حدیث نمبر: 39633
٣٩٦٣٣ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن شيبان عن يحيى بن أبي كثير عن (سعيد بن) (٢) أبي سعيد مولى المَهْري أن أبا سعيد أخبره أن رسول اللَّه ﷺ قال لهم في غزوة غزاها بني لحيان: "لينبعث من كل رجلين رجل (والأجر) (٣) بينهما" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو بنی لحیان کے ساتھ کئے گئے غزوہ میں ارشاد فرمایا۔ تم میں سے ہر دو آدمیوں میں سے ایک نکل جائے۔ اور اجر ان دونوں کو ملے گا۔
حدیث نمبر: 39634
٣٩٦٣٤ - حدثنا جعفر بن عون قال: أخبرنا إبراهيم بن إسماعيل الأنصاري عن الزهري قال: أخبرني عمرو أو عمر بن أَسِيد عن أبي هريرة أن رسول اللَّه ﷺ بعث عشرة رهط سرية عينا، وأمر (عليهم) (١) عاصم بن (ثابت) (٢)، (فخرجوا) (٣) حتى إذا كانوا بالهدة ذكروا لحيٍّ من هذيل يقال لهم: بنو لحيان، فبعث إليهم مائة رجل راميًا، فوجدوا مأكلهم حيثما أكلوا التمر، (فقالوا) (٤): (هذا) (٥) نوى يثرب، ثم (اتبعوا) (٦) آثارهم حتى إذا (أحس) (٧) بهم عاصم (وأصحابه) (٨) لجاوا إلى ⦗٦⦘ جبل، فأحاط بهم الآخرون، فاستنزلوهم وأعطوهم العهد، فقال عاصم: واللَّه لا أنزل على عهد كافر، اللهم (أخبر) (٩) نبيك عنا، ونزل إليه ابن دثنة (البياضي) (١٠) (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس افراد پر مشتمل ایک جاسوس سریہ روانہ فرمایا اور ان پر عاصم بن ثابت کو امیر مقرر فرمایا۔ پس یہ لوگ نکلے یہاں تک کہ جب یہ لوگ مقام ہدہ میں تھے تو (ان کے بارے میں) ہذیل کی ایک شاخ بنو لحیان سے ذکر کیا گیا تو انہوں نے ان کی طرف ایک سو تیر انداز مرد بھیجے۔ ان تیر اندازوں نے ان کے کھانے کے مقام کو … جہاں انہوں نے کھجوریں کھائی تھیں… دیکھا تو بولے، یہ تو یثرب کی (کھجوروں کی) گٹھلیاں ہیں۔ پھر وہ لوگ ان کے نشانات قدم پر چلے یہاں تک کہ جب عاصم اور ان کے ساتھیوں کو ان کے آنے کا احساس ہوا تو انہوں نے ایک پہاڑ کی طرف پناہ پکڑی۔ اور دوسرے لوگوں (تیر اندازوں) نے ان کا احاطہ کرلیا اور ان سے نیچے اترنے کو کہا۔ اور انہیں عہد (امان) دیا۔ تو حضرت عاصم نے فرمایا : میں کسی کافر کے عہد (امان) پر نیچے نہیں اتروں گا۔ اے اللہ ! تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے بارے میں خبر پہنچا دے اور ابن دثنہ بیاظی اس کی طرف اتر گیا۔