کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ اُحد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
حدیث نمبر: 39505
٣٩٥٠٥ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا جرير بن عبد الحميد عن عطاء بن السائب عن الشعبي قال: مكر رسول اللَّه ﷺ بالمشركين يوم أحد وكان أول (يوم) (٢) مكر فيه بهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے منقول ہے کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن مشرکین کے ساتھ چال چلی تھی۔ اور یہ پہلا دن تھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ چال چلی تھی۔
حدیث نمبر: 39506
٣٩٥٠٦ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت: لما كان يوم أحد هزم المشركون وصاح إبليس: أي عباد اللَّه، أخراكم، قال: فرجعت أولاهم فاجتلدت هي وأخراهم، قال: فنظر حذيفة فإذا هو بأبيه اليمان فقال: عباد اللَّه أبي أبي، قالت: فواللَّه ما (احتجزوا) (١) حتى (قتلوه) (٢) فقال حذيفة: غفر اللَّه لكم، قال عروة: فواللَّه ما زالت في حذيفة بقية خير حتى لحق باللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب احد کا دن تھا، مشرکین کو شکست ہوئی تو شیطان نے آواز لگائی : اے بندگانِ خدا اپنے پیچھے والوں کو دیکھو۔ آگے کے لوگ پیچھے گئے تو پیچھے والوں کے ساتھ مل گئے۔ راوی کہتے ہیں ۔ اس دوران حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ وہ اپنے والد کے مقابل تھے تو انہوں نے کہا۔ اے بندگانِ خدا ! میرے والد۔ میرے والد۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ بخدا ! صحابہ کرام نہ رکے یہاں تک کہ صحابہ نے انہیں قتل کردیا۔ تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ عروہ کہتے ہیں۔ بخدا ! حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ میں خیر باقی رہی یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔
حدیث نمبر: 39507
٣٩٥٠٧ - حدثنا عبد الأعلى عن داود بن أبي هند عن الشعبي قال: لما كان يوم أحد وانصرف المشركون، فرأى (المسلمون) (١) بإخوانهم مثلة سيئة جعلوا يقطعون آذانهم وآنافهم و (يشقون) (٢) بطونهم، فقال أصحاب رسول اللَّه ﷺ: لئن أنالنا اللَّه منهم لنفعلن (ولنفعلن) (٣) فأنزل اللَّه: ﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ ⦗٤٦٥⦘ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ﴾ فقال رسول اللَّه ﷺ (٤): "بل نصبر" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی کہتے ہیں کہ جب احد کا دن تھا اور مشرکین واپس ہوگئے تھے تو مسلمانوں نے اپنے بھائیوں کو بدترین مثلہ کی حالت میں دیکھا۔ مشرکین نے مسلمانوں کے کانوں اور ناکوں کو کاٹا تھا اور ان کے پیٹ چاک کیے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان پر دسترس دی تو ضرور بالضرور ہم بھی ان کے ساتھ (یہی رویہ) اختیار کریں گے۔ اور یہی رویہ اختیار کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ { وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِہِ ، وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَہُوَ خَیْرٌ لِلصَّابِرِینَ } آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بلکہ ہم صبر کریں گے۔
حدیث نمبر: 39508
٣٩٥٠٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن (هاشم) (١) بن هاشم عن سعيد بن المسيب قال: سمعته يقول: كان سعد أشد المسلمين بأسا يوم أحد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ احد کی جنگ میں مسلمانوں میں سے سب سے زیادہ لڑائی لڑنے والے حضرت سعد تھے۔
حدیث نمبر: 39509
٣٩٥٠٩ - حدثنا أبو أسامة (١) عن ابن عون عن عمير بن إسحاق أن الناس انجفلوا عن النبي ﷺ، يوم أحد، وسعد بن مالك يرمي، وفتى (ينبل) (٢) له، فكلما فنيت نبلة، دفع إليه نبلة، ثم قال: ارمه أبا إسحاق، فلما كان بعد طلبوا الفتى فلم يقدروا عليه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن اسحاق سے روایت ہے ۔ جنگ احد میں لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور رہ گئے تھے اور حضرت سعد بن مالک تیر اندازی کر رہے تھے۔ اور ایک جوان انہیں تیر اندازی کے لئے تیر پکڑا رہا تھا۔ پس جونہی ایک تیر چلتا تو وہ دوسرا تیر حضرت سعد کے حوالے کردیتے۔ پھر اس نے کہا۔ اے ابو اسحاق ! اس پر تیر پھینکو۔ پھر بعد میں لوگوں نے اس (تیر پکڑانے والے) جوان کو تلاش کیا ۔ لیکن لوگوں کو اس جوان پر قدرت نہ ہوئی (یعنی نہیں ملا) ۔
حدیث نمبر: 39510
٣٩٥١٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سعد بن إبراهيم عن عبد اللَّه بن شداد عن علي بن أبي طالب قال: ما سمعت رسول اللَّه ﷺ يفدِّي أحدا بأبويه إلا سعدا، فإني سمعته يقول يوم أحد: "إرم سعد فداك أبي وأمي" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب سے روایت ہے کہ میں نے سعد کے علاوہ کسی آدمی کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے والدین کے فدا کہنے کو نہیں سُنا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احد کے دن سُنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے۔ اے سعد ! تیر پھینکو، میرے ماں ، باپ تم پر قربان ہوں۔
حدیث نمبر: 39511
٣٩٥١١ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: سمعت سعدا يقول: جمع لي رسول اللَّه ﷺ أبويه يوم أحد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن میرے لئے اپنے ماں ، باپ کو جمع (کر کے قربان ہونے کا) فرمایا۔
حدیث نمبر: 39512
٣٩٥١٢ - حدثنا محمد بن بشر وأبو أسامة عن مسعر عن سعد بن إبراهيم عن أبيه عن سعد قال: رأيت عن يمين رسول اللَّه ﷺ وعن شماله يوم أحد رجلين عليهما ⦗٤٦٦⦘ ثيابُ بياضٍ، لم أرهما قبل ولا بعد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد کہتے ہیں میں نے احد کے روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں جانب اور بائیں جانب دو آدمیوں کو دیکھا جن پر سفدں رنگ کے کپڑے تھے۔ میں نے ان کو اس سے پہلے اور اس کے بعد (کبھی) نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 39513
٣٩٥١٣ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن (١) عمير بن إسحاق قال: كان حمزة يقاتل بين يدي رسول اللَّه ﷺ يوم أحد بسيفين ويقول: أنا أسد اللَّه، قال: فجعل يقبل ويدبر فعثر فوقع على قفاه مستلقيا وانكشط، وانكشفت الدرع عن بطنه فأبصره العبد الحبشي فزرقه برمح أو حربة (فنفذه) (٢) بها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن اسحاق سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ ، احد کی جنگ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دو تلوار کے ساتھ قتال کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ میں خدا کا شیر ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت حمزہ ، آگے، پیچھے آ جا رہے تھے کہ آپ کو ٹھوکر لگی اور آپ اپنی گردن کے بَل چت گرگئے اور دور ہوگئے اور حضرت حمزہ کے پیٹ پر سے زرہ کھل گئی۔ تو آپ کو ایک حبشی غلام نے دیکھ لیا اور اس نے آپ کو ایک تیر یا نیزہ مارا جو آپ کے پار گزر گیا۔
حدیث نمبر: 39514
٣٩٥١٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سالم عن سعيد بن جبير ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ [آل عمران: ١٦٩]، قال: لما أصيب حمزة بن عبد المطلب ومصعب بن عمير يوم أحد قالوا: ليت إخواننا يعلمون ما أصابنا من الخير كي يزدادوا رغبة فقال اللَّه: أنا أبلغ عنكم فنزلت: ﴿تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا﴾ إلى قوله: ﴿الْمُؤْمِنِينَ﴾ (١) (٢) [آل عمران: ٧١].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر، { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللہِ أَمْوَاتًا ، بَلْ أَحْیَائٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ } کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں۔ جب احد کے دن حضرت حمزہ بن عبد المطلب اور مصعب بن عمیر شہید ہوگئے تو انہوں نے کہا۔ ہم جس خیر کو پاچکے ہیں۔ کاش ! اس کی خبر ہمارے بھائیوں کو ہوجائے تاکہ وہ مزید رغبت کریں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ میں یہ بات تمہاری طرف سے (ان کو) پہنچا دوں گا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللہِ أَمْوَاتًا } سے لے کر { الْمُؤْمِنِینَ } تک ۔
حدیث نمبر: 39515
٣٩٥١٥ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن أسامة بن زيد قال: حدثنا الزهري عن أنس بن مالك أن رسول اللَّه ﷺ مر بحمزة يوم أحد وقد مثل به، فوقف عليه ⦗٤٦٧⦘ فقال: "لو (لا) (٢) أني أخشى أن تجد صفية في نفسها لتركته حتى تأكله (العافية) (٣)، فيحشر من بطونها"، ثم دعا بنمرة، فكانت إذا مدت على رأسه بدت رجلاه، وإذا مدت على رجليه بدا رأسه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "مدوها على رأسه، واجعلوا على رجليه الحرمل"، وقلت الثياب، وكثرت القتلى، فكان الرجل والرجلان (والثلاثة) (٤) يكفنون في الثوب، وكان (النبي) (٥) ﷺ يسأل: "أيهم أكثر قرآنا" فيقدمه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حمزہ کے پاس سے گزرے۔ درآنحالیکہ انھیں مثلہ کیا گیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس کھڑے ہوگئے اور فرمایا۔ اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ حضرت صفیہ اپنے دل میں یہ بات رکھ لیں گی تو میں حمزہ کو (یونہی) چھوڑ دیتا تاکہ اس کو چرند پرند اور مویشی کھا جائیں پھر یہ قیامت کو ان کے پیٹ سے اکٹھے ہو کر زندہ ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سفید و سیاہ دھاریوں والا کمبل منگوایا۔ وہ کمبل جب حمزہ کے سر مبارک پر ڈالا جاتا تو آپ کے پاؤں کھل جاتے اور جب اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں کی طرف کھینچا جاتا تو آپ کا سر کھل جاتا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ یہ کمبل ان کے سر کی طرف کھینچ لو اور ان کے پاؤں پر اسپند بوٹی ڈال دو ۔ کپڑے کم پڑگئے اور مقتولین زیادہ ہوگئے۔ پس ایک ، دو اور تین آدمیوں کو ایک کپڑے میں کفن دیا گیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوچھتے تھے۔ ان میں زیادہ قرآن والا (حافظ) کون ہے ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو مقدم فرماتے ۔
حدیث نمبر: 39516
٣٩٥١٦ - حدثنا شبابة قال: حدثنا ليث بن سعد عن ابن شهاب عن عبد الرحمن ابن كعب بن مالك أن جابر بن عبد اللَّه أخبره أن النبي ﵊ كان يجمع بين الرجلين من قتلى أحد في الثوب الواحد، ثم يقول: "أيهم أكثر أخذا للقرآن"، فإذا أشير له إلى أحدهما قدمه في اللحد، وقال: "أنا شهيد على هؤلاء يوم القيامة"، وأمر بدفنهم بدمائهم، (ولم يصل عليهم) (١) ولم يغسلوا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُحد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں اکھٹا کرتے تھے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوچھتے۔ ان میں سے قرآن مجید کو زیادہ جاننے والا کون ہے ؟ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو قبر میں پہلے اتارتے اور فرماتے ۔ میں ان لوگوں پر قیامت کے دن گواہ ہوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقتولین کو ان کے خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر جنازہ بھی نہیں پڑھایا اور انہیں غسل بھی نہیں دیا گیا۔
حدیث نمبر: 39517
٣٩٥١٧ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: حدثنا أسامة بن زيد عن نافع عن ابن عمر قال: رجع رسول اللَّه ﷺ يوم أحد، فبينما نساء بني عبد الأشهل يبكين على هلكاهن (فقال) (١): "لكن حمزة لا بواكي له"، (فجئن) (٢) نساء الأنصار يبكين على حمزة (ورقد) (٣) فاستيقظ، فقال: "يا ويحهن إنهن لههنا حتى الآن، مروهن فليرجعن ولا يبكين على هالك بعد اليوم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُحد کے دن جب واپس تشریف لائے تو بنی عبد الاشہل کی عورتیں اپنے مقتولین پر رو رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لیکن حمزہ پر کوئی رونے والی نہیں ہیں۔ تو انصار کی عورتیں، حضرت حمزہ پر رونے کے لئے آگئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے تھے، جاگ اٹھے اور فرمایا : اے ہلاکت والیو ! یہ عورتیں ابھی تک یہاں ہیں، ان کو حکم دو کہ یہ واپس ہوجائیں اور آج کے بعد کسی ہلاک ہونے والے پر نہ روئیں۔
حدیث نمبر: 39518
٣٩٥١٨ - حدثنا أبو معاوية (عن الأعمش) (١) عن شقيق عن خباب قال: هاجرنا مع رسول اللَّه ﷺ نبتغي وجه اللَّه، فوجب أجرنا على اللَّه، فمنا من مضى لم يأكل من أجره شيئا، منهم مصعب بن عمير قتل يوم أحد، فلم يوجد له شيء يكفن فيه إلا نمرة، كانوا إذا وضعوها على رأسه خرجت رجلاه، وإذا وضعوها على رجليه خرج رأسه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "اجعلوهما مما يلي رأسه، واجعلوا على رجليه من (الإذخر) (٢) "، ومنا من (أينعت) (٣) له ثمرته فهو (يهدبها) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خباب سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ہجرت کی اور ہم خدا تعالیٰ کی رضا کے متلاشی تھے۔ پس ہمارا اجر تو اللہ پر واجب ہوگیا۔ پھر ہم میں سے بعض وہ تھے جنہوں نے اپنے اجر میں سے کچھ نہیں کھایا۔ انہی میں سے مصعب بن عمیر ہیں جو جنگ احد میں شہید ہوئے تھے اور ان کو کفن دینے کے لئے بھی سوائے ایک چادر کے کچھ میسر نہ ہوا۔ جب صحابہ کرام یہ چادر ان کے سر پر ڈالتے تھے تو ان کے پاؤں کُھل جاتے تھے۔ اور جب اس کو پاؤں کی طرف کھینچتے تھے تو آپ کا سر مبارک کھل جاتا تھا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ چادر اس کے سر کی طرف کردو اور اس کے پاؤں پر اذخر (بوٹی) ڈال دو ۔ اور ہم میں سے بعض وہ تھے جن کے لئے ان کے (اجر کے) پھل پک گئے سو وہ انہیں کاٹ رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 39519
٣٩٥١٩ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: حدثني محمد بن صالح قال: حدثني يزيد بن (زيد) (٢) مولى أبي أسيد البدري عن أبي أُسيد قال: أنا مع رسول اللَّه ﷺ (على) (٣) قبر حمزة، فمدت النمرة على رأسه فانكشفت رجلاه، فجذبت على رجليه فانكشف رأسه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "مدوها على رأسه، واجعلوا على رجليه شجر الحرمل" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی اسید سے روایت ہے ۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حضرت حمزہ کی قبر پر تھے۔ پس چادر حضرت حمزہ کے سر کی طرف کھینچی گئی تو آپ کے پاؤں کھل گئے۔ پھر چادر آپ کے پاؤں کی طرف کھینچی گئی تو آپ کا سر مبارک کھل گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ چادر ان کے سر کی طرف کھینچ دو اور ان کے پاؤں پر حرمل کے پتے ڈال دو ۔
حدیث نمبر: 39520
٣٩٥٢٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن محمد بن إسحاق (١) عن أبيه عن أشياخ من الأنصار قالوا: أتي رسول اللَّه ﷺ (يوم أحد) (٢) (بعبد اللَّه) (٣) بن عمرو بن (حرام) (٤) وعمرو بن جموح قتيلين، فقال: "ادفنوهما في قبر واحد، فإنهما كانا متصافيين في الدنيا" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
انصار کے کچھ شیوخ بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بن حرام اور عمرو بن جموح کو مقتول حالت میں لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ان دونوں کو ایک قبر میں دفن کردو اس لئے کہ یہ دنیا میں باہم مخلص تعلق رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 39521
٣٩٥٢١ - حدثنا عيسى بن يونس عن محمد بن إسحاق قال: أخبرني أبي عن رجال من بني سلمة قالوا: لما صرف معاوية عينه التي تمر على قبور الشهداء جرت عليهما فبرز قبرهما، فاستصرخ عليهما فأخرجناهما يتثنيان تثنيا كأنما ماتا ⦗٤٧٠⦘ بالأمس، عليهما بردتان قد غطوا بهما على وجوههما وعلى أرجلهما من نبات الإذخر (١).
مولانا محمد اویس سرور
بنو سلمہ کے کچھ لوگ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت امیر معاویہ نے شہداء کی قبر کے پاس سے گزرنے والا چشمہ جاری فرمایا تو وہ چشمہ دو شہیدوں کی قبر پر سے گزرا تو ان کی قبر کھل گئی۔ پس لوگوں نے ان کے بارے میں فریاد کی تو ہم نے ان دونوں کو باہر نکالا ۔ وہ دونوں یوں لپٹے ہوئے تھے کہ گویا کل ہی مرے ہیں۔ ان پر دو چادریں تھیں۔ جن کے ذریعہ سے ان کے چہروں کو ڈھانپ دیا گیا تھا اور ان کے قدموں پر اذخر کی بوٹی پڑی ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 39522
٣٩٥٢٢ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن الأسود) (١) (بن) (٢) قيس عن (نُبيح) (٣) عن جابر قال: قال لي أبي عبد اللَّه: أي ابني لولا (نسيات) (٤) أخلفهن من بعدي من أخوات وبنات لأحببت أن أقدمك أمامي، ولكن كن في نظاري المدينة قال: فلم ألبث أن جاءت بهما عمتي قتيلين -يعني: أباه وعمه-، قد عرضتهما على بعير (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد عبد اللہ نے کہا۔ اے میرے بیٹے ! اگر یہ چھوٹی بہنیں اور بیٹیاں، جنہیں میں پیچھے چھوڑ رہا ہوں، نہ ہوتی تو میں اس بات کو پسند کرتا کہ تجھے اپنے سے آگے کرتا۔ لیکن (اب) تم مدینہ میں میرے نظیر بن کر رہو ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جلد ہی میری پھوپھی ان دونوں کو … ان کے والد اور چچا کو … مقتول حالت میں لے آئی۔ ان دونوں کو اس نے اونٹ پر ڈالا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 39523
٣٩٥٢٣ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس قال: قتل رجل من المشركين يوم أحد (فأراد) (١) المشركون أن يدوه فأبى فأعطوه حتى بلغ الدية فأبى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ احد کے دن مشرکین میں سے ایک آدمی قتل کردیا گیا تو مشرکین نے اس کی دیت دینے کا ارادہ کیا، ورثاء کی طرف سے انکار ہو تو انہوں نے دیت کے بقدر دینے کا فیصلہ کیا لیکن پھر بھی انکار ہوا۔
حدیث نمبر: 39524
٣٩٥٢٤ - حدثنا خالد بن مخلد قال: حدثنا إبراهيم بن إسماعيل قال: أخبرني عبد الرحمن بن ثابت وداود بن الحصين عن فارسي مولى بني معاوية أنه ضرب رجلا يوم أحد فقتله (وقال) (١): خذها وأنا الغلام الفارسي، فقال رسول اللَّه ﷺ: ⦗٤٧١⦘ "ما منعك أن تقول الأنصاري وأنت منهم، إن مولى القوم منهم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
بنی معاویہ کے ایک آزاد کردہ غلام فارسی سے روایت ہے کہ انہوں نے احد کے دن ایک آدمی کو مارا اور قتل کردیا ، اور کہا، اس کو پکڑ لو۔ میں تو فارسی غلام ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیں ن انصاری کہنے سے کس نے روکا۔ حالانکہ تم انہی میں سے ہو۔ قوم کا آزاد کردہ غلام اسی قوم میں سے شمار ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 39525
٣٩٥٢٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حميد عن أنس بن مالك أن عمه (١) غاب عن قتال بدر فقال: غبت عن أول قتال قاتله رسوله اللَّه ﷺ المشركين (لئن أراني اللَّه قتال المشركين) (٢)، ليرين اللَّه ما أصنع، فلما كان يوم أحد انكشف المسلمون (فقال) (٣): اللهم إني أعتذر إليك مما صنع هؤلاء -يعني المسلمين، وأبرأ إليك مما ((جاء) (٤) به) (٥) هؤلاء -يعني المشركين، وتقدم فلقيه سعد بأخراها ما دون أحد، فقال سعد: أنا معك، فلم أستطع أصنع ما صنع، ووجُد (فيه) (٦) بضع وثمانون (من) (٧) ضربة بسيف وطعنة (برمح) (٨) ورمية بسهم، (فكنا) (٩) نقول فيه وفي أصحابه نزلت: ﴿فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ﴾ [الأحزاب: ٢٣] (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے چچا ، بدر کی لڑائی میں غیر موجود تھے تو وہ فرماتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کے ساتھ جو پہلی لڑائی لڑی ہے میں اس سے پیچھے رہ گیا ہوں۔ بخدا ! اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے (اب) مشرکین کے ساتھ لڑائی دکھا دی تو میں بھی اللہ تعالیٰ کو اپنا طرز عمل دکھا دوں گا۔ پس جب احد کا دن تھا اور مسلمان چھٹ گئے تو انہوں نے کہا : اے اللہ ! ان لوگوں (مسلمان) نے جو کچھ کیا ہے میں اس پر آپ سے معذرت کرتا ہوں۔ اور یہ لوگ (مشرکین) جو کچھ لے کر آئے ہیں میں آپ کے سامنے اس سے براءت کرتا ہوں۔ اور (یہ کہہ کر) وہ آگے بڑھے۔ تو انہیں حضرت سعد ملے اور حضرت سعد نے کہا۔ میں (بھی) تمہارے ساتھ ہوں۔ حضرت سعد کہتے ہیں، جو انہوں نے کیا وہ میں نہ کرسکا۔ ان کے جسم پر تلواروں کی ضربیں، نیزوں کے وار اور تیروں کے نشانات اَسّی سے کچھ اوپر پائے گئے تھے۔ اور ہم کہا کرتے تھے کہ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں ہی یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ { فَمِنْہُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَہُ وَمِنْہُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ }۔
حدیث نمبر: 39526
٣٩٥٢٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا همام عن قتادة عن الحسن و (سعيد) (١) بن المسيب أن قتلى أحد غسلوا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ احد کے مقتولین کو غسل دیا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 39527
٣٩٥٢٧ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال: رأيت يد طلحة بن عبيد اللَّه شلاء، وقى بها النبي ﷺ يوم أحد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ میں نے طلحہ بن عبید اللہ کے ہاتھ کو شل دیکھا۔ اس ہاتھ کے ذریعہ سے انہوں نے احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کی اور بچاؤ کیا تھا۔
حدیث نمبر: 39528
٣٩٥٢٨ - حدثنا عبد الوحيم بن (سليمان عن) (١) زكريا عن الشعبي قال: قتل حمزة بن عبد المطلب يوم أحد، وقتل حنظلة بن الواهب الذي طهرته الملائكة يوم أحد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے منقول ہے کہ حمزہ بن عبد المطلب کو احد کے دن قتل کیا گیا اور حنظلہ ابن الراہب کو، جنہیں فرشتوں نے غسل دیا تھا … اُحد کے دن قتل کیا گیا۔
حدیث نمبر: 39529
٣٩٥٢٩ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: عرضت على رسول اللَّه صلى اللَّه (١) عليه وسلم (٢) يوم أحد وأنا ابن أربع عشرة فاستصغرني، وعرضت عليه يوم الخندق وأنا ابن خمس عشرة فأجازني (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ۔ مجھے احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا ۔ جبکہ میری عمر چودہ سال کی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے چھوٹا سمجھا اور (پھر) مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خندق کے دن پیش کیا گیا۔ جبکہ میری عمر پندرہ سال کی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے (شرکتِ جہاد کی) اجازت مرحمت فرما دی۔ حضرت نافع کہتے ہیں ۔ میں نے یہ حدیث حضرت عمر بن عبد العزیز کو بیان فرمائی تو انہوں نے کہا : یہ (مقدارِ عمر) چھوٹے، بڑے کے درمیان حد فاصل ہے۔ پھر انہوں نے اپنے عامل کو یہ تحریر لکھ کر بھیجی کہ پندرہ سال والے کے لئے مقاتلین میں اور چودہ سال والے کے لئے ذریۃ میں حصہ مقرر کریں۔
حدیث نمبر: 39530
٣٩٥٣٠ - قال نافع: فحدثت به عمر بن عبد العزيز فقال: هذا حد بين الصغير والكبير، فكتب إلى عماله أن يفرضوا لابن خمس عشرة في المقاتلة، ولابن أربع عشرة في الذرية.
حدیث نمبر: 39531
٣٩٥٣١ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: حدثنا محمد بن عمرو عن (سعد) (١) بن المنذر قال: خرج رسول اللَّه ﷺ إلى أحد، فلما خلف ثنية الوداع (نظر) (٢) خلفه فإذا كتيبة خشناء، (فقال: "من هؤلاء؟ ") (٣) (قالوا) (٤): عبد اللَّه بن أبي بن سلول ومواليه من اليهود، قال: " (أوقد) (٥) أسلموا؟ "، قالوا: لا، بل (هم) (٦) على دينهم، قال: "مروهم فليرجعوا فإنا لا نستعين بالمشركين (على المشركين) (٧) " (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن المنذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُحد کی طرف نکلے ۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ثنیۃ الوداع کو پار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پیچھے ایک سخت رو لشکر دکھائی دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا۔ عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اس کے حمایتی یہودی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ کیا انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : نہیں ! بلکہ یہ اپنے دین پر ہی قائم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انہیں کہہ دو کہ واپس چلے جاؤ۔ اس لئے کہ ہم مشرکین کے خلاف مشرکین سے مدد طلب نہیں کرتے۔
حدیث نمبر: 39532
٣٩٥٣٢ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة أن قتادة بن النعمان سقطت عينه على وجنته يوم أحد، فردها رسول اللَّه ﷺ، فكانت أحسن عين وأحدَّها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت ہے کہ قتادہ بن نعمان کی آنکھ احد کے دن نکل کر ان کے رخسار پر گرگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو واپس رکھ دیا۔ تو یہ آنکھ (دوسری آنکھ سے) زیادہ حسین اور تیز نظر والی تھی۔
حدیث نمبر: 39533
٣٩٥٣٣ - حدثنا معتمر بن سليمان عن معمر عن الزهري عن رجل عن جابر أن النبي ﷺ أمر بالقتلى يوم أحد (فزملوا) (١) بدمائهم وأن يقدم أكثرهم أخذا لقُرآنٍ وأن يدفن إثنان في قبر، قال: فدفنت أبي وعمي في قبر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن کے مقتولین کے بارے میں حکم فرمایا : تو ان کو ان کے خون سمیت کپڑوں میں لپیٹ دیا گیا اور یہ بھی فرمایا کہ ان میں سے زیادہ قرآن والے کو مقدم کیا جائے اور دو آدمیوں کو ایک قبر میں داخل کیا جائے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس میں نے اپنے والد اور چچا کو ایک ہی قبر میں دفن کیا۔
حدیث نمبر: 39534
٣٩٥٣٤ - حدثنا زيد (بن حباب) (١) عن موسى بن عبيدة قال: حدثني محمد بن ثابت أن رسول اللَّه ﷺ قال يوم أحد: "أقدم مصعب" فقال له عبد الرحمن: يا رسول اللَّه ألم يقتل مصعب قال: "بلى، ولكن ملك قام مكانه وتسمى باسمه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن ارشاد فرمایا : اے مصعب ! آگے بڑھو ! حضرت عبد الرحمان نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ یا رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا مصعب قتل نہیں ہوگئے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیوں نہیں ؟ لیکن ان کی جگہ ایک فرشتہ کھڑا ہے اور وہ انہی کے نام سے مسمّٰی ہے۔
حدیث نمبر: 39535
٣٩٥٣٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن الشعبي عن عبد اللَّه قال: كن النساء يوم (أحد) (١) يجهزن على الجرحى ويسقين (الماء) (٢) ويداوين الجرحى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ احد کے دن (مسلمان) عورتیں، (کفار) زخمیوں کو مار رہی تھیں اور (مسلمانوں) کو پانی پلا رہی تھیں اور (مسلمان) زخمیوں کو دوائی دے رہی تھیں۔
حدیث نمبر: 39536
٣٩٥٣٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: (أخبرنا) (١) ثابت عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ أخذ سيفا يوم (أحد) (٢) فقال: "من يأخذ (مني هذا؟) (٣) " فبسطوا أيديهم، فجعل كل إنسان منهم يقول: (أنا) (٤) أنا، فقال: (من يأخذه بحقه؟) (٥) قال: فأحجم القوم، فقال سماك أبو دجانة: أنا آخذه بحقه، قال: فأخذه، ففلق به هام المشركين (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن تلوار پکڑی اور فرمایا۔ اس کو مجھ سے کون لے گا ؟ لوگوں نے ہاتھ آگے کئے۔ اور ہر آدمی کہنے لگا۔ میں، میں (لوں گا) ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ا تلوار کو اس کے حق (کی ادائیگی) کے بدلہ میں کون لے گا ؟ راوی کہتے ہیں۔ پھر لوگ رک گئے ۔ اور سماک ابو دجانہ نے کہا۔ میں اس تلوار کو اس کے حق (کی ادائیگی) کے بدلہ میں لیتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں : پھر ابو دجانہ نے وہ تلوار پکڑ لی اور اس کے ذریعہ بہت سے مشرکین کی کھوپڑیاں پھاڑ ڈالیں۔
حدیث نمبر: 39537
٣٩٥٣٧ - حدثنا أبو معاوية عن هشام عن أبيه قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا رأى أحدا قال: "هذا جبل يحبنا ونحبه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب احد کو دیکھتے تو ارشاد فرماتے ۔ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 39538
٣٩٥٣٨ - حدثنا هاشم بن القاسم (١) قال: حدثنا شعبة عن الحكم قال: لم يصل عليهم ولم يغسلوا يعني قتلى أحد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے روایت ہے کہ احد کے مقتولین پر نماز نہیں پڑھی گئی تھی اور نہ ہی ان کو غسل دیا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 39539
٣٩٥٣٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا عن عامر قال: أصيب يوم أحد أنف النبي ﷺ ورباعيته، وزعم أن طلحة وقى رسول اللَّه ﷺ بيده ⦗٤٧٦⦘ فضرب فشلت (أصبعه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے روایت ہے کہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ناک مبارک پر چوٹ آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے والے چار دندان مبارک زخمی ہوئے۔ اور راوی کا خیال یہ ہے کہ حضرت طلحہ نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بچاؤ کیا تھا۔ اور انہیں نیزے لگے اور ان کی انگلی شل ہوگئی۔
حدیث نمبر: 39540
٣٩٥٤٠ - حدثنا عبد اللَّه بن (بكر) (١) (التيمي) (٢) عن حميد عن أنس عن أبي طلحة قال: كنت فيمن أنزل عليه النعاس يوم أحد حتى (سقط) (٣) سيفي من يدي مرارا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طلحہ سے روایت ہے ۔ میں ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد کے دن اونگھ طاری ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ کئی مرتبہ تلوار میرے ہاتھ سے گرگئی۔
حدیث نمبر: 39541
٣٩٥٤١ - حدثنا (أسود) (١) بن عامر قال: (حدثنا) (٢) حماد بن سلمة قال: (حدثنا) (٣) علي بن زيد وثابت عن أنس أن النبي ﷺ لما رهقه المشركون يوم أحد قال: "من يودهم عنا (وهو) (٤) في الجنة؟ " فقام رجل من الأنصار فقاتل حتى قتل، ثم قام آخر يردهم حتى قتل (حتى قتل) (٥) سبعة فقال النبي ﷺ: "ما أنصفنا أصحابنا" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب احد کے دن مشرکین نے ڈھانپ لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو ان مشرکین کو ہم سے واپس کر دے گا وہ جنت میں جائے گا۔ پس انصار میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور لڑے یہاں تک کہ وہ صاحب قتل ہوگئے۔ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے اور مشرکین کو ہٹانے لگے یہاں تک کہ وہ بھی قتل ہوگئے۔ حتی کہ سات لوگ قتل ہوگئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 39542
٣٩٥٤٢ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثنا موسى بن عبيدة قال: أخبرني عبد اللَّه بن عبيدة عن أبي صالح مولى أم هانئ أن الحارث بن سويد بايع رسول اللَّه ﷺ ⦗٤٧٧⦘ وآمن به، ثم لحق بأهل مكة وشهد (أحدا) (١) فقاتل المسلمين ثم (سقط) (٢) في يده فرجع إلى مكة، فكتب إلى أخيه (جلاس) (٣) بن سويد: يا أخي إني قد ندمت على ما كان مني فأتوب إلى اللَّه، وأرجع إلى الإسلام، فاذكر ذلك لرسول اللَّه ﷺ فإن طمعت (لي) (٤) في توبة فاكتب (إلي) (٥)، (فذكره) (٦) لرسول اللَّه ﷺ فأنزل اللَّه: ﴿كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ﴾، قال: (فقال) (٧) قوم من أصحابه ممن كان عليه: (يتمتع) (٨) ثم (يراجع) (٩) إلى الإسلام فأنزل اللَّه: ﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الضَّالُّونَ﴾ [آل عمران: ٨٦، ٩٠] (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
ام ہانی کے مولیٰ ابو صالح سے روایت ہے کہ حارث بن سوید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لایا۔ پھر وہ اہل مکہ کے ساتھ مل گیا اور (انہی کی طرف سے) اُحد میں شریک ہوا۔ اور مسلمانوں سے قتال کیا پھر اس کو شرمندگی ہوئی اور وہ مکہ لوٹ گیا اور اپنے بھائی جُلاس بن سوید کو خط لکھا۔ اے میرے بھائی ! جو کچھ مجھ سے سرزد ہوا ہے میں اس پر نادم ہوں پس میں اللہ سے توبہ کرتا ہوں اور اسلام کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ تم یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کرو اور اگر تمہیں میری توبہ (کی قبولیت) کے بارے میں امید ہو تو مجھے خط لکھ دو ۔ جلاس نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ { کَیْفَ یَہْدِی اللَّہُ قَوْمًا کَفَرُوا بَعْدَ إِیمَانِہِمْ } تو اس پر اس کے سابقہ ساتھیوں میں سے کچھ لوگ کہنے لگے ہمارے خلاف اپنی قوم کی معاونت کرتا ہے پھر اسلام کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : {إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بَعْدَ إِیمَانِہِمْ ، ثُمَّ ازْدَادُوا کُفْرًا ، لَنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُہُمْ وَأُولَئِکَ ہُمُ الضَّالُّونَ }
حدیث نمبر: 39543
٣٩٥٤٣ - حدثنا زيد بن حباب قال: أخبرنا موسى بن عبيدة قال: أخبرني محمد ابن كعب القرظي أن عليا لقي فاطمة يوم أحد فقال: خذي السيف غير مذموم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "يا علي، إن كنت أحسنت القتال اليوم فقد أحسنه أبو دجانة (١) ومصعب بن عمير والحارث بن الصمة وسهل بن حنيف: ⦗٤٧٨⦘ (ثلاثة) (٢) من الأنصار، ورجل من قريش" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہاحد کے دن حضرت فاطمہ سے ملے اور فرمایا : تلوار پکڑو۔ اس حال میں کہ اس کی مذمت نہیں کی گئی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے علی رضی اللہ عنہ ! اگر آج کے دن … احد کے دن … تم نے بہترین لڑائی کی ہے تو تحقیق ابو دجانہ، مصعب بن عمیر اور حارث بن صمہ اور سہل بن حنیف نے بھی بہترین لڑائی کی ہے۔ (یعنی) تین انصاریوں نے اور ایک قریشی آدمی نے۔
حدیث نمبر: 39544
٣٩٥٤٤ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن عمرو عن عكرمة قال: جاء علي بسيفه فقال: خذيه حميدا، فقال النبي ﷺ: ("إن كنت أحسنت القتال اليوم فقد أحسنه سهل بن حنيف وعاصم بن ثابت والحارث بن الصمة وأبو دجانة"، فقال النبي ﷺ) (١): "من يأخذ هذا السيف بحقه؟ " فقال أبو دجانة: أنا، وأخذ السيف فضرب به حتى جاء به قد حناه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أعطيته حقه؟ " قال: نعم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہاپنی تلوار لے کر تشریف لائے اور فرمایا : (فاطمہ) تعریف کی ہوئی تلوار پکڑ لو۔ (اس پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے آج کے دن بہترین لڑائی لڑی ہے تو تحقیق سہل بن حنیف، عاصم بن ثابت اور حارث بن صمَّہ اور ابو دجانہ نے بھی بہترین لڑائی لڑی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس تلوار کو اس کے حق (کی ادائیگی) کے بدلے میں کون لے گا ؟ حضرت ابو دجانہ نے کہا۔ میں (لوں گا) اور پھر انہوں نے تلوار پکڑی اور اس کو چلایا یہاں تک کہ جب ابو دجانہ وہ تلوار لے کر (واپس) آئے تو انہوں نے اس کو موڑ ڈالا تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے تلوار کو اس کا حق دے دیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں !
…