کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ اُحد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
حدیث نمبر: 39545
٣٩٥٤٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن أبي زياد عن عبد اللَّه بن الحارث بن نوفل أن النبي ﷺ استقبله رجل من المشركين يوم أحد مصلتا يمشي، فاستقبله رسول اللَّه ﷺ يمشي فقال: أنا النبي غير الكذب … أنا ابن عبد المطلب قال: فضربه رسول اللَّه ﷺ فقتله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حارث بن نوفل سے روایت ہے کہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک مشرک تلوار سونتے ہوئے چل رہا تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی چلتے ہوئے اس کے سامنے تشریف لے گئے اور فرمایا؛ میں جھوٹا نبی نہیں ہوں۔ میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ضرب لگائی اور اس کو قتل کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39545
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ عبد اللَّه بن الحارث ليس له رواية، ويزيد ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39545، ترقيم محمد عوامة 37936)
حدیث نمبر: 39546
٣٩٥٤٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: (أخبرنا) (١) عطاء بن السائب عن الشعبي أن امرأة دفعت (إلى) (٢) ابنها يوم أحد السيف، فلم يطلق حمله ⦗٤٧٩⦘ فشدته على ساعده بنسعة، ثم أتت به النبي ﵊ فقالت: يا رسول اللَّه هذا ابني يقاتل عنك، فقال النبي ﵊: "أي بني احمل هاهنا أي بني احمل هاهنا"، فأصابته جراحة، فصرع فأتى النبي ﷺ فقال: "أي بني لعلك جزعت؟ " قال: لا، يا رسول اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے منقول ہے کہ ایک عورت نے احد کے دن اپنے بیٹے کو تلوار دی تو وہ لڑکا تلوار اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا تھا ۔ پس اس عورت نے تلوار اس لڑکے کے بازو رپر رسی کے ذریعہ سے باندھ دی پھر وہ عورت اس لڑکے کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ میرا بیٹا ہے اور یہ آپ کی طرف سے قتال کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو فرمایا : اے بیٹے ! اس طرف حملہ کرو۔ اے بیٹے ! اس طرف حملہ کرو۔ پھر اس لڑکے کو زخم لگ گیا اور وہ گرگیا ۔ پھر اس لڑکے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا۔ اے بیٹے ! شاید کہ تم ڈر گئے ہو ؟ اس نے عرض کیا۔ نہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39546
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الشعبي تابعي، والأظهر أن رواية حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب قبل اختلاطه.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39546، ترقيم محمد عوامة 37937)
حدیث نمبر: 39547
٣٩٥٤٧ - حدثنا عفان، قال: حدثنا حماد بن سلمة، قال: (أخبرنا) (١) عطاء بن السائب، عن الشعبي، عن ابن مسعود أن النساء كن يوم أحد خلف المسلمين يجهزن على جرحى المشركين فلو حلفت يومئذ لرجوت أن أبر: أنه ليس أحد منا يريد الدنيا حتى أنزل اللَّه: ﴿مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ﴾ [آل عمران: ١٥٢] فلما خالف أصحاب النبي ﷺ وعصوا ما أمروا به، (أفرد) (٢) رسول اللَّه ﷺ في تسعة: سبعة من الأنصار ورجلين من قريش وهو عاشرهم، فلما رهقوه (قال) (٣): "رحم اللَّه رجلا ردهم عنا"، قال: فقام رجل من الأنصار فقاتل ساعة حتى قتل، فلما رهقوه أيضا قال: "يرحم (اللَّه رجلا ردهم) (٤) عنا"، فلم يزل يقول حتى قتل السبعة، فقال النبي ﷺ لصاحبيه: "ما أنصفنا أصحابنا". فجاء أبو سفيان فقال: أعل هبل، فقال رسول اللَّه ﷺ: ("قولوا: اللَّه أعلى وأجل"، فقال أبو سفيان: لنا عزى ولا عزى لكم، فقال رسول اللَّه ﷺ) (٥): قولوا: ⦗٤٨٠⦘ "اللَّه مولانا، والكافرون لا مولى لهم"، فقال أبو سفيان: يوم بيوم بدر، يوم لنا ويوم علينا، ويوما (نساء) (٦) ويوما نسر، حنظلة بحنظلة، وفلان بفلان، وفلان بفلان، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لا سواء، أما قتلانا فأحياء يرزقون، وقتلاكم في النار يعذبون". ثم قال أبو سفيان: قد كان في القوم مثلة، وإن كانت (٧) بغير ملاء مني، ما أمرت ولا نهيت، ولا أحببت ولا كرهت، ولا ساءني ولا (سرني) (٨). قال: فنظروا فإذا حمزة قد بقر بطنه وأخذت هند كبده فلاكتها فلم تستطع إن تأكلها، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أكلت منه شيئا؟ "قالوا: لا، قال: "ما كان اللَّه ليدخل شيئا من حمزة النار"، فوضع رسول اللَّه ﷺ حمزة (فصلى) (٩) عليه، وجيء برجل من الأنصار فوضع إلي جنبه فصلى عليه، فرفع الأنصاري وترك حمزة، ثم جيء بآخر فوضعه إلى جنب حمزة فصلى عليه، ثم رفع وترك حمزة حتى صلى عليه يومئذ سبعين صلاة (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ احد کے دن مسلمانوں کے پیچھے عورتیں تھیں جو مشرکین کے زخمیوں کو مار رہی تھیں۔ پس اگر میں اس دن قسم کھاتا تو میں حانث نہ ہوتا کہ : ہم میں سے کوئی ایک بھی دنیا کا ارادہ نہیں کرتا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ { مِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الآخِرَۃَ ، ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ } ٢۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے اختلاف کیا اور حکم کے برخلاف عمل کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نو (٩) افراد کے درمیان… جن میں سے سات انصاری اور دو قریشی تھے … خالی چھوڑ دیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان افراد میں دسویں تھے۔ پھر جب مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھانپ لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم کرے جو انہیں ہم سے دور کر دے ۔ راوی کہتے ہیں : انصار میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے کچھ دیر قتال کیا یہاں تک کہ وہ قتل ہوگئے پھر مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھانپ لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم کرے جو انہں ی (مشرکین کو) ہم سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات مسلسل کہتے رہے یہاں تک کہ سات افراد قتل ہوگئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دو ساتھیوں سے فرمایا : ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ ٣۔ پھر ابو سفیان آیا اور اس نے کہا۔ ہُبل بلند ہو ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم (صحابہ ) کہو۔ اللہ تعالیٰ بلند ہے اور بزرگی والا ہے۔ پھر ابو سفیان نے کہا۔ ہمارے لئے عُزّی ہے اور تمہارے لئے کوئی عُزّی نہیں ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (صحابہ سے) فرمایا : تم کہو : اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں ہے۔ پھر ابو سفیان نے کہا۔ (یہ) دن بدر کے دن کے بدلہ میں ہے۔ ایک دن ہمارے حق میں اور ایک دن ہمارے خلاف ہے ایک دن ہمارے ساتھ بُرا ہوتا ہے اور ایک دن ہمیں خوش کردیا جاتا ہے۔ حنظلہ کا قتل حنظلہ کے بدلہ میں ہے اور فلاں، فلاں کے بدلہ میں۔ اور فلاں، فلاں کے بدلہ میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (جواباً ) ارشاد فرمایا : یہ برابری نہیں ہے۔ بہرصورت ہمارے جو مقتولین ہیں۔ وہ تو زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے اور تمہارے مقتولین جہنم میں عذاب دیئے جا رہے ہیں۔ ٤۔ پھر ابو سفیان نے کہا۔ لوگوں میں مثلہ کا عمل (پایا گیا) ہے اگرچہ یہ مجھ سے مشورہ کئے بغیر ہوا ہے۔ نہ میں نے حکم دیا ہے اور نہ میں نے منع کیا ہے۔ نہ میں نے (اس کو) پسند کیا ہے اور نہ میں نے ناپسند کیا ہے۔ اور یہ چیز نہ تو مجھے بُری محسوس ہوئی ہے اور نہ ہی اچھی محسوس ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر لوگوں نے دیکھا کہ حضرت حمزۃ کا پیٹ چاک کردیا گیا ہے اور ہندہ نے آپ کا کلیجہ لیا اور اس کو چبایا۔ لیکن وہ کلیجہ نہ کھا سکی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ہندہ نے کلیجہ میں سے کچھ کھایا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حمزہ کی کسی چیز کو جہنم میں داخل کرنا نہیں چاہا۔ ٥۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حمزہ (کی میت) کو رکھا اور اس پر نماز جنازہ پڑھی اور پھر ایک انصاری صاحب (مقتول صحابی ) کو لایا گیا اور انہیں حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھی پھر انصاری کی میت اٹھا دی گئی اور حضرت حمزہ کی میت رہنے دی گئی اور پھر ایک اور میت لائی گئی اور اس کو حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھ دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میت پر نماز جنازہ پڑھی۔ پھر دوسری میت اٹھا دی گئی اور حضرت حمزہ کی رہنے دی گئی پھر ایک اور میت لائی گئی اور اس کو حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی پھر یہ میت اٹھا لی گئی اور حضرت حمزہ کو رہنے دیا گیا۔ یہاں تک کہ ا س دن حضرت حمزہ پر ستر مرتبہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39547
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39547، ترقيم محمد عوامة 37938)
حدیث نمبر: 39548
٣٩٥٤٨ - حدثنا محمد بن مروان عن عمارة بن أبي حفصة عن عكرمة قال: شج النبي ﷺ (في وجهه يوم أحد) (١) وكسرت رباعيته، (وذلق) (٢) من العطش حتى ⦗٤٨١⦘ جعل (يقع) (٣) على ركبتيه، وتركه أصحابه فجاء أبي بن خلف يطلبه بدم أخيه أمية بن خلف، فقال: أين هذا الذي يزعم أنه نبي فليبرز (لي) (٤) فإنه إن كان نبيا قتلني، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أعطوني الحرية"، فقالوا: يا رسول اللَّه وبك حراك فقال: "إني قد (استسقيت) (٥) (اللَّه) (٦) دمه"، فأخذ الحربة ثم مشى إليه فطعنه فصرعه عن دابته وحمله أصحابه فاستنقذوه، فقالوا (له) (٧): ما نرى بك بأسا، قال: "إنه قد (استسقى) (٨) اللَّه دمي، إني لأجد لها ما لو كانت على ربيعة ومضر لوسعتهم" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ احد کے دن، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک میں زخم آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے والے چار دانت مبارک شہید ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیاس کی وجہ سے لبِ دم ہوگئے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھٹنوں کے بل جھکنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے علیحدہ ہوگئے۔ تو ابی بن خلف، اپنے بھائی امیہ بن خلف کے خون کا مطالبہ کرتا ہوا آیا اور کہنے لگا۔ کہاں ہے وہ آدمی ! جو گمان کرتا ہے کہ وہ نبی ہے۔ میرے ساتھ مبارزت کرے۔ پس اگر وہ نبی ہوا تو وہ مجھے قتل کر دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے نیزہ دے دو ۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ میں حرکت ہے ؟ (یعنی آپ تو پیاسے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ بلاشبہ میں نے اللہ تعالیٰ سے اس کے خون کے ذریعہ سے سیرابی طلب کی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نیزہ پکڑا اور اس کی طرف چل دیئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو نیزہ مارا اور اس کو اس کی سواری سے گرا دیا۔ اُبی بن خلف کے ساتھیوں نے اس کو اٹھا لیا اور اس کو بچا کرلے گے اور انہوں نے اس کو کہا۔ ہمارے خیال میں تو تمہیں کچھ بھی نہیں ہوا ؟ اس نے جواب دیا۔ بلاشبہ انہوں ( نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے اللہ تعالیٰ سے میرے خون کے ذریعہ سیرابی مانگی ہے۔ پس میں وہ تکلیف محسوس کر رہا ہوں کہ اگر وہ قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر کے لئے ہوتی تو ان کو بھی کفایت کر جاتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39548
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عكرمة تابعي، وورد أوله من حديث عكرمة عن ابن عباس، أخرجه ابن عدي في الكامل ٥/ ٢٩٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39548، ترقيم محمد عوامة 37939)
حدیث نمبر: 39549
٣٩٥٤٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه عن الزبير مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر سے بھی اس کے مثل روایت منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39549
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البيهقي في دلائل النبوة ٣/ ٢٥٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39549، ترقيم محمد عوامة 37940)
حدیث نمبر: 39550
٣٩٥٥٠ - حدثنا أحمد بن عبد اللَّه قال: حدثنا أبو بكر (عن) (١) يزيد (عن) (٢) مقسم عن ابن عباس قال: لما قتل حمزة يوم أحد أقبلت صفية تطلبه لا تدري ما صنع، قال: فلقيت عليا والزبير، فقال علي للزبير: (اذكره) (٣) لأمك، وقال الزبير: ⦗٤٨٢⦘ لا، بل (٤) (اذكره) (٥) أنت لعمتك، قالت: ما فعل حمزة؟ قال: (فأرياها) (٦) أنهما لا يدريان، قال: فجاء النبي ﷺ فقال: "إني لأخاف على عقلها"، قال: فوضع (يده) (٧) على صدرها ودعا لها، قال: فاسترجعت وبكت، قال: ثم جاء فقام عليه وقد مثل به، فقال: " (لولا) (٨) جزع النساء لتركته حتى يحشر من حواصل الطير وبطون (السباع) (٩) "، قال: ثم أمر بالقتلى فجعل يصلي عليهم، قال: (فيضع) (١٠) تسعة وحمزة، فيكبر عليهم سبع تكبيرات، ثم يرفعون ويترك حمزة، ثم يجاء فيكبر عليهم سبعا حتى فرغ منهم (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب احد کے دن حضرت حمزہ قتل ہوگئے تو حضرت صفیہ انہیں تلاش کرنے کو آئیں۔ انہیں خبر نہیں تھی کہ کیا ہوا ہے۔ راوی کہتے ہیں : ان کی ملاقات حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زبیر سے ہوئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت زبیر سے کہا۔ اپنی والدہ کو حضرت حمزہ کے بارے میں بتاؤ۔ حضرت زبیر نے کہا۔ نہیں ! بلکہ آپ انہیں اپنے چچا کے بارے میں بتاؤ۔ حضرت صفیہ کہنے لگی۔ حمزہ نے کیا کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : ان دونوں (علی رضی اللہ عنہ ، زبیر ) نے اسے یہ ظاہر کیا کہ انہیں خبر نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا : مجھے اس کی عقل پر خوف ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک ان کے سینہ پر رکھا اور ان کے لئے دُعا کی۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر حضرت صفیہ نے اناللہ پڑھا اور رو پڑیں ۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور حضرت حمزہ کے پاس کھڑے ہوئے۔ درآنحالیکہ ان کا مثلہ کیا گیا تھا۔ اور فرمایا : اگر عورتوں کا رونا دھونا نہ ہوتا تو میں ان (حمزہ) کو یونہی چھوڑ دیتا تاکہ یہ میدان محشر میں پرندوں کے پوٹوں اور درندوں کے پیٹوں سے جمع ہو کر آتے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہداء کے بارے میں حکم دیا : اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر نماز جنازہ پڑھنی شروع کی۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نو افراد کو اور ساتھ حضرت حمزہ کو رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر سات تکبیرات میں جنازہ پڑھا۔ پھر باقی میتیں اٹھا دی گئیں اور حمزہ کو چھوڑ دیا گیا پھر نو افراد کو لایا گیا اور ان پر سات تکبیرات کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنازہ پڑھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے فارغ ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39550
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه الحاكم ٣/ ١٩٧، وابن ماجه (١٥١٣)، وابن سعد ٣/ ١٤، والطحاوي ١/ ٥٠٣، والطبراني ٣/ (٢٩٣٥)، والبيهقي ٤/ ١٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39550، ترقيم محمد عوامة 37941)
حدیث نمبر: 39551
٣٩٥٥١ - حدثنا خالد بن مخلد قال: (حدثنا) (١) (عبد الرحمن) (٢) بن عبد العزيز قال: حدثنا الزهري عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ قال يوم أحد: "من رأى مقتل حمزة؟ " فقال رجل (أعزل) (٣): أنا رأيت مقتله، قال: فانطلق (فأرناه) (٤)، فخرج حتى وقف على حمزة فرآه قد ⦗٤٨٣⦘ (بقر) (٥) بطنه وقد مثل به، فقال: يا رسول اللَّه مثل به (واللَّه) (٦)، فكره رسول اللَّه ﷺ أن ينظر إليه، ووقف بين ظهراني القتلى فقال: " (أنا) (٧) شهيد على هؤلاء القوم، لفوهم في دمائهم فإنه ليس جريح يجرح إلا جرحه يوم القيامة يدمى، لونه لون الدم، وريحه ريح المسك، قدموا أكثر القوم قرآنا (فاجعلوه) (٨) في اللحد" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمان بن کعب بن مالک، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن ارشاد فرمایا : حمزہ کا مقتل کس نے دیکھا ہے ؟ ایک نہتے شخص نے کہا۔ میں نے حمزہ کا مقتل دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ چلو اور ہمیں ان کا مقتل دکھاؤ۔ پس وہ شخص نکلا یہاں تک کہ وہ حضرت حمزہ کی لاش پر آ کر کھڑا ہوا اور اس نے حمزہ کو دیکھا کہ ان کے پیٹ کو پھاڑا گیا ہے اور ان کا مثلہ بنایا گیا ہے۔ تو اس آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! بخدا ! ان کا تو مثلہ کیا گیا ہے ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمزہ کی طرف دیکھنے کو ناپسند کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقتولین کے درمیان کھڑے ہوگئے اور فرمایا : میں بذات خود ان لوگوں پر گواہ ہوں ۔ انہیں ان کے خون سمیت لپیٹ دو ۔ کیونکہ (ان میں سے) کوئی بھی مجروح، جس کو زخمی کیا گیا ہے۔ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا زخم خون برسا رہا ہوگا۔ اس کا رنگ خون کا رنگ ہوگا اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو ہوگی۔ ان لوگوں میں سے زیادہ قرآن والے کو مقدم کرو اور اس کو (پہلے) لحد میں داخل کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39551
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39551، ترقيم محمد عوامة 37942)
حدیث نمبر: 39552
٣٩٥٥٢ - حدثنا سليمان بن حرب قال: حدثنا حماد بن زيد عن أيوب عن حميد بن هلال عن سعد بن هشام بن عامر عن أبيه قال: اشتكى إلى رسول اللَّه ﷺ شدة الجراح يوم أحد فقال: "احفروا وأوسعوا وادفنوا في القبر الاثنين والثلاثة، وقدموا أكثرهم قرآنا"، فقدموا أبي بين يدي رجلين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن ہشام ، اپنے والد سے روایت کرے ہیں کہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقتولین کی کثرت کا کہا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قبریں کھودو اور کھلی کھودو اور بہترین بناؤ۔ اور ایک قبر میں، دو یا تین افراد کو دفن کردو۔ مُردوں میں سے زیادہ قرآن والے کو مقدم کرو۔ پس لوگوں نے میرے والد کو دو آدمیوں سے مقدم کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39552
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد ٤/ ٢٠ (١٦٣٠٠)، وأبو داود (٣٢٠١٥)، والترمذي (١٧١٣)، والنسائي (٢١٣٨)، وابن ماجه (١٥٦٠)، وسعيد بن منصور (٢٥٨٢)، والطبراني ٢٢/ (٤٤٤)، وعبد الرزاق (١٥٠١)، والبيهقي ٣/ ٤١٣، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٢٢٠، وابن شبه (٣٧٩)، وابن حزم ٥/ ١١٦، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢١٤٤)، وأبو يعلى (١٥٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39552، ترقيم محمد عوامة 37943)
حدیث نمبر: 39553
٣٩٥٥٣ - حدثنا أبو أسامة عن شعبة عن عدي بن ثابت عن عبد اللَّه بن يزيد عن زيد بن ثابت قال: (لما خرج رسول اللَّه ﷺ إلى أحد خرج معه ناس فرجعوا، ⦗٤٨٤⦘ قال: فكان أصحاب رسول اللَّه ﷺ) (١) فيهم فرقتين: قالت فرقة: (نقتلهم) (٢)، وفرقة (قالت) (٣): لا نقتلهم، فنزلت: ﴿(فَمَا لَكُمْ) (٤) فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا﴾ [النساء: ٨٨]، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "إنها طيبة، وإنها تنفي (الخبث) (٥) كما تنفي النار خبث (الفضة) (٦) " (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثاب سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُحد کی طرف نکلے تو کچھ (منافق) لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے پھر واپس آگئے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ، ایسے لوگوں کے بارے میں دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک جماعت نے کہا۔ ہم ان سے قتال کریں گے ۔ اور دوسری جماعت نے کہا۔ ہم ان سے قتال نہیں کریں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : { فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنَافِقِینَ فِئَتَیْنِ وَاللَّہُ أَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوا } راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ طیبہ ہے اور یہ خباثت کو یوں ختم کردیتا ہے۔ جیسا کہ آگ چاندی کی گندگی کو ختم کردیتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39553
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٨٨٤)، ومسلم (٢٧٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39553، ترقيم محمد عوامة 37944)
حدیث نمبر: 39554
٣٩٥٥٤ - (حدثنا) (١) كثير بن هشام قال: حدثنا هشام الدستوائي عن أبي الزبير عن جابر قال: صرخ إلى قتلانا يوم أحد إذ أجرى معاوية العين (فاستخرجناهم) (٢) بعد أربعين سنة لينة أجسادهم تتثنى أطرافهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ جب حضرت معاویہ نے چشمہ جاری فرمایا تو ہمارے احد کے شہداء بارے میں فریاد ہوئی پس ہم نے انھیں چالیس سال (کا عرصہ گزرنے) کے بعد نکالا۔ ان کے جسم ان اعضاء کے ساتھ لپٹے ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39554
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٣/ ٥٦٣، والطحاوي في شرح المشكل ٣/ ٤٩، والبيهقي في دلائل النبوة ٣/ ٢٩١، وابن شبه في أخبار المدينة (٣٨٦)، وابن عبد البر في التمهيد ١٩/ ٢٤١، وابن الأثير في أسد الغابة ٢/ ٧١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39554، ترقيم محمد عوامة 37945)
حدیث نمبر: 39555
٣٩٥٥٥ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس عن أبي طلحة قال: رفعت رأسي يوم أحد فجعلت أنظر، فما أرى أحدا من القوم إلا يميد تحت حجفته من النعاس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طلحہ سے روایت ہے کہ میں نے احد کے دن سر اوپر کر کے دیکھنا شروع کیا۔ تو مجھے صحابہ میں سے کوئی ایک بھی نظر نہ آیا مگر یہ کہ وہ اونگھ کی وجہ سے اپنی ڈھال کے نیچے جھٹکے کھا رہا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39555
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٠٦٨)، والترمذي (٣٠٠٧)، والحاكم ٢/ ٢٥٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39555، ترقيم محمد عوامة 37946)
حدیث نمبر: 39556
٣٩٥٥٦ - حدثنا مالك قال: (حدثنا) (١) يعقوب (بن) (٢) عبد اللَّه (عن) (٣) جعفر ابن أبي المغيرة عن ابن أبزى قال: بارز علي يوم أحد من بني شيبة طلحة (ومسافعا) (٤)، قال: وسمى إنسانا آخر، قال: فقتلهم سوى من قتل من الناس فقال لفاطمة حيث نزل: خذي السيف غير ذميم فقال له رسول اللَّه ﷺ: "لئن كنت أبليت فقد أبلى (فلان الأنصاري) (٥) وفلان الأنصاري (وفلان الأنصاري) (٦) حتى انقطع نفسه أو كاد ينقطع نفسه" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابزی سے روایت ہے کہ احد کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بنی شیبہ میں سے طلحہ اور مسافع کے ساتھ مبارزت کی۔ راوی کہتے ہیں : ایک اور آدمی کا نام بھی (استاد) نے لیا تھا۔ راوی کہتے ہیں : پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جو عام لوگوں (کفار) کو قتل کیا تھا ان کے سوا ان تینوں کو بھی قتل کردیا۔ پھر جب آپ واپس تشریف لائے تو حضرت فاطمہ سے کہا۔ بغیر مذمت کے تلوار کو پکڑو۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے عمدگی سے قتال کیا ہے تو فلاں انصاری نے بھی اور فلاں انصاری نے بھی اور فلاں انصاری نے بھی بہترین قتال کیا ہے۔ یہاں تک کہ اپنی جان ختم کردی یا جان ختم کرنے کے قریب ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39556
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ ابن أبزى، هو سعيد بن عبد الرحمن تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39556، ترقيم محمد عوامة 37947)
حدیث نمبر: 39557
٣٩٥٥٧ - حدثنا يحيى بن عبد الملك بن أبي (غنية) (١) عن أبيه عن الحكم قال: لما كسرت (رباعية) (٢) رسول اللَّه يوم أحد قال رسول اللَّه ﷺ: ("اشتد غضب اللَّه على ثلاثة (٣): من زعم أنه ملك الأملاك) (٤) اشتد غضب اللَّه على (من) (٥) كسر رياعية رسول اللَّه ﷺ وأثر في وجهه، (اشتد) (٦) غضب اللَّه على من زعم ⦗٤٨٦⦘ أن للَّه (ولدا) (٧) " (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے روایت ہے کہ جب احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے والے چار دندان مبارک شہید ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تین لوگوں پر اللہ کا غضب شدید ہے۔ اس آدمی پر جو خود کو بادشاہوں کا بادشاہ گمان کرتا ہے۔ اور اس آدمی پر بھی اللہ کا غضب شدید ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندان کو شہید کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ کو زخمی کیا۔ اور خدا کا غضب اس آدمی پر بھی شدید ہے جو یہ گمان کرتا ہے کہ خدا کا بیٹا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39557
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحكم تابعي، وورد من حديث الحكم عن مقسم عن ابن عباس، أخرجه الطبراني (١٢١١٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39557، ترقيم محمد عوامة 37948)
حدیث نمبر: 39558
٣٩٥٥٨ - حدثنا خالد بن مخلد قال: (حدثنا) (١) مالك بن أنس عن عبد اللَّه بن أبي بكر عن رجل قال: هشمت البيضة على (رأس) (٢) رسول اللَّه ﷺ يوم أحد، وكسرت رياعيته، وجرح في وجهه، ودووي بحصير محرق وكان علي بن أبي طالب ينقل إليه الماء في (الحجفة) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ایک آدمی روایت کرتے ہیں کہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک پر خود ٹوٹ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندان شہید ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جلی ہوئی چٹائی کے ذریعہ دوا کی گئی۔ اور علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ڈھال میں پانی لا رہے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39558
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39558، ترقيم محمد عوامة 37949)
حدیث نمبر: 39559
٣٩٥٥٩ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا حماد بن زيد عن أيوب قال: قال عبد الرحمن بن أبي بكر لأبي بكر: رأيتك يوم أحد (فصغت) (١) عنك، قال: فقال أبو بكر: لكني لو رأيتك ما (صغت) (٢) عنك (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ایوب سے روایت ہے کہ عبد الرحمان بن ابی بکر نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ میں نے احد کے دن آپ کو دیکھا تھا لیکن میں نے آپ سے اعراض کیا۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابوبکر نے فرمایا : لیکن اگر میں تمہیں دیکھتا تو میں تم سے اعراض نہ کرتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39559
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أيوب تابعي، وأخرجه الحاكم ٣/ ٥٣٩ (٦٠٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39559، ترقيم محمد عوامة 37950)