کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: غزوہ خندق
حدیث نمبر: 39560
٣٩٥٦٠ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا يزيد بن هارون قال: ⦗٤٨٧⦘ (أخبرنا) (٢) محمد ابن عمرو عن أبيه عن جده عن عائشة قالت: خرجتُ يوم (الخندق) (٣) أقفو آثار الناس، فسمعت وئيد الأرض (ورائي) (٤) فالتفتُ فإذا أنا بسعد بن معاذ ومعه ابن أخيه الحارث بن أوس، يحمل مجنه، فجلست إلى الأرض. قالت: فمر سعد وعليه (درع) (٥) قد خرجت منها أطرافه، فأنا أتخوف على أطراف سعد، قالت: وكان من أعظم الناس وأطولهم، قالت: فمر يرتجز وهو يقول: لَبّثَ قَلِيلا يُدْرِكْ الهَيْجَا حَمَلْ … مَا أَحْسَنَ المَوْتَ إِذَا حَانَ الأَجَلْ (قالت) (٦): فقمت فاقتحمت حديقة، (فإذا) (٧) فيها نفر من المسلمين فيهم عمر بن الخطاب وفيهم (رجل) (٨) عليه تسبغة له -تعني: المغفر-، قال: فقال عمر: ويحك ما جاء بك؟ ويحك ما جاء بك؟ واللَّه إنك (لجريئة) (٩) ما يؤمنك أن يكون (تحوز) (١٠) وبلاء، قالت: فما زال يلومني حتى تمنيت أن الأرض انشقت فدخلت فيها، (قال) (١١): فرفع الرجل (التسبغة) (١٢) عن وجهه فإذا طلحة بن ⦗٤٨٨⦘ عبيد اللَّه، قال: فقال: يا عمر، ويحك قد أكثرت (منذ) (١٣) اليوم، وأين التحوز أو الفرار (إلا) (١٤) إلى اللَّه. (قالت) (١٥): ويرمي سعدا رجلٌ من المشركين من قريش يقال له: حبان بن العرقة بسهم، فقال: خذها وأنا ابن العرقة، فأصاب أكحله فقطعه فدعا اللَّه فقال: اللهم لا تمتني حتى تقر عيني من قريظة -وكانوا حلفاءه ومواليه في الجاهلية- فرقأ كلمه، وبعث اللَّه الربح على المشركين ﴿(وَكَفَى) (١٦) اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا﴾ [الأحزاب: ٢٥]، فلحق أبو سفيان بتهامة، ولحق عيينة بن بدر بن (حصن) (١٧) ومن معه بنجد، ورجعت بنو قريظة فتحصنوا في صياصيهم. ورجع رسول اللَّه ﷺ إلى المدينة فأمر بقبة فضربت على سعد في المسجد ووضع (السلاح) (١٨)، قالت: فأتاه جبريل فقال: أقد وضعت السلاح، واللَّه ما وضعت الملائكة السلاح، فأخرج إلى بني قريظة فقاتلهم. فأمر رسول اللَّه ﷺ بالرحيل ولبس لامته، فخرج فمر على بني غَنْم، وكانوا جيران المسجد، (فقال) (١٩): "من مر بكم؟ " فقالوا: مر بنا دحية الكلبي، وكان دحية تشبه لحيته (وسنة) (٢٠) وجهه بجبريل. ⦗٤٨٩⦘ فأتاهم رسول اللَّه ﷺ فحاصرهم خمسة وعشرين يوما، فلما اشتد حصرهم واشتد البلاء عليهم قيل لهم: انزلوا على حكم رسول اللَّه ﷺ، فاستشاروا أبا لبابة فأشار (إليهم) (٢١) بيده أنه الذبح، فقالوا: ننزل على حكم ابن معاذ، فقال رسول اللَّه ﷺ: "انزلوا على حكم سعد بن معاذ"، فنزلوا وبعث رسول اللَّه ﷺ إلى سعد. (فحمل) (٢٢) على حمار له إكاف من ليف، وحف به قومه، فجعلوا يقولون: يا أبا عمرو، حلفاؤك ومواليك وأهل النكاية ومن قد علمت، لا يرجع إليهم قولا حتى إذا دنا من دارهم التفت إلى قومه فقال: قد (أنى) (٢٣) لسعد أن لا (يبالي) (٢٤) في اللَّه لومة لائم. فلما طلع على رسول اللَّه ﷺ، قال أبو سعيد: قال رسول اللَّه ﷺ: "قوموا إلى سيدكم فأنزلوه"، قال عمر: سيدنا اللَّه، قال: "أنزلوه"، فأنزلوه قال له رسول اللَّه ﷺ: "احكم فيهم"، (قال: (فإني) (٢٥) أحكم فيهم أن) (٢٦) تقتل مقاتلتهم وتسبى ذراريهم وتقسم أموالهم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لقد حكمت فيهم بحكم اللَّه وحكم رسوله". قال: ثم دعا (اللَّه) (٢٧) سعدٌ (فقال) (٢٨): اللهم إن كنت أبقيت على نبيك ⦗٤٩٠⦘ من (حرب) (٢٩) قريش شيئا فأبقني لها، وأن كانت قطعت الحرب بينه وبينهم فاقبضني إليك، (قال) (٣٠): فانفجر كلمه وكان قد برأ حتى ما بقي منه إلا مثل الخرص. قالت: فرجع رسول اللَّه ﷺ، ورجع سعد إلى قبته التي كان ضرب عليه رسول اللَّه ﷺ، قالت: فحضره رسول اللَّه ﷺ وأبو بكر وعمر، قالت: فوالذي نفسي بيده إني لأعرف بكاء أبي بكر من بكاء عمر وأنا في حجرتي، وكانوا كما قال: اللَّه (٣١) ﴿رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾ [الفتح: ٢٩]. قال علقمة: فقلت: أي أمه (فكيف) (٣٢) كان رسول اللَّه ﷺ يصنع؟ قالت: كانت عينه لا تدمع على أحد، ولكنه كان إذا وجد فإنما هو آخذ بلحيته (٣٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں خندق کے دن، لوگوں کے آثار قدم کی پیروی کرتے ہوئے باہر نکلی۔ پس میں نے اپنے پیچھے لوگوں کی آہٹ سُنی۔ میں نے توجہ کی تو وہ سعد بن عبادہ تھے اور ان کے ساتھ ان کے بھتیجے حارث بن اوس تھے۔ جنہوں نے اپنی ڈھال اٹھائی ہوئی تھی۔ پس میں زمین پر بیٹھ گئی ۔ فرماتی ہیں : پس حضرت سعد گزر گئے اور انہوں نے زرہ پہنی ہوئی تھی۔ اور اس کے کنارے باہر نکلے ہوئے تھے۔ اور مجھے حضرت سعد کے کناروں سے خوف آ رہا تھا۔ فرماتی ہیں : یہ صاحب لوگوں میں سے بڑے جثہ والے اور لمبے تھے۔ فرماتی ہیں : پھر وہ رجز پڑھتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے گزر گئے۔ ” تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ جنگ کو زور پکڑنے دو ۔ جب وقت مقرر آجائے تو موت کتنی اچھی ہوتی ہے۔ “ ٢۔ فرماتی ہیں ۔ پھر میں کھڑی ہوئی اور ایک باغیچہ میں گھس گئی تو وہاں مسلمانوں کے چند افراد تھے۔ جن میں عمر بن خطاب بھی تھے اور ان میں ایک آدمی وہ بھی تھا جس پر خود تھی ۔ راوی کہتے ہیں… حضرت عمر نے کہا : عجیب بات ہے ! تمہیں کیا چیز لے آئی ہے ؟ عجیب بات ہے ! تمہیں کیا چیز لے آئی ہے ؟ بخدا ! تم بہت جری ہو۔ تمہیں کس چیز نے فرار اور آزمائش سے مامون کردیا ہے ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : حضرت عمر مجھے مسلسل ملامت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ زمین شق ہوجائے اور میں اس میں داخل ہو جاؤں۔ فرماتی ہیں۔ پھر (دوسرے) آدمی نے اپنے چہرے سے خود اتاری تو وہ طلحہ بن عبید اللہ تھے۔ راوی کہتے ہیں : انہوں نے کہا : اے عمر ! تم پر افسوس ہے آج تم نے بہت زیادہ ملامت کی ہے۔ فرار اور آزمائش اللہ کے سوا کس کی طرف ہوسکتا ہے۔ ٣۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ مشرکین قریش میں سے ایک آدمی نے، جس کو حبان بن العرقۃ کہا جاتا تھا۔ حضرت سعد کو تیر مارا اور کہا۔ اس کو لے لو۔ میں ابن العرقۃ ہوں۔ وہ تیر حضرت سعد کی بازو کی رگ میں لگا اور اس نے وہ رگ کاٹ دی۔ سعد نے اللہ سے دعا کی ۔ اے اللہ ! تو مجھے موت نہ دینا یہاں تک کہ تو بنو قریظہ سے میری آنکھوں کو ٹھنڈا کر دے۔ یہ لوگ سعد کے جاہلیت میں حلیف اور ساتھی تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ پھر ان کے زخم کا خون بند ہوگیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر ہوا بھیج دی۔ وکفی اللّٰہ المؤمنین القتال وکان اللّٰہ قویاً عزیزاً ۔ پس ابو سفیان تہامہ کے علاقہ کے ساتھ جا ملا اور عیینہ بن بدر بن حصن اور اس کے ساتھی نجد کے علاقہ کے ساتھ جا ملے اور بنو قریظہ واپس ہوگئے اور اپنے قلعوں میں قلعہ بند ہوگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کی طرف واپس تشریف لے آئے اور حکم دیا تو حضرت سعد کے لئے مسجد میں خیمہ لگایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلحہ وغیرہ رکھ دیا۔ ٤۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل آئے اور عرض کیا۔ کیا آپ نے اسلحہ اتار دیا ہے ؟ بخدا ! فرشتوں نے تو اسلحہ نہیں اتارا۔ پس آپ بنو قریظہ کی طرف چلئے اور ان سے قتال کیجئے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوچ کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سامانِ حضر زیب تن فرمایا اور نکل پڑے ۔ اور (جب) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو غنم کے پاس سے گزرے… یہ لوگ مسجد کے پڑوسی تھے … تو پوچھا : کون تمہارے پاس سے گزرا ہے ؟ انہوں نے جواباً عرض کیا۔ ہمارے پاس سے حضرت دحیہ کلبی گزرے ہیں۔ حضرت دحیہ کی داڑھی اور چہرے کی شکل حضرت جبرائیل سے مشابہ تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، بنو قریظہ کے پاس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچیس دن تک ان کا محاصرہ فرمایا۔ پس جب بنو قریظہ کا محاصرہ شدید ہوگیا اور ان پر مصیبت سخت ہوگئی تو انہیں کہا گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ پر تسلیم ہو جاؤ۔ انہوں نے ابو لبابہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے انہیں یہ اشارہ کیا کہ فیصلہ تو ذبح کا ہے۔ بنو قریظہ نے کہا۔ ہم ابن معاذ کے فیصلہ پر اترتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم سعد بن معاذ کے فیصلہ پر (ہی) اُتر آؤ۔ پس وہ لوگ اتر آئے۔ ٥۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد کی طرف کسی کو بھیجا اور انہیں گدھے پر سوار کیا گیا جس پر کھجور کی چھال کا پالان تھا اور ان کی قوم نے انہیں گھیر لیا۔ اور یہ کہنے لگے۔ اے ابو عمرو ! (یہ لوگ) تیرے حلیف اور تیرے ساتھی ہیں۔ اور تیری پہچان کے لوگ ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ حضرت سعد نے ان کو کچھ جواب نہیں دیا۔ یہاں تک کہ جب سعد ان کے گھروں کے پاس پہنچے تو فرمایا : اب سعد کے لئے وہ وقت آپہنچا ہے کہ سعد ، اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرے۔ ٦۔ پھر جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہوئے ابو سعید کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنے سردار کے لئے کھڑے ہو جاؤ اور اس ک
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39560
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ والد محمد بن عمرو هو عمرو بن علقمة الصواب أنه صدوق، أخرجه أحمد (٢٥٠٩٧)، وابن حبان (٧٠٢٨)، وابن سعد ٣/ ٤٢١، وإسحاق (١١٢٦)، والطبراني (٥٣٣٠)، وأبو نعيم في الدلائل (٤٣٣)، وبعضه عند البخاري (٤١٢١)، ومسلم (١٧٦٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39560، ترقيم محمد عوامة 37951)
حدیث نمبر: 39561
٣٩٥٦١ - (حدثنا يزيد بن هارون) (١) قال: (أخبرنا) (٢) محمد بن عمرو قال: حدثني عاصم بن عمر بن قتادة قال: لما نام رسول اللَّه ﷺ (٣) حين أمسى (أتاه) (٤) ⦗٤٩١⦘ جبريل (أو قال) (٥) (ملك) (٦)، فقال: (ما) (٧) رجل من أمتك مات الليلة، استبشر بموته أهل السماء، (فقال) (٨): "لا، إلا أن يكون (سعدا) (٩) فإنه أمسى (دنفا) (١٠)، ما فعل سعد؟ " قالوا: يا رسول اللَّه قد قبض، وجاءه قومه فاحتملوه إلى دارهم، قال: فصلى رسول اللَّه ﷺ (الفجر) (١١) ثم خرج وخرج الناس، (فبت) (١٢) رسول اللَّه ﷺ الناس مشيا حتى إن (شسوع) (١٣) نعالهم (لتقطع) (١٤) من أرجلهم، وإن أرديتهم لتسقط عن (عواتقهم) (١٥)، فقال رجل: يا رسول اللَّه (بتت) (١٦) الناس فقال: "إني أخشى أن تسبقنا إليه الملائكة كما سبقتنا إلى حنظلة" (١٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت ہے کہ جب رات ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جبرائیل آئے یا فرمایا : کوئی فرشتہ آیا اور پوچھا : آپ کی امت میں سے کون سا آدمی آج رات وفات پا گیا ہے۔ آسمان والوں کو اس کی موت پر خوشی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سعد کے ساتھ کیا ہوا ؟ صحابہ نے بتایا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! وہ فوت ہوگیا ہے۔ اور ان کی قوم والے آئے تھے اور انہیں اپنے محلہ کی طرف لے گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر پڑھی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل نکلے اور لوگ بھی ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ) چل نکلے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو (تیز) چلا کر تھکا دیا۔ یہاں تک کہ لوگوں کے تسمے ان کے پاؤں سے گرگئے اور ان کی چادریں ان کے کندھوں سے گرگئیں۔ ایک آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے لوگوں کو (تیز) چلا کر تھکا دیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں فرشتے سعد کی طرف ہم سے سبقت نہ کر جائیں جیسا کہ وہ حنظلہ کی طرف ہم سے سبقت کر گئے تھے۔ ٢۔ محمد کہتے ہیں مجھے اشعث بن اسحاق نے بتایا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس پہنچے جبکہ انہیں غسل دیا جا رہا تھا۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھٹنے اکٹھے کرلیے اور فرمایا : ایک فرشتہ آیا ہے اور اس کے لئے بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی پس میں نے اس کے لئے جگہ چھوڑی ہے۔ حضرت سعد کی والدہ رو رہی تھیں اور شعر کہہ رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تمام رونے والیاں کذب بیانی کرتی ہیں سوائے اُمِ سعد کے۔ ٣۔ محمد کہتے ہیں ہمارے ساتھیوں میں سے بعض لوگوں نے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سعد کے جنازہ کے لئے نکلے تو منافقین میں سے بعض لوگوں نے کہا۔ سعد کا تختہ کتنا ہلکا ہے ، یا کہا : سعد کا جنازہ کتنا ہلکا ہیـ؟ راوی کہتے ہیں : مجھے سعد بن ابراہیم نے بیان کیا کہ جس دن حضرت سعد فوت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تحقیق ستر ہزار فرشتے اترے ہیں جو سعد کے جنازہ میں شریک ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس دن سے پہلے (کبھی) زمین کو نہیں روندا تھا۔ ٤۔ محمد کہتے ہیں : پھر میں نے اسمعیل بن محمد بن سعد کو سنا … جبکہ وہ ہمارے پاس خیمہ میں داخل ہوئے اور ہم واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کو دفن کر رہے تھے … انہوں نے کہا : کیا میں تمہیں وہ بات نہ بیان کروں جو میں نے اپنے شیوخ سے سُنی ہیَ ؟ میں نے اپنے شیوخ کو بادن کرتے سُنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد کی وفات کے دن ارشاد فرمایا : بلاشبہ ستر ہزار فرشتے سعد کے جنازہ میں آسمان سے اتر کر شریک ہوئے ہیں جنہوں نے اس دن سے پہلے زمین کو نہیں روندا تھا۔ ٥۔ محمد کہتے ہیں مجھے میرے والد نے بواسطہ اپنے والد، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ مسلمانوں کو نبی کریم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو ساتھیوں (ابو بکر و عمر) یا ان میں سے ایک کے جانے کے بعد، حضرت سعد بن معاذ سے بڑھ کر کسی کی کمی کا شدت سے احساس نہیں ہوا۔ ٦۔ محمد کہتے ہیں : مجھے محمد بن منکدر نے محمد بن شرحبیل کے حوالہ سے بیان کیا کہ ایک شخص نے حضرت سعد کی قبر سے اس دن (دفن کے دن) ایک مٹھی مٹی لے لی اور پھر بعد میں اس کو کھولا تو وہ مشک تھی۔ ٧۔ محمد کہتے ہیں : اور مجھے واقد بن عمرو بن سعد نے (بھی) بیان کیا۔ راوی کہتے ہیں۔ واقد، خوبصورت اور دراز قد لوگوں میں سے تھے … واقد کہتے ہیں : میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ کہتے ہیں : انہوں نے مجھ سے کہا : تم کون ہو ؟ میں نے جواب دیا۔ میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں ۔ انس کہنے لگے۔ اللہ تعالیٰ سعد پر رحم کرے۔ تم تو بلاشبہ سعد کے مشابہ ہو۔ پھر انہوں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ سعد پر رحم کرے ۔ (عام) لوگوں سے دراز قد اور خوبصورت تھے۔ انس کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اکیدر دومہ کی طرف ایک وفد بھیجا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایک ریشمی جبہ بھیجا جس میں سونا، بُنا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جبہ کو زیب تن فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور پھر بیٹھ گئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی بات نہیں کی۔ لوگوں نے اس جُبہ کو ہاتھ لگانا شروع کیا اور اس کو تعجب سے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : کیا تم لوگ اس جبہ کو تعجب سے دیکھتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم نے اس سے خوبصورت کپڑا نہیں دیکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ و
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39561
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عاصم تابعي، ومحمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (١٤٨٩)، وابن سعد ٣/ ٤٢٣، وإسحاق (١١٢٦)، وورد من حديث عاصم عن محمود بن لبيد، أخرجه البخاري في الأدب المفرد (١١٢٩)، والتاريخ الكبير ٧/ ٤٠٢، والتاريخ الأوسط (٦٦)، وابن سعد ٣/ ٤٢٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39561، ترقيم محمد عوامة 37952)
حدیث نمبر: 39562
٣٩٥٦٢ - قال محمد: فأخبرني أشعث بن إسحاق قال: فحضره رسول اللَّه ﷺ وهو يغسل، قال: فقبض رسول اللَّه ﷺ (ركبتيه) (١) (فقال) (٢): "دخل ملك (ولم) (٣) يكن له مجلس فأوسعت له"، (وأمه) (٤) تبكي وهي تقول: ويل أم سعد سعدا … براعة وجدا (بعد (أيادي) (٥) له ومجدا) (٦) … مقدم (سُد) (٧) به (مسدا) (٨) فقال رسول اللَّه ﷺ: "كل البواكي يكذبن إلا أم سعد"، قال محمد: وقال ناس من أصحابنا: إن رسول اللَّه ﷺ لما خرج (لجنازته) (٩) قال ناس من المنافقين: ما أخف سرير سعد أو جنازة (سعد) (١٠) (١١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39562
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أشعث بن إسحاق تابعي، أخرجه أحمد في الفضائل (٨٤٣)، وابن سعد ٣/ ٣٢٩، وهشام ابن عمار (٣٨)، وإسحاق (١١٢٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39562، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 39563
٣٩٥٦٣ - قال: فحدثني سعد بن إبراهيم أن رسول اللَّه ﷺ (قال) (١) يوم مات سعد: "لقد نزل سبعون ألف ملك شهدوا جنازة سعد ما وطئوا الأرض قبل يومئذ" (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39563
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعد تابعي، وأخرجه أحمد في الفضائل (١٤٩١)، وابن سعد ٣/ ٤٢٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39563، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 39564
٣٩٥٦٤ - [قال محمد: فسمعت إسماعيل بن محمد بن سعد ودخل علينا (الفسطاط) (١) ونحن ندفن (واقد) (٢) (بن عمرو) (٣) بن سعد بن معاذ فقال: ألا أحدثكم بما سمعت أشياخنا؟ (سمعت أشياخنا) (٤) يحدثون أن رسول اللَّه ﷺ قال يوم مات سعد: "لقد نزل سبعون ألف ملك شهدوا جنازة سعد ما وطئوا الأرض قبل يومئذ"] (٥) (٦).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39564
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39564، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 39565
٣٩٥٦٥ - قال محمد: فأخبرني أبي عن أبيه عن عائشة قالت: ما كان أحد أشد فقدا على المسلمين بعد رسول اللَّه ﷺ وصاحبيه أو أحدهما من سعد بن معاذ (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39565
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو ووالده صدوقان، وأخرجه أحمد في الفضائل (١٤٩٣)، وابن سعد ٣/ ٤٣٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39565، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 39566
٣٩٥٦٦ - قال محمد: وحدثني محمد بن المنكدر عن محمد بن شرحبيل أن رجلا أخذ قبضة من تراب قبر سعد يومئذ ففتحها بعد فإذا (هو) (١) مسك.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39566
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39566، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 39567
٣٩٥٦٧ - قال محمد: وحدثني واقد بن (عمرو) (١) بن سعد قال: وكان واقد من أحسن الناس وأطولهم، قال: دخلت على أنس بن مالك قال: فقال لي: من أنت؟ قلت: أنا واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ، (قال) (٢): يرحم اللَّه سعدا، إنك ⦗٤٩٤⦘ بسعد لشبيه، ثم قال: يرحم اللَّه سعدا كان من أجمل الناس وأطولهم، قال: بعث رسول اللَّه ﷺ (إلى) (٣) أكيدر دومة فبعث إليه بجبة ديباج منسوج فيها ذهب، فلبسها رسول اللَّه ﷺ فقام على المنبر فجلس فلم يتكلم، (فجعل) (٤) (الناس) (٥) يلمسون (الجبة) (٦) ويتعجبون منها، فقال: "أتعجبون منها؟ قالوا: يا رسول اللَّه ما رأينا ثوبا أحسن منه، قال: "فوالذي نفسي بيده لمناديل سعد بن معاذ في الجنة أحسن مما ترون" (٧).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39567
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (١٢٢٢٣)، وابن حبان (٧٠٣٧)، والترمذي (١٧٢٣)، والنسائي ٨/ ١٩٩، والبيهقي ٣/ ٢٧٣، وابن سعد ٣/ ٤٢٣، وأحمد في الفضائل (١٤٩٥)، وطرفه عند مسلم (٢٤٦٩)، وانظر: البخاري (٢٦١٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39567، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 39568
٣٩٥٦٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن البراء قال: أهدي للنبي ﷺ ثوب حرير، فجعلوا يتعجبون (١) من لينه، فقال النبي ﷺ: "لمناديل سعد في الجنة ألين مما ترون" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ریشم کا کپڑا ہدیہ دیا گیا تو لوگوں نے اس کی ملائمی کو تعجب سے دیکھنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جو کچھ دیکھ رہے ہو، سعد کے جنت کے رومال اس سے بھی زیادہ نرم ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39568
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ صرح أبو إسحاق بالسماع عند الشيخين، أخرجه البخاري (٣٨٠٢)، ومسلم (٢٤٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39568، ترقيم محمد عوامة 37953)
حدیث نمبر: 39569
٣٩٥٦٩ - حدثنا يحيى بن آدم قال: ثنا زهير عن أبي إسحاق قال: (١) سمعت المهلب بن أبي صفرة يقول -وذكر الحرورية (و) (٢) تبييتهم- فقال: (قال) (٣) أصحاب محمد: قال رسول اللَّه ﷺ يوم حفر الخندق وهو يخاف أن يبيتهم ⦗٤٩٥⦘ أبو سفيان: "إن بُيِّتُّم فَإِنَّ دَعْوَاكُمْ: حم لا يُنصرون" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں میں نے مہلب بن ابی صفرہ کو …جبکہ وہ حروریہ اور ان کے شب خون کا ذکر کر رہے تھے… کہتے سُنا۔ کہ اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خندق والے دن فرمایا : اور (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوف تھا کہ ابو سفیان شب خون مارے گا۔ اگر تم پر شب خون مارا جائے تو تم یہ کہنا۔ حم لاَ یُنْصَرُونَ ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39569
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق، أخرجه أحمد (١٦٦١٥)، والنسائي (٨٨٦١)، وأبو داود (٢٥٩٧)، والترمذي (١٦٨٢)، والحاكم ٢/ ١٠٧، وعبد الرزاق (٩٤٦٧)، وابن الجارود (١٠٦٣)، والبيهقي ٦/ ٣٦١، وابن سعد ٢/ ٧٣، وأبو عبيد في الغريب ٤/ ٩٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39569، ترقيم محمد عوامة 37954)
حدیث نمبر: 39570
٣٩٥٧٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن مجاهد عن ابن عمر قال: لقد اهتز العرش لحب لقاء اللَّه سعدا، قال: (إنما يعني السرير) (١)، ورفع أبويه على العرش قالت: تفسخت أعواده، قال: دخل رسول اللَّه ﷺ قبره (فاحتبس) (٢) فلما قالوا: يا رسول اللَّه ما حبسك؟ قال: "ضم سعد في القبر ضمة (فدعوت) (٣) اللَّه أن يكشف عنه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سعد سے ملاقات پر عرش جھوم گیا۔ یعنی تخت… فرمایا : { وَرَفَعَ أَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ } راوی کہتے ہیں ۔ تخت کی لکڑیاں جدا جدا ہوگئیں۔ راوی کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت سعد کی قبر میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں ٹھہر گئے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تو لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کس بات کی وجہ سے آپ اندر ٹھہرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سعد کی قبر کو ملایا گیا تو میں نے اللہ سے اس کیفیت کے ختم ہونے کی دعا کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39570
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ رواية ابن فضيل عن عطاء بعد اختلاطه، أخرجه النسائي (٢١٨٢)، والحاكم ٣/ ٢٠٦، وابن أبي حاتم في التفسير (١٩٩٣)، والطبراني (١٣٥٥٥)، وابن سعد ٣/ ٤٣٣، والبزار كما في المطالب العالية (٤٠٢٧)، وابن حبان (٧٠٣٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39570، ترقيم محمد عوامة 37955)
حدیث نمبر: 39571
٣٩٥٧١ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لقد اهتز العرش لموت سعد بن معاذ" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ، سعد بن معاذ کی موت پر عرش جھوم گیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39571
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو سفيان صدوق، وأخرجه البخاري (٣٨٠٣)، ومسلم (٢٤٦٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39571، ترقيم محمد عوامة 37956)
حدیث نمبر: 39572
٣٩٥٧٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) إسماعيل بن أبي خالد عن (إسحاق) (٢) بن راشد عن امرأة من الأنصار يقال لها أسماء بنت (يزيد) (٣) بن سكن ⦗٤٩٦⦘ قالت: لما خُرج بجنازة سعد بن معاذ (صاحت) (٤) أمه فقال رسول اللَّه ﷺ لأم سعد: " (ألا) (٥) (٦) (يرقأ) (٧) دمعَك وُيذهب حزَنك: أن ابنك أول من ضحك اللَّه له واهتز له العرش" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماء بنت یزید بن سکن سے روایت ہے کہ جب حضرت سعد کا جنازہ لے کر نکلا گیا تو آپ کی والدہ نے چیخ ماری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد کی والدہ سے فرمایا : کیا تمہارے آنسو بند نہیں ہوں گے اور تمہارا غم ختم نہیں ہوگا ؟ حالانکہ تیرا بیٹا پہلا شخص ہے جس کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے ضحک فرمایا : اور اس کی وجہ سے عرش جھوم گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39572
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39572، ترقيم محمد عوامة 37957)
حدیث نمبر: 39573
٣٩٥٧٣ - حدثنا (يزيد) (١) بن هارون قال: (أخبرنا) (٢) محمد بن عمرو عن أبيه عن جده عن عائشة قالت: قدمنا (في) (٣) حج أو عمرة فتلقينا بذي الحليفة، وكان غلمان الأنصار يتلقون أهاليهم، فلقوا أسيد بن حضير فنعوا له امرأته (فتقنع) (٤)، فجعل يبكي، فقلت: غفر اللَّه لك، أنت صاحب رسول اللَّه ﷺ ولك من السابقة والقدم ما لك، وأنت تبكي على امرأة، قالت: فكشف رأسه، (فقال) (٥): صدقت لعمري ليحقن (أن) (٦) لا أبكي على (أحد) (٧) بعد سعد بن معاذ، وقد ⦗٤٩٧⦘ قال له رسول اللَّه ﷺ (ما) (٨) (قال) (٩) (١٠)، (قلت) (١١): وما قال له رسول اللَّه ﷺ؟ قال: "لقد اهتز العرش (لوفاة) (١٢) سعد بن معاذ"، قالت: هو يسير بيني وبين رسول اللَّه ﷺ (١٣) (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم حج یا عمرہ کے سلسلہ میں آئے اور ذوالحلیفہ سے ہمارا استقبال کیا گیا۔ انصار کے بچے اپنے گھر والوں کا استقبال کیا کرتے تھے۔ لوگ حضرت اسید ابن حضیر سے ملے اور انہیں ان کی اہلیہ کی وفات کی خبر دی۔ انہوں نے سر پر کپڑا کرلیا اور رونا شروع کردیا۔ میں نے ان سے کہا : اللہ تعالیٰ تمہاری بخشش کریں۔ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی ہو اور تمہیں سبقت اور قدامت میں بھی ایک مقام حاصل ہے اور تم ایک عورت پر رو رہے ہو ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ انہوں نے اپنا سر کھول دیا اور کہا : میری عمر کی قسم ! آپ نے سچ کہا ہے۔ حضرت سعدبن معاذ کے بعد کسی پر بھی رونے کا حق باقی نہیں ہے۔ ا ن کے بارے میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو فرما دیا تھا فرما دیا تھا۔ میں نے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں کیا کہا تھا۔ انہوں نے کہا۔ (یہ کہا تھا) بلاشبہ ! سعد بن معاذ کی وفات پر عرش بھی جھوم گیا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کیتر ہیں۔ اُسید ، میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان چل رہے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39573
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو وأبوه صدوقان، أخرجه أحمد (٩٠٩٥)، وابن حبان (٧٠٣٠)، والحاكم ٣/ ٢٠٧، وابن سعد ٣/ ٤٣٤، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٩٢٦)، وإسحاق (١٧٢٣)، والطبراني ١/ (٥٥٣)، والطحاوي في شرح المشكل (٤١٧٢)، وأبو نعيم في معرفة الصحابة (٨٧٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39573، ترقيم محمد عوامة 37958)
حدیث نمبر: 39574
٣٩٥٧٤ - حدثنا هوذة بن خليفة عن عوف عن أبي نضرة عن أبي سعيد عن النبي ﷺ قال: "اهتز العرش لموت سعد بن معاذ" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک سعد بن معاذ کی موت پر عرش جھوم اٹھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39574
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ هوذة بن خليفة صدوق، أخرجه أحمد (١١٨٤)، والنسائي في الكبرى (٨٢٢٥)، والحاكم ٣/ ٢٠٦، وابن سعد ٣/ ٤٣٤، وعبد بن حميد (٨٧١)، وأبو يعلى (١٢٦٠)، والطبراني (٥٣٣٤)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ٢/ ٢٧٤، والبزار (٢٧٠١) / كشف).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39574، ترقيم محمد عوامة 37959)
حدیث نمبر: 39575
٣٩٥٧٥ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن رجل حدثه (عن حذيفة) (١) قال: لما مات سعد بن معاذ (قال) (٢) رسول اللَّه ﷺ: "اهتز العرش لروح سعد بن معاذ" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ کی موت واقع ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حضرت سعد بن معاذ کی روح سے عرش جھوم اٹھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39575
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39575، ترقيم محمد عوامة 37960)
حدیث نمبر: 39576
٣٩٥٧٦ - حدثنا عبدة بن سليمان قال: (حدثنا) (١) هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت: (أصيب) (٢) أَكْحَل (سعد) (٣) يوم الخندق، رماه رجل يقال له ابن العرقة (قالت) (٤): فحوّله رسول اللَّه ﷺ إلى المسجد وضرب عليه خيمة ليعوده من قريب (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ خندق والے دن حضرت سعد کی بازو کی رگ زخمی ہوگئی تھی۔ آپ کو ایک ابن العرقہ نامی شخص نے تیر مارا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو مسجد کی طرف منتقل کردیا اور ان پر ایک خیمہ لگا دیا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی قریب ہی سے عیادت کرسکیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39576
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٦٣)، ومسلم (١٧٦٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39576، ترقيم محمد عوامة 37961)
حدیث نمبر: 39577
٣٩٥٧٧ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام بن (عروة) (١) عن أبيه عن عائشة في قوله: ﴿إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ﴾ [الأحزاب: ١٠]، قالت: كان (ذاك) (٢) يوم الخندق (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ {إِذْ جَائُ وکُمْ مِنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْکُمْ ، وَإِذْ زَاغَتِ الأَبْصَارُ ، وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ } یہ حالت خندق والے دن کی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39577
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤١٠٣)، ومسلم (٣٨٧٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39577، ترقيم محمد عوامة 37962)
حدیث نمبر: 39578
٣٩٥٧٨ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ (صاف) (١) (المشركين) (٢) يوم الخندق قال: وكان (يوما) (٣) شديدا لم يلق المسلمون مثله قط، قال: ورسول اللَّه ﷺ جالس وأبو بكر معه جالس، وذلك زمان طلع النخل، قال: وكانوا يفرحون به (إذا رأوه) (٤) فرحا شديدا لأن عيشهم فيه، قال: فرفع أبو بكر ⦗٤٩٩⦘ رأسه فبصر (بطلعة) (٥) وكانت أول طلعة رئيت (٦)، فقال: هكذا، بيده طلعة يا رسول اللَّه -من الفرح-، قال: فنظر (إليه رسول اللَّه ﷺ) (٧) فتبسم (وقال) (٨): "اللهم لا تنزع منا (صالح) (٩) ما أعطيتنا أو صالحا (١٠) أعطيتنا" (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کے مقابل صف بندی فرمائی۔ راوی کہتے ہیں : یہ بہت سخت دن تھا۔ مسلمانوں نے اس جیسا دن کبھی نہیں دیکھا تھا۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے اور حضرت ابوبکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تشریف فرما تھے اور یہ وقت کھجوروں کی پیداواری کا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ لوگ کھجور کے زمانہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے کیونکہ ان کی زندگی (کا مدار ہی) اس پر تھا۔ راوی کہتے ہیں : پھر ابوبکر نے سر اٹھایا تو انہیں کھجور کا شگوفہ دکھائی دیا۔ یہ پہلا دکھائی دینے والا شگوفہ تھا۔ راوی کہتے ہیں : انہوں نے خوشی کی وجہ سے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! شگوفہ۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر تبسم فرمایا۔ اے اللہ ! جو صالح چیز تو ہمیں عطا کرے وہ ہم سے واپس نہ چھیننا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39578
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عروة تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39578، ترقيم محمد عوامة 37963)
حدیث نمبر: 39579
٣٩٥٧٩ - حدثنا أبو أسامة عن شعبة عن أبي إسحاق عن عمرو بن شرحبيل قال: لما أصيب سعد بن معاذ بالرمية يوم الخندق، وجعل دمه يسيل على (النبي) (١) اللَّه ﷺ، [(فجاء أبو بكر فجعل يقول) (٢): وا انقطاع ظهراه، فقال (٣) النبي ﷺ] (٤): " (مه) (٥) يا أبا بكر"، فجاء عمر فقال: إنا للَّه وإنا إليه راجعون (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شرحبیل سے روایت ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ کو خندق والے دن تیر لگ گیا اور ان کا خون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بہنے لگا تو حضرت ابوبکر حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔ ان کی کمر ٹوٹ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر ! ٹھہر جاؤ۔ پھر حضرت عمر حاضر ہوئے اور کہا : انا للہ وانا الیہ راجعون۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39579
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عمرو بن شرحبيل تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39579، ترقيم محمد عوامة 37964)
حدیث نمبر: 39580
٣٩٥٨٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) حماد بن سلمة عن هشام عن أبيه قال: كان في أصحاب رسول اللَّه ﷺ رجل يقال له: مسعود، وكان نماما، ⦗٥٠٠⦘ فلما كان يوم الخندق بعث أهلُ قريظة إلى أبي سفيان أن ابعث إلينا رجالا (٢) يكونون في آطامنا حتى نقاتل محمدا (٣) مما يلي المدينة، وتقاتل أنت مما يلي الخندق، (فشق) (٤) ذلك على النبي ﷺ أن يقاتل من وجهين، فقال لمسعود: "يا مسعود إنا نحن بعثنا إلى بني قريظة أن يرسلوا إلى أبي سفيان فيرسل إليهم (رجالا) (٥) فإذا أتوهم قتلوهم"، قال: فما عدا (أن سمع ذلك) (٦) من النبي ﷺ قال: فما تمالك حتى أتى أبا سفيان فأخبره، فقال: صدق -واللَّه- محمد ما كذب قط، فلم يبعث (إليهم) (٧) أحدا (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں میں ایک صاحب تھے جنہیں ” مسعود “ کہا جاتا تھا۔ یہ بہت چغل خور تھے۔ پس جب خندق کا دن تھا تو بنو قریظہ نے ابو سفیان کی طرف پیغام بھیجا ۔ تم ہماری طرف کچھ بندے بھیج دو جو ہمارے قلعوں میں (مورچہ زن) ہوں تاکہ ہم محمد کے ساتھ مدینہ کی (اندرونی) طرف سے قتال کریں اور تم لوگ خندق کی طرف سے قتال کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو جانب سے لڑنا مشکل محسوس ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسعود سے کہا۔ اے مسعود ! ہم نے بنو قریظہ کی طرف یہ پیغام بھیجا ہے کہ وہ ابو سفیان کی طرف اپنے افراد بھیجیں جب ابو سفیان ان کی طرف اپنے آدمی بھیجے گا تو بنو قریظہ والے ان کو قتل کردیں گے۔ جب مسعودنے یہ بات سنی تو ان سے صبر نہ ہوا اور انہوں نے یہ بات جا کر ابوسفیان کو بتادی۔ ابوسفیان نے کہا کہ خدا کی قسم ! محمد نے ہمیشہ سچ کہا کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ چناچہ اس نے بنو قریظہ کی طرف کسی کو نہیں بھیجا۔ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل جنگی تدبیر کا حصہ تھا) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39580
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عروة تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39580، ترقيم محمد عوامة 37965)
حدیث نمبر: 39581
٣٩٥٨١ - حدثنا وكيع بن الجراح قال: (حدثنا) (١) عبد الواحد بن أيمن عن أبيه عن جابر بن عبد اللَّه قال: مكث النبي ﷺ وأصحابه يحفرون الخندق ثلاثًا ما ذاقوا طعاما، فقالوا: يا رسول اللَّه إن (ههنا) (٢) كُدية من الجبل - (يعني قطعة من الجبل) (٣)، فقال رسول اللَّه ﷺ: "رشوا (عليها) (٤) الماء"، فرشوها ثم جاء النبي ﷺ فأخذ المعول أو المسحاة ثم قال: "بسم اللَّه"، ثم ضرب ثلاثًا فصارت ⦗٥٠١⦘ ثلاثًا فصارت (كثيبا) (٥)، قال جابر: فحانت مني التفاتة، فرأيت رسول اللَّه ﷺ قد شدّ على بطنه حجرا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ تین دن اس حالت میں خندق کھودتے رہے کہ انہوں نے کھانا چکھا بھی نہیں۔ پھر صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! پہاڑ کا کوئی سخت حصہ آگیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس پر پانی چھڑکو۔ پس صحابہ کرام نے اس قطعہ پر پانی کا چھڑکاؤ کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور کدال یا پھاؤڑا ہاتھ میں لیا اور فرمایا : بسم اللہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین ضربیں لگائیں تو وہ قطعہ ریت کا ڈھیر بن گیا۔ حضرت جابر کہتے ہیں : فَحَانَتْ مِنِّی الْتِفَاتَۃٌ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیٹ مبارک پر پتھر باندھا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39581
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤١٠١)، وأحمد (٤٢١١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39581، ترقيم محمد عوامة 37966)
حدیث نمبر: 39582
٣٩٥٨٢ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن البراء قال: رأيت رسول اللَّه ﷺ يوم الخندق ينقل التراب حتى (وارى) (١) الترابُ شعرَ صدره، وهو يرتجز برجز عبد اللَّه بن رواحة يقول: (لا هم) (٢) (لولا) (٣) أنت ما اهتدينا … ولا تصدقنا ولا صلينا فأنزلن سكينة علينا … وثبت الأقدام إن لاقينا إن (الأولى) (٤) قد بغوا علينا … وإن أرادوا فتنة أبينا (٥)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خندق والے دن مٹی ڈھوتے ہوئے دیکھا ۔ یہاں تک کہ مٹی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ مبارک کے بالوں کو چھپا دیا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبد اللہ بن رواحہ کے رجز کو پڑھ رہے تھے اور فرما رہے تھے : ” اے اللہ ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم راہ راست پر نہ آتے، اور نہ ہم صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے۔ “ ” پس تو ہم پر سکینہ کو نازل فرما، اور قدموں کو ثابت رکھ اگر ہماری ملاقات (دشمن سے) ہو۔ “ ” بلا شبہ ان لوگوں نے ہم پر سرکشی کی ہے، اور اگر وہ فتنہ چاہیں گے تو اہم انکار کریں گے۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39582
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٠٣٤)، ومسلم (١٨٠٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39582، ترقيم محمد عوامة 37967)
حدیث نمبر: 39583
٣٩٥٨٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حميد عن أنس قال: خرج رسول اللَّه ﷺ غداة باردة -والمهاجرون والأنصار يحفرون الخندق- فلما نظر إليهم قال: "إن (١) العيش عيش الآخرة … فاغفر للأنصار والمهاجرة" فأجابوه: نحن الذين بايعوا محمدا … على الجهاد ما بقينا أبدا (٢)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ٹھنڈی صبح کو باہر تشریف لائے۔ مہاجرین و انصار خندق کھود رہے تھے۔ تو جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر ان پر پڑی تو فرمایا : ” بلاشبہ زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ پس (اے اللہ ! ) تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ “ صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواباً کہا :” ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی ۔ فریضہ جہاد پر جب تک ہم باقی رہیں۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39583
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، وأخرجه البخاري (٢٨٣٥)، ومسلم (١٨٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39583، ترقيم محمد عوامة 37968)
حدیث نمبر: 39584
٣٩٥٨٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) ابن (أبي) (٢) ذئب عن المقبري عن عبد الرحمن بن أبي سعيد الخدري عن أبيه قال: حبسنا يوم الخندق عن الظهر والعصر والمغرب والعشاء حتى (كفينا) (٣) ذلك، (و) (٤) ذلك قول اللَّه: ﴿(وَكَفَى) (٥) اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا﴾ [الأحزاب: ٢٥]، (فقام) (٦) رسول اللَّه ﷺ فأمر بلالًا، فأقام ثم صلى (الظهر) (٧) كما كان يصليها قبل ذلك، ثم (٨) أقام العصر فصلاها كما كان يصليها قبل ذلك، ثم أقام فصلى (المغرب) (٩) كما كان يصليها قبل ذلك، ثم (أقام) (١٠) فصلى العشاء كما كان يصليها قبل ذلك) (١١) وذلك قبل أن (ينزل) (١٢): ﴿خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا﴾ [البقرة: ٢٣٩] (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمان بن ابو سعید خدری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ خندق کے دن ہمیں ظہر، عصر اور مغرب ، عشا سے محبوس رکھا گیا ۔ یہاں تک کہ ہمیں اس سے کفایت دے دی گئی۔ یہی ارشاد خداوندی (کا معنی) ہے۔ { وَکَفَی اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ ، وَکَانَ اللَّہُ قَوِیًّا عَزِیزًا } پھر نبی کریم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم دیا۔ انہوں نے اقامت کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی ، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے ظہر کی نماز پڑھتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے عصر کے لئے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز بھی ادا کی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، عصر کی نماز پہلے پڑھتے تھے۔ پھر حضر ت بلال نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا فرمائی جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے مغرب پڑھتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشا کی نماز ادا کی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے عشاء ادا کرتے تھے۔ اور یہ واقعہ { فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً ، أَوْ رُکْبَانًا } کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39584
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١١٦٤٤)، والنسائي ٢/ ١٧، وابن خزيمة (٩٩٦)، والطيالسي (٢٢٣١)، والشافعي ١/ ١٩٦، والدارمي ١/ ٣٥٨، وأبو يعلى (١٢٩٦)، والبيهقي ٣/ ٢٥١، وابن عبد البر في التمهيد ٥/ ٢٣٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39584، ترقيم محمد عوامة 37969)
حدیث نمبر: 39585
٣٩٥٨٥ - حدثنا (أبو) (١) خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن سعيد عن عمر بن الخطاب أن رسول اللَّه ﷺ لم يصل يوم الخندق الظهر والعصر حتى غابت الشمس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خندق کے دن غروب شمس تک ظہر اور عصر ادا نہیں کی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39585
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39585، ترقيم محمد عوامة 37970)
حدیث نمبر: 39586
٣٩٥٨٦ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أبي معشر قال: جاء الحارث بن عوف (وعيينة) (١) بن حصن فقالا لرسول اللَّه ﷺ عام الخندق: نكف عنك غطفان على أن تعطينا ثمار المدينة، قال: فراوضوه حتى استقام الأمر على نصف ثمار المدينة، فقالوا: اكتب بيننا وبينك كتابا، فدعا بصحيفة، قال: (والسعدان) (٢) - (سعد) (٣) ابن معاذ وسعد بن عبادة- جالسان، فأقبلا على رسول اللَّه ﷺ (فقالا) (٤): أشيء أتاك عن اللَّه ليس لنا أن نعرض فيه، قال: "لا، ولكني أردت أن أصرف وجوه هؤلاء عني ويفرغ وجهي لهؤلاء"، قال: (قالا) (٥) له: ما نالت منا العرب في جاهليتنا (شيئا) (٦) إلا (بشراء) (٧) أو قرى (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو معشر سے روایت ہے کہ حارث بن عوف اور عیینہ بن حصن آئے اور انہوں نے عام خندق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ ہم آپ سے غطفان کو روک کر رکھیں گے اس شرط پر کہ آپ ہمیں مدینہ کے پھل دیں گے۔ راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کمی بیشی کی بات کی اور معاملہ مدینہ کے نصف پھلوں پر طے ہوگیا۔ انہوں نے کہا۔ ہمارے اور اپنے مابین آپ کوئی تحریر لکھ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کاغذ منگوایا ۔ راوی کہتے ہیں : سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ دونوں تشریف فرما تھے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کیا۔ کیا آپ کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی ایسی بات آئی ہے جس سے ہم اعراض نہیں کرسکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں ! الیکن میرا ارادہ ہے کہ میں ان لوگوں کے چہروں کو خود سے پھیر دوں اور میں اپنے چہرے کو ان کے لئے فارغ کرنا چاہتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ دونوں صحابیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ ہماری جاہلیت کے زمانہ میں عرب نے کبھی ہم سے کچھ نہیں لیا تھا۔ سوائے خریداری اور مہمان نوازی کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39586
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39586، ترقيم محمد عوامة 37971)
حدیث نمبر: 39587
٣٩٥٨٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) هشام بن حسان عن محمد ⦗٥٠٤⦘ (عن) (٢) عبيدة عن علي أن رسول اللَّه ﷺ قال يوم الخندق: "حبسونا عن الصلاة الوسطى: صلاة العصر، ملأ اللَّه بيوتهم وقبورهم نارا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خندق والے دن ارشاد فرمایا : انہوں (مشرکین) نے ہمیں صلوۃ وسطی یعنی عصر کی نماز سے روکا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39587
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٢٢١)، والبخاري (٤٥٣٣)، ومسلم (١٤٠٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39587، ترقيم محمد عوامة 37972)
حدیث نمبر: 39588
٣٩٥٨٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان وابن إدريس عن عبيد اللَّه ابن عمر عن نافع عن ابن عنر قال: عرضني رسول اللَّه ﷺ (يوم) (١) الخندق وأنا ابن خمس عشرة فأجازني، إلا أن ابن إدريس قال: عُرضتُ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ۔ مجھے خندق والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پیش کیا گیا اور میری عمر پندرہ سال تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اجازت عنایت فرما دی۔ ابن ادریس کی روایت میں عُرِضت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39588
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٦٦٤)، ومسلم (١٨٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39588، ترقيم محمد عوامة 37973)
حدیث نمبر: 39589
٣٩٥٨٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ قال يوم الخندق: "من رجل يذهب فيأتينا بخبر بني قريظة"، فركب الزبير فجاءه بخبرهم، ثم عاد فقال ثلاث مرات: "من يجيئني بخبرهم؟ " فقال الزبير: نعم، (قال: وجمع) (١) النبي ﷺ (٢) للزبير أبويه فقال: " (فداك) (٣) أبي وأمي"، وقال للزبير: "لكل نبي حواري، وحواري الزبير وابن عمتي" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خندق والے دن ارشاد فرمایا : کون آدمی جائے گا اور ہمیں بنو قریظہ کی خبر لا کر دے گا ؟ حضرت زبیر سوار ہوگئے اور بنو قریظہ کے بارے میں خبر لے آئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات دہرائی اور تین مرتبہ فرمایا۔ کون مجھے ان کی خبر لا کر دے گا ؟ تو حضرت زبیر نے کہا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زبیر کے لئے اپنے والدین کو جمع فرما کر ارشاد فرمایا : تم پر میرے ماں، باپ قربان ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زبیر سے فرمایا : ہر نبی کا کوئی حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر اور میری پھوپھی کا بیٹا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39589
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عروة تابعي، أخرجه ابن سعد ٣/ ١٠٥، وورد من طريق عروة عن عبد اللَّه بن الزبير، أخرجه الضياء (٢٩٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39589، ترقيم محمد عوامة 37974)
حدیث نمبر: 39590
٣٩٥٩٠ - حدثنا (هوذة) (١) بن خليفة قال: حدثنا عوف عن ميمون قال: (حدثنا) (٢) البراء بن عازب قال: لما (كان) (٣) حيث أمرنا رسول اللَّه صلى اللَّه ⦗٥٠٥⦘ عليه وسلم أن نحفر الخندق، عرض لنا في بعض الجبل صخرة عظيمة شديدة، لا تدخل فيها المعاول، فاشتكينا ذلك إلى رسول اللَّه ﷺ، (فجاء رسول اللَّه ﷺ) (٤)، فلما رآها أخذ العول (وألقى) (٥) ثوبه، وقال: "باسم اللَّه"، ثم ضرب ضربة فكسر ثلثها، وقال: " (٦) اللَّه أكبر أعطيت (مفاتح) (٧) الشام، واللَّه إني لأبصر قصورها الحمر الساعة"، ثم ضرب الثانية فقطع ثلثا آخر فقال: "اللَّه أكبر، أعطيت (مفاتح) (٨) فارس، واللَّه إني لأبصر قصر المدائن الأبيض"، ثم ضرب الثالثة فقال: "باسم اللَّه"، فقطع بقية الحجر وقال: "اللَّه أكبر أعطيت (مفاتح) (٩) اليمن، واللَّه إني لأبصر أبواب صنعاء" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم خندق کھودیں تو ایک پہاڑ کے اندر ہمارے سامنے ایک بڑی چٹان آگئی۔ جس میں کدالیں داخل نہیں ہوتی تھیں۔ ہم نے اس بات کی شکایت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چٹان کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کدال ہاتھ میں لی اور اپنا کپڑا رکھ دیا۔ اور فرمایا : بسم اللہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ضرب لگائی تو ایک تہائی چٹان ٹوٹ گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ اکبر ! شام کی چابیاں عطا کردی گئیں ہیں۔ بخدا ! مجھے اس وقت اس کے سرخ محلات دکھائی دے رہے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری ضرب لگائی ۔ تو ایک تہائی چٹان مزید ٹوٹ گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ اکبر ! فارس (کے خزانوں) کی چابیاں عطا کردی گئی ہیں۔ بخدا ! مجھے مدائن کا سفید محل دکھائی دے رہا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری ضرب لگائی اور فرمایا : بسم اللہ ! تو بقیہ چٹان بھی ٹوٹ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ اکبر ! یمن (کے خزانوں) کی کنجیاں عطا کردی گئی ہیں۔ بخدا ! مجھے صنعاء کے دروازے دکھائی دے رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39590
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ميمون الهزاني، أو تردده بين ثقة وضعيف، أخرجه أحمد (١٨٦٩٥)، والنسائي في الكبرى (٨٨٥٨)، وأبو يعلى (١٦٨٥)، وأبو نعيم في الدلائل (٤٣٠)، والبيهقي في الدلائل ٣/ ٤٢١، والخطيب في تاريخ بغداد ١/ ١٣١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39590، ترقيم محمد عوامة 37975)
حدیث نمبر: 39591
٣٩٥٩١ - حدثنا (هشيم) (١) قال: (أخبرنا) (٢) أبو الزبير (٣) عن نافع بن جبير عن أبي عبيدة عن عبد اللَّه أن المشركين شغلوا النبي ﷺ (٤) يوم الخندق، عن أربع ⦗٥٠٦⦘ صلوات حتى ذهب من الليل ما شاء اللَّه فأمر بلالا، فأذن وأقام (فصلى) (٥) (الظهر) (٦)، ثم أقام فصلى العصر، ثم أقام فصلى المغرب، ثم أقام فصلى العشاء (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ مشرکین نے خندق والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چار نماز سے مشغول رکھا یہاں تک کہ رات کا جتنا حصہ اللہ نے چاہا گزر گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم دیا ۔ انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی پھر حضرت بلال نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی پھر حضرت بلال نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھی پھر حضرت بلال نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39591
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39591، ترقيم محمد عوامة 37976)
حدیث نمبر: 39592
٣٩٥٩٢ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الكريم عن عكرمة أن صفية كانت مع النبي ﷺ يوم الخندق] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت صفیہ خندق والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39592
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عكرمة تابعي، وعبد الكريم هو الجزري ثقة، وأخرجه البيهقي ٦/ ٣٠٨، وابن عساكر ١٨/ ٣٨٠، وورد من حديث عكرمة عن ابن عباس، أخرجه الطبراني ٢٤/ ٨١٥، وابن الأثير في أسد الغابة ٧/ ١٨٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39592، ترقيم محمد عوامة 37977)
حدیث نمبر: 39593
٣٩٥٩٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الكريم (عن عكرمة) (١) قال: لما كان يوم الخندق قام رجل من المشركين (٢) فقال: من يبارز؟ فقال رسول اللَّه ﷺ: "قم يا زبير"، فقالت صفية: يا رسول اللَّه (واحدي) (٣)، فقال: "قم يا زبير"، فقام الزبير فقال (رسول) (٤) اللَّه ﷺ: "أيهما علا (٥) ⦗٥٠٧⦘ صاحبَه (قتله) (٦) "، فعلاه الزبير (فقتله) (٧)، (ثم جاء) (٨) بسلبه فنفله النبي ﷺ (إياه) (٩) (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ جب خندق کا دن تھا اور مشرکین میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور پوچھا : کون مبارز بنے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے زبیر ! کھڑے ہو جاؤ۔ حضرت صفیہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرا ایک بیٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے زبیر ! کھڑے ہو جاؤ۔ پس حضرت زبیر کھڑے ہوگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان دونوں میں سے جو اپنے ساتھی سے بلند ہوگا وہ دوسرے کو قتل کر دے گا۔ پس حضرت زبیر ، اس سے بلند ہوگئے تو انہوں نے اس کو قتل کردیا۔ پھر حضرت زبیر ، اس مقتول کا سامان لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ سامان انہی کو عطا کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39593
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عكرمة تابعي، أخرجه البيهقي ٨/ ٣٠٦، وابن عساكر ١٨/ ٣٨٠، وورد مختصرًا عند عبد الرزاق (٩٤٧٠)، وسعيد بن منصور ١/ (٢٦٩٤)، وأبي عبيد في الأموال (٧٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39593، ترقيم محمد عوامة 37978)
حدیث نمبر: 39594
٣٩٥٩٤ - حدثنا وكيع عن جرير بن حازم عن يعلى بن حكيم والزبير بن (الخريت) (١) وأيوب السختياني كلهم (عن عكرمة) (٢) أن نوفلا - (أو) (٣) ابن نوفل- (تردى) (٤) به فرسُه يوم الخندق فقتل، فبعث أبو سفيان إلى النبي ﷺ (بديته مائة من الإبل، فأبى النبي ﷺ) (٥) (وقال) (٦): "خذوه فإنه خبيث الدية، (خبيث (الجثة) (٧) " (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ نوفل بن نوفل کو خندق والے دن اس کے گھوڑے نے گرا دیا اور وہ قتل ہوگیا ۔ پس ابو سفیان نے اس کی دیت سو اونٹ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار فرما دیا اور فرمایا : اس کو پکڑ لو۔ کیونکہ اس کی دیت بھی خبیث ہے اور اس کی لاش بھی خبیث ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39594
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عكرمة تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39594، ترقيم محمد عوامة 37979)