حدیث نمبر: 39643
٣٩٦٤٣ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا وكيع عن أبي جعفر عن قتادة عن أنس: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ [الفتح: ١] قال: خيبر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس (آیت قرآنی) {إِنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا } کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ خیبر (والی فتح) ہے۔
حدیث نمبر: 39644
٣٩٦٤٤ - حدثنا هاشم بن القاسم قال: حدثنا عكرمة بن عمار قال: حدثني إياس بن سلمة قال: أخبرني أبي قال: بارز عمي يوم خيبر مرحبا اليهودي (١) (فقال مرحب) (٢): قد علمت خيبر أني مرحب … شاكي السلاح بطل مجرب (إذا الحروب) (٣) أقبلت تلهب فقال: عمي عامر: قد علمت خيبر أني عامر … شاكي السلاح بطل مغامر فاختلفا ضربتين فوقع سيف مرحب في ترس عامر فرجع السيف على ساقه فقطع أكحله، فكانت فيها نفسه. قال سلمة: فلقيت من صحابة النبي ﷺ فقالوا: بطل عمل عامر، قتل نفسه، قال سلمة: فجئت إلى نبي اللَّه ﷺ (أبكي) (٤) قلت: يا رسول اللَّه بطل عمل عامر، قال: "من قال ذلك؟ " قلت: أناس من أصحابك، قال رسول اللَّه ﷺ: ⦗١١⦘ "كذب من قال ذلك، بل له أجره مرتين". حين خرج إلى خيبر جعل يرجز بأصحاب (رسول اللَّه) (٥) ﷺ، وفيهم النبي ﵊، (يسوق) (٦) (الركاب) (٧) وهو يقول: تاللَّه لولا اللَّه ما اهتدينا … ولا تصدقنا و (لا) (٨) صلينا إن الذين قد بغوا علينا … إذا أرادوا فتنة أبينا ونحن عن فضلك ما استغنينا … فثبت الأقدام إن لاقينا (وأنزلن) (٩) سكينة علينا فقال رسول اللَّه ﷺ: "من هذا؟ " قال: عامر (يا رسول اللَّه) (١٠)، قال: "غفر لك ربك"، قال: "وما استغفر لإنسان قط يخصّه إلا استشهد"، فلما سمع ذلك عمر بن الخطاب قال: يا رسول اللَّه، لولا ما متعتنا بعامر فقام فاستشهد. قال سلمة: ثم إن رسول اللَّه ﷺ أرسلني إلى (علي) (١١) فقال: "لأعطين الراية اليوم رجلًا يحب اللَّه ورسوله، أو يحبه اللَّه ورسوله"، قال: فجئت به (أقوده) (١٢) (١٣) أرمد قال: فبصق رسول اللَّه ﷺ في (عينيه) (١٤) ثم أعطاه الراية. ⦗١٢⦘ فخرج مرحب (يخطر) (١٥) بسيفه فقال: قد علمت خيبر أني مرحب … شاكي السلاح بطل مجرب إذا الحروب أقبلت تلهب فقال: علي بن أبي طالب ﵁: أنا الذي سمتني أمي حيدرة … (كليث) (١٦) (غابات) (١٧) (كريه) (١٨) المنظرة أو فيهم بالصاع كيل السندرة ففلق رأس مرحب بالسيف، وكان الفتح على يديه ﵀ (١٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے خبر دی کہ میرے چچا نے خیبر کے دن مرحب یہودی سے مبارزت کی تو مرحب نے کہا۔ ع ترجمہ : ” خیبر (کا خطہ) جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں۔ اسلحہ سے لیس ایک مجرب بہادر ہوں۔ جب جنگیں آتیں ہیں تو وہ شعلہ وار ہوجاتا ہے۔ “ اس پر میرے چچا نے یہ شعر کہا۔ ع ترجمہ : ” تحقیق خیبر (کا خطہ) مجھے جانتا ہے کہ میں عام ہوں۔ اسلحہ سے لیس اور جان پر کھیلنے والا سپوت ہوں۔ “ پس دونوں (کی) ضربیں ایک دوسرے پر شروع ہوگئیں۔ اور مرحب کی تلوار حضرت عامر کی ڈھال میں آپڑی۔ (جس کی وجہ سے) حضرت عامر کی تلوار ان کی پنڈلی پر آ لگی اور اس نے ان کی رگ کو کاٹ دیا۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں ۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ سے ملا تو انہوں نے کہا : عامر کے اعمال ضائع ہوگئے۔ انہوں نے خود کو قتل کیا ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں روتا ہوا حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا عامر کے اعمال ضائع ہوگئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کس نے یہ بات کہی ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں نے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے یہ بات کہی ہے جھوٹ کہی ہے۔ بلکہ اس کے لئے تو دوہرا اجر ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت عامر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو رجز کہہ رہے تھے۔ اور انہیں صحابہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی موجود تھے۔ حضرت عامر رکاب کو ہانک رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ ع ۔ بخدا ! اگر خدا نے ہمیں ہدایت نہ دی ہوتی ۔ تو ہم صدقہ بھی نہ کرتے اور نمازیں بھی نہ پڑھتے۔ بیشک وہ لوگ جنہوں نے ہم پر سرکشی کی۔ جب وہ کسی فتنہ کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کردیتے ہیں۔ ہم تیرے فضل سے مستغنی نہیں ہوسکتے پس اگر ہماری (دشمن سے) ملاقات ہوجائے تو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ اور ہم پر سکینہ نازل فرما۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ۔ یہ کون ہے ؟ کسی نے عرض کیا۔ عامر ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا پروردگار تمہاری مغفرت فرمائے۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس آدمی کے لئے بھی خصوصیت کے ساتھ استغفار کیا وہ آدمی شہید ہی ہوا۔ پس جب یہ بات حضرت عمر بن خطاب نے سُنی تو انہوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے ہمیں حضرت عامر سے مزید کیوں مستفید نہ ہونے دیا۔ پھر حضرت عامر (میدان جنگ میں مبارزت کے جواب میں) کھڑے ہوئے اور شہید ہوگئے۔ ٦۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا اور فرمایا : آج کے دن میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے … یا فرمایا … جس سے اللہ اور اس کے رسول محبت کرتے ہیں۔ سلمہ کہتے ہیں : پس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس حال میں چلا کر لایا کہ ان کو آشوب چشم تھا ۔ راوی کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھ میں اپنا لعاب مبارک ڈالا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔ مرحب اپنی تلوار کو اوپر نیچے ہلاتا ہوا باہر نکلا اور کہہ رہا تھا۔ تحقیق خربا (کے لوگ) مجھے جانتے ہیں کہ میں مرجر ہوں، اسلحہ سے لیس تجربہ کار سپوت ہوں۔ جب جنگیں آگے بڑھتی ہیں تو میں شعلہ وار ہوجاتا ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا : ع ” میں وہ شخص ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر (شیر) رکھا ہے۔ جنگل کے شیر کی طرح نہایت مہیب ہوں اور میں دشمنوں کے پیمانہ کے ساتھ پورا ناپ کردیتا ہوں۔ “ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مرحب کے سر کو (دو حصوں میں) تلوار سے پھاڑ دیا۔ اور یہ فتح حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے حاصل ہوئی۔
حدیث نمبر: 39645
٣٩٦٤٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن (جبير) (١) بن مطعم قال: قسم رسول اللَّه ﷺ سهم (ذوي) (٢) القربى من خيبر علي بني هاشم وبني المطلب، قال: فمشيت أنا وعثمان بن عفان (حتى) (٣) (دخلنا) (٤) عليه فقلنا: يا رسول اللَّه هؤلاء أخوتك من بني هاشم، لا (ينكر) (٥) فضلهم لمكانك الذي وضعك اللَّه به منهم، أرأيت (إخوتنا) (٦) من بني المطلب أعطيتهم دوننا، وإنما نحن وهم بمنزلة واحدة في النسب، فقال: "إنهم لم ⦗١٣⦘ يفارقونا في الجاهلية والإسلام" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن مطعم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر میں سے ذوی القربیٰ کے حصے کو بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب پر تقسیم فرمایا۔ راوی کہتے ہیں : پس میں اور حضرت عثمان بن عفان ، نکلے یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! یہ آپ بنی ہاشم کے جو بھائی ہیں۔ ان کی اس فضیلت کا انکار نہیں کیا جاسکتا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان میں بھیج کر عطا فرمائی ہے۔ لیکن آپ ہمارے بنی عبد المطلب کے بھائیوں کو کیسا دیکھتے ہیں۔ آپ نے انہیں ہم سے تھوڑا عطا فرمایا ہے۔ حالانکہ ہم اور وہ ، نسب کے اعتبار سے ایک ہی مرتبہ کے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ انہوں نے ہمارا حالت اسلام اور جاہلیت میں کبھی ساتھ نہیں چھوڑا۔
حدیث نمبر: 39646
٣٩٦٤٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس أن النبي ﷺ كان لا (يُغير) (٢) حتى يصبح فيستمع، فإن سمع أذانا أمسك، وإن لم يسمع أذانا أغار، قال: فأتى خيبر، وقد خرجوا من حصونهم فتفرقوا في أرضيهم، معهم مكاتلهم وفؤوسهم (ومرورهم) (٣)، فلما رأوه قالوا: محمد والخميس، فقال رسول اللَّه ﷺ: " (اللَّه) (٤) أكبر خربت خيبر، إنا إذا نزلنا بساحة فساء صباح المنذرين"، فقاتلهم حتى فتح اللَّه عليه، فقسم الغنائم فوقعت صفية في سهم دحية الكلبي، فقيل لرسول اللَّه ﷺ: إنه قد وقعت جارية جميلة في سهم دحية الكلبي، فاشتراها رسول اللَّه ﷺ بسبعة أرؤس، فبعث بها إلى أم سليم تصلحها، قال: ولا أعلم (إلا) (٥) أنه قال: (وتعتد) (٦) عندها، فلما أراد الشخوص قال الناس: ما ندري: اتخذها سُريّة أم تزوجها؟ فلما ركب سترها وأردفها خلفه، فأقبلوا حتى إذا دنوا من (المدينة) (٧) (أوضعوا) (٨)، وكذلك كانوا يصنعون إذا رجعوا، فدنوا من المدينة، فعثرت ناقة رسول اللَّه ﷺ فسقط وسقطت، ونساء النبي ﷺ ينظرن مشرفات، فقلن: أبعد اللَّه اليهودية وأسحقها، ⦗١٤⦘ فسترها وحملها (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کسی بستی پر) حملہ نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ صبح ہوجائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سماعت کرلیں۔ پس اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذان کی آواز سنائی دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک جاتے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذان کی آواز نہ سنتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بستی پر) حملہ آور ہوجاتے۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جب) خیبر کے علاقہ میں تشریف لائے تو (اس وقت) وہ لوگ اپنے قلعوں سے باہر نکل چکے تھے اور اپنی زمینوں میں پھیل گئے تھے ۔ اور ان کے ہمراہ زنبیل، کلہاڑیاں اور پھاؤڑے وغیرہ تھے۔ پس جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو بولے۔ محمد اور لشکر ! ! ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ اکبر۔ خیبر برباد ہوگیا۔ جب ہم کسی قوم کے علاقہ میں پڑاؤ ڈال دیتے ہیں تو پھر ڈرائے ہوئے (آگاہ کردہ) لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ لڑائی کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح عطا فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غنائم کو تقسیم فرمایا۔ صفیہ، حضرت دحیہ کلبی کے حصے میں آئیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا۔ کہ حضرت دحیہ کلبی کے حصہ میں ایک خوبصورت لونڈی آئی ہے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سات غلاموں کے عوض خرید لیا اور انہیں حضرت ام سلیم کی طرف بھیج دیا تاکہ وہ انہیں درست کریں ۔ راوی کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ یہ ان کے پاس عدت گزاریں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (وہاں سے) روانگی کا قصد فرمایا۔ تو لوگ کہنے لگے۔ نامعلوم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفیہ کو بطور قیدی کے پکڑا یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے شادی کی ہے ؟ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفیہ کو باپردہ کر کے انہیں اپنے پیچھے سوار کیا۔ پھر لوگ چل پڑے یہاں تک کہ جب مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے جانوروں کو تیز دوڑایا … لوگوں کی عادت یہی تھی کہ جب وہ (سفر سے) واپسی کرتے اور مدینہ کے قریب پہنچتے تو یونہی کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کو ٹھوکر لگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گرپڑے اور صفیہ بھی گرگئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں منتظر ہو کر دیکھ رہی تھیں۔ تو انہوں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ یہودیہ (صفیہ) کو دور کرے اور برباد کرے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفیہ کو باپردہ کیا اور ان کو (اونٹنی پر) سوار کیا۔
حدیث نمبر: 39647
٣٩٦٤٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) ابن عون عن عمرو بن سعيد عن أبي طلحة قال: كنت ردف النبي ﷺ يوم خيبر، فلما انتهينا وقد خرجوا بالمساحي، فلما رأونا قالوا: محمد واللَّه، محمد (٢) والخميس، (فقال) (٣) رسول اللَّه ﷺ (٤): " (اللَّه) (٥) أكبر انا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طلحہ سے روایت ہے کہ خیبر کے دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ جب ہم (خیبر) پہنچے تو وہ لوگ (اپنے کھیتوں میں) بیلچوں کے ساتھ نکل چکے تھے۔ پس جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو کہنے لگے۔ محمد ! بخدا ! محمد اور لشکر ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ اکبر ! جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو پھر ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 39648
٣٩٦٤٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) داود بن أبي هند عن عامر أن النبي ﷺ أكرى خيبر بالشطر، ثم بعث ابن رواحة عند القسمة (فخيرهم) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے ایک حصہ کو کرایہ پر دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن رواحہ کو تقسیم کے وقت بھیجا اور آپ نے انہیں اختیار دیا۔
حدیث نمبر: 39649
٣٩٦٤٩ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: حدثنا عوف (عن) (١) ميمون أبي عبد اللَّه عن عبد اللَّه بن بريدة (٢) الأسلمي عن أبيه قال: لما نزل رسول اللَّه ⦗١٥⦘ بحضرة خيبر فزع أهل خيبر وقالوا: جاء محمد في أهل يثرب، قال: فبعث رسول اللَّه ﷺ عمر بن الخطاب بالناس فلقي أهل خيبر فردوه وكشفوه هو وأصحابَه، فرجعوا إلى رسول اللَّه ﷺ) (٣) يجبن أصحابه ويجبنه أصحابه، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "لأعطين اللواء غدا رجلا يحب اللَّه ورسوله، (ويحبه اللَّه ورسوله) (٤) "، قال: فلما كان الغد تصادر لها أبو بكر وعمر، قال: فدعا عليا وهو يومئذ أرمد فتفل في عينه وأعطاه اللواء قال: فانطلق بالناس، قال: فلقي أهل خيبر ولقي مرحبا الخيبري، وإذا هو يرتجز (ويقول) (٥): قد علمت (خيبر أني مرحب) (٦) … شاكي السلاح بطل مجرب إذا (الليوث) (٧) أقبلت تلهب … أطعن أحيانا وحينا أضرب قال: فالتقى هو وعلي (فضربه علي ضربة على هامته) (٨) بالسيف، عض السيف منها بالأضراس، وسمع صوت ضربته أهل العسكر، قال: فما تتام آخر الناس حتى فتح لأولهم (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن بریدہ اسلمی ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر کے علاقہ میں فروکش ہوئے تو اہل خیبر گھبرا گئے اور کہنے لگے۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اہل یثرب کے ہمراہ آگئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب کو چند لوگوں کے ہمراہ بھاجٓ وہ اہل خیبر سے ملے لیکن اہل خیبر نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو واپس کردیا پس یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اس حالت میں حاضر ہوئے کہ حضرت عمر اپنے ساتھیوں کو بزدل کہہ رہے تھے اور ان کے ساتھی انہیں بزدلی کا کہہ رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں جھنڈا کل ایسے آدمی کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس (آدمی) سے محبت کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پس جب اگلا دن آیا تو حضرت ابوبکر اور عمر اس جھنڈے کے امیدوار تھے۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس وقت آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھ میں تھتکارا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو عَلَم تھما دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو لے کر چل دئیے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ کا سامنا اہل خیبر سے ہوا اور مرحب خیبری سے آپ کا سامنا ہواتو وہ یہ رجز پڑھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ ع تحقیق خیبر والے جانتے ہیں کہ میں مرحب ہوں، اسلحہ سے لیس اور تجربہ کار بہادر ہوں۔ جب شیرآگے بڑھتے ہیں تو میں شعلہ وار ہوجاتا ہوں، کبھی نیزہ بازی کرتا ہوں اور کبھی تلوار بازی۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور مرحب کا ٹکراؤ ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی کھوپڑی پر تلوار کے ساتھ ایسی ضرب لگائی ۔ کہ تلوار نے اس کی کھوپڑی سے داڑھوں تک کاٹ کر رکھ دیا۔ اور آپ کی ضرب کی آواز تمام لشکر نے سُنی مسلمانوں کے لشکر کے ابتدائی حصہ کو اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کردی۔
حدیث نمبر: 39650
٣٩٦٥٠ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سعيد بن أبي (عروبة) (١) عن قتادة ⦗١٦⦘ عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال: خرجنا مع رسول اللَّه ﷺ من مكة إلى خيبر في ثنتي عشرة بقيت من رمضان، فصام (طائفة) (٢) من أصحاب رسول اللَّه ﷺ، وأفطر آخرون (٣) فلم يعب ذلك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمرا ہ مکہ سے خیبر کی طرف نکلے جبکہ رمضان میں سے بارہ دن باقی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں میں سے بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے روزہ چھوڑ دیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی پر طعن نہں فرمایا۔
حدیث نمبر: 39651
٣٩٦٥١ - حدثنا وكيع عن المسعودي عن الحكم أن رسول اللَّه ﷺ قسم لجعفر وأصحابه يوم خيبر، ولم يشهدوا (الوقعة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جعفر اور ان کے ساتھیوں کو خیبر کے دن تقسیم میں شامل فرمایا۔ حالانکہ یہ لوگ جنگ خیبر میں شریک نہیں تھے۔
حدیث نمبر: 39652
٣٩٦٥٢ - حدثنا شاذان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال عمر: إن (النبي) (١) ﷺ قال: "لأدفعن اللواء غدا إلي رجل يحب اللَّه ورسوله يفتح اللَّه به"، قال عمر: ما تمنيت (الإمرة) (٢) إلا يومئذ، فلما كان الغد تطاولت لها، قال: فقال: "يا علي قم اذهب فقاتل ولا (تلتفت) (٣) حتى يفتح اللَّه عليك"، فلما (قفى) (٤) كره أن يلتفت، فقال: يا رسول اللَّه (علام) (٥) أقاتلهم؟ قال: "حتى يقولوا: لا إله إلا اللَّه، فإذا (قالوها) (٦) حرمت دماؤهم وأموالهم إلا بحقها" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کل میں جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا ۔ اللہ پاک اس کے ذریعہ فتح عطا فرمائیں گے۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ میں نے امارت کی تمنا اس دن کے سوا کبھی نہیں کی۔ پھر جب اگلا دن (کل کا دن) آیا تو میں اس کو اونچا ہو کر دیکھنے لگا۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے علی رضی اللہ عنہ ! کھڑے ہو جاؤ، جاؤ اور جا کر لڑو۔ کسی طرف توجہ نہ کرنا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تیرے (ہاتھ) پر فتح دے دیں۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رُخ پھیرا تو انہوں نے (واپس) مڑنا ناپسند کیا ۔ عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں ان کفار سے کس بات پر لڑوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ (لڑو) یہاں تک کہ وہ کہہ دیں۔ لا الہ الا اللّٰہ۔ پس جب وہ یہ بات کہہ دیں تو ان کے اموال اور ان کے خون محفوظ ہوجائیں گے سوائے کسی حق کی صورت میں۔
حدیث نمبر: 39653
٣٩٦٥٣ - حدثنا علي بن هاشم قال: (حدثنا) (١) (٢) ابن أبي (ليلى) (٣) [عن المنهال والحكم وعيسى (عن) (٤) عبد الرحمن بن أبي (ليلى) (٥)] (٦) قال: قال علي: ما كنت معنا يا أبا (ليلى) (٧) بخيبر؟ قلت: بلى واللَّه، لقد كنت معكم، قال: فإن رسول اللَّه ﷺ بعث أبا بكر (فسار) (٨) بالناس فانهزم حتى رجع (٩)، وبعث عمر فانهزم بالناس حتى انتهى إليه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لأعطين الراية رجلا يحب اللَّه ورسوله ويحبه اللَّه ورسوله (يفتح اللَّه له) (١٠) ليس بفرار"، قال: فأرسل إلي فدعاني فأتيته -وأنا أرمد إلا أبصر (شيئًا) (١١) -[(فدفع) (١٢) إلي الراية فقلت: يا رسول اللَّه كيف وأنا أرمد لا أبصر (شيئا؟) (١٣)] (١٤) قال: فتفل في عيني، ثم قال: "اللهم اكفه الحر والبرد"، قال: فما آذاني بعد حر ولا برد (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمان بن ابی لیلیٰ ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اے ابو لیلیٰ ! تم خیبر میں ہمارے ساتھ نہیں تھے ؟ میں نے عرض کای : کیوں نہیں ! بخدا میں تو تمہارے ساتھ تھا۔ (پھر) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو بھیجا اور وہ لوگوں کو لے کر (میدان کی طرف) چلے لیکن پسپا ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف واپس تشریف لے آئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو بھیجا وہ بھی لوگوں کے ہمراہ پسپا ہوگئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف واپس آگئے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ (اب) میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔ وہ بھاگنے والا آدمی نہیں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں… پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف آدمی بھیجا اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلایا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اس حال میں حاضر ہوا کہ میں آشوب چشم میں مبتلا تھا۔ اور مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جھنڈا عطا فرمایا۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! (یہ مجھے آپ) کیسے دے رہے ہیں ؟ جبکہ مجھے تو آشوب چشم ہے اور میں کچھ نہیں دیکھ رہا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی۔ اے اللہ ! تو ان کو سردی اور گرمی سے کافی ہوجا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ مجھے اس کے بعد کبھی سردی یا گرمی نے تکلیف نہیں دی۔
حدیث نمبر: 39654
٣٩٦٥٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي مرزوق (مولى) (١) تجيب قال: غزونا مع (رويفع) (٢) بن (ثابت) (٣) الأنصاري نحو المغرب، ففتحنا قرية يقال: لها جربة، قال: فقام (فينا) (٤) خطيبًا فقال: إني لا أقول فيكم إلا ما سمعت رسول اللَّه ﷺ قال فينا يوم خيبر: "من كان يؤمن باللَّه واليوم الآخر فلا يسقين ماءه زرع غيره، ولا يبيعن مغنما حتى يقسم، ولا يركبن دابة من فيء المسلمين، فإذا أعجفها ردها فيه، ولا (يلبس) (٥) ثوبًا (من فيء المسلمين) (٦) حتى إذا (أخلقه) (٧) رده (فيه) (٨) " (٩).
مولانا محمد اویس سرور
تجیب کے غلام حضرت ابو مرزوق سے روایت ہے کہ ہم نے رویفع بن ثابت انصاری کے ہمراہ مغرب کی طرف ایک غزوہ لڑا۔ اور ہم نے ایک بستی … جس کو جَربَہْ کہا جاتا تھا … کو فتح کرلیا۔ راوی کہتے ہیں : ہم میں ایک خطیب صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا۔ میں تم سے وہی بات کروں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سُنی اور وہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خیبر کے دن ارشاد فرمائی تھی۔ (وہ بات یہ ہے) ” جو شخص اللہ پر، یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو اس کا پانی ہرگز دوسرے کی کھیتی کو سیراب نہ کرے اور وہ غنیمت میں سے تقسیم ہونے سے قبل کچھ نہ بیچے۔ اور نہ ہی مسلمانوں کے مال فئی کے کسی جانور پر اس طرح سوار ہو کہ جب وہ جانور کمزور ہوجائے تو یہ اس کو واپس مال فئی میں داخل کر دے۔ اور نہ ہی مسلمانوں کے مال فئی سے اس طرح کوئی کپڑا پہنے کہ جب وہ کپڑے پرانا کر دے تو اس کو مال فئی میں واپس کر دے۔
حدیث نمبر: 39655
٣٩٦٥٥ - حدثنا هاشم بن القاسم قال: حدثنا عكرمة بن عمار قال: حدثني سماك الحنفي أبو زميل قال: حدثني عبد اللَّه ابن عباس قال: (حدثني) (١) عمر بن الخطاب قال: لما كان يوم خيبر أقبل نفر من أصحاب (رسول اللَّه) (٢) ﷺ قالوا: ⦗١٩⦘ فلان شهيد، (فلان شهيد) (٣) حتى مروا على رجل فقالوا: فلان شهيد، فقال رسول اللَّه ﷺ: "كلا، إني رأيته في النار في بردة غلها، أو في عباءة غلها"، ثم قال رسول اللَّه ﷺ: " (يا ابن الخطاب) (٤) اذهب فناد في الناس: أنه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون"، (قال: فخرجت فناديت أنه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ خیبر کا دن تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کا ایک گروہ ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں) حاضر ہوا اور وہ لوگ کہنے لگے۔ فلاں شہید ہے، فلاں شہید ہے ۔ یہاں تک کہ وہ ایک آدمی کے پاس پہنچے اور انہوں نے کہا (یہ) فلاں بھی شہید ہے۔ تو (اس پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہرگز نہیں ! میں نے اس آدمی کو جہنم میں دیکھا ہے اس چادر میں یا اس عباء میں جو اس نے مال غنیمت سے خیانت کی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن خطاب ! جاؤ اور لوگوں میں یہ منادی کردو کہ جنت میں صرف صاحب ایمان ہی داخل ہوں گے۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ پس میں وہاں سے نکلا اور میں نے منادی کی، کہ جنت میں صرف صاحب ایمان ہی داخل ہوں گے۔
حدیث نمبر: 39656
٣٩٦٥٦ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: حدثنا رافع بن سلمة الأشجعي قال: حدثني حشرج بن زياد الأشجعي عن جدته أم أبيه أنها غزت مع رسول اللَّه ﷺ عام خيبر سادسة ست نسوة، فبلغ (٢) رسول اللَّه ﷺ فبعث إلينا، فقال: "بأمر من خرجتن؟ " ورأينا فيه الغضب، فقلنا: يا رسول اللَّه خرجنا ومعنا دواء نداوي به، ونناول السهام، ونسقي السويق، ونغزل الشعر، نعين به في سبيل اللَّه، فقال لنا: "أقمن"، فلما أن فتح اللَّه عليه خيبر قسم لنا كما قسم للرجال (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حشرج بن زیاد اشجعی اپنی دادی سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ چھ عورتوں کے ساتھ خیبر کے دن جہاد میں شرکت کی، پھر یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچ گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف قاصد بھیجا اور پوچھا کہ تم کس کے کہنے پر (جہاد میں) نکلی ہو ؟ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس سوال میں غصہ محسوس کیا تو ہم نے کہا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم (جہاد میں) نکلی ہیں اور ہمارے پاس دوائیں بھی ہیں جن کے ذریعہ ہم علاج کریں گی۔ اور ہم تیر پکڑائیں گی اور ستو پلائیں گی اور ہم وہ شعر کہیں گی۔ جن کے ذریعہ سے ہم راہ خدا میں (مجاہدین کی) مدد کریں گی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ پھر تم (یہیں) رہو۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیبر کی جنگ میں فتح نصیب فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کو جس طرح حصہ دیا، اسی طرح ہمیں بھی حصہ دیا۔
حدیث نمبر: 39657
٣٩٦٥٧ - حدثنا حفص بن غياث عن محمد بن (زيد) (١) قال: حدثني عمير مولى آبي اللحم قال: شهدت (خيبر) (٢) وأنا عبد مملوك، فلما فتحوها أعطاني رسول اللَّه ﷺ سيفا فقال: "تقلد هذا"، وأعطاني من (خُرْثيّ) (٣) المتاع، ولم ⦗٢٠⦘ يضرب لي بسهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر مولیٰ ابی اللحم روایت کرتے ہیں کہ میں خیبر کے جہاد میں شریک تھا اور میں ایک مملوکہ غلام تھا۔ جب صحابہ کرام نے خیبر کو فتح کرلیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک تلوار عطا فرمائی۔ اور ارشاد فرمایا۔ یہ تلوار لٹکا لو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے غنیمت میں سے عطیہ دیا لیکن میرا (پورا) حصہ نہیں نکالا۔
حدیث نمبر: 39658
٣٩٦٥٨ - حدثنا حفص بن غياث عن (بريد) (١) بن عبد اللَّه عن أبي بردة عن أبي موسى قال: قدمنا على (النبي) (٢) ﷺ بعد فتح خيبر بثلاث، فقسم لنا ولم يقسم لأحد لم يشهد الفتح غيرنا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں کہ ہم خیبر کے فتح ہونے کے تین (دن) بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارا بھی تقسیم میں حصہ رکھا۔ ہمارے سوا جو لوگ اس فتح میں شریک نہیں ہوئے تھے ان میں سے کسی کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حصہ نہیں دیا۔
حدیث نمبر: 39659
٣٩٦٥٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) هشام عن ابن سيرين عن أنس ابن مالك قال: لما كان يوم خيبر ذبح الناس الحمر فأغلوا بها القدور، فأمر رسول اللَّه ﷺ أبا طلحة فنادى: إن اللَّه (ورسوله) (٢) (ينهيانكم) (٣) عن لحوم الحمر الأهلية فإنها رجس، فكفئت القدور (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے دن لوگوں نے گدھوں کو ذبح کیا اور ان کو ہانڈیوں میں ڈال کر جوش دیا جا رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو طلحہ کو حکم دیا اور انہوں نے یہ منادی کی۔ ” بیشک اللہ اور اس کے رسول نے تمہیں پالتو گدھوں کے گوشت سے منع کردیا ہے۔ کیونکہ یہ نجس ہیں۔ “ پس (یہ سنتے ہی) ہانڈیاں الٹا دی گئیں۔
حدیث نمبر: 39660
٣٩٦٦٠ - حدثنا أبو داود عن شعبة عن حميد بن هلال عن عبد اللَّه بن (مغفل) (١) قال: سمعته يقول: دلي جراب من شحم يوم خيبر، قال: (فالتزمته) (٢) ⦗٢١⦘ وقلت: هذا لا أعطي أحدا منه شيئا، قال: فالتفت فإذا النبي ﷺ يتبسم، فاستحييت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ غزوہ خیبر کے دن مجھے چربی کے ایک تھیلے کے بارے میں بتایا گیا عبداللہ کہتے ہیں کہ میں اس سے چمٹ گیا اور میں نے کہا۔ میں اس میں سے کسی کو کچھ بھی نہیں دوں گا۔ عبد اللہ کہتے ہیں۔ پھر میں نے مڑ کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے مسکرا رہے تھے۔ مجھے (اس پر) بہت شرمندگی ہوئی۔
حدیث نمبر: 39661
٣٩٦٦١ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا محمد بن إسحاق عن عبد اللَّه بن ضمرة الفزاري عن عبد اللَّه بن أبي سليط عن أبيه أبي سليط -وكان بدريا- قال: لقد (أتى) (١) نهي رسول اللَّه ﷺ عن أكل الحمر وإن القدور لتغلي بها، قال: فكفأناها على وجوهها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی سلیط، اپنے والد ابی سلیط سے روایت کرتے ہیں … اور ان کے والد بدری صحابی ہیں … یہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے پالتو گدھے کے کھانے کے ممانعت اس حال میں (ہم تک) پہنچی جبکہ ہانڈیوں میں یہی گوشت ابل رہا تھا… ابی سلیط کہتے ہیں … پس ہم نے ہانڈیوں کو اوندھے منہ گرا دیا۔
حدیث نمبر: 39662
٣٩٦٦٢ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد (بن) (١) جابر قال: حدثنا القاسم ومكحول عن أبي أمامة أن رسول اللَّه ﷺ نهى يوم خيبر عن أكل الحمار الأهلي، وعن كل ذي ناب من السباع، (وأن توطأ) (٢) الحبالى حتى (يضعن) (٣) وعن أن (تباع) (٤) السهام حتى تقسم، وأن تباع الثمرة حتى يبدو صلاحها، ولعن يومئذ الواصلة والموصولة والواشمة والموشومة (والخامشة) (٥) وجهها والشاقة جيبها (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ خیبر کے دن پالتو گدھے کے کھانے سے منع کیا اور ہر کچلی والے درندے کے کھانے سے منع کیا۔ اور اس بات سے منع کیا کہ حاملہ عورت سے وضع حمل سے قبل وطی کی جائے اور مال غنیمت کے حصہ کے تقسیم ہونے سے قبل بیچنے سے منع کیا ۔ اور پھل کو اس کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے بیچنے سے منع کیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن دوسری عورت کے بال لگانے والی اور لگوانے والی عورت پر لعنت فرمائی اور اسی طرح گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی اور اپنا چہرہ نوچنے والی پر لعنت فرمائی اور اپنا گریبان چاک کرنے والے پر بھی لعنت فرمائی۔
حدیث نمبر: 39663
٣٩٦٦٣ - حدثنا هاشم بن القاسم قال: حدثنا عكرمة بن عمار عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن جابر بن عبد اللَّه قال: لما كان يوم خيبر أصاب الناس مجاعة وأخذوا الحمر الأنسية فذبحوها وملأوا منها القدور، فبلغ ذلك نبي اللَّه ﷺ قال جابر: فأمرنا رسول اللَّه ﷺ (فكفأنا) (١) القدور، وقال: "إن اللَّه سيأتيكم برزق (هو (أحل) (٢) من ذا وأطيب) (٣) "، فكفأنا القدور يومئذ وهي تغلي، فحرم رسول اللَّه ﷺ يومئذ لحوم الحمر الأنسية ولحوم البغال، وكلَّ ذي ناب من السباع، وكل ذي مخلب من الطير، وحرم المجثمة والخلسة والنهبة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ جب جنگ خیبر کا دن تھا تو لوگوں کو (شدید) بھوک نے آلیا۔ لوگوں نے پالتو گدھوں کو پکڑا اور انہیں ذبح کر کے ان کے گوشت سے ہانڈیوں کو بھر دیا۔ یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی تو حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا پس ہم نے ہانڈیوں کو الٹ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ عنقریب تمہیں ایسا رزق دے گا جو اس سے زیادہ حلال اور طیب ہوگا۔ پس ہم نے ان ہانڈیوں کو اس حال میں الٹ دیا جبکہ وہ جوش دے رہی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن پالتو گدھوں اور خچروں کے گوشت کو حرام قرار دیا اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچلی والے ہر درندے کو حرام قرار دیا اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے کو حرام قرار دیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجثمہ (وہ بکری جس کو پتھر مار مار کر ہلاک کیا جائے) ، جھپٹی ہوئی چیز اور لوٹی ہوئی چیز کو حرام قرار دیا۔
حدیث نمبر: 39664
٣٩٦٦٤ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) قال: حدثنا نعيم بن (حكيم) (٢) عن أبي مريم عن علي قال: سار رسول اللَّه ﷺ إلى خيبر، فلما أتاها بعث عمر ومعه الناس إلى (مدينتهم) (٣) (أو) (٤) إلى قصرهم، فقاتلوهم فلم يلبثوا أن انهزم عمر وأصحابه، (فجاء) (٥) (يجبنهم) (٦) ويجبنونه، فساء ذلك رسولَ اللَّه ﷺ فقال: "لأبعثن إليهم رجلًا يحب اللَّه ورسوله ويحبه اللَّه ورسوله، يقاتلهم حتى يفتح اللَّه له ليس بفرار"، ⦗٢٣⦘ فتطاول الناس لها، (ومدوا) (٧) أعناقهم يرونه أنفسهم رجاء ما قال، (٨) فمكث ساعة ثم قال: "أين علي؟ " فقالوا: هو أرمد، فقال: "ادعوه لي"، فلما أتيته فتح عيني ثم تفل (فيهما) (٩)، ثم أعطاني اللواء فانطلقت به سعيا خشية أن يحدث رسول اللَّه ﷺ (١٠) فيهم حدثًا أو فِيّ، حتى أتيتهم (فقاتلتهم) (١١) فبرز مرحب يرتجز، وبرزت له أرتجز كما يرتجز حتى التقينا، فقتله اللَّه بيدي، وانهزم أصحابه فتحصنوا وأغلقوا الباب، (فأتينا الباب) (١٢) فلم أزل أعالجه حتى فتحه اللَّه (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کی طرف سفر فرمایا پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر میں پہنچ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر اور ان کے ہمراہ کچھ لوگوں کو اہل خیبر کے شہر یا قلعہ کی طرف روانہ فرمایا۔ انہوں نے (جا کر) ان کے ساتھ لڑائی کی ۔ لیکن کچھ ہی دیر میں یہ مسلمانوں کا گروہ … حضرت عمر اور ان کے ساتھی … پسپا ہوگیا۔ پس حضرت عمر ، اپنے ساتھیوں کو اور ان کے ساتھی حضرت عمر کو بزدلی کا طعنہ دیتے ہوئے ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں) واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات ناگوار گزری اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ” اب میں ضرور یہود کی طرف ایسا آدمی بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور اللہ اور اس کے رسول بھی اس سے محبت کرتے ہوں گے۔ وہ ان کے ساتھ لڑتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسی کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائیں گے۔ وہ آدمی بھاگنے والا نہیں ہوگا۔ “ (یہ بات سن کر) بہت سے لوگ اس کے امیدوار بن گئے اور اپنی گردنیں دراز کرنے لگے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہے ہوئے کو اپنے بارے میں دیکھنے کے منتظر ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے پھر ارشاد فرمایا : علی رضی اللہ عنہ کہاں ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا۔ وہ تو آشوب چشم میں مبتلا ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کو میرے پاس بلاؤ۔ پھر جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری آنکھیں کھولیں اور ان میں اپنا لعاب مبارک ڈالا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جھنڈا عطا فرمایا۔ اور میں اس جھنڈے کو لے کر دوڑتا ہوا چلا کہ مبادا میرے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں کوئی خیال نہ آجائے یا کسی اور کے بارے میں کوئی خیال نہ آجائے۔ یہاں تک کہ میں دشمنوں کے پاس پہنچ گیا اور میں نے ان کے ساتھ قتال کیا۔ مرحب یہودی رجزیہ اشعار پڑھتا ہوا مبارزت کے لئے آیا تو میں بھی اس کے جواب میں رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے مبارزت کے لئے باہر نکلا پھر ہماری باہم مڈبھیڑ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو میرے ہاتھ سے قتل کروا دیا۔ اور اس کے ساتھی پسپا ہوگئے اور قلعہ بند ہوگئے انہوں نے دروازہ بند کرلیا۔ ہم دروازہ پر پہنچے پس میں نے مسلسل دروازہ پر ضرب لگائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کھول دیا۔
حدیث نمبر: 39665
٣٩٦٦٥ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: حدثنا أبو منين عن أبي حازم عن أبي هريرة قال: قال نبي اللَّه ﷺ: "لأدفعن اليوم الراية التي رجل يحبه اللَّه ورسوله"، فتطاول (القوم) (١) فقال: "أين علي؟ " فقالوا: يشتكي (عينه) (٢)، فدعاه فبزق في كفيه ومسح بهما عين علي، ثم دفع إليه الراية ففتح اللَّه عليه يومئذ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آج کے دن میں ایک ایسے آدمی کے ہاتھ میں جھنڈا دوں گا کہ جس سے اللہ اور اس کے رسول محبت کرتے ہیں۔ اس پر لوگوں نے اوپر اوپر اٹھ کر دیکھنا شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ علی رضی اللہ عنہ کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا : ان کی آنکھ میں شکایت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیوں پر تھوکا اور ان کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھ پر پھیرا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا حوالہ کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسی دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائی۔
حدیث نمبر: 39666
٣٩٦٦٦ - حدثنا ابن إدريس عن مالك بن أنس عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: سمعت عمر يقول: لولا أن يُترك آخر الناس لا شيء لهم ما افتتح المسلمون قرية من قرى الكفار إلا قسمتها بينهم سهمانا، كما قسم رسول اللَّه ﷺ خيبر سهمانا، ولكني أردت أن تكون (جرية) (١) تجري على المسلمين، وكرهت أن يترك آخر الناس لا شيء (لهم) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ اگر یہ ضابطہ نہ ہوتا کہ لشکر کے آخری حصہ کو کچھ نہ ملے تو مسلمان کافروں کی جو بستی بھی فتح کرتے میں اسے مسلمانوں کے درمیان حصوں میں تقسیم کردیتا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کو مسلمانوں میں حصوں میں تقسیم فرما دیا۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ ایک اصول مسلمانوں میں چلتا رہے۔ اور میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ بعد کے لوگوں کو کچھ نہ دیا جائے۔
حدیث نمبر: 39667
٣٩٦٦٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس قال: سبى رجل امرأة يوم خيبر، فحملها خلفه فنازعته قائمَ سيفه، فقتلها فأبصرها رسول اللَّه ﷺ فقال: "من قتل هذه؟ " فأخبروه، فنهى عن قتل النساء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے خیبر کے دن ایک عورت کو قید کیا اور اس کو اپنے پیچھے سوار کرلیا۔ اس عورت نے اس آدمی کی تلوار کے قبضہ پر جھگڑا کیا تو اس آدمی نے اس عورت کو قتل کردیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو (مقتول) دیکھا تو ارشاد فرمایا۔ اس عورت کو کس نے قتل کیا ہے ؟ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کے قتل کرنے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 39668
٣٩٦٦٨ - حدثنا عبد الرحيم عن ابن إسحاق عن الزهري عن عبد اللَّه بن كعب ابن مالك أن رسول اللَّه ﷺ نهى النفر الذين (بعث) (١) إلى ابن أبي الحقيق بخيبر ليقتلوه، فنهاهم عن قتل النساء والولدان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لشکر کو جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن ابی الحقیق کو خیبر میں قتل کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ عورتوں اور بچوں کو قتل کرے۔