کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو روایات میں نے غزوہ بنی المصطلق کے بارے میں محفوظ کی ہیں
حدیث نمبر: 39605
٣٩٦٠٥ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا عيسى بن يونس عن ابن عون قال: كتبت إلى نافع أسأله عن دعاء المشركين، فكتب إلي: أخبرني عبد اللَّه بن عمر أن رسول اللَّه ﷺ أغار على بني المصطلق وهم غارون، ونعمهم تُسْقَى على الماء، فكانت جويرية بنت الحارث مما أصاب، وكنت في الخيل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو المصطلق پر حملہ کیا جبکہ وہ غافل تھے اور ان کے جانور پانی پر آئے ہوئے تھے اور جویریہ بنت الحارث بھی متاثرین میں سے تھی اور میں گھوڑ سواروں میں تھا۔
حدیث نمبر: 39606
٣٩٦٠٦ - حدثنا يحيى بن إسحاق قال: (أخبرنا) (١) يحيى بن أيوب قال: حدثني ربيعة بن أبي عبد الرحمن عن محمد بن يحيى بن حبان عن ابن محيريز قال: دخلت ⦗٥١٢⦘ أنا وأبو صرمة المازني على أبي سعيد الخدري (فسألناه) (٢) عن العزل (فقال) (٣): أسرنا كرائم العرب، أسرنا نساء بني (عبد) (٤) المصطلق فأردنا العزل، ورغبنا في الفداء [فقال بعضنا: (أتعزلون) (٥) ورسول اللَّه ﷺ بين أظهركم؟ فأتيناه فقلنا: يا رسول اللَّه ﷺ (٦) أسرنا كرائم العرب، أسرنا نساء بني المصطلق فأردنا العزل ورغبنا في الفداء، فقال (النبي) (٧) ﷺ] (٨): " (لا) (٩) عليكم أن لا تفعلوا، فإنه ليس من نسمة كتب اللَّه عليها أن تكون إلى يوم القيامة إلا وهي كائنة" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن محیریز کہتے ہیں کہ میں اور ابو صرمہ مازنی، حضرت ابو سعید خدری کے پاس حاضر ہوئے اور ہم نے ان سے عزل کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے جواب میں ارشاد فرمایا : ہم نے عرب کی صاحب زادیاں قید کی تھی ہم نے بنو المصطلق کی عورتوں کو قید کیا اور ہم نے (ان کے ساتھ) عزل کا ارادہ کیا اور فدیہ لینے میں رغبت ظاہر کی۔ ہم میں سے بعض لوگوں نے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے درمیان موجود ہیں اور تم عزل کرتے ہو ؟ تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم نے عرب کی صاحبزادیاں قید کی ہیں۔ ہم نے بنو المصطلق کی عورتیں قیدی بنائی ہیں۔ اور ہم عزل کا ارادہ رکھتے ہیں اور فدیہ لینے میں رغبت رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں ! تم یہ کام نہ کرو۔ کیونکہ قیامت تک کوئی بھی جان جس کے ہونے کو اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے وہ بہر حال ہو کر رہے گی۔
حدیث نمبر: 39607
٣٩٦٠٧ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام عن أبيه أن (أصحاب) (١) رسول اللَّه ﷺ (في) (٢) غزوة بني المصطلق لما أتوا المنزل، وقد جلا أهله أجهضوهم، وقد بقي دجاج في المعدن فكان بين غلمان من المهاجرين وغلمان من الأنصار [قتال، (فقال غلمان) (٣) من المهاجرين: يا (للمهاجرين) (٤)، وقال غلمان من الأنصار] (٥): ⦗٥١٣⦘ (يا للأنصار) (٦)، فبلغ ذلك عبد اللَّه بن أُبيّ (بن) (٧) سلول فقال: أما واللَّه لو أنهم لم ينفقوا عليهم انفضوا من حوله، أما واللَّه لئن رجعنا إلى المدينة ليخرجن الأعز منها الأذل، فبلغ ذلك النبي ﷺ فأمرهم بالرحيل مكانه يشغلهم، فأدرك (ركبا) (٨) من بني عبد الأشهل في المسير فقال لهم: "ألم تعلموا ما قال المنافق عبد اللَّه بن أبي؟ " قالوا: (و) (٩) ماذا قال يا رسول اللَّه؟ (قال) (١٠): "قال: (أما) (١١) واللَّه لو لم (ينفقوا) (١٢) عليهم (لانفضوا) (١٣) من حوله أما واللَّه لئن رجعنا إلى المدينة ليخرجن الأعز منها الأذل"، قالوا: صدق يا رسول اللَّه فأنت واللَّه العزيز وهو الذليل (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ غزوہ بنو المصطلق میں جب منزل پر پہنچے۔ تو مہاجرین اور انصار کے کم عمر لڑکوں میں کوئی جھگڑا ہوگیا۔ مہاجرین کے لڑکوں نے کہا۔ یا للمہاجرین۔ اور انصار کے لڑکوں نے کہا۔ یا للانصار۔ یہ خبر عبد اللہ بن ابی بن سلول کو پہنچی تو اس نے کہا۔ ہاں ! بخدا ! اگر انصار ، مہاجرین پر خرچہ نہ کرتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد سے چلے جاتے۔ ہاں ! بخدا ! اگر ہم مدینہ کی طر ف واپس لوٹ گئے تو البتہ ضرور بالضرور عزت والے مدینہ سے ذلت والوں کو نکال دیں گے۔ پس یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو کوچ کرنے کا حکم دیا۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں مشغول کر رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوران سفر بنو عبد الاشہل میں ایک سوار جماعت کو پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا : تمہیں معلوم نہیں ہے کہ منافق عبد اللہ بن ابی نے کیا کہا ہے ؟ انہوں نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس نے کیا کہا ہیَ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے کہا ہے۔ ہاں ! بخدا ! اگر تم (انصار) ان (مہاجرین) پر خرچ نہ کرو تو یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے چلے جائیں گے۔ ہاں۔ بخدا ! اگر ہم مدینہ واپس گئے تو البتہ ضرور بالضرور عزت والے ، مدینہ سے ذلت والوں کو باہر نکال دیں گے۔ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! سچ کہا۔ آپ اور اللہ تعالیٰ عزت والے جبکہ وہ ذلیل ہے۔