کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا ،اور غزوہ بدر کے واقعات
حدیث نمبر: 39415
٣٩٤١٥ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه قال: (كانت) (٢) بدر لسبع عشرة من رمضان في يوم جمعة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بدر کا واقعہ ، جمعہ کے روز، سترہ رمضان کو واقع ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39415
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو جعفر تابعي، أخرجه ابن سعد ٢/ ٢١، وأحمد في العلل ٣/ ٣٥٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39415، ترقيم محمد عوامة 37808)
حدیث نمبر: 39416
٣٩٤١٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا خالد بن عبد اللَّه قال: (أخبرنا) (١) عمرو بن يحيى عن (عمرو بن) (٢) عامر بن عبد اللَّه بن الزبير عن أبيه عن عامر بن ربيعة البدري قال: كانت بدر يوم الاثنين لسبع عشرة من رمضان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن ربیعہ بدری بیان کرتے ہیں کہ بدر کا واقعہ بروز پیر، سترہ رمضان کو رونما ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39416
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب؛ فقد ورد مرة: (عن عمرو بن يحيى عن عمرو بن عامر)، ومرة: (عن عامر)، ومرة: (عن عامر بن ربيعة)، ومرة: (عن عامر بن عبد اللَّه)، أخرجه من مسند عامر بن ربيعة مسدد كما في المطالب العالية (٤٢٤٤)، وابن سعد ٢/ ٢٠، والبيهقي في الدلائل ٣/ ١٢٨، وابن عساكر ٢٥/ ٣٢٤، وأخرجه من مسند عامر بن عبد اللَّه: ابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ١٢٧، والضياء ٨/ (٢٢٢)، والطبراني كما في الإصابة ٢/ ٢٤٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39416، ترقيم محمد عوامة 37809)
حدیث نمبر: 39417
٣٩٤١٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عبد اللَّه قال: قال: تحروها (لإحدى) (١) عشرة تبقى: صبيحة بدر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے ۔ صحابہ کرام نے بدر کا قصد چاند کے طلوع سے گیارہ راتیں پہلے کیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39417
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم ٢/ ٢٣، والبيهقي في دلائل النبوة ٣/ ١٢٨، وبنحوه سعيد بن منصور ٢/ (٩٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39417، ترقيم محمد عوامة 37810)
حدیث نمبر: 39418
٣٩٤١٨ - حدثنا (الفضل) (١) بن دكين قال: حدثنا (عمر) (٢) بن (شيبة) (٣) قال: سألت أبا بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام: أي ليلة كانت ليلة بدر؟ فقال: هي ليلة (الجمعة) (٤) لسبع عشرة ليلة مضت من رمضان (٥).
مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن شیبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوبکر بن عبد الرحمان سے پوچھا : بدر کا واقعہ کس رات کو رونما ہوا ؟ انہوں نے جواب دیا۔ شبِ جمعہ کو۔ اور رمضان کی سترہ تاریخ کو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39418
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو بكر تابعي، أخرجه ابن سعد ٢/ ٢١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39418، ترقيم محمد عوامة 37811)
حدیث نمبر: 39419
٣٩٤١٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا عن عامر قال: إن بدرا إنما كانت (بئرا) (١) لرجل (يدعى) (٢) بدرا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بیان فرماتے ہیں کہ بدر (کی جگہ پر) ایک آدمی کا کنواں تھا ۔ جس آدمی کا نام بھی بدر تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39419
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39419، ترقيم محمد عوامة 37812)
حدیث نمبر: 39420
٣٩٤٢٠ - حدثنا وكيع عن (سفيان عن) (١) (ابن) (٢) (خثيم) (٣) عن مجاهد قال: لم تقاتل الملائكة إلا يوم بدر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد بیان کرتے ہیں کہ ملائکہ نے صرف بدر کے دن ہی قتال کیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39420
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مجاهد تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39420، ترقيم محمد عوامة 37813)
حدیث نمبر: 39421
٣٩٤٢١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن مسعر عن (أبي) (١) عون عن أبي صالح الحنفي عن علي قال: قيل لأبي بكر الصديق و (لي) (٢) يوم بدر: مع أحدكما جبريل ومع الآخر ميكائيل، وإسرافيل ملك عظيم يشهد القتال أو يقف في الصف (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق سے اور مجھے یوم بدر میں کہا گیا کہ تم میں سے ایک کے ہمراہ جبرائیل اور دوسرے کے ہمراہ میکائیل ہے اور اسرافیل بڑا فرشتہ بھی قتال میں حاضر ہے ۔ یا فرمایا : وہ بھی صف میں کھڑا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39421
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٢٥٧)، وابن سعد ٣/ ١٧٥، وأبو يعلى (٣٤٠)، والحاكم ٣/ ١٣٤، والبزار (٧٢٩)، وابن أبي عاصم في السنة (١٢١٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39421، ترقيم محمد عوامة 37814)
حدیث نمبر: 39422
٣٩٤٢٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن عمرو الليثي عن (١) جده قال: (خرج) (٢) رسول اللَّه ﷺ إلى بدر حتى إذا كان بالروحاء (خطب الناس) (٣) ⦗٤٢٩⦘ فقال: "كيف ترون؟ " [قال أبو بكر: يا رسول اللَّه (بلغنا) (٤) أنهم بكذا وكذا، قال: ثم خطب الناس فقال: "كيف ترون؟ "] (٥) فقال عمر مثل قول أبي بكر ثم خطب فقال: "ما ترون؟ " فقال سعد بن معاذ: إيانا تريد، فوالذي أكرمك (٦) وأنزل عليك الكتاب ما سلكتُها قط ولا لي بها علم، (ولئن) (٧) سرت حتى تأتي برك الغماد من ذي يمن لنسيرنّ معك، ولا نكون (كالذين) (٨) قالوا لموسى من بني إسرائيل: ﴿(اذْهَبْ) أنت وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ﴾ [المائدة: ٢٤]، ولكن اذهب أنت وربك فقاتلا إنا معكما متبعون، ولعلك أن تكون خرجت لأمر وأحدث اللَّه (٩) غيره (فانظر) (١٠) (١١) الذي أحدث اللَّه إليك فامض له، (فحل) (١٢) (حبال) (١٣) من شئت، واقطع حبال من (شئت) (١٤)، وسالم من شئت، وعاد من شئت، وخذ من أموالنا ما شئت، فنزل القرآن على (قول) (١٥) سعد: ﴿كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ (وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ) (١٦) ⦗٤٣٠⦘ (لَكَارِهُونَ) (١٧)﴾ إلى قوله: ﴿(وَيَقْطَعَ) (١٨) دَابِرَ الْكَافِرِينَ﴾ [الأنفال: ٥ و ٧]، وإنما خرج رسول اللَّه ﷺ يريد غنيمة (ما) (١٩) مع أبي سفيان فأحدث اللَّه (لنبيه) (٢٠) القتال (٢١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عمرو اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کی طرف نکلے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقامِ روحاء پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور پوچھا تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟ حضرت ابوبکر نے جواباً عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ وہ فلاں جگہ میں اور اتنی مقدار میں ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور پوچھا : تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟ تو حضرت عمر نے (بھی) حضرت ابوبکر کی طرح جواب دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اور پوچھا۔ تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟ تو حضرت سعد بن معاذ نے جواباً عرض کیا۔ آپ کی مراد ہم ہیں ؟ قسم اس ذات کی ! جس نے آپ کو عزت بخشی اور آپ پر کتاب کو نازل کیا۔ میں اس راہ پر کبھی نہیں چلا اور نہ ہی مجھے اس کا علم ہے۔ لیکن اگر چلتے چلتے ذی یمن مقام میں برک غماد تک بھی پہنچ جائیں گے تو البتہ ہم ضرور بالضرور آپ کے ہمراہ چلتے رہیں گے۔ اور ہم ان لوگوں کی مثال نہیں بنیں گے۔ جنہوں نے بنی اسرائیل میں سے (ہو کر) موسیٰ سے کہا۔ { اذْہَبْ أَنْتَ وَرَبُّک فَقَاتِلاَ ، إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ }۔ بلکہ (ہم یہ کہیں گے) آپ اور آپ کا رب جا کر قتال کرے اور ہم آپ کے ہمراہ پیروی کرنے والے ہوں گے۔ اور ہوسکتا ہے کہ آپ کسی کام کے لئے نکلے ہوں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے کسی دوسرے امر کو رونما کر دے۔ پس آپ اس موملہ کو دیکھیں جس کو اللہ تعالیٰ آپ کے لئے رونما کرے اور آپ اسی کو پورا کریں۔ سو جس سے آپ چاہیں تعلق قائم کریں اور جس سے آپ چاہیں تعلق کاٹ لیں۔ اور جس سے چاہیں صلح کرلیں اور جس سے چاہیں دشمنی کرلیں۔ اور ہمارے اموال میں سے جو دل چاہے لے لیں۔ حضرت سعد کی بات پر یہ آیت قرآنی نازل ہوئی۔ { کَمَا أَخْرَجَک رَبُّکَ مِنْ بَیْتِکَ بِالْحَقِّ ، وَإِنَّ فَرِیقًا مِنَ الْمُؤْمِنِینَ لَکَارِہُونَ سے لے کر وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکَافِرِینَ } اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ ابو سفیان کے پاس موجود مال غنیمت بنا کرلینا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے قتال کا واقعہ رونما کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39422
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ علقمة بن وقاص جد محمد تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39422، ترقيم محمد عوامة 37815)
حدیث نمبر: 39423
٣٩٤٢٣ - حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى عن داود عن عكرمة عن ابن عباس قال: لما كان يوم بدر قال رسول اللَّه ﷺ: "من صنع كذا وكذا ((فله) (١) كذا وكذا) (٢) "، قال: (فتسارع) (٣) (٤) (شبان) (٥) الرجال، وبقيت الشيوخ تحت الرايات، فلما كانت الغنائم جاؤوا يطلبون الذي جعل لهم، فقال الشيوخ: لا تستأثرون علينا فإنا كلنا (ردءكم) (٦) وكنا تحت الرايات، ولو انكشفتم انكشفتم إلينا، فتنازعوا فأنزل اللَّه: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ﴾ إلى قوله: ﴿وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب بدر کا دن تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ یہ کام کرے تو اس کے لئے یہ یہ ہے۔ راوی کہتے ہیں : یہ بات سن کر جوان آدمی تیزی دکھانے لگے۔ اور صرف بوڑھے افراد جھنڈوں کے نیچے رہ گئے۔ پھر جب غنیمتیں (اکٹھی) ہوئں ی تو یہ جوان اپنا اپنا (مقررہ) اجر لینے کے لئے آگئے۔ بوڑھوں نے کہا۔ تم لوگ ہم پر زیادتی کے مستحق نہیں ہو ۔ کیونکہ ہم تو تمہارے مددگار تھے اور ہم جھنڈوں کے نیچے تھے۔ اگر تم واپس پلٹے تو تم ہمارے طرف ہی واپس پلٹے۔ پس یہ لوگ آپس میں جھگڑنے لگے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ { یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ } سے لے کر { وَأَطِیعُوا اللَّہَ وَرَسُولَہُ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ } تک۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39423
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39423، ترقيم محمد عوامة 37816)
حدیث نمبر: 39424
٣٩٤٢٤ - حدثنا عبد الأعلى عن داود (عن علي) (١) بن أبي طلحة عن ابن عباس: ﴿سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ﴾، قال: كان ذلك يوم بدر قالوا: ﴿نَحْنُ جَمِيعٌ (مُنْتَصِرٌ) (٢)﴾ [القمر: ٤٤، ٤٥]! فنزلت هذه الآية (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما آیت قرآنی { سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں ۔ یہ واقعہ یوم بدر کو ہوا تھا۔ کفار نے کہا۔ نَحْنُ جَمِیعٌ مُنْتَصِرٌ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39424
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39424، ترقيم محمد عوامة 37817)
حدیث نمبر: 39425
٣٩٤٢٥ - حدثنا وكيع عن أبي جعفر عن (١) الربيع عن أبي العالية: ﴿سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ﴾، قال: يوم بدر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ سے قرآن مجید کی آیت { سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّونَ الدُّبُرَ } کی تفسیر میں منقول ہے۔ فرماتے ہیں۔ یہ بدر کا دن تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39425
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39425، ترقيم محمد عوامة 37818)
حدیث نمبر: 39426
٣٩٤٢٦ - حدثنا عبد الأعلى عن داود عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس: ﴿حَتَّى إِذَا فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِيدٍ إِذَا هُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ﴾ [المؤمنون: ٧٧]، قال: (ذاك) (١) يوم بدر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے قرآن مجید کی آیت { حَتَّی إِذَا فَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیدٍ ، إِذَا ہُمْ فِیہِ مُبْلِسُونَ } کے بارے میں منقول ہے کہ یہ یوم بدر کا واقعہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39426
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39426، ترقيم محمد عوامة 37819)
حدیث نمبر: 39427
٣٩٤٢٧ - (حدثنا ابن علية عن أيوب عن عكرمة أن النبي ﷺ كان يثب في الدرع يوم بدر) (١)، ويقول: "هزم الجمع، هزم الجمع" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کے دن زرہ پہنے ہوئے تھے اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے تھے۔ لشکروں کو شکست ہوگی لشکروں کو شکست ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39427
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عكرمة تابعي، وأخرجه ابن جرير ٢٧/ ١٠٩، وورد من حديث عكرمة عن ابن عباس، أخرجه البخاري (٢٩١٥ و ٤٨٧٥)، وأحمد ١/ ٣٢٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39427، ترقيم محمد عوامة 37820)
حدیث نمبر: 39428
٣٩٤٢٨ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن حارثة بن مُضَرِّب عن علي قال: لقد رأيتنا يوم بدر ونحن نلوذ برسول اللَّه ﷺ وهو أقربنا إلى (العدو) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ البتہ تحقیق مں ن نے بدر کے دن اپنے آپ (یعنی صحابہ ) کو دیکھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اوٹ میں پناہ لے رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں سے سب سے زیادہ دشمن کے قریب تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39428
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٦٥٤)، وأبو يعلى (٤١٢)، والنسائي في الكبرى (٨٦٣٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39428، ترقيم محمد عوامة 37821)
حدیث نمبر: 39429
٣٩٤٢٩ - حدثنا الثقفي عن خالد عن عكرمة أن رسول اللَّه ﷺ قال يوم بدر: "هذا جبريل آخذ برأس فرسه عليه أداة الحرب" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے دن ارشاد فرمایا : یہ جبرئیل ہے، اپنے گھوڑے کے سر کو پکڑے ہوئے ہے، اس پر آلات حرب ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39429
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عكرمة تابعي، وورد من حديث عكرمة عن ابن عباس، أخرجه البخاري (٣٩٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39429، ترقيم محمد عوامة 37822)
حدیث نمبر: 39430
٣٩٤٣٠ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن عمير بن إسحاق قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "تسوموا فإن الملائكة (قد) (١) (تسومت) (٢) "، قال: فهو أول يوم وضع الصوف (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن اسحاق سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نشان لگا لو کیونکہ فرشتوں نے بھی نشان لگا رکھے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ اس دن پہلی مرتبہ اون استعمال کی گئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39430
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عمير تابعي، إخرجه ابن جرير ٤/ ٨٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39430، ترقيم محمد عوامة 37823)
حدیث نمبر: 39431
٣٩٤٣١ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن حارثة بن مضرب العبدي عن علي قال: كان سيما أصحاب رسول اللَّه ﷺ (يوم بدر) (١) الصوف الأبيض (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یوم بدر کو اصحابِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی علامت سفید رنگ کی اون تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39431
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه النسائي (٨٦٤٠)، والبيهقي في الشعب (٦١٥٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39431، ترقيم محمد عوامة 37824)
حدیث نمبر: 39432
٣٩٤٣٢ - حدثنا محمد بن فضيل عن داود بن أبي هند عن عامر قال: لما كان يوم بدر تحدث المسلمون أن كُرْز بن جابر يمد المشركين، فشق ذلك على المسلمين فنزلت: ﴿(بَلَى) (١) إِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُمْ مِنْ فَوْرِهِمْ هَذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلَافٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُسَوِّمِينَ﴾ [آل عمران: ١٢٥]، يقول: إن أمدهم كرز أمددتكم بهؤلاء الملائكة فلم يمددهم كرز بشيء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر روایت کرتے ہیں کہ جب بدر کا دن تھا تو مسلمان کہنے لگے۔ کرز بن جابر ، مشرکین کی مدد کر رہا ہے۔ تو یہ بات مسلمانوں پر شاق گزری۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ { بَلَی إِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَیَأْتُوکُمْ مِنْ فَوْرِہِمْ ہَذَا ، یُمْدِدْکُمْ رَبُّکُمْ بِخَمْسَۃِ آلاَفٍ مِنَ الْمَلاَئِکَۃِ مُسَوِّمِینَ }۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ اگر مشرکین کی مدد کُرز کرے گا تو میں ان فرشتوں کے ذریعہ سے تمہاری مدد کروں گا۔ پھر کرز نے مشرکین کی مدد نہیں کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39432
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عامر الشعبي تابعي، أخرجه ابن أبي حاتم في التفسير ٣/ ٧٥٢ (٤٠٥٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39432، ترقيم محمد عوامة 37825)
حدیث نمبر: 39433
٣٩٤٣٣ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن داود عن الشعبي وسعيد بن المسيب: ﴿وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ﴾ [الأنفال: ١١]، قالا: طش يوم بدر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اور سعید بن مسیب قرآن مجید کی آیت { وَیُنَزِّلُ عَلَیْکُمْ مِنَ السَّمَائِ مَائً لِیُطَہِّرَکُمْ بِہِ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یوم بدر کی ہلکی بارش ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39433
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39433، ترقيم محمد عوامة 37826)
حدیث نمبر: 39434
٣٩٤٣٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: كنت (أميح) (١) أصحابي الماء يوم بدر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ میں بدر کے دن اپنے ساتھیوں کے لئے پانی بھر رہا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39434
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39434، ترقيم محمد عوامة 37827)
حدیث نمبر: 39435
٣٩٤٣٥ - حدثنا وكيع (قال) (١): حدثنا الأعمش عن أبي (الضحى) (٢) عن مسروق عن عبد اللَّه: ﴿يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى﴾ [الدخان: ١٦]، قال: يوم بدر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت قرآنی { یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْکُبْرَی } کے بارے میں فرمایا : کہ یہ بدر کا دن ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39435
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٠٠٧)، ومسلم (٢٧٩٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39435، ترقيم محمد عوامة 37828)
حدیث نمبر: 39436
٣٩٤٣٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن عبد اللَّه بن ثعلبة بن (صُعَيْر) (١) (العذري) (٢) أن أبا جهل قال يوم بدر: اللهم أقطعنا للرحم وآتانا بما لا (يعرف) (٣) فأحنه الغداة، قال: فكان ذلك استفتاحا منه فنزلت ⦗٤٣٤⦘ هذه الآية: ﴿إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ وَإِنْ تَنْتَهُوا فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ﴾ الآية [الأنفال: ١٩] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ثعلبہ عذری سے روایت ہے کہ ابو جہل نے بدر کے دن کہا۔ اے اللہ ! جو آدمی ہم میں سے زیادہ قطع رحمی کرنے والا اور غیر معروف کا زیادہ مرتکب ہے تو اس کو ہلاک کر دے۔ راوی کہتے ہیں۔ یہ بات ابو جہل کی طرف سے طلب فتح کی تھی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ {إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَائَ کُمُ الْفَتْحُ ، وَإِنْ تَنْتَہُوا فَہُوَ خَیْرٌ لَکُمْ }
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39436
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ صرح ابن إسحاق وهو صدوق بالسماع عند أحمد، أخرجه أحمد (٢٣٦٦١)، والحاكم ٢/ ٣٢٨، والنسائي في الكبرى (١١٢٠١)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٦٣١)، وابن هشام ٢/ ٢٨٠، والبيهقي في دلائل النبوة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39436، ترقيم محمد عوامة 37829)
حدیث نمبر: 39437
٣٩٤٣٧ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم عن عبد اللَّه بن مسعود أنه أتى أبا جهل يوم بدر وبه رمق قال: (قد) (١) أخزاك (اللَّه) (٢)، قال: هل أعمد من رجل قتلتموه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ بدر کے دن ابو جہل کے پاس آئے درآنحالیکہ اس میں ہلکی سی رمق باقی تھی۔ تو ابن مسعود نے فرمایا۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے تجھے ذلیل کردیا ہے۔ ابو جہل نے کہا جن لوگوں کو تم نے قتل کیا ہے ان میں سب سے اہم میں ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39437
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٩٦١)، والبزار (١٨٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39437، ترقيم محمد عوامة 37830)
حدیث نمبر: 39438
٣٩٤٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن إبراهيم بن سعد عن أبيه عن جده عن عبد الرحمن بن عوف قال: إني لفي الصف يوم بدر، فالتفت عن يميني وعن شمالي فإذا غلامان حديثا السن، فكرهت مكانهما فقال لي أحدهما سرا من صاحبه: أي عم، أرني أبا جهل، قال: قلت: ما تريد منه؟ قال: إني جعلت للَّه علي إن رأيته أن أقتله، قال: فقال الآخر أيضا سرا من صاحبه: أي عم أرني أبا جهل قال: قلت: وما تريد منه؟ قال: (١) جعلت للَّه علي إن رأيته أن أقتله، قال: فما سرني بمكانهما غيرهما، قال: قلت: هو ذاك، قال: (و) (٢) أشرت لهما إليه فابتدراه وإنهما صقران وهما -ابنا عفراء- حتى ضرباه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمان بن عوف سے روایت ہے کہ بدر کے دن میں صف میں کھڑا تھا۔ میں نے اپنے دائیں، بائیں نظر دوڑائی تو دو کم عمر لڑکے دکھائی دیئے۔ میں نے ان کے کھڑا ہونے کو ناپسند کیا۔ ان لڑکوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے خفیہ مجھ سے کہا۔ اے چچا جان ! مجھے ابو جہل دکھا دیجئے۔ عبد الرحمان بن عوف فرماتے ہیں ۔ میں نے پوچھا۔ تمہیں اس سے کیا مطلب ہے ؟ لڑکے نے جواب دیا۔ میں نے اللہ کا نام لے کر یہ نذر مانی ہے کہ اگر میں اس کو دیکھ لوں گا تو میں اس کو قتل کروں گا۔ عبد الرحمان بن عوف کہتے ہیں۔ دوسرے لڑکے نے بھی اپنے ساتھی سے خفیہ کہا۔ اے چچا جان ! مجھے ابو جہل دکھا دیجئے۔ عبد الرحمان کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا۔ تمہیں اس سے کیا مطلب ہے ؟ اس لڑکے نے جواب دیا ۔ میں نے خدا کا نام لے کر یہ نذر مانی ہے کہ اگر میں اس کو دیکھ لوں گا تو میں اس کو قتل کروں گا۔ عبد الرحمان کہتے ہیں۔ (یہ بات سن کر) مجھے ان دونوں کی جگہ کسی اور کا ہونا پسند نہ آیا۔ فرماتے ہیں۔ میں نے کہا : ابو جہل یہ ہے۔ فرماتے ہیں : میں نے ان دونوں کے لئے ابو جہل کی طرف اشارہ کیا ۔ پس وہ دونوں اس پر جھپٹ پڑے گویا کہ وہ شکرے ہیں۔ اور یہ دونوں عفراء کے بیٹے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ابو جہل کو مار دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39438
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣١٤١)، ومسلم (١٧٥٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39438، ترقيم محمد عوامة 37831)
حدیث نمبر: 39439
٣٩٤٣٩ - حدثنا جعفر بن عون عن سفيان عن أبي إسحاق عن عمرو (بن) (١) ميمون عن عبد اللَّه أن النبي ﷺ كان يقول: "اللهم عليك بقريش -ثلاثًا- بأبي جهل بن هشام وعتبة بن ربيعة وشيبة بن ربيعة والوليد بن عتبة وأمية بن خلف وعقبة بن أبي (معيط) (٢) "، قال: قال عبد اللَّه: فلقد رأيتهم قتلى في قليب بدر (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ اے اللہ ! تو قریش کو پکڑ۔ تین بار۔ ابو جہل بن ہشام کو پکڑ، عتبہ بن ربیعہ کو پکڑ، شیبہ بن ربیعہ کو پکڑ، ولید بن عتبہ کو پکڑ، امیہ بن خلف کو پکڑ، اور عقبہ بن ابی معیط کو پکڑ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عبد اللہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے ان کفار کو بدر کے کنویں میں مقتول دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39439
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ جعفر ثقة، وأخرجه البخاري (٢٤٠)، ومسلم (١٧٩٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39439، ترقيم محمد عوامة 37832)
حدیث نمبر: 39440
٣٩٤٤٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن جرير بن حازم عن أخيه يزيد بن حازم عن عكرمة مولى ابن عباس قال: لا نزل المسلمون بدرا وأقبل المشركون (نظر) (١) رسول اللَّه ﷺ إلى عتبة بن ربيعة وهو على جمل له أحمر، فقال: "إن يك عند أحد من القوم خير فعند صاحب الجمل الأحمر، إن يطيعوه يرشدوا"، فقال عتبة: أطيعوني ولا تقاتلوا هؤلاء القوم، فإنكم إن فعلتم لم يزل (ذاك) (٢) في قلوبكم، ينظر الرجل إلى قاتل أخيه وقاتل أبيه، (فاجعلوا) (٣) (فيّ جبنها) (٤) وارجعوا، قال: (فبلغت) (٥) أبا جهل فقال: انتفخ واللَّه سَحْرُةُ حيث رأى محمدا (٦) وأصحابه، واللَّه ما ذاك به، وإنما ذاك لأن ابنه معهم، وقد علم أن محمدا وأصحابه أكْلَةُ جزور لو قد التقينا، قال: ⦗٤٣٦⦘ فقال عتبة: (سيعلم) (٧) مُصَفِّر اسْتِهِ (من) (٨) الجبان المفسد لقومه، أما واللَّه إني لأرى تحت القَشْع قوما لَيَضْرِبُنَّكُمْ ضربا (٩) يدعون لكم البقيع، أما ترون كأن رؤوسهم رؤوس الأفاعي، وكأن وجوههم السيوف، قال: ثم دعا أخاه وابنه ومشى بينهما حتى إذا (فصل (١٠) من الصف دعا إلى المبارزة (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام حضرت عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ جب مسلمان بدر میں اترے اور مشرکین سامنے آئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عتبہ بن ربیعہ کو دیکھا۔ وہ اپنے سرخ رنگ کے اونٹ پر سوار تھا۔ تو فرمایا : اگر کفار میں سے کسی کے پاس خیر (کی بات) ہے تو وہ اس سُرخ رنگ والے اونٹ والے کے پاس ہے۔ اگر یہ کفار اس کی بات مان لیں گے تو اچھے رہیں گے۔ عتبہ نے (لوگوں سے) کہا۔ تم لوگ میری بات مانو اور ان لوگوں (مسلمانوں) سے لڑائی نہ کرو۔ کیونکہ اگر تم نے لڑائی لڑی تو یہ بات تمہارے دلوں میں مسلسل باقی رہے گی۔ یعنی ایک آدمی اپنے بھائی اور اپنے والد کے قاتل کو (زندہ) دیکھتا پھرے گا۔ تم لوگ اس لڑائی کی بزدلی مجھ پر ڈال دو اور لوٹ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں : یہ بات ابو جہل تک پہنچی تو اس نے کہا : بخدا ! عتبہ نے جب سے محمد اور اس کے صحابہ کو دیکھا ہے بزدل ہوگیا ہے۔ بخدا ! (جو یہ کہہ رہا ہے) یہ بات نہیں ہے۔ بلکہ بات یہ ہے کہ اس کا بیٹا ان کے ہمراہ ہے۔ حالانکہ اس کو معلوم بھی ہے کہ اگر ہم محمد اور اس کے اصحاب سے لڑیں تو وہ کم عدد لوگ ہیں۔ راوی کہتے ہیں : عتبہ نے کہا : عنقریب اپنی سرین کو زرد کرنے والا جان لے گا کہ اپنی قوم میں فساد ڈالنے والا کون شخص بزدل ہے۔ بخدا ! میں تو ان ملبوسات کے نیچے ایسی قوم کو دیکھ رہا ہوں جو تمہیں ضرور بالضرور اس طرح مارے گی کہ وہ تمہارے لئے بقیع کو پکاریں گے۔ کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا کہ ان کے سر، سانپوں کے سروں کی طرح (بلند) ہیں اور ان کے چہرے تلواروں کی طرح ہں س ؟ راوی کہتے ہیں : پھر اس نے اپنے بھائی اور اپنے بیٹے کو بلایا اور ان کے درمیان چلنے لگا یہاں تک کہ جب وہ صف سے نکل گیا تو اس نے مبارزت کی دعوت دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39440
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عكرمة تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39440، ترقيم محمد عوامة 37833)
حدیث نمبر: 39441
٣٩٤٤١ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: (أخبرنا) (١) إسرائيل عن أبي إسحاق عن حارثة بن مضرب عن علي قال: لما قدمنا المدينة فأصبنا من ثمارها اجتويناها وأصابنا وعكٌ، وكان رسول اللَّه ﷺ يتخبر عن بدر. قال: فلما بلغنا أن المشركين قد (أقبلوا) (٢) سار رسول اللَّه ﷺ إلى بدر، وبدر: بئر، فسبقنا المشركين إليها فوجدنا فيها رجلين منهم: رجل من قريش ومولى لعقبة بن أبي (معيط) (٣)، فأما القرشي فانفلت (٤)، وأما المولى فأخذناه، فجعلنا نقول له: كم القوم؟ فيقول: هم -واللَّه- كثير عددهم، شديد بأسهم، فجعل المسلمون إذا قال (ذاك) (٥) (ضربوه) (٦) حتى انتهوا به إلى رسول اللَّه ﷺ ⦗٤٣٧⦘ فقال له: "كم القوم؟ " فقال: هم واللَّه كثير عددهم، شديد بأسهم، فجهد (القومُ) (٧) على أن يخبرهم كم هم؟ فأبى. ثم إن رسول اللَّه ﷺ (سأله) (٨): "كم (ينحرون؟) (٩) " فقال: عشرا كل يوم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "القوم ألف كل جزور لمائة وتبعها". ثم إنه أصابنا من الليل طش من مطر، فانطلقنا تحت (الشجرة) (١٠) (الحجف) (١١) نستظل تحتها من المطر، قال: وبات رسول اللَّه ﷺ ليلتئذ يدعو ربه. فلما طلع الفجرُ نادى: "الصلاة عباد اللَّه"، فجاء الناس من تحت الشجر و (الحجف) (١٢) فصلى بنا رسول اللَّه ﷺ وحرض (١٣) على القتال ثم قال: "إن جمع قريش عند هذه (الضلعة) (١٤) الحمراء من الجبل". فلما أن دنا القوم منا وصاففناهم إذا رجل منهم على جمل أحمر يسير في القوم (فقال رسول اللَّه ﷺ: "يا علي ناد لي حمزة") (١٥)، وكان أقربهم إلى المشركين، "من صاحبُ الجمل الأحمر؟ وما (يقول) (١٦) لهم"، ثم قال (لهم) (١٧) رسول اللَّه ﷺ: "إن يك في القوم أحد فعسى أن يكون صاحب الجمل الأحمر". ⦗٤٣٨⦘ فجاء حمزة فقال: هو عتبة بن ربيعة وهو ينهى عن القتال ويقول لهم: يا قوم إني أرى قوما (مستميتين) (١٨) لا تصلون إليهم وفيكم (خير) (١٩)، يا قوم اعصبوا اللوم برأسي وقولوا: جبن عتبة، (وقد) (٢٠) علمتم أني لست بأجبنكم، فسمع ذلك أبو جهل فقال: أنت تقول هذا، لو غيرك قال هذا (أعضضته) (٢١) لقد (ملئت رئتك) (٢٢) وجوفك (رعبا) (٢٣)، فقال عتبة: إياي تعيريا مُصفِّرَ اسْتِهِ، ستعلم اليوم إيُنا أجبن. قال: فبرز عتبة وأخوه شيبة وابنه الوليد حمية فقالوا: من يبارز، فخرج فتية من الأنصار ستة، فقال عتبة: لا يزيد هؤلاء، ولكن يبارزنا من بني عمنا من بني عبد المطلب، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "قم يا علي، قم يا حمزة، قم يا عبيدة بن الحارث"، فقتل (اللَّه) (٢٤) عتبة بن ربيعة وشيبة بن ربيعة والوليد بن عتبة، وجرح عبيدة بن الحارث، فقتلنا منهم سبعين وأسرنا (٢٥) سبعين. (قال) (٢٦): فجاء رجل من الأنصار قصيرٌ بالعباس أسيرا، فقال العباس: إن هذا واللَّه ما أسرني، لقد (أسرني) (٢٧) رجل أجلح من أحسن الناس وجها على ⦗٤٣٩⦘ فرس أبلق، ما أراه في القوم فقال الأنصاري: أنا أسرته يا رسول اللَّه، فقال له: "اسكت لقد أيدك اللَّه بملك كريم"، (قال علي) (٢٨): فأسر من بني عبد المطلب: العباس، وعقيل، ونوفل بن الحارث (٢٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم مدینہ میں آئے اور ہم نے وہاں کے پھل کھائے تو وہ ہمیں موافق نہ آئے اور ہمیں شدید بخار آگیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں : پس جب ہمیں یہ بات پہنچی کہ مشرکین آ رہے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کی طرف چل پڑے۔ بدر ایک کنویں کا نام ہے۔ سو ہم مشرکین سے پہلے بدر میں پہنچ گئے تو ہم نے وہاں مشرکین میں سے دو آدمیوں کو پایا۔ ایک آدمی قریش میں سے تھا اور ایک عقبہ بن ابی معیط کا آزاد کردہ غلام تھا۔ جو قریشی تھا وہ تو قریش کی طرف بھاگ گیا اور جو آزاد کردہ غلام تھا اس کو ہم نے پکڑ لیا۔ اور ہم نے اس سے یہ پوچھنا شروع کیا۔ کتنے لوگ ہیں ؟ وہ جواب میں کہتا۔ بخدا ! وہ بہت زیادہ تعداد میں ہیں۔ اور ان کی پکڑ بہت سخت ہے۔ جب اس نے یہ بات کہی تو مسلمانوں نے اس کو مارنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ وہ اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا : کتنے لوگ ہیں ؟ اس آدمی نے جواباً کہا : بخدا ! یہ بہت زیادہ تعداد میں ہیں اور شدید پکڑ والے ہیں۔ سو لوگوں نے اس بات کی بہت کوشش کی کہ وہ بتادے کہ مشرکین کی تعداد کتنی ہے لیکن اس آدمی نے (مسلسل) انکار کیا۔ ٢۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا : تم کتنے اونٹ ذبح کرتے ہو ؟ اس آدمی نے جواباً کہا : ہر روز دس اونٹ ذبح کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ لوگ ایک ہزار کی تعداد میں ہیں۔ ہر ایک اونٹ سو کے لگ بھگ کے لئے (کافی) ہوتا ہے۔ ٣۔ پھر ہمیں رات کے وقت ہلکی سی بارش محسوس ہوئی تو ہم درختوں اور ڈھالوں کی طرف بارش سے بچاؤ کرتے ہوئے چل دیے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات دعا مانگتے رہے۔ پس جب فجر طلوع ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منادی فرمائی۔ اے بندگان خدا ! نماز کا خیال کرو۔ پس لوگ درختوں اور ڈھالوں میں سے (نکل کر) آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور لڑائی پر ابھارا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پہاڑوں کی اس سُرخ مثلث کے پاس قریش کی جماعت موجود ہے۔ ٤۔ پھر جب یہ لوگ ہمارے قریب ہوئے اور ہم نے صفیں ترتیب دیں تو ان میں سے ایک آدمی سرخ رنگ کے اونٹ پر سوار مشرکین میں چل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اے علی رضی اللہ عنہ ! حمزہ کو میری طرف سے آواز دو ۔ یہ مشرکین کے زیادہ قریب تھے۔ کہ یہ سرخ اونٹ والا کون شخص ہے اور یہ کیا کہہ رہا ہے ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا۔ اگر لوگوں (مشرکین) میں سے کسی کے پاس خیر ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ (صاحب خیر) یہی سرخ اونٹ والا شخص ہو۔ پھر حضرت حمزہ تشریف لائے اور فرمایا : یہ شخص عتبہ بن ربیعہ ہے۔ اور یہ لوگوں کو لڑائی سے منع کر رہا ہے اور انہیں یہ کہہ رہا ہے۔ اے میری قوم ! میں ایسی قوم کو دیکھ رہا ہوں جو موت کی متمنی ہے اور تم ان تک اس حالت میں نہیں پہنچ سکتے کہ تم میں کوئی خیر (یعنی فتح) ہو۔ اے میری قوم ! ملامت کو میرے سر باندھو اور یہ کہہ لینا۔ عتبہ بزدل ہوگیا ہے ۔ حالانکہ تمہیں اس بات کا علم ہے کہ میں تم سے زیادہ بزدل نہیں ہوں۔ ٥۔ پس یہ بات ابو جہل نے سُنی تو اس نے کہا۔ تُو یہ بات کہہ رہا ہے ؟ اگر تمہارے سوا کوئی اور شخص یہ بات کرتا تو میں اس کو کٹوا دیتا۔ تحقیق تیرا پھیپھڑا اور پیٹ رعب سے بھر دیا گیا ہے۔ عتبہ نے کہا ۔ اے اپنی سرین کو پیلا کرنے والے ! تو مجھے عار دلاتا ہے۔ عنقریب آج کے دن تو جان جائے گا کہ ہم میں سے کون زیادہ بزدل ہے ؟ ٦۔ راوی کہتے ہیں پھر عتبہ اور اس کا بھائی شیبہ اور اس کا بیٹاو لید، غیرت کھاتے ہوئے سامنے آئے اور کہنے لگے۔ کون مقابل آئے گا ؟ تو انصاریوں سے چھ جوان باہر نکلے تو عتبہ نے کہا۔ ہمیں ان لوگوں سے مطلب نہیں ہے۔ بلکہ ہمارے مقابل ہمارے چچا زاد، بنی عبد المطلب میں سے کوئی آئے۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے علی رضی اللہ عنہ ! کھڑے ہو جاؤ۔ اے حمزہ ! کھڑے ہو جاؤ۔ اے عبیدۃ بن الحارث ! کھڑے ہو جاؤ۔ “ پس اللہ تعالیٰ نے ، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کو ہلاک کیا اور حضرت عبیدہ بن الحارث کو زخم آگئے۔ اور ہم نے مشرکین میں سے ستر کو قتل کیا اور ستر کو قیدی بنایا۔ ٧۔ راوی کہتے ہیں : پھر انصار میں سے ایک پستہ قد آدمی عباس کو قید کر کے لائے۔ عباس کہنے لگے۔ بلاشبہ، بخدا ! مجھے اس انصاری نے قید نہیں کیا۔ بلکہ مجھے ایک گنجے آدمی نے جو بہت خوبصورت چہرے والا تھا۔ قید کیا ہے اور وہ سفید و سیاہ داغ والے گھوڑے پر سوار تھا۔ مں ا اس آدمی کو (آپ کے) لشکر میں نہیں دیکھ رہا۔ انصاری نے عرض کیا۔ یا رسو
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39441
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٩٤٨)، وأبو داود (٢٦٦٥)، والبزار (٧١٩)، والبيهقي ٣/ ٢٧٦، والطبري في تاريخه ٢/ ٤٢٤، وابن عساكر ٣٨/ ٢٤٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39441، ترقيم محمد عوامة 37834)
حدیث نمبر: 39442
٣٩٤٤٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن سماك عن مصعب بن سعد عن أبيه قال: أصبت سيفا يوم بدر فأعجبني فقلت: يا رسول اللَّه هبه لي، فنزلت: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ﴾ الآية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے بدر کے دن ایک تلوار ملی تو وہ مجھے پسند آئی۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ مجھے ہدیۃً دے دیجئے ۔ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ { یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39442
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سماك صدوق، أخرجه مسلم (١٧٤٨)، وأحمد (١٥٦٧)، وتقدم ١٢/ ٣٧٠ برقم [٣٥٢٩٦].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39442، ترقيم محمد عوامة 37835)
حدیث نمبر: 39443
٣٩٤٤٣ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أن أبا جهل هو الذي استفتح يوم بدر فقال: اللهم أينا كان أفجر بك وأقطع لرحمه فأحنه اليوم فأنزل اللَّه: ﴿إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ (الْفَتْحُ) (١)﴾ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری : سے روایت ہے کہ ابو جہل ہی نے بدر کے دن فتح کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا۔ اے اللہ ! ہم میں سے جو زیادہ گناہ گار اور زیادہ قطع رحمی کرنے والا ہے تو اس کو آج (بدر) کے دن ہلاک کر دے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ {إِنْ تَسْتَفْتِحُوا ، فَقَدْ جَائَ کُمُ الْفَتْحُ }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39443
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الزهري تابعي، وأخرجه عبد الرزاق (٩٧٢٥)، وابن جرير ٩/ ٢٠٧، وقد ورد من طريق الزهري عن عبد اللَّه بن ثعلبة بن صعير كما تقدم ١٤/ ٣٥٩ [٣٩٤٣٦].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39443، ترقيم محمد عوامة 37836)
حدیث نمبر: 39444
٣٩٤٤٤ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا يونس بن (أبي) (١) إسحاق عن العيزار بن حريث قال: نادى منادي رسول اللَّه ﷺ يوم بدر: ليس لأحد من القوم -يعني أمانا- إلا أبا البختري، فمن كان (أسره) (٢) فليخل سبيله، فإن رسول اللَّه ﷺ قد أمنه، فوجدوه قد قتل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیزار بن حریث بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منادی نے ندا کی۔ لوگوں (مشرکین) میں سے کسی کو بھی سوائے ابو البختری کے۔ امن نہیں حاصل ہے۔ پس جس کسی نے ابو البختری کو قید کیا ہے وہ اس کو رہا کر دے۔ کیونکہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو امان دیا ہے۔ پھر لوگوں نے ان کو مقتول پایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39444
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ العيزار تابعي، وأخرجه ابن سعد ٢/ ٢٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39444، ترقيم محمد عوامة 37837)
حدیث نمبر: 39445
٣٩٤٤٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي هاشم الواسطي عن أبي مجلز عن قيس بن عباد قال: سمعت أبا ذر يقسم لنزلت هؤلاء الآيات في هؤلاء الرهط الستة يوم بدر: علي وحمزة وعبيدة بن الحارث، وعتبة وشيبة (ابني) (١) ربيعة والوليد بن (عتبة) (٢) ﴿هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ﴾ [الحج: ١٩] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن عباد سے روایت ہے کہ میں نے ابو ذر کو قسم کھا کر کہتے سُنا کہ یہ (آئندہ) آیات بدر کے دن ان چھ افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ علی رضی اللہ عنہ ، حمزہ اور عبیدہ بن الحارث ، اور عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔ (آیات یہ ہیں) { ہَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِی رَبِّہِمْ }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39445
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٩٦٨)، ومسلم (٣٠٣٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39445، ترقيم محمد عوامة 37838)
حدیث نمبر: 39446
٣٩٤٤٦ - حدثنا قراد أبو نوح قال: حدثنا عكرمة بن عمار العجلي قال: حدثنا سماك الحنفي أبو زميل قال: حدثنا ابن عباس قال: حدثني عمر بن الخطاب قال: لما كان يوم بدر نظر رسول اللَّه ﷺ إلى أصحابه وهم ثلاثمائة ونيف، ونظر إلى المشركين فإذا هم ألف وزيادة، فاستقبل النبي ﷺ القبلة ثم مد يديه وعليه رداؤه وإزاره، ثم قال: "اللهم (أين) (١) ما وعدتني، اللهم إن تهلك هذه العصابة من أهل الإسلام لا تعبد في الأرض أبدا". قال: فما زال يستغيث ربه ويدعوه حتى سقط رداؤه فأتاه أبو بكر قال: فأخذ رداءه فرداه ثم التزمه من ورائه ثم قال: يا نبي اللَّه كفاك مُناشدتُك ربَّك، فإنه سينجز لك ما وعدك، فأنزل اللَّه: ﴿إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ﴾ [الأنفال: ٩]. فلما كان يومئذ والتقوا، هزم اللَّه المشركين فقتل منهم سبعون رجلا، (وأسر منهم سبعون رجلا) (٢)، فاستشار رسول اللَّه ﷺ أبا بكر وعمر وعليا، فقال أبو بكر: يا نبي اللَّه، هؤلاء بنو العم والعشيرة والإخوان، فإني أرى أن تأخذ منهم الفدية، فيكون ما أخذنا منهم قوة على الكفار، وعسى اللَّه أن يهديهم فيكونوا لنا عضدا، ⦗٤٤١⦘ فقال رسول اللَّه ﷺ: "ما ترى يا ابن الخطاب؟ " قلت: واللَّه ما أرى الذي رأى أبو بكر، ولكن أرى أن تمكنني من فلان -قريبا لعمر- فأضرب عنقه، وتمكن عليا من عقيل فيضرب عنقه، وتمكن حمزة من أخيه فلان فيضرب عنقه، حتى يعلم اللَّه أنه ليس في قلوبنا هوادةٌ للمشركين، هؤلاء صناديدهم وأئمتهم وقادتهم، فهوى نبي اللَّه ﷺ ما قال أبو بكر، ولم يهو ما قلت فأخذ منهم الفداء. فلما كان من الغد قال عمر: غدوت إلى النبي ﷺ فإذا هو (قاعد) (٣) وأبو بكر يبكيان، قال: قلت: (يا رسول) (٤) اللَّه (٥) أخبرني ماذا يبكيك أنت وصاحبك؟ فإن وجدت بكاء بكيت، وإن لم أجد بكاء تباكيت لبكائكما، فقال النبي ﷺ: "الذي عرض على أصحابكم من الفداء، لقد عرض عليّ عذابكم أدنى من هذه الشجرة" -لشجرة قريبة وأنزل اللَّه: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا. .﴾ إلى قوله: ﴿لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ (من الفداء) (٦) (عَذَابٌ) (٧) عَظِيمٌ﴾ [الأنفال: ٦٨، ٦٨]، ثم أحل لهم الغنائم، فلما كان يوم أحد من العام المقبل (عرفوا) (٨) بما صنعوا يوم بدر من أخذهم الفداء فقتل منهم سبعون، وفر أصحاب النبي ﷺ (٩) (عن النبي ﷺ) (١٠) وكسرت رباعيته وهشمت البيضة على رأسه وسأل الدم على وجهه وأنزل اللَّه: ﴿أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ [آل عمران: ١٦٥] ⦗٤٤٢⦘ بأخذكم الفداء (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب بدر کا دن تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا۔ تو وہ تین سو سے کچھ زیادہ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کو دیکھا تو وہ ایک ہزار سے کچھ زیادہ تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رُخ مبارک قبلہ کی جانب کرلیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دیے۔ اور (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر اور ازار بند تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کیا۔ اے اللہ ! آپ نے جو مجھ سے وعدہ کیا ہے وہ کہاں ہے ؟ اے اللہ ! اگر اہل اسلام میں سے یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو (پھر) آپ کی اس دھرتی پر کبھی عبادت نہیں کی جائے گی۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل اپنے رب سے مدد طلب کرتے رہے اور اللہ سے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر مبارک گرگئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت ابوبکر حاضر ہوئے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر پکڑ لی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (دوبارہ) چادر پہنائی۔ پھر حضرت ابوبکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سے ساتھ لگ گئے پھر کہا : اے پیغمبر خدا ! آپ نے اپنے پروردگار سے جو مطالبہ کرلیا ہے کافی ہے۔ آپ کا پروردگار عنقریب آپ کے ساتھ کئے ہوئے وعدہ کو پورا کر دے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی {إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلاَئِکَۃِ مُرْدِفِینَ }۔ ٢۔ پھر جب یہ دن (بدر کا) آیا اور باہم آمنا سامنا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی پس ان میں سے ستر آدمیوں کو قتل کیا گیا اور ستر آدمیوں کو ان میں سے قیدی بنایا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا۔ تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا۔ اے پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ (قیدی) لوگ (ہمارے) چچا زاد، قوم اور بھائیوں میں سے ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں۔ پس ان سے ہم جو (فدیہ) لیں گے وہ کفار پر قوت ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے دے تو یہ لوگ ہمارے لئے دست وبازو بن جائیں گے۔ ٣۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! تمہاری کیا رائے ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ بخدا ! میری رائے وہ نہیں ہے جو حضرت ابوبکر کی رائے ہے۔ لیکن میری رائے یہ ہے کہ آپ فلاں شخص ، عمر کا رشتہ دار ، کو میرے حوالہ کریں تاکہ میں اس کی گردن مار ڈالوں۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالہ عقیل کو کریں تاکہ وہ اس کی گردن اڑا دیں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کے لئے کوئی رحمدلی نہیں ہے۔ یہ لوگ مشرکین کے سرغنہ، لیڈر اور راہنما ہیں۔ ٤۔ جو بات حضرت ابوبکر نے پیش فرمائی تھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند آگئی اور جو بات میں نے عرض کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ پسند نہ آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین سے فدیہ وصول کرلیا۔ ٥۔ پھر اگلا دن ہوا تو حضرت عمر فرماتے ہیں۔ تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں صبح کے وقت حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر دونوں بیٹھے ہوئے رو رہے تھے۔ فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے بتائیے ! آپ کو اور آپ کے ساتھی کو کیا چیز رلا رہی ہے ؟ اگر مجھے رونے کی بات معلوم ہوئی تو میں بھی روؤں گا وگرنہ آپ دونوں کے رونے کی وجہ سے میں بتکلف ہی رو لوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے ساتھیوں نے جو فدیہ کے بارے میں میرے سامنے رائے پیش کی تو تحقیق مجھے اس درخت (قریب میں موجود درخت کی طرف اشارہ فرمایا) سے بھی قریب تمہارا عذاب پیش کیا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ ، تُرِیدُونَ عَرَضَ الدُّنْیَا } سے لے کر { لَوْلاَ کِتَابٌ مِنَ اللہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ } یعنی فدیہ { عَذَابٌ عَظِیمٌ} پھر صحابہ کے لئے غنیمتوں کو حلال کردیا گیا۔ ٦۔ پھر جب اگلے سال احد کا دن آیا تو صحابہ کرام نے بدر کے دن جو فدیہ لیا تھا اس کا صحابہ کو بدلہ دیا گیا۔ پس صحابہ میں ستر شہید ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ بھاگ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے والی رباعی ٹوٹ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک پر موجود خود ٹوٹ گئی اور خون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ے رُخ مبارک
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39446
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٦٣)، وأحمد (٢٠٨)، وسبق بعضه ١٠/ ٣٥٠ برقم [٣١٥٦٢].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39446، ترقيم محمد عوامة 37839)
حدیث نمبر: 39447
٣٩٤٤٧ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام عن أبيه أن رقية بنت رسول اللَّه ﷺ توفيت، (فخرج) (١) النبي ﵊ (٢) إلى بدر وهي امرأة عثمان، فتخلف عثمان وأسامة بن زيد يومئذ، فبينما هم يدفنونها إذ سمع عثمان تكبيرا، فقال: يا أسامة، انظر ما هذا التكبير؟ فنظر فإذا هو زيد بن حارثة على ناقة رسول اللَّه ﷺ الجدعاء يبشر بقتل أهل بدر من المشركين، فقال المنافقون: لا واللَّه ما هذا بشيء، ما هذا إلا الباطل، حتى (جيء) (٣) بهم مصفدين مغللين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کی طرف نکلے ہوئے تھے۔ یہ حضرت عثمان کی اہلیہ تھیں۔ پس حضرت عثمان اور حضرت اسامہ بن زید اس دن پیچھے رہ گئے۔ پھر جب یہ لوگ حضرت زید کو دفن کر رہے تھے تو اس دوران حضرت عثمان نے تکبیر کی آواز سُنی۔ تو حضرت عثمان نے کہا : اے اسامہ ! یہ تکبیر کی آواز کیسی ؟ حضرت اسامہ نے دیکھا وہ حضرت زید بن حارثہ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدعاء (ناک کٹی) اونٹنی پر سوار تھے اور اہل بدر مشرکوں کی ہلاکت کی بشارت دے رہے تھے۔ (اس پر) منافقین نے کہا : بخدا ! یہ کوئی (معتبر) بات نہیں ہے۔ یہ محض جھوٹ ہے ۔ یہاں تک کہ مشرکین کو مقید کر کے اور خوب کس کر لایا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39447
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عروة تابعي، وأخرجه الحاكم ٤/ ٤٧، والبخاري في التاريخ الأوسط ١/ ١٨، وابن شبه في تاريخ المدينة (٣٢١)، وأخرجه البيهقي ٩/ ١٧٤ من حديث عروة عن أسامة بن زيد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39447، ترقيم محمد عوامة 37840)
حدیث نمبر: 39448
٣٩٤٤٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن ابن سيرين عن عبيدة السلماني قال: أسر يوم بدر من المشركين سبعون رجلا، وقتل (منهم) (١) سبعون، فجمع رسول اللَّه ﷺ الأنصار فخيرهم فقال: "ما شئتم إن شئتم اقتلوهم، ويقتل منكم عدتهم، وإن شئتم أخذتم فداءهم فتقويتم به في سبيل اللَّه"، قالوا: يا رسول اللَّه نأخذ الفداء نتقوى به في سبيل اللَّه ويقتل منا عدتهم، (قال: فقتل منهم عدتهم) (٢) يوم أحد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ اسلمی بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن مشرکین میں سے ستر افراد قید کئے گئے اور ستر مشرکین قتل کئے گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کو جمع فرمایا اور ان کو (قیدیوں کے بارے میں) اختیار دیا اور فرمایا۔ جو تم چاہو گے (وہی ہوگا) اگر تم چاہو گے تو تم انہیں قتل کردو اور تم میں سے ان کی تعداد کے بقدر قتل کئے جائیں گے۔ اور اگر چاہو تو تم فدیہ لے لو۔ تاکہ تم اس کے ذریعہ راہ خدا میں تقویت پاؤ۔ انصار نے کہا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم فدیہ لیتے ہیں جس کے ذریعہ ہم راہ خدا میں تقویت حاصل کریں گے اور ہم میں اس کے بقدر قتل کئے جائیں۔ راوی کہتے ہیں : پس کفار کی تعداد کے بقدر صحابہ میں سے یوم احد کو قتل ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39448
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ عبيدة تابعي، وأشعث ضعيف، أخرجه عبد الرزاق (٩٤٠٢)، وابن سعد ٢/ ٢٢، وابن جرير في التفسير ٤٦/ ١٠ و ٤/ ١٦٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39448، ترقيم محمد عوامة 37841)
حدیث نمبر: 39449
٣٩٤٤٩ - حدثنا أبو داود (الحفري) (١) عن ابن أبي زائدة عن سفيان عن هشام عن بن سيرين عن (عبيدة) (٢) عن علي عن النبي ﵊ (٣) بنحو حديث عبد الرحيم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عبد الرحیم کی حدیث کی طرح کی حدیث روایت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39449
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الترمذي (١٥٦٧)، والنسائي (٨٦٦٢)، وابن حبان (٤٧٩٥)، وابن سعد ٢/ ٢٢، والدارقطني في العلل ٤/ ٣٢، والضياء في المختارة ٢/ (٦٢٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39449، ترقيم محمد عوامة 37842)
حدیث نمبر: 39450
٣٩٤٥٠ - حدثنا أبو معاوية قال: حدثنا الأعمش عن أبي إسحاق عن زيد بن يثيع قال: كان أبو بكر مع رسول اللَّه ﷺ يوم بدر على (العريش) (١)، قال: فجعل النبي ﵊ (٢) يدعو يقول: "اللهم انصر هذه العصابة فإنك إن لم تفعل لم تعبد في الأرض"، فقال أبو بكر: (٣) بعض مناشدتك ربك فواللَّه لينجزن (لك) (٤) الذي وعدك (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن یثیع سے روایت ہے کہ بدر کے دن حضرت ابوبکر ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ چھپر پر تھے۔ راوی کہتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا مانگنی شروع کی اور فرمایا : ” اے اللہ ! اس جماعت کی مدد فرما۔ اگر تو مدد نہیں کرے گا تو دھرتی پر تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔ “ حضرت ابوبکر نے عرض کیا : یہ آپ کی اپنے رب کے ساتھ مناجات ہیں۔ بخدا ! اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور آپ کے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39450
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ زيد تابعي، وأخرجه ابن جرير في التفسير ٩/ ١٩٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39450، ترقيم محمد عوامة 37843)
حدیث نمبر: 39451
٣٩٤٥١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) محمد بن إسحاق عن عبد اللَّه ابن أبي بكر عن يحيى بن (عبد اللَّه بن عبد الرحمن) (٢) بن (أسعد) (٣) بن زرارة قال: قدم بأسارى بدر، وسودة بنت زمعة زوج النبي ﵊ (٤) ⦗٤٤٤⦘ عند آل عفراء في (مناحتهم) (٥) على (عوف) (٦) ومعوذ ابني عفراء، وذلك قبل أن يضرب عليهنّ الحجاب، قالت: قدم بالأسارى فأتيت منزلي، فإذا أنا بسهيل بن عمرو في ناحية الحجوة، مجموعة يداه إلى عنقه، فلما رأيته ما ملكت نفسي (أن قلت:) (٧) أبا يزيد أعطيتم بأيديكم، ألا متم كراما؟ قالت: فواللَّه ما (نبهني) (٨) إلا قول رسول اللَّه ﷺ من داخل البيت: "أي سودة، أعلى اللَّه (وعلى) (٩) رسوله؟ " قلت: يا رسول اللَّه واللَّه إن ملكت نفسي حيث رأيت أبا يزيد أن قلت ما قلت (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ بدر کے قیدیوں کو لایا گیا۔ اس وقت ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ، حضرت سودہ بنت زمعہ ، عفراء کے بیٹوں عوف اور معوِّذ کی سوگ منانے والی عورتوں کے ساتھ آل عفراء کے ساتھ تشریف فرما تھیں۔ یہ عورتوں پر حجاب کا حکم اترنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ سودہ کہتی ہیں : قیدیوں کو لایا گیا۔ تو میں اپنے گھر کی طرف آئی تو مجھے اچانک ، حجرہ کے کونے میں سہیل بن عمرو دکھائی دیا درآنحالیکہ اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ جمع (باندھے) کئے ہوئے تھے۔ پس جب میں نے اس کو دیکھا۔ تو میرا خود پر قابو نہ رہا اور میں نے کہہ دیا۔ ابو یزید ! تم نے اپنے ہاتھوں سے (اپنا آپ) حوالہ کردیا ہے۔ تم لوگ عزت کی موت کیوں نہ مرگئے۔ حضرت سودہ فرماتی ہیں۔ بخدا ! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گھر سے آنے والی آواز کے سوا کسی نے تنبیہ نہیں کی۔ کہ ” اے سودہ ! کیا اللہ اور اس کے رسول سے بھی اوپر ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؟ بخدا ! جب میں نے ابو یزید کو دیکھا تو میرا خود پر قابو نہ رہا کہ جو میں نے کہنا تھا وہ میں نے کہہ دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39451
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ يحيى تابعي، وأخرجه أبو داود (٢٦٧٩)، والحاكم ٣/ ٢٢، وابن هشام في السيرة ٣/ ١٩٤، وابن جرير في التاريخ ٢٠/ ٣٩، والطبرانى ٢٤/ (٩٢)، والبيهقي ٩/ ٨٩، واين الأثير في أسد الغابة ٣/ ٤٣٩، والمزي ٣٥/ ٢٠٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39451، ترقيم محمد عوامة 37844)
حدیث نمبر: 39452
٣٩٤٥٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش (عن عمرو بن مرة) (١) عن أبي عبيدة عن عبد اللَّه قال: لما كان يوم بدر قال رسول اللَّه ﷺ: "ما تقولون (في) (٢) هؤلاء الأسارى؟ " قال أبو بكر: يا رسول اللَّه قومك و (أصلك) (٣) (استبقهم) (٤) واستتبهم، لعل اللَّه أن يتوب عليهم، وقال عمر: يا رسول اللَّه، كذبوك وأخرجوك، قدمهم نضرب أعناقهم، وقال عبد اللَّه بن رواحة: يا رسول اللَّه ⦗٤٤٥⦘ [(أنت) (٥) في واد كثير الحطب فأضرم الوادي عليهم نارا ثم ألقهم فيه، فقال العباس: قطع اللَّه] (٦) رحمك، قال: فسكت رسول اللَّه ﷺ فلم يرد عليهم. ثم قام (٧) فدخل، فقال أناس: يأخذ يقول أبي بكر، وقال أناس: يأخذ يقول عمر، وقال أناس: يأخذ يقول عبد اللَّه بن رواحة. ثم خرج رسول اللَّه ﷺ فقال: "إن اللَّه ليلين قلوب رجال فيه حتى تكون ألين من اللبن، وإن اللَّه ليشدد قلوب رجال فيه حتى تكون أشد من الحجارة وإن مثلك يا أبا بكر مثل إبراهيم قال: ﴿فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [إبراهيم: ٣٦]، وإن مثلك يا أبا بكر كمثل عيسى قال: ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أنت الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [المائدة: ١١٨]، وإن مثلك يا عمر مثل موسى قال: ﴿رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ﴾ [يونس: ٨٨]، وإن مثلك يا عمر مثل نوح قال: ﴿رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا﴾ [نوح: ٢٦]، أنتم عالة، فلا ينفلتن أحد منهم إلا بفداء أو ضربة عنق". فقال ابن مسعود: يا رسول اللَّه إلا (سهيل) (٨) بن بيضاء فإني قد سمعته يذكر الإسلام، قال: (فسكت) (٩) رسول اللَّه ﷺ، فما رأيتني في يوم أخوف أن تقع عليَّ حجارة من السماء مني في ذلك اليوم حتى قائل رسول اللَّه ﷺ إلا سهيل بن بيضاء، فأنزل اللَّه: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ﴾ [الأنفال: ٦٧]، ⦗٤٤٦⦘ إلى آخر الآية (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ جب بدر کا دن تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : تم لوگوں کی اسیران بدر کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! (یہ لوگ) آپ کی قوم و قبیلہ کے ہیں۔ آپ ان کی بقاء اور ان کی توبہ کے طلب گار بنیے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف رجوع کرلے (یعنی ہدایت دے دے) ۔ اور حضرت عمر نے فرمایا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ان لوگوں نے آپ کی تکذیب کی اور انہوں نے آپ کو (شہر سے) باہر نکالا۔ انہیں آگے کریں تاکہ ہم ان کی گردن زنی کریں۔ اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ ایسی وادی میں ہیں جہاں لکڑیاں بہت زیادہ ہیں۔ پس آپ ان پر اس وادی کو آگ سے دہکا دیں پھر آپ انہیں اس دہکتی آگ میں ڈال دیں۔ (اس پر) عباس نے کہا۔ اللہ تیرے رشتہ کو کاٹ دے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے اور صحابہ کو کوئی جواب نہیں دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور اندر چلے گئے۔ لوگوں نے کہنا شروع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبکر کا قول لیں گے اور (بعض) لوگوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عمر کا قول لیں گے ۔ اور (بعض) لوگوں نے کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عبد اللہ بن رواحہ کا قول لیں گے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان (قیدیوں) کے بارے بعض مردوں کے دلوں کو نرم کردیا ہے۔ یہاں تک وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہوگئے ہیں۔ اور کچھ لوگوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے ا ن کے بارے میں سخت کردیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوگئے ہیں اور اے ابوبکر ! تیری مثال تو ابراہیم کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا تھا۔ { فَمَنْ تَبِعَنِی فَإِنَّہُ مِنِّی ، وَمَنْ عَصَانِی فَإِنَّکَ غَفُورٌ رَحِیمٌ}۔ اور تیری مثال۔ اے ابوبکر ! عیسیٰ کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا تھا۔ {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ }۔ اور تیری مثال، اے عمر ! موسیٰ کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا تھا۔ { رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَی أَمْوَالِہِمْ ، وَاشْدُدْ عَلَی قُلُوبِہِمْ ، فَلاَ یُؤْمِنُوا حَتَّی یَرَوُا الْعَذَابَ الأَلِیمَ } اور اے عمر ! تیری مثال حضرت نوح کی طرح ہے انہوں نے کہا تھا ۔ { رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الأَرْضِ مِنَ الْکَافِرِینَ دَیَّارًا }۔ تم لوگ (اس وقت) مفلس ہو پس ان میں سے کوئی بھی رہائی نہیں پائے گا۔ مگر فدیہ کے ساتھ یا گردن مارنے کے ساتھ۔ حضرت ابن مسعود نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! سہیل بن بیضاء کو مستثنیٰ کر دیجئے کیونکہ میں نے اس کو اسلام کا ذکر کرتے ہوئے سُنا ہے۔ ابن مسعود کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکوت اختیار فرما لیا۔ ” پس مجھے اس دن سے زیادہ کسی دن یہ خوف لاحق نہیں ہوا کہ (کہیں) مجھ پر آسمان سے پتھر (نہ) گرپڑیں۔ “ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ سہیل بن بیضاء کو استثناء ہے۔ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ } آخر آیت تک۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39452
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39452، ترقيم محمد عوامة 37845)
حدیث نمبر: 39453
٣٩٤٥٣ - حدثنا عبدة عن شعبة عن الحكم قال: لم يقتل رسولُ اللَّه ﷺ يوم بدر صبرا إلا عقبة بن أبي (معيط) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے دن قید کر کے صرف عقبہ بن ابی معیط کو قتل کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39453
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحكم تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39453، ترقيم محمد عوامة 37846)
حدیث نمبر: 39454
٣٩٤٥٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن شعبة عن أبي بشر عن سعيد بن جبير أن النبي ﷺ (١) لم يقتل يوم بدر صبرا إلا ثلاثة: (عقبة) (٢) بن أبي (معيط) (٣) والنضر ابن الحارث وطعيمة بن عدي، وكان النضر أسره المقداد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے دن تین آدمیوں کو قید کر کے قتل فرمایا۔ عقبہ بن ابی معیط، نضر بن الحارث اور طعیمہ بن عدی کو۔ اور نضر بن حارث کو مقداد نے قید کیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39454
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد بن جبير تابعي، أخرجه ابن جرير في التفسير ٩/ ٢٣١، وابن عساكر ٦٠/ ١٦٧، وأحمد في العلل ١/ ١٣٠، وأبو عبيد في الأموال (٣٤٥)، وأبو داود في المراسيل (٣٣٧)، وورد متصلًا من حديث سعيد عن ابن عباس، أخرجه الطبراني في الأوسط (٣٨٠١)، والضياء في المختارة ٧/ (٨٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39454، ترقيم محمد عوامة 37847)