حدیث نمبر: 39608
٣٩٦٠٨ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا غندر عن شعبة قال: سمعت قتادة يحدث عن أنس أنه قال: في هذه الآية: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ [الفتح: ١] قال: الحديبية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے آیت مبارکہ {إنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا } کے بارے میں روایت ہے کہ اس سے مراد حدیبیہ ہے۔
حدیث نمبر: 39609
٣٩٦٠٩ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام عن أبيه قال: خرج رسول اللَّه ﷺ إلى الحديبية -وكانت الحديبية في شوال- قال: فخرج رسول اللَّه ﷺ حتى إذا كان بعسفان لقيه رجل من بني كعب فقال: يا رسول اللَّه، إنا تركنا (قريشا) (١) وقد جمعت (لك) (٢) أحابيشَها تطعمها الخزير، [يريدون أن يصدوك عن البيت، فخرج رسول اللَّه ﷺ حتى إذا تبرز (من) (٣) عسفان لقيهم خالد بن الوليد طليعة لقريش، فاستقبلهم على الطريق فقال رسول اللَّه ﷺ: "هلم ههنا"، فأخذ بين سروعتين -يعني شجرتين- ومال عن سنن الطريق حتى نزل الغميم، فلما نزل الغميم خطب الناس فحمد اللَّه وأثنى عليه بما هو أهله، ثم قال: "أما بعد فإن قريشا قد جمعت لكم أحابيشها (تطعمها) (٤) الخزير] (٥) يريدون أن يصدونا عن البيت، فأشيروا علي بما ترون أن تعمدوا إلى الرأس، -يعني أهل مكة، أم ترون أن تعمدوا إلى الذين أعانوهم (فنخالفهم) (٦) إلى نسائهم وصبيانهم، فإن جلسوا جلسوا (موتورين) (٧) مهزومين، وإن طلبونا (طلبونا) (٨) (طلبا) (٩) (متداريا) (١٠) ضعيفا، (فأخزاهم) (١١) اللَّه"، ⦗٥١٥⦘ فقال: أبو بكر يا رسول اللَّه (١٢) أن (تعمد) (١٣) إلى الرأس (فإن) (١٤) اللَّه معينك، وإن اللَّه ناصرك، وإن اللَّه مظهرك، قال المقداد بن الأسود وهو في رحله: إنا (يا رسول اللَّه) (١٥) لا نقول لك كما قالت: بنو إسرائيل لنبيها: ﴿(اذْهَبْ) (١٦) أنت وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ﴾ [المائدة: ٢٤] ولكن اذهب أنت (وربك فقاتلا، إنا معكم مقاتلون، فخرج رسول اللَّه ﷺ حتى إذا غشي الحرم ودخل أنصابه بركت ناقته) (١٧) (الجدعاء) (١٨) فقالوا: خلأت، فقال: "واللَّه ما خلأت، وما الخلأ بعادتها، ولكن حبسها (١٩) حابس الفيل عن مكة، لا تدعوني قريش إلى تعظيم المحارم فيسبقوني إليه، هلم هاهنا" -لأصحابه فأخذ ذات اليمين في ثنية تدعى ذات الحنظل حتى هبط على الحديبية، فلما نزل استقى الناسُ من البئر، (فنزفت) (٢٠) ولم تقم بهم، فشكوا ذلك إليه فأعطاهم سهما من كنانته فقال: "اغرزوه في البئر"، فغرزوه في البئر فجاشت وطما ماؤها حتى ضرب الناس (بالعطن) (٢١)، فلما سمعت به قريش أرسلوا إليه أخا بني حليس وهو من قوم يعظمون الهدي، (فقال: "ابعثوا الهدي") (٢٢)، فلما رأى الهدي لم ⦗٥١٦⦘ يكلمهم كلمة، وانصرف من مكانه إلى قريش، فقال: (يا قوم) (٢٣) القلائد والبدن والهدي، فحذرهم وعظم عليهم، فسبوه وتجهموه وقالوا: إنما أنت أعرابي جلف لا نعجب منك، ولكنا نعجب من أنفسنا إذ أرسلناك، اجلس ثم قالوا لعروة بن مسعود: انطلق إلى محمد (٢٤) ولا نؤتين من ورائك، فخرج عروة حتى أتاه فقال: يا محمد، ما رأيت رجلا من العرب سار إلى مثل ما سرت (إليه) (٢٥) (سرت) (٢٦) (بأوباش) (٢٧) الناس (إلى) (٢٨) عترتك وبيضتك التي (تفلقت) (٢٩) عنك لتبيد (خضراءها) (٣٠)، تعلم أني جئتك من (٣١) كعب بن لؤي وعامر بن لؤي، قد لبسوا جلود النمور عند العوذ (المطافيل) (٣٢) يقسمون باللَّه: لا تعرض لهم خطبة إلا عرضوا لك (أمرّ) (٣٣) (منها) (٣٤)، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إنا لم نأت لقتال (ولكنا) (٣٥) أردنا أن نقضي عمرتنا وننحر هدينا، فهل لك أن تأتي قومك، فإنهم أهل قتب، وإن الحرب قد (أخافتهم) (٣٦)، وإنه لا خير لهم أن تأكل الحرب منهم إلا ما قد أكلت، ⦗٥١٧⦘ فيخلون بيني ويين البيت، فنقضي عمرتنا وننحر هدينا، ويجعلون بيني وبينهم مدة، (نزيل) (٣٧) فيها (٣٨) (نساءهم) (٣٩) ويأمن فيها سريهم، ويخلون بيني وبين الناس، فإني -واللَّه- لأقاتلن على هذا الأمر الأحمر والأسود حتى يظهرني اللَّه (٤٠) أو (تنفرد) (٤١) سالفتي، فإن أصابني الناس فذاك الذي (يريدون) (٤٢)، وإن أظهرني اللَّه عليهم اختاروا، إما قاتلوا معدين، وإما دخلوا في السلم وافرين"، قال: فرجع (عروة إلى قريش) (٤٣) فقال: تعلمن -واللَّه- ما على الأرض قوم أحب (إلي) (٤٤) (منكم) (٤٥)، إنكم لأخواني وأحب الناس إلي، ولقد استنصرت لكم الناس في المجامع، فلما لم (ينصروكم) (٤٦) (أتيتكم) (٤٧) بأهلي حتى نزلت (معكم) (٤٨) إرادة أن (أواسيكم) (٤٩)، واللَّه ما أحب الحياة بعدكم، تعلمن أن الرجل قد عرض (نصفا) (٥٠) فاقبلوه، تعلمن أني قد قدمت على الملوك، ورأيت (العظماء) (٥١) ⦗٥١٨⦘ (فأقسم) (٥٢) باللَّه (إن) (٥٣) رأيت ملكا ولا عظيما أعظم في أصحابه منه، (إن) (٥٤) يتكلم منهم رجل حتى يستأذنه، فإن هو أذن له تكلم، وإن لم يأذن له سكت، ثم إنه (ليتوضأ) (٥٥) فيبتدرون وضوءه (يصبُّونه) (٥٦) على رؤوسهم، يتخذونه (حنانا) (٥٧)، فلما سمعوا مقالته أرسلوا إليه (سهيل بن عمرو) (٥٨) (ومكرز) (٥٩) بن حفص (فقالوا) (٦٠): انطلقوا إلى محمد فإن أعطاكم ما ذكر عروة فقاضياه على أن يرجع عامه (هذا) (٦١) عنا، ولا يخلص إلى البيت، حتى يسمعَ من يسمعُ (بمسيره) (٦٢) من العرب أنا قد صددناه، فخرج سهيل ومكرز حتى (أتياه) (٦٣) وذكرا ذلك له، (فأعطاهما) (٦٤) الذي سألا فقال: "اكتبوا: بسم اللَّه الرحمن الرحيم"، قالوا: واللَّه لا نكتب هذا أبدا، قال: "فكيف؟ " قالوا: نكتب باسمك اللهم، قال: "وهذه فاكتبوها"، فكتبوها، ثم قال: "اكتب هذا ما (قاضى) (٦٥) عليه ⦗٥١٩⦘ محمد رسول اللَّه ﷺ (٦٦) "، فقالوا: واللَّه، ما نختلف (إلا) (٦٧) في هذا، فقال: "ما أكتب؟ " فقالوا: (انتسب) (٦٨)، (فاكتب) (٦٩) محمد بن عبد اللَّه (قال) (٧٠): " (و) (٧١) هذه حسنة اكتبوها"، فكتبوها، وكان في شرطهم أن بيننا (للعيبة) (٧٢) المكفوفة، وأنه لا أغلا (ولا) (٧٣) (أسلال) (٧٤) -قال أبو أسامة: الأغلال: الدروع، والأسلال: السيوف، ويعني بالعيبة الكفوفة أصحابه يكفهم عنهم-، وأنه من أتاكم منا رددتموه علينا، ومن أتانا منكم لم نردده عليكم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ومن دخل معي فله مثل شرطي"، فقالت قريش: من دخل معنا فهو (منا له) (٧٥) مثل شرطنا، فقالت بنو كعب: نحن معك يا رسول اللَّه ﷺ (٧٦)، وقالت بنو بكر: نحن مع قريش، فبينما هم في الكتاب إذ جاء أبو جندل يرسف في القيود، فقال المسلمون: هذا أبو جندل، فقال رسول اللَّه ﷺ: "هو لي"، وقال سهيل: هو لي، وقال سهيل: اقرأ الكتاب، فإذا هو لسهيل، فقال أبو جندل: يا رسول اللَّه، يا معشر المسلمين، أرد إلى المشركين؟ فقال (عمر) (٧٧): (يا أبا) (٧٨) جندل هذا السيف فإنما هو رجل ⦗٥٢٠⦘ ورجل، فقال سهيل: أعنت علي -يا عمر- فقال رسول اللَّه ﷺ لسهيل: "هبه لي"، قال: لا، قال: " (فأجره) (٧٩) لي"، قال: لا، قال مكرز: قد أجرته لك يا محمد فلم (يُهج) (٨٠) (٨١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیبیہ کی طرف چلے۔ واقعہ حدیبیہ ماہ شوال میں پیش آیا تھا۔ راوی کہتے ہیں : پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل پڑے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عسفان مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنی کعب کا ایک آدمی ملا اور اس نے کہا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم نے قریش کو اس حالت میں چھوڑا ہے کہ انہوں نے آپ کے لئے اپنے مختلف النسل لوگوں کو جمع کیا ہے اور نہیں خزیر (قیمہ اور آٹا کا مرکب) کھلاتے ہیں۔ ان کا ارادہ یہ ہے کہ وہ آپ کو بیت اللہ سے روک دیں گے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکل پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عسفان مقام سے باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قریش کے جاسوس خالد بن ولید ملے اور راستہ میں ان کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آمنا سامنا ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (صحابہ کو) فرمایا : ادھر آ جاؤ ! پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو درختوں کے درمیان ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہموار راستہ سے ہٹ گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمیم پہنچے۔ ٢۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمیم میں فروکش ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطاب فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی اور اللہ تعالیٰ کے شایان شان، ثنا بیان کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اما بعد ! بلاشبہ قریش نے تمہارے لئے اپنے متفرق گروہوں کو جمع کیا ہے اور اس کو خزیر (خاص مرکب غذا) کھلانا شروع کیا ہے۔ اور ان کا ارادہ یہ ہے کہ وہ ہمیں بیت اللہ سے روک ڈالیں۔ تو تم مجھے اپنی رائے سے مطلع کرو ؟ تم لوگ سردار (یعنی اہل مکہ) کی طرف (مقابلہ کے لئے) جانا چاہتے ہو یا تم لوگ ان کے معاونین کی طرف (مقابلہ کے لئے) جانا چاہتے ہو تاکہ ہم ان کو واپس ان کی عورتوں اور بچوں کے پاس پہنچا دیں۔ پس اگر وہ بیٹھ جائیں گے تو وہ اس حالت میں بیٹھیں گے کہ وہ بےبس اور شکست خوردہ ہوں گے۔ اور اگر وہ ہم سے (مقابلہ کا) مطالبہ کریں گے تو وہ ہم سے ایک کمزور اور نرم مطالبہ کریں گے پھر اللہ تعالیٰ انہیں رسوا کر دے گا۔ ٣۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہماری رائے تو یہ ہے کہ ہم سردار کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معین ہیں اور آپ کے مددگار ہیں اور آپ کو غالب کرنے والے ہیں۔ حضرت مقداد بن الاسود نے فرمایا… جبکہ وہ اپنے کجاوہ میں تھے… بخدا ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم آپ سے ایسی بات نہیں کہیں گے جیسا کہ بنی اسرائیل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہی تھی کہ { اذْہَبْ أَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلاَ ، إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ } بلکہ ہم تو کہیں گے۔ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑے اور ہم آپ کے ہمراہ لڑیں گے۔ ٤۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (وہاں سے) نکلے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرم کے قریب پہنچے اور اس کی حدود میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدعاء اونٹنی بیٹھ گئی۔ لوگوں نے کہا۔ یہ اونٹنی اڑ گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خدا کی قسم ! اونٹنی اڑی نہیں ہے اور نہ ہی اڑنا اس کی عادت ہے بلکہ اس کو تو اس ذات نے روکا ہے جس نے ہاتھیوں کو مکہ سے روکا تھا۔ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا) (اگر) قریش مجھے تعظیم محارم کے لئے دعوت دیں گے تو وہ اس عمل میں مجھ پر سبقت نہیں پاسکیں گے ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا) ادھر آؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذات الحنظل نامی چوٹی کے دائیں جانب کا راستہ پکڑ لیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیبیہ پر پہنچے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں پر پڑاؤ ڈالا تو لوگوں نے ایک کنواں سے پانی لینا شروع کیا۔ ابھی تمام لوگ سیراب نہیں ہوئے تھے کہ کنواں خالی ہوگیا ۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس بات کی شکایت کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو ترکش میں سے ایک تیر نکال کردیا اور فرمایا : اس تیر کو کنویں میں گاڑھ دو ۔ لوگوں نے اس تیر کو کنویں میں گاڑا تو کنواں پانی سے ابلنے لگا اور اس کا پانی اوپر آگیا یہاں تک کہ لوگ خوب سیراب ہوگئے۔ ٥۔ جب قریش کو اس بات کی خبر ہوئی تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بنو حلیس کے بھائی کو بھیجا… یہ اس قوم کا فرد تھا جن کے ہاں ہدی کی تعظیم ہوتی تھی … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہدی کو کھڑا کردو۔ پس جب اس نے ہدی (کے جانور کو
حدیث نمبر: 39610
٣٩٦١٠ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن عروة ابن الزبير عن مروان أن (رسول) (١) اللَّه ﷺ خرج عام صدوه، فلما انتهى إلى الحديبية اضطرب في الحل، وكان مصلاه في الحرم، فلما كتبوا القضية وفرغوا منها دخل (على) (٢) (الناس) (٣) من ذلك أمر عظيم قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "يا أيها الناس انحروا، وأحلقوا، وأحلوا"، فما قام رجل من الناس، ثم أعادها فما قام أحد من الناس، فدخل على أم سلمة فقال: "ما رأيتِ ما دخل على الناس"، فقالت: يا رسول اللَّه اذهب فانحر هديك واحلق (وأحل) (٤)، فإن الناس سيحلون فنحر رسول اللَّه ﷺ وحلق وأحل (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مروان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم … جس سال مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روکا… اس سال چلے پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیبیہ تک پہنچے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حِل میں ہی مجبوراً روک دیا گیا۔ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ حرم میں نماز کا تھا۔ پس جب لوگوں نے فیصلہ تحریر کردیا اور اس تحریر سے فارغ ہوگئے تو لوگ اس فیصلہ سے بہت دل برداشتہ ہوئے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! نحر کرو اور حلق کرواؤ اور حلال ہو جاؤ۔ کوئی آدمی بھی کھڑا نہ ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات دوبارہ ارشاد فرمائی۔ لیکن پھر کوئی آدمی نہ کھڑا ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ام سلمہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : لوگوں کی جو حالت ہوچکی ہے اس میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ جا کر اپنی ہدی کو نحر کریں اور حلق کروا کر حلال ہوجائیں۔ لوگ بھی حلال ہوجائیں گے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نحر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلق کروا کر حلال ہوگئے۔
حدیث نمبر: 39611
٣٩٦١١ - حدثنا أبو أسامة عن زكريا عن أبي إسحاق عن البراء قال: لما (أحصر) (١) رسول اللَّه ﷺ عن البيت صالحه أهل مكة على أن يدخلها فيقيم بها ثلاثًا ولا يدخلها إلا بجلُبَّان السلاح: (السيف) (٢) وقرابه، ولا يخرج معه (أحد) (٣) من أهلها، ولا يمنع أحدا أن يمكث بها ممن كان معه، فقال لعلي: "اكتب الشرط بيننا بسم اللَّه الرحمن الرحيم هذا ما (قاضى) (٤) عليه محمد رسول اللَّه ﷺ، فقال المشركون (٥): لو نعلم أنك رسول اللَّه تابعناك، ولكن اكتب محمد بن عبد اللَّه قال: فأمر عليا أن (يمحوها) (٦)، فقال علي: لا واللَّه لا (أمحوها) (٧)، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أرني مكانها"، فأراه مكانها فمحاها، وكتب: ابن عبد اللَّه، فأقام فيها ثلاثة أيام، فلما كان يوم الثالث قالوا لعلي: هذا آخر يوم من شرط صاحبك، فمره فليخرج، فحدثه بذلك، (فقال: "نعم") (٨)، فخرج (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ سے روک دیا گیا (تو اس وقت) اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات پر مصالحت کرلی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (آئندہ سال) مکہ میں داخل ہوں گے اور وہاں پر تین دن قیام کریں گے اور مکہ میں صرف اسلحہ کے تھیلے کو ، جس میں تلوار اور زرہ ہوگی … لے کر آئیں گے اور اہل مکہ میں سے کسی کو لے کر نہیں جائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جو لوگ ہوں گے ان میں سے کسی کو یہاں ٹھہرنے سے آپ منع نہیں کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” ہمارے درمیان معاہدہ تحریر کرو۔ بسم اللّٰہ الرحمان الرحیم۔ یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلح کی ہے۔ “ مشرکین کہنے لگے۔ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول ، مانتے تو ہم آپ کے متبع بن جاتے لیکن (چونکہ ہم نہیں مانتے لہٰذا) آپ یوں لکھیں۔ محمد بن عبد اللہ۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ پہلی والی عبارت مٹا دو ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے۔ نہیں ! خدا کی قسم ! میں اس کو نہیں مٹاؤں گا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے وہ جگہ دکھاؤ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ جگہ دکھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جملہ کو مٹا دیا۔ اور (اس کی جگہ) لکھا۔ ابن عبد اللہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اگلے سال) تین دن مکہ میں قیام فرمایا۔ جب تیسرا دن آیا تو مشرکین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا۔ یہ تمہارے ساتھی کی شرط کے مطابق آخری دن ہے پس تم ان سے کہو کہ وہ مکہ سے باہر چلے جائیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر نکل گئے۔
حدیث نمبر: 39612
٣٩٦١٢ - حدثنا (أبو) (١) أسامة عن زكريا عن أبي إسحاق عن البراء قال: نزلنا يوم الحديبية فوجدنا ماءها قد شربه أوائل الناس، فجلس النبي ﷺ على البئر، ثم ⦗٥٢٢⦘ دعا بدلو منها، فأخذ منه بفية ثم مجه فيها ودعا اللَّه، (فكثر) (٢) ماؤها حتى تروى الناس منها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ ہم نے (جب) حدیبیہ کے دن پڑاؤ کیا تو ہم نے اس کے کنویں کو اس حال میں پایا کہ (ہم سے) پہلے والے لوگ اس سے پی چکے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کنویں کے منڈیر پر تشریف فرما ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے ایک ڈول منگوایا اور اس میں سے اپنے منہ مبارک میں پانی لیا اور پھر اس پانی کو دوبارہ ڈول میں کلی کردیا اور اللہ سے دعا کی۔ تو اس کنویں کا پانی اتنا زیادہ ہوگیا کہ سارے لوگ اس سے سیراب ہوگئے۔
حدیث نمبر: 39613
٣٩٦١٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن عطاء قال: خرج النبي ﷺ معتمرا (في ذي القعدة معه المهاجرين والأنصار) (١) حتى أتى الحديبية، (فخرجت) (٢) إليه قريش فردوه عن البيت، حتى كان بينهم كلام (وتنازع) (٣) حتى كاد يكون بينهم قتال، قال: فبايع النبي ﷺ أصحابَه (وعدُتهم) (٤) ألف (و) (٥) خمسمائة تحت الشجرة، وذلك يوم بيعة الرضوان، فقاضاهم النبي ﷺ فقالت قريش: نقاضيك على أن تنحر الهدي مكانه وتحلق وترجع، حتى إذا كان (العام المقبل) (٦) (نخلي) (٧) لك مكة ثلاثة أيام، ففعل، قال: (فخرجوا) (٨) إلى عكاظ فأقاموا فيها ثلاثًا، واشترطوا عليه أن لا (يدخلها) (٩) بسلاح إلا بالسيف، ولا (تخرج) (١٠) بأحد من أهل مكة إن خرج معك، فنحر الهدي مكانه وحلق ⦗٥٢٣⦘ ورجع، حتى إذا كان في قابل (في) (١١) تلك الأيام (دخل) (١٢) مكة، وجاء بالبدن معه، وجاء الناس معه، فدخل المسجد الحرام، فأنزل اللَّه عليه: ﴿لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ﴾ [الفتح: ٢٧]، قال: وأنزل عليه: ﴿الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ﴾ [البقرة: ١٩٤]، فإن قاتلوكم في المسجد الحرام فقاتلوهم، فأحل (١٣) لهم إن (قاتلوه) (١٤) في (المسجد الحرام أن يقاتُلوهم) (١٥)، فأتاه أبو جندل بن سهيل بن عمرو، وكان (موثقا) (١٦) (أوثقه) (١٧) أبوه، (فرده) (١٨) إلى أبيه (١٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالقعدہ میں عمرہ کرنے کے لئے نکلے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مہاجرین و انصار کی ایک جماعت بھی تھی۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر میں پہنچے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قریش کے لوگ آگئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ سے واپس کردیں اس دوران ان کے درمیان سخت گفتگو اور نزاع کھڑا ہوگیا۔ قریب تھا کہ یہ لوگ باہم لڑ پڑتے۔ راوی کہتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے ایک درخت کے نیچے بیعت لی۔ صحابہ کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی۔ یہی بیعت رضوان کا دن کہلاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کے ساتھ مصالحت فرمائی۔ قریش نے کہا۔ ہم آپ کے ساتھ اس شرط پر صلح کرتے ہیں کہ آپ ہدی کے جانور یہیں ذبح کردیں اور حلق کر کے لوٹ جائیں۔ اور جب آئندہ سال آئے گا تو ہم آپ کو تین دن تک مکہ میں رہنے کی اجازت دیں گے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات مان لی ۔ راوی کہتے ہیں : پھر لوگ عکاظ کی طرف نکل گئے اور انہوں نے وہاں پر تین دن قیام کیا۔ مشرکین نے یہ بھی شرط رکھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں تلوار کے علاوہ کوئی اسلحہ لے کر داخل نہیں ہوں گے۔ اور اہل مکہ میں سے اگر کوئی آپ کے ساتھ جانا چاہے گا تو آپ اسے لے کر نہیں جائیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہدی کے جانور کو اسی جگہ نحر کردیا اور حلق کروا کر واپس تشریف لے آئے۔ جب آئندہ سال کے یہی ایام آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہمراہ کئی اونٹ لے کر تشریف لائے اور بہت سے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ پس یہ لوگ مسجد حرام میں داخل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ کلمات نازل فرمائے۔ { لَقَدْ صَدَقَ اللَّہُ رَسُولَہُ الرُّؤْیَا بِالْحَقِّ ، لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَائَ اللَّہُ آمِنِینَ } راوی کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل فرمائی۔ { الشَّہْرُ الْحَرَامُ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ ، فَمَنِ اعْتَدَی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَی عَلَیْکُمْ } یعنی اگر وہ تم سے مسجد حرام میں لڑیں تو تم بھی ان سے لڑو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے یہ بات حلال کردی ہے کہ اگر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسجد حرام مں ت لڑیں تو آپ بھی مسجد حرام میں ان سے لڑیں۔ ابو جندل بن سہیل بن عمرو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے جبکہ وہ بندھے ہوئے تھے اور انہیں ان کے والد نے باندھا تھا ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ان کے والد کی طرف رد کردیا۔
حدیث نمبر: 39614
٣٩٦١٤ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس قال: قدم رسول اللَّه ﷺ وأصحابه في الهدنة التي كانت قبل الصلح الذي كان بينه وبينهم، قال: والمشركون عند باب الندوة مما يلي الحِجْر، وقد تحدثوا أن برسول اللَّه ﷺ وأصحابه جهدا وهزلا، فلما استلموا، [قال: قال لهم رسول اللَّه ⦗٥٢٤⦘ ﷺ: ("إنهم قد تحدثوا أن بكم (جهدا وهُزلا)) (١) (٢)] (٣) (فارملوا) (٤) ثلاثة أشواط حتى يروا أن بكم قوة"، قال: فلما استلموا الحجر رفعوا أرجلهم فرملوا، حتى قال بعضهم لبعض: أليس زعمتم أن بهم (هزلا) (٥)، وهم لا يرضون بالمشي حتى يسعوا سعيا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ، مشرکین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان ہونے والی صلح کے بعد تشریف لائے۔ راوی کہتے ہیں : مشرکین حجر اسود سے متصل باب الندوۃ کے پاس موجود تھے اور باہم یہ گفتگو کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو کمزوری اور لاغری لاحق ہوگئی ہے۔ تو جب صحابہ نے استلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا : یہ لوگ باہم یہ گفتگو کر رہے ہیں کہ تمہیں کمزوری اور لاغری لاحق ہوچکی ہے۔ پس تم تین چکروں میں رمل کرو۔ تاکہ وہ دیکھ لیں کہ تم قوی ہو۔ راوی کہتے ہں ت : جب صحابہ نے استلام کیا تو قدم اٹھاتے ہی انہوں نے رمل شروع کردیا۔ اس پر مشرکین میں سے بعض نے بعض سے کہا۔ تمہارا تو خیال یہ نہیں تھا کہ انہیں کمزوری اور لاغری لاحق ہوچکی ہے۔ جبکہ یہ لوگ تو خالی چلنے پر راضی نہیں ہیں جب تک کہ دوڑ نہ لیں۔
حدیث نمبر: 39615
٣٩٦١٥ - حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا مُجمّع بن يعقوب قال: حدثني أبي عن عمه عبد الرحمن بن يزيد عن مجمع بن (جارية) (١) قال: شهدت الحديبية مع رسول اللَّه ﷺ، فلما انصرفنا عنها إذا الناس يوجفون الأباعر، فقال بعض الناس لبعض: ما للناس؟ فقالوا: أوحي إلى رسول اللَّه ﷺ، قال: فخرجنا نوجف مع الناس حتى وجدنا رسول اللَّه ﷺ (٢) واقفا عند كُرَاع الغميم، فلما اجتمع إليه بعض ما يريد من الناس قرأ عليهم: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ فقال رجل من أصحابه: يا رسول اللَّه أو فتح هو؟ قال: " (أي) (٣) والذي نفسي بيده، (إنه) (٤) لفتح"، قال: فقسمت على أهل الحديبية على ثمانية عشر سهما، وكان الجيش ألفا ⦗٥٢٥⦘ وخمسمائة ثلاثمائة فارس فكان للفارس سهمان (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجمع بن جاریہ سے روایت ہے کہ میں، حدیبیہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ پس جب ہم حدیبیہ سے واپس پلٹے تو لوگوں نے اونٹوں کو تیز رفتار سے بھگانا شروع کیا۔ پھر بعض صحابہ نے بعض سے پوچھا۔ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر ہم بھی لوگوں کے ہمراہ سواریاں دوڑاتے ہوئے نکلے یہاں تک کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کراع غمیم نامی پہاڑ کے پاس کھڑے پایا۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ کے مطلوبہ افراد جمع ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ {إنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا } آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا یہ فتح ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہاں ! قسم اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔ بلاشبہ یہ فتح ہے۔ راوی کہتے ہیں : پس اہل حدیبیہ پر اٹھارہ حصوں میں یہ فتح تقسیم کی گئی ۔ لشکر کی تعداد پندرہ سو تھی۔ اور تین سو (ان میں) گھڑ سوار تھے ۔ اور گھڑ سوار کو دو حصے ملے تھے۔
حدیث نمبر: 39616
٣٩٦١٦ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن موسى بن عبيدة عن إياس بن سلمة عن أبيه قال: خرجنا مع رسول اللَّه ﷺ في غزوة الحديبية فنحر مائة بدنة ونحن سبع عشرة (مائة) (١) ومعهم عدة السلاح والرجال والخيل، وكان في بدنه جمل، فنزل (بالحديبية) (٢) (فصالحته) (٣) قريش على أن هذا الهدي محله حيث حبسناه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن سلمہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک صد جانور نحر کئے۔ ہماری تعداد سترہ سو تھی اور ان کے پاس، اسلحہ ، افراد اور گھوڑوں کی تیاری بھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانوروں میں اونٹ بھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ میں پڑاؤ ڈالا تو قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات پر صلح کرلی کہ ہم نے جہاں پر ہدی کے جانوروں کو روکا ہے وہیں پر ان کو حلال کردیا جائے۔
حدیث نمبر: 39617
٣٩٦١٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: (حدثنا) (١) عبد العزيز بن سياه قال: حدثنا حبيب بن أبي ثابت عن أبي وائل عن (سهل) (٢) بن حنيف قال: لقد كنا مع رسول اللَّه ﷺ لو نرى قتالا لقاتلنا، وذلك في الصلح الذي كان بين رسول اللَّه ﷺ (٣) وبين المشركين، فجاء عمر بن الخطاب فأتى رسولَ اللَّه ﷺ فقال: (يا رسول اللَّه) (٤): ألسنا على حق وهم على باطل؟ قال: "بلى"، قال: أليس قتلانا في الجنة وقتلاهم في النار؟ قال: "بلى"، قال: ففيم نعطي الدنية ونرجع ولما يحكم اللَّه بيننا ⦗٥٢٦⦘ وبينهم؟ قال: ["يا ابن الخطاب، إني رسول اللَّه ولن يضيعني اللَّه أبدًا"، قال: فانطلق عمر ولم يصبر متغيظًا حتى أتى أبا بكر، فقال: يا أبا بكر، ألسنا على حقٍّ وهم على باطلٍ؟ قال: بلى، قال: أليس قتلانا في الجنة وقتلاهم في النار؟ قال: بلى، قال: فعلام نعطي الدنية في ديننا ونرجع ولما يحكم اللَّه بيننا وبينهم قال: يا ابن الخطاب] (٥) إنه رسول اللَّه ولن يضيعه اللَّه أبدًا، قال: فنزل القرآن على رسول اللَّه ﷺ بالفتح، فأرسل إلى عمر فأقرأه إياه، فقال: يا رسول اللَّه، أو فتح هو؟ قال: "نعم"، (فطابت) (٦) نفسه ورجع (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ اگر ہماری رائے قتال کی ہوجاتی تو ہم قتال کرتے ۔ یہ اس صلح کے دوران کی بات ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مشرکین کے درمیان ہوئی تھی۔ حضرت عمر بن خطاب آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا ہم لوگ حق پر نہیں ہیں اور وہ لوگ باطل پر نہیں ہیں ؟ ّ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیوں نہیں ! پھر حضرت عمر نے پوچھا۔ کیا ہمارے مقتولین جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں جائیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیوں نہیں ! حضرت عمر نے عرض کیا۔ پھر ہم ایسی گھٹیا بات کہہ کر کیوں لوٹ رہے ہیں ؟ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خطاب کے بیٹے ! میں اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے ہرگز ضائع نہیں کریں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر حضرت عمر کو صبر نہ آیا اور وہ غصہ کی حالت میں چل دیئے اور حضرت ابوبکر کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ اے ابوبکر ! کیا ہم لوگ حق پر اور وہ لوگ باطل پر نہیں ہیں ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا : کیوں نہیں ! حضرت عمر نے پوچھا۔ کیا ہمارے مقتولین جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں جائیں گے ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا : کیوں نہیں۔ حضرت عمر نے کہا۔ پھر ہم اپنے دین کے متعلق ایسی گھٹیا بات کہہ کر کیوں جا رہے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ابھی تک ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا ؟ حضرت ابوبکر نے کہا۔ خطاب کے بیٹے ! وہ خدا کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو کبھی ضائع نہیں کریں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فتح (کے وعدہ کے) ساتھ قرآن نازل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کی طرف آدمی بھیجا اور (بلا کر) انہیں یہ قرآن پڑھایا۔ حضرت عمر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا یہ فتح ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! اس پر حضرت عمر کا دل خوش ہوگیا اور وہ لوٹ گئے۔
حدیث نمبر: 39618
٣٩٦١٨ - حدثنا عفان قال: حمَّاد بن سلمة عن ثابت عن أنس أن قريشًا صالحوا النبي ﷺ فيهم سهيل بن عمرو، فقال النبي ﷺ لعلي: "اكتب: بسم اللَّه الرحمن الرحيم"، فقال سهيل: أما "بسم اللَّه الرحمن الرحيم"، (فما ندري) (١) ما "بسم اللَّه الرحمن الرحيم"، ولكن (اكتب) (٢) بما نعرف "باسمك اللهم" فقال: "اكتب: من محمد رسول اللَّه (٣) "، قالوا: لو علمنا أنك رسول اللَّه اتبعناك، ولكن اكتب اسمك واسم أبيك، فقال النبي ﷺ: "اكتب: من محمد بن عبد اللَّه"، فاشترطوا على النبي ﷺ أن من جاء منكم لم نرده عليكم، ومن جاءكم (منا) (٤) رددتموه علينا، فقالوا: يا رسول اللَّه أتكتب هذا؟ قال: "نعم، إنه من ذهب منا إليهم فأبعده ⦗٥٢٧⦘ اللَّه، ومن جاءنا منهم سيجعل اللَّه (له) (٥) فرجًا ومخرجًا" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مصالحت کی جبکہ ان (مصالحت کرنے والوں) میں سہیل بن عمر و بھی تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : لکھو ! بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ سہیل نے کہا یہ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ہم نہیں جانتے۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ کیا ہے۔ ہاں وہ بات لکھو جس کو ہم جانتے ہیں ۔ بِاسْمِکَ اللّٰھُمَّ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لکھو ! محمد رسول اللہ کی طرف سے۔ وہ کہنے لگے۔ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول مانتے تو ہم آپ کی اتباع ہی کرلیتے۔ ہاں اپنا اور اپنے والد کا نام لکھو۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ لکھو ! محمد بن عبد اللہ کی طرف سے۔ پھر مشرکین قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ شرط لگائی کہ تم میں سے جو آدمی (ہمارے پاس) آئے گا ہم اس کو تمہیں واپس نہیں کریں گے۔ اور ہم میں سے جو آدمی تمہارے پاس آئے گا تو تم اس کو ہماری طرف واپس کرو گے۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا یہ بات بھی لکھی جائے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! جو آدمی ہم میں سے ان ی طرف جائے گا تو اللہ اس کو دور کر دے گا۔ اور جو ہمارے پاس ان میں سے آئے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے راہ اور مخرج پیدا کر دے گا۔
حدیث نمبر: 39619
٣٩٦١٩ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو سمع جابرا يقول: كنا يوم الحديبية ألفا وأربع مائة، فقال لنا: أنتم اليوم خير أهل الأرض (١). حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن المسور ومروان أن رسول اللَّه ﷺ (عام الحديبية خرج) (٢) في بضع عشرة مائة من أصحابه، فلما كان بذي الحليفة قلد الهدي (وأشعر) (٣) وأحرم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ ہم یوم الحدیبیہ کو چودہ سو کی تعداد میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ارشاد فرمایا : آج کے دن تم لوگ اہل زمین میں سب سے زیادہ بہتر ہو۔
حدیث نمبر: 39620
٣٩٦٢٠ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن موسى بن عبيدة عن إياس (بن سلمة) (١) عن أبيه قال: بعثت قريش سهيل بن عمرو وحويطب بن عبد العزى و (٢) حفص إلى النبي ﷺ ليصالحوه، فلما رآهم رسول اللَّه ﷺ فيهم سهيل، قال: "قد سهل من أمركم، القوم يأتون إليكم (بأرحامهم) (٣)، (وسائلوكم) (٤) الصلح فابعثوا الهدي، وأظهروا بالتلبية، (لعل ذلك يلين قلوبهم"، فلبوا من نواحي العسكر حتى ارتجت أصواتهم بالتلبية) (٥) [قال: فجاؤه فسألوا الصلح. ⦗٥٢٨⦘ قال: فبينما الناس قد توادعوا، وفي المسلمين ناس من المشركين، وفي المشركين ناس من المسلمين] (٦) (ففتك) (٧) أبو سفيان فإذا الوادي يسيل بالرجال والسلاح. قال: قال: (إياس) (٨): قال (سلمة) (٩): (فجئت) (١٠) (بستة) (١١) من المشركين مسلحين أسوقهم، ما يملكون لأنفسهم نفعًا ولا ضرًا، فأتينا بهم النبي ﷺ فلم يسلب ولم يقتل وعفا، قال: فشددنا على ما في أيدي المشركين منا، فما تركنا فيهم رجلا منا إلا استنقذناه، قال: وغلِبنا على من في أيدينا منهم. ثم إن قريشا أتت سهيل بن عمرو (وحويطب) (١٢) بن عبد العزى فولوا صلحهم، وبعث النبي ﷺ عليا وطلحة، فكتب علي بينهم: "بسم اللَّه الرحمن الرحيم هذا ما صالح عليه محمد رسول اللَّه (١٣) قريشا: صالحهم على أنه: لا إغلال ولا إسلال، (و) (١٤) على أنه: (من) (١٥) قدم مكة [من أصحاب محمد (١٦) حاجًّا أو ⦗٥٢٩⦘ معتمرًا أو يبتغي من فضل اللَّه فهو آمن (على) (١٧) دمه وماله، [ومن قدم المدينة من قريش مجتازًا إلى مصر (أو) (١٨) إلى الشام يبتغي من فضل اللَّه فهو آمن على دمه وماله] (١٩) وعلى أنه من جاء محمدًا (٢٠) من قريش فهو رد، ومن جاءهم] (٢١) من أصحاب محمد (٢٢) [فهو لهم. فاشتد ذلك على المسلمين فقال رسول اللَّه ﷺ] (٢٣): "من جاءهم منا فأبعده اللَّه، ومن جاءنا منهم (رددناه) (٢٤) إليهم -يعلم اللَّه الإسلام من نفسه- يجعل اللَّه (له) (٢٥) مخرجا". وصالحوه على (أنه) (٢٦) يعتمر عامًا قابلًا في مثل هذا الشهر، لا يدخل علينا بخيل ولا سلاح إلا ما يحمل المسافر في قرابه، فيمكث فيها ثلاث ليال، وعلى أن هذا الهدي حيث حبسناه فهو محله لا يُقدِمه علينا، فقال رسول اللَّه ﷺ: "نحن نسوقه وأنتم تردون وجهه" (٢٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن سلمہ ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قریش نے سہیل بن عمرو، حویطب ابن عبد العزی اور مکرز بن حفص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صلح کریں۔ پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سہیل کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا معاملہ آسان ہوگیا ہے۔ لوگ تمہارے پاس اپنے رشتوں کے ہمراہ آ رہے ہیں۔ اور تم سے صلح کا سوال کر رہے ہیں۔ پس ہدی کے جانوروں کو کھڑا کردو اور تلبیہ کو ظاہر کرو۔ شاید کہ یہ ان کے دلوں کو نرم کر دے۔ صحابہ کرام نے لشکر کے اطراف سے تلبیہ بلند کیا یہاں تک کہ ان کے تلبیہ میں ان کی آوازوں سے گونج پیدا ہوگئی ۔ راوی کہتے ہیں : پس مشرکین آئے اور انہوں نے صلح کی بات کی۔ ٢۔ راوی کہتے ہیں : اس دوران جبکہ یہ لوگ باہم۔ مسلمانوں کے لشکر میں مشرکین اور مشرکین کے لشکر میں مسلمان موجود تھے۔ کہا گیا : ابو سفیان ! ! ! اچانک وادی لوگوں اور اسلحہ سے بہنے لگی۔ راوی کہتے ہیں : ایاس بیان کرتے ہیں کہ سلمہ نے کہا۔ میں نے مشرکین میں سے چھ مسلح افراد کو ہانک لیا درآنحالیکہ وہ اپنے لئے کسی نفع اور نقصان کے مالک نہیں تھے ۔ ہم انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قتل کیا اور نہ مال چھینا بلکہ معاف فرما دیا۔ راوی کہتے ہیں : پھر مشرکین کے قبضہ میں ہمارے جو ساتھی تھے ہم نے ان کے بارے میں سختی کی اور مشرکین کے قبضہ میں ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑا بلکہ چھڑا لیا۔ راوی کہتے ہیں : ہمارے قبضہ میں جو ان کے افراد تھے ہم ان پر غالب رہے۔ ٣۔ پھر قریش، سہیل بن عمرو اور حویطب بن عبد العزی کے پاس گئے اور انہیں اپنی صلح کا متولی بنایا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ کو بھیجا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان فیصلہ تحریر کیا۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ۔ یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد رسول اللہ نے قریش سے صلح کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اس بات پر صلح کی ہے کہ نہ تو دھوکہ دہی ہوگی اور نہ ہی شرائط کی خلاف ورزی اور یہ بھی شرط ہے کہ اصحابِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے جو آدمی حج وعمرہ کرنے یا اللہ کی رضا کے لئے مکہ مکرمہ آئے گا تو اس کے خون اور مال کو امن ہوگا۔ اور قریش میں سے جو شخص مدینہ میں مصر یا شام کی طرف جانے کے لئے آئے اور اللہ کے فضل کا متلاشی ہو تو اس کا مال اور خون بھی مامون ہوگا۔ اور یہ شرط بھی تھی کہ قریش میں سے جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے گا تو واپس کیا جائے گا اور جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے قریش کی طرف آئے گا تو وہ انہی کے پاس ہوگا۔ ٤۔ یہ بات اہل اسلام پر بہت شاق گزری۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ان میں سے ہماری طرف آئے گا تو ہم اس کو ان کی طرف واپس کردیں گے (حالانکہ) اللہ تعالیٰ اس کے دل سے اسلام کو جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے لئے راہ بنا دے گا۔ ٥۔ قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات پر صلح کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئندہ سال انہی مہینوں میں عمرہ کریں گے (لیکن) ہمارے پاس گھوڑے اور اسلحہ لے کر نہیں آئیں گے سوائے اس مقدار کے جو ایک مسافر اپنے تھیلے میں رکھتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (آئندہ سال) مکہ میں تین دن قیام کریں گے۔ اور یہ شرط بھی تھی کہ اس ہدی کو جہاں پر ہم نے روکا ہے وہیں پر اس کو حلال کریں۔ ان کو مزید آگے نہیں ہانکیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ہم تو اس کو ہانکیں گے اور تم اس کو واپس موڑدینا۔
حدیث نمبر: 39621
٣٩٦٢١ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن موسى بن عبيدة قال: حدثني إياس ابن سلمة عن أبيه قال: بعثت قريش خارجة بن كُرز يطلع (لهم) (١) طليعة، فرجع حامدا (يحسن) (٢) الثناء، فقالوا له: إنك أعرابي قعقعوا لك السلاح فطار فؤادك فما دريت ما قيل لك وما قلت. ثم (أرسلوا) (٣) عروة بن مسعود فجاءه فقال: يا محمد ما هذا الحديث؟ تدعو إلى ذات اللَّه، ثم جئت قومك بأوباش الناس، من (تعرف ومن لا تعرف) (٤)، لتقطع أرحامهم وتستحل حرمتهم ودماءهم وأموالهم، فقال: "إني لم آت قومي إلا لأصل أرحامهم، يبدلهم اللَّه بدين خير من دينهم، ومعائش خير من معائشهم"، فرجع حامدا يحسن الثناء. قال: قال إياس عن أبيه: فاشتد البلاء على من (كان) (٥) في يد المشركين من المسلمين، قال: فدعا رسول اللَّه ﷺ عمر فقال: "يا عمر هل أنت مبلغ عني إخوانك من أسارى المسلمين؟ " فقال: (لا) (٦) يا نبي اللَّه، واللَّه ما لي بمكة من عشيرة، غيري أكثر عشيرة مني. فدعا عثمان فأرسله إليهم فخرج عثمان على راحلته حتى جاء عسكر المشركين، (فعيبوا) (٧) به (وأساءوا) (٨) (له) (٩) القول، ثم (أجاره) (١٠) أبان بن ⦗٥٣١⦘ (سعيد) (١١) بن العاص بن عمه وحمله على السرج وردفه، فلما قدم قال: يا ابن (أبي) (١٢) ما لي أراك (متحشفًا) (١٣) أسبل، قال: وكان إزاره إلى نصف ساقيه، فقال له عثمان: هكذا إزرة صاحبنا. فلم يدع أحدا بمكة من أسارى المسلمين إلا أبلغهم ما قال رسول اللَّه ﷺ. قال سلمة: فبينما نحن قائلون نادى منادي رسول اللَّه ﷺ: "أيُّها الناس، البيعةَ، البيعةَ، نزل روح القدس"، قال: (فسرنا) (١٤) إلى رسول اللَّه ﷺ، وهو تحت (الشجرة) (١٥) (سمرة) (١٦) فبايعناه، وذلك قول اللَّه: ﴿لَّقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ﴾ [الفتح: ١٨]. قال: فبايع لعثمان إحدى يديه على الأخرى، فقال الناس: هنيئا لأبي عبد اللَّه يطوف بالبيت ونحن ها هنا، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لو مكث كذا وكذا سنة ما (طاف) (١٧) حتى أطوف" (١٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن سلمہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قریش نے خارجہ بن کرز کو اپنے لئے جاسوسی کرنے کے لئے بھیجا۔ تو وہ (صحابہ کرام کی) تعریفیں کرتے ہوئے واپس پلٹا۔ تو قریش نے اس سے کہا۔ تو دیہاتی آدمی ہے ۔ انہوں نے تجھے اسلحہ کی جھنکار سنائی تو تیرا دل اڑ گیا۔ پس تجھے کچھ پتہ نہیں چلا کہ تجھے کیا کیا گیا اور تو نے کیا کہا۔ پھر قریش نے عروہ بن مسعود کو بھیجا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اے محمد ! یہ کیا بات ہے ؟ تو خدا کی ذات کی طرف بلاتا ہے اور پھر تو اپنی قوم کے پاس اوباش لوگوں کو لاتا ہے۔ جن میں سے بعض کو تو جانتا ہے اور بعض کو نہیں جانتا… تاکہ تو ان سے قطع رحمی کرے اور ان کی حرمتوں، خون اور اموال کو حلال کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تو اپنی قوم کے پاس صرف اس لئے آیا ہوں تاکہ میں ان سے صلح رحمی کروں۔ اللہ ان کو ان کے دین کے بدلہ ایک اس سے بہتر دین اور ان کی معیشت سے بہتر معیشت دیتا ہے۔ پس (یہ بات سن کر) وہ بھی تعریفیں کرتے ہوئے لوٹا۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ایاس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، مشرکین کے قبضہ میں جو مسلمان موجود تھے ان پر مصائب کی شدت اور بڑھ گئی۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو بلایا اور اشارہ فرمایا۔ اے عمر ! کیا اپنے مسلمان قیدی بھائیوں کو تم اپنی طرف سے پیغام پہنچا (آؤ) گے۔ حضرت عمر نے عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرا تو مکہ میں کوئی بڑا خاندان نہیں ہے۔ جبکہ میرے علاوہ لوگ مجھ سے زیادہ وہاں خاندانی روابط رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان کو بلایا اور ان کو اہل مکہ کی طرف روانہ کیا۔ حضرت عثمان ، اپنی سواری پر سوار ہو کر نکلے یہاں تک کہ آپ مشرکین کے لشکر کے پاس پہنچے۔ انہوں نے آپ سے لا یعنی باتیں شروع کیں۔ اور بیہودہ گفتگو کی۔ لیکن پھر حضرت عثمان کو ابان بن سعد بن العاص نے … جو حضرت عثمان کا چچا زاد تھا … پناہ دی ۔ اور انہیں اپنی زین پر سوار کیا اور خود آپ کے پیچھے سوار ہوگیا پھر جب یہ کچھ آگے بڑھے تو اس نے کہا۔ اے چچا زاد ! کیا وجہ ہے کہ میں تجھے پرانے کپڑے پہنے ہوئے دیکھ رہا ہوں ؟ شلوار نیچے کرو (یعنی ٹخنے ڈھانپ لو) ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عثمان کی ازار نصف پنڈلی تک تھی … حضرت عثمان نے جواباً اس کو ارشاد فرمایا : ہمارے صاحب ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی ازار بھی اسی طرح ہوتی ہے۔ پھر حضرت عثمان نے مسلمان قیدیوں میں سے کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام پہنچائے بیرے نہیں چھوڑا (یعنی سب کو پیغام دیا) حضرت سلمہ فرماتے ہیں۔ اس دوران جبکہ ہم قیلولہ کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منادی نے آواز دی۔ اے لوگو ! بیعت (محمد) بیعت ! روح القدس نازل ہوئے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چل دئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کیکر کے درخت کے نیچے تشریف فرما تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی۔ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ { لَقَدْ رَضِیَ اللَّہُ عَنِ الْمُؤْمِنِینَ إِذْ یُبَایِعُونَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ } راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان کے لئے بیعت اس طرح لی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر رکھ لیا۔ لوگ کہنے لگے۔ ابو عبد اللہ کی خوش قسمتی ہے۔ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے اور ہم یہاں پر ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر وہ کئی سال بھی وہاں رہے تب بھی طواف نہیں کرے گا جب تک میں طواف نہیں کروں گا۔
حدیث نمبر: 39622
٣٩٦٢٢ - حدثنا يحيى بن سعيد عن محمد بن أبي يحيى عن أبيه عن أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ يوم الحديبية: "لا توقدوا نارا بليل"، ثم قال: ⦗٥٣٢⦘ " (أوقدوا) (١) (واصطنعوا) (٢) فإنه لن يدرك قوم بعدكم مدكم ولا صاعكم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے دن ارشاد فرمایا : تم لوگ رات کے وقت آگ نہ جلانا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آگ جلاؤا ور (کھانا) بناؤ۔ تمہارے بعد کوئی قوم تمہارے مُد اور صاع (کے ثواب) کو نہیں پا سکے گی۔
حدیث نمبر: 39623
٣٩٦٢٣ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن سالم عن جابر قال: أصاب الناس عطش يوم الحديبية، قال: فهش الناس إلى رسول اللَّه ﷺ، قال: فوضع يده في الركوة، فرأيت الماء مثل العيون، قال: قلت: كم كنتم؟ قال: لو كنا مائة ألف لكفانا، كنا (خمس عشرة مائة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے دن لوگوں کو شدید پیاس لگی ۔ راوی کہتے ہیں : لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لپکے۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ چمڑے کے برتن میں رکھا تو میں نے پانی کو چشموں کی طرح دیکھا۔ حضرت سالم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر سے پوچھا : تم لوگ کتنی تعداد میں تھے۔ انہوں نے جواب دیا۔ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کفایت کرجاتا (ویسے) ہم پندرہ سو کی تعداد میں تھے۔
حدیث نمبر: 39624
٣٩٦٢٤ - حدثنا خالد بن مخلد قال: (حدثنا) (١) عبد الرحمن بن عبد العزيز الأنصاري قال: (حدثني) (٢) ابن شهاب قال: حدثني عروة بن الزبير أن رسول اللَّه ﷺ خرج عام الحديبية في ألف وثمانمائة، وبعث بين يديه عينا له من خزاعة يدعى ناجية يأتيه بخبر القوم. حتى نزل رسول اللَّه ﷺ غديرا بعسفان (يقال: له غدير الأشطاط، فلقيه) (٣) عينه بغدير (الأشطاط) (٤) فقال: يا محمد، تركت قومك كعب بن لؤي وعامر بن ⦗٥٣٣⦘ لؤي قد استنفروا لك الأحابيش ومن أطاعهم قد سمعوا بمسيرك، وتركت عبدانهم يطعمون الخزير في دورهم، وهذا خالد بن الوليد في (خيل) (٥) بعثوه. (فقام) (٦) رسول اللَّه ﷺ فقال: "ماذا تقولون؟ ماذا (تأمرون؟) (٧) أشيروا علي، قد جاءكم خبر قريش مرتين وما صنعت، فهذا خالد بن الوليد بالغميم، قال لهم رسول اللَّه ﷺ: "أترون أن (نمضي) (٨) لوجهنا، ومن صدنا عن البيت (قاتلناه) (٩)، أم ترون أن نخالف هؤلاء إلى من تركوا وراءهم، فإن اتبعنا منهم عنق قطعه اللَّه"، قالوا: يا رسول اللَّه (الأمر) (١٠) أمرك والرأي رأيك. فتيامنوا في هذا الفعل، فلم يشعر به خالد ولا الخيل التي معه حتى (جاوزهم) (١١) قترة الجيش وأوفت به ناقته على ثنية تهبط على غائط القوم يقال له: بلدح، فبركت فقال: "حل حل"، فلم تنبعث. فقالوا: خلأت القصواء، قال: "إنها واللَّه ما خلأت، ولا هو لها بخلق، ولكن حبسها حابس الفيل، أما واللَّه، لا يدعوني اليوم إلى خطة يعظمون فيها حرمة ولا يدعوني فيها إلى صلة إلا أجبتهم إليها"، ثم زجرها فوثبت. فرجع من حيث جاء عوده على (بدئه) (١٢) حتى نزل بالناس على ثمَدٍ من ثماد ⦗٥٣٤⦘ الحديبية ظنون قليل الماء يَتَبرّض (الناس) (١٣) (ماءها) (١٤) تبرُّضا، فشكوا إلى رسول اللَّه ﷺ قلة الماء، فانتزع سهما من (كنانته) (١٥)، فأمر رجلا فغرزه في جوف القليب، فجاش بالماء حتى ضرب الناس عنه بعطن. فبينما هو (على) (١٦) ذلك إذ مرَّ به بُديل بن ورقاء الخزاعي في ركب من قومه من خزاعة، فقال: يا محمد هؤلاء قومك قد خرجوا (بالعُوذ) (١٧) المَطَافيل، يقسمون باللَّه ليحولن بينك وبين مكة حتى لا يبقى منهم أحد، قال: "يا بُديل! إني لم آت لقتال أحد، إنما جئت أقضي نسكي وأطوف بهذا البيت، وإلا فهل لقريش في غير ذلك، هل لهم إلي أن أمادهم مدة يأمنون فيها ويستجمون ويخلون (فيها) (١٨) بيني وبين الناس، فإن ظهر (١٩) أمري على الناس كانوا فيها بالخيار أن يدخلوا فيما دخل (فيه) (٢٠) الناس، وبين أن يقاتلوا وفد (جمّوا) (٢١) (وأعدوا) (٢٢) "، قال بديل: سأعرض هذا على قومك. فركب بديل حتى مر بقريش فقالوا: من أين قال: جئتكم من عند رسول اللَّه ﷺ وإن شئتم أخبرتكم (ما) (٢٣) سمعت منه فعلت، فقال (ناس) (٢٤) من سفهائهم: ⦗٥٣٥⦘ لا تخبرنا عنه شيئا، وقال ناس من ذوي أسنانهم وحكمائهم: بل أخبرنا، ما الذي رأيت؟ وما الذي سمعت؟ فاقتص عليهم بديل قصة رسول اللَّه ﷺ وما عرض عليهم من المدة. قال: وفي كفار قريش يومئذ عروة بن مسعود الثقفي فوثب فقال: يا معشر قريش هل تتهمونني في شيء؟ ألست بالولد ولستم بالوالد؟ (أو لست) (٢٥) قد استنفرت لكم أهل عكاظ، فلما (بلحوا) (٢٦) عليّ (نفرت) (٢٧) إليكم بنفسي وولدي ومن أطاعني، قالوا: بلى، قد فعلتَ، (قال) (٢٨): فاقبلوا من بديل ما جاءكم به وما عرض عليكم رسول اللَّه ﷺ (٢٩) وابعثوني حتى آتيكم (بمصادقها) (٣٠) من عنده، قالوا: فاذهب. فخرج عروة حتى نزل برسول اللَّه ﷺ بالحديبية فقال: يا محمد هؤلاء قومك كعب بن لؤي وعامر بن لؤى قد خرجوا بالعوذ المطافيل، يقسمون لا يخلّون بينك وبين مكة حتى تبيد خضراءهم، وإنما أنت من قتالهم بين أحد أمرين: أن (تجتاح) (٣١) (قومك) (٣٢) فلم تسمع برجل قط (اجتاح) (٣٣) أصله قبلك وبين أن (يسلمك) (٣٤) من أرى معك، فإني لا أرى معك إلا أوباشا من الناس، لا أعرف ⦗٥٣٦⦘ أسماءهم ولا وجوههم، فقال: أبو بكر -وغضب: امصص بظر اللات، أنحن نخذله أو نسلمه، فقال عروة: أما واللَّه لولا يد لك عندي لم أجزك بها لأجبتك فيما قلت-، وكان عروة قد (تحمل) (٣٥) بدية فأعانه أبو بكر فيها بعون حسن. والمغيرة بن شعبة قائم على رسول اللَّه ﷺ وعلى وجهه المغفر، فلم (يعرفه) (٣٦) عروة، وكان عروة يكلم رسول اللَّه ﷺ، (فكلما) (٣٧) مد يده يمس (لحية) (٣٨) رسول اللَّه ﷺ قرعها المغيرة بقدح كان في يده، حتى إذا (أحرجه) (٣٩) قال: "من هذا؟ " قالوا: هذا المغيرة بن شعبة، قال عروة: أنت بذاك يا غدر، (و) (٤٠) هل غسلت عنك غدرتك (إلا أمس) (٤١) بعكاظ. فقال النبي ﷺ لعروة بن مسعود مثل ما قال لبديل، فقام عروة فخرج حتى جاء إلى قومه (فقال) (٤٢): يا معشر قريش، إني قد وفدت على الملوك على قيصر في ملكه بالشام، وعلى النجاشي بأرض الحبشة، وعلى كسرى بالعراق، وإني واللَّه ما رأيت ملكا هو أعظم (فيمن هو بين) (٤٣) ظهريه من محمد (٤٤) في أصحابه، واللَّه ما يشدون إليه النظر وما يرفعون عنده الصوت، وما (يتوضأ) (٤٥) من وضوء إلا ⦗٥٣٧⦘ ازدحموا عليه: أيهم (يظفر) (٤٦) منه بشيء، فاقبلوا الذي جاءكم به بديل، فإنها خطة رشد، قالوا: اجلس. ودعوا رجلا من بني الحارث بن عبد (مناف) (٤٧) يقال له: (الحليس) (٤٨) [(فقالوا) (٤٩): انطلق فانظر ما (قبل) (٥٠) هذا الرجل وما يلقاك به، فخرج (الحليس) (٥١)] (٥٢) فلما رآه رسول اللَّه ﷺ مقبلا عرفه، قال: "هذا (الحليس) (٥٣) وهو من قوم يعظمون الهدي، فابعثوا الهدي في وجهه"، فبعثوا الهدي في وجهه. قال ابن شهاب: فاختلف الحديث في (الحليس) (٥٤)، فمنهم من يقول: جاءه فقال له مثل ما قال لبديل وعروة، ومنهم من قال: لما (رأى) (٥٥) الهدي رجع إلى قريش. فقال: لقد رأيت أمرا لئن (صددتموه) (٥٦) إني لخائف عليكم أن يصيبكم عنت فأبصروا بصركم، قالوا: اجلس. ⦗٥٣٨⦘ (ودعوا) (٥٧) رجلا (من قريش) (٥٨) يقال له: مكرز بن حفص بن الأحنف من بني عامر بن لؤي، فبعثوه فلما رآه النبي ﷺ قال: "هذا رجل فاجر ينظر بعين"، فقال له مثل ما قال لبديل ولأصحابه في المدة، فجاءهم فأخبرهم. فبعثوا سهيل بن عمرو من بني عامر بن لؤي (يكاتب) (٥٩) رسول اللَّه ﷺ على الذي دعا إليه، فجاءه سهيل بن عمرو (فقال) (٦٠): قد (بعثتني) (٦١) قريش إليك أكاتبك على قضية نرتضي أنا وأنت، فقال النبي ﷺ: "نعم اكتب: "بسم اللَّه الرحمن الرحيم"، قال: ما أعرف اللَّه ولا أعرف الرحمن، ولكن اكتب كما كنا نكتب: "باسمك (اللهم) (٦٢) " فوجد الناس من ذلك وقالوا: لا نكاتبك على (خط) (٦٣) حتى تقر بالرحمن الرحيم، قال سهيل: إذا لا أكاتبه على (خط) (٦٤) حتى أرجع، قال رسول اللَّه ﷺ: "اكتب: "باسمك اللهم"، هذا ما (قاضى) (٦٥) عليه محمد رسول اللَّه (٦٦) "، قال: لا أقر لو أعلم أنك رسول اللَّه ما خالفتك ولا عصيتك، ولكن (٦٧) محمد بن عبد اللَّه، فوجد الناس منها أيضا، قال: "اكتب: محمد بن عبد اللَّه (سهيل) (٦٨) بن عمرو". ⦗٥٣٩⦘ (فقام) (٦٩) عمر بن الخطاب (٧٠) فقال: يا رسول اللَّه ألسنا على الحق؟ أو ليس عدونا على الباطل؟ قال: "بلى"، قال: فعلام نعطي الدنية في ديننا؟ قال: "إني رسول اللَّه، ولن أعصيه، ولن يضيعنى"، وأبو بكر (متنح) (٧١) (ناحية) (٧٢) فأتاه عمر فقال: يا أبا بكر، فقال: نعم، قال: ألسنا على الحق؟ أو ليس عدونا على الباطل؟ قال: بلى، قال: فعلام نعطي الدنية في ديننا؟ قال: دع عنك ما ترى يا عمر، فإنه رسول اللَّه ﷺ (٧٣) ولن يضيعه اللَّه ولن يعصيه. وكان في شرط الكتاب (أنه) (٧٤) "من كان منا فأتاك فإن كان على دينك رددته إلينا ومن (جاءنا) (٧٥) من قبلك رددناه إليك"، قال: "أما من جاء من قبلي فلا حاجة لي برده، وأما التي اشترطت لنفسك (فتلك) (٧٦) بيني وبينك". فبينما الناس على ذلك الحال (إذ) (٧٧) طلع عليهم أبو جندل بن سهيل بن عمرو (يرسف) (٧٨) في الحديد قد (خلا) (٧٩) له أسفل مكة متوشحا السيف، (فرفع) (٨٠) سهيل رأسه فإذا هو بابنه أبي جندل، فقال: (هذا) (٨١) أول من قاضيتك ⦗٥٤٠⦘ على رده، فقال النبي ﷺ: "يا سهيل! إنا لم نقض الكتاب بعد"، قال: ولا أكاتبك على (خط) (٨٢) حتى (ترده) (٨٣)، قال: "فشأنك به". قال: (فبهش) (٨٤) أبو جندل (إلى) (٨٥) الناس فقال: يا معشر المسلمين أرد إلى المشركين يفتنونني في ديني، (فلصق) (٨٦) به عمر -وأبوه آخذ بيده يجتره- وعمر يقول: إنما هو رجل، ومعك السيف، فانطلق به أبوه، فكان النبي ﷺ يرد عنهم من جاء من (قبلهم) (٨٧) يدخل في دينه، فلما اجتمعوا نفر: منهم أبو بصير (و) (٨٨) ردهم (إليهم) (٨٩) وأقاموا ساحل البحر (فكأنهم) (٩٠) قطعوا على قريش متجرهم إلى الشام، فبعثوا إلى رسول اللَّه ﷺ: إنا نراها منك صلة: أن تردهم إليك وتجمعهم، فردهم إليه. (وكان) (٩١) فيما أرادهم النبي ﷺ في الكتاب أن يَدَعوه يَدخلُ مكةَ فيقضي نُسُكَه وينحر هديه بين (ظهريهم) (٩٢)، فقالوا: لا تحدث العرب أنك أخذتنا ضغطة أبدا، ولكن ارجع عامك هذا، فإذا كان قابل أذنا لك فاعتمرت وأقمت ثلاثًا. وقام رسول اللَّه ﷺ فقال للناس: "قوموا فانحروا هديكم واحلقوا وحلوا"، فما قام رجل ولا تحرك، فأمر رسول اللَّه ﷺ الناس بذلك ثلاث مرات، فما تحرك ⦗٥٤١⦘ (رجل) (٩٣) ولا قام من مجلسه، فلما رأى النبي ﷺ ذلك دخل على أم سلمة، وكان خرج بها في تلك الغزوة، فقال: "يا أم سلمة، ما بال الناس! أمرتهم ثلاث (مرار) (٩٤) أن ينحروا وأن يحلقوا وأن يحلوا (فما قام) (٩٥) (رجل) (٩٦) إلى ما أمرته به"، قالت: يا رسول اللَّه، اخرج أنت فاصنع ذلك. فقام رسول اللَّه ﷺ (٩٧) حتى (يمم) (٩٨) هديه فنحره ودعا حلاقا فحلقه، فلما رأى الناس ما صنع رسول اللَّه ﷺ (وثبوا) (٩٩) إلى هديهم فنحروه، وأكب بعضهم يحلق بعضا حتى كاد بعضهم أن يضم بعضا من الزحام (١٠٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیبیہ کے دن اٹھارہ سو کی تعداد کو لے کر نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آگے بنو خزاعہ کے ایک شخص … جس کا نام ناجیہ تھا… کو بھیجا تاکہ وہ لوگوں کی خبر لائے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام عسفان کے کنویں پر پہنچے جس کا نام غدیر اشطاط تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا جاسوس غدیر اشطاط پر ملا اور اس نے کہا : اے محمد ! میں نے تیری قوم … کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی … کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ انہوں نے آپ کے لئے متفرق لوگوں کو اور جو کوئی ان کی مانتا ہے ان کو نفیر عام کیا ہے۔ انہوں نے تیرے چلنے کی خبر سن لی ہے۔ اور میں نے ان کے غلاموں کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ انہیں گھروں میں خزیر (خاص کھانا) کھلایا جاتا ہے۔ اور خالد بن ولید کو تو انہوں نے یہ سامنے گھڑ سواروں کی جماعت کے ہمراہ بھیجا ہے۔ ٢۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (صحابہ سے) پوچھا۔ تم کیا کہتے ہو ؟ تمہارا کیا حکم ہے ؟ مجھے بتاؤ۔ قریش اور ان کی تیاریوں کی خبر تمہیں دو مرتبہ پہنچ چکی ہے۔ اور یہ مقام غمیم میں خالد بن ولید بھی پہنچ چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا۔ کیا تمہاری رائے یہ ہے کہ ہم اپنے رُخ پر چلتے رہیں اور جو کوئی ہمیں بیت اللہ سے روکے ہم اس سے لڑائی کریں۔ یا تمہاری رائے یہ ہے کہ ہم ان کے برخلاف ان کے پچھلوں کی طرف بڑھیں۔ پھر اگر ان میں سے کوئی جماعت پیچھے آئے گی تو اللہ تعالیٰ اس کو توڑ دے گا۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! حُکم، آپ کا حکم ہے۔ اور رائے بھی آپ کی رائے ہے۔ پھر یہ لوگ اس ٹیلے کے دائیں بائیں چل دیئے۔ اس بات کا خالد اور اس کے ہمراہ لشکر کو پتہ نہیں چلا۔ یہاں تک کہ یہ لوگ لشکر کے غبار کو کر اس کر گئے۔ ٣۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک بلند ٹیلے سے ایک پست زمین کی طرف لے گئی۔ جس کا نام بلدح تھا۔ اور (وہاں جا کر) بیٹھ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حَلْ حَلْ ۔ لیکن وہ اونٹنی نہیں اٹھی۔ لوگوں نے کہا۔ قصوائ (اونٹنی کا نام ہے) اڑ گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بخدا یہ اونٹنی نہں ں اَڑی اور نہ ہی اڑنا اس کی عادت ہے لیکن اس کو ہاتھیوں کو روکنے والے نے روک دیا ہے۔ سنو ! بخدا اگر آج کے دن وہ مجھے کسی مقام کی طرف …جس کا وہ بہت احترام کرتے ہیں … بلائیں گے یا مجھے وہ کسی صلہ رحمی کی طرف بلائیں گے تو میں انہیں مثبت جواب دوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹنی کو دوڑایا تو وہ اچھل پڑی پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے قدم کے نشانات پر وہیں واپس ہوگئے جہاں سے تشریف لائے تھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو لے کر حدیبیہ کے ایک مقام پر فروکش ہوئے جہاں پر پانی اتنا قلیل تھا کہ لوگ تھوڑا تھوڑا پانی لے رہے تھے۔ تو (اس پر) لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پانی کی قلت کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور ایک آدمی کو حکم دیا اور اس نے اس تیر کو کنویں کے درمیان میں گاڑ دیا۔ پس پانی نے اتنا جوش مارا کہ لوگ اس پانی سے خوب سیراب ہوگئے۔ ٤۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی اسی حالت میں تھے کہ بدیل بن ورقاء خزاعی، اپنی قوم خزاعہ کے ایک گروہ کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا اور اس نے کہا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ تیری قوم کے لوگ عورتوں اور بچوں سمیت نکل چکے ہیں اور وہ خدا کے نام پر اس بات کی قسم کھا رہے ہیں کہ ضرور بالضرور تیرے اور مکہ کے درمیان حائل ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی ایک بھی نہ بچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے بدیل ! میں تو کسی کے ساتھ بھی لڑنے نہیں آیا۔ میں تو صرف اس لئے آیا ہوں تاکہ اپنے افعال عبادت ادا کرسکوں اور اس خانہ خدا کا طواف کروں۔ اور اگر یہ کام نہ ہو تو پھر کیا قریش کا کوئی اور ارادہ ہے ؟ کیا وہ اس بات پر راضی ہیں کہ میں ان کے ساتھ ایک مدت طے کرلوں جس میں وہ مامون رہیں گے اور اتنی مدت تک وہ اکٹھے بھی ہوجائیں۔ اور اس دوران وہ مجھے اور لوگوں کو کھلا چھوڑ دیں۔ اگر میرا معاملہ لوگوں پر غالب آگیا تو انہیں اس بات کا اختیار ہوگا ۔ چاہے تو لوگوں کی طرح یہ بھی دین میں داخل ہوجائیں اور چاہے تو یہ لڑائی کرلیں درآنحالیکہ انہوں نے اپنی تعداد بڑھا کر خوب تیاری کرلی ہوگی۔ بدیل نے کہا۔ میں یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم کو پیش کروں گا۔ ٥۔ پس بدیل سوار ہو کر (چل پڑا) یہاں تک کہ وہ قریش کے پاس سے گزرا تو ق
حدیث نمبر: 39625
٣٩٦٢٥ - قال ابن شهاب: وكان الهدي (الذي) (١) (ساق) (٢) رسول اللَّه ﷺ وأصحابه (سبعين) (٣) بدنة، قال ابن شهاب: فقسم رسول اللَّه ﷺ (خيبر) (٤) على أهل الحديبية على ثمانية عشر سهما، لكل مائة رجل سهم (٥).
حدیث نمبر: 39626
٣٩٦٢٦ - حدثنا أبو أسامة عن أبي العميس عن عطاء قال: كان منزل النبي ﷺ يوم الحديبية في الحرم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پڑاؤ کا مقام حرم تھا۔
حدیث نمبر: 39627
٣٩٦٢٧ - حدثنا الفضل عن شريك عن أبي إسحاق عن البراء قال: كنا يوم الحديبية ألفا وأربعمائة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بیان فرماتے ہیں ۔ کہ حدیبیہ کے روز ہم لوگوں کی تعداد چودہ سو تھی۔
حدیث نمبر: 39628
٣٩٦٢٨ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: (أخبرنا) (١) موسى بن عبيدة قال: أخبرني أبو مرة مولى أم هانئ عن ابن عمر قال: لما كان الهدي دون الجبال التي تطلع على وادي الثنية عرض له المشركون، فردوا وجوه بدنه، فنحر رسول اللَّه ﷺ حيث حبسوه، وهي الحديبية، (وحلق) (٢) وائتسى به ناس فحلقوا، وتربص آخرون، قالوا: لعلنا نطوف بالبيت، فقال رسول اللَّه ﷺ: "رحم اللَّه المحلقين"، قيل: والمقصرين قال: "رحم اللَّه المحلقين" -ثلاثًا- (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب ہدی کے جانور (ابھی) ان پہاڑوں سے پیچھے تھے جن پہاڑوں پر ثنیۃ وادی دکھائی دیتی ہے ۔ تو مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہدی کے جانوروں کے رُخ پھیر دیئے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اسی مقام پر نحر کیا جہاں پر مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روکا تھا۔ اور یہ مقام حدیبیہ تھا۔ اور (پھر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلق فرمایا اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حلق کروایا ۔ اور کچھ دیگر لوگ انتظار میں رہے۔ اور انہوں نے کہا۔ ہوسکتا ہے کہ ہم بیت اللہ کا طواف کرلیں۔ (اس پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ حلق کروانے والوں پر رحم فرمائے۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) کہا گیا۔ اور قصر کروانے والے … ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (پھر) ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ حلق کروانے والوں پر رحم فرمائے۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔
حدیث نمبر: 39629
٣٩٦٢٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي إبراهيم الأنصاري عن أبي سعيد الخدري أن النبي ﷺ حلق يوم الحديبية هو وأصحابه إلا عثمان (وأبا) (٢) قتادة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "يرحم اللَّه المحلقين"، قالوا: والمقصرين (يا رسول اللَّه؟) (٣)، قال: "يرحم اللَّه المحلقين"، قالوا: والمقصرين ⦗٥٤٣⦘ يا رسول اللَّه؟، قال: "يرحم اللَّه المحلقين"، قالوا: والمقصرين يا رسول اللَّه قال: "والمقصرين" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے حدیبیہ کے دن حلق کروایا سوائے عثمان اور ابو قتادہ کے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ سر منڈانے (حلق) والوں پر رحم کرے۔ لوگوں نے سوال کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اور کتروانے والوں پر ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دوبارہ) ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ سر منڈانے (حلق) والوں پر رحم فرمائے۔ صحابہ نے (سہ بارہ) سوال کیا۔ اور بال کترانے والوں پر ؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ سر منڈانے (حلق) والوں پر رحم فرمائے۔ صحابہ نے عرض کیا۔ اور کتروانے والوں پر ؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے فرمایا : کتروانے والوں پر (بھی رحم فرمائے) ۔
حدیث نمبر: 39630
٣٩٦٣٠ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: (أخبرنا) (١) موسى بن عبيدة عن عبد اللَّه بن عمرو بن أسلم عن ناجية بن جندب بن ناجية قال: لما (كنا) (٢) بالغميم لقي رسول اللَّه ﷺ (خبر) (٣) قريش: أنها بعثت خالد بن الوليد في (جريدة) (٤) خيل (تتلقى) (٥) رسول اللَّه ﷺ، (فكره رسول اللَّه ﷺ) (٦) أن يلقاه، وكان (بهم) (٧) رحيمًا، فقال: "مَنْ (رجلٌ) (٨) يعدلنا عن الطريق؟ " فقلت: أنا بأبي أنت وأمي يا رسول اللَّه (٩)، قال: فأخذت بهم في طريق (قد) (١٠) كان مهاجري بها فدافد وعقاب (١١)، فاستوت (بي) (١٢) الأرض حتى أنزلته على الحديبية وهي نزح، قال: فألقى فيها ⦗٥٤٤⦘ سهما أو سهمين من كنانته ثم بصق فيها ثم دعا، (قال) (١٣): فعادت عيونها حتى أني لأقول -أو نقول: لو شئنا (لاغترفنا) (١٤) (بأقداحنا) (١٥) (١٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ناجیہ بن جندب بن ناجیہ روایت کرتے ہیں کہ جب ہم مقام غمیم میں (پہنچے) تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قریش کی اطلاع ملی کہ انہوں نے خالد بن ولید کو گھڑ سواروں کے ایک دستہ کے ہمراہ روانہ کیا ہے۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرنے والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ آپ ان سے ملاقات کریں۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر بہت رحم کھاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کون آدمی ہے جو ہمیں اس راستہ سے ہٹا دے ؟ (یعنی دوسرے راستہ پر لے جائے) میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ میں لے جاؤں گا۔ فرماتے ہیں : پس میں نے انہیں ایک ایسے کٹھن راستہ پر ڈال دیا۔ جس میں گھاٹیاں اور اتار چڑھاؤ تھا۔ پھر جب ہموار زمین آئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقام حدیبیہ میں پڑاؤ کروایا اور اس جگہ کا پانی ختم تھا۔ ناجیہ فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کنویں میں اپنے ترکش سے ایک یا دو ترا ڈالے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں اپنا لعاب مبارک ڈالاپھر دعا فرمائی۔ راوی کہتے ہیں : پس اس کے چشمے لوٹ آئے یہاں تک کہ میں نے …یا ہم لوگوں نے … کہا اگر ہم چاہیں تو اپنے پیالے (برتن) سے پانی بھر لیں۔
حدیث نمبر: 39631
٣٩٦٣١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) محمد بن إسحاق عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن ابن عباس أن رسول اللَّه ﷺ قال يوم الحديبية: "يرحم اللَّه المحلقين"، قالوا: يا رسول اللَّه، والمقصرين؟ قال: " (يرحم) (٢) اللَّه المحلقين" -ثلاثًا- قالوا: والمقصرين يا رسول اللَّه؟ قال: "والمقصرين"، قالوا: (يا رسول اللَّه) (٣) ما بال المحلقين ظاهرت لهم الترحم؟ قال: "إنهم لم يشكوا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے دن ارشاد فرمایا : اللہ پاک سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے۔ صحابہ نے سوال کیا : یا رسول اللہ ! بال کتروانے والوں پر ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دوبارہ) ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے… یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی… صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! قصر کروانے والوں پر ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قصر کروانے والوں پر (بھی رحم فرما) ۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! سر منڈانے (حلق) والوں کی کیا وجہ تھی کہ آپ نے ان پر رحم کی دعا زیادہ (تین بار) فرمائی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انہوں نے کسی درجہ میں بھی شک نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 39632
٣٩٦٣٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن جامع بن شداد قال: سمعت عبد الرحمن ابن أبي علقمة قال: سمعت عبد اللَّه بن مسعود قال: أقبلنا مع رسول اللَّه ﷺ من الحديبية، فذكروا أنهم نزلوا دهاسًا من الأرض -يعني بالدهاس: الرمل- قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "من يكلؤنا؟ "، قال: فقال بلال: أنا، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "إذن (ننام) (١) "، قال: فناموا حتى طلعت الشمس، فاستيقظ أناس فيهم ⦗٥٤٥⦘ فلان وفلان، وفيهم عمر، قال: فقلنا: (اهضبوا) (٢)، [يعني تكلموا، قال: فاستيقظ النبي ﷺ (فقال) (٣): "افعلوا كما كنتم (تفعلون) (٤)] (٥)، (قال) (٦): ففعلنا، قال: "كذلك فافعلوا (لمن) (٧) نام أو نسي"، قال: (وضلت) (٨) ناقة رسول اللَّه ﷺ فطلبتها، (قال) (٩): فوجدت حبلها (قد) (١٠) تعلق بشجرة، فجئت إلى (النبي) (١١) ﷺ فركب فسرنا، قال (١٢): وكان النبي ﷺ إذا نزل عليه الوحي اشتد ذلك عليه، وعرفنا ذلك فيه، قال: فتنحى منتبذا خلفنا، قال: فجعل يغطي رأسه بثوبه ويشتد ذلك عليه حتى عرفنا أنه قد أنزل عليه فأتونا فأخبرونا أنه قد أنزل عليه: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ [الفتح: ١] (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حدیبیہ سے (واپس) آئے۔ صحابہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ریتلی زمین پر اترے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہمیں کون بیدار کرے گا ؟ حضرت بلال نے عرض کیا۔ میں بیدار کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر تو ہم سوتے ہیں۔ تمام لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ تو کچھ لوگ … جن میں فلاں، فلاں اور حضرت عمر تھے … بیدار ہوگئے۔ ہم نے کہا (آپس میں) باتیں کرو۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بھی آنکھ مبارک کھل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم جس طرح کر رہے تھے ویسے ہی کرتے رہو (یعنی باتیں کرلو) ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے پھر وہی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو کوئی سویا ہو یا اس کو نماز بھول گئی ہو تو تم اس کے ساتھ یہی کچھ کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی گم ہوگئی تو میں اس کی تلاش میں نکلا فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو اس حال میں پایا کہ اس کی رسی ایک درخت کے ساتھ اڑی ہوئی تھی۔ پس میں (اسے لے کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور ہم روانہ ہوگئے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کو اس حالت میں شدت ہوتی تھی۔ اور ہمیں یہ شدت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر محسوس ہوتی تھی۔ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پیچھے ایک طرف ہو کر کھڑے ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سر مبارک کو اپنے کپڑے سے ڈھانپ لیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سخت شدت کے آثار ظاہر ہوئے یہاں تک کہ ہم سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ے ہمیں بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ہے۔ {إِنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا }۔