حدیث نمبر: 39595
٣٩٥٩٥ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): (حدثنا) (٢) سفيان بن (عيينة) (٣) عن عمرو عن عكرمة أن النبي ﷺ بعث خوات (بن) (٤) (جبير) (٥) إلى بني قريظة على فرس يقال له جناح (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوَّات بن جبیر کو بنو قریظہ کی طر ف ایک جناح نامی گھوڑے پر سوار کر کے بھیجا۔
حدیث نمبر: 39596
٣٩٥٩٦ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير وعبدة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت: لما رجع رسول اللَّه ﷺ يوم الخندق، ووضع (السلاح) (١) واغتسل، (أتاه) (٢) جبريل وقد عصب رأسه الغبار، فقال: وضعتَ السلاح! فواللَّه ما وضعته، فقال رسول اللَّه ﷺ: "فأين؟ " قال: ههنا، وأومأ إلى بني قريظة، قال: فخرج رسول اللَّه ﷺ إليهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوم الخندق سے واپس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلحہ رکھ دیا اور غسل فرما لیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جبرائیل حاضر ہوئے اور ان کے سر پر غبار تھا تو انہوں نے فرمایا۔ آپ نے اسلحہ رکھ دیا ہے۔ بخدا ! میں نے تو اسلحہ نہیں رکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر کدھر ؟ حضرت جبرائیل نے جواب دیا۔ اِدھر ! اور انہوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا ۔ راوی کہتے ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو قریظہ کی طرف نکل پڑے۔
حدیث نمبر: 39597
٣٩٥٩٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن هشام عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ يوم قريظة: "الحرب خدعة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم قریظہ کو فرمایا : جنگ دھوکہ ہے۔
حدیث نمبر: 39598
٣٩٥٩٨ - حدثنا يزيد بن هارون (أخبرنا) (١) هشام عن محمد قال: عاهد (٢) حيي (بن أخطب) (٣) رسول اللَّه ﷺ (أن لا) (٤) يظاهر عليه أحدا وجعل (اللَّه) (٥) عليه كفيلا، قال: فلما كان يوم قريظة أتي به وبابنه سلما، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "أُوفي (الكفيل) (٦) "، فأمر به فضربت عنقه وعنق ابنه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد سے روایت ہے کہ حیی بن اخطب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس شرط پر معاہدہ کیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف کسی کی مدد نہیں کرے گا اور اس بات پر اس نے اللہ تعالیٰ کو کفیل بنایا ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جب بنو قریظہ کا دن آیا۔ اس کو اور اس کے بیٹے کو لایا گیا ۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا انہیں کفیل کے بدلے میں لایا گیا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا ۔ پس اس کی اور اس کے بیٹے کی گردن مار دی گئی۔
حدیث نمبر: 39599
٣٩٥٩٩ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام بن عروة عن عبد اللَّه بن عروة عن عبد اللَّه (بن الزبير) (١) عن الزبير قال: جمع لي رسول اللَّه ﷺ بين أبويه يوم قريظة فقال: "فداك أبي وأمي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو قریظہ والے دن میرے لئے (دعا میں) اپنے والدین کو جمع فرما کر ارشاد فرمایا : تم پر میرے ماں، باپ قربان ہوں۔
حدیث نمبر: 39600
٣٩٦٠٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبي أمامة بن سهل سمعه يقول: سمعت أبا سعيد الخدري يقول: نزل أهل قريظة على حكم سعد بن معاذ قال: فأرسل رسول اللَّه ﷺ إلى سعد، قال: فأتاه على حمار، قال: فلما أن دنا قريبا من المسجد قال رسول اللَّه ﷺ: "قوموا إلى سيدكم أو (خيركم) (١) "، ثم ⦗٥١٠⦘ قال: "إن هولاء (٢) نزلوا على حكمك"، قال: (تقتل) (٣) مقاتلتهم (وتسبى) (٤) ذراريهم، قال: (فقال) (٥) رسول اللَّه ﷺ: "قضيت بحكم (٦) "، وربما قال: "قضيت بحكم اللَّه" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سیدط خدری سے روایت ہے کہ اہل قریظہ، حضرت سعد بن معاذ کے فیصلہ پر اترے ۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد کی طرف کسی کو بھیجا۔ حضرت سعد ، ایک گدھے پر تشریف لائے۔ راوی کہتے ہیں : پھر جب حضرت سعد ، مسجد کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنے سردار “ یا فرمایا : ” اپنے میں سے بہترین شخص۔ “ کی تعظیم میں کھڑے ہو جاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ بلاشبہ یہ لوگ تمہارے فیصلہ پر اترے ہیں۔ حضرت معاذ نے فرمایا : ان لوگوں کے لڑنے والوں کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں، بچوں کو قید کرلیا جائے ۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے مالک (الملک) کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ کبھی راوی یہ قول نقل کرتے ہیں : تم نے خدا کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
حدیث نمبر: 39601
٣٩٦٠١ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام بن عروة قال: أخبرني أبي أنهم نزلوا على حكم رسول اللَّه ﷺ، فردوا الحكم إلى سعد بن معاذ فحكم فيهم سعد ابن معاذ أن تقتل مقاتلتهم وتسبى النساء والذرية، وتقسم أموالهم، قال هشام: قال أبي: فأخبرت أن رسول اللَّه ﷺ قال: "لقد حكمت فيهم بحكم اللَّه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ، اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ بنو قریظہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ پر اترے۔ پھر انہوں نے فیصلہ کرنے کو، حضرت سعد بن معاذ کی طرف لوٹا دیا۔ تو حضرت سعد ابن معاذ نے ان کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا : کہ ان کے مقاتلین کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں، بچوں کو قید کردیا جائے اور ان کے اموال کو تقسیم کردیا جائے۔ ہشام کہتے ہیں۔ میرے والد نے بتایا ہے کہ مجھے خبر ملی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (اے معاذ ! ) تو نے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
حدیث نمبر: 39602
٣٩٦٠٢ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عطاء بن السائب عن عامر قال: رمى أهل قريظة سعد بن معاذ فأصابوا أكحله فقال: اللهم لا تمتني حتى تشفيني منهم، قال: فنزلوا على حكم سعد بن معاذ، فحكم أن تقتل مقاتلتهم وتسبى ذراريهم، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "بحكم اللَّه حكمت" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے روایت ہے کہ بنو قریظہ نے حضرت سعد بن معاذ کو تیر مارا۔ اور انہوں نے آپ کے بازو کی رگ کو زخمی کردیا۔ حضرت معاذ نے دعا مانگی۔ اے اللہ ! تو مجھے موت نہ دینا یہاں تک کہ تو مجھے ان سے شفاء دے دے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر وہ لوگ حضرت معاذ بن سعد کے فیصلہ پر اتر (راضی ہو) گئے۔ پس آپ نے یہ فیصلہ فرمایا : کہ ان کے مقاتلین کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں ، بچوں کو قیدی بنایا جائے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم نے خدا کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
حدیث نمبر: 39603
٣٩٦٠٣ - حدثنا (وكيع) (١) عن إسماعيل (عن) (٢) ابن أبي أوفى يقول: دعا رسول اللَّه ﷺ على الأحزاب فقال: "اللهم منزل الكتاب، سريع الحساب، هازم ⦗٥١١⦘ الأحزاب، اهزمهم وزلزلهم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی اوفی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احزاب (کفار کے لشکروں) پر یہ بددعا فرمائی۔ اے اللہ ! کتا ب کو نازل کرنے والی ذات ، جلد حساب لینے والی ذات، لشکروں کو شکست دینے والی ذات، ان کو شکست دے اور ان کو ہلا کر رکھ دے۔
حدیث نمبر: 39604
٣٩٦٠٤ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر قال: حدثنا يزيد بن الأصم قال: لما كشف اللَّه الأحزاب ورجع النبي ﷺ إلى بيته فأخذ يغسل رأسه أتاه جبريل، فقال: عفا اللَّه عنك، وضعت السلاح ولم تضعه ملائكة السماء، (ائتنا) (١) عند حصن بني قريظة، (فنادى رسول اللَّه ﷺ في الناس: "أن ائتوا حصن بني قريظة") (٢)، ثم اغتسل رسول اللَّه ﷺ فأتاهم عند (الحصن) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن اصم سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے لشکروں کو دور کردیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اپنے گھر ی طرف لوٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک دھونا شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جبرائیل حاضر ہوئے اور کہا۔ اللہ تعالیٰ آپ سے درگزر فرمائے۔ آپ نے اسلحہ رکھ دیا ہے۔ حالانکہ آسمان کے فرشتوں نے اسلحہ نہیں رکھا ؟ آپ ہمارے ساتھ بنو قریظہ کے قلعہ کی طرف تشریف لائیے۔ تو نیا کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں میں منادی کروائی کہ بنو قریظہ کے قلعہ پر پہنچو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان لوگوں کے پاس قلعہ پر تشریف لے گئے۔