان پر حضرت زید کو حاکم مقرر فرمایا اور اگر یہ قتل ہوجائیں تو پھر حضرت جعفر امیر ہوں گے اور اگر یہ بھی قتل ہوجائیں تو پھر ابن رواحہ امیر ہوں گے۔ حضرت ابن رواحہ لشکر سے پیچھے رہ گئے اور انہوں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جمعہ کی نماز ادا فرمائی چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا اور پوچھا۔ تمہیں کس چیز نے (لشکر سے) پیچھے کردیا ؟ انہوں نے جواب دیا۔ (اس لئے رُکا) تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جمعہ کی نماز ادا کرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کے راستہ میں ایک صبح یا ایک شام دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39738
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39738، ترقيم محمد عوامة 38120)
حدیث نمبر: 39739
٣٩٧٣٩ - حدثنا سليمان بن حرب قال: (حدثنا) (١) الأسود بن شيبان عن خالد ابن سُمَيْر قال: قدم علينا (عبد اللَّه) (٢) بن رباح الأنصاري، قال: وكانت الأنصار تفقهه، قال: (حدثنا) (٣) أبو قتادة فارس رسول اللَّه ﷺ قال: بعث رسول اللَّه ﷺ جيش الأمراء وقال: "عليكم زيد بن حارثة، فإن أصيب زيد فجعفر بن أبي طالب، فإن أصيب جعفر فعبد اللَّه بن رواحة"، فوثب جعفر فقال: يا رسول اللَّه ما كنت أرهب أن تستعمل علي زيدا فقال: "امض، فإنك لا تدري أي ذلك خير"، فانطلقوا فلبثوا ما شاء اللَّه. ثم أن رسول اللَّه ﷺ صعد المنبر وأمر فنودي الصلاة جامعة، فاجتمع الناس إلى رسول اللَّه ﷺ فقال: "ثاب خير، ثاب خير -ثلاثًا- أخبركم عن جيشكم هذا الغازي، (انطلقوا) (٤) فلقوا العدو (فقتل) (٥) زيد شهيدًا، فاستغفروا له، ثم أخذ اللواء جعفر بن أبي طالب فشد على القوم حتى قتل شهيدًا، اشهدوا له بالشهادة واستغفروا له، ثم أخذ اللواء (عبد اللَّه بن رواحة فأثبت قدميه حتى قتل شهيدًا، فاستغفروا له، ثم أخذ اللواء) (٦) خالد بن الوليد ولم يكن من الأمراء، هو أمَّرَ نفسه"، ثم قال رسول اللَّه ﷺ (٧): " [اللهم إنه سيف (٨) من سيوفك (فأنت) (٩) ⦗٧٨⦘ تنصره"، فمن يومئذ سمي سيف اللَّه (١٠)، وقال رسول اللَّه ﷺ] (١١): "انفروا (فأمدوا) (١٢) إخوانكم ولا (١٣) (يتخلفن) (١٤) منكم أحد"، فنفروا مشاة وركبانا، وذلك في حر شديد. فبينما هم ليلة (مما يلين) (١٥) (عن) (١٦) الطريق (إذ) (١٧) نعس رسول اللَّه ﷺ حتى مال عن (الرحل) (١٨)، فأتيته فدعمته بيدي، فلما وجد مس يد رجل اعتدل فقال: "من هذا؟ " فقلت: أبو قتادة، (فسار أيضًا، ثم نعس حتى مال عن (الرحل) (١٩) فأتيته فدعمته بيدي، فلما وجد مس يد رجل اعتدل فقال: "من هذا؟ " فقلت: أبو قتادة) (٢٠)، قال: "في الثانية أو الثالثة"، قال: "ما أراني إلا قد شققت عليك منذ الليلة"، قال: قلت كلا بأبي أنت وأمي، ولكن أرى الكرى والنعاس قد شق عليك، فلو عدلت (فنزلت) (٢١) حتى يذهب كراك، قال: "إني أخاف أن (يخذل) (٢٢) الناس"، قال: (قلت) (٢٣): كلا بأبي (أنت) (٢٤) وأمي، قال: فابغنا مكانا ⦗٧٩⦘ (خمرًا) (٢٥)، قال: فعدلت عن الطريق، فإذا (أنا) (٢٦) بعقدة من شجر، فجئت فقلت: يا رسول اللَّه هذه عقدة من شجر قد أصبتها. قال: فعدل رسول اللَّه ﷺ وعدل معه من يليه من أهل الطريق، (فنزلوا) (٢٧) واستتروا بالعقدة من الطريق، فما استيقظنا إلا بالشمس طالعة علينا فقمنا (ونحن) (٢٨) (وهلين) (٢٩)، فقال رسول اللَّه ﷺ: "رويدا رويدا"، حتى تعالت الشمس. ثم قال: "من كان يصلي هاتين الركعتين قبل صلاة الغداة فليصلهما"، فصلاهما من كان يصليهما (ومن كان لا يصليهما) (٣٠)، ثم أمر فنودي بالصلاة، ثم تقدم رسول اللَّه ﷺ فصلى بنا، فلما سلم قال: "إنا نحمد اللَّه، (أنا) (٣١) لم نكن في شيء من أمر الدنيا، يشغلنا عن صلاتنا، ولكن أرواحنا كانت بيد اللَّه، أرسلها أنى شاء، ألا فمن أدركته هذه الصلاة من عبد صالح فليقض معها مثلها". قالوا: يا رسول اللَّه العطش، قال: "لا عطش يا أبا قتادة، أرني الميضأة"، قال: فأتيته بها (فجعلها) (٣٢) في (ضِبْنِهِ) (٣٣)، ثم التقم فمها، فاللَّه أعلم أنفث فيها أم لا، ثم قال: "يا أبا قتادة أرني (الغمر) (٣٤) على الراحلة"، فأتيته بقدح بين القدحين ⦗٨٠⦘ فصب فيه، فقال: "اسق القوم"، ونادى رسول اللَّه ﷺ ورفع صوته: "ألا من أتاه (إناؤه) (٣٥) فليشربه"، فأتيت رجلا فسقيته. ثم رجعت إلى رسول اللَّه ﷺ بفضلة القدح، (فذهبت) (٣٦) فسقيت الذي يليه حتى سقيت أهل تلك الحلقة، ثم رجعت إلي رسول اللَّه ﷺ (٣٧) بفضلة القدح فذهبت فسقيت حلقة أخرى حتى سقيت (سبع) (٣٨) رفق، وجعلت أتطاول (أنظر) (٣٩) هل بقي فيها شيء؟ فصب رسول اللَّه ﷺ في القدح فقال لي: "اشرب"، قال: قلت: بأبي (أنت) (٤٠) وأمي، إني (لا أجد) (٤١) (بي) (٤٢) كثير عطش، قال: إليك عني، فإني ساقي القوم منذ اليوم، قال: فصب رسول اللَّه ﷺ في القدح فشرب، ثم صب في القدح فشرب، (ثم صب (في) (٤٣) القدح فشرب) (٤٤) (ثم) (٤٥) ركب وركبنا. ثم قال: "كيف ترى القوم صنعوا حين [فقدوا نبيهم (وأرهقتهم) (٤٦) صلاتهم؟ " قلنا: اللَّه ورسوله أعلم، قال: "أليس فيهم أبو بكر وعمر إن يطيعوهما ⦗٨١⦘ فقد رشدوا ورشدت] (٤٧) (أمهم) (٤٨)، وإن يعصوهما فقد غووا وغوت (أمهم) (٤٩) "، -قالها ثلاثًا-. ثم سار وسرنا حتى إذا كنا في نحر الظهيرة إذا ناس يتبعون ظلال الشجرة فأتيناهم فإذا ناس من المهاجرين فيهم عمر بن الخطاب، قال: فقلنا لهم: كيف صنعتم (حين) (٥٠) فقدتم نبيكم وأرهقتكم صلاتكم؟ قالوا: نحن واللَّه نخبركم وثب عمر فقال لأبي بكر: إن اللَّه قال في كتابه: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ (مَيِّتُونَ) (٥١)﴾ [الزمر: ٣٠] وإني (واللَّه) (٥٢) ما أدري لعل اللَّه قد توفى نبيه (٥٣) (فقم) (٥٤) فصل وانطلق، إني ناظر بعدك (ومتلوم) (٥٥)، فإن رأيت شيئا وإلا لحقت بك، قال: (وأقيمت) (٥٦) الصلاة، وانقطع الحديث (٥٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن سمرہ روایت کرتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عبد اللہ بن رباح انصاری تشریف لائے … اور انصار صحابہ ان کو فقیہ سمجھتے تھے تو انہوں نے فرمایا : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھڑ سوار ابو قتادہ نے بیان کیا۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیش الامراء (غزوہ مؤتہ کا لشکر) کو روانہ فرمایا تو ارشاد فرمایا : ” تم پر زید بن حارثہ حاکم ہیں۔ پس اگر یہ قتل ہوجائیں تو پھر جعفر بن ابی طالب ہیں اور اگر یہ بھی قتل ہوجائیں تو پھر عبد اللہ بن رواحہ ہیں۔ “ حضرت جعفر اچھل پڑے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں اس بات سے خوف نہیں کھاتا کہ آپ مجھ پر زید کو حاکم بنائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جانے دو ! تم نہیں جانتے کہ ان میں کیا چیز خیر ہے۔ ٢۔ پھر یہ لوگ چل پڑے اور جتنی دیر اللہ کو منظور تھا یہ لوگ وہاں رہے ۔ پھر (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور حکم دیا اور یہ منادی کی گئی کہ الصلاۃ جامعۃ۔ چناچہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جمع ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” خیر کی بات پہنچی ہے ، خیر کی بات پہنچی ہے۔ یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی… میں تمہیں اس لڑنے والے لشکر کے بارے میں خبر دیتا ہوں۔ یہ لوگ (یہاں سے) چلے تو ان کی دشمن سے ملاقات (اور لڑائی) ہوئی چناچہ حضرت زید شہادت کی حالت میں قتل کردیئے گئے۔ تم لوگ ان کے لئے استغفار کرو، پھر جھنڈا حضرت جعفر بن ابی طالب نے سنبھال لیا اور انہوں نے دشمن پر خوب حملہ کیا یہاں تک کہ وہ بھی شہادت کی حالت میں قتل ہوگئے۔ تم ان کی شہادت پر گواہ بن جاؤ اور ان کے لئے استغفار کرو۔ پھر جھنڈا، حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے سنبھال لیا اور اپنے قدم خوب جما لئے (لیکن) آخر کار وہ شہید کردیئے گئے۔ تم ان کے لئے استغفار کرو پھر (ان کے بعد) جھنڈا حضرت خالد بن الولید نے سنبھال لیا ہے حالانکہ وہ (پہلے سے متعین) امیروں میں سے نہیں تھے (بلکہ) انہوں نے خود اپنے آپ کو امیر بنا لیا ہے۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا مانگی ” اے اللہ ! یہ خالد تو تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں تو ہی ان کی مدد فرما۔ “ اس دن سے حضرت خالد بن الولید کا نام سیف اللہ المسلول پڑگیا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نکل جاؤ اور اپنے بھائیوں کی مدد کرو۔ کوئی بھی تم میں سے پیچھے نہ رہے۔ “ چناچہ صحابہ کرام پیدل اور سوار ہو کر نکل پڑے اور یہ سخت گرمی کا وقت تھا۔ ٣۔ ایک رات صحابہ راستہ سے ہٹے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اونگھ آگئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کجاوہ سے ایک طرف جھک گئے ۔ چناچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے ہاتھ سے سہارا دیا۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدھا کرنے والے آدمی کے ہاتھ کا چھونا محسوس فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : یہ کون شخص ہے ؟ میں نے عرض کیا : ابو قتادہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل پڑے پھر (دوبارہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اونگھ آئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کجاوہ سے ایک طرف جھک گئے ۔ میں (دوبارہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور میں نے اپنے ہاتھ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سہارا دیا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی سیدھا کرنے والے آدمی کے ہاتھ کا چھونا محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ یہ کون شخص ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ ابو قتادہ ہے۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری مرتبہ یا تیسری مرتبہ میں ارشاد فرمایا : میرا خیال تو اپنے بارے میں یہ ہے کہ میں نے تمہیں آج کی رات مشقت میں ڈال دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ ہرگز نہیں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ میں تو دیکھ رہا ہوں کہ نیند یا اونگھ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشقت میں ڈالا ہوا ہے۔ لہٰذا اگر آپ ایک طرف ہوجائیں اور پڑاؤ ڈال لیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند ختم ہوجائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اس بات کا خوف ہے کہ لوگ ان یخذل الناس۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : ہرگز نہیں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ ٤۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تم ہمارے واسطے پردے والی جگہ تلاش کرو۔ “ راوی کہتے ہیں : میں راستہ سے اترا تو اچانک مجھے درختوں کا ایک جھُنڈ نظر آیا۔ چناچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ درختوں کا جُھن
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39739
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ خالد بن سمير ثقة، أجره أحمد (٢٢٥٥١)، والنسائي في الكبرى (٨١٥٩)، وابن حبان (٧٠٤٨)، وابن سعد ٣/ ٤٦، وابن جرير في التاريخ ٣٠/ ٤١، والدارمي (٥١٧٠)، والبيهقي في دلائل النبوة ٤/ ٣٦٧، وأصله عند مسلم (٦٨١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39739، ترقيم محمد عوامة 38121)
حدیث نمبر: 39740
٣٩٧٤٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن يحيى بن سعيد عن عمرة أنها سمعت ⦗٨٢⦘ عائشة (تقول) (١): لما (جاء) (٢) (نعي) (٣) جعفر بن أبي طالب وزيد بن حارثة وعبد اللَّه بن رواحة جلس رسول اللَّه ﷺ (يعرف) (٤) في وجهه الحزن، فقالت عائشة: وأنا أطلع من شق الباب، فأتاه رجل فقال: يا رسول اللَّه إن نساء جعفر -فذكر (من) (٥) (بكائهن) (٦) فأمره رسول اللَّه ﷺ (أن) (٧) ينهاهن (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جعفر بن ابی طالب ، زید بن حارثہ اور عبد اللہ بن رواحہ کی موت کی خبر پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غم کے اثرات ظاہر تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ میں ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) دروازہ کی پھاڑ سے دیکھ رہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جعفر کی عورتیں … پھر اس آدمی نے ان عورتوں کے رونے کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی سے کہا کہ وہ انہیں (جا کر) منع کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39740
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٢٩٩)، ومسلم (٩٣٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39740، ترقيم محمد عوامة 38122)
حدیث نمبر: 39741
٣٩٧٤١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا عن الشعبي زعم أن جعفر ابن أبي طالب قتل (يوم) (١) مؤتة بالبلقاء فقال رسول اللَّه ﷺ: "اللهم اخلف جعفرًا في أهله بأفضل ما خلفت عبدا من عبادك الصالحين" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت جعفر بن ابی طالب غزوہ مؤتہ میں مقام بلقاء میں شہید ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی : ” اے اللہ ! جعفر کے گھر جعفر کا وہ بہترین خلیفہ پیدا فرما جو تو اپنے نیک بندوں میں سے کسی بندہ کو عطا کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39741
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الشعبي تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39741، ترقيم محمد عوامة 38123)
حدیث نمبر: 39742
٣٩٧٤٢ - حدثنا (عبد اللَّه) (١) بن إدريس ووكيع عن إسماعيل عن قيس قال: سمعت خالد بن الوليد يقول: لقد أندق في يدي يوم مؤتة تسعة أسياف، فما صبرت في يدي إلا صفيحة (لي) (٢) (يمانية) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ولید بیان کرتے ہیں کہ غزوہ مؤتہ کے دن میرے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹ گئیں۔ پھر (آخر) میرے ہاتھ میں ایک چوڑی تلوار باقی رہی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39742
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٢٦٥)، وابن حبان (٧٠٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39742، ترقيم محمد عوامة 38124)
حدیث نمبر: 39743
٣٩٧٤٣ - حدثنا جعفر بن عون عن ابن جريج عن عطاء أن النبي ﷺ نعى الثلاثة الذين قتلوا بمؤتة ثم (صلى) (١) عليهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ مؤتہ میں قتل کیے جانے والے تین صحابہ کی موت کی خبر سنائی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر جنازہ پڑھایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39743
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عطاء تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39743، ترقيم محمد عوامة 38125)
حدیث نمبر: 39744
٣٩٧٤٤ - حدثنا عيسى بن يونس عن صفوان بن (عمرو) (١) السكسكي عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير قال: لما اشتد حزن أصحاب رسول اللَّه ﷺ على من أصيب منهم مع زيد يوم مؤتة، قال رسول اللَّه ﷺ: "ليدركن المسيحَ من هذه الأمة أقوامٌ إنهم (لمثلكم) (٢) أو خير -ثلاث مرات- ولن يخزي اللَّه أمة أنا أولها والمسيح آخرها" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمان بن جبیر بن نفیر کہتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام کو غزوہ مؤتہ میں حضرت زید کے ساتھ شہید ہونے والے حضرات پر شدید غم ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ضرور بالضرور اسی امت میں سے کچھ قومیں حضرت مسیح کو پالیں گی۔ اور وہ لوگ تم سے بہتر یا تم جیسے ہوں گے۔ “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ کہی۔ ” اور اللہ تعالیٰ ایسی امت کو ہلاک نہیں کرے گا جس کے اول میں میں اور آخر میں مسیح ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39744
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عبد الرحمن بن جبير تابعي، أخرجه نعيم بن حماد في الفتن (١٢١٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39744، ترقيم محمد عوامة 38126)
حدیث نمبر: 39745
٣٩٧٤٥ - حدثنا (عبد اللَّه) (١) (بن نمير) (٢) قال: (حدثنا) (٣) محمد بن إسحاق عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة قالت: لما أتت (وفاة) (٤) جعفر عرفنا في وجه رسول اللَّه ﷺ الحزن، قالت: فدخل عليه رجل فقال: يا رسول اللَّه إن النساء يبكين، قال: فارجع إليهن فأسكتهن، فإن (أبين) (٥) فاحث (في) (٦) وجوههن التراب، (قال) (٧): قالت عائشة: قلت في نفسي: واللَّه ما تركت نفسك ⦗٨٤⦘ ولا أنت مطيع رسول اللَّه (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت جعفر کی وفات (کی خبر) آئی تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور پر غم (کے آثار) دیکھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! عورتیں رو رہی ہں ا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم ان کی طرف واپس جاؤ۔ انہیں خاموش کرواؤ۔ اور اگر وہ انکار کریں تو تم ان کے منہ پر مٹی ڈال دینا۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے اپنے دل میں کہا : تو اپنے آپ کو بھی نہیں چھوڑتا اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کو بجا لاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39745
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن إسحاق صدوق، صرح بالسماع عند الحاكم ٣/ ٤٣ (٤٣٤٩)، وأحمد ٦/ ٢٧٦ (٢٣٦٣)، والحديث أخرجه البخاري (١٢٩٩)، ومسلم (٩٣٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39745، ترقيم محمد عوامة 38127)
حدیث نمبر: 39746
٣٩٧٤٦ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن محمد بن إسحاق عن يحيى بن عباد (بن عبد اللَّه) (١) بن الزبير عن أبيه عن جده قال: أخبرني الذي أرضعني من بني مرة، قال: كأني أنظر إلى جعفر يوم مؤتة: نزل عن فرس له شقراء فعرقبها، ثم مضى فقاتل حتى قتل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن عباد بن عبد اللہ بن زبیر، اپنے والد، دادا سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے بنو مرہ کے اس آدمی نے بیان کیا جس نے (یعنی جس کی بیوی نے) مجھے دودھ پلایا تھا۔ اس نے کہا۔ گویا کہ میں غزوہ مؤتہ میں جعفر کو دیکھ رہا ہوں وہ اپنے سفید و سرخ گھوڑے سے نیچے اترے اور پھر اس کی کونچیں کاٹیں اور چل دیئے اور جا کر لڑائی کی یہاں تک کہ قتل (شہید) کردیئے گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39746
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن إسحاق صدوق، صرح بالتحدث عند البيهقي ٩/ ٨٧، والطبراني (١٤٦٢)، وأبي نعيم في الحلية ١/ ١٨، وابن عساكر ٦٨/ ٨٨، وأخرجه أبو داود (٢٥٧٣)، وابن سعد ٤/ ٣٧، والحاكم ٣/ ٢٠٩، وابن الأثير في أسد الغابة ١/ ٤٢٢، والطحاوي في شرح المشكل ١٢/ ١٠٧، وابن جرير في التاريخ ٢/ ١٥١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39746، ترقيم محمد عوامة 38128)
حدیث نمبر: 39747
٣٩٧٤٧ - حدثنا أبو أسامة عن مهدي بن ميمون عن محمد بن عبد اللَّه بن أبي يعقوب عن الحسن (١) بن سعد قال: لما جاء النبي ﷺ (٢) خبرُ قتل زيد وجعفر وعبد اللَّه بن رواحة نعاهم إلى الناس وترك أسماء حتى أفاضت من عبرتها، ثم أتاها (فعزاها) (٣) (وقال) (٤): "ادعي لي بني أخي"، قال: فجاءت بثلاثة بنين كأنهم (أفراخ) (٥)، (قالت) (٦): فدعا الحلاق فحلق رؤوسهم، فقال: "أما محمد فشبيه ⦗٨٥⦘ عمنا ((أبي) (٧) طالب) (٨)، وأما عون (اللَّه) (٩) فشبيه خلقى وخلقى، وأما عبد اللَّه -فأخذ بيده (فشالها) (١٠)، ثم قال-: اللهم بارك (لعبد اللَّه) (١١) في صفقة (يمينه) (١٢) "، قال: فجعلت (أمهم) (١٣) (تفرح) (١٤) لهم، فقال لها رسول اللَّه ﷺ: "أتخشين عليهم الضيعة، وأنا وليهم في الدنيا والآخرة" (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن سعد روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت زید، جعفر اور عبد اللہ بن رواحہ کے قتل کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو یہ وفات کی خبر سُنائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اسماء کو اس حالت میں چھوڑا تھا کہ وہ آنسو بہا رہی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دوبارہ) حضرت اسمائ کے پاس تشریف لائے اور ان سے تعزیت کی اور فرمایا : میرے پاس میرے بھتیجوں کو بلا کر لاؤ۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت اسمائ … پرندوں کے بچوں کی طرح کے … تین بچے لے کر حاضر ہوئیں۔ اسماء کہتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نائی کو بلایا اور ان کے سرمنڈوائے اور فرمایا : ” محمد تو ہمارے چچا ابو طالب کے مشابہ ہے اور عون اللہ تو صورت و سیرت میں میرے مشابہ ہے۔ اور عبد اللہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اوپر اٹھایا اور دعا فرمائی۔ اے اللہ ! عبد اللہ کے دائیں ہاتھ کے سودے میں برکت دے۔ راوی کہتے ہیں : ان کی ماں حضرت اسمائ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کی (لاوارثی) کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جواب دیا ۔ کیا تم ان کے ضائع ہونے کا خوف کھاتی ہو ؟ حالانکہ میں دنیا و آخرت میں ان کا ولی ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39747
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن بن سعد تابعي، أخرجه الطيالسي (٩٨٦)، وأبو نعيم في معرفة الصحابة (٦٥٠)، وأخرجه متصلًا من حديث عبد اللَّه بن جعفر أحمد (١٧٥٠)، وأبو داود (٤١٩٢)، والنسائي ٨/ ١٨٢، وابن سعد ٤/ ٣٦، وابن أبي عاصم في الآحاد (٤٣٤)، والطبراني (١٤٦١)، والحاكم ١/ ٣٧٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39747، ترقيم محمد عوامة 38129)
حدیث نمبر: 39748
٣٩٧٤٨ - حدثنا يحيى بن آدم قال: (حدثنا) (١) قطبة عن الأعمش عن عدي بن ثابت عن سالم بن أبي الجعد قال: أريهم النبي ﷺ في النوم فرأى جعفرا ملكا ذا جناحين مضرجا بالدماء، وزيد مقابله على السرير، قال: وابن رواحة جالس معهم كأنهم (معرضون) (٢) عنه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن ابی جعد سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہداء مؤتہ… خواب میں دکھائے گئے ۔ چناچہ آپ نے حضرت جعفر کو ایک ایسے فرشتے کی شکل میں دیکھا جس کے دو پر تھے اور وہ خون میں لتھڑے ہوئے تھے اور حضرت زید کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مقابل تخت پر دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے ہیں۔ ابن رواحہ ان کے ساتھ یوں بیٹھے ہوئے تھے گویا کہ وہ ان سے اعراض کیے ہوئے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39748
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سالم تابعي، أخرجه الطبراني (١٤٦٨)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٦١)، وورد متصلًا من حديث أبي اليسر، أخرجه الطبراني ١٩/ ٣٧٨، وابن أبي عاصم في الجهاد (٢١٨)، وابن سعد ٢/ ١٣٠، وابن عساكر ٣٨/ ٢١٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39748، ترقيم محمد عوامة 38130)
حدیث نمبر: 39749
٣٩٧٤٩ - حدثنا (عبد الرحيم) (١) بن سليمان عن إسماعيل بن أبي خالد عن أبي إسحاق عن أبي ميسرة أنه لما أتى النبي ﷺ قتلُ (جعفر وزيد) (٢) وعبد اللَّه بن رواحة (ذكر) (٣) أمرهم فقال: " (اللهم اغفر لزيد) (٤)، (اللهم اغفر لجعفر) (٥) وعبد اللَّه بن رواحة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو میسرہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت جعفر اور زید بن حارثہ اور عبد اللہ بن رواحہ کے قتل کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بات کرتے ہوئے دُعا فرمائی۔ اے اللہ ! زید کی مغفرت فرما۔ اے اللہ ! جعفر کی مغفرت فرما۔ اور عبد اللہ بن رواحہ کی مغفرت فرما۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39749
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو ميسرة عمرو بن شرحبيل تابعي، أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (١٥٣٢)، وابن سعد ٣/ ٤٦، وابن عساكر ١٩/ ٣٦٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39749، ترقيم محمد عوامة 38131)
حدیث نمبر: 39750
٣٩٧٥٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال: جاء أسامة بن زيد بعد قتل أبيه، فقام بين يدي النبي ﷺ فدمعت عيناه، فلما كان من الغد جاء فقام مقامه ذلك، فقال النبي ﷺ: " (ألاقي) (٢) منك اليوم ما لقيت منك أمس" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ حضرت اسامہ ، اپنے والد کے قتل کے بعد حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے سامنے (استقبال کے لئے) کھڑے ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں بھر آئیں۔ پھر جب اگلادن آیا اور حضرت اسامہ حاضر ہوئے اور پھر اپیپ اسی جگہ پر کھڑے ہوگئے تو اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں آج بھی تمہارا استقبال اس طرح کروں جس طرح میں نے کل تمہارا استقبال کیا تھا “ ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39750
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ قيس تابعي، أخرجه ابن سعد ٤/ ٦٣، والضياء في المختارة (١٣٤٢)، وورد من حديث قيس عن أسامة، أخرجه ابن عساكر ١٩/ ٣٧٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39750، ترقيم محمد عوامة 38132)
حدیث نمبر: 39751
٣٩٧٥١ - حدثنا محمد بن عبيد قال: (حدثنا) (١) وائل بن داود قال: سمعت (البهي) (٢) يحدث أن عائشة كانت تقول: ما بعث رسولُ اللَّه ﷺ زيدَ بن حارثة (في ⦗٨٧⦘ جيش قط) (٣) إلا أمره عليهم ولو بقي بعده لاستخلفه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ کو کسی لشکر میں روانہ نہیں فرمایا مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس لشکر میں امیر مقرر فرمایا۔ اور اگر حضرت زید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد باقی ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں خلیفہ (بھی) بناتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39751
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ البهي صدوق، أخرجه أحمد (٢٥٨٩٨)، والنسائي في الكبرى (٨١٨٢)، والحاكم ٣/ ٢١٥، وابن سعد ٣/ ٤٦، والحميدي (٢٦٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39751، ترقيم محمد عوامة 38133)
حدیث نمبر: 39752
٣٩٧٥٢ - حدثنا محمد بن عبيد قال: (حدثنا) (١) إسماعيل عن (مجالد) (٢) (ابن) (٣) سعيد عن عامر أن عائشة كانت تقول: لو أن زيدًا حي لاستخلفه رسول اللَّه ﷺ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے روایت ہے کہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ اگر حضرت زید زندہ ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو خلیفہ بناتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39752
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ مجالد بن سعيد ضعيف، وانظر: ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39752، ترقيم محمد عوامة 38134)
حدیث نمبر: 39753
٣٩٧٥٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام بن عروة عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ كان قطع بعثا قبل مؤتة وأمر عليهم أسامة بن زيد، وفي ذلك (البعث) (١) أبو بكر وعمر قال: [فكان أناس من الناس يطعنون في ذلك لتأمير رسول اللَّه ﷺ أسامة عليهم (قال) (٢)] (٣): فقام رسول اللَّه ﷺ فخطب الناس ثم قال: "إن أناسا منكم قد طعنوا علي في تأمير أسامة، وإنما طعنوا في تأمير (أسامة) (٤) كما طعنوا في تأمير أبيه من قبله، وأيم اللَّه إن كان (لحقيقًا) (٥) للإمارة، وإن كان (لمن) (٦) أحب الناس إلي، وإن ابنه من أحب الناس إلي من بعده، وإني أرجو أن يكون من صالحيكم، فاستوصوا به خيرًا" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مؤتہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور ان پر حضرت اسامہ بن زید کو امیر مقرر فرمایا۔ اسی لشکر میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی تھے … راوی کہتے ہیں : بعض لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے حضرت اسامہ کو اس لشکر والوں پر امیر بنانے پر اعتراض کیا۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا : ” یقینا تم میں سے کچھ لوگ میری طرف سے اسامہ کو امیر بنانے پر اعتراض کر رہے ہیں۔ یہ لوگ حضرت اسامہ کے امیر بنانے پر اسی طرح اعتراض کرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے اس سے پہلے حضرت اسامہ کے والد کو امیر بنانے پر اعتراض کیا تھا۔ خدا کی قسم !ً بلاشبہ وہ امیر بننے کے لائق تھے اور لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے محبوب تھے۔ اور ان کا بیٹا ان کے بعد مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ تم میں سے نیکوکار لوگوں میں سے ہوگا۔ تم اس کے ساتھ اچھائی کا ارادہ کرو۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39753
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عروة تابعي، وأخرجه ابن سعد ٤/ ٦٧، وابن عساكر ٨/ ٦٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39753، ترقيم محمد عوامة 38135)
حدیث نمبر: 39754
٣٩٧٥٤ - حدثنا علي بن مسهر عن (الأجلح) (١) عن الشعبي قال: لما أتى رسول اللَّه ﷺ (٢) قتل جعفر بن أبي طالب ترك رسول اللَّه ﷺ امرأته أسماء بنت عميس حتى أفاضت (عبرتها) (٣)، (وذهب) (٤) بعض حزنها، ثم أتاها فعزاها ودعا بني جعفر فدعا لهم، ودعا لعبد اللَّه بن جعفر أن يبارك له (في) (٥) صفقة (يده) (٦)، فكان لا يشتري (شيئًا) (٧) إلا ربح (فيه) (٨)، فقالت له أسماء: يا رسول اللَّه إن هؤلاء يزعمون أنا لسنا من المهاجرين؟ فقال: "كذبوا، لكم الهجرة مرتين، هاجرتم إلى النجاشي وهاجرتم إلي" (٩) (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت جعفر بن ابی طالب کے قتل کی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جعفر کی بیوی اسماء بنت عمیس کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ انہوں نے آنسو بہا لئے اور غم ہلکا ہوگیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت اسمائ کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے تعزیت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جعفر کے بیٹوں کو بلایا اور ان کے لئے دُعا فرمائی۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن جعفر کے لئے یہ دعا کی کہ ان کے سودے میں برکت دی جائے۔ پس عبد اللہ جب بھی کوئی چیز خریدتے تو انہیں اس میں نفع ہوتا۔ پھر حضرت اسمائ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عر ض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم مہاجرین میں سے نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ” لوگ جھوٹ کہتے ہیں۔ تم نے دو مرتبہ ہجرت کی ہے۔ (ایک مرتبہ) تم نے نجاشی کی طرف ہجرت کی اور (ایک مرتبہ) تم نے میری طرف ہجرت کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39754
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39754، ترقيم محمد عوامة 38136)
حدیث نمبر: 39755
٣٩٧٥٥ - حدثنا (أبو) (١) إسحاق الأزدي قال: حدثني أبو أويس عن (عبيد اللَّه) (٢) بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: (كنت) (٣) بمؤتة، فلما فقدنا جعفر ابن أبي طالب طلبناه في القتلى فوجدنا فيه بين طعنة (ورمية) (٤)، ووجدنا ⦗٨٩⦘ (ذلك) (٥) فيما أقبل من جسده (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں مقام مؤتہ میں موجود تھا۔ پس جب ہم نے حضرت جعفر بن ابی طالب کو غیر موجود پایا تو ہم نے ان کو مقتولین میں تلاش (کرنا شروع) کیا چناچہ ہم نے ان کو اس حالت میں پایا کہ ان کو پچاس کے قریب تلواروں اور نیزوں کے زخم لگے ہوئے تھے۔ اور ہم نے یہ سارے زخم حضرت جعفر کے جسم کے اگلے حصہ میں پائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39755
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أبو إسحاق الأزدي هو إسماعيل بن أبان الوراق، وأخرجه من طريقه الحاكم ٣/ ٢٣٤ (٤٩٤٤)، وابن سعد ٤/ ٣٨، والطبراني (١٤٦٤)، وأبو عوانة ٤/ ٥١٤ (٧٥٤٤)، لكن قال أبو حاتم كما في العلل ١/ ٣٣٥: "هذا حديث منكر من حديث عبد اللَّه "، وأصل الخبر عند البخاري (٤٢٦٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39755، ترقيم محمد عوامة 38137)