کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: فتح مکہ کی احادیث
حدیث نمبر: 39669
٣٩٦٦٩ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا سليمان بن المغيرة قال: حدثنا ثابت البناني عن عبد اللَّه بن رباح قال: وفدت وفود إلى معاوية وفينا أبو هريرة، وذلك في رمضان فجعل بعضنا يصنع لبعض الطعام، قال: فكان أبو هريرة ممن يصنع لنا فيكثر فيدعونا إلى رحله، قال: قلت (٢): (ألا) (٣) أصنع لأصحابنا فأدعوهم إلى رحلي؟ قال: فأمرت بطعام (فصنع) (٤) (ولقيت) (٥) أبا هريرة من العشي، فقلت: الدعوة عندي الليلة، قال: أسبقتني؟ قال: قلت: نعم، قال: فدعوتهم فهم عندي، قال: قال أبو هريرة: ألا أعللكم بحديث من حديثكم يا معشر الأنصار. قال: ثم ذكر فتح مكة قال: أقبل رسول اللَّه ﷺ حتى دخل مكة، وبعث الزبير ابن العوام على إحدى المجنِّبتين، وبعث خالد بن الوليد على المجنبة الأخرى، وبعث أبا عبيدة على الحسر، فأخذوا بطن الوادي، قال: ورسول اللَّه ﷺ في كتيبة. قال: فناداني، قال: "يا أبا هريرة"، قلت: لبيك يا رسول اللَّه، قال: "اهتف لى بالأنصار، ولا يأتيني إلا أنصاري"، قال: فهتفت بهم، قال: فجاؤوا ⦗٢٦⦘ حتى أطافوا به، قال: "وقد (وبّشت) (٦) قريش (أوباشا لها) (٧) وأتباعا"، قالوا: (تقدم) (٨) هؤلاء كان (لهم) (٩) (شيء) (١٠) كنا معهم، وإن أصيبوا أعطينا الذي سئلنا. فقال رسول اللَّه ﷺ للأنصار حين أطافوا به: " (أترون) (١١) إلي أوباش قريش وأتباعهم"، ثم قال بيديه إحداهما على الأخرى: [(١٢) "احصدوهم" -ثم ضرب سليمان بحرف كفه اليمنى على بطن كفه اليسرى] (١٣) - حصدا حتى (توافوا) (١٤) بالصفا". قال: فانطلقنا فما أحد منا يشاء أن يقتل منهم أحدا إلا قتله، (وما) (١٥) أحد منهم يوجه إلينا شيئًا، فقال أبو سفيان: يا رسول اللَّه أبيحت خضراء قريش بعد هذا اليوم، قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أغلق بابه فهو آمن، (ومن دخل دار أبي سفيان فهو آمن) (١٦) " قال: (فغلق) (١٧) الناس أبوابهم. قال: فأقبل رسول اللَّه ﷺ حتى استلم الحجر وطاف بالبيت، فأتى على صنم إلى جنب البيت يعبدونه، وفي يده قوس وهو آخذ بسية القوس، فجعل ⦗٢٧⦘ يطعن بها في عينه ويقول: ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ﴾ (١٨) [الإسراء: ٨١]، حتى إذا فرغ من طوافه أتى الصفا فعلاها حيث ينظر إلى البيت فرفع يديه وجعل يحمد اللَّه ويذكره ويدعو بما شاء (اللَّه) (١٩) أن يدعو، قال: والأنصار (تحته) (٢٠) قال: (تقول) (٢١) الأنصار بعضها لبعض: أما الرجل فأدركته رغبة في قريته ورأفة بعشيرته. [قال: قال أبو هريرة: وجاء الوحي، وكان إذا جاء الوحي لم يَخْفَ علينا، فليس أحدٌ من الناس يرفع طرفه إلى رسول اللَّه ﷺ حتى يُقضى، فلما قضي الوحي قال رسول اللَّه ﷺ: "يا معشر الأنصار"، قالوا: لبيك يا رسول اللَّه، قال: "قلتم، أما الرجل فأدركته رغبة في قريته ورأفة بعشيرته"] (٢٢)، قالوا: قد قلنا (ذلك) (٢٣) يا رسول اللَّه، قال: "فما أسمى إذن، كلا إني عبد اللَّه ورسوله، (هاجرت) (٢٤) إلي اللَّه وإليكم، (المحيا) (٢٥) محياكم والممات مماتكم"، (قال) (٢٦): فأقبلوا إليه يبكون يقولون: واللَّه -يا رسول اللَّه- ما قلنا الذي قلنا إلا للضن باللَّه (وبرسوله) (٢٧) قال: "فإن اللَّه ورسوله يعذرانكم ويصدقانكم" (٢٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن رباح بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ کی طرف کچھ وفود گئے اور ہم میں حضرت ابوہریرہ بھی تھے۔ یہ رمضان کے دنوں کی بات ہے۔ پس ہم میں سے بعض، بعض کے لئے کھانے کی دعوت کا اہتمام کرتے۔ راوی کا بیان ہے۔ حضرت ابوہریرہ ان میں سے تھے جو ہمارے لئے بہت زیادہ کھانے کی دعوت کا اہتما م کرتے تھے۔ اور ہمیں اپنے کجاوہ (منزل) کی طرف بلا لیتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے (دل میں) کہا کہ کیوں نہ میں اپنے ساتھیوں کے لئے دعوت کا اہتمام کروں اور انہیں اپنے کجاوہ کی طرف بُلاؤں ۔ کہتے ہیں : پس میں نے کھانے کا کہا اور وہ تیار کرلیا گیا اور شام کو حضرت ابوہریرہ سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے (ان سے) کہا ۔ آج کی رات میری طرف دعوت ہے۔ انہوں نے (آگے سے) فرمایا : کیا تم مجھ پر (آج) سبقت لے گئے ہو ؟ کہتے ہیں : میں نے کہا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : پس میں نے سب کو بلایا اور وہ میرے پاس آگئے۔ حضرت ابوہریرہ کہنے لگے۔ اے گروہ انصار ! کیا میں تمہیں، تمہاری باتوں میں سے ہی کچھ سُناؤں ؟ راوی کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے فتح مکہ کا (واقعہ) ذکر کیا۔ ٢۔ حضرت ابوہریرہ کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میمنہ اور میسرہ میں سے ایک لشکر پر حضرت زبیر کو مقرر فرمایا اور حضرت خالد بن الولید کو دوسرے لشکر پر مقرر فرمایا۔ اور حضرت ابو عبیدہ کو خالی ہاتھ لوگوں پر مقرر فرمایا۔ پھر وہ لوگ وادی کے آنگن میں داخل ہوگئے۔ ابوہریرہ بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چھوٹے سے لشکر میں تھے۔ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے آواز دی ۔ فرمایا۔ اے ابوہریرہ ! میں نے عرض کیا۔ میں حاضر ہوں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے لئے انصار کو آواز دو ۔ میرے پاس صرف میرے انصار (صحابہ) ہی آئیں۔ ابوہریرہ کہتے ہیں۔ پس میں نے انہیں آواز دی۔ کہتے ہیں : وہ سب حاضر ہوگئے یہاں تک کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے جھرمٹ میں لے لیا۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں : قریش نے اپنے بہت سے پیرو اور متفرق لوگوں کو جمع کر رکھا تھا۔ اور قریش کہہ رہے تھے۔ ہم ان لوگوں کو (پہلے) آگے بھیجیں گے پس اگر ان کو کچھ (فائدہ) ملا تو ہم ان کے ساتھ شریک ہوں گے اور اگر یہ لوگ مارے گئے تو ہم سے جو سوال کیا گیا ہم وہ دے چکے ہوں گے۔ ٤۔ جب انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے جھرمٹ میں لیا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا۔ قریش کے پیرو اور ان متفرق لوگوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ مار کر اشارہ فرماتے ہوئے کہا۔ ان کو مار ڈالو… سلمان راوی نے بھی اپنے دائیں ہتھیلی کے کنارے کو بائیں ہتھیلی پر مارا … ان کو خوب مارو یہاں تک کہ تم مجھے صفاء پر ملو ۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر ہم اس حالت میں روانہ ہوئے کہ ہم سے جو کوئی بھی اُن (اتباعِ قریش) میں سے کسی کو قتل کرنا چاہے تو اس کو قتل کرسکتا تھا۔ اور ان مں سے کوئی بھی ہمیں کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ ابو سفیان نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! قریش کے عوام کو مباح قرار دیا گیا ہے ؟ (پھر تو) آج کے بعد قریش (باقی) نہیں ہوں گے… راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنا دروازہ بند کرلے گا وہ مامون ہوگا اور جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے گا وہ بھی مامون ہوگا۔ راوی کہتے ہیں : پھر لوگوں نے اپنے اپنے دروازے بند کرلیے۔ ٥۔ ابوہریرہ کہتے ہیں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا اور بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب رکھے ہوئے بُت کی طرف آئے جس کی مشرکین مکہ عبادت کرتے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں (اس وقت) کمان تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ٹیڑھی جانب سے پکڑا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قوس (کمان) کو اس بت کی آنکھ میں مارنا شروع کیا اور ارشاد فرمایا : حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقینا باطل ایسی چیز ہے جو مٹنے والی ہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا پہاڑی کی طرف آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر اس جگہ تک بلند ہوئے جہاں سے بیت اللہ دکھائی دیتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ بلند کئے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف اور خدا کا ذ
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39669
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٨٠)، وأحمد (١٠٩٤٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39669، ترقيم محمد عوامة 38054)
حدیث نمبر: 39670
٣٩٦٧٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) محمد بن عمرو عن أبي سلمة ويحيى بن (عبد الرحمن) (٢) بن حاطب قالا: كانت بين رسول اللَّه ﷺ وبين المشركين هدنة، (فكان) (٣) بين بني كعب وبين بني بكر قتال بمكة. فقدم صريخ بني كعب على رسول اللَّه ﷺ فقال: اللهم (إني) (٤) ناشد محمدا … حلف أبينا وأبيه (الأتلدا) (٥) (فانصر) (٦) هداك اللَّه نصرا (عتدا) (٧) … وادع عباد اللَّه يأتوا مددا فمرت سحابة فرعدت فقال رسول اللَّه ﷺ: "إن هذه لترعد بنصر بني كعب". ثم قال لعائشة: "جهزيني، ولا (تُعلِمنَّ) (٨) بذلك أحدًا"، فدخل عليها أبو بكر فأنكر بعض شأنها، فقال: ما هذا؟ قالت: أمرني رسول اللَّه ﷺ أن أجهزه، قال: إلى أين؟ (قالت) (٩): إلى مكة، قال: (فواللَّه) (١٠) ما انقضت الهدنة بيننا وبينهم بعد. فجاء أبو بكر إلى رسول اللَّه ﷺ فذكر له فقال النبي ﷺ: "إنهم أول من غدر"، ثم أمر (بالطرق) (١١) فحبست، ثم خرج وخرج المسلمون معه، فغم لأهل مكة ⦗٢٩⦘ (لا) (١٢) يأتيهم خبر، فقال أبو سفيان لحكيم بن حزام: أي حكيم واللَّه لقد (غُمِمْنا) (١٣) و (اغتممنا) (١٤) فهل لك أن تركب ما بيننا وبين (مر) (١٥)، (لعلنا) (١٦) أن نلقى خبرا؟ فقال له بديل بن ورقاء الكعبي من خزاعة: وأنا معكم، قالا: وأنت إن شئت. قال: فركبوا حتى إذا دنوا من ثنية مَر وأظلموا فأشرفوا على الثنية، فإذا النيران قد أخذت الوادي كله، قال أبو سفيان لحكيم: (أي حكيم) (١٧) ما هذه النيران؟ قال بديل ابن ورقاء: (هذه) (١٨) نيران بني عمرو، (جوعتها) (١٩) (الحرب) (٢٠)، قال: أبو سفيان: لا وأبيك (لبنو) (٢١) عمرو (أذل و) (٢٢) أقل من هؤلاء، فتكشف عنهم الأراك، فأخذهم حرس رسول اللَّه ﷺ نفر من الأنصار، وكان عمر بن الخطاب تلك الليلة على الحرس، فجاؤا بهم (إليه) (٢٣) (فقالوا) (٢٤): جئناك بنفر أخذناهم من أهل مكة، فقال عمر وهو يضحك إليهم: واللَّه لو جئتموني بأبي سفيان ما زدتم، قالوا: قد واللَّه أتيناك بأبي سفيان فقال: احبسوه. ⦗٣٠⦘ فحبسوه حتى أصبح، فغدى به على رسول اللَّه ﷺ فقيل له: بايع، فقال: لا أجد إلا ذاك أو شرا منه، فبايع، ثم قيل لحكيم بن حزام: بايع، فقال: أبايعك ولا أخر إلا قائمًا، قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أما من قبلنا فلن تخر إلا قائما". فلما ولوا قال أبو بكر: أي رسول اللَّه (٢٥) إن أبا سفيان رجل يحب السماع -يعني الشرف- فقال رسول اللَّه ﷺ: "من دخل دار أبي سفيان فهو آمن إلا ابن خطل، ومِقْيَس بن صُبابة الليثي، وعبد اللَّه بن سعد بن أبي سرح، (والقينتين) (٢٦)، فإن وجدتموهم متعلقين بأستار الكعبة (فاقتلوهم) (٢٧) ". قال: فلما ولوا قال أبو بكر: يا رسول اللَّه (٢٨) لو أمرت بأبي سفيان (فحبس) (٢٩) على الطريق، وأذن في الناس بالرحيل، (فأدركه) (٣٠) العباس فقال: هل لك إلى أن تجلس حتى تنظر، قال: بلى، و (٣١) لم (يكن) (٣٢) ذلك (إلا) (٣٣) أن (يرى) (٣٤) ضعفه، (فيتناولهم) (٣٥). ⦗٣١⦘ فمرت جهينة [فقال: (أي) (٣٦) عباس من هؤلاء؟ قال: هذه جهينة] (٣٧) قال: (ما لي) (٣٨) ولجهينة، واللَّه (ما كانت) (٣٩) بيني وبينهم حرب قط، ثم مرت مزينة فقال: أي عباس من هؤلاء؟ قال: هذه مزينة، قال: ما لي ولمزينة، واللَّه ما كانت بيني وبينهم حرب قط، ثم مرت سليم فقال: أي عباس من هؤلاء؟ قال: هذه سليم قال: ثم جعلت تمر طوائف العرب (فمرت) (٤٠) عليه أسلم وغفار، (فيسأل) (٤١) عنها فيخبره العباس. حتى مر رسول اللَّه ﷺ في أخريات الناس، في المهاجرين الأولين والأنصار في لامة تلتمع البصر، فقال: أي عباس من هؤلاء؟ قال: هذا رسول اللَّه ﷺ (٤٢) في المهاجرين الأولين والأنصار، قال: لقد أصبح ابن أخيك عظيم الملك، (قال) (٤٣): لا واللَّه، ما هو بمَلِكٍ، (ولكنها) (٤٤) النبوة، وكانوا عشرة آلاف أو اثني عشر ألفًا، قال: ودفع رسول اللَّه ﷺ (الراية) (٤٥) إلى سعد بن عبادة، فدفعها سعد إلى ابنه قيس بن سعد. وركب أبو سفيان فسبق الناس حتى اطلع عليهم من الثنية، قال له أهل ⦗٣٢⦘ مكة: ما وراءك؟ قال: ورائي الدهم، ورائي ما (لا قبل) (٤٦) لكم به، ورائي من لم أر مثله، من دخل داري فهو آمن، فجعل الناس يقتحمون داره. وقدم رسول اللَّه ﷺ فوقف بالحجون بأعلى مكة، وبعث الزبير بن العوام في الخيل في أعلى الوادي، وبعث خالد بن الوليد في الخيل في أسفل الوادي، وقال رسول اللَّه ﷺ: "إنك لخير (٤٧) أرض اللَّه وأحب أرض اللَّه إلي اللَّه، (وإني) (٤٨) واللَّه لو لم أخرج منك ما خرجت، وإنها لم تحل لأحد (كان) (٤٩) قبلي، ولا تحل لأحد بعدي، وإنما أحلت لي (ساعة من النهار) (٥٠)، وهي ساعتي هذه حرام، لا يعضد شجرها، ولا يحتش (جبلها) (٥١)، ولا يلتقط (ضالتها) (٥٢) إلا منشد"، فقال له رجل يقال له (شاء) (٥٣)، والناس يقولون: قال له العباس: يا رسول اللَّه إلا الإذخر، فإنه (لبيوتنا (وقبورنا)) (٥٤) (٥٥) (وقيوننا) (٥٦) أو لقيوننا (وقبورنا) (٥٧). فأما ابن خطل فوجد متعلقا بأستار الكعبة فقتل، وأما مقيس بن (صبابة) (٥٨) ⦗٣٣⦘ فوجدوه بين الصفا والمروة (فتبادروه) (٥٩) نفر من بني كعب ليقتلوه، فقال له ابن عمه (نميلة) (٦٠): خلوا عنه فواللَّه لا يدنوا منه رجل إلا ضربته بسيفي هذا حتى يبرد، فتأخروا عنه فحمل بسيفه ففلق به هامته وكره أن يفخر عليه (أحد) (٦١). ثم طاف رسول اللَّه ﷺ بالبيت، ثم دخل عثمان بن طلحة فقال: أي عثمان، أين المفتاح؟ فقال: هو عند أمي (سلامة) (٦٢) ابنة سعد، فأرسل إليها رسول اللَّه ﷺ، فقالت: لا واللات والعزى، لا أدفعه إليه أبدا، (قال) (٦٣): إنه قد جاء أمر غير الأمر الذي كنا عليه، فإنك إن لم تفعلي قتلت أنا وأخي، قال: فدفعته إليه، قال: فأقبل به حتى إذا كان وجاه رسول اللَّه ﷺ (٦٤) عثر فسقط المفتاح منه، فقام إليه رسول اللَّه ﷺ فأحنى عليه ثوبه. ثم فتح له عثمان فدخل رسول اللَّه ﷺ الكعبة فكبر في زواياها وأرجائها، وحمد اللَّه، ثم صلى بين الأسطوانتين ركعتين، ثم خرج فقام بين (البابين) (٦٥) (فقال) (٦٦) علي: فتطاولت لها ورجوت أن يدفع إلينا المفتاح، فتكون فينا السقاية ⦗٣٤⦘ والحجابة، فقال رسول اللَّه ﷺ (٦٧): " (أين) (٦٨) عثمان؟ هاكم ما أعطاكم اللَّه"، فدفع إليه المفتاح. ثم رقى بلال على ظهر الكعبة فأذن، فقال خالد بن أَسِيد: ما هذا الصوت؟ قالوا: بلال بن رباح، قال: عبد أبي بكر الحبشي؟ قالوا: نعم، قال: أين؟ (قالوا) (٦٩): على ظهر الكعبة، قال: على (مرقبة) (٧٠) بني أبي طلحة؟ قالوا: نعم، قال: ما يقول؟ قالوا: (يقول) (٧١): أشهد أن لا إله إلا اللَّه، وأشهد أن محمدا رسول اللَّه، قال: لقد أكرم اللَّه أبا خالد عن أن يسمع هذا الصوت -يعني أباه، وكان ممن قتل (يوم) (٧٢) (بدر) (٧٣) في المشركين. وخرج رسول اللَّه ﷺ إلى حنين، وجمعت له هوازن (بحنين) (٧٤) فاقتتلوا، فهزم أصحاب رسول اللَّه ﷺ، قال اللَّه (٧٥): ﴿وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا﴾ [التوبة: ٢٥] الآية ثم أنزل اللَّه سكينته على رسوله وعلى المؤمنين، فنزل رسول اللَّه ﷺ (٧٦) عن دابته (فقال) (٧٧): "اللهم إنك إن شئت لم تعبد بعد اليوم، شاهت الوجوه"، ثم رماهم (بحصباء) (٧٨) كانت في يده فولوا مدبرين. ⦗٣٥⦘ فأخذ رسول اللَّه ﷺ السبي والأموال فقال لهم: "إن شئتم فالفداء وإن شئتم فالسبي"، قالوا: لن نؤثر اليوم على الحسب شيئًا، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إذا خرجت فاسألوني فإني سأعطيكم الذي لي، ولن يتعذر عليَّ أحد من المسلمين"، فلما خرج رسول اللَّه ﷺ (صاحوا) (٧٩) إليه فقال: "أما الذي لي فقد أعطيتكموه"، وقال المسلمون مثل ذلك، إلا عيينة بن حصن بن حذيفة بن بدر فإنه قال: أما الذي لي فإني لا أعطيه، قال: " (أنت) (٨٠) على حقك من ذلك"، قال: فصارت له يومئذ عجوز عوراء. ثم حاصر رسول اللَّه ﷺ أهل الطائف قريبًا من شهر، فقال عمر بن الخطاب: أي رسول اللَّه ﷺ (٨١)! دعني (فأدخل) (٨٢) عليهم فأدعوهم إلى اللَّه، قال: "إنهم إذن قاتلوك"، فدخل عليهم عروة فدعاهم إلى اللَّه فرماه رجل من بني مالك بسهم فقتله، فقال رسول اللَّه ﷺ: "مثله في (قومه) (٨٣) (مثل) (٨٤) صاحب ياسين"، وقال رسول اللَّه: ["خذوا مواشيهم وضيقوا عليهم". ثم أقبل رسول اللَّه ﷺ] (٨٥) راجعا حتى إذا كان بنخلة جعل الناس يسألونه (٨٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ اور یحییٰ بن عبد الرحمان بن حاطب دونوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مشرکین (مکہ) کے درمیان جنگ بندی کا وقفہ تھا۔ اور بنو کعب بنو بکر کے درمیان مکہ میں لڑائی ہوگئی۔ بنی کعب کی طرف سے ایک فریادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا۔ ع اے خدا ! میں محمد کو اپنے اور اس کے آباء کی پرانی قسم دیتا ہوں۔ کہ تم مدد کرو۔ اللہ تمہیں ہدایت دے۔ سخت مدد اور اللہ کے بندوں کو بلاؤ وہ مدد کے لئے آئیں گے۔ ٢۔ پس ایک بادل گزرا اور وہ کڑکا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ یہ بادل بنو کعب کی مدد کے لئے کھڑک رہا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : میرا سامان تیار کرو۔ اور کسی کو یہ بات نہ بتانا۔ پس (اسی دوران) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حضرت ابوبکر تشریف لائے اور انہوں نے امی عائشہ رضی اللہ عنہا کی حالت کو متغیر پایا تو انہوں نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سامان تیار کروں۔ حضرت ابوبکر نے پوچھا۔ کہاں کے لئے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا۔ مکہ کے لئے ۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ بخدا ! ابھی تک ہمارے اور ان کے درمیان جنگ بندی کا وقفہ ختم تو نہیں ہوا۔ پھر حضرت ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ان لوگوں نے پہلے غدر کیا ہے۔ ٣۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راستہ بند کرنے کا حکم دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر مسلمان نکل پڑے اور اہل مکہ کو یوں گھیر لیا کہ ان کو کوئی خبر نہ مل سکی۔ ابو سفیان نے حکیم بن حزام سے کہا۔ اے حکیم ! بخدا ! ہم لوگوں کو گھیر لیا گیا ہے اور ہم ڈھک چکے ہیں۔ کیا تم اس کام کے لئے تیار ہو۔ کہ ہم یہاں سے مرالظہران تک سوار ہو کر (حالات) دیکھیں۔ شاید ہمیں کوئی خبر مل جائے۔ قبیلہ خزاعہ کے بدیل بن ورقاء کعبی نے کہا۔ میں بھی تمہارے ساتھ چلوں۔ ابو سفیان اور حکم نے کہا۔ اگر تم چاہو تو چل پڑو۔ راوی کہتے ہیں۔ پس یہ لوگ سوار ہو کر جب مرالظہران کی پہاڑی کے قریب پہنچے۔ اور گاٹی پر چڑھ گئے۔ ٤۔ پس جب یہ پیلو کے درخت سے آگے گزرے تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہرہ داروں نے … انصاری صحابہ کی ایک جماعت نے پکڑ لیا۔ اس رات حضرت عمر بن خطاب پہرہ داروں پر ذمہ دار تھے۔ پہرہ دار صحابہ ان کو … ابو سفیان وغیرہ کو لے کر حضرت عمر کے پاس حاضر ہوئے۔ اور آ کر کہنے لگے۔ ہم آپ کے پاس اہل مکہ میں سے چند لوگ پکڑ کر لائے ہیں۔ حضرت عمر… انہیں دیکھ کر ہنسنے لگے اور … فرمایا : خدا کی قسم ! اگر تم میرے پاس ابو سفیان کو لے آتے تو بھی کچھ زیادہ نہ ہوتا۔ پہرہ دار صحابہ نے کہا : خدا کی قسم ! ہم آپ کے پاس ابو سفیان ہی کو لائے ہیں۔ (اس پر) حضرت عمر نے فرمایا : اس کو بند کرلو۔ صحابہ نے ابو سفیان کو بند کرلیا۔ یہاں تک کہ صبح ہوگئی پھر حضرت عمر ابو سفیان کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ابو سفیان سے کہا گیا۔ بیعت (اسلام) کرلو۔ ابو سفیان نے کہا … میں اس وقت یہی صورت یا اس سے بھی بدتر صورت ہی موجود پاتا ہوں۔ پھر اس نے ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) بیعت کرلی۔ پھر حکیم بن حزام سے کہا گیا۔ تم (بھی) بیعت کرلو۔ اس نے کہا : میں آپ سے بیعت کرتا ہوں۔ لیکن میں کھڑا ہی رہوں گا۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ہماری طرف سے بھی کھڑے رہنے کو قبول کرو۔ ٥۔ پس جب یہ لوگ واپس ہوئے تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ابو سفیان ایک ایسا آدمی ہے جو شہرت کو پسند کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے وہ مامون ہے سوائے ابن خطل ، مقیس بن صبابہ اللیثی، عبد اللہ بن سعد بن سرح اور دو باندیاں۔ اگر تم ان (مستثنیٰ ) لوگوں کو کعبہ کے غلافوں میں بھی چمٹا ہوا پاؤ تو بھی ان کو قتل کر ڈالو۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جب یہ لوگ واپس ہوئے تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا۔ اگر آپ ابو سفیان کے بارے میں حکم دیں کہ اس کو راستہ میں روک دیا جائے اور پھر آپ لوگوں کو کوچ کرنے کا حکم دیں۔ پس حضرت عباس نے ابوسفیان کو راستہ میں پالیا (اور روک دیا) حضرت عباس نے ابو سفیان سے کہا۔ کیا تم بیٹھو گے تاکہ کچھ نظارہ کرو ؟ ابو سفیان نے کہا : کیوں نہیں ! اور یہ (راستہ میں روکنا اور نظارہ دکھانا) سب کچھ صرف اس لئے تھا کہ ابو سفیان ان کی کثرت کو دیکھے اور ان کے بارے میں پوچھے۔ ٦۔ اسی دوران قبیلہ جہینہ کے لوگ گزرے
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39670
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو سلمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب تابعيان، أخرج الأزرقي ٢/ ١٢٥ قطعة منه، وورد متصلًا من حديث أبي هريرة، أخرجه أبو يعلى (٥٩٥٤)، وابن أبي خيثمة في أخبار المكيين ص ٩٨ (٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39670، ترقيم محمد عوامة 38055)
حدیث نمبر: 39671
٣٩٦٧١ - قال أنس: حتى انتزعوا رداءه عن ظهره، فابدوا عن (مثل) (١) فلقة القمر، فقال: "ردوا علي ردائي لا أبا لكم أتبخلونني فواللَّه أن لو كان لي ما لى بينهما إبلا وغنما لأعطيتكموه". فأعطى المؤلفة يومئذ: مائة، مائة من الإبل، وأعطى الناس، فقالت الأنصار عند ذلك: فدعاهم رسول اللَّه ﷺ فقال: "قلتم كذا وكذا، ألم أجدكم ضلالا فهداكم اللَّه بي"، قالوا: بلى، (قال: "ألم أجدكم عالة فإغناكم اللَّه؟ ") (٢) قالوا: بلى، قال: " (ألم) (٣) أجدكم أعداء فألف اللَّه بين قلوبكم بي"، (قالوا: بلى) (٤)، قال: "أما إنكم لو شئتم قلتم: قد جئتنا مخذولا (فنصرناك) (٥) "، قالوا: اللَّه ورسوله أمنُّ، قال: "لو شئتم قلتم: جئتنا طريدا (فأويناك) (٦) "، قالوا: اللَّه ورسوله أمنُّ، (قال) (٧): "ولو شئتم لقلتهم جئتنا عائلا فآسيناك"، قالوا: اللَّه ورسوله أمنُّ، (قال) (٨): "أفلا ترضون أن ينقلب الناس بالشاء والبعير، وتنقلبون برسول اللَّه إلي دياركم؟ " قالوا: بلى، فقال رسول اللَّه ﷺ: "الناس دثار، والأنصار شعار"، وجعل على المقاسم عباد بن (وقش) (٩) أخا بني عبد الأشهل، فجاء رجل من أسلم عاريا ليس عليه ثوب، فقال: اكسني من هذه البرود بردة، (قال: إنما هي مقاسم المسلمين، ولا يحل لي أن أعطيك منها شيئا، فقال قومه: ⦗٣٧⦘ اكسه منها بردة) (١٠)، فإن تكلم فيها أحد فهي من قسمنا (وأعطياتنا) (١١) فأعطاه بردة، فبلغ ذلك رسول اللَّه ﷺ فقال: " (من) (١٢) كنت أخشى هذا (عليه) (١٣)، ما كنت أخشاكم عليه"، فقال: يا رسول اللَّه ما (أعطيته) (١٤) إياها حتى قال قومه: إن تكلم فيها أحد فهي من قسمنا (وأعطياتنا) (١٥)، فقال: "جزاكم اللَّه خيرا، جزاكم اللَّه خيرًا" (١٦).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39671
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39671، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 39672
٣٩٦٧٢ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن أبي (السوداء) (١) عن (ابن) (٢) (سابط) (٣) أن النبي ﷺ ناول عثمان بن طلحة المفتاح من وراء الثوب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سابط سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عثمان بن طلحہ کو کپڑے کے پیچھے سے (کعبہ کی) چابی عطا کی) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39672
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عبد الرحمن بن سابط تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39672، ترقيم محمد عوامة 38056)
حدیث نمبر: 39673
٣٩٦٧٣ - حدثنا سليمان بن حرب قال: (حدثنا) (١) حماد بن زيد عن أيوب عن عكرمة قال: لما (وادع) (٢) رسول اللَّه ﷺ أهل مكة، وكانت خزاعة حلفاء رسول اللَّه ﷺ في الجاهلية، وكانت بنو بكر حلفاء قريش، فدخلت خزاعة في صلح رسول اللَّه ﷺ، ودخلت بنو بكر في صلح قريش. ⦗٣٨⦘ فكان بين خزاعة وبين بني بكر قتال (فأمدتهم) (٣) قريش بسلاح وطعام، وظللوا عليهم، فظهرت بنو بكر على خزاعة وقتلوا (فيهم) (٤)، فخافت قريش أن يكونوا (قد) (٥) نقضوا، فقالوا لأبي سفيان: اذهب إلى محمد (فأجدّ) (٦) (الحلف) (٧) وأصلح بين الناس. فانطلق أبو سفيان حتى قدم المدينة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "قد جاءكم أبو سفيان وسيرجع راضيا بغير حاجته"، فأتى أبا بكر فقال: يا أبا بكر (أجدّ) (٨) الحلف وأصلح بين الناس، أو قال: بين قومك، قال: ليس الأمر لي الأمر إلى اللَّه وإلي رسوله، قال: وقد قال له فيما قال: ليس من قوم ظللوا على (قوم) (٩) وأمدوهم بسلاح وطعام أن يكونوا نقضوا، فقال أبو بكر: الأمر إلى اللَّه و (إلى) (١٠) رسوله. ثم أتى عمر بن الخطاب فقال: له نحوا مما قال لأبي بكر، قال: فقال له عمر: أنقضتم فما كان منه جديدا فأبلاه اللَّه، وما كان منه شديدا أو (متينًا) (١١) فقطعه اللَّه، فقال أبو سفيان: ما رأيت كاليوم شاهد عشيرة. ثم أتى فاطمة فقال: يا فاطمة هل لك في أمر تسودين فيه نساء قومك، ثم ذكر لها نحوا مما ذكر لأبي بكر فقالت: ليس الأمر إليَّ، الأمر إلى اللَّه وإلى رسوله، ثم أتى عليًّا فقال: فقال له: نحوا مما قال لأبي بكر، فقال له علي: ما رأيت كاليوم ⦗٣٩⦘ رجلا أضل، أنت (سيد) (١٢) الناس (فأجد) (١٣) الحلف وأصلح بين الناس، قال: فضرب إحدى يديه على الأخرى وقال: قد أجرت الناس بعضهم من بعض. ثم ذهب حتى قدم على (أهل) (١٤) مكة فأخبرهم بما صنع، فقالوا: واللَّه ما رأينا اليوم وافد قوم، واللَّه ما (أتيتنا) (١٥) بحرب فنحذر، ولا (أتيتنا) (١٦) (بصلح) (١٧) فنأمن، ارجع. قال: وقدم وافد خزاعة على رسول اللَّه ﷺ فأخبره بما صنع القوم (ودعا) (١٨) إلى النصرة وأنشده في ذلك شعرا: (لا هم) (١٩) إني ناشد محمدا … حلف أبينا وأبيه (الأتلدا) (٢٠) ووالدا (كنت وكنا) (٢١) ولدا … إن قريشا أخلفوك الموعدا ونقضوا ميثاقك (المؤكدا) (٢٢) … وجعلوا لي (بكداء) (٢٣) (رصدا) (٢٤) وزعمت أن لمست أدعو أحدا … فهم أذل وأقل عددا ⦗٤٠⦘ وهم أتونا بالوتير هجدا … (نتلوا) (٢٥) القرآن ركعا وسجدا ثمت أسلمنا ولم (ننزع) (٢٦) يدا … فانصر رسول اللَّه نصرا (أعتدا) (٢٧) وابعث جنود اللَّه (تأتي) (٢٨) مددا … في فيلق كالبحر يأتي مزبدا فيهم رسول اللَّه قد تجردا … إن (سيم) (٢٩) (خسفا) (٣٠) وجهه تربدا قال حماد: هذا الشعر بعضه (عن أيوب، وبعضه عن) (٣١) يزيد بن حازم وأكثره عن محمد بن إسحاق. ثم رجع إلى حديث أيوب عن عكرمة قال: قال حسان بن ثابت (٣٢): أتاني ولم أشهد ببطحاء مكة … (رجال) (٣٣) بني كعب تحز رقابها وصفوان عود (خَرّ) (٣٤) مِن (وَدْق) (٣٥) استه … فذاك (أوان) (٣٦) الحرب شُدّ عصابها ⦗٤١⦘ فلا تجزعن يا ابن أم مجالد … فقد صرحت (صرفا) (٣٧) وعصل نابها فياليت شعري هل ينالن مرة … سهيل بن عمرو حوبها وعقابها قال: فأمر رسول اللَّه ﷺ بالرحيل فارتحلوا، فساروا حتى نزلوا مرا، قال: وجاء أبو سفيان حتى نزل مرا ليلًا، قال: فرأى العسكر والنيران فقال: (من) (٣٨) هؤلاء؟ فقيل: هذه تميم محلت بلادها (فانتجعت) (٣٩) بلادكم، قال: واللَّه لهؤلاء أكثر من أهل (منى) (٤٠)، (أو قال: مثل أهل منى) (٤١). فلما علم أنه النبي ﷺ قال: دلوني على (العباس) (٤٢)، فأتى العباس فأخبره الخبر، وذهب به إلى رسول اللَّه ﷺ، ورسول اللَّه ﷺ (٤٣) في قبة (له) (٤٤) فقال له: "يا أبا سفيان أسلم تسلم"، فقال: كيف أصنع باللات والعزى؟. قال أيوب: (فحدثني) (٤٥) أبو (الخليل) (٤٦) عن سعيد بن جبير، قال: قال له عمر بن الخطاب وهو خارج من القبة في عنقه السيف: اخْرَ عليها، أما واللَّه (أن) (٤٧) لو كنت خارجا من القبة ما قلتها أبدا، قال: قال أبو سفيان: من هذا؟ قالوا: عمر بن الخطاب (٤٨). ⦗٤٢⦘ ثم رجع إلى حديث أيوب عن عكرمة: فأسلم أبو سفيان وذهب به العباس إلى منزله، فلما أصبحوا ثار الناس لطهورهم، قال: فقال أبو سفيان: يا أبا الفضل ما للناس أمروا بشيء؟ قال: لا ولكنهم قاموا إلى الصلاة، قال: فأمره العباس فتوضأ ثم ذهب به إلى رسول اللَّه ﷺ، فلما دخل رسول اللَّه ﷺ (٤٩) الصلاةَ كبر، فكبر الناس، ثم ركع فركعوا ثم رفع فرفعوا، فقال أبو سفيان: (ما) (٥٠) رأيت كاليوم طاعة قوم جمعهم من هاهنا وههنا، ولا فارس (الأكارم) (٥١) ولا الروم (٥٢) ذات القرون بأطوع منهم له. قال: حماد وزعم يزيد بن حازم عن عكرمة أن أبا سفيان قال: يا أبا الفضل أصبح بن أخيك -واللَّه- عظيم الملك، قال: (فقال له) (٥٣) العباس: إنه ليس بملك ولكنها (نبوة) (٥٤)، قال: أو ذاك؟ (أو ذاك) (٥٥) (٥٦). (ثم) (٥٧) رجع إلى حديث أيوب عن عكرمة قال: قال أبو سفيان: واصباح قريش، قال: فقال العباس: يا رسول اللَّه، لو أذنت لي (فأتيتهم) (٥٨) فدعوتهم (فأمنتهم) (٥٩)، وجعلت لأبي سفيان شيئا يذكر به، فانطلق العباس فركب بغلة ⦗٤٣⦘ رسول اللَّه ﷺ (٦٠) الشهباء، وانطلق، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ردوا عليَّ أبي، ردوا علي أبيَّ، فإن عم الرجل صنو أبيه، إني أخاف أن تفعل به قريش ما فعلت ثقيف بعروة بن مسعود، دعاهم إلى اللَّه فقتلوه، أما واللَّه لئن ركبوها منه لأضرمنها عليهم نارًا". فانطلق العباس حتى قدم مكة، فقال: يا أهل مكة أسلموا تسلموا، قد استبطنتم بأشهب (بازل) (٦١)، وقد كان رسول اللَّه ﷺ بعث الزبير من قبل أعلى مكة، (وبعث) (٦٢) خالد (بن الوليد) (٦٣) من قبل أسفل مكة، فقال لهم العباس: هذا الزبير من قبل أعلى مكة، وهذا خالد من قبل أسفل مكة، وخالد (وما) (٦٤) خالد؟ وخزاعة (المجدعة) (٦٥) الأنوف، ثم قال: من ألقى سلاحه فهو آمن. ثم قدم رسول اللَّه ﷺ فتراموا بشيء من النبل، ثم إن رسول اللَّه ﷺ ظهر عليهم فأمن الناس إلا خزاعة (من) (٦٦) بني بكر (فذكر) (٦٧) أربعة: مقيس بن صبابة، وعبد اللَّه بن أبي سرح، وابن (خطل) (٦٨)، وسارة (مولاة) (٦٩) بني هاشم، قال حمادة: سارة -في حديث أيوب، (أو) (٧٠) في حديث (غيره) (٧١). ⦗٤٤⦘ قال: فقتلهم خزاعة إلى نصف النهار، وأنزل اللَّه: ﴿أَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُمْ بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَوْهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (١٣) قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ (٧٢) بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ (٧٣) وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ (٧٤) وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ﴾ (قال: خزاعة) (٧٥): ﴿وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ﴾ قال: خزاعة: ﴿وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ. .﴾ [التوبة: ١٣ - ١٥]، (قال: خزاعة) (٧٦) (٧٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اہل مکہ کے ساتھ صلح کی اور قبیلہ خزاعہ والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاہلیت میں بھی حلیف تھے اور بنو بکر قریش کے حلیف تھے۔ لہٰذا (اس صلح میں بھی) خزاعہ والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صلح میں داخل ہوگئے اور بنو بکر قریش کی صلح میں داخل ہوگئے۔ پھر بنو خزاعہ اور بنو بکر میں کوئی لڑائی ہوئی تو قریش نے بنو بکر کی اسلحہ اور کھانے کے ساتھ خوب مدد کی۔ اور (گویا) ان پر سایہ فگن ہوگئے۔ پس بنو بکر، قبیلہ خزاعہ پر غالب آگئے اور بنو بکر نے قبیلہ خزاعہ کے بہت لوگ قتل کئے۔ پھر قریش کو یہ خیال ہوا کہ وہ اپنا عہد (جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیا ہو) توڑ چکے ہیں۔ تو انہوں نے ابو سفیان سے کہا۔ جاؤ محمد کی طرف اور معاہدہ کی تجدید کرو ا لو اور لوگوں میں صلح کروا لو۔ ٢۔ ابو سفیان چل پڑا یہاں تک کہ وہ مدینہ میں پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ تحقیق تمہارے پاس ابوسفیان آ رہا ہے اور عنقریب وہ اپنی حاجت (پوری کئے) بغیر واپس پلٹے گا۔ چناچہ ابو سفیان، حضرت ابوبکر کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ اے ابوبکر ! معاہدہ کو برقرار رکھو اور لوگوں کے درمیان صلح ہی رہنے دو ۔ یا یہ الفاظ کہے کہ … اپنی قوم کے درمیان صلح ہی رہنے دو ۔ حضرت ابوبکر نے جواب دیا۔ یہ معاملہ میرے بس میں نہیں ہے یہ تو اللہ اور اس کے رسول کے بس میں ہے۔ راوی کہتے ہیں : ابو سفیان نے جو باتیں حضرت ابوبکر سے کہیں ان میں یہ بات بھی تھی کہ۔ یہ با ت نہیں ہے کہ اگر کسی قوم نے دوسری قوم کو اسلحہ اور کھانے کے ذریعہ سے مدد کی ہو اور ان پر سایہ کیا ہو تو وہ عہد کو توڑنے والے ہوں۔ حضرت ابوبکر نے جواب دیا۔ یہ معاملہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بس میں ہے۔ ٣۔ پھر ابو سفیان حضرت عمر بن خطاب کے پاس آیا اور ان سے بھی ویسی باتیں کہیں جیسی باتیں اس نے حضرت ابوبکر سے کہی تھیں۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمر نے اس سے پوچھا۔ کیا تم نے عہد توڑ دیا ہے ؟ پس اس بارے میں جو نئی بات تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے پرانا کردیا ہے اور جو مضبوط اور سخت بات تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے توڑ ڈالا ہے۔ ابو سفیان کہتا ہے میں نے اس د ن کی طرح قوم کو نہیں دیکھا ؟ پھر ابو سفیان حضرت فاطمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ اے فاطمہ ! کیا تم وہ کام کرو گی جس میں تم اپنی قوم کی خواتین کی سیادت کرو۔ پھر ابو سفیان نے ان سے بھی ویسی بات ذکر کی جیسی بات اس نے حضرت ابوبکر سے کہی تھی۔ حضرت فاطمہ نے جواب دیا۔ یہ معاملہ میرے اختیار میں نہیں ہے (بلکہ) یہ معاملہ تو اللہ اور اس کے رسول کے اختیار میں ہے۔ پھر ابو سفیان، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ویسی بات ہی کہی جیسی بات حضرت ابوبکر سے کہی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو جواب دیا۔ میں نے آج کے دن (کے آدمی) کی طرح کوئی گمراہ آدمی نہیں دیکھا ! تم تو لوگوں کے سردار ہو پس تم معاہدہ کو برقرار رکھو اور لوگوں کے درمیان صلح کرواؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ ابو سفیان نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور کہنے لگا۔ تحقیق میں نے لوگوں میں سے بعض کو بعض سے پناہ دے دی ہے۔ ٤۔ پھر ابو سفیان چل پڑا یہاں تک کہ وہ اہل مکہ کے پاس پہنچا اور انہیں وہ بات بتلائی جو اس نے سرانجام دی تھی۔ تو انہوں نے (آگے سے) کہا۔ خدا کی قسم ! ہم نے آج کے دن (کے آدمی) کی طرح کوئی قوم کا نمائندہ نہیں دیکھا۔ بخدا ! نہ تو تم جنگ کی خبر ہمارے پاس لائے ہو کہ ہم (اس سے) بچاؤ کریں اور نہ ہی تم ہمارے پاس صلح کی خبر لے کر آئے ہو کہ ہم مامون ہوجائیں۔ (لہٰذا) تم واپس جاؤ۔ ٥۔ راوی کہتے ہیں : (اتنے میں) قبیلہ خزاعہ کا نمائندہ وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشرکین مکہ کے کئے کی خبر سنائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدد کے لئے بلایا اور اس بات کو اس نے ان شعروں میں بیان کیا۔ اے اللہ ! محمد کو اپنے اور ان کے آباء کا پرانا عہد یاد دلاتا ہوں۔ اور (یہ بات کہ) آپ والد ہیں اور ہم بیٹے ہیں۔ بلاشبہ قریش نے آپ کے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے۔ اور انہوں نے آپ کے پختہ عہد کو توڑ ڈالا ہے اور انہوں نے ہمارے لئے مقما کداء میں گھات لگایا ہے۔ اور انہوں نے یہ سمجھا ہے کہ میں کسی کو (مدد کے لئے) نہیں بلاؤں گا ۔ حالانکہ وہ لوگ تو تعداد میں تھوڑے اور ذلیل ہیں۔ وہ لوگ ہم پر مقام ونیر میں صبح کو حملہ آور ہوئے جبکہ ہم رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔ ہم نے اسلام قبول کیا ہے اور اپنا ہاتھ واپس نہیں کھینچا۔ پس … اے اللہ کے رسول… خوب سخت مدد کیجئے۔ اور آپ اللہ کے لشکروں کو ابھاریں پس یہ آپ کے پاس مدد کیلئے ایسے
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39673
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عكرمة تابعي، أخرجه الفاكهي في أخبار مكة (٥/ ٢٠٨، وابن أبي حاتم في التفسير (١٠٠٢٨)، والسمرقندي ٢/ ٤٢، والطحاوي ٣/ ٢٩١ و ٣١٢، والبلاذري ص ٥٠، وورد بعضه من حديث عكرمة عن ابن عباس، أخرجه ابن جرير في التاريخ ٢/ ١٥٧، وابن عساكر ٢٣/ ٤٤٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39673، ترقيم محمد عوامة 38057)
حدیث نمبر: 39674
٣٩٦٧٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن زكريا بن أبي زائدة قال: كنت مع أبي إسحاق فيما بين مكة والمدينة فسايرنا رجل من خزاعة، فقال له (أبو) (١) إسحاق: كيف (قال) (٢) رسول اللَّه ﷺ: لقد (رعدت) (٣) هذه السحابة بنصر بني كعب، [فقال (٤) الخزاعي: لقد (نصلت) (٥) بنصر بني كعب] (٦)، ثم أخرج إلينا رسالة رسول ⦗٤٥⦘ اللَّه ﷺ إلى خزاعة، (وكتبتها) (٧) يومئذ كان فيها: "بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ من محمد رسول اللَّه إلى بديل وبسر وسروات بني عمرو، فإني أحمد إليكم اللَّه الذي لا إله إلا هو، أما بعد ذلكم فإني لم (ثم) (٨) بإلِّكُم ولم (أضع) (٩) في جنبكم، وإن أكرم أهل تهامة عليَّ أنتم وأقربه رحما ومن (تبعكم) (١٠) (١١) من المطيبين، وإني قد أخذت لمن هاجر منكم مثل ما أخذت لنفسى، ولو هاجر بأرضه غير ساكن مكة إلا معتمرا أو حاجا، وإني لم أضع فيكم إن (أسلمتم) (١٢) وإنكم غير (خائفين) (١٣) من قبلي ولا محصرين، أما بعد فإنه قد أسلم علقمة بن علاثة (وابن) (١٤) هوذة (وبايعا) (١٥) وهاجرا على من اتبعهما من عكرمة، (وأخذ) (١٦) لمن تبعه مثل ما أخذ لنفسه، وإن (بعضنا) (١٧) من بعض في الحلال والحرام، وإني واللَّه ما كذبتكم وليحيكم ربكم" (١٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زکریا بن ابی زائدہ سے روایت ہے کہ میں ابو اسحاق کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھا ۔ توبنو خزاعہ کا ایک آدمی ہمارے پاس آیا۔ ابو اسحاق نے اس سے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات کیسے فرمائی تھی ۔ کہ تحقیق یہ بدلی بنی کعب کی مدد کے لئے کڑک رہی ہے ؟ تو اس خزاعی آدمی نے جواب دیا۔ تحقیق اس بدلی نے فیصلہ کردیا تھا بنو کعب کی مدد کا۔ پھر اس خزاعی نے ہمیں ایک خط نکال کر دکھایا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے خزاعہ کی طرف تھا۔ اور میں نے اس خط کو اسی دن لکھا۔ اس میں لکھا تھا۔ ” اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ یہ خط محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے بدیل، بسر اور سرواتِ بنی عمرو کی طرف ہے۔ پس بیشک میں تمہارے سامنے اس خدا کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ بہرحال اس کے بعد، میں نے تمہارا عہد نہیں توڑا اور نہ ہی میں نے تمہاری زمین کو مباح کیا ہے۔ اور اہل تہامہ میں سے میرے ہاں سب سے زیادہ تم لوگ معزز ہو۔ اور سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہو۔ اور (اسی طرح) وہ لوگ جنہوں نے تمہاری اتباع کی ہے (یعنی بنو ہاشم، بنو زہرہ وغیرہ) ۔ اور میں نے تم میں سے ہجرت کرنے والوں کے لئے بھی وہی پیمان باندھا ہے جو میں نے اپنے لئے باندھا ہے۔ اور اگر (تم میں سے) کوئی اپنی زمین سے (اسی طرح) ہجرت کرے کہ وہاں سکونت نہ رکھے مگر حج اور عمرہ کے لئے۔ اگر تم سلامتی قبول کرلو تو میں تمہارے بارے میں کوئی حکم نہیں دوں گا۔ اور تم لوگ میری طرف سے نہ خائف ہو اور نہ محصور۔ ٢۔ اما بعد ! پس بلاشبہ علقمہ بن علاثہ اور ابن ہوزہ نے اسلام قبول کرلیا اور انہوں نے اپنے تابع … عکرمہ… کے ہمراہ ہجرت کی ہے۔ اور ان کے لئے بھی اس نے وہی کچھ پیمان باندھا ہے جو اس نے اپنے لیے باندھا ہے ۔ اور ہم میں سے بعض، بعض کے حکم میں ہے حلا ل اور حرام ہونے کے اعتبار سے۔ اور بخدا میں نے تمہیں نہیں جھٹلایا اور پس تمہارا پروردگار تمہیں حیات دے۔ ٣۔ راوی بیان کرتے ہیں : مجھے زہری سے یہ بات پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ یہ لوگ خزاعہ کے ہیں۔ اور یہ میرے اہل میں سے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف خط تحریر فرمایا۔ یہ لوگ اس وقت عرفات اور مکہ کے درمیان پڑاؤ کئے ہوئے تھے۔ اور یہ لوگ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلیف تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39674
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الخزاعي لم تثبت صحبته، وأخرجه ابن عساكر ٤١/ ١٤٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39674، ترقيم محمد عوامة 38058)
حدیث نمبر: 39675
٣٩٦٧٥ - قال: (و) (١) بلغني عن الزهري قال: هؤلاء خزاعة وهم من أهلي، قال: فكتب إليهم النبي ﷺ وهم يومئذ نزول بين عرفات ومكة، لم يسلموا حيث ⦗٤٦⦘ كتب إليهم، وقد كانوا حلفاء النبي ﷺ (٢) (٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39675
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الزهري تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39675، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 39676
٣٩٦٧٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) حسين المعلم عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي ﷺ قال يوم فتح مكة: "كفوا السلاح إلا خزاعة (عن) (٢) بني بكر"، فأذن لهم حتى صلوا العصر ثم قال لهم: "كفوا السلاح"، فلقي من الغد رجلٌ من خزاعة رجلا من بني بكر، فقتله بالمزدلفة فبلغ ذلك رسول اللَّه ﷺ فقام خطيبا فقال: "إن (أعدى) (٣) الناس على اللَّه من قتل في الحرم، ومن قتل غير قاتله، ومن قتل (بذحول) (٤) الجاهلية" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اپنے دادا کی روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن ارشاد فرمایا۔ سوائے خزاعہ کے بنو بکر سے (بقیہ لوگ) اسلحہ روک لو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خزاعہ کو اجازت دی یہاں تک کہ انہوں نے نماز عصر پڑھ لی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا۔ تم (بھی) اسلحہ روک لو۔ اس کے بعد اگلے دن بنو خزاعہ کا ایک آدمی بنو بکر کے ایک آدمی سے ملا تو اس نے بنو بکر کے آدمی کو مزدلفہ میں قتل کردیا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : اللہ کے ساتھ لوگوں میں سب سے زیادہ دشمنی کرنے والا شخص وہ ہے جو (کسی کو) حرم میں قتل کرے اور (وہ) جو اپنے قاتل کے علاوہ (کسی کو) قتل کر ڈالے اور (وہ) جو جاہلیت کے انتقام میں قتل کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39676
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شعيب صدوق، أخرجه أحمد (٦٦٨١)، وأبو عبيد في الأموال ١/ ١٥٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39676، ترقيم محمد عوامة 38059)
حدیث نمبر: 39677
٣٩٦٧٧ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا (المغيرة) (١) بن مسلم عن أبي الزبير عن جابر قال: دخلنا مع النبي ﷺ مكة (وفي البيت) (٢) وحول البيت ثلاثمائة وستون صنما تعبد من دون اللَّه، قال: فأمر بها رسول اللَّه ﷺ (فكبت) (٣) كلها لوجوهها، ثم قال: ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾ [الإسراء: ٨١]، ثم دخل رسول اللَّه ﷺ (٤) البيت فصلى (فيه) (٥) ركعتين، فرأى فيه تمثال إبراهيم ⦗٤٧⦘ وإسماعيل وإسحاق (وقد جعلوا) (٦) في يد إبراهيم الأزلام يستقسم بها، فقال رسول اللَّه ﷺ: "قاتلهم اللَّه، ما كان إبراهيم يستقسم بالأزلام"، ثم دعا رسول اللَّه ﷺ بزعفران فلطخه بتلك التماثيل (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ میں (بھی) داخل ہوئے اور بیت اللہ کے گرد تین سو ساٹھ بت ایسے موجود تھے جن کی خدا کے سوا عبادت کی جاتی تھی … راوی بیان کرتے ہیں : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان بتوں کے بارے میں حکم فرمایا تو تمام بتوں کو اوندھے منہ گرا دیا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقینا باطل ایسی ہی چیز ہے جو مٹنے والی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کے اندر داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ میں دو رکعات نماز ادا فرمائی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ میں ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کی ( طرف منسوب) تصویریں دیکھیں اس حال میں کہ ان کے ہاتھوں میں مشرکین نے تیروں (کی تصویر) بنائی ہوئی تھی جن کے ذریعہ سے قسمت آزمائی کی جاتی تھی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ منظر دیکھ کر) ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ان (مشرکین) کو ہلاک کرے ، ابراہیم تو تیروں سے قسمت آزمائی نہیں کرتے تھے۔ پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زعفران منگوایا اور اس کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تصاویر کو مسخ فرما دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39677
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ المغيرة بن مسلم صدوق، وأخرجه أبو يعلى كما في تفسير ابن كثير ٣/ ٦٠، وابن المنذر كما في الدرر المنثور ٥/ ٣٢٩، وحسنه الحافظ في المطالب العالية (٤٣٠٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39677، ترقيم محمد عوامة 38060)
حدیث نمبر: 39678
٣٩٦٧٨ - حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح (عن مجاهد) (١) عن أبي معمر عن عبد اللَّه قال: دخل النبي ﷺ مكة وحول الكعبة ثلاثمائة وستون صنما فجعل يطعنها بعود كان في يده ويقول: ﴿وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾ [الإسراء: ٨١] ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ﴾ [سبأ: ٤٩] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کے گرد تین سو ساٹھ بت موجود تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس لکڑی سے مارنا شروع فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں تھی اور فرمایا۔ ” حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقینا باطل ایسی ہی چیز ہے جو مٹنے والی ہے “۔ ” حق آچکا ہے اور باطل میں نہ کچھ شروع کرنے کا دم ہے اور نہ دوبارہ کرنے کا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39678
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٤٧٨)، ومسلم (١٧٨١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39678، ترقيم محمد عوامة 38061)
حدیث نمبر: 39679
٣٩٦٧٩ - حدثنا شبابة بن سوار قال: (حدثنا) (١) نعيم بن حكيم قال: حدثني أبو مريم عن علي قال: انطلق بي رسول اللَّه ﷺ حتى أتى بي الكعبة فقال: "اجلس"، فجلست إلى جنب الكعبة وصعد رسول اللَّه ﷺ على منكبي، [ثم قال لي: "انهض بي"، فنهضت به، فلما رأى ضعفي تحته قال: "اجلس"، فجلست فنزل عني وجلس لي فقال: "يا علي اصعد على منكبى"] (٢)، فصعدت على (منكبه) (٣)، ثم نهض بي رسول اللَّه ﷺ (٤) [فلما (نهض) (٥) بي خيل إلي ⦗٤٨⦘ (أني) (٦) لو شئت نلت أفق السماء، فصعدت على الكعبة، وتنحى رسول اللَّه ﷺ] (٧) فقال لي: " (ألق) (٨) صنمهم الأكبر (صنم) (٩) قريش"، وكان من نحاس، وكان (موتودا) (١٠) بأوتاد من حديد في الأرض، فقال لي رسول اللَّه ﷺ: "عالجه"، فجعلت أعالجه ورسول اللَّه ﷺ يقول: "إيه"، (فلم) (١١) أزل أعالجه حتى استمكنت منه فقال: "اقذفه"، (فقذفته) (١٢) ونزلت (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ساتھ لے کر چلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے لے کر کعبہ میں پہنچے اور پھر فرمایا۔ بیٹھ جاؤ۔ چناچہ میں کعبہ کی ایک جانب بیٹھ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے کندھوں پر سوار ہوئے اور پھر مجھے فرمایا۔ مجھے لے کر اوپر اٹھو۔ مں ر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر اوپر اٹھا لیکن (جب) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اٹھا کر کھڑے ہونے میں کمزوری دیکھی تو پھر فرمایا۔ بیٹھ جاؤ۔ چناچہ میں نیچے بیٹھ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے اوپر سے اتر گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لئے بیٹھ گئے اور فرمایا۔ اے علی رضی اللہ عنہ ! میرے کندھوں پر سوار ہو جاؤ۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں پر سوار ہوگیا پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے لے کر اوپر کی طرف بلند ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے لے کر اوپر اٹھے تو مجھے یہ خیال ہوا کہ اگر میں چاہوں تو میں آسمان افق کو بھی ہاتھ میں لاسکتا ہوں پھر میں کعبہ کی چھت پر چڑھ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک طرف ہٹ گئے اور مجھے ارشاد فرمایا۔ (اوپر موجود) بتوں میں سے سب سے بڑے بت کو جو کہ قریش ہے نیچے پھینک دو ۔ اور وہ بت تانبے کا تھا اور لوہے کی کیلوں کے ساتھ چھت پر گاڑھا ہوا تھا۔ تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا : اس کو ہلاؤ۔ چناچہ میں نے اس کو ہلانا شروع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے فرماتے جا رہے تھے۔ اور ہلاؤ، اور ہلاؤ۔ پس میں اس کو ہلاتا رہا یہاں تک کہ وہ بت میرے قابو میں آگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اس کو نیچے پھینک دو ۔ چناچہ میں نے اس بت کو نیچے پھینک دیا اور پھر میں (خود بھی) نیچے اتر آیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39679
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39679، ترقيم محمد عوامة 38062)
حدیث نمبر: 39680
٣٩٦٨٠ - حدثنا سليمان بن حرب قال: حدثنا حماد بن زيد عن أيوب عن عكرمة أن النبي ﷺ قدم يوم الفتح وصورة إبراهيم وإسماعيل في البيت وفي أيديهما القداح فقال رسول اللَّه ﷺ: "ما لإبراهيم وللقداح واللَّه ما استقسم بها قط"، ثم أمر بثوب فبل ومحى به صورهما (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن تشریف لائے۔ بیت اللہ میں ابراہیم اور اسماعیل کی تصاویر تھیں۔ اور ان کے ہاتھوں میں تیر تھے۔ تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ابراہیم اور تیروں کا (آپس میں) کیا جوڑ ہے ؟ بخدا ! ابراہیم نے کبھی تیروں کے ذریعہ قسمت آزمائی نہیں کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑا لانے کا حکم دیا اور اس کو تر کر کے ان حضرات کی تصاویر کو مٹا دیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39680
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عكرمة تابعي، أخرجه الأزرقي ١/ ١٦٩، وقد ورد من حديث عكرمة عن ابن عباس مرفوعًا، أخرجه البخاري (١٦٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39680، ترقيم محمد عوامة 38063)
حدیث نمبر: 39681
٣٩٦٨١ - حدثنا سليمان بن حرب قال: (حدثنا) (١) حماد بن (زيد) (٢) عن ⦗٤٩⦘ أيوب عن أبي الخليل عن مجاهد أن النبي ﷺ قدم يوم الفتح والأنصاب بين الركن والمقام، فجعل يكفئها (لوجو) (٣) هها، ثم (قام) (٤) رسول اللَّه ﷺ خطيبا فقال: "ألا إن مكة حرام أبدا التي يوم القيامة، لم (تحل) (٥) لأحد قبلي، (ولا) (٦) (تحل) (٧) لأحد بعدي، غير أنها أحلت لي ساعة من النهار، لا يختلى خلاها، ولا ينفر صيدها، ولا يعضد شجرها، ولا يلتقط لقطتها، إلا أن تعرف"، (فقام) (٨) العباس فقال: يا رسول اللَّه (٩) إلا الإذخر (لصاغتنا) (١٠) (وبيوتنا وقبورنا) (١١)، فقال: "إلا الإذخر، إلا الإذخر" (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن تشریف لائے تو رکن اور مقام کے درمیان بت پڑے ہوئے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان بتوں کو اوندھے منہ گرا دیا۔ اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو ارشاد فرمایا۔ ” خبردار ! مکہ قیامت کے دن تک ہمیشہ کے لئے حرم (محترم) ہے۔ مجھ سے پہلے بھی یہ خطہ کسی کے لئے حلال نہیں ہوا تھا۔ اور نہ ہی میرے بعد یہ خطہ کسی کے لئے حلال ہوگا۔ ہاں اتنی بات ہے کہ میرے لئے اس مقام کو دن کے کچھ حصہ کے لیے حلال کردیا گیا ہے۔ اس علاقہ (مکہ) کی گھاس کو نہیں کاٹا جائے گا اور اس کے شکار کو بدکایا نہیں جائے گا اور نہ ہی اس کے درختوں کو کاٹا جائے گا۔ اور نہ ہی اس میں گری پڑی چیز کو اٹھایا جائے گا اِلَّا یہ کہ اس لقطہ کی تعریف کرنے کا ارادہ ہو۔ ” (یہ بات سن کر) حضرت عباس کھڑے ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اذخر (گھاس کی قسم) کو مستثنیٰ کر دیجئے ہمارے لوہاروں، گھروں اور قبروں میں استعمال کے لیے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا۔ ہاں اذخر مستثنیٰ ہے ۔ ہاں اذخر مستثنیٰ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39681
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، مجاهد تابعي، وأخرجه مرسلًا البخاري (٤٣١٣)، وعبد الرزاق (٩١٨٩)، والفاكهي ٢/ ٢٤٨ (١٤٤٥)، وورد من طريق مجاهد عن ابن عباس، أخرجه الطحاوي ٢/ ٢٦٠، والأزرقي ٢/ ١٢٦، وابن جرير ١/ ٥٤٢، كما ورد من حديث مجاهد عن طاووس عن ابن عباس، أخرجه البخاري (١٥٨٧)، ومسلم (١٣٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39681، ترقيم محمد عوامة 38064)
حدیث نمبر: 39682
٣٩٦٨٢ - حدثنا شبابة بن سوار قال: (حدثنا) (١) ابن أبي ذئب عن عبد الرحمن ابن مهران عن (عمير) (٢) مولى ابن عباس عن أسامة بن زيد قال: دخلت مع النبي ⦗٥٠⦘ ﷺ الكعبة، فرأى في البيت صورة فأمرني فأتيته بدلو من ماء، فجعل يضرب تلك الصورة ويقول: "قاتل اللَّه قوما يصورون ما لا يخلقون" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ بیت اللہ میں داخل ہوا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ میں تصویریں دیکھیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ڈول پانی لے کر حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تصویروں پر پانی مارنا شروع فرمایا۔ اور ارشاد فرمایا۔ اللہ پاک اس قوم کو ہلاک فرمائے جو ان چیزوں کی تصویر بناتی ہے جس کو وہ پیدا نہیں کرتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39682
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد الرحمن بن مهران صدوق؛ أخرجه الطيالسي (٦٢٣)، والروياني (٣٩)، والضياء (١٣٣٦)، والطحاوي ٤/ ٢٨٣، والبغوي في الجعديات (٢٨٢٠)، والطبراني (٤٠٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39682، ترقيم محمد عوامة 38065)
حدیث نمبر: 39683
٣٩٦٨٣ - حدثنا علي بن مسهر ووكيع عن زكريا عن الشعبي عن الحارث بن مالك بن برصاء قال: قال رسول اللَّه ﷺ يوم فتح مكة: "لا تغزى بعد اليوم (إلى) (١) يوم القيامة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن مالک بن برصاء سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن ارشاد فرمایا۔ آج کے بعد قیامت کے دن تک (مکہ میں) لڑائی نہیں لڑی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39683
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39683، ترقيم محمد عوامة 38066)
حدیث نمبر: 39684
٣٩٦٨٤ - حدثنا علي بن مسهر ووكيع عن زكريا عن الشعبي عن عبد اللَّه بن مطيع عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (لا يقتل) (١) (قرشي) (٢) صبرا (بعد هذا اليوم (أبدًا)) (٣) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مطیع، اپنے والد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ آج کے دن کے بعد ہمیشہ کے لئے (یہ حکم ہے کہ) کوئی قریشی قید کر کے قتل نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39684
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٨٢)، وأحمد (١٥٤٠٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39684، ترقيم محمد عوامة 38067)
حدیث نمبر: 39685
٣٩٦٨٥ - حدثنا أحمد بن مفضل قال: (حدثنا) (١) أسباط بن نصر قال: زعم السدي عن مصعب بن سعد عن أبيه قال: لما كان يوم فتح مكة أمن رسول اللَّه ﷺ الناس إلا أربعة نفر وامرأتين وقال: "اقتلوهم وإن وجدتموهم متعلقين بأستار الكعبة"، عكرمة بن أبي جهل، وعبد اللَّه بن خطل، ومقيس بن صبابة، وعبد اللَّه ابن سعد بن أبي سرح. ⦗٥١⦘ فأما عبد اللَّه بن خطل فأدرك وهو متعلق بأستار الكعبة (فاستبق) (٢) إليه سعيد ابن (حريث) (٣) وعمار، فسبق سعيد عمارا، وكان (أشب) (٤) الرجلين فقتله. وأما مقيس بن صبابة فأدركه الناس في السوق فقتلوه. وأما عكرمة فركب البحر فأصابتهم عاصف، فقال أصحاب (السفينة) (٥) لأهل السفينة: أخلصوا، فإن آلهتكم لا تغني عنكم شيئا هاهنا، فقال عكرمة: واللَّه لئن لم (ينجني) (٦) في البحر إلا الإخلاص ما ينجيني في البر [غيره اللهم (إن) (٧) لك عهدًا إن أنت عافيتني مما أنا فيه أني آتي محمدا حتى أضع يدي في يده فلأجدنه عفوا كريمًا، قال: فجاء وأسلم] (٨). وأما عبد اللَّه بن سعد بن أبي سرح فإنه اختبأ عند عثمان، فلما (دعا) (٩) رسول اللَّه ﷺ (الناس) (١٠) (للبيعة) (١١) جاء به حتى أوقفه على النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه بايع عبد اللَّه، قال: فرفع رأسه فنظر إليه ثلاثًا (كل) (١٢) ذلك يأبى فبايعه بعد الثلاث، ثم أقبل على أصحابه فقال: " (أما) (١٣) كان فيكم رجل رشيد ⦗٥٢⦘ (يقوم) (١٤) إلى هذا حيث رآني كففت يدي عن (بيعته) (١٥) فيقتله"، قالوا: وما يدرينا يا رسول اللَّه ما في نفسك ألا أومأت إلينا بعينك؟ قال: "إنه لا ينبغي لنبي أن (تكون) (١٦) له خائنة أعين" (١٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام لوگوں کو امن دے دیا سوائے چار مرد اور دو عورتوں کے ، اور ارشاد فرمایا : تم لوگ ان کو اگرچہ کعبہ کے پردوں میں بھی لپٹا ہوا پاؤ ان کو تب بھی قتل کر ڈالو۔ (وہ یہ لوگ تھے) عکرمہ بن ابی جہل، عبد اللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبد اللہ بن ابی سرح، پھر عبد اللہ بن خطل کو تو اس حالت میں پایا گیا کہ وہ (واقعۃً ) کعبہ کے پردوں میں لپٹا ہوا تھا۔ تو اس کی طرف حضرت سعید بن حریث اور عمار (دونوں) لپکے لیکن حضرت سعید، حضرت عمار سے آگے بڑھ گئے اور یہ سعید، عمار سے زیادہ جوان تھے۔ اور انہوں نے ابن خطل کو قتل کردیا۔ اور مقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں پا لیا اور اس کو (وہیں) قتل کردیا اور رہا عکرمہ، تو سمندر میں (کشتی پر) سوار ہوا تو ان (کشتی والوں) کو تیز آندھی نے آلیا۔ چناچہ کشتی والوں نے سواروں سے کہنا شروع کیا۔ (خدا کو) خالص طریقہ سے پکارو، کیونکہ تمہارے معبودان (باطلہ) یہاں پر تمہیں کسی شئی کا فائدہ نہیں دیں گے۔ عکرمہ نے (دل میں) کہا۔ بخدا ! اگر مجھے اس سمندر میں خالص طریقہ پر (خدا کو) پکارنا ہی نجات دے سکتا ہے تو پھر خشکی پر بھی یہی نجات دے سکتا ہے۔ اے اللہ ! میرا تیرے ساتھ عہد ہے کہ اگر آپ مجھے اس موجودہ مصیبت سے عافیت عطا کریں گے تو میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں رکھ دوں گا میں ضرور بالضرور ان کو معاف کرنے والا اور کرم کرنے والا پاؤں گا۔ راوی کہتے ہیں : پس یہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرلیا۔ اور عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کا معاملہ یہ ہوا کہ وہ حضرت عثمان کے ہاں (جا کر) چھپ گیا پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا تو حضرت عثمان ، ان کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں آنجناب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کھڑا کردیا اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! عبد اللہ سے بیعت لے لیجئے۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اوپر اٹھایا اور ان کی طرف تین مرتبہ دیکھا۔ ہر مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار فرمایا۔ پھر تین مرتبہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بیعت فرما لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا ۔ کیا تم میں سے کوئی سمجھ دار آدمی موجود نہیں تھا جو اس کو (مارنے) کھڑا ہوجاتا جبکہ اس نے مجھے دیکھا تھا کہ میں نے اپنا ہاتھ اس کی بیعت لینے سے روکا ہو اتھا۔ اور اس کو قتل کردیتا ۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہمیں کیا علم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اپنی آنکھ کے ساتھ اشارہ کیوں نہیں کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ کسی نبی کے لئے یہ بات مناسب نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت کرنے والی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39685
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أحمد بن مفضل صدوق، وكذلك أسباط والسدي، أخرجه أبو داود (٢٦٨٣)، والنسائي (٣٥٣٠)، والحاكم ٣/ ٤٥، والبزار (١١٥١)، والطحاوي ٣/ ٣٣٠، وأبو يعلى (٧٥٧)، والدارقطني ٣/ ٥٩، والبيهقي ٨/ ٢٠٢، والضياء ٣/ (١٠٥٤)، وابن عبد البر في التمهيد ٦/ ١٧٥، وابن بشكوال ١/ ١٢٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39685، ترقيم محمد عوامة 38068)
حدیث نمبر: 39686
٣٩٦٨٦ - حدثنا شبابة (بن سوار) (١) قال: (حدثنا) (٢) مالك بن أنس عن الزهري عن أنس قال: دخل رسول اللَّه ﷺ مكة عام الفتح وعلى رأسه مغفر، فلما أن دخل نزعه فقيل له: يا رسول اللَّه هذا ابن خطل متعلق بأستار الكعبة فقال: "اقتلوه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک پر خود تھا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی خود اتار دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ ہے ابن خطل، کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کو مار ڈالو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39686
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٨٤٦)، ومسلم (١٣٥٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39686، ترقيم محمد عوامة 38069)
حدیث نمبر: 39687
٣٩٦٨٧ - حدثنا معتمر بن سليمان عن سليمان التيمي عن أبي عثمان أن أبا (برزة) (١) قتل ابن خطل وهو متعلق بأستار الكعبة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان سے روایت ہے کہ حضرت ابو برزہ نے ابن خطل کو اس حالت میں قتل کیا کہ وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39687
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39687، ترقيم محمد عوامة 38070)
حدیث نمبر: 39688
٣٩٦٨٨ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة (عن ثابت) (٢) عن ⦗٥٣⦘ أنس أن ثمانين من أهل مكة هبطوا على رسول اللَّه ﷺ من جبل التنعيم عند صلاة الفجر، فأخذهم رسول اللَّه ﷺ سلما، فعفا عنهم ونزل القرآن: ﴿وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ (بِبَطْنِ) (٣) (مَكَّةَ) (٤) مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ﴾ [الفتح: ٢٤] (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ اہل مکہ میں سے اسی (٨٠) افراد، جبل تنعیم سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر (حملہ کے لئے) اُترے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو صحیح وسالم پکڑ لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں معاف فرما دیا۔ اور یہ آیت نازل ہوئی ۔ : اور وہی اللہ ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھوں کو تم تک پہنچنے سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان تک پہنچنے سے روک دیا۔ جبکہ وہ تمہیں ان پر قابو دے چکا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39688
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٠٨)، وأحمد ٣/ ١٢٤ (١٢٢٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39688، ترقيم محمد عوامة 38071)
حدیث نمبر: 39689
٣٩٦٨٩ - حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: قالت أم هانئ: قدم النبي ﷺ مكة وله أربع غدائر تعني ضفائر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد روایت کرتے ہیں کہ ام ہانی بیان کرتی ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک پر چار چوٹیاں تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39689
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39689، ترقيم محمد عوامة 38072)
حدیث نمبر: 39690
٣٩٦٩٠ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن أبي الزبير عن جابر أن النبي ﷺ دخل مكة وعليه عمامة سوداء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں اس حالت میں اندر داخل ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سیاہ عمامہ تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39690
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٣٥٨)، وأحمد (١٤٩٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39690، ترقيم محمد عوامة 38073)
حدیث نمبر: 39691
٣٩٦٩١ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: (أخبرنا) (١) موسى بن عبيدة (عن عبد اللَّه بن دينار عن ابن عمر -وعن أخيه عبد اللَّه بن عبيدة-) (٢) أن رسول اللَّه ﷺ دخل مكة حين دخلها وهو (معتجر) (٣) بشقة برد أسود، فطاف على راحلته القصواء ⦗٥٤⦘ في يده محجن يستلم به الأركان، قال: قال ابن عمر: فما وجدنا لها مناخا (في) (٤) المسجد حتى نزل على أيدي الرجال، ثم خرج بها حتى (أنيخت) (٥) في الوادي، ثم خطب الناس على (رجليه) (٦) فحمد اللَّه وأثنى عليه بما هو (له) (٧) أهل، ثم قال: "أيها الناس إن اللَّه قد وضع عنكم عُبِّيَّةَ الجاهلية وتَعَظُّمَها (بآبائها) (٨) الناس [رجلان، (فبر) (٩) تقي كريم على اللَّه، وكافر شقي هين على اللَّه، أيها الناس] (١٠) إن اللَّه يقول: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ (أَتْقَاكُمْ) (١١) إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ [الحجرات: ١٣] أقول هذا وأستغفر اللَّه لي ولكم"، قال: ثم عدل إلى جانب المسجد فأتي بدلو من ماء زمزم فغسل منها وجهه، (ما) (١٢) (تقع) (١٣) منه قطرة إلا في يد إنسان، إن كانت قدر ما يحسوها حساها، وإلا مسح بها، والمشركون ينظرون، فقالوا: ما رأينا ملكا قط أعظم من اليوم، ولا قوما أحمق من اليوم، ثم أمر بلالا فرقي على ظهر الكعبة، فأذن بالصلاة، وقام المسلمون (فتجردوا) (١٤) في الأزر، وأخذوا الدلاء وارتجزوا على زمزم يغسلون الكعبة ظهرها ⦗٥٥⦘ وبطنها، فلم يدعوا أثرا من المشركين إلا محوه أو غسلوه (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیاہ رنگ کی چادر کی پگڑی کے شملہ کو اپنے چہرے پر ڈالے ہوئے تھے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قصواء اونٹنی پر بیت اللہ کا طواف کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں ایک خمدار سوٹی تھی جس کے ذریعہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارکان کا استلام کر رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کے لئے مسجد میں بٹھانے کی جگہ نہ پائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے ہاتھوں پر نیچے تشریف فرما ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کو باہر نکالا گیا اور اس کو وادی میں بٹھایا گیا پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی تعریف کی اور ایسی ثنا بیان کی جس کے آپ اہل تھے اور فرمایا : ٢۔ اے لوگو ! تحقیق اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا غرور و نخوت ختم کردیا ہے اور جاہلیت کے زمانہ پر اپنے آباء کے ذریعہ اظہار عظمت کو بھی ختم کردیا ہے۔ (اب) لوگ دو قسم پر ہیں۔ نیک اور متقی آدمی اللہ تعالیٰ کے قابل عزت و تکریم ہے اور کافر، بدبخت اللہ تعالیٰ پر ہلکا اور بےوزن ہے۔ اے لوگوں ! بلاشبہ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ : اے لوگو ! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے۔ اور تمہیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لئے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو ۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کچھ جاننے والا ہے ہر چیز سے باخبر ہے۔ میں یہ بات کہتا ہوں اور اپنے اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کا طالب ہوں۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کے ایک طرف چل دئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس زمزم کے پانی کا ایک ڈول لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اپنا چہرہ مبارک دھویا۔ اس کے دھو ون میں سے ہر ایک قطرہ بھی انسانی ہاتھ ہی میں گرا۔ پھر اگر و ہ قطرہ اتنا ہوتا جس کو پیا جاسکتا تھا تو وہ آدمی اس کو پی لیتا وگرنہ اس کو اپنے اوپر مَل لیتا ۔ مشرکین مکہ (یہ منظر) دیکھ رہے تھے ۔ تو وہ کہنے لگے ۔ ہم نے (جو بادشاہت) آج دیکھی ہے اس سے بڑی بادشاہی کبھی نہیں دیکھی اور نہ ہی ایسی قوم دیکھی ہے جو آج دیکھی ہوئی قوم سے زیادہ بیوقوف ہے۔ ٤۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم فرمایا چناچہ وہ کعبہ کی چھت پر چڑھ گئے اور انہوں نے نماز کے لئے اذان دی۔ اور مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے اور محض ازار بند پہنے ہوئے انہوں نے ڈول پکڑ لیے اور زمزم پر شعر کہتے ہوئے پہنچ گئے اور کعبہ کو انہوں نے اندر باہر سے دھو ڈالا اور مشرکین کے کسی اثر کو کعبہ میں باقی نہیں چھوڑا بلکہ اس کو مٹا دیایا دھو دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39691
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف موسى بن عبيدة، أخرجه الترمذي (٣٢٧٠)، وابن ماجه (٣٥٨٦)، والخطيب ٦/ ٢٣، وعبد بن حميد (٧٩٥)، وابن جرير في مسند ابن عباس من تهذيب الآثار (٧٢)، والفاكهي (٤٥٩)، وابن أبي حاتم (١٨٦٢٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39691، ترقيم محمد عوامة 38074)
حدیث نمبر: 39692
٣٩٦٩٢ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: (أخبرنا) (١) موسى بن عبيدة عن يعقوب بن زيد بن طلحة التيمي ومحمد بن المنكدر قالا: (وكان) (٢) بها يومئذ ستون وثلاثمائة وثن على الصفا، وعلى المروة صنم، وما بينهما محفوف بالأوثان، والكعبة قد أحيطت بالأوثان؛ قال (٣) محمد بن المنكدر: فقام رسول اللَّه ﷺ ومعه قضيب يشير به إلى الأوثان، فما هو إلا أن يشير إلى شيء منها (فيتساقط) (٤) حتى أتى أسافا ونائلة وهما قدام المقام مستقبل باب الكعبة فقال: (عفروهما) (٥)، فألقاهما المسلمون، قال: "قولوا"، قالوا: ما نقول يا رسول اللَّه؟ قال: "قولوا: صدق اللَّه وعده، ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعقوب بن زید بن طلحہ تیمی اور محمد بن منکدر روایت کرتے ہیں کہ اس دن (فتح مکہ کے دن) کعبہ میں تین سو ساٹھ بت تھے۔ صفا اور مروہ پر بھی ایک بت تھا ان کے درمیان (کی جگہ تو) بتوں سے اٹی ہوئی تھی اور کعبہ کے گرد بھی بتوں کا احاطہ تھا۔ راوی کہتے ہیں ۔ محمد ابن المنکدر کہتے ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک لکڑی تھی جس کے ذریعہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بتوں کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ ان بتوں میں سے جس بت کی طرف بھی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اشارہ فرماتے وہ بت گر جاتا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اساف اور نائلہ (نامی) بت کے پاس پہنچے یہ دونوں کعبہ کے سامنے مقام کے پاس تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ان دونوں کو خاک میں ملا دو ۔ چناچہ مسلمانوں نے ان دونوں بتوں کے نیچے گرا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کہو، صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! ہم کیا کہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہو : اللہ کا وعدہ سچا ثابت ہوا اور اس نے اپنے بندہ کی مدد کی اور اکیلے ہی تمام لشکروں کو شکست دے دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39692
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ يعقوب وابن المنكدر تابعيان، وموسى بن عبيدة ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39692، ترقيم محمد عوامة 38075)
حدیث نمبر: 39693
٣٩٦٩٣ - حدثنا الحسن بن موسى قال: (حدثنا) (١) شيبان عن يحيى قال: أخبرني أبو سلمة أن أبا هريرة أخبره أن خزاعة قتلوا رجلًا من بني ليث عام فتح مكة بقتيل منهم قتلوه، فأخبر بذلك رسول اللَّه ﷺ فركب راحلته فخطب فقال: "إن اللَّه حبس عن مكة الفيل، وسلط عليها رسوله (والمؤمنين) (٢) (ألا وإنها لم تحل لأحد ⦗٥٦⦘ كان قبلي ولا تحل لأحد كان بعدي) (٣)، ألا وإنها أحلت لي ساعة من النهار، ألا وإنها ساعتي هذه حرام، لا يختلى شوكها، ولا يعضد شجرها، ولا يَلتقط ساقطتَها، إلا منشد ومن قتل له قتيل فهو بخير النظرين: إما أن يقتل وإما أن يفادي أهل القتيل". قال: فجاء رجل يقال له: أبو (شاه) (٤) فقال: اكتب لي يا رسول اللَّه، قال: "اكتبوا لأبي شاه"، فقال رجل من قريش: إلا الإذخر -يا رسول اللَّه- فإنا نجعله في بيوتنا وقبورنا فقال (رسول اللَّه ﷺ) (٥): "إلا الإذخر" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ بنو خزاعہ نے فتح مکہ کے سال بنو لیث کے ایک آدمی کو اپنے اس مقتول کے بدلے میں قتل کیا جس کو بنو لیث نے (کبھی) قتل کیا تھا۔ اس بات کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا۔ اور فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو ہاتھیوں والوں سے محفوظ رکھا اور مکہ پر اپنے رسول اور اہل ایمان کو (لڑائی کے لئے) مسلط فرمایا۔ خبردار ! یہ مکہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے بھی حلال نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا۔ خبردار ! میرے لئے بھی یہ مکہ دن کی ایک گھڑی (ہی) کے لیے حلال کیا گیا تھا خبردار ! میری اس گھڑی میں مکہ حرام ہے۔ اس کا کانٹا بھی نہیں کاٹا جائے گا اور اس کے درخت کو بھی نہیں کاٹا جائے گا اور اس کی گری پڑی چیز کو نہیں اٹھائے گا مگر تعریف کرنے والا۔ اور جس کا کوئی قتل کیا گیا ہو تو اس کو دو چیزوں میں اختیار ہے۔ یا تو وہ بھی قتل ہو اور یا اہل مقتول کو فدیہ دے دے۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک صاحب، ابو شاہ نامی، حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے (یہ بات) لکھ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (صحابہ سے) فرمایا۔ ابو شاہ کو (یہ بات) لکھ دو ۔ پھر قریش کے ایک آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اذخر کو مستثنیٰ کر دیجئے کیونکہ ہم اس کو اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں اذخر مستثنیٰ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39693
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١١٢)، ومسلم (١٣٥٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39693، ترقيم محمد عوامة 38076)
حدیث نمبر: 39694
٣٩٦٩٤ - حدثنا أبو أسامة قال: (حدثنا) (١) مسعر عن (عمرو) (٢) بن مرة عن الزهري قال: قال رجل من بني (الديل) (٣) بن بكر: لوددت أني رأيت رسول اللَّه ﷺ وسمعت منه فقال (لرجل) (٤): انطلق معي، فقال: إني أخاف أن (تقتلني) (٥) خزاعة، فلم يزل به حتى انطلق، فلقيه رجل من خزاعة (فعرفه) (٦) فضرب بطنه بالسيف، قال: قد أخبرتك أنهم سيقتلونني، فبلغ ذلك رسول اللَّه ﷺ، فقام فحمد اللَّه وأثنى عليه، ثم قال: "إن اللَّه (هو) (٧) حرم مكة ليس الناس حرموها، وإنما ⦗٥٧⦘ أحلت لي ساعة من نهار وهي بعد حرم، وإن أعدى الناس على اللَّه ثلاثة: من قتل (فيها) (٨)، أو قتل غير (قاتل) (٩)، أو طلب (بذحول) (١٠) الجاهلية، فلأدين (هذا) (١١) الرجل" (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری روایت بیان کرتے ہیں کہ بنو دؤل بن بکرکے ایک آدمی نے کہا۔ مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کروں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ ارشادات سنوں۔ چناچہ اس نے ایک آدمی سے کہا۔ تم میرے ساتھ چلو۔ اس آدمی نے کہا۔ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں بنو خزاعہ کے لوگ مجھے قتل نہ کردیں۔ (بہر حال) یہ اس کے ساتھ چلتا رہا یہاں تک کہ قبیلہ خزاعہ کا ایک آدمی اس کو ملا اور اس نے اس کو پہچان لیا اور اس نے اس کے پیٹ میں تلوار ماری۔ اس مقتول نے کہا۔ میں نے تمہیں (پہلے) خبر دی تھی کہ یہ لوگ مجھے قتل کردیں گے۔ پھر یہ بات جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوگئے، اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی اور پھر فرمایا : ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے (خود) مکہ کو حرم بنایا ہے لوگوں نے مکہ کو حرم نہیں بنایا۔ یہ مکہ تو میرے لئے دن کی ایک گھڑی میں حلال ہوا تھا اور اس کے بعد ابھی تک حرام ہے۔ اور خدا تعالیٰ کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے تین لوگ ہیں۔ وہ آدمی جو مکہ میں قتل کرے۔ وہ آدمی جو غیر قاتل کو قتل کرے۔ وہ آدمی جو جاہلیت کے انتقام مانگے۔ پس البتہ میں (خود) اس آدمی کی دیت دوں گا۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39694
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الزهري تابعي، ومراسيله من أضعف المراسيل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39694، ترقيم محمد عوامة 38077)
حدیث نمبر: 39695
٣٩٦٩٥ - قال عمرو بن مرة: (فحدثت) (١) بهذا الحديث سعيد بن المسيب فقلت: أعدى اللَّه فقال: (أعدى) (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39695
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39695، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 39696
٣٩٦٩٦ - حدثنا يحيى بن آدم عن بن إدريس عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة عن ابن عباس أن رسول اللَّه ﷺ عام الفتح لما جاءه العباس بن عبد المطلب بأبي سفيان فأسلم بمر الظهران، فقال له العباس: يا رسول اللَّه، إن أبا سفيان (١) يحب هذا الفخر، فلو جعلت له شيئًا، قال: "نعم، من دخل دار أبي (سفيان) (٢) فهو آمن، ومن أغلق بابه فهوم آمن" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب فتح مکہ کے سال حضرت عباس بن عبد المطلب ابو سفیان کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابو سفیان نے مقام مرالظہران میں اسلام قبول کیا تو حضرت عباس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ابو سفیان ایسا آدمی ہے جو فخر کو پسند کرتا ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لئے کوئی ایسی (فخریہ) چیز مقرر فرما دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہاں ! جو کوئی ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے تو وہ مامون ہوگا اور جو کوئی شخص اپنا دروازہ بند کرلے وہ بھی مامون ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39696
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39696، ترقيم محمد عوامة 38078)
حدیث نمبر: 39697
٣٩٦٩٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد عن مجاهد عن (١) ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "هذه (٢) (حرم) (٣) - (يعني مكة) (٤) - حرمها اللَّه يوم خلق السماوات والأرض، ووضع هذين (الأخشبين) (٥)، (لم) (٦) تحل لأحد قبلي ولا تحل لأحد بعدي، ولم تحل لي إلا ساعة من (النهار) (٧)، لا (يعضد) (٨) شوكها، ولا ينفر صيدها، ولا (يختلى) (٩) (خلاها) (١٠)، ولا (يرفع) (١١) لقطتها إلا (منشد) (١٢) "، فقال العباس: يا رسول اللَّه إن أهل مكة لا صبر لهم عن الأذخر لقينهم ولبنيانهم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إلا الإذخر" (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ مقام حرم ہے یعنی مکہ۔ جس دن اللہ تعالیٰ نے زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کیا تھا اسی دن سے اس کو حرمت بخشی تھی۔ یہ زمین مجھ سے پہلے بھی کسی کے لئے حلا ل نہیں کی گئی اور نہ ہی میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگی۔ اور میرے لئے بھی محض دن کی ایک گھڑی حلال کی گئی ہے۔ اس کے کانٹے کو نہیں کاٹا جائے گا اور اس کے شکار کو نہیں بدکایا جائے گا۔ اور اس کے گھاس کو نہیں کاٹا جائے گا اور نہ ہی اس کے گمشدہ مال کو اٹھایا جائے گا لیکن تعریف کرنے والے کو اٹھانا درست ہے۔ حضرت عباس نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اہل مکہ کو اذخر گھاس سے رکنا مشکل ہے کیونکہ وہ اپنی بنیادوں اور لوہے کے کام میں اس کو استعمال کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اذخر مستثنیٰ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39697
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه ابن جرير ١/ ٥٤٢، والدارقطني ٤/ ٢٣٥، والأزرقي ٢/ ١٢٦، والطحاوي ٢/ ٢٦٠، وورد من حديث مجاهد عن طاووس عن ابن عباس، أخرجه البخاري (١٥٨٧)، ومسلم (١٢٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39697، ترقيم محمد عوامة 38079)
حدیث نمبر: 39698
٣٩٦٩٨ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن ابن أبي مليكة قال: لما فتحت مكة صعد بلال البيت فأذن، فقال صفوان بن أمية للحارث بن هشام: ألا ترى إلى هذا العبد؟ فقال الحارث: إنْ يكرهْه اللهُ يغيِّره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو حضرت بلال حبشی بیت اللہ کی چھت پر چڑھ گئے اور اذان دی۔ تو صفوان بن امیہ نے حارث بن ہشام سے کہا۔ کیا تم یہ غلام نہیں دیکھ رہے ؟ حارث نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ کو یہ ناپسند ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی اور کو کھڑا کردیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39698
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ ابن أبي ملكية تابعي، أخرجه الأزرقي ١/ ٢٧٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39698، ترقيم محمد عوامة 38080)
حدیث نمبر: 39699
٣٩٦٩٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن هشام بن عروة عن أبيه أن بلالا أذن يوم الفتح فوق الكعبة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت بلال نے فتح مکہ کے دن بیت اللہ کی چھت پر اذان دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39699
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عروة تابعي، أخرجه ابن عساكر ١٠/ ٤٦٦، وأبو داود في المراسيل (٢٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39699، ترقيم محمد عوامة 38081)
حدیث نمبر: 39700
٣٩٧٠٠ - حدثنا عبدة بن سليمان عن يحيى بن (سعيد) (١) (عن سعيد) (٢) بن المسيب قال: (خرج) (٣) النبي ﷺ عام الفتح من المدينة بثمانية آلاف أو عشرة آلاف (و) (٤) من أهل مكة بألفين (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے سال مدینہ منورہ سے آٹھ ہزار، یا دس ہزار کے لشکر کے ہمراہ نکلے تھے۔ اور اہل مکہ میں سے دو ہزار لوگ تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39700
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي، وأخرجه ابن سعد ٢/ ١٣٩، والفاكهي ٥/ (١٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39700، ترقيم محمد عوامة 38082)
حدیث نمبر: 39701
٣٩٧٠١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن سعيد بن أبي هند عن أبي مرة مولى عقيل بن أبي طالب عن أم هانئ بنت أبي طالب قالت: لما افتتح رسول اللَّه ﷺ مكة (فر) (١) إلي رجلان من أحمائي من بني مخزوم، قالت: فخبأتهما في بيتي، فدخل علي أخي علي بن أبي طالب فقال: (لأقتلنهما) (٢)، قالت: فأغلقت الباب عليهما، ثم جئت رسول اللَّه ﷺ (بأعلى) (٣) مكة وهو يغتسل في (جفنة) (٤) إن فيها أثر العجين، وفاطمة ابنته تستره، فلما فرغ رسول اللَّه ﷺ من غسله أخذ ثوبا فتوشح به ثم صلى ثماني ركعات من الضحى، ثم أقبل فقال: "مرحبا وأهلا بأم هانئ، ما جاء بك؟ " (قالت) (٥): قلت: يا نبي اللَّه فر إلي رجلان من أحمائي، فدخل علي علي بن أبي طالب فزعم أنه قاتلهما، فقال: "لا، قد ⦗٦٠⦘ (أجرنا من أجرت) (٦) يا أم هانئ، وأمنا من أمنت" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام ہانی بنت ابی طالب بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو میرے سسرال بنو مخزوم میں سے دو آدمی میری طرف بھاگ کر آگئے۔ ام ہانی کہتی ہیں۔ پس میں نے انہیں اپنے گھروں میں چھپا دیا۔ پھر میرے بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب میرے ہاں آئے اور کہنے لگے، میں ضرور بالضرور ان دونوں کو قتل کر دوں گا۔ ام ہانی کہتی ہیں۔ میں نے ان دونوں آدمیوں کو (کمرہ میں داخل کر کے) دروازہ بند کردیا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مکہ کے بالائی مقام پر حاضر ہوئی تب جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ٹب میں غسل فرما رہے تھے۔ جس میں گوندھے آٹے کے اثرات تھے اور حضرت فاطمہ ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پردہ کیے ہوئے تھی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اپنے غسل سے فارغ ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑے پکڑے اور زیب تن فرمائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاشت کی آٹھ رکعات نماز ادا فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (میری طرف) متوجہ ہوئے اور فرمایا : ام ہانی ! مرحبا خوش آمدید۔ کس غرض سے آئی ہو۔ میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے سسرالی رشتہ داروں میں سے دو بندے (پناہ کے لئے) میری طرف بھاگ کر آئے ہیں اور پھر علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب میرے پاس آگئے اور اب علی رضی اللہ عنہ کا ارادہ ان دونوں کو قتل کرنے کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ نہیں ! یقین کرو۔ اے ام ہانی ! جس کو تم نے پناہ دی ہے ہم نے بھی ا س کو پناہ دی اور جس کو تم نے امن دیا ہے اس کو ہم نے بھی امن دیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39701
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن إسحاق صدوق، صرح بالسماع عند الطبراني ٢٤/ (١٠٢١)، والطحاوي ٣/ ٣٢٣، وابن بشكوال ١/ ٦٤٢، وأخرجه البخاري (٣٥٠)، ومسلم (٣٣٦)، وأحمد (٢٦٨٩٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39701، ترقيم محمد عوامة 38083)
حدیث نمبر: 39702
٣٩٧٠٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن أبي البختري عن أبي سعيد الخدري عن رسول اللَّه ﷺ أنه قال: لما (نزلت) (١) هذه السورة: ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [النصر: ١] قال: قرأها رسول اللَّه ﷺ (حتى ختمها) (٢) وقال: "الناس (حيز) (٣)، وأنا وأصحابى (حيز) (٤) "، وقال: "لا هجرة بعد الفتح، ولكن جهاد ونية"، فقال له مروان: كذبت وعنده زيد بن ثابت ورافع بن خديج وهما قاعدان (معه) (٥) على السرير، فقال أبو سعيد: لو شاء هذان لحدثاك، ولكن هذا يخاف أن تنزعه عن [(عرافة) (٦) قومه، وهذا (يخشى) (٧) أن تنزعه عن] (٨) الصدقة، فسكتا، فرفع مروان الدرة ليضربه، فلما رأيا ذلك قالا: صدق (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سورة اذا جاء نصر اللّٰہ والفتح ۔ نازل ہوئی۔ مکمل تلاوت فرمائی یہاں تک کہ اس کو ختم فرمایا۔ اور پھر ارشاد فرمایا۔ ایک جہت میں (بعد والے) لوگ ہیں اور ایک جہت میں میں اور میرے صحابہ (پہلے ایمان لانے والے) ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نبوت باقی ہے۔ مروان نے حضرت ابو سعید خدری سے کہا۔ تم جھوٹ کہہ رہے ہو۔ (اس وقت) مروان کے پاس زید بن ثابت اور رافع بن خدیج موجود تھے اور اس کے ساتھ تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ابو سعید خدری نے فرمایا : اگر یہ دونوں چاہتے تو یہ بھی تمہیں (یہ) حدیث بیان کرتے لیکن (ان میں سے) ایک اس بات سے خوف کھاتا ہے کہ تم اس کو اپنی قوم کی طرف سے نکال دو گے اور (ان میں سے) ایک اس بات سے خوف کھاتا ہے تم اس کو صدقہ سے نکال دو گے۔ لیکن یہ دونوں حضرات خاموش رہے کہ اسی دوران مروان نے درہ بلند کیا تاکہ ابو سعید کو مارے۔ پس جب ان دونوں حضرات نے یہ دیکھا تو دونوں نے فرمایا۔ ابوسعید نے سچ بات بتائی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39702
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39702، ترقيم محمد عوامة 38084)
حدیث نمبر: 39703
٣٩٧٠٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن مجاهد عن طاوس عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا هجرة بعد الفتح، ولكن جهاد ونية، وإذا استنفرتم فانفروا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فتح مکہ کے بعد ہجرت (کاثواب) باقی نہیں لیکن جہاد اور نیت باقی ہے پس جب تم سے نکلنے کو کہا جائے تو تم (راہِ خدا میں) نکلو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39703
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٥٨٧)، ومسلم (١٣٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39703، ترقيم محمد عوامة 38085)
حدیث نمبر: 39704
٣٩٧٠٤ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن عبيد اللَّه بن أبي زياد عن أم يحيى بنت يعلى عن أبيها (قال) (١): جئت بأبي يوم فتح مكة فقلت: يا رسول اللَّه هذا يبايعك على الهجرة، فقال: "لا هجرة بعد الفتح، ولكن جهاد ونية" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام یحییٰ بنت یعلیٰ اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ میں اپنے والد کو لے کر فتح مکہ والے دن حاضر ہوئی اور میں نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39704
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39704، ترقيم محمد عوامة 38086)
حدیث نمبر: 39705
٣٩٧٠٥ - [حدثنا ابن نمير عن عبد اللَّه (بن) (١) حبيب بن أبي ثابت عن ابن أبي حسين عن عطاء عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا هجرة بعد الفتح، ولكن جهاد ونية"] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت باقی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39705
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٦٤)، وأصله عند البخاري (٢٩١٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39705، ترقيم محمد عوامة 38087)
حدیث نمبر: 39706
٣٩٧٠٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن عاصم عن أبي عثمان عن مجاشع بن مسعود قال: أتيت النبي ﷺ أنا وأخي قال: فقلت: يا رسول اللَّه، (بايعنا) (١) على الهجرة، (فقال) (٢): "مضت الهجرة لأهلها"، (فقلت) (٣): (علام) (٤) نبايعك يا ⦗٦٢⦘ رسول اللَّه؟ قال: "على الإسلام والجهاد"، (قال) (٥): فلقيت أخاه فسألته، فقال: صدق مجاشع (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاشع بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا بھائی ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ ہم سے ہجرت پر بیعت لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ہجرت تو اہل ہجرت کے لئے ختم ہوگئی ہے۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم آپ سے کس چیز پر بیعت کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسلام اور جہاد پر۔ راوی کہتے ہیں : پھر میں میں مجاشع کے بھائی سے ملا اور میں نے اس سے پوچھا : انہوں نے جواب دیا : مجاشع نے سچ بات بتائی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39706
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٦٢)، ومسلم (١٨٦٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39706، ترقيم محمد عوامة 38088)
حدیث نمبر: 39707
٣٩٧٠٧ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد اللَّه عن ابن عباس أن النبي ﷺ صام عام الفتح حتى بلغ الكديد ثم أفطر، (وإنما) (١) يؤخذ بالآخر من فعل رسول اللَّه ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کے سال روزہ رکھا یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام کدید میں پہنچے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے افطار کرلیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے افعال میں سے تو آخری عمل کو ہی لیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39707
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٥٣)، ومسلم (١١١٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39707، ترقيم محمد عوامة 38089)
حدیث نمبر: 39708
٣٩٧٠٨ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن عبيد اللَّه عن ابن عباس أن النبي ﷺ أقام حيث فتح مكة خمس (عشرة) (١) يقصر الصلاة حتى سار إلى حنين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پندرہ روز قیام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز قصر پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کی طرف روانگی کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39708
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39708، ترقيم محمد عوامة 38090)