کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: وہ احادیث جو غزوہ طائف کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں
حدیث نمبر: 39725
٣٩٧٢٥ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): (حدثنا) (٢) سفيان بن عيينة عن عمرو عن أبي العباس عن عبد اللَّه بن عمرو (و) (٣) قال مرة: عن ابن عمر قال: حاصر رسول اللَّه ﷺ أهل الطائف فلم ينل منهم شيئًا، فقال: "إنا قافلون غدا"، فقال المسلمون: (نرجع) (٤) ولم نفتتحه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "اغدوا على القتال"، فغدوا، (فأصابتهم) (٥) جراح فقال رسول اللَّه ﷺ: "إنا قافلون غدا"، فأعجبهم ذلك، فضحك رسول اللَّه ﷺ (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ ان میں سے کوئی بھی نہیں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہم کل واپس چلے جائیں گے۔ مسلمانوں نے عرض کیا۔ ہم واپس لوٹ جائیں گے حالانکہ ہم نے اس کو فتح نہیں کیا۔ اس پر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (چلو) صبح بھی لڑائی کرلو۔ چناچہ صحابہ نے صبح قتال کیا تو انہی کو زخم پہنچ گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہم کل واپس روانہ ہوجائیں گے۔ تو یہ بات صحابہ کرام کو پسندآئی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دیئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39725
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٣٢٥)، ومسلم (١٨٧٨)، وقد رواه أحمد (٤٥٨٨)، وقال: (قيل لسفيان: ابن عمرو؟ قال: لا، ابن عمر).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39725، ترقيم محمد عوامة 38107)
حدیث نمبر: 39726
٣٩٧٢٦ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن طلحة بن (جبر) (١) عن المطلب بن عبد اللَّه عن مصعب بن عبد الرحمن (عن عبد الرحمن) (٢) بن عوف قال: لما افتتح رسول اللَّه ﷺ مكة انصرف إلى الطائف، فحاصرهم تسع عشرة أو ثماني عشرة فلم ⦗٧١⦘ يفتتحها، ثم (أوغل) (٣) روحة أو غدوة، (فنزل) (٤) (ثم هجّر) (٥)، ثم قال: "أيها الناس، إني فرط لكم فأوصيكم بعترتي خيرا، (وإن) (٦) موعدكم الحوض، والذي نفسي بيده (ليقيمن) (٧) الصلاة (وليؤتن) (٨) الزكاة أو لأبعثن إليهم رجلا مني أو كنفسي (فليضربن) (٩) أعناق مقاتلتهم وليسبين ذراريهم"، (قال) (١٠): (فرأى) (١١) الناس أنه أبو بكر (أو عمر) (١٢)، فأخذ بيد علي (١٣) فقال: "هذا" (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمان بن عوف روایت بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کو فتح کرلیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طائف کی طرف چل پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف والوں کا اٹھارہ یا انیس (دن) محاصرہ کیا لیکن طائف کو فتح نہ کرسکے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک صبح یا ایک شام محاصرہ کو شدید کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑاؤ ڈالا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوپہر کے وقت (ہی) چل پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں تم سے پہلے (آگے) پہنچنے والا ہوں لہٰذا میں تمہیں اپنی عزت کے ساتھ خیر کی وصیت کرتا ہوں۔ اور یقین جانو کہ تمہارے ساتھ میرے وعدہ کی جگہ حوض ہے۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ مں ے میری جان ہے تم لوگ نماز کو ضرور بالضرور قائم کرتے رہنا اور زکوۃ کو ضرور بالضرور ادا کرتے رہنا یا میں تمہاری طرف اپنے میں سے ایک اپنی طرح کا ایک آدمی بھیج دوں گا۔ جو اُن (اہل ایمان) سے لڑنے والوں کی گردنیں مارے گا اور ان کے افراد کو قیدی بنا لائے گا۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں کا خیال یہ ہوا کہ یہ آدمی حضرت ابوبکر ہوں گے یا حضرت عمر ہوں گے۔ لیکن جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا : وہ آدمی یہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39726
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًّا؛ طلحة بن جبر متروك، أخرجه أبو يعلى (٨٥٩)، والحاكم ٢/ ١٢٠، وابن عساكر ٤٢/ ٣٤٣، والبزار (١٠٥٠)، والمروزي في تعظيم الصلاة (٩٦٨)، وخليفة بن خياط في التاريخ ص ٨٩، والفاكهي (١٩٦٢)، وابن جرير في الجزء المفقود من تهذيب الآثار (٢١٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39726، ترقيم محمد عوامة 38108)
حدیث نمبر: 39727
٣٩٧٢٧ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن عبد اللَّه بن عثمان بن (خثيم) (١) عن أبي الزبير أن رسول اللَّه ﷺ حاصر (أهل) (٢) الطائف، (٣) (فجاءه) (٤) أصحابه ⦗٧٢⦘ (فقالوا) (٥): يا رسول اللَّه (أحرقتنا) (٦) نبال ثقيف، فادع اللَّه عليهم، فقال: "اللهم اهد ثقيفا" -مرتين، قال: وجاءته خولة فقال: إني نبئت أن بنت خزاعة ذات حُلي، فنفلني حليها (إن) (٧) (فتح) (٨) اللَّه عليك الطائف غدا، قال: "إن لم يكن أذن لنا في قتالهم؟ " [فقال رجل - (نراه) (٩) عمر-: يا رسول اللَّه ما مقامك على قوم لم (يؤذن) (١٠) لك في قتالهم؟] (١١) قال: "فأذن في الناس بالرحيل"، فنزل الجعرانة، فقسم بها غنائم حنين، ثم دخل منها بعمرة، ثم انصرف إلى المدينة (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الزبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہمیں تو بنو ثقیف کے نیزوں نے جلا ڈالا ہے لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے ان کے خلاف بد دعا کریں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! بنو ثقیف کو ہدایت دے۔ دو مرتبہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حضرت خولہ حاضر ہوئیں اور عرض کیا۔ مجھے خبر ملی ہے کہ خزاعہ کی بیٹی بہت زیورات والی ہے۔ لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ کل آپ کو طائف فتح کروا دیں تو آپ اس کے زیورات مجھے ہدیہ فرما دیجئے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان سے لڑائی کی جازت ہی نہ دی ہو ؟ اس پر ایک آدمی نے … ہمارے خیال میں حضرت عمر تھے … کہا … یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جس قوم کے بارے میں آپ کو لڑائی کی اجازت نہیں دی گئی اس پر آپ نے پڑاؤ کیوں ڈالا ہوا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو کوچ کرنے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (آ کر) مقام جعرانہ میں اترے اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کی غنیمتوں کو تقسیم فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہیں سے عمرہ کے لئے داخل ہوگئے پھر (عمرہ کے بعد) مدینہ منورہ چلے گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39727
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو الزبير تابعي، وورد بنحوه من حديث أبي الزبير عن جابر أخرجه أحمد وابنه (١٤٧٠٢)، والترمذي (٣٩٤٢)، وابن عدي ١/ ٣١٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39727، ترقيم محمد عوامة 38109)
حدیث نمبر: 39728
٣٩٧٢٨ - حدثنا أبو معاوية عن الحجاج عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس قال: [أعتق رسول اللَّه ﷺ يوم الطائف كل من خرج إليه من رقيق المشركين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف کے دن ، مشرکین کے غلاموں میں سے جو کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو آزاد فرما دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39728
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39728، ترقيم محمد عوامة 38110)
حدیث نمبر: 39729
٣٩٧٢٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن الحجاج عن الحكم عن مقسم (عن ابن عباس) (١) قال] (٢): خرج غلامان (إلى النبي) (٣) ﷺ يوم الطائف فأعتقهما، أحدهما أبو بكرة (فكانا مولييه) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دو غلام طائف کے دن نکل کر آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو آزاد فرما دیا تھا۔ ان میں سے ایک ابو بکرہ تھے ۔ چناچہ یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موالی (آزاد کردہ) تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39729
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39729، ترقيم محمد عوامة 38111)
حدیث نمبر: 39730
٣٩٧٣٠ - حدثنا أبو أسامة عن كهمس عن عبد اللَّه بن شقيق قال: كان النبي ﷺ (١) محاصر وادي القرى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وادی قُریٰ کا محاصرہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39730
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عبد اللَّه بن شقيق تابعي، أخرجه ابن جرير ١/ ٨٠، وقد ورد عن ابن شقيق عن رجل من بلقين، ومرة عن رجل عن ابن عم له، أخرجه سعيد بن منصور ١/ (٢٦٨٠)، وأحمد ٥/ ٣٢ (٢٠٣٦٦)، وعبد الرزاق (٩٤٩٦)، وأبو يعلى (٧١٧٩)، والطحاوي ٣/ ٢٢٩، والثعلبي في التفسير ١/ ١٢٤، والبيهقي ٦/ ٣٢٤، وأحمد بن منيع كما في المطالب العالية (٢٠٦٥)، وأبو عبيد في الأموال (٧٦٥)، والمروزي في تعظيم الصلاة (١١)، وابن الأثير في أسد الغابة ٦/ ٤٢٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39730، ترقيم محمد عوامة 38112)
حدیث نمبر: 39731
٣٩٧٣١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) قيس عن أبي حصين عن عبد اللَّه بن سنان أن النبي ﷺ حاصر أهل الطائف خمسة وعشرين يوما يدعو عليهم في دبر كل صلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سنان سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل طائف کا پچیس دن تک محاصرہ فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے خلاف ہر نماز کے بعد بد دعا فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39731
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عبد اللَّه بن سنان الكوفي الأسدي تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39731، ترقيم محمد عوامة 38113)
حدیث نمبر: 39732
٣٩٧٣٢ - حدثنا وكيع عن سعيد بن السائب قال: سمعت شيخا من بني عامر أحد بني سواءة يقال له: عبيد اللَّه بن مُعَيَّة قال: أصيب رجلان يوم الطائف، قال: ⦗٧٤⦘ فحملا إلى النبي ﷺ قال: فأخبر بهما، (فأمر) (١) بهما (أن) (٢) (يدفنا) (٣) حيث أصيبا ولقيا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن معیہ بیان کرتے ہیں کہ طائف کے دن دو افراد زخمی ہوگئے ۔ راوی کہتے ہیں : انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے بارے میں بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں یہ حکم دیا کہ جہاں پر یہ پائے گئے اور قتل ہوئے وہیں پر ان کو دفن کیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39732
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عبيد اللَّه بن معية وقيل: عبد اللَّه حديثه مرسل كما في تقريب التهذيب (٣٦٣٧)، والكاشف (٣٠٠٠)، وتحفة التحصيل ص ١٨٨، والحديث أخرجه النسائي ٤/ ٧٩، وابن أبي شيبة في المسند (٥٥٦)، وابن سعد ٥/ ٥١٧، وابن قانع ٢/ ١٧٩، وصالح بن أحمد بن حنبل في مسائل أبيه ٢/ ٩٦ (٦٤٩)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٤٦١)، وابن أبي عمر كما في المطالب العالية (٨٣١)، وابن عساكر ٥٣/ ٣٤٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39732، ترقيم محمد عوامة 38114)
حدیث نمبر: 39733
٣٩٧٣٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) نافع بن عمر عن أمية بن صفوان عن أبي بكر بن أبي زهير الثقفي عن أبيه أنه سمع النبي ﷺ يقول في خطبته (بالنبأ) (٢) أو (بالنباوة) (٣) (و) (٤) -النباوة (٥) من الطائف-: "توشكون أن تعرفوا أهل الجنة من أهل النار وخياركم من شراركم"، قالوا: بم يا رسول اللَّه؟ قال: "بالثناء الحسن والثناء السيء، أنتم شهداء اللَّه في الأرض" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن ابی زہیر ثقفی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقام نَبَاۃَ یا مقام نَبَاوَۃ میں … نباوہ طائف کا حصہ ہے۔ خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خطبہ میں فرما رہے تھے۔ ” قریب ہے کہ تم اہل جنت کو اہل جہنم سے (جدا) پہچان لو ۔ اور اپنے بہتر لوگوں کو بدتر لوگوں سے (جدا) پہچان لو۔ “ لوگوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کس ذریعہ سے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” اچھی تعریف کے ذریعہ سے اور بُری تعریف کے ذریعہ سے، تم لوگ زمین میں خدا کے گواہ ہو۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39733
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39733، ترقيم محمد عوامة 38115)
حدیث نمبر: 39734
٣٩٧٣٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة قال: قال: عبد الملك قال: النبي ﷺ (وهو) (١) محاصر ثقيفا ما رأيت الملك منذ نزلت منزلي هذا، قال: فانطلقت خولة بنت حكيم (السلمية) (٢) فحدثت ذلك عمر فأتى عمر النبي ﷺ فذكر له قولها فقال: "صدقت"، فأشار عمر على النبي ﷺ بالرحيل، فارتحل النبي ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بنو ثقیف کا محاصرہ کیا ہوا تھا تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب سے میں نے اس جگہ پڑاؤ کیا ہے تب سے میں نے فرشتہ نہیں دیکھا۔ راوی کہتے ہیں : (یہ بات سن کر) حضرت خولہ بنت حکیم سلیمہ چل پڑیں اور انہوں نے یہ بات حضرت عمر کو بیان فرمائی۔ حضرت عمر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خولہ کی بات بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خولہ سچ کہتی ہیں۔ پھر حضرت عمر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوچ کرنے کا اشارہ کیا چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوچ فرما لیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39734
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عبد الملك هو ابن عمير اللخمي تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39734، ترقيم محمد عوامة 38116)
حدیث نمبر: 39735
٣٩٧٣٥ - (حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن عمرو بن شعيب قال: لما انصرف رسول اللَّه ﷺ) (١) من حنين بعد الطائف قال: "أدوا الخياط والمخيط"، فإن الغلول نار (وعار) (٢) وشنار على أهله يوم القيامة إلا (الخمس) (٣) "، ثم تناول شعرة من بعير فقال: "ما لي من مالكم هذا إلا الخمس، ((والخمس) (٤) مردود) (٥) عليكم" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طائف کے بعد حنین سے واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” سوئی ، دھاگہ (تک) جمع کروا دو ۔ کیونکہ غنیمت میں خیانت جہنم ہے اور خیانت کرنے والے کے لئے قیامت کے دن عیب و رسوائی ہے۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ کا ایک بال پکڑا اور فرمایا ” میرے لئے تمہارے اس مال میں سے یہ بھی نہیں ہے سوائے خمس کے اور خمس بھی (انجام کے اعتبار سے) تمہاری طرف رد ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39735
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عمرو بن شعيب تابعي، أخرجه مالك في الموطأ ٢/ ٤٥٧ (٩٧٧)، وعبد الرزاق (٩٤٩٨)، وورد من حديث عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده، أخرجه أحمد ٢/ ١٨٤ (٦٧٢٨)، وأبو داود (٢٦٩٤)، والنسائي (٦٥١٥)، والطبراني في الأوسط (١٨٦٤)، والبيهقي ٦/ ٣٣٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39735، ترقيم محمد عوامة 38117)
حدیث نمبر: 39736
٣٩٧٣٦ - حدثنا محمد بن الحسن الأسدي قال: (حدثنا) (١) إبراهيم بن (طهمان) (٢) عن أبي الزبير عن عتبة مولى ابن عباس عن ابن عباس قال: لما قدم ⦗٧٦⦘ رسول اللَّه ﷺ من الطائف نزل الجعرانة فقسم بها الغنائم ثم اعتمر منها، (و) (٣) ذلك لليلتين بقيتا من شوال (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طائف سے تشریف لائے تو مقام جعرانہ میں فروکش ہوئے اور وہیں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غنیمتوں کو تقسیم فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی مقام پر عمرہ ادا فرمایا۔ اور یہ واقعہ شوال کی آخری دو راتوں سے قبل کا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39736
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39736، ترقيم محمد عوامة 38118)
حدیث نمبر: 39737
٣٩٧٣٧ - حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن محمد بن عبد الرحمن بن زرارة عن أشياخه عن الزبير أنه ملك يوم الطائف خالات له فأعتقن بملكه إياهن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر سے روایت ہے کہ وہ طائف کے دن اپنی کچھ خالاؤں کے مالک ہوئے (لیکن) پھر وہ خالائیں ان کی ملکیت میں آنے کی وجہ سے ان پر آزاد ہوگئیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39737
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39737، ترقيم محمد عوامة 38119)