کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: فتح مکہ کی احادیث
حدیث نمبر: 39709
٣٩٧٠٩ - حدثنا إسحاق بن منصور عن الحكم بن عبد الملك عن قتادة عن أنس قال: لما دخل رسول اللَّه ﷺ مكة يوم فتح مكة أمن الناس إلا أربعة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار افراد کے سوا بقیہ تمام لوگوں کو امن عطا فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39709
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال الحكم بن عبد الملك، أخرجه الدارقطني ٤/ ١٦٧، والطبراني في الأوسط (٦٥٧٧)، والبيهقي في دلائل النبوة ٥/ ٦٠، وابن النحاس في الناسخ والمنسوخ ١/ ١١٢، وابن بشكوال ١/ ١٢٩، وابن عساكر ٢٩/ ٢٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39709، ترقيم محمد عوامة 38091)
حدیث نمبر: 39710
٣٩٧١٠ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) همام قال: (حدثنا) (٢) قتادة عن أنس قال: أنزلت على النبي ﷺ: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ [الفتح: ١] (إلى) (٣) (آخر) (٤) الآية مرجعه من الحديبية، وأصحابه مخالطو الحزن (والكآبة) (٥)، (قال) (٦): "نزلت (علي) (٧) (آية) (٨) هي أحب إلي من الدنيا وما فيها جميعا"، فلما تلاها رسول اللَّه ﷺ قال رجل من القوم: هنيئا مريئا قد بين اللَّه ما يفعل بك، فماذا يفعل بنا؟ فأنزل اللَّه الآية التي بعدها: ﴿لِيُدْخِلَ (٩) الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ [الفتح: ٥] حتى ختم الآية (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب صلح حدیبیہ سے واپسی پر آیات {إِنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا } آخر تک، نازل ہوئیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ غم اور شکستگی کی ملی جلی حالت میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا ومافیہا سے زیادہ محبوب ہے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے وہ تو آپ کے ساتھ کیا جائے گا۔ آپ اس کو خوشگواری اور مزہ سے پائیں لیکن ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان آیات پر اگلی آیت نازل فرمائی : تاکہ وہ مؤمن مردوں اور عورتوں کو ایسے باغات میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ آخر آیت تک۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39710
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٨٣٤)، ومسلم (١٨٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39710، ترقيم محمد عوامة 38092)
حدیث نمبر: 39711
٣٩٧١١ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: (حدثنا) (١) مكحول أن رسول اللَّه ﷺ لما دخل مكة تلقته الجن (٢) (بالشرر يرمونه) (٣) فقال جبرائيل: تعوذ يا محمد، فتعوذ بهؤلاء الكلمات فدحروا عنه، ⦗٦٤⦘ فقال: "أعوذ بكلمات اللَّه التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما نزل من السماء وما يعرج فيها، ومن شر ما بث في الأرض وما يخرج منها، ومن شر (٤) (الليل) (٥) والنهار، ومن شر كل طارق إلا طارق يطرق بخير يا رحمن" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو جنات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شراروں کے ساتھ ہدف بنایا تو حضرت جبرائیل نے فرمایا : اے محمد ! پناہ حاصل کیجئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کلمات کے ذریعہ سے پناہ پکڑی پس ان جنات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور کردیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا۔ میں اللہ تعالیٰ کے ان کلمات تامہ کے ذریعہ سے پناہ پکڑتا ہوں جن سے آگے کوئی نیک و بد نہیں جاسکتا۔ ہر اس بُری چیز سے جو آسمان سے نازل ہو اور آسمان کی طرف اوپر چڑھے اور ہر اس شر سے جو زمین میں پھیلے اور ہر اس شر سے جو زمین سے نکلے اور رات، دن کے شر سے اور ہر رات کو آنے والے کے شر سے سوائے اس رات کے آنے والے کے جو خیر کے ساتھ آئے۔ اے رحمن۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39711
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مكحول تابعي، والأكثر على أن الصواب أن عبد الرحمن هو ابن تميم لا ابن جابر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39711، ترقيم محمد عوامة 38093)
حدیث نمبر: 39712
٣٩٧١٢ - حدثنا أبو أسامة عن زكريا عن أبي إسحاق عن (عبد اللَّه) (١) بن حبيب قال: مر خالد بن الوليد على اللات فقال: كفرانك لا سبحانك … إني رأيت اللَّه قد أهانك (٢)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حبیب روایت کرتے ہیں کہ خالد بن ولید لات پر سے گزرے تو فرمایا : اے کافروں کے بت ! تیری کوئی قدر نہیں ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے ذلیل کردیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39712
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عبد اللَّه بن حبيب أبو عبد الرحمن السلمي تابعي، أخرجه الطبراني (٣٨١١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39712، ترقيم محمد عوامة 38094)
حدیث نمبر: 39713
٣٩٧١٣ - حدثنا الفضل بن دكين قال: (حدثنا) (١) يونس بن (أبي) (٢) إسحاق عن أبي السفر قال: لما دخل رسول اللَّه ﷺ مكة دعا شيبة بن عثمان بالمفتاح مفتاح الكعبة، فتلكأ فقال لعمر: قم فاذهب معه، فإن جاء بها وإلا فاجلد رأسه، قال: فجاء بها، قال: فأجالها في حجره وشيبة قائم، قال: فبكى شيبة، فقال (له) (٣) رسول اللَّه ﷺ: "هاك فخذها، فإن اللَّه قد رضي لكم بها في الجاهلية والإسلام" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو السفر سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شیبہ بن عثمان (صحیح قول کے مطابق یہ نام عثمان بن طلحہ ہے) کو پیغام بھیجا کہ کعبہ کی چابی لے آئیں۔ پھر آپ نے حضرت عمر سے فرمایا کہ ان کے ساتھ جاؤ، اگر وہ چابی لے آئیں تو ٹھیک ورنہ انہیں مار ڈالنا۔ وہ چابی لے آئے۔ آپ نے چابی لے لی تو شیبہ رونے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ چابی لے لو، اللہ تعالیٰ جاہلیت اور اسلام میں تمہارے پاس اس چابی کے ہونے سے خوش ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39713
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو السفر سعيد بن يحمد تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39713، ترقيم محمد عوامة 38095)
حدیث نمبر: 39714
٣٩٧١٤ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبي السوداء عن ابن سابط أن النبي ﷺ ناول عثمان بن طلحة المفتاح من وراء الثوب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سابط سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان بن طلحہ کو (بیت اللہ کی) چابی پردے کے پیچھے سے عطا فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39714
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ ابن سابط تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39714، ترقيم محمد عوامة 38096)
حدیث نمبر: 39715
٣٩٧١٥ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: (حدثنا) (١) محمد بن إسحاق عن الزهري عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن (عتبة) (٢) عن ابن عباس قال: خرج رسول اللَّه ﷺ عام الفتح لعشر مضت من رمضان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے سال رمضان کے دس دن گزرنے کے بعد (سفر مکہ پر) نکلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39715
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ صرح ابن إسحاق بالتحديث عند أحمد، وأخرجه أحمد (٢٨٨٢)، وأصله عند البخاري (٢٩٥٣)، ومسلم (١١١٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39715، ترقيم محمد عوامة 38097)
حدیث نمبر: 39716
٣٩٧١٦ - حدثنا حفص عن جعفر عن أبيه أن النبي ﷺ أمر أن تطمس التماثيل التي حول الكعبة يوم فتح مكة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن حکم فرمایا کہ جو تصاویر کعبہ کے گرد موجود ہیں ان کو مٹا دیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39716
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو جعفر تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39716، ترقيم محمد عوامة 38098)
حدیث نمبر: 39717
٣٩٧١٧ - حدثنا عبدة بن (سليمان) (١) عن هشام عن أبيه أن النبي ﷺ اعتمر عام الفتح من الجعرانة، فلما فرغ من عمرته استخلف أبا بكر على مكة وأمره أن يعلم الناس المناسك، وأن يؤذن في الناس: "من حج العام فهو آمن، ولا يحج بعد العام مشرك، ولا يطوف بالبيت (عريان) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے سال مقام جعرانہ سے عمرہ فرمایا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے عمرہ سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو مکہ پر خلیفہ بنادیا اور انہیں یہ حکم دیا کہ لوگوں کو افعال حج کی تعلیم دیں۔ اور یہ کہ وہ لوگوں میں اس بات کا اعلان کردیں کہ جو شخص اس سال بیت اللہ کا حج کرے گا وہ امن پا جائے گا اور اس سال کے بعد کوئی مشرک بیت اللہ کا حج نہیں کرسکے گا۔ اور نہ ہی بیت اللہ کا ننگا طواف کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39717
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عروة تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39717، ترقيم محمد عوامة 38099)
حدیث نمبر: 39718
٣٩٧١٨ - حدثنا أبو أسامة (قال: حدثني) (١) (عبد) (٢) الحميد بن جعفر عن ⦗٦٦⦘ يزيد بن أبي حبيب عن عطاء عن جابر بن عبد اللَّه قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ عام الفتح يقول: "إن اللَّه ورسوله حرما بيع الخمر والخنازير والميتة والأصنام"، قال: فقال رجل: يا رسول اللَّه ما ترى في شحوم الميتة فإنها تدهن بها السفن والجلود (ويستصبح) (٣) بها؟ قال: "قاتل اللَّه اليهود إن اللَّه لما حرم عليهم شحومها أخذوها فجملوها ثم باعوها وأكلوا أثمانها" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتح مکہ کے سال یہ بات سُنی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما رہے تھے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے شراب، خنزیروں، مردار اور بتوں کو حرام قرار دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں : ایک آدمی نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مردار کی چربی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کیونکہ ان کے ذریعہ سے تو کشتیوں کو تیل ملا جاتا ہے اور کھالوں کو بھی۔ اور ان کے ذریعہ سے چراغ روشن کیے جاتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ یہود کو ہلاک کرے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر (مردار کی) چربیوں کو حرام کیا تو انہوں نے اس کو پکڑ کر پگھلا لیا اور پھر اس کو بیچ کر اس کا ثمن (آمدنی) کھالیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39718
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٢٣٦)، ومسلم (١٥٨١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39718، ترقيم محمد عوامة 38100)
حدیث نمبر: 39719
٣٩٧١٩ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: (أخبرنا) (١) أسامة بن زيد عن الزهري عن عبد الرحمن بن الأزهر قال: رأيت رسول اللَّه ﷺ عام الفتح وأنا غلام (شاب) (٢) يسأل عن منزل خالد بن الوليد، (وأتي) (٣) بشارب فضربوه بما في أيديهم، فمنهم من ضرب بالسوط وبالنعل وبالعصى، (وحثا) (٤) عليه النبي ﷺ التراب، فلما كان أبو بكر أتي بشارب فسأل أصحابه: كم ضرب رسول اللَّه ﷺ الذي ضرب؟ (فحزره) (٥) أربعين فضرب أبو بكر أربعين (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمان بن ازہر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ کے سال دیکھا جبکہ میں ایک نو عمر لڑکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خالد بن ولید کے گھر کا پوچھ رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شرابی کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا چناچہ جو کچھ ان کے ہاتھ میں تھا انہوں نے اسے مارنا شروع کیا۔ کچھ نے کوڑے کے ساتھ اور کچھ نے جوتیوں کے ساتھ اور کچھ نے لاٹھی کے ساتھ مارا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر مٹی گرائی پھر حضرت ابوبکر کی خدمت میں ایک شرابی کو لایا گیا تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا۔ جس آدمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مارا تھا اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنا مارا تھا ؟ تو اس کا اندازہ چالیس لگایا گیا چناچہ حضرت ابوبکر نے چالیس کوڑے لگائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39719
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39719، ترقيم محمد عوامة 38101)
حدیث نمبر: 39720
٣٩٧٢٠ - حدثنا يونس بن محمد قال: (حدثنا) (١) ليث بن سعد عن عقيل عن ⦗٦٧⦘ ابن شهاب عن عمرو بن عبد الرحمن بن أمية بن يعلى بن (منية) (٢) أن أباه أخبره أن يعلى قال: جئت رسول اللَّه ﷺ (بأبي) (٣) أمية يوم الفتح، فقلت: يا رسول اللَّه بايع أبي على الهجرة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "بل أبايعه على الجهاد فقد انقطعت الهجرة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعلیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں فتح مکہ کے موقع پر اپنے والد امیہ کو لے کر حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے والد کو ہجرت پر بیعت کرلیجئے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ (نہیں) بلکہ میں تو ان سے جہاد پر بعتب لوں گا کیونکہ ہجرت تو ختم ہوگئی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39720
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39720، ترقيم محمد عوامة 38102)
حدیث نمبر: 39721
٣٩٧٢١ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) وهيب قال: (حدثنا) (٢) عبد اللَّه بن عثمان بن خثيم عن مجاهد عن السائب أنه كان يشارك رسول اللَّه ﷺ قبل الإسلام في التجارة، فلما كان يوم الفتح أتاه فقال: "مرحبا بأخي وشريكي، كان لا يداري ولا يماري، يا سائب قد كنت تعمل أعمالا في الجاهلية لا تتقبل منك، وهي اليوم تتقبل منك"، وكان ذا سلف وصلة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سائب سے روایت ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اسلام (کی آمد) سے پہلے تجارت میں شریک تھے۔ چناچہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مرحبا ! میرے بھائی اور میرے شریک (تجارت) ! جو نہ دھوکہ دیتا تھا اور نہ ہی بحث و مباحثہ کرتا تھا۔ اے سائب ! تحقیق تم جاہلیت میں کچھ ایسے (اچھے) اعمال کرتے تھے جو تم سے قبول نہیں کیے جاتے تھے۔ آج وہ اعمال تم سے قبول کئے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39721
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ مجاهد مولى السائب، وقد لقيه وروى عنه ولا يصح أن يطعن في ذلك، بما رواه إبراهيم بن مهاجر عن مجاهد عن قائد السائب؛ لأن ابن مجاهد ضعيف، والحديث أخرجه أحمد (١٥٥٠٥)، وأبو داود (٤٨٣٦)، والنسائي في الكبرى (١٠١٤٤)، وإبن ماجه (٢٢٨٧)، والحاكم ٢/ ٦١، والبيهقي ٦/ ٧٨، والطبراني (٦٦٢٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39721، ترقيم محمد عوامة 38103)
حدیث نمبر: 39722
٣٩٧٢٢ - حدثنا حسين بن علي عن حمزة الزيات قال: لما كان يوم فتح مكة دخل رسول اللَّه ﷺ من (أعلى) (١) مكة، ودخل خالد بن الوليد من أسفل مكة، ⦗٦٨⦘ قال: [فقال (رسول) (٢) اللَّه ﷺ: "لا تقتلن"، فوضع يده في القتل، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لا تقتلن"، فوضع يده في القتل] (٣)، فقال: "ما حملك على ما صنعت؟ " فقال: يا رسول اللَّه ما قدرت على أن لا أصنع إلا الذي (صنعت) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمزہ زیات روایت کرتے ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کے بالائی حصہ سے داخل ہوئے اور حضرت خالد بن ولید مکہ کے نچلے حصہ سے داخل ہوئے۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم ارشاد فرمایا : تم ہرگز قتل نہ کرنا۔ پھر ان کا ہاتھ قتل میں ملوث ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم نے جو کچھ کیا اس پر تمہیں کس چیز نے ابھارا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں نے جو کچھ کیا ہے میں اس کے سوا کسی بات کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39722
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ حمزة الزيات من تابعي التابعين.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39722، ترقيم محمد عوامة 38104)
حدیث نمبر: 39723
٣٩٧٢٣ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: (حدثنا) (١) ابن جريج قال (٢): محمد بن جعفر حدثني حديثا رفعه إلى أبي سلمة بن سفيان وعبد اللَّه بن عمرو عن عبد اللَّه ابن السائب قال: حضرت رسول اللَّه ﷺ يوم الفتح فصلى في قبل الكعبة، فخلع نعليه فوضعهما عن يساره، ثم استفتح سورة المؤمنين فلما جاء ذكر (عيسى أو موسى) (٣) أخذته سعلة فركع (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سائب سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نعلین مبارک اتار کر اپنے بائیں طرف رکھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورة المومنون شروع فرمائی۔ پھر جب عیسیٰ یا موسیٰ کا ذکر (سورۃ) میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانسی آگئی چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع فرما لیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39723
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٤٥٥)، وأحمد ٣/ ٤١١ (١٥٤٣٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39723، ترقيم محمد عوامة 38105)
حدیث نمبر: 39724
٣٩٧٢٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) أبو (مالك) (٢) الأشجعي قال: حدثنا سالم بن أبي الجعد عن محمد بن الحنفية قال: خرج رسول اللَّه ﷺ من بعض حجره فجلس عند بابها، وكان إذا جلس وحده لم يأته أحد حتى يدعوه، قال: "ادع لي (أبا بكر) (٣) "، قال: فجاء فجلس (٤) بين يديه فناجاه طويلا، ثم أمره فجلس عن يمينه أو عن يساره، ثم قال: "ادع لي عمر"، فجاء فجلس ⦗٦٩⦘ (مجلس) (٥) أبي بكر فناجاه طويلا، فرفع عمر صوته فقال: يا رسول اللَّه هم رأس الكفر، هم الذين زعموا أنك ساحر، وأنك كاهن، وأنك كذاب، وأنك مفتر، ولم يدع شيئًا مما كان أهل مكة يقولونه إلا ذكره، فأمره أن يجلس من الجانب الآخر فجلس أحدهما عن يمينه والآخر عن يساره، ثم دعا الناس فقال: "ألا أحدثكم بمثل صاحبيكم هذين؟ " قالوا: نعم يا رسول اللَّه، فأقبل بوجهه إلى أبي بكر فقال: "إن إبراهيم كان ألين في اللَّه من الدهن (باللبن) (٦) "، ثم أقبل على عمر فقال: "إن نوحا كان أشد في اللَّه من الحجر، وإن الأمر أمر عمر فتجهزوا"، فقاموا فتبعوا أبا بكر فقالوا: يا أبا بكر إنا كرهنا أن نسأل عمر ما هذا الذي (ناجاك) (٧) به رسول اللَّه ﷺ (٨)؟ قال: قال لي: "كيف (تأمرني) (٩) في (غزو) (١٠) مكة؟ "، قال: قلت: يا رسول اللَّه هم قومك، قال: حتى رأيت أنه (سيطيعني) (١١)، قال: ثم دعا عمر، فقال عمر: إنهم رأس الكفر حتى ذكر كل سوء كانوا (يقولونه) (١٢)، "وأيم اللَّه لا تذل العرب حتى يذل أهل مكة فآمركم (بالجهاز) (١٣) (لتغزوا) (١٤) مكة" (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن الحنفیہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کسی حجرہ مبارک سے باہر نکلے اور اس کے دروازہ پر تشریف فرما ہوگئے اور (عادت یہ تھی کہ) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکیلے تشریف فرما ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کوئی بھی نہیں آتا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کو خود بلاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر کو میرے پاس بلاؤ۔ راوی کہتے ہیں : پس حضرت ابوبکر تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے کافی دیر تک سرگوشی کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو حکم دیا چناچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں جانب یا بائیں جانب بیٹھ گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حضرت عمر کو میرے پاس بلاؤ۔ چناچہ حضرت عمر حاضر ہوئے اور حضرت ابوبکر کی جگہ (سامنے) بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے بھی کافی لمبی سرگوشی فرمائی اس دوران حضرت عمر کی آواز بلند ہوگئی اور کہنے لگے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ تو کفر کے سردار ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کو جادو گر گمان کیا اور آپ کو کاہن کہا اور آپ کو کذاب سمجھا اور آپ کو جھوٹ باندھنے والا کہا۔ حضرت عمر نے ان تما م باتوں کا ذکر فرمایا جو اہل مکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو حکم دیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دوسری جانب بیٹھ جائیں۔ چناچہ ان حضرات شیخین میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب بیٹھ گیا۔ پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو بلایا اور ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں تمہارے ان دو ساتھیوں کی مثال نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رُخ مبارک حضرت ابوبکر کی طرف پھیرا اور ارشاد فرمایا : یقین کرو کہ ابراہیم اللہ تعالیٰ کے بارے میں دودھ میں تیل سے بھی زیادہ نرم تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رُخ مبارک حضرت عمر کی طرف کیا اور فرمایا۔ حضرت نوح اللہ کے بارے میں پتھر سے بھی زیادہ سخت تھے۔ اور فیصلہ تو وہی ہے جو عمر نے کیا ہے۔ پھر صحابہ کرام نے تیاری شرو ع کردی اور کھڑے ہوگئے ۔ اور حضرت ابوبکر کے پیچھے چل پڑے اور کہنے لگے۔ اے ابوبکر ! حضرت عمر سے پوچھنا تو ہم پسند نہیں کرتے۔ (لیکن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے ساتھ کیا سرگوشی کی تھی ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ فرمایا تھا کہ تم مکہ (والوں سے) لڑنے کے بارے میں مجھے کیا کہتے ہو ؟ حضرت ابوبکر کہتے ہیں ۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! وہ آپ ہی کی قوم ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں تو دیکھ رہا ہوں کہ یہ لوگ عنقریب میری اطاعت کرلیں گے۔ حضرت ابوبکر کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو بلایا تو حضرت عمر نے کہا۔ یہ لوگ تو کفر کے سردار ہیں حتی کہ حضرت عمر نے ہر اس بُری بات کا ذکر کردیا جو وہ لوگ کہتے تھے۔ اور خدا کی قسم ! جب تک مکہ والے ذلیل نہیں ہوں گے تب تک عرب والے ذلیل نہیں ہوں گے۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں جہاد کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ مکہ پر حملہ کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39724
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ محمد بن الحنفية تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39724، ترقيم محمد عوامة 38106)