حدیث نمبر: 39455
٣٩٤٥٥ - حدثنا يحيى بن آدم (قال: حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه أن رجلا أسر أمية بن خلف، فرآه بلال فقتله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے امیہ بن خلف کو قید کرلیا۔ پھر اس کو حضرت بلال نے دیکھا تو قتل کردیا۔
حدیث نمبر: 39456
٣٩٤٥٦ - حدثنا أحمد بن عبد اللَّه قال: حدثنا زهير قال: حدثنا سليمان التيمي أن أنسا حدثهم قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من ينظر ما صنع أبو جهل؟ " [قال: فانطلق ابن مسعود فوجده قد ضربه ابنا عفراء حتى (برد) (١)، قال: أنت أبو جهل؟] (٢)، فأخذ بلحيته، قال: وهل فوق رجل قتلتموه، أو رجل قتله قومه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
سلیمان تیمی بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس نے انہیں بیان کیا ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابو جہل کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس کو کون دیکھے گا ؟ راوی کہتے ہیں : حضرت ابن مسعود چل دیئے تو انہوں نے اس کو اس حالت میں پایا کہ اس کو عفراء کے دو بیٹوں نے ایسا مارا تھا کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا تھا۔ ابن مسعود نے کہا۔ تو ابو جہل ہے۔ اور آپ نے اس کی داڑھی کو پکڑا۔ میں ان لوگوں میں سب سے بلند ہوں جنھیں تم نے قتل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 39457
٣٩٤٥٧ - حدثنا وكيع عن جرير بن حازم عن ابن سيرين قال: أقعص (١) أبا جهل ابنا عفراء (وذفف) (٢) عليه ابن مسعود (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین کہتے ہیں کہ ابو جہل پر موت اتارنے والی ضرب تو عفراء کے دو بیٹوں نے لگائی اور اس کو (آخری طور پر) ابن مسعود نے موت کے گھاٹ اتارا۔
حدیث نمبر: 39458
٣٩٤٥٨ - حدثنا أبو أسامة عن سليمان بن المغيرة عن ثابت قال: قال: أصحاب أبي جهل (لأبي جهل) (١) وهو (يسير) (٢) إلى رسول اللَّه ﷺ يوم بدر: أرأيت مسيرك إلى محمد (٣)؟ أتعلم أنه نبي؟ قال: نعم، ولكن متى كنا تبعا لعبد مناف (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے منقول ہے کہ ابو جہل کے ساتھیوں نے ابو جہل سے کہا۔ جبکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بدر کے دن چل رہا تھا۔ محمد کی طرف اپنے جانے کا ہمیں بھی بتاؤ۔ کیا تم جانتے ہو کہ وہ نبی ہیں ؟ ابو جہل نے کہا : ہاں ! لیکن ہم عبد مناف کے پیرو کب سے ہیں ؟
حدیث نمبر: 39459
٣٩٤٥٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا (أبي) (١) (و) (٢) إسرائيل عن أبي إسحاق ⦗٤٤٨⦘ عن أبي عبيدة قال: قال عبد اللَّه: انتهيت إلى أبي جهل يوم بدر وقد ضربت رجله وهو صريع، وهو يذب الناس عنه بسيفه، فقلت: الحمد للَّه الذي أخزاك يا عدو اللَّه، قال: هل هو إلا رجل قتله قومه، قال: فجعلت أتناوله بسيف لي غير طائل فأصبت يده فندر سيفه فأخذته فضربته به حتى برد ثم خرجت حتى أتيت النبي ﷺ كأنما أُقَلُّ من الأرض -يعني (من السرعة) (٣)، (فأخبرته) (٤) فقال: "اللَّه الذي لا إله إلا هو"، (فرددها) (٥) علي ثلاثًا، فخرج يمشي معي حتى قام عليه فقال: "الحمد للَّه الذي أخزاك -يا عدو اللَّه- هذا كان فرعون هذه الأمة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں : میں بدر والے دن ابو جہل کے پاس پہنچا جبکہ اس کے پاؤں پر ضرب لگی ہوئی تھی اور وہ نیم مردہ حالت میں تھا اور وہ خود سے لوگوں کو اپنی تلوار کے ذریعہ سے ہٹا رہا تھا۔ میں نے کہا۔ اے دشمن خدا ! تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے تجھے رسوا کیا ہے۔ کہا : کہ وہ ایسا شخص ہے جس کو اس کی قوم نے قتل کیا ہے۔ عبد اللہ کہتے ہیں۔ پس میں نے اس کو اپنی چھوٹی سی تلوار سے لینا شروع کیا اور میں اس کے ہاتھ تک پہنچ گیا تو اس کی تلوار گرگئی۔ میں نے وہ تلوار پکڑ لی اور ابو جہل کو اسی تلوار کے ذریعہ سے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر میں (وہاں سے) نکلا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں (اس طرح) حاضر ہو اگویا کہ مجھے زمین سے اٹھایا گیا ہے (یعنی تیزی سے گیا) اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبردی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا واقعی ہی ؟ الذی لا الہ الا ھو ؟ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر تین مرتبہ دہرائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہمراہ چلتے ہوئے باہر تشریف لائے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے اور فرمایا؛ اے دشمن خدا ! تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے تجھے رسوا کیا۔ یہ شخص اس امت کا فرعون تھا۔ حضرت وکیع کہتے ہیں۔ میرے والد نے بواسطہ ابو اسحاق از ابو عبیدہ یہ اضافہ کیا ہے کہ عبد اللہ کہتے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کی تلوار عطا فرمائی۔
حدیث نمبر: 39460
٣٩٤٦٠ - قال وكيع: زاد فيه أبي عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة قال: قال عبد اللَّه: فنفلني رسول اللَّه ﷺ سيفه (١).
حدیث نمبر: 39461
٣٩٤٦١ - حدثنا عبيد اللَّه قال: أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة عن أبيه قال: لقد قللوا في أعيننا يوم بدر، حتى قلت لصاحب لي إلى جنبي: كم تراهم تراهم سبعين؟ قال: أراهم مائة، حتى أخذنا منهم رجلا فسألناه فقال: كنا ألفا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ البتہ تحقیق ہماری آنکھوں میں بدر کے دن (کفار کو) کم مقدار میں ظاہر کیا گیا یہاں تک کہ میں نے اپنے پہلو میں موجود ایک صاحب سے پوچھا : تمہارے خیال میں یہ کتنے ہیں ؟ تمہارے خیال میں یہ ستر ہوں گے۔ اس نے جواب دیا۔ میرے خیال میں یہ ایک سو کی تعداد میں ہیں یہاں تک کہ ہم نے ان میں سے ایک آدمی کو پکڑا اور ہم نے اس سے پوچھا۔ تو اس نے بتایا ۔ کہ ہم ایک ہزار کی تعداد میں ہیں۔
حدیث نمبر: 39462
٣٩٤٦٢ - حدثنا شاذان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن سعيد ابن المسيب قال: قتل يوم بدر خمسة (رجال) (١) من المهاجرين من قريش: مهجع (مولى عمر، يحمل يقول: أنا مهجع) (٢)، وإلى ربي (أجزع) (٣)، وقتل ذو الشمالين وابن بيضاء، وعبيدة بن الحارث، وعامر بن أبي وقاص (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب کہتے ہیں، بدر کے دن قریش میں سے پانچ مہاجرین قتل ہوئے حضرت عمر کے آزاد کردہ غلام مہجع۔ یہ صاحب یہ کہتے ہوئے حملہ آور ہوئے۔ میں مہجع ہوں اور اپنے رب کی طرف ہی ڈرتے ہوئے لپکتا ہوں۔ اور ذوالشمالین، ابن بیضائ، عبیدہ بن حارث اور عامر بن ابی وقاص قتل ہوئے۔
حدیث نمبر: 39463
٣٩٤٦٣ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثني سليمان بن المغيرة قال: حدثنا ثابت قال: إن مع عمر بن الخطاب الحربة يوم بدر، ولا يؤتى بأسير إلا أوجرها إياه، (قال) (١): فلما أخذ العباس قال لآخذه: أتدري من أنا؟ قال: لا، قال: أنا عم رسول اللَّه ﷺ (٢) [فلا تذهب بي إلى عمر، قال: فأمسكه، وأُخذ عقيل وقال لآخذه: تدري من أنا؟ قال: لا، قال: أنا ابن عم رسول اللَّه ﷺ (٣)] (٤) (قال): فأمسك الناس (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت کہتے ہیں کہ بدر کے دن حضرت عمر کے پاس ایک نیزہ تھا۔ جب بھی کوئی قیدی لایا جاتا تو حضرت عمر یہ نیزہ اس کے منہ میں مارتے۔ راوی کہتے ہیں : جب عباس کو پکڑا گیا تو انہوں نے اپنے پکڑنے والے سے کہا۔ تم مجھے جانتے ہو ؟ اس آدمی نے جواب دیا۔ نہیں ! عباس نے کہا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا ہوں۔ پس تم مجھے عمر کے پاس نہ لے کر جاؤ۔ راوی کہتے ہیں : وہ آدمی رک گیا۔ پھر عقیل کو پکڑا گیا تو انہوں نے اپنے پکڑنے والے سے کہا۔ تم مجھے جانتے ہو ؟ اس نے جواب دیا : نہیں ! عقیل نے کہا۔ میں رسول اللہ کا چچا زاد ہوں۔ راوی کہتے ہیں : پھر لوگ رک گئے۔
حدیث نمبر: 39464
٣٩٤٦٤ - حدثنا عيسى بن يونس (عن أبيه) (١) عن أبيه -يعني جده- عن ذي الجوشن الضبابي قال: أتيت رسول اللَّه ﷺ بعد أن فرغ من أهل بدر بابن فرس (لي) (٢) ⦗٤٥٠⦘ يقال لها القرحاء، فقلت: يا محمد، إني قد أتيتك بابن القرحاء لتتخذه، قال: "لا حاجة لي فيه، وإن أردت أن أقيضك به المختارة من دروع بدر فعلت"، قلت: ما كنت أقيضك اليوم ((بغرة) (٣) لا حاجة في فيه) (٤)، ثم قال: "يا ذا الجوشن ألا تسلم فتكون من أول هذا الأمر"، قلت: لا، قال: "ولم؟ " قلت: إني رأيت قومك ولعوا بك، قال: "فكيف ما بلغك عن مصارعهم؟ " قلت: قد بلغني، قال: "فأنى يهدى بك"، قلت: إن تغلب على الكعبة وتقطنها، قال: "لعلك إن (عشت) (٥) أن ترى ذلك"، ثم قال: "يا بلال خذ حقيبة الرجل فزوده من العجوة"، فلما أدبرت قال: "أما إنه خير فرسان بني عامر". قال: فواللَّه إني بأهلي بالعوذاء (إذ) (٦) أقبل راكب (فقلت) (٧): من أين أنت؟ قال: من مكة، قال: (قلت) (٨): ما فعل الناس؟ قال: قد (واللَّه غلب) (٩) عليها محمد (١٠) وقطنها، (فقلت) (١١): هبلتني أمي، لو أسلم يومئذ ثم أسأله (الحيرة) (١٢) لأقطعنيها قال: واللَّه لا أشرب الدهر (في) (١٣) كوز ولا (يضرط) (١٤) ⦗٤٥١⦘ الدهر تحتي برذون (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ذی الجوشن سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل بدر سے فارغ ہوگئے تھے۔ اپنے ایک گھوڑے کے بچے کو لے کر حاضر ہوا۔ جس گھوڑے کا نام ۔ القرحائ۔ تھا اور میں نے عرض کیا۔ اے محمد ! میں آپ کے پاس اس قرحاء کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ یہ آپ لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے اگر تم اس کے بدلہ میں مجھ سے بدر کی زرہ میں سے منتخب ذرہ بدلہ میں لینا چاہتے ہو تو پھر میں یہ لے سکتا ہوں۔ میں نے عرض کیا۔ میں آج آپ سے اس گھوڑے کے عوض کچھ نہیں لوں گا۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ذو الجوشن ! کیا تم اسلام نہیں لے آئے تاکہ تم اس معاملہ (دین) کے پہلوں میں سے ہو جاؤ ؟ میں نے جواب دیا : نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیوں ؟ میں نے کہا : میں آپ کی قوم کو دیکھتا ہوں کہ وہ آپ کے درپے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہیں ان کے پچھاڑے ہوئے (مُردوں) کے بارے میں کیسی خبر پہنچی ہے ؟ میں نے کہا : وہ تو مجھے پہنچی ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر کب تیرے ذریعہ سے ہدایت دی جائے گی ؟ میں نے کہا ۔ اگر آپ کو مکہ پر غلبہ اور وہاں پر آباد ہونا میسر آگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہوسکتا ہے کہ تو اس بات کو دیکھنے تک زندہ رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! اس آدمی کا توشہ دان پکڑو اور اس کو توشہ میں عجوہ دے دو ۔ پھر جب رُخ پھیر کر مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ خبردار ! یہ بنو عامر کا بہترین گھڑ سوار ہے۔ راوی کہتے ہیں : بخدا ! میں عوذاء مقام پر اپنے گھر والوں کے ساتھ تھا کہ ایک سوار سامنے آیا ۔ میں نے پوچھا۔ تم کہاں سے آئے ہو ؟ اس نے جواب دیا ۔ مکہ سے میں نے پوچھا۔ (وہاں) لوگوں کا کیا ہوا ؟ اس آدمی نے کہا بخدا ! مکہ پر محمد کا غلبہ ہوگیا ہے اور وہ وہاں پر آباد ہوگئے ہیں۔ میں نے کہا۔ میری ماں مجھے گم پائے۔ کاش میں اس دن اسلام لے آتا۔ پھر میں ان سے حیرہ کی سلطنت بھی مانگتا تو مجھے مل جاتی۔ خدا کی قسم ! میں کبھی صراحی سے نہیں پیوں گا اور میرے نیچے کبھی گھوڑا نہیں آئے گا۔
حدیث نمبر: 39465
٣٩٤٦٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: قيل لرسول اللَّه ﷺ حين فرغ من بدر: عليك بالعير ليس دونها شيء، فناداه العباس وهو أسير في وثاقه: (لا يصلح) (١)، (فقال) (٢) رسول اللَّه ﷺ: (لمه؟) (٣) قال: إن اللَّه وعدك إحدى الطائفتين وقد أعطاك ما وعدك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا۔ آپ پر قافلہ لازم ہے اس کے سوا کوئی چیز نہیں ۔ (یعنی قافلہ کو بھی قابو کریں) پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عباس نے… وہ بیڑی میں جکڑے ہوئے تھے… آواز دی۔ یہ درست نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ کیوں ؟ عباس نے کہا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا۔ سو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا (کیا ہوا) وعدہ عطا کردیا ہے۔
حدیث نمبر: 39466
٣٩٤٦٦ - حدثنا وكيع عن هشام عن عروة عن رجل من ولد الزبير قال: كان على الزبير يوم بدر عمامة صفراء معتجرا بها، فنزلت الملائكة عليهم عمائم صفر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر کی اولاد میں سے ایک آدمی روایت کرتے ہیں کہ یوم بدر میں حضرت زبیر ایک زرد رنگ عمامہ پہنے ہوئے تھے اور اس کا پلہ منہ پر لیا ہوا تھا۔ پس فرشتے بھی اس حالت میں اترے کہ ان پر زرد رنگ کے عمامہ تھے۔
حدیث نمبر: 39467
٣٩٤٦٧ - حدثنا عبدة عن هشام (عن) (١) (عباد) (٢) بن حمزة عن الزبير ⦗٤٥٢⦘ بنحو منه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر سے بھی ایسی روایت ہے۔
حدیث نمبر: 39468
٣٩٤٦٨ - حدثنا عبدة عن هشام عن أبيه عن ابن عمر أن النبي ﵊ (١) وقف على قليب بدر فقال: "هل وجدتم ما وعد ربكم" -ثم قال-: "إنهم الآن (ليسمعون) (٢) ما أقول" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کے کنویں پر کھڑے ہوئے اور فرمایا : کیا تم نے اس بات کو حق پا لیا جو تمہارے رب نے تم سے وعدہ کیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ (مُردے) اس وقت جو بات کہہ رہا ہوں اس کو سُن رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 39469
٣٩٤٦٩ - حدثنا أبو أسامة عن هشام قال: لم يكن مع النبي ﵊ يوم بدر إلا فرسان كان على (أحدهما) (١) الزبير (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام سے روایت ہے کہ یوم بدر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ دو گھوڑے تھے۔ ان میں سے ایک پر حضرت زبیر تھے۔
حدیث نمبر: 39470
٣٩٤٧٠ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس (عن مطرف عن أبي إسحاق عن البراء قال: عرضت أنا وابن عمر على رسول اللَّه ﷺ يوم بدر) (١) (فاستصغرنا) (٢) وشهدنا أحدا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء سے روایت ہے کہ یوم بدر کو مجھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو ہمیں چھوٹا سمجھا گیا اور ہم احد میں شریک ہوئے۔
حدیث نمبر: 39471
٣٩٤٧١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت (عن) (١) أنس أن رسول اللَّه ﷺ شاور حيث بلغه إقبال أبي سفيان، قال: فتكلم أبو بكر، فأعرض ⦗٤٥٣⦘ عنه ثم تكلم عمر: فأعرض عنه، فقال سعد بن عبادة: إيانا تريد يا رسول اللَّه والذي نفسي بيده لو أمرتنا أن نخيضها البحر لأخضناها، ولو أمرتنا أن (نضرب) (٢) أكبادها إلى برك الغماد لفعلنا، قال: فندب رسول اللَّه ﷺ الناس. قال: فانطلقوا حتى نزلوا بدرا (٣) وردت عليهم (روايا) (٤) قريش، وفيهم غلام أسود لبني الحجاج، فأخذوه فكان أصحاب رسول اللَّه ﷺ يسألونه عن أبي سفيان وأصحابه فيقول: ما لي علم بأبي سفيان، ولكن هذا أبو جهل وعتبة وشيبة وأمية ابن خلف، فإذا قال ذلك ضربوه، (فإذا ضربوه) (٥) قال: نعم أنا أخبركم، هذا أبو سفيان، فإذا تركوه (٦) قال: مالي بأبي سفيان علم، ولكن هذا أبو جهل وعتبة وشيبة وأمية بن خلف في الناس، فإذا (قال) (٧) هذا أيضا ضربوه، ورسول اللَّه ﷺ قائم يصلي. فلما رأى ذلك انصرف، قال: "والذي نفسي بيده إنكم لتضربونه إذا (صدقكم) (٨)، (وتتركونه) (٩) إذا كذبكم". قال: وقال رسول اللَّه ﷺ: "هذا مصرع فلان"، يضع يده على الأرض هاهنا، وههنا فما ماط أحدهم عن موضع يد رسول اللَّه ﷺ (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب ابو سفیان کے آنے کی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشورہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں ۔ حضرت ابوبکر نے گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اعراض کیا پھر حضرت عمر نے کلام شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے (بھی) اعراض کیا۔ پھر حضرت سعد بن عبادہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ کی مراد ہم ہیں ؟ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں گھوڑے سمندر میں ڈالنے کا حکم دیں گے تو البتہ ہم گھوڑوں کو سمندر میں ڈال دیں گے۔ اور اگر آپ ہمیں برک غماد تک گھوڑے دوڑانے کا حکم دیں گے تو ہم یہ بھی کریں گے۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو آمادہ فرمایا۔ ٢۔ راوی کہتے ہیں ۔ پس صحابہ چل پڑے یہاں تک کہ وہ بدر میں جا کر اترے تو ان کے پاس قریش کے پانی بھرنے والے اونٹ آپہنچے اور ان میں بنو حجاج کا ایک کالا غلام بھی تھا۔ پس صحابہ نے ان کو پکڑ لیا۔ اصحابِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے جواب دیا ۔ مجھے ابو سفیان کا کوئی علم نہیں ہے لیکن یہ ابو جہل، عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف (آ رہے) ہیں۔ پس یہ غلام جب یہ بات کہتا تو صحابہ کرام اس کو مارتے۔ اور جب صحابہ کرام اس کو مارتے تو وہ کہتا۔ ہاں ! میں بتاتا ہوں ۔ یہ ابو سفیان (آ رہا) ہے۔ پھر جب صحابہ کرام ا س کو چھوڑ دیتے تو وہ پھر کہتا۔ مجھے ابو سفیان کا کوئی علم نہیں ہے لیکن یہ ابو جہل، عتبہ، شیبہ، اور امیہ بن خلف لوگوں کے ساتھ (آ رہے) ہیں۔ پھر جب وہ یہ بات کہتا تو صحابہ کرام پھر اس کو مارتے۔ ٣۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے نماز ادا فرما رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ معاملہ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مڑے اور فرمایا : اور جب یہ تمہارے ساتھ جھوٹ بولتا ہے تو تم اس کو چھوڑ دیتے ہو۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ فلاں کی جائے قتل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھ کر فرمایا : یہاں ، یہاں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعیین کردہ جگہ سے کوئی کافر ادھر ادھر (قتل) نہیں ہوا۔
حدیث نمبر: 39472
٣٩٤٧٢ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت قال: حدثنا أنس قال: كنا مع عمر بين مكة والمدينة نترآى الهلال فرأيته وكنت حديد البصر فجعلت أقول لعمر: (ما) (١) تراه؟ وجعل عمر ينظر ولا يراه، (فقال عمر: سأراه) (٢) وأنا مستلق على فراشي. ثم أنشأ يحدثنا عن أهل بدر، قال: إن رسول اللَّه ﷺ ليرى مصارع أهل بدر بالأمس، يقول: "هذا مصرع فلان غدا إن شاء اللَّه، وهذا مصرع فلان غدا إن شاء اللَّه"، قال: فوالذي بعثه بالحق ما أخطأوا (تلك) (٣) الحدود يصرعون عليها. (ثم) (٤) (جعلوا) (٥) في بئر بعضهم على بعض فانطلق النبي ﷺ حتى انتهى (إليهم) (٦) فقال: "يا فلان بن فلان ويا فلان بن فلان: هل وجدتم ما (وعدكم) (٧) اللَّه ورسوله حقا؟ " فقال (٨) عمر: ((يا رسول) (٩) اللَّه، كيف) (١٠) تكلم أجسادا لا (أرواح) (١١) فيها؟ قال: "ما أنتم بأسمع لما أقول منهم (غير) (١٢) أنهم لا يستطيعون يردون علي شيئا" (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ ہم حضرت عمر کے ساتھ مکہ، مدینہ کے درمیان چاند دیکھ رہے تھے۔ میری نظر تیز تھی۔ سو میں نے چاند دیکھ لیا۔ میں نے حضرت عمر سے کہنا شروع کیا۔ آپ نے چاند نہیں دیکھا ؟ حضرت عمر دیکھتے رہے لیکن انہیں نظر نہیں آیا ۔ تو انہوں نے فرمایا : مجھے بھی عنقریب نظر آجائے گا۔ میں اپنے بستر پر چت لیٹا ہوا تھا۔ پھر حضرت عمر نے ہمیں اہل بدر کے بارے میں بیان کرنا شروع کیا اور فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اہل بدر کے قتل گاہ پچھلی رات دکھا دئیے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انشاء اللہ یہ جگہ کل فلاں شخص کی مقتل ہوگی اور یہ جگہ انشاء اللہ فلاں شخص کی مقتل ہوگی۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ قسم اس ذات کی جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ وہ کفار انہی حدود پر قتل کئے گئے۔ ان سے خطاء نہیں ہوئے۔ پھر مقتولین کفار کو کنویں میں ایک دوسرے پر ڈال کر پھینک دیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس پہنچے۔ اور فرمایا : اے فلاں بن فلاں ! اے فلاں بن فلاں ! اللہ، اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو تمہارے ساتھ وعدہ کیا ہے تم نے اس کو برحق پایا ؟ حضرت عمر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ ان جسموں سے کیسے کلام فرما رہے ہیں جن میں روحیں نہیں ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو بات میں کہہ رہا ہوں تم اس کو ان سے زیادہ نہیں سُن رہے ۔ لیکن یہ بات ہے کہ وہ مجھے کوئی جواب نہیں دے سکتے۔
حدیث نمبر: 39473
٣٩٤٧٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) سليمان التيمي عن أبي مجلز عن قيس بن عباد قال: تبارز علي وحمزة وعبيدة بن الحارث، وعتبة بن ربيعة وشيبة بن ربيعة والوليد بن (عتبة) (٢) فنزلت فيهم: ﴿هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ﴾ [الحج: ١٩] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن عباد سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ بن الحارث نے عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کے ساتھ مبارزت کی تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ { ہَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِی رَبِّہِمْ }۔
حدیث نمبر: 39474
٣٩٤٧٤ - حدثنا الفضل بن دكين قال: (أخبرنا) (١) (يونس) (٢) عن أبي السفر قال: نادى منادي رسول اللَّه ﷺ (٣) يوم بدر: من أسر أم حكيم (بنت) (٤) (حزام) (٥) فليخل سبيلها، فإن رسول اللَّه ﷺ قد أمنها، فأسرها رجل من الأنصار و (كتفها) (٦) بذؤابتها، فلما سمع منادي رسول اللَّه ﷺ خلى سبيلها (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو السفر سے روایت ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منادی نے آواز دی کہ جس کسی نے ام حکیم بنت حزام کو قید کیا ہوا ہے وہ اس کو آزاد کر دے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو امان دے دی ہے۔ ایک انصاری آدمی نے ان کو قید کیا تھا اور ان کے ہاتھوں کو پچھلی طرف ان کے بالوں کے ساتھ باندھا ہوا تھا۔ پس جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منادی کو سُنا تو انہوں نے اس کو آزاد کردیا۔
حدیث نمبر: 39475
٣٩٤٧٥ - حدثنا عبد الأعلى عن داود عن أبي نضرة: ﴿وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلَّا مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَى فِئَةٍ﴾ [الأنفال: ١٦]، (قال: نزلت) (١) ⦗٤٥٦⦘ يوم بدر، ولم يكن لهم أن ينحازوا، ولو انحازوا لم ينحازوا إلا إلى المشركين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نضرہ سے روایت ہے۔ { وَمَنْ یُوَلِّہِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَہُ إِلاَّ مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ ، أَوْ مُتَحَیِّزًا إِلَی فِئَۃٍ } یہ آیت یوم بدر کو نازل ہوئی اور اہل ایمان کے لئے بھاگنے کی کوئی راہ نہیں تھی۔ اور اگر وہ بھاگتے تو مشرکین ہی کی طرف بھاگنا ہوتا۔
حدیث نمبر: 39476
٣٩٤٧٦ - حدثنا شبابة بن سوار عن سليمان بن المغيرة عن ثابت عن أنس قال: كان ابن عمتي حارثة انطلق مع النبي ﷺ يوم بدر، فانطلق غلاما نظارا، ما انطلق لقتال، فأصابه سهم فقتله، فجاءت عمتي أمه إلى رسول اللَّه ﷺ فقالت: يا رسول اللَّه، ابني حارثة إن يك في الجنة صبرت واحتسبت، وإلا فسترى ما أصنع؟ فقال: "يا أم حارثة، إنها جنان كثيرة، وإن حارثة في الفردوس الأعلى" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ بدر کے دن میری پھوپھی کا بیٹا حارثہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا۔ اور یہ لڑکا محض دیکھنے کے لئے چلا تھا۔ یہ لڑائی کے لئے نہیں چلا تھا۔ اس کو ایک تیر لگ گیا اور اس نے اس کو قتل کردیا۔ پس اس کی والدہ جو کہ میری پھوپھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرا بیٹا حارثہ اگر تو جنت میں ہے تو میں صبر کرتی ہوں اور ثواب کی امید کرتی ہوں ۔ وگرنہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ام حارثہ ! سُنو ! جنتیں تو بہت سی ہیں۔ لیکن حارثہ فردوس اعلی رضی اللہ عنہ میں ہے۔
حدیث نمبر: 39477
٣٩٤٧٧ - حدثنا أبو أسامة عن الوليد بن جميع قال: حدثنا أبو (الطفيل) (١) قال: حدثنا حذيفة بن اليمان قال: ما منعني أن أشهد بدرا إلا أني خرجت أنا وأبي حسيل، قال: فأخذنا كفار قريش فقالوا: إنكم تريدون محمدا (٢)؟ فقلنا: (ما نريده) (٣)، ما يزيد إلا المدينة، فأخذوا منا عهد اللَّه وميثاقه لننصرفن إلى المدينة ولا نقاتل معه، فأتينا رسول اللَّه ﷺ فأخبرناه الخبر فقال: "انصرفا، نفي لهم ونستعين اللَّه عليهم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان سے روایت ہے کہ میری بدر میں حاضری سے یہ بات مانع ہوئی کہ میں اور ابو حسیل نکلے۔ فرماتے ہیں : تو ہمیں کفارِ قریش نے پکڑ لیا۔ اور انہوں نے کہا : تم لوگ محمد کا ارادہ رکھتے ہو ؟ ہم نے کہا : ہمارا ارادہ محمد کی طرف (جانے کا) نہیں ہے۔ ہمارا ارادہ تو صرف مدینہ (میں جانے کا) ہے۔ اس پر کفار نے ہم سے خدا کا عہد و پیمان لیا کہ ہم ضرور بالضرور مدینہ کی طرف جائیں گے اور ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ قتال نہیں کریں گے۔ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں چلے جاؤ۔ ہم ان کے لئے بہت ہیں۔ ہم ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد کے طالب ہں ۔
حدیث نمبر: 39478
٣٩٤٧٨ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا ابن الغسيل عن حمزة بن أبي أُسيد عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ يوم بدر حين (صفنا) (١) لقريش وصفوا لنا: "إذا أكثبوكم فارموهم بالنبل" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمزہ بن ابی اسید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن، جبکہ ہم نے قریش کے خلاف صف بندی کرلی اور قریش نے ہمارے خلاف صف بندی کرلی : فرمایا : جب وہ تمہارے قریب آئیں گے تب تم ان پر نیزہ بازی کرنا۔
حدیث نمبر: 39479
٣٩٤٧٩ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن حجاج عن نافع عن ابن عمر قال: كان طلحةُ صاحبَ راية المشركين يوم بدر فقتله علي بن أبي طالب مبارزة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بدر کے دن طلحہ مشرکین کی طرف سے جھنڈا بردار تھا پس اس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے مبارزۃً قتل فرمایا تھا۔
حدیث نمبر: 39480
٣٩٤٨٠ - حدثنا الثقفي عن خالد عن عكرمة أن النبي ﷺ قال يوم بدر: "من لقي منكم أحدا من بني هاشم فلا يقتله، فإنهم أخرجوا كرها" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے دن ارشاد فرمایا تھا۔ تم میں سے جو کوئی بنو ہاشم کو ملے تو وہ ان کو قتل نہ کرے کیونکہ انہیں زبردستی (جنگ میں) نکالا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 39481
٣٩٤٨١ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي الهيثم (عن) (١) إبراهيم التيمي أن النبي ﷺ قتل رجلا من المشركين من قريش يوم بدر، وصلبه إلى (شجرة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے دن قریش کے ایک مشرک کو قتل کیا اور اس کو درخت پر لٹکا دیا۔
حدیث نمبر: 39482
٣٩٤٨٢ - حدثنا عائذ بن حبيب عن حجاج عن الحكم عن (المقسم) (١) عن ابن عباس أن أهل بدر كانوا ثلاثمائة وثلاثة عشر، المهاجرون منهم خمسة وسبعون، ⦗٤٥٨⦘ وكانت هزيمة بدر لسبع عشرة من رمضان ليلة جمعة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اہل بدر تین سو تیرہ تھے۔ ان میں پچھتر مہاجرین تھے اور بدر (میں کفار) کی شکست شبِ جمعہ سترہ رمضان کو ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 39483
٣٩٤٨٣ - حدثنا عائذ بن حبيب عن حجاج عن أبي إسحاق عن البراء قال: كان أهل بدر ثلاثمائة وبضعة عشر، المهاجرون منهم ستة وسبعون (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء سے روایت ہے کہ تین سو دس سے کچھ اوپر تھے اور ان میں مہاجرین کی تعداد چھہتر تھی۔
حدیث نمبر: 39484
٣٩٤٨٤ - (حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا عن أبي إسحاق عن البراء ابن عازب قال: كان أصحاب رسول اللَّه يوم بدر بضعة عشر وثلاثمائة) (١)، [وكنا (نتحدث) (٢) أنهم على عدة أصحابا طالوت الذين جاوزوا معه النهر، وما جاوز معه إلا مؤمن (٣)] (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی تعداد تین سو دس سے کچھ اوپر تھی اور ہم باہم یہ گفتگو کرتے تھے کہ ان کی تعداد حضرت طالوت کے ان ساتھیوں جتنی ہے جنہوں نے حضرت طالوت کے ساتھ نہر کو پار کیا تھا۔ اور حضرت طالوت کے ساتھ صرف مومنوں نے ہی نہر پار کی تھی۔
حدیث نمبر: 39485
٣٩٤٨٥ - حدثنا عبد الرحيم (١) عن أشعث عن ابن سيرين عن عبيدة قال: عدة الذين شهدوا مع النبي ﷺ (بدرًا) (٢) كعدة الذين جاوزوا مع طالوت النهر عدتهم ثلاثمائة وثلاثة عشر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ سے روایت ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ بدر میں حاضر ہونے والوں کی تعداد حضرت طالوت کے ہمراہ نہر پار کرنے والوں جتنی تھی اور ان کی تعداد تین سو تیرہ تھی۔
حدیث نمبر: 39486
٣٩٤٨٦ - حدثنا وكيع عن ثابت (بن) (١) عمارة عن غنيم بن قيس عن أبي موسى قال: كان عدة أصحابا طالوت يوم جالوت ثلاثمائة وبضعة عشر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے ۔ یوم جالوت کو حضرت طالوت کے ساتھیوں کی تعداد تین سو دس سے کچھ اوپر تھی۔
حدیث نمبر: 39487
٣٩٤٨٧ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان وإسرائيل عن أبي إسحاق عن البراء ابن عازب قال: كان عدة أصحاب النبي ﷺ ثلاثمائة وبضعة عشر، وكانوا يرون أنهم عدة أصحاب طالوت يوم جالوت الذين جاوزوا معه النهر، وما جاوز معه النهر إلا مؤمن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی تعداد (یوم بدر کو) تین سو دس سے کچھ اوپر تھی۔ اور صحابہ کا خیال یہ تھا کہ وہ اس تعداد میں ہیں جس تعداد نے یوم جالوت کو حضرت طالوت کے ہمراہ نہر کو پار کیا تھا۔ اور ان کے ہمراہ نہر کو صرف اہل ایمان ہی نے پار کیا تھا۔
حدیث نمبر: 39488
٣٩٤٨٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن معاذ بن رفاعة ابن رافع الأنصاري أن ملكا أتى رسول اللَّه ﷺ فقال: كيف أصحاب بدر (فيكم؟) (١) فقال: "أفضل الناس"، فقال الملك: وكذلك من شهد بدرا من الملائكة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ بن رفاعہ بن رافع انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس فرشتہ حاضر ہوا اور اس نے کہا۔ صحابہ میں اصحابِ بدر کا کیا مقام ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ سب سے افضل لوگ ہیں۔ فرشتہ نے عرض کیا۔ فرشتوں میں یہی مقام ان فرشتوں کا ہے جو بدر کی جنگ میں شریک ہوئے ہیں۔
حدیث نمبر: 39489
٣٩٤٨٩ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن عمرو عن الحسن بن محمد أن عبيد اللَّه بن أبي رافع كاتب علي أخبره أنه سمع عليا يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنه قد شهد بدرا -يعني (حاطب) (١) بن أبي بلتعة- وما يدريك لعل اللَّه قد اطلع على أهل بدر فقال: اعملوا ما شئتم فقد غفرت لكم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ یہ، حاطب بن ابی بلتعہ ، بدر میں شریک ہوچکا ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم ہے : شاید اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے دل پر جھانک کر فرمایا : تم جو کچھ چاہو کرو۔ تحقیق میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔
حدیث نمبر: 39490
٣٩٤٩٠ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن (سعد) (١) بن (٢) (عبيدة) (٣) عن أبي عبد الرحمن قال: سمعت عليا يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "أو ليس من أهل بدر؟ وما يدريك لعل اللَّه اطلع (إلى) (٤) أهل بدر فقال: اعملوا ما شئتم فقد وجبت لكم الجنة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا یہ ، حاطب اہل ِ بدر میں سے نہیں ہیں ؟ اور تمہیں کیا خبر ہے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے دلوں میں جھانک کر دیکھا ہو تو فرمایا : تم جو چاہو کرو۔ تحقیق تمہارے لئے جنت واجب ہوگئی ہے۔
حدیث نمبر: 39491
٣٩٤٩١ - حدثنا أبو أسامة قال: أخبرنا عمر بن حمزة قال: أخبرني سالم قال: أخبرني ابن عمر أن رسول اللَّه ﷺ قال لعمر: "وما يدريك لعل اللَّه قد اطلع إلى أهل بدر فقال: اعملوا ما شئتم؟ " (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر سے کہا : تمہیں کیا خبر ہے ، ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے دلوں میں جھانک کر دیکھا تو فرمایا : تم جو چاہو کرو ؟
حدیث نمبر: 39492
٣٩٤٩٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) حماد بن سلمة عن عاصم بن أبي النجود عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه ﵎ اطلع إلى أهل بدر فقال: اعملوا ما شئتم فقد غفرت لكم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر جھانک کر دیکھا تو فرمایا : تم جو چاہو کرو تحقیق میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔
حدیث نمبر: 39493
٣٩٤٩٣ - حدثنا شبابة بن (سوار) (١) قال: (أخبرنا) (٢) ليث عن أبي الزبير (عن ⦗٤٦١⦘ جابر) (٣) أن عبدًا لحاطب بن أبي بلتعة جاء رسول اللَّه ﷺ يشتكي حاطبا، فقال: يا رسول اللَّه ليدخلن حاطب النار، فقال رسول اللَّه ﷺ: "كذبت لا يدخلها إنه قد شهد بدرا والحديبية" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ کا غلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حضرت حاطب کی شکایت کرنے کے لئے آیا اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! حاطب ضرور بالضرور آگ میں داخل کیا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو جھوٹ بولتا ہے۔ حاطب ، آگ میں نہیں جائے گا۔ (کیونکہ) تحقیق وہ بدر اور حدیبیہ میں حاضر ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 39494
٣٩٤٩٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن يحيى بن سعيد (عن) (١) (عباية) (٢) (ابن) (٣) رفاعة عن جده رافع بن خديج قال: جاء (جبريل) (٤) أو ملك إلى النبي ﷺ فقال: ما تعدون من شهد بدرا فيكم؟ قال: "خيارنا"، قال: كذلك هم عندنا خيار الملائكة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل یا کوئی دوسرا فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا : جو لوگ بدر میں حاضر ہوئے ہیں۔ انہیں آپ کیا شمار کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنے میں افضل شمار کرتے ہیں۔ اس نے جواب میں کہا : اسی طرح وہ فرشتے ہمارے ہاں بہترین فرشتے ہیں۔
…